Ayahs 26:70–74قَالَ ھَلْ یَسْمَعُوْنَـکُمْ اِذْ تَدْعُوْنَ ۔ اَوْیَنْـفَـعُـوْنَـکُمْ اَوْیَضُرُّوْنَ ۔ قَالُوْا بَلْ وَجَدْنَـآ اٰبَـآئَ نَا کَذٰلِکَ یَفْعَلُوْنَ ۔ (الشعرآء : 72 تا 74)
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا، کیا یہ تمہاری سنتے ہیں جب تم انھیں پکارتے ہو۔ یا وہ تمہیں کچھ نفع پہنچا سکتے ہیں یا ضرر پہنچا سکتے ہیں۔ انھوں نے جواب دیا بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔ )
دعوت ایک قدم آگے اور مخالفین کا جواب
لوگوں کی حمیت جاہلی کو دیکھتے ہوئے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بات کو آگے بڑھایا کہ تمہاری اپنی جاہلیت پر استقامت اپنی جگہ، میں اس سلسلے میں کچھ نہیں کہتا، البتہ یہ تو بتایئے کہ جب تم اپنے ان مصنوعی خدائوں کو پکارتے ہو تو کیا وہ تمہاری بات سنتے ہیں۔ سننے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جواب دیتے ہیں اور جو کچھ تم ان سے مانگتے ہو، کیا وہ تمہاری طلب کو پورا کرتے ہیں اور تمہاری دعائیں ان کے یہاں باریاب ہوتی ہیں اور کیا وہ تمہیں نفع یا نقصان پہنچا سکتے ہیں کیونکہ ایسا تو کبھی نہیں ہوا کہ کوئی شخص کسی کے سامنے سر جھکائے، اس سے دعائیں مانگے، اس سے استمداد کرے اور وہ جواب دینے پر بھی قادر نہ ہو، اور یہ پھر بھی اس کی عظمت کے گن گاتا رہے۔ اس کی قدرت وہیبت کو اپنی دل میں بسائے رکھے۔ اگر یہ تمہارے معبود نہ سنتے ہیں، نہ بولتے ہیں، نہ نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان دے سکتے ہیں تو پھر وہ معبود کیسے ہیں، تمہیں تو یقینا کوئی بڑی غلطی لگی ہے۔ اس کے جواب میں ان کے مخاطب لوگوں نے کہا کہ ہم یہ جانتے ہیں کہ وہ نفع نقصان دینے پر قادر نہیں۔ نہ وہ ہماری مناجاتیں سنتے ہیں اور نہ ہماری فریادیں سنتے ہیں۔ لیکن ہم ان کی پوجا پاٹ صرف اس لیے کرتے ہیں کہ ہمارے آبائواجداد یہی کچھ کرتے رہے ہیں اور یہ کام صدیوں سے ہوتا چلا آیا ہے۔ اگر اس کام کی کوئی حقیقت نہ ہوتی اور دینی نقطہ نگاہ سے اس کی کوئی اہمیت نہ ہوتی تو ہمارے آبائواجداد کیا پاگل تھے کہ وہ اس بیکار کام کو جاری رکھتے۔ یقینا اس کے پیچھے کوئی بہت بڑی حقیقت کارفرما ہے جو ہماری آنکھوں سے اوجھل اور ہمارے تصورات سے ماورا ہے۔
دنیا میں آبائواجداد کا طرزعمل اور ان کی فکری وراثت ہمیشہ ایک بہت بڑی قوت رہی ہے۔ بعد کے آنے والے لوگ جب فکری جمود کا شکار ہوتے ہیں تو وہ اپنے باپ دادا اور یا ماضی کے بزرگوں کا ہمیشہ سہارا لیتے ہیں۔ نہ جانے یہ جہالت کب پیدا ہوئی ہے کہ غلطی صرف اس سے ہوسکتی ہے جو زندہ ہے، اور جو مرچکا ہے وہ غلطیوں سے پاک تھا اور اس کے افکار و اعمال بعد والوں کے لیے اسوہ حسنہ کی حیثیت رکھتے ہیں حالانکہ جو آج زندہ ہے وہ ایک وقت کے بعد ماضی کا حصہ ہوجائے گا۔ اور جو لوگ آبائواجداد میں شامل ہوگئے ہیں وہ چند سال پہلے زندہ تھے۔ جس طرح آج کے زندہ لوگ غلطیاں کرتے اور ٹھوکریں کھاتے ہیں، یہی حال ان کا بھی تھا۔ تو صرف آنکھوں سے اوجھل ہوجانے کے باعث ہم نے ان کے سر پر معصومیت کا تاج سجا دیا ہے اور ان کی ہر بات بعد کے آنے والوں کے لیے حجت بن گئی ہے۔
زندہ قومیں ہمیشہ علم کے سہارے زندہ رہتی اور ہدایت کے راستے منزل تک پہنچتی ہیں۔ وہ معقول اور محسوس معاملات کو عقل کے پیمانے سے ناپتی اور اخلاقی، روحانی اور دینی معاملات کو وحی الٰہی کی روشنی میں دیکھتی ہیں۔ یہی ان کے لیے رہنمائی کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اور ان کا یہی طریقہ ہمیشہ انھیں ٹھوکریں کھانے سے محفوظ رکھتا ہے۔
Ayahs 26:75–77قَالَ اَفَرَئَ یْـتُمْ مَّا کُنْـتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۔ اَنْـتُمْ وَاٰبَـآؤُ کُمُ الْاَقْدَمُوْنَ ۔ فَاِنَّھُمْ عَدُوٌّلِّیْٓ اِلاَّ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 75 تا 77)
(حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے کہا کیا تم نے ان چیزوں پر غور کیا ہے جن کی تم پرستش کیا کرتے ہو۔ تم بھی اور تمہارے گزشتہ آبائواجداد بھی۔ یہ سب میرے تو دشمن ہیں بجز اللہ رب العالمین کے۔ )
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اعلانِ براء ت
حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے لوگوں سے کہا کہ جس طرح تمہاری ہر بات کسوٹی پر، پرکھی جاتی ہے، اسی طرح تمہارے آبائواجداد بھی نقدوجرح سے گزرتے ہیں۔ سب کے لیے رہنمائی غور و فکر میں ہے۔ کسی بھی بات کی صداقت کے لیے یہ دلیل کافی نہیں کہ وہ باپ دادا کے وقتوں سے چلی آرہی ہے۔ مکھی پر مکھی مارتے چلے جانا، باشعور زندہ قوموں کا شیوہ نہیں۔ علم اور ہدایت نے انسانوں کے ہاتھوں میں چند پیمانے دیئے ہیں، ان کی روشنی میں غور و فکر کرنے سے صحیح بات سامنے آسکتی ہے اور غلط بات کی غلطی واضح ہوسکتی ہے۔ کسی کو معبود بنانا ایک بہت بڑی بات ہے۔ اسی ایک سوال کے جواب پر ساری زندگی کا دارومدار ہے۔ اس لیے تم نے جن کو اپنا معبود بنا رکھا ہے اور تمہارے آبائواجداد بھی جن کی پوجا کرتے رہے ہیں تو کیا تم سب لوگوں نے اس بنیادی بات کے مالہ وما علیہ پر غور کرلیا ہے۔ اور جن کی تم پوجا کررہے ہو، کیا واقعی ان کے اندر خدائی کی کوئی صفت پائی جاتی ہے۔ اور کیا وہ فی الحقیقت ہماری قسمیں بنانے اور بگاڑنے کے اختیارات رکھتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے، تم نے ان باتوں پر کبھی غور نہیں کیا۔ میں اچھی طرح اس پر غور و فکر کرچکا ہوں، میرے غور و فکر کا حاصل یہ ہے کہ تم اللہ رب العالمین کے سوا جن کی پرستش کرتے ہو، وہ سب میرے دشمن ہیں۔ کیونکہ یہ شیطان کے ایجاد کیے ہوئے پھندے ہیں اور شیطان بنی نوع انسان کا دشمن ازلی ہے۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ اگر میں ان کی پرستش کروں تو میری دنیا اور آخرت دونوں برباد ہوجائیں گی۔ میری انسانیت کا سرمایہ نذرآتش ہوجائے گا۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ پتھروں کے سامنے جھک کر میری عظمت خاک میں مل جاتی ہے اور میری حیثیت کا جنازہ نکل جاتا ہے، میرے اخلاق کی دنیا تہ وبالا ہو کر رہ جاتی ہے، میرے احساسات سمٹ کر رہ جاتے ہیں، میری اولوالعزمیاں دم توڑ جاتی ہیں۔ اس لیے میں بت پرستی اور غیر اللہ کی پوجا کو انسانیت کے لیے سب سے زیادہ تباہ کن سمجھتا ہوں۔ صرف ایک اللہ رب العالمین ہے جس کی بندگی میں مجھے اپنی بھلائی نظر آتی ہے۔ اور جس کی عبادت میرے نزدیک ایک دشمن کی نہیں بلکہ اپنے اصل مربی کی عبادت ہے۔
Ayahs 26:78–82الَّذِیْ خَلَقَنِیْ فَھُوَیَھْدِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ ھُوَ یُطْعِمُنِیْ وَیَسْقِیْنِ ۔ وَاِذَا مَرِضْتُ فَھُوَیَشْفِیْنِ ۔ وَالَّذِیْ یُمْیِتُـنِیْ ثُمَّ یُحْیِیْنِ ۔ وَالَّذِیْٓ اَطْمَعُ اَنْ یَّغْفِرَلِیْ خَطِٓیْئَـتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الشعرآء : 78 تا 82)
(جس نے مجھے پیدا فرمایا، پھر وہ میری رہنمائی کرتا ہے۔ اور وہ جو مجھے کھلاتا بھی ہے اور پلاتا بھی ہے۔ اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو مجھے شفا دیتا ہے۔ اور جو مجھے موت دے گا پھر مجھے زندہ کرے گا۔ اور جس سے میں امید رکھتا ہوں کہ جزا کے دن میرے گناہ معاف کرے گا۔ )
ربِ حقیقی کی چند صفات
رب العالمین میری پرستش اور بندگی کا اس لیے مستحق ہے کہ اس نے مجھے پیدا کیا ہے اور مخالف اور موافق سب جانتے ہیں کہ اس کے تخلیقی عمل میں کوئی دوسرا شریک نہیں۔ انسان پر اللہ تعالیٰ کے بیشمار احسانات ہیں، لیکن سب سے پہلا اور بڑا احسان انسان کو پیدا کرنا ہے کیونکہ باقی سارے مراحل اس کے بعد شروع ہوتے ہیں۔ معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ جس ذات نے انسان کو تخلیق کیا ہے اس سے ہٹ کر اس کی بندگی اور پرستش کا اور کون حقدار ہوسکتا ہے۔
رب العالمین کے معبود و مسجود ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اس نے انسان کو پیدا کرکے نہیں چھوڑ دیا بلکہ اس نے انسان کو ہمہ نوع اور ہمہ جہت قسم کی رہنمائی بھی عطا فرمائی ہے۔ انسان جب ایک خوبصورت بچے کی شکل میں دنیا میں آتا ہے تو وجدان کے ذریعے اس کی رہنمائی کی جاتی ہے، پھر حواس کا دیا جلایا جاتا ہے، پھر ضرورت پڑنے پر عقل کا فانوس روشن کردیا جاتا ہے جس کے ذریعے سے انسان جزئیات سے کلیات اور محسوسات سے معقولات تک کا سفر کرنے میں کامیاب ہوتا ہے۔ پھر اس کا مزید احسان یہ ہے کہ اس نے جس طرح انسان کی تمام مادی ضروریات کا اہتمام فرمایا، اسی طرح اس کی روحانی ضرورت کا بھی اہتمام فرمایا۔ اور اس کی ہدایت کے لیے نبوت و رسالت کا انتظام کیا۔ ایسی ذات کے مقابلے میں کسی اور کے سامنے سر جھکانا اور پرستش کے آداب بجا لانا اپنی دشمنی کے سوا اور کچھ نہیں ہوسکتا۔
صرف ایک اللہ کو مستحقِ عبادت ماننے کی تیسری وجہ یہ ہے کہ جس طرح اس نے مجھے تخلیق فرمایا، پھر میری رہنمائی کا سامان کیا، اسی طرح میری زندگی کی بقا کے لیے اس نے نہ صرف امکانات پیدا فرمائے بلکہ ہر طرح کی غذائی ضرورتوں کو بہم پہنچایا۔ میں بچہ تھا تو اس نے ماں کے سینے میں میری غذا کا سامان کیا، میری ماں کے دل میں مامتا کا دیپ جلایا، جس نے دکھ اٹھا اٹھا کر میری پرورش و پرداخت کا انتظام کیا، میرے باپ کے دل میں شفقت کا بےکنار سمندر پیدا کردیا جس کی وجہ سے اس کے کندھے میری ضرورتوں کے لیے جھک گئے، میرا معدہ جب تک کمزور تھا تو ماں کے دودھ میں مائیت کا عنصر زیادہ رکھا اور دہنیت کا کم۔ اور جب معدہ مضبوط ہوگیا تو دودھ کو گاڑھا کردیا گیا، پھر حواس اور عقل کے ذریعے مجھے غذائی ضرورتیں حاصل کرنے کا طریقہ سکھایا گیا۔ اور زندگی کے ساتھ ساتھ میری رہنمائی اور میری ضروریات عہد بعہد بدلتی چلی گئیں اور ہر موقع پر حالات کے مطابق میرے لیے اسباب فراہم کیے گئے۔ اگر وہ میرا رب میرا یہ سامانِ تربیت نہ کرتا اور اس کی ربوبیت کا فیضان زندگی بھر میرا معاون نہ رہتا تو میں زندگی تو کیا گزارتا، ایک دن کے لیے بھی زندہ نہ رہتا۔
صرف اللہ رب العالمین کے مسجود و معبود ہونے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ جب میں بیمارپڑ جاتا ہوں تو وہ اپنے فضل و رحمت سے مجھے شفا بخشتا ہے۔ اس نے میرے جسم میں ایسے خواص پیدا کردیئے ہیں جو مضر اشیاء سے بچنے اور حیات بخش چیزوں کی طرف لپکنے پر مجھے مجبور کرتے ہیں، میری کھال میں ایسے قوت مدافعت رکھی ہے کہ معمولی سی چبھن بھی اسے محسوس ہوتی اور خودبخود بچائو کا سامان ہوجاتا ہے۔ اور اگر کہیں کوئی زخم ہوجاتا ہے تو خود جسم کے اندر اندمال کی صلاحیت رکھی ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ علاج کی بیشمار سہولتیں اور جڑی بوٹیوں کی شکل میں دوائوں کا ایک جال بچھا دیا گیا ہے۔ اور ایسی عقل عطا کی گئی ہے جو مرض کو بھی پہچانتی ہے اور علاج کو بھی۔ اور سب سے بڑی بات یہ کہ جسم اور اس کی غذا، بیماری اور اس کی مدافعت، مرض اور اس کے علاج اور ادویہ اور جسمانی کیفیت میں ایسی مناسبت رکھی گئی ہے جس کے نتیجے میں اخذورد اور تشحیص و تجویز کے تمام مراحل بحسن و خوبی انجام پاتے ہیں اور آخری بات یہ ہے کہ انسان ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے حصار میں اور اس کی شفابخشی کے سائے میں زندگی گزارتا ہے۔
وہی رب العالمین میری ہر طرح کی بندگی کا مستحق ہے، جس نے مجھے زندگی کی نعمت بخشی، اور پھر ایک دن مجھے موت دے گا اور پھر لازماً اس کے بعد ایک دن زندہ بھی کرے گا۔ جب اس نے مجھے پیدا کیا تو اس میں اسے کوئی مشکل پیش نہیں آئی، تو اب دوبارہ زندہ کردینے میں کیوں مشکل پیش آئے گی ؟ اس نے زندگی میں ربوبیت کے جن فیوض سے مجھے نوازا اور میری ہدایت کے جیسے جیسے سامان کیے، عدل اور عقل کا تقاضا ہے کہ وہ ایک دن ایسا لائے جب وہ مجھ سے ان تمام احسانات کا حساب مانگے اور وہ مجھ سے پوچھے کہ میں نے ان تمام احسانات کا شکر ادا کیا، یا ناشکری پر کمر باندھے رکھی اور آخر میں فرمایا کہ جب وہ آخری دن آئے گا جس کی حیثیت روزجزا کی ہے تو میں امید رکھتا ہوں، کیونکہ یہی امید ایک مومن کا اصل سہارا ہے کہ وہ میری خطائیں بخش دے گا اور میری مغفرت فرمائے گا۔
Ayah 26:83رَبِّ ھَبْ لِیْ حُکْمًا وَّاَلْحِقْنِیْ بِالصّٰلِحِیْنَ ۔ وَاجْعَلْ لِّیْ لِسَانَ صِدْقٍ فِی الْاٰخِرِیْنَ ۔ (الشعرآء : 83، 84)
(اے میرے رب ! مجھے قوت فیصلہ عطا فرما اور مجھ کو صالحین کے ساتھ ملا۔ اور بعد کے آنے والوں میں مجھے سچی ناموری عطا فرما۔ )
ہجرت کے وقت حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا
معلوم ہوتا ہے کہ آپ ( علیہ السلام) نے یہ دعا اعلانِ براءت اور ہجرت کے وقت فرمائی ہے۔ یہاں حکم سے مراد نبوت نہیں جبکہ قرآن کریم میں کئی مواقع پر اس معنی میں یہ لفظ استعمال ہوچکا ہے۔ کیونکہ جب آپ ( علیہ السلام) نے یہ دعا فرمائی ہے اس وقت آپ ( علیہ السلام) کو نبوت عطا ہوچکی تھی۔ اگر بالفرض یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ دعا نبوت سے پہلے کی ہے تو تب بھی ہمیں ایسی کوئی مثال اللہ تعالیٰ کے عظیم بندوں میں نہیں ملتی کہ انھوں نے کبھی نبوت کے لیے دعا کی ہو۔ یہ تو ایک وہبی چیز ہے جو اللہ تعالیٰ خود ہی جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور پھر یہ ایک ایسی کٹھن ذمہ داری ہے کہ کوئی شخص بھی اپنی چاہت سے اس ذمہ داری کو قبول کرنے کے لیے تیار نہیں ہوسکتا۔ اس لیے یہاں حکم سے مراد علم و حکمت، فہمِ صحیح اور قوت فیصلہ ہی لینا درست ہے۔
آپ ( علیہ السلام) اپنے گھر اور قوم سے نکل کر اجنبی وادیوں کی طرف جارہے تھے۔ کچھ خبر نہ تھی کہ آئندہ کیسے حالات پیش آنے والے ہیں اور کس طرح کے لوگوں سے واسطہ پڑنے والا ہے۔ جب اپنے لوگوں نے آپ ( علیہ السلام) کی دعوت کو قبول نہ کیا تو اجنبی لوگوں سے کیسے امید ہوسکتی ہے کہ وہ آسانی سے اسے قبول کرلیں گے۔ اور پھر یہ بات بھی کہ ان کے مزاج اور معروف سے ناآشنائی کے باعث تبلیغ و دعوت کے کام میں کیسی مشکلات پیش آسکتی ہیں، اس کا اندازہ بھی مشکل تھا۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے رب سے صحیح قوت فیصلہ کے عطا کرنے کی دعا مانگی۔ کیونکہ غلط فیصلہ آسان کام کو بھی مشکل کردیتا ہے اور صحیح فیصلہ مشکلات پر غالب آنے کے امکانات کھول دیتا ہے۔ اور اجنبی لوگوں میں جاتے ہوئے اپنی قوم سے بڑھ کر بےرخی بلکہ اذیت رسانی کی توقع کی جاسکتی ہے اور ان کے بگڑے ہوئے لوگوں کی طرف سے مزاحمت کے زیادہ خطرات پیش آسکتے ہیں۔ اس لیے آپ ( علیہ السلام) نے صالحین کی معیت اور رفاقت کے لیے استدعا کی۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین کی نشرواشاعت کے لیے صالحین ہی معاونت کرسکتے تھے اور انھیں کی رفاقت حوصلے کا سامان ہوسکتی تھی۔
دوسری آیت کریمہ میں بعد کے آنے والوں میں آپ ( علیہ السلام) نے لسان صدق کی دعا فرمائی۔ لسان کے معنی شہرت اور چرچا کے ہیں اور صدق کا معنی سچائی اور بلند مقام کے ہیں۔ چونکہ لسان کی اضافت صدق کی طرف ہے، اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ لِسَانَ صِدْقِ کا مفہوم ذکرجمیل اور ثنائے حسن ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ بعد میں آنے والی نسلوں میں میرا ذکر، ذکرِ جمیل کے طور پر باقی رکھ۔ یعنی جس طرح بعض ظالم و جابر لوگ اپنے ظلم و جبر کے باعث لوگوں کے دلوں میں ایسی یاد چھوڑ جاتے ہیں کہ دنیا ہمیشہ ان پر لعنت بھیجتی اور ان کے ظلم پر تنقید کرتی رہتی ہے۔ اسی طرح میری زندگی خلق خدا کے لیے روشنی کا مینار بنا، مجھے انسانیت کے محسنوں میں شمار فرما۔ بعد کی آنے والی نسلیں ہمیشہ میرے کارناموں اور میری قربانیوں کو اچھے لفظوں میں یاد رکھیں۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے آپ ( علیہ السلام) کی یہ دعا اس طرح قبول فرمائی کہ آپ ( علیہ السلام) کے بعد آنے والی نسلوں میں آج تک آپ ( علیہ السلام) کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔ تاریخ میں ہمیں ایسی اور کوئی مثال نہیں ملتی کہ تمام آسمانی مذاہب کے ماننے والے کسی ایک شخصیت کو اس قدر احترام سے یاد کرتے ہوں۔ مشرکینِ عرب اپنے آپ کو آپ ( علیہ السلام) کی ملت کا امین سمجھتے ہیں۔ اہل کتاب آپ ( علیہ السلام) کو اپنا پیشوا سمجھتے ہیں اور ہر مسلمان اپنی نماز میں آپ ( علیہ السلام) پر اور آپ ( علیہ السلام) کی آل پر درود بھیجتا ہے۔ اور ہر سال آپ ( علیہ السلام) کی سنت کو تازہ کرتے ہوئے لاکھوں انسان لاکھوں جانوروں کی قربانی دیتے ہیں اور ہر ممبر سے آپ ( علیہ السلام) کی اثرآفریں قربانی کا تذکرہ ہوتا ہے۔
Ayahs 26:84–87وَاجْعَلْنِیْ مِنْ وَّرَثَۃِ جَنَّۃِ النَّعِیْمِ ۔ وَاغْفِرْ لِاَبِیْٓ اِنَّـہٗ کَانَ مِنَ الضَّآلِّـیْنَ ۔ وَلاَ تُخْزِنِیْ یَوْمَ یُبْعَثُوْنَ ۔ (الشعرآء : 85 تا 87)
(اور مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں شامل فرما۔ اور میرے باپ کو معاف فرما دے، بیشک وہ گمراہوں میں سے ہے۔ اور مجھے اس دن رسوا نہ کر جس دن لوگ اٹھائے جائیں گے۔ )
رب العالمین ! مجھے نعمتوں والی جنت کے وارثوں میں سے بنا۔ تیرا انتہائی کرم ہے کہ تو نے مجھے نبوت سے نوازا اور لوگوں کی رہنمائی کے منصب پر فائز کیا، لیکن تیری دی ہوئی ہدایت سے میں یہ بات جانتا ہوں کہ تیری ذات انتہائی بےنیاز اور بےپرواہ ہے۔ اس لیے تیری بارگاہ کے مقربین بھی ہمیشہ لرزاں و ترساں رہتے ہیں جنت تیرا ایسا انعام ہے جو صرف اسے نصیب ہوگا جو ایمان و عمل کے ساتھ ساتھ تیرے فضل سے بہرہ ور ہوگا۔ تیری وہ عنایات جو تیرے فضل کو دعوت دیتی ہیں وہ سب تو نے مجھے عطا فرمائی ہیں۔ اب قیامت کے دن تیرا فضل ہوگا تو میں جنت میں داخل ہوسکوں گا۔ اس لیے میں تجھ ہی سے تیرا فضل اور تیری جنت مانگتا ہوں۔
والد کے لیے مغفرت کی دعا کا مفہوم و مراد
سعادت مند اولاد جب بھی اپنے اللہ کو پکارتی ہے تو اپنے والدین کو کبھی نہیں بھولتی۔ اس لیے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے جب اپنے لیے جنت کے وارثوں میں سے ہونے کی دعا مانگی تو معاً خیال آیا کہ میرے والد نے تو ابھی تک بت پرستی چھوڑ کر توحید کے راستے پر چلنے کا اقرار نہیں کیا۔ یعنی اس نے ایمان کا راستہ اختیار نہیں کیا اور ایمان کے بغیر مغفرت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا، لیکن یہ بات بھی بہت تکلیف دہ ہے کہ قیامت کے دن میرا باپ کافروں کے ساتھ جہنم میں داخل کیا جائے۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے بلند مراتب عطا فرمائے ہیں، لیکن جب میرا باپ جہنم میں جائے گا تو مجھے رسوائی سے کون بچا سکے گا۔ اس لیے بےساختہ اللہ تعالیٰ سے اپنے والد کے لیے دعا مانگی۔ کیونکہ وہ گمراہوں میں سے ہے۔ اگر اسے ایمان کی دولت نہ ملی اور وہ جنت میں جانے کا مستحق نہ ٹھہرا تو میری میدانِ حشر میں کیسی رسوائی ہوگی۔ لیکن قرآن کریم کی دیگر تصریحات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے والد کے لیے اس وقت تک دعائیں مانگی ہیں جب تک آپ ( علیہ السلام) کو باپ کے ایمان لانے کے بارے میں بالکل مایوسی نہیں ہوگئی۔ اور آپ ( علیہ السلام) کی دعائیں جہاں پسرانہ محبت کی وجہ سے تھیں وہیں اس کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ جب آپ ( علیہ السلام) اپنے والد کے ظلم سے تنگ آکر ہجرت کرنے لگے تو آپ ( علیہ السلام) نے اپنے والد سے کہا تھا سَلاَ مٌ عَلَیْکَ سَاَسْتَغْفِرُ لَـکَ اِنَّـہٗ کَانَ بِیْ حَفِیًّا ” آپ کو سلام ہے، میں آپ کے لیے اپنے رب سے بخشش کی دعا کروں گا، وہ میرے اوپر نہایت مہربان ہے۔ “ اس وعدے کے ایفاء کے لیے آپ ( علیہ السلام) اپنے باپ کے لیے دعا کرتے رہے۔ لیکن اس کی جب حق سے دشمنی انتہا کو پہنچ گئی تو تب آپ ( علیہ السلام) نے دعا کرنا چھوڑ دیا۔ قرآن کریم کہتا ہے وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ اِبْرٰاھِیْمَ لِاَبِیْہِ اِلاَّ عَنْ مّـوْعِدَۃٍ وَّعَدَھَا اِیَّـاہُ فَلَمَّا تَـبَـیَّنَ لَـہٗ اَنَّـہٗ عَدَوَّلِلّٰہِ تَبَرَّاَ مِنْـہُ ” حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا اپنے باپ کے لیے دعائے مغفرت کرنا محض اس وعدے کی وجہ سے تھا جو اس نے اس سے کیا تھا مگر جب یہ بات اس پر کھل گئی کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس نے اظہارِ بیزاری کردیا۔ “
Ayahs 26:88–89یَوْمَ لاَ یَنْفَعُ مَالٌ وَّلاَ بَنُوْنَ ۔ اِلاَّ مَنْ اَتَی اللّٰہَ بِقَلْبٍ سَلِیْمٍ ۔ (الشعرآء : 88، 89)
(جس دن نہ مال کام آئے گا اور نہ اولاد۔ بجز اس کے کہ کوئی شخص قلب سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔ )
دعا کی تکمیل پروردگار کی طرف سے ہے
پیشِ نظر دونوں آیات میں اس بات کا بھی امکان ہے کہ انھیں حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کا جز قرار دیا جائے۔ اور اس بات کا بھی کہ یہ دونوں آیات حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے تکمیل و توضیح ہوں۔ زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے جو حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی دعا پر اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان آیات کا حاصل یہ ہے کہ قیامت کے دن آدمی کے کام کوئی چیز اگر آسکتی ہے تو وہ مال و اولاد نہیں بلکہ صرف قلب سلیم ہے۔ قلبِ سلیم سے مراد وہ دل ہے جو شرک و نفاق اور فسق و فجور کی ہر آلائش سے پاک ہو۔ اگر کوئی شخص ایسے قلب سلیم کی دولت سے بہرہ ور ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس کو اولاد بھی ایسے ہی قلب سلیم کی حامل دی ہے تو یہ یقینا اللہ تعالیٰ کے یہاں نافع ہوں گے۔ اسی طرح وہ مال جو اللہ تعالیٰ کے راستے میں نہیں بلکہ دنیوی آلائشوں اور فسق و فجور کی اشاعت میں خرچ ہوتا ہے وہ بھی قیامت کے دن وبال تو بن سکتا ہے، کسی کام نہیں آسکتا۔ البتہ اگر یہ مال اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی اور اس کی تبلیغ و دعوت اور خلق خدا کی خدمت میں صرف ہوا ہو تو یقینا یہ ایک ایسا سرمایہ ہے جو قیامت کے دن کام آئے گا۔ ” آذر “ ایمان و عمل سے خالی نہایت دولت مند شخص کا نام ہے، جسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسے عظیم فرزند کا باپ ہونے کا شرف حاصل ہے۔ لیکن ایمان کی دولت سے محرومی کے باعث حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جیسا عظیم فرزند بھی اس کے کسی کام نہ آیا بلکہ دنیا ہی میں آپ ( علیہ السلام) نے اس کے لیے دعا مانگنا بھی چھوڑ دی۔ کیونکہ آپ ( علیہ السلام) کے نزدیک اللہ تعالیٰ کے دین کی محبت پسری محبت پر غالب تھی۔ اسے دین کی محبت پر قربان کیا جاسکتا تھا لیکن دین کی محبت کو باپ کی محبت پر قربان نہیں کیا جاسکتا۔
Ayahs 26:90–91وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّـۃُ لِلْمُتَّـقِیْنَ ۔ وَبُرِّزَتِ الْجَحِیْمُ لِلْغٰوِیْنَ ۔ (الشعرآء : 90، 91)
(اور جنت پرہیزگاروں کے قریب لائی جائے گی۔ اور دوزخ گمراہوں کے لیے بےنقاب کی جائے گی۔ )
اِزَلاَ فْ کے معنی قریب لانے کے ہیں اور تَبْرِیْز کا معنی کھول دینا اور بےنقاب کردینا ہے۔
متقین کا اعزاز
دنیا میں انسانوں نے اپنے آپ کو بہت سے گروہوں میں تقسیم کر رکھا ہے۔ کہیں ذات پات کی تفریق ہے اور کہیں فرقہ بندیوں کی، کہیں لسانی تفرقے ہیں اور کہیں جغرافیائی نسبتیں۔ اسلام کے نزدیک دنیا میں بھی قابل قبول تقسیم صرف ایک ہے۔ وہ یہ ہے کہ انسان مومن ہے یا کافر۔ اور اسی بنیاد پر قیامت کے دن بھی ایک ہی تقسیم ہوگی، اہل جنت یا اہل جہنم۔
اہلِ جنت نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تکلیفیں اٹھائیں۔ نہ جانے کتنی دنیوی لذتوں سے اپنے آپ کو روکا اور صبر کیا۔ چناچہ جب یہ لوگ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضر ہوں گے تو یہ لوگ نہات عزت کی نگاہ سے دیکھے جائیں گے۔ وہ انھیں اپنے قریب کرے گا اور ان کو اس اعزاز سے نوازے گا کہ جنت خود ان کے قدم لے گی اور بجائے اس کے کہ یہ چل کر جنت تک پہنچیں، جنت ان کے قریب لائی جائے گی۔
کافروں کا حشر
اہلِ جہنم نے اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی بجائے شیطان کی قربت حاصل کی۔ ہَوائے نفس کا اتباع کیا اور اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی۔ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ بھی ان کو دور کردے گا۔ اور یہ چونکہ اہل جہنم کے راستے پر چلتے رہے اس لیے جہنم اور ان کے درمیان پردہ اٹھا دیا جائے گا اور یہ دور ہی سے جہنم کو دہکتا ہوا دیکھیں گے اور ان میں داخل ہونے سے پہلے ہی ان کی جان ہوا ہونے لگے گی۔ اور اہل جہنم یہ بات محسوس کریں گے کہ جس دوزخ اور جہنم کو ہم نے ہمیشہ ایک افسانہ سمجھا اور اگر کبھی مفروضے کے طور پر مانا بھی تو یہ کہا کہ وہ ہم سے بہت دور ہے۔ آج وہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے کہ جہنم اور ان کے درمیان صرف ایک پردہ ہی حائل تھا جو آج اٹھا دیا گیا ہے۔
Ayahs 26:92–93وَقِیْلَ لَہُمْ اَیْنَمَا کُنْـتُمْ تَعْبُدُوْنَ ۔ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط ھَلْ یَنْصُرُوْنَـکُمْ اَوْیَنْتَصِرُوْنَ ۔ (الشعرآء : 92، 93)
(اور ان سے کہا جائے گا کہ اب کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کرتے تھے۔ اللہ کے سوا، کیا وہ تمہاری مدد کریں گے یا اپنا بچائو کریں گے ؟ )
نصر کے معنی دوسرے کی مدد کرنے کے ہیں اور انتصارکا معنی خود اپنی مدافعت کرنے کے ہیں۔
جہنم میں جانے والوں سے پوچھا جائے گا کہ تم دنیا میں جن لوگوں کی اس خیال سے پیروی کرتے رہے کہ وہ قیامت کے دن تمہارے کام آئیں گے اور تمہیں ہر طرح کے عذاب سے بچا لیں گے۔ بتائو کیا آج وہ تمہاری مدد کریں گے یا کر رہے ہیں ؟ بلکہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر کہا گیا ہے کہ انھیں دیکھو وہ بھی تمہارے ساتھ پکڑے ہوئے ہیں، ان سے پوچھو کیا وہ خود اپنا دفاع کرسکتے ہیں۔ اگر وہ آج اپنا دفاع بھی نہیں کرسکتے اور اپنے آپ کو بھی نہیں بچا سکتے تو کس قدر غلط بات تھی وہ جس کی وہ تمہیں امید دلاتے رہے اور تم اس فریب میں مبتلا رہے۔
Ayahs 26:94–95فَـکُبْکِبُوْا فِیْھَا ھُمْ وَالْغَاوٗنَ ۔ وَجُنُوْدُ اِبْلِیْسَ اَجْمَعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 94، 95)
(پھر وہ اس میں اوندھے جھونک دیئے جائیں گے وہ بھی اور دوسرے سارے گمراہ بھی۔ اور ابلیس کی ساری فوجیں بھی۔ )
صاحبِ قاموس کا خیال ہے کہ کَبَّ ، اَکَبَّ ، وَکَبْکَبَ سب کا ایک ہی معنی ہے۔ یعنی سر کے بل اوندھا کرکے نیچے پھینک دینا۔ علامہ بیضاوی لکھتے ہیں کہ کَبَّ و مکرر کرکے کَبْکَبَ بنایا گیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب انھیں دوزخ میں پھینکا جائے گا تو لڑھکنیاں کھاتے ہوئے نیچے جا گریں گے۔ کَبْکَبَمیں چونکہ حروف کی زیادتی ہے اس لیے اس میں مبالغہ کا مفہوم پیدا ہوگیا ہے۔
گزشتہ آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ اہل جہنم سے پوچھا جائے گا کہ تم اللہ تعالیٰ کے سوا جن کی پرستش کرتے تھے، بتائو اب وہ کہاں ہیں ؟ کیا وہ اب تمہاری مدد کریں گے ؟ جبکہ تم ان کی مدد پر یقین رکھتے تھے۔ یا اب ان کا حال یہ ہے کہ وہ اپنا دفاع کرنے پر بھی قادر نہیں ہیں۔ ظاہر ہے کہ اس کے جواب میں ندامت اور خاموشی کے سوا اور کیا ہوگا۔ اس طرح پوری طرح ان کی رسوائی اور تذلیل کے بعد انھیں اوندھے منہ جہنم میں اس طرح پھینکا جائے گا کہ وہ لڑھکنیاں کھاتے ہوئے قعرِجہنم میں جا گریں گے اور اس طرح سے اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے۔
Ayahs 26:96–99قَالُوْا وَھُمْ فِیْھَا یَخْتَصِمُوْنَ ۔ تَاللّٰہِ اِنْ کُنَّا لَفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ اِذْ نُسَوِّیْکُمْ بِرَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ وَمَـآ اَضَلَّـنَـآ اِلاَّ الْمُجْرِمُوْنَ ۔ (الشعرآء : 96 تا 99)
(وہ اہل جہنم آپس میں جھگڑتے ہوئے کہیں گے۔ خدا کی قسم، ہم کھلی گمراہی میں گرفتار تھے۔ جبکہ تم کو خداوندِعالم کا ہمسر ٹھہر اتے رہے۔ اور نہیں گمراہ کیا ہمیں مگر ان مجرموں نے۔ )
اختصام کے معنی آپس میں لڑنے جھگڑنے کے ہیں۔
لیڈروں اور پیروکاروں میں جھگڑا
قرآن کریم نے اور بھی بعض مواقع پر اہل جہنم کا نقشہ کھینچتے ہوئے بتایا ہے کہ جہنم میں جب وہ ان لوگوں کو دیکھیں گے جن کی پیروی نے ان کو برباد کیا اور جنھیں وہ دنیا میں بزرگ اور پیشوا، رہنما اور لیڈر مانتے رہے تھے اور عقیدت سے جن کے ہاتھ پائوں چومتے تھے اور جن کے قول و عقل کو سند مانا جاتا تھا اور اجتماعی معاملات میں جن کی رہنمائی کو حرف آخر سمجھا جاتا تھا جب انھیں اپنی طرح جہنم میں دیکھیں گے تو تب انھیں اندازہ ہوگا کہ دنیا میں ہم نے جن پر ہر معاملے میں بھروسہ کیا اور اپنی دنیا کے ساتھ ساتھ اپنی آخرت بھی ان کے سپرد کردی، آج معلوم ہوا ہے کہ وہ بھی ہماری طرح گمراہ لوگ تھے بلکہ ہماری گمراہی میں ان کا عمل دخل تھا۔ اور ہماری حماقت کا عالم یہ تھا کہ ہم انھیں رب العالمین کا ہمسر ٹھہرایا کرتے تھے۔ تو یہ اپنی ساری محرومیوں کا ذمہ دار انھیں گردانتے ہوئے ان پر لعنت کی بوچھاڑ کریں گے اور اپنی بدنصیبی کی ذمہ داری ان پر ڈالیں گے۔ ابن کثیر نے درست فرمایا کہ رب العالمین کے ہمسر ٹھہرانے کا مطلب یہ ہے کہ ہم تمہارے احکام کو بھی اسی طرح واجب الاطاعت سمجھتے تھے جیسے اللہ تعالیٰ کے احکام کو سمجھتے تھے۔
سورة الاعراف آیت 38 میں اسی مضمون کو اس طرح بیان کیا گیا ہے
کُلَّمَا دَخَلَتْ اُمَّـۃٌ لَّعْنَتْ اُخْتَھَا حَتّٰی اِذَاادَّارَاکُوْا فِیْھَا جَمِیْعًا قَالَتْ اُخْرَاھُمْ لِاُوْلٰھُمْ رَبَّنَا ھٰـؤُلاَئِ اَضَّلُوْنَا فَاَتِھِمْ عَذَابًا ضِعْفًا مِّنَ النَّارِ ط قَالَ لِکُلِّ ضِعْفٌ وَّلٰـکِنْ لاَّ تَعْلَمُوْنَ ۔
(ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے ساتھ کے گروہ پر لعنت کرتا جائے گا، یہاں تک کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے متعلق کہے گا، اے ہمارے رب ! یہ ہیں وہ لوگ جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا، اب انھیں آگ کا دوہرا عذاب دے، رب فرمائے گا، سب ہی کے لیے دوہرا عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں۔ )
Ayahs 26:100–102فَمَا لَنَا مِنْ شَافِعِیْنَ ۔ وَلاَ صَدِیْقٍ حَمِیْمٍ ۔ فَلَوْ اَنَّ لَنَا کَرَّۃً فَنَـکُوْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِیْنَ ۔ (الشعرآء : 100 تا 102)
(تو نہ اب کوئی ہمارا سفارشی ہے۔ اور نہ کوئی غمخوار دوست۔ پس اگر ہمارے اختیار میں ہوتا دنیا میں واپس جانا تو ہم اہل ایمان میں سے ہوتے۔ )
حسرت کا اظہار
یہ اظہارِ حسرت کے الفاظ ہیں، یعنی ہم دنیا میں جن کی شفاعت کی امید لگائے بیٹھے تھے اور جن کے متعلق ہمارا یہ عقیدہ تھا کہ ان کا دامن تھام لینے سے آخرت میں کسی غم کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ آج ان میں سے کوئی بھی یہاں موجود نہیں، سب ہوا ہوگئے۔ کوئی بھی سفارش کے لیے زبان کھولنے والا نہیں۔ جن کا عمر بھر جھنڈا اٹھائے پھرتے رہے ان میں سے آج کوئی ہماری حمایت و مدافعت کے لیے نظر نہیں آتا۔
پھر وہ اس تمنا کا اظہار کریں گے کہ کاش ہمیں ایک مرتبہ دنیا میں جانا نصیب ہوتا تو ہم ان مجرموں سے اظہارِ براءت کرتے اور ایمان لانے والوں میں سے بنتے۔ لیکن ان کی یہ تمنا بس تمنا ہی رہے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ کی کتابوں اور اس کے رسولوں نے بار بار متنبہ کیا تھا کہ یہ دنیا دارالعمل ہے، یہیں آخرت کی تیاری کرنا ہوگی۔ اور موت سے اس کی مہلت ختم ہوجاتی ہے۔ اس لیے دوبارہ دنیا میں جانے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
Ayahs 26:103–104اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیَـۃً ط وَمَا کَانَ اَکْثَرُھُمْ مُّؤْمِنِیْنَ ۔ وَاِنَّ رَبَّکَ لَھُوَالْعَزِیْزُ الرَّحِیْمُ ۔ (الشعرآء : 103، 104)
(یقینا اس میں ایک بڑی نشانی ہے اور ان میں سے اکثر ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اور بیشک آپ کا رب سب پر غالب اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔ )
یہ ترجیع کی آیت ہے، اس کی وضاحت پہلے ہوچکی ہے۔
Ayah 26:105کَذَّبَتْ قَوْمُ نُوْحِ نِ الْمُرْسَلِیْنَ ۔ (الشعرآء : 105)
(حضرت نوح (علیہ السلام) کی قوم نے رسولوں کو جھٹلایا۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) اور آپ کی دعوت کی سرگزشت سے پہلے چند حقائق
آنحضرت ﷺ کی تسلی اور قریش پر دین حق کی حقانیت کو واضح کرنے اور ساتھ ہی ساتھ انھیں تنبیہ کرنے کے لیے دلائلِ آفاق اور دلائلِ انفس کے بعد تاریخی واقعات سے استشہاد کا جو سلسلہ شروع کیا تھا حضرت نوح (علیہ السلام) کا حوالہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان واقعات کو پڑھتے ہوئے جو حقائق بار بار سامنے آتے ہیں ان میں سے پہلی حقیقت یہ ہے کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آخری رسول کریم ﷺ تک جتنے انبیاء کرام اور رسولانِ عظام تشریف لائے ہیں یہ ایک دوسرے سے واقف نہ تھے۔ ان میں سے بیشتر جغرافیائی تعلق بھی نہیں رکھتے تھے۔ ان کی زبانیں بھی باہم مختلف تھیں۔ ان کی بعثت بھی مختلف زمانوں میں ہوئی۔ یہ الگ الگ قوموں کی طرف بھیجے گئے۔ ان میں وحدت یکسانی اور یک رنگی کا کوئی سبب موجود نہ تھا۔ باایں ہمہ حیرت کی بات یہ ہے کہ ان کی دعوت ایک ہے، ان کا دین ایک ہے، ان کے دین کے مبادی ایک ہیں، ان کا اسلوبِ دعوت یکساں ہے، ہر بعد میں آنے والا رسول پہلے گزرے ہوئے رسول اور اس پر نازل کردہ کتاب کی سچائی کو تسلیم کرتا اور اس کی تصدیق کرتا ہے۔ ان کے کردار میں بھی گہری یکسانی ہے، ان کے خیالات میں سرمو فرق نہیں۔ اور مزید حیرانی کی بات یہ ہے کہ ان کے مخالفین نے مخالفت میں جو اعتراضات اٹھائے وہ سب رسولوں کے مخالفین میں یکساں نظر آتے ہیں۔ انھوں نے ایک ہی طرح سے اپنے اپنے رسول کی تکذیب کی۔ اور باہمی ملتے جلتے معجزات کا مطالبہ کیا۔ اور انجام کے اعتبار سے بھی تمام پیغمبروں میں گہری وحدت نظر آتی ہے۔ ہر قوم نے جب اپنے رسول کی تکذیب میں انتہا کردی، تو اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کو نجات دی اور تکذیب کرنے والوں کو عذاب کی نذر کردیا۔
دنیا میں تصدیق اور اعتماد کے لیے ہمیشہ انفرادی یا چند افراد کی شہادت پر بھروسہ کیا گیا ہے جبکہ کسی ایک شخص یا چند افراد کا کسی جھوٹ یا غلط بات پر اتفاق کرلینا چنداں باعث حیرت نہیں، لیکن وہ حقیقت جس پر قوموں نے گواہی دی ہو اور جن کی تصدیق اور تائید کے لیے ان کی آبادیوں کے کھنڈرات آج بھی بول رہے ہیں اس گواہی کی تردید اور اس کے ابطال کی کون حماقت کرسکتا ہے۔ انبیائے کرام کی تاریخ اور ان کی امتوں کے حالات دین حق کی حقانیت پر مختلف زمانوں میں گزری ہوئی قوموں کی گواہی ہے جس سے یہ بات حتمی طور پر ثابت ہوجاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جس دین کو لے کر آئے تھے وہ سب سے بڑی حقیقت تھی۔ جن لوگوں نے اسے قبول کیا وہ اس کے نتیجہ میں یقینا ستائے گئے اور انھیں بہت تکلیفیں اٹھانا پڑیں، لیکن بالآخر وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ٹھہرے۔ اور جن لوگوں نے رسول کی تکذیب کی وہ اپنی تکذیب کی پاداش میں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئے اور ہمیشہ کے لیے عبرت کا سامان بنا دیئے گئے۔
یہ چند سامنے کے حقائق ہیں جو ان واقعات سے مترشح ہوتے ہیں۔ چناچہ ان ہی واقعات سے اس راستے کے داعی اور مناد اور اس راستے پر چلنے والوں کی تسکین اور استقامت کا سامان ہوتا ہے۔ اور انہی واقعات سے مخالفین کو متنبہ کیا جاتا ہے کہ تم نے اگر ایمان لا کر اپنی حالت بدلنے کی کوشش نہیں کی تو آخر اسی عذاب میں پکڑے جاؤ گے جس کا نشانہ پہلی امتیں بن چکی ہیں۔
رسولوں کی تکذیب کا مفہوم
رسولانِ گرامی کے سلسلے کی ایک عظیم کڑی حضرت نوح (علیہ السلام) بھی تھے۔ ان کی قوم نے بھی نے بھی ان کی تکذیب کی۔ غیرمعمولی طویل زمانے تک آپ ( علیہ السلام) نے تبلیغ و دعوت کا فرض انجام دیا۔ کئی نسلیں آپ ( علیہ السلام) کے سامنے گزریں لیکن ایک مختصر تعداد کے سوا قوم نے آپ ( علیہ السلام) کی دعوت قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اس کا حوالہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قوم نوح نے رسولوں کا انکار کیا حالانکہ آپ ( علیہ السلام) کی قوم نے آپ ( علیہ السلام) کی رسالت کا انکار کیا تھا، باقی رسولوں کا تو اس سے کوئی تعلق نہ تھا۔ معلوم یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک رسولوں کی رسالت و دعوت میں اس حد تک وحدت اور یکسانی ہے کہ ایک رسول کی تکذیب تمام رسولوں کی تکذیب کے برابر ہے۔ کیونکہ سب رسولوں کو ایک ہی پروردگار نے مبعوث فرمایا، سب اسی ذات خداوندی کا پیغام لے کر آئے اور سب کا پیغام بالکل ایک ہے۔ اس لیے جو قوم ایک رسول کا انکار کرتی ہے وہ درحقیقت سب رسولوں کے انکار کے مترادف ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم میں ایسے لوگوں کو بھی کافر کہا گیا ہے جو صرف ایک نبی کا انکار کرتے ہوں، بیشک باقی تمام انبیاء کو مانتے ہوں۔ کیونکہ اصل سوال مخاطب قوم کی ذہنیت کا ہے۔ قبول کرنے والوں کی ذہنیت کا سانچا انکار کرنے والوں کی ذہنیت کے سانچے سے بالکل الگ ہوتا ہے۔ جس شخص کی ذہنیت میں رسالت کا انکار اپنی جگہ بنا چکا ہے اس سے یہ توقع کرنا عبث ہے کہ وہ کسی رسول کو بھی تسلیم کرے گا۔ کیونکہ رسولوں کی دعوت یکساں ہے تو جب بھی اس کے سامنے کسی رسول کی دعوت آئے گی تو چونکہ اس کی ذہنی ساخت سے وہ میل نہیں کھاتی تو وہ یقینا اس کا انکار کردے گا۔ اور اگر کہیں کوئی ایسی مثال موجود ہو کہ کوئی شخص ایک رسول کو مانتا ہے اور دوسرے رسول کا انکار کرتا ہے تو اگر تدبر سے کام لیا جائے تو معلوم ہوجائے گا کہ اس نے جس رسول کو مانا ہے پیغامِ رسالت کے حوالے سے نہیں مانا بلکہ کسی عصبیت یا تقلیدِ آبائی کی بنا پر مانا ہے۔ اور جہاں کہیں کسی سچے رسول کا انکار کیا ہے تو اس کی تہ میں بھی کوئی عصبیت یا حسد کا عارضہ کام کررہا ہے۔ بنی اسرائیل نے نبی کریم ﷺ کی رسالت کا انکار صرف حسد کے باعث کیا۔ کیونکہ وہ بنی اسماعیل کو کسی طرح بھی اپنے برابر تسلیم کرنے کو تیار نہ تھے۔ آنحضرت ﷺ چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے تھے اور بنی اسرائیل یہ سمجھ رہے تھے کہ آخری آنے والا پیغمبر ہمارے خاندان میں سے ہوگا۔ چناچہ جب انھوں نے دیکھا کہ آپ ﷺ تو بنی اسماعیل میں سے ہیں تو حسد کے مارے ایمان لانے سے انکار کردیا۔ مسیلمہ کذاب پر ایمان لانے والوں میں سے بعض سے جب پوچھا گیا کہ تم نے مسیلمہ میں ایسی کیا خوبی دیکھی کہ نبی کریم ﷺ کے مقابلے میں اسے نبی تسلیم کرلیا، تو انھوں نے صاف اقرار کیا کہ ہم چونکہ قریش سے خاندانی عصبیت رکھتے ہیں اور بنی طی اور بنی تمیم قریش کی عظمت کو کبھی بھی تسلیم نہیں کرسکتے، اس لیے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا جھوٹا پیغمبر بھی قریش کے سچے نبی سے بہتر ہے۔
Ayah 26:106اِذْ قَالَ لَھُمْ اَخُوْھُمْ نُوْحٌ اَلاَ تَـتَّـقُوْنَ ۔ (الشعرآء : 106)
(یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو۔ )
حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کا بھائی کہنے کا مفہوم
یہاں حضرت نوح (علیہ السلام) کو ان کی قوم کا بھائی کہا گیا ہے۔ چونکہ ہر پیغمبر عموماً اپنی ہی قوم کی طرف مبعوث ہوتا ہے جن سے وہ نسبی رشتہ رکھتا ہے۔ اس لیے عموماً قرآن کریم نے قوم اور پیغمبر کے درمیان اخوت کے رشتے کا ذکر فرمایا ہے۔ ظاہر ہے یہ اخوت دینی نہیں، نسبی ہے۔ البتہ اخوت کے حوالے سے دو باتوں کی طرف اشارہ کرنا مقصود معلوم ہوتا ہے۔ ایک تو اس بات کی طرف کہ پیغمبر چونکہ تم سے اخوت کا رشتہ رکھتا ہے اس لیے اس کے دل میں تمہارے لیے گہری ہمدردی اور خیرخواہی اور جذبہ اخلاص کارفرما ہے جس کی وجہ سے تمہیں تمہارے مالک حقیقی کی ناراضگی سے بچانا چاہتا ہے۔ اور دوسرا اس بات کی طرف کہ پیغمبر اپنی قوم کے لیے اجنبی نہیں ہوتا۔ قوم اس کی نبوت سے پہلے کی زندگی سے خوب آگاہ ہوتی ہے۔ اگر اس کی زندگی میں کسی پہلو سے بھی کوئی نقص ہو تو جاننے والے فوراً پکار اٹھتے ہیں کہ تم کس منہ سے ہمیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلا رہے ہو۔ اور اگر وہ ان بدکردار لوگوں میں رہ کر بھی ایک بےعیب زندگی گزار چکا ہوتا ہے تو پھر ان کے لیے سیرت و کردار کے اعتبار سے کوئی الزام لگانا آسان نہیں ہوتا۔
حضرت نوح (علیہ السلام) نے دعوت کے آغاز ہی میں انذار سے کام لیا ہے، یعنی قوم کو ان کے غلط رویئے کی بدانجامی سے متنبہ کیا ہے۔ اس کی وجہ صاف ظاہر ہے کہ جس شخص کو بھی اپنی قوم سے ہمدردی ہوگی وہ اگر محسوس کرتا ہے کہ اس کی قوم کسی خطرے کی طرف بڑھ رہی ہے تو وہ اپنی قوم سے کوئی اور بات کہنے کی بجائے سب سے پہلے انھیں خطرے سے آگاہ کرتا ہے۔ اور ویسے بھی حکمت تبلیغ کے نقطہ نگاہ سے بھی بگڑے ہوئے لوگوں کے لیے ترہیب، ترغیب سے زیادہ موثر ہوتی ہے۔ اور شاید یہی وجہ ہے کہ ہر پیغمبر نے دنیا میں آغاز دعوت ہی میں ترہیب سے کام لیا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے کوہ صفا پر چڑھ کر جب اپنی قوم سے خطاب فرمایا اور یہ آپ ﷺ کی دعوت کا نقطہ آغاز تھا تو آپ ﷺ نے ان سے یہی فرمایا تھا، بقول حالی :
کہ سب قافلہ یاں سے ہے جانے والا
ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا
Ayahs 26:107–108اِنِّیْ لَـکُمْ رَسُوْلٌ اَمِیْنٌ۔ فَا تَّـقُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوْنَ ۔ (الشعرآء : 107، 108)
(بیشک میں تمہارے لیے ایک رسول امین ہوں۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ )
رسولِ امین کا مطلب
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا لازمی نتیجہ اس کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے کہ آدمی وہ راستہ تلاش کرے جس پر چل کر اللہ تعالیٰ کی ناراضگی سے بچا جاسکتا ہے۔ اسی لیے حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ سے ڈرانے کے بعد فوراً اس راستے کی خبر دی کہ اگر تم اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچنا چاہتے ہو اور اس کی ناراضگی کا خطرہ نہیں مول لینا چاہتے تو پھر میں تمہیں اس راستے کی خبر دیتا ہوں جس پر چل کر تم عافیت کو پہنچ سکتے ہو، وہ راستہ میں ہوں۔ کیونکہ میں تمہارے اور اللہ تعالیٰ کے درمیان ایک واسطہ ہوں۔ اس کی وحی مجھ پر اترتی ہے اور میں تم تک پہنچاتا ہوں۔ میں کوئی جھوٹا اور مفتری مدعی نہیں ہوں کہ تم مجھ پر اعتماد نہ کرسکو۔ میں ایک رسول امین ہوں۔ یعنی میں ایک ایسا رسول ہوں جسے تم پہلے سے ایک امین اور راست باز آدمی کی حیثیت سے جانتے ہو۔ میرا بچپن، میرا لڑکپن، میرا عنفوانِ شباب اور میری عمر کے تمام مراحل تمہاری آنکھوں کے سامنے ہیں۔ تم میرے خاندان تک سے واقف ہو۔ میرے تمہارے ساتھ قرابت کے رشتے ہیں، میری زندگی ایک کھلی کتاب کی مانند تمہارے سامنے ہے، تم کسی حوالے اور کسی پہلو سے جانچ پرکھ کر دیکھو، تمہیں کہیں بھی خیانت یا بےاعتمادی کا کوئی چھینٹا نظر آتا ہے ؟ تمہارا پورا معاشرہ گناہوں کی دلدل میں ڈوبا ہوا ہے، لیکن میں نے تم میں اس طرح زندگی گزاری ہے جیسے پتھروں کے ڈھیر میں ہیرا چمکتا ہے۔ اس سے بڑھ کر میری صداقت و امانت کی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو، کیونکہ ایک رسول امین کے آجانے کے بعد بیخبر ی کا عذر ختم ہوگیا۔ اور تمام ان قوتوں کو چھوڑ کر جن کے ساتھ تم نے اطاعت کا رشتہ باندھ رکھا ہے صرف میری اطاعت کرو۔ اور جو احکام میں تمہیں دیتا ہوں ان کے آگے سرتسلیم خم کرو۔
Ayah 26:109وَمَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ ج اِنْ اَجْرِیَ اِلاَّ عَلٰی رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الشعرآء : 109)
(میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا صلہ تو عالم کے خداوند کے ذمہ ہے۔ )
پیغمبر کی حقانیت پر دلیل
اس آیت کریمہ میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی صداقت پر دلیل بھی ہے اور مخاطبوں کو حقیقت پر غور کرنے کی ترغیب بھی۔ اور ساتھ ہی ساتھ بےنیازی کا اظہار بھی ہے۔ گزشتہ آیت میں دعوائے نبوت سے پہلے کی زندگی سے اپنی صداقت پر استدلال تھا۔ اور اب اپنی صداقت کی دوسری دلیل دیتے ہوئے یہ فرمایا ہے کہ میں ایک بےغرض آدمی ہوں۔ میں جو کچھ کر رہا ہوں، تمہاری زندگی کی اصلاح کے لیے کررہا ہوں، تمہارے طوراطوار کی درستی کے لیے کررہا ہوں اور تمہاری سیرت و کردار کی بہتری کے لیے کررہا ہوں اور اس میں میری شب و روز کی محنت اور تمہاری مخالفتوں پر میری استقامت تمہارے سامنے ہے۔ تمہارے برے سے برے رویئے پر میں جس طرح دعائوں سے صلہ دیتا ہوں اور ہمیشہ تمہاری ہدایت کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرتا رہتا ہوں، اس سے بھی تم واقف ہو۔ کیا میری صداقت پر اس سے بڑھ کر بھی کوئی دلیل ہوسکتی ہے۔ تم نے آج تک دوسروں کی خاطر اس طرح بےغرضانہ طریقے سے کسی ذاتی نفع کے بغیر کسی اور کو کاوشیں کرتے دیکھا ہے۔ اور پھر تم یہ بھی جانتے ہو کہ میری اس شب و روز کی مساعی نے میرا کاروبار ختم کرکے رکھ دیا ہے اور میری ہمدردی اور خیرخواہی کے جواب میں تمہاری طرف سے مجھے قسم قسم کی اذیتیں برداشت کرنا پڑ رہی ہیں۔ میرے اپنے حصے میں تلخیوں کے سوا کچھ نہیں آیا۔ لیکن مجھے اس پر کوئی شکایت نہیں کیونکہ یہ ایک فریضہ ہے جو صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے انجام دے رہا ہوں۔ ایک شخص جس کی زندگی نبوت سے پہلے بھی بےعیب گزری ہو اور جو فریضہ نبوت انجام دیتا ہوا اپنا سب کچھ تباہ کرکے لوگوں کی اصلاح کے لیے شب و روز محنت کررہا ہو اگر کسی شخص کو اس کی صداقت پر بھی شبہ ہے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا میں سچائی کی کوئی دلیل باقی نہیں ہے۔