25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsروح القرآن

Ayahs 25:1–2

تَبٰرَكَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰى عَبْدِهٖ لِیَكُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَاۙ Open ayah 25:1 in the Quran reader

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کردینے والا بنے

اِ۟لَّذِیْ لَهٗ مُلْكُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ لَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّ لَمْ یَكُنْ لَّهٗ شَرِیْكٌ فِی الْمُلْكِ وَ خَلَقَ كُلَّ شَیْءٍ فَقَدَّرَهٗ تَقْدِیْرًا Open ayah 25:2 in the Quran reader

وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے اپنے لیے کوئی اولاد نہیں بنائی اور جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی ایک تقدیر مقرر کی

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ لِیَکُوْنَ لِلْعٰلَمِیْنَ نَذِیْرَانِ ۔ (الفرقان : 1) (بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے یہ فرقان اپنے بندے پر نازل کیا تاکہ وہ اہل عالم کے لیے ہوشیار کردینے والا بنے۔ ) تبارک کا معنی و مفہوم اس آیت میں متعدد الفاظ تشریح طلب ہیں۔ آیت کا سب سے پہلا لفظ تَبٰـرَکَ ایسا وسیع المعنی ہے جس کا پورا مفہوم کسی ایک لفظ تو درکنار، ایک فقرے میں بھی ادا ہونا مشکل ہے۔ اس کا مادہ ب ر ک ہے۔ اس سے دو مصدر مستعمل ہیں 1 بَرَکَۃٌ 2 بُرُوْکبرکت کے مفہوم میں رفعت و عظمت، افزائش اور فراوانی کے تصورات شامل ہیں۔ اور بُرُوْک میں ثبات، بقا اور لزوم کا تصور پایا جاتا ہے۔ پھر جب اس مصدر سے تفاعل کا صیغہ تَبٰرَکَ بنایا جاتا ہے تو اس میں باب تفاعل کی خصوصیت مبالغہ اور اظہارِ کمال بھی شامل ہوجاتی ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رفیع و عظیم ہے۔ وہ عظمتوں کا سرچشمہ ہے اور رفعتیں اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ خیرات و حسنات اسی کے فیض سے وجود میں آتی ہیں۔ ہر چیز میں اضافہ اور کثرت اسی کی عنایت کا ثمر ہے۔ وہ ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وہ اپنی بزرگی اور عظمت میں سب پر فائق ہے۔ اور اپنی ذات وصفات اور افعال میں ہر ایک سے بالاتر ہے۔ اس کی ربوبیت اور فیضان بےمثال اور بینظیر ہے۔ اس کے کمالات کو کبھی زوال نہیں۔ اس کے بےمثال فیضان اور بےانتہا لطف و کرم کا نتیجہ یہ ہے کہ اس نے اپنے بندے پر ایک ایسی کتاب اتاری جو حق و باطل کے درمیان امتیاز کے لیے حجت قاطع کی حیثیت رکھتی ہیں۔ فرقان کا معنی و مفہوم اس کتاب کے لیے اس آیت میں فرقان کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ فرقان مصدر ہےر قاس کا مادہ ہے۔ یہ تین معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ 1 اسم فاعل، یعنی فارق کے معنی میں۔ یعنی وہ کتاب فیصلہ کن حیثیت کی مالک، عدل و انصاف کا معیار، کھوٹے کھرے کی پرکھ کے لیے کسوٹی ہے۔ 2 اسم مفعول، یعنی مفروق کے معنی میں۔ اس صورت میں اس کا مفہوم یہ ہوگا کہ یہ کتاب الگ الگ اجراء پر مشتمل اور الگ الگ اوقات میں آنے والے اجزاء پر مشتمل ہے۔ یعنی یہ کتاب مختلف اوقات میں نجماً نجماً یعنی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہوئی ہے تاکہ اسے مختلف الخیال مزاجوں اور ناموافق طبیعتوں میں رسوخ کا موقع ملے اور اس کے اجزاء باہم مربوط ہونے کے باوجود اس قدر الگ الگ ہیں کہ ہر ایک اپنی جگہ دلیل قاطع اور ہر طرح کے ابہام اور الجھائو سے مبرا اور باہم دگر ایک ہی جسدِ حقیقت کے مختلف اعضاء ہیں۔ 3 فرقان مبالغے کا صیغہ ہے۔ یعنی فرق کرنے کے معاملے میں اس کا کمال اتنا بڑھا ہوا ہے گویا وہ خود ہی فرق بن کر رہ گیا ہے۔ جیسے عربی زبان میں زیدعادل کی بجائے زیدعدل کہتے ہیں جب زید عدل کرنے کی شہرت میں انتہا کو پہنچ جائے۔ مختصر یہ کہ یہ کتاب اپنی افادیت، اپنی حجیت، اپنی حقانیت اور اپنی قطعیت میں اس حد تک بڑھی ہوئی ہے کہ دنیا کی کوئی کتاب بلکہ دنیا کا ذخیرہ علم اس کے مقابلے میں کسی حیثیت کا مالک نہیں۔ سعدی نے ٹھیک کہا : یتیمے کہ نا کردہ قرآں درست کتب خانہ چند ملت بشست انسانی زندگی کے ہر شعبے سے متعلق اس نے جو احکام اور ہدایات دی ہیں، انھیں دیکھ اور برت کر اندازہ ہوتا ہے کہ کس طرح صحیح اور غلط اور حق اور باطل کو آخری حد تک نمایاں کردیا گیا ہے۔ اور اس کی حکمت ایک ایسا خزانہ ہے کہ اس میں جب بھی تدبر کی نگاہ سے کوئی شخص محنت کرتا ہے تو اسے ہمیشہ نئے سے نئے موتی ہاتھ آتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا یہ بےپایاں فیضان ہے کہ اس نے ایسی عظیم کتاب جو انسانی قسمت سنوارنے کی ضمانت ہے انسانی ہدایت کے لیے نازل فرمائی۔ لوگوں کو چاہیے کہ وہ اس نعمت کی قدر اور اس کتاب کی روشنی میں اپنی گمراہیوں کی اصلاح کریں۔ وہ اگر چاہتا تو اس کتاب کی بجائے وہ اپنے رسول کو کسی تازیانہ عذاب سے مسلح کرکے بھیج سکتا تھا۔ عبدہ کا محل اس کا مزید فیضان یہ ہے کہ اس نے اس فرقان کو اپنے بندے پر اتارا ہے۔ یہاں عبدہ سے مراد رسول اللہ ﷺ ہیں۔ آپ ﷺ کو اس لفظ سے یاد کرنا ایک خاص التفات کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ جہاں تک عبدیت کا تعلق ہے، دنیا کی ہر مخلوق بالخصوص سب انسان اللہ تعالیٰ کی عبدیت میں جکڑے ہوئے ہیں۔ جو اس کا انکار کرتا ہے وہ اس کا بھی آقا اور مالک ہے اور وہ اس کا عبد ہے۔ لیکن عَبْدُہٗ میں صرف عبدیت کا اظہار نہیں بلکہ خصوصی تعلق اور التفات کا اظہار ہے۔ اسی لیے اقبال نے کہا : عبد دیگر عَبْدُہٗ چیزے دگر یہاں اس التفات کا ایک خاص محل بھی ہے، وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کو تبلیغ و دعوت کے سلسلے میں جن مخالفین کا سامنا تھا۔ وہ اگرچہ آپ ﷺ کے لیے اجنبی نہ تھے۔ کسی کے ساتھ قبیلے کا تعلق تھا اور کسی کے ساتھ شہر کا۔ لیکن انھوں نے مخالفت میں ہر تعلق توڑ ڈالا۔ آگے قرآن کریم نے ان کے جو اعتراضات نقل کیے ہیں، ان سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کا انداز کس قدر تحقیر آمیز تھا۔ اور یہ رویہ ان کا صرف اس لیے تھا کہ وہ اپنی دولت مندی پر نازاں تھے اور اپنی مالی برتری کے گھمنڈ میں نبی کریم ﷺ کی دنیوی اسباب و وسائل سے بےتعلقی پر طنز وتشنیع کے تیر برساتے تھے۔ چناچہ انھیں سنانے کے لیے کہا گیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جو کچھ تمہیں سنا رہے ہیں اس کی حیثیت فرقان کی ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور آپ ﷺ کی حیثیت عبدہ کی ہے۔ یعنی وہ ہمارے خاص بندے ہیں جن کا ہمسر اور ہم مرتبہ نہ کوئی پہلے گزرا ہے اور نہ کوئی آئندہ ہوگا اور نہ لمحہ موجود میں ہے۔ وہ جس عظیم منصبی ذمہ داری کو ادا کررہے ہیں اس کے لیے انھیں درہم و دینار کے ٹھیکرے نہیں چاہئیں بلکہ کتاب و حکمت کی وہ دولت چاہیے جو ہم نے انھیں عطا کردی ہے۔ انذار کا معنی و مفہوم مزید فرمایا کہ حق و باطل میں فرق کرنے والی یہ کتاب ہم نے اپنے بندے پر اس لیے نازل کی ہے تاکہ وہ اہل عالم کو انذار کرنے والے بنیں۔ انذار کا معنی ہے، خبردار کرنا، متنبہ کرنا، غفلت اور گمراہی کے برے نتائج سے ڈرانا۔ انسان دنیا میں جن اسباب کے تحت اور جن نعمتوں کے ساتھ زندگی گزارتا ہے ان کے نفع و ضرر کے پیمانوں کو بہت جلد اپنی عقل سے معلوم کرلیتا ہے اور انسانوں کے وضعی علوم شب و روز اسی خدمت میں جتے ہوئے ہیں۔ لیکن جو کام وہ اپنی عقل و خرد اور جستجو اور تجسس سے کرنے پر قادر نہیں، وہ یہ ہے کہ وہ کبھی یہ معلوم نہیں کرسکتا کہ زندگی گزارنے کا وہ کون سا طریقہ اور وہ کون سا انداز ہے جس کے نتیجے میں عاقبت سنور سکتی اور اللہ تعالیٰ راضی ہوتا ہے۔ اور وہ کون کون سی برائیاں اور گمراہیاں ہیں جن کو اختیار کرنے سے قومیں اپنے مسائل سے دوچار ہوتی ہیں اور کبھی اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوجاتی ہیں۔ اس لیے خبردار کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول آتے ہیں۔ اور یہ اللہ تعالیٰ کا وہ فیضانِ رحمت ہے جس سے وہ اپنے رسولوں کی معرفت انسانوں کو نوازتا ہے۔ دنیا میں جتنے رسول آئے وہ سب کسی ایک علاقے یا کسی ایک قوم کی طرف آئے۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے بارے میں فرمایا گیا کہ بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر حق و باطل کے درمیان امتیاز کردینے والی کتاب اتاری تاکہ وہ اہل عالم کے لیے نذیر بنے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کی دعوت اور محمد ﷺ کی رسالت کسی ایک ملک کے لیے نہیں بلکہ پوری دنیا کے لیے ہے۔ اور اپنے ہی زمانے کے لیے نہیں بلکہ آنے والے تمام زمانوں کے لیے ہے۔ قرآن کریم میں متعدد جگہ اس مضمون کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے یٰااَیُّھَاالنَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا ” اے انسانو ! میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔ “ (الاعراف آیت 158) سورة سبا آیت 38 میں ارشاد فرمایا : وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ کَافَـۃً لِّلنَّاسِ بَشِیْرًا وَّ نَذِیْرًا ” ہم نے تم کو سارے ہی انسانوں کے لیے بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بنا کے بھیجا ہے۔ “ سورة الانبیاء آیت 107 میں اشاد ہے وَمَا اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ رَحْمَۃً لِّلعَالَمِیْن ” اور ہم نے آپ کو تمام دنیا والوں کے لیے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔ “ اسی مضمون کو نبی کریم ﷺ نے مختلف مواقع پر مزید وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔ بُعِثْتُ اِلٰی الاَحْمَرِ وَالْاَسْوَدِ ” میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ “ کَانَ النَّبِیُّ یُبْعَثُ اِلٰی قَوْمِہٖ خَاصَّۃً وَبُعِثْتُ اِلٰی النَّاسِ عَامَّۃً ” پہلے ایک نبی خاص طور پر اپنی ہی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا اور میں عام طور پر تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ “ (بخاری و مسلم) مزید فرمایا وَاُرْسِلْتُ اِلٰی الْخَلْقِ کَافَّـۃً وَخُتِمَ بِیَ النَّبِیُّوْن ” میں ساری خلقت کی طرف بھیجا گیا ہوں اور مجھ پر تمام نبی ختم کردیئے گئے ہیں۔ “ الَّذِیْ لَہٗ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَلَمْ یَتَّخِذْ وَلَدًا وَّلَمْ یَکُنْ لَّہٗ شَرِیْکٌ فِی الْمُلْکِ وَ خَلَقَ کُلَّ شَیْ ئٍ فَـقَدَّرَہٗ تَقْدِیْرًا۔ (الفرقان : 2) (وہ ذات جس کے قبضہ قدرت میں آسمانوں اور زمین کی بادشاہی ہے اور جس نے اپنے لیے کوئی اولاد نہیں بنائی اور جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔ ) قرآن کی حقیقت و اہمیت آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ پر نازل ہونے والی کتاب کی حقیقت اور اہمیت کو واضح کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب اس ذات کا کلام ہے اور اس نے اسے نازل کیا ہے جو آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک ہے۔ ارض و سماء کی ہر چیز اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس لیے یہ کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم اس کتاب اور کتاب کے پیش کرنے والے سے کیسا ہی سلوک کریں ہمیں پوچھنے والا کوئی نہیں۔ اس کتاب کو کسی سائل کی درخواست نہ سمجھا جائے بلکہ وہ اس کائنات کے بادشاہِ حقیقی کا فرمان واجب الاذان ہے۔ دنیا میں اگر اس نے ڈھیل دی ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ انتقام لینے پر قادر نہیں۔ اس نے یہاں انسانوں کو مہلت دے رکھی ہے۔ لیکن وہ جب انتقام کا فیصلہ کرلیتا ہے تو پھر کوئی اس کا ہاتھ نہیں پکڑ سکتا۔ یہ بھی معلوم رہنا چاہیے کہ اس کا کسی سے کوئی نسلی تعلق نہیں۔ نہ اس نے کسی کو متبنیٰ بنایا۔ اس کی ذات یکتائے محض ہے کوئی اس کا ہم جنس نہیں اور کوئی خدائی خاندان نہیں ہے۔ اس لیے اگر کسی نے یہ سمجھ کر کسی کو خدا کا بیٹا بنا رکھا ہے یا کسی خاندان میں خدائی خون تصور کرکے اس خاندان کے ایک ایک فرد کو دیوتا یا اوتار بنا رکھا ہے۔ یا کسی میں ایسی خصوصیات تسلیم کرلی گئی ہیں جو صفاتِ خداوندی ہیں تو یہ سب گمراہی کی باتیں ہیں۔ ایسا کوئی تصور اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا نہیں سکے گا۔ نہ اس نے اولاد بنائی ہے اور نہ اس کی پادشاہی میں کوئی شریک ہے۔ اس کی توحید ویکتائی کا حال تو یہ ہے کہ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور ہر چیز کے لیے ایک اندازہ ٹھہرا دیا ہے یا یوں کہہ لیجیے کہ اس کی تقدیر مقرر کردی ہے۔ یعنی اس نے ایک ایک چیز کے لیے صورت، جسامت، قوت و استعداد، اوصاف و خصائص، ذمہ داریاں اور ذمہ داریوں کی ادائیگی کا طریقہ، بقا کی مدت، عروج و ارتقا کی حد اور دوسری وہ تمام تفصیلات مقرر کی ہیں جو اس چیز کی ذات سے متعلق ہیں۔ ہر مخلوق کا ایک محور و مدار مقرر کردیا ہے۔ ہر ایک کی تگ و تاز کا ایک میدان مقرر کردیا گیا ہے۔ مجال نہیں کہ کوئی چیز اس کے ٹھہرائے ہوئے اندازہ سے سرِمُو کم و بیش یا آگے پیچھے ہوسکے۔ ہوا اور بادل سب اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کے پابند ہیں۔ سورج اور چاند ایک مخصوص محور و مدار کے ساتھ وابستہ اور اسی کے مقرر کیے ہوئے حدود وقیود کے پابند ہیں۔ والشمس تجری لمستقر لھا ط ذلک تقدیر العزیز العلیم ” اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے، یہ خدائے عزیز وعلیم کی منصوبہ بندی ہے۔ “ اور مزید وضاحت کے ساتھ فرمایا وان من شیء الا عندنا خزائنہ وما ننزلہ الا بقدرمعلوم ” اور ہمارے پاس ہر چیز کے خزانے موجود ہیں، لیکن ہم ان کو ایک خاص اندازے ہی کے ساتھ اتارتے ہیں۔ “
Ayah 25:3

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اٰلِهَةً لَّا یَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّ هُمْ یُخْلَقُوْنَ وَ لَا یَمْلِكُوْنَ لِاَنْفُسِهِمْ ضَرًّا وَّ لَا نَفْعًا وَّ لَا یَمْلِكُوْنَ مَوْتًا وَّ لَا حَیٰوةً وَّ لَا نُشُوْرًا Open ayah 25:3 in the Quran reader

اور لوگوں نے اس کے سوا ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، نہ ان کو موت پر کوئی اختیار ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً لاَّیَخْلُقُوْنَ شَیْئًا وَّھُمْ یُخْلَقُوْنَ وَلاَ یَمْلِکُوْن لِاَنْفُسِھِمْ ضَرًّا وَّلاَ نَفْعًا وَّلاَ یَمْلِکُوْنَ مَوْتًا وَّلاَحَیٰوۃً وَّلاَ نُشُوْرًا۔ (الفرقان : 3) (اور لوگوں نے اس کے سوا ایسے معبود بنا لیے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، نہ ان کو موت پر کوئی اختیار ہے نہ زندگی پر اور نہ مرنے کے بعد زندہ کرنے پر۔ ) سابق مضمون کی مزید تشریح گزشتہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے اپنی کبریائی اور یکتائی کو بیان فرمایا۔ لیکن اب اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ جن مخالفین سے نبی کریم ﷺ کو واسطہ پڑا ہے ان کی حماقت کا حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کے واضح دلائل کے باوجود انھوں نے اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو اپنا معبود بنا رکھا ہے کہ جو نہ صرف کسی چیز کو پیدا کرسکنے پر قادر نہیں بلکہ وہ خود خدا کی مخلوق ہیں۔ وہ چاہے جنات ہوں یا فرشتے یا ان کے مزعومہ شرکاء۔ اسی طرح وہ کسی کو نفع نقصان سے تو بہرہ ور کیا کریں گے خود اپنے کو بھی کسی نقصان سے بچانے یا کوئی نفع پہنچانے پر قدرت نہیں رکھتے۔ نہ انھیں زندگی پر کوئی اختیار ہے اور نہ موت پر۔ اور نہ دوسری زندگی ان کے اختیار میں ہے۔ لیکن حیرت یہ ہے کہ ایسے بےبس فرضی معبودوں کے بل پر قرآن کے حقائق کو جھٹلانے کی نہ صرف جسارت کی جارہی ہے بلکہ جو لوگ انھیں سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں وہ ان کا منہ نوچ لینا چاہتے ہیں۔ یہ تو حماقت اور سفاہت کی انتہا ہے جس کا کم از کم دنیا میں کوئی علاج نہیں۔
Ayahs 25:4–5

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِنْ هٰذَاۤ اِلَّاۤ اِفْكُ اِ۟فْتَرٰىهُ وَ اَعَانَهٗ عَلَیْهِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ١ۛۚ فَقَدْ جَآءُوْ ظُلْمًا وَّ زُوْرًاۚۛ Open ayah 25:4 in the Quran reader

اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ یہ ( قرآن کریم) محض جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے، بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں

وَ قَالُوْۤا اَسَاطِیْرُ الْاَوَّلِیْنَ اكْتَتَبَهَا فَهِیَ تُمْلٰى عَلَیْهِ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا Open ayah 25:5 in the Quran reader

اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کے فسانے ہیں جو اس شخص نے کسی سے لکھوالیے ہیں اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِنْ ھٰذَٓا اِلَّآ اِفْکُ نِ افْـتَرٰ ہُ وَاَعَانَـہٗ عَلَیْہِ قَوْمٌ اٰخَرُوْنَ ج فَقَدْجَآئُ وْ ظُلْمًا وَّزُوْرًا۔ وَقَالُوْٓا اَسَاطِیْرُالْاَوَّلِیْنَ اکْـتَـتَـبَـھَا فَھِیَ تُمْلٰی عَلَیْہِ بُکْرَۃً وَّاَصِیْلاً ۔ (الفرقان : 4، 5) (اور کہتے ہیں وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا ہے کہ یہ ( قرآن کریم) محض جھوٹ ہے جس کو اس شخص نے گھڑ لیا ہے اور کچھ دوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے، بڑا ظلم اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اتر آئے ہیں۔ اور کہتے ہیں یہ پہلے لوگوں کے فسانے ہیں جو اس شخص نے کسی سے لکھوالیے ہیں اور وہ صبح و شام اس کو پڑھ کر سنائے جاتے ہیں۔ ) مشکل الفاظ کی تشریح : اکْـتَـتَـبَـھَا … اکْـتَـتَـبَ فُلاَ نٌ کا مفہوم لغت میں یہ ہے سَألَ اَنْ یُّکْتَبَ لَـہٗ … اس نے درخواست کی کہ اس کے لیے لکھ دیا جائے۔ تُمْلٰی … علیٰ کا صلہ اس بات کا قرینہ ہے کہ یہ تلقیٰ علیہ یا تقرء علیہ کے مضمون پر متضمن ہے۔ قریش کے لیڈروں کے الزامات اور ان کا رد ان آیات میں مخالفین کے وہ اقوال نقل کیے گئے ہیں جو وہ قرآن اور نبی کریم ﷺ سے لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے پھیلاتے رہتے تھے۔ جہاں تک قرآن کریم کی فصاحت و بلاغت، زورِبیان اور اس کی تاثیر و تسخیر کا تعلق ہے اس کا انکار کرنے کی تو کسی میں ہمت نہ تھی۔ جو شخص سنتا تھا اس کلام کی عظمت کا اقرار کرتا تھا۔ لیکن اس کے توڑ کے لیے انھوں نے آنحضرت ﷺ کو شاعر کہنا شروع کردیا تاکہ عوام کو یہ یقین دلائیں کہ اس کلام کی عظمت اس وجہ سے نہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور نبی کریم ﷺ پر نازل ہوتا ہے۔ بلکہ اس کلام کے حسن اور خوبی کی وجہ وہی ہے جو بڑے بڑے شعراء میں ہم دیکھتے ہیں۔ ان کے لیے اصل مسئلہ جو پریشان کن تھا وہ نبی کریم ﷺ کا دعویٰ رسالت اور قرآن کریم کے وحی الٰہی ہونے کا تھا۔ اب اگر وہ تسلیم کرلیتے ہیں کہ آپ ﷺ واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور آپ ﷺ پر وحی اترتی ہے تو پھر آپ ﷺ کی دعوت کا انکار کرنا ممکن نہیں رہتا۔ چناچہ آپ ﷺ کے دعویٰ رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کو غلط ثابت کرنے کے لیے انھوں نے یہ کہنا شروع کردیا کہ محمد ﷺ چونکہ خود بہت بڑے شاعر ہیں اور فصاحت و بلاغت اور حُسنِ بیان فطری طور پر آپ ﷺ کے اندر موجود ہے اس لیے قرآن کریم کی صورت میں وہ جو کچھ پیش کرتے ہیں وہ ان کا اپنا گھڑا ہوا ہے۔ اور وہ جب یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے تو وہ محض اپنی برتری کی دھونس جمانے کے لیے جھوٹ بولتے ہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ اگر یہ ان کا اپنا کلام ہے اور اس میں جو کچھ کہا گیا ہے وہ ان کی ذہنی اختراع ہے تو آخر چالیس سال کی عمر تک ان کی زندگی میں اس کا سراغ کیوں نہیں ملتا۔ اور مزید یہ بات کہ اس کام میں جو کچھ پیش کیا جارہا ہے ان میں کتنی ایسی باتیں ہیں جو گزشتہ انبیائے کرام، ان کی امتوں اور ان پر نازل ہونے والی کتابوں اور شریعتوں کے بارے میں ہیں۔ اور کتنے ایسے علمی محکمات ہیں جن تک آج بھی انسانی دماغ کی رسائی نہیں ہوسکی۔ اور کتنے ایسے تاریخی محاکمات ہیں جن سے کتنی تاریخی اغلاط کی اصلاح ہوئی ہے اور کتنی فرسودہ باتوں کا ابطال ہوا ہے۔ اور پھر اس میں عالم الٰہیات، عالم آخرت اور عالم غیب کی کتنی ایسی باتیں ہیں جنھیں ایک پیغمبر کے سوا کوئی نہیں بتاسکتا۔ تو اگر محمد ﷺ پر وحی نازل نہیں ہوتی تو ان کا ذاتی مبلغ علم تو وہی ہے جو باقی اہل مکہ اور اہل عرب کا ہے۔ بیشتر اہل عرب کی طرح انھوں نے آج تک کسی کے سامنے زانوئے تلمذ تہ نہیں کیا اور کوئی ایسا علمی ماحول انھیں میسر نہیں آیا جن سے وہ ایسی باتوں کو سیکھ سکتے۔ تو قریش نے اس کے جواب میں یہ کہنا شروع کردیا کہ دراصل محمد ﷺ کو کچھ ایسے لوگ میسر آگئے ہیں جو سابقہ آسمانی کتابوں کے جاننے والے اور پڑھے لکھے لوگ ہیں۔ آپ ﷺ راتوں کو چھپ چھپ کر ان سے معلومات حاصل کرتے بلکہ ان سے لکھواتے اور پھر انھیں یاد کرکے لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔ اس پر سوال اٹھا کہ ایسے نابغہ روزگار لوگ کون ہیں جو اتنا عظیم علم و حکمت رکھتے ہیں۔ چناچہ قریش نے اس پر کبھی کسی کا نام لیا کبھی کسی کا۔ کبھی عبید بن الحصر حبشی کاہن کا نام لیا۔ کبھی ابو فکیہ، یسار، عداس اور جبر کا نام لیا۔ یہ سب مختلف قبائل کے آزاد کردہ غلام تھے۔ اس طرح سے انھوں نے آنحضرت ﷺ کے دعویٰ رسالت اور قرآن کے وحی الٰہی ہونے کو غلط ثابت کرنے کے لیے ایک ایسا مضبوط اعتراض اٹھایا اور اس میں جو جو لوگ شریک تھے باقاعدہ ان کے حوالے بھی دیئے۔ بظاہر نظر دیکھتے ہوئے اس اعتراض میں بڑی جان معلوم ہوتی ہے کیونکہ جب مجمع عام میں اس طرح کی بات کہی جائے اور ایک ایسی سازش کی خبر دی جائے جس کے ذرائع تک بتا دیئے جائیں تو یقینا یہ بات دلوں کو لگتی ہے اور دماغ سوچنا شروع کردیتے ہیں کہ ہم جس تبلیغ و دعوت کو نہایت اہمیت دے رہے تھے اس کی حیثیت تو ایک سازش سے زیادہ کچھ نہیں۔ ایسے وزنی اعتراض کے جواب میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ قرآن کریم اس کا دلائل سے جواب دیتا۔ لیکن اس اعتراض کا کوئی نوٹس لیے بغیر اس نے صرف یہ بات کہہ کر ختم کردی کہ اشرافِ قریش اس بات میں شہرت رکھتے تھے کہ وہ جھوٹ سے نفرت کرتے ہیں، بالخصوص اجتماعی جھوٹ جس کے ڈانڈے کسی سازش سے ملتے ہوں اس کا تصور بھی ان کے بارے میں نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن یہ جو کچھ قریش کہہ رہے ہیں یہ وہ بھی جانتے ہیں کہ یہ صداقت پر ظلم اور صریح بےانصافی ہے۔ یہ لوگ جھوٹ کا ایک طوفان کھڑا کررہے ہیں۔ صرف اتنی بات کہہ کر قرآن کریم نے ان کے تمام الزامات کو رد کردیا ہے۔ قرآن کریم کا ان اعتراضات کو اس طرح حقارت سے رد کردینا اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اس اعتراض میں جو وزن محسوس کررہے ہیں، حقیقت میں اس میں وزن نہیں، بلکہ یہ سراسر لغو اور پوچ اعتراض ہے۔ کسی سنجیدہ کتاب میں اس کا نوٹس لینا بھی سنجیدگی اور متانت کیخلاف ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ قرآن کریم کے اس دوٹوک اور مختصر جواب پر کسی نے آنحضرت ﷺ سے ان باتوں کا تفصیلی جواب طلب نہیں کیا اور نہ نئے نئے ایمان لانے والوں کے دلوں میں اس کی وجہ سے کوئی شک و شبہ پیدا ہوا۔ اور نہ مخالفین کو کبھی یہ کہنے کی ہمت ہوئی کہ ہمارے اعتراضات کا جواب محمد ﷺ نہیں دے سکے۔ لیکن جب ہم اپنے تئیں اس بات پر غور کرتے ہیں کہ آخر اس اعتراض کے لچر ہونے کی وجہ کیا تھی جس کی وجہ سے اس قرآن کریم نے اس کا جواب دینا پسند نہیں فرمایا۔ تو ہمیں اس کا جواب اس ماحول سے مل جاتا ہے جس میں مخالفین نے یہ اعتراض اٹھایا تھا۔ اب ہم ایک ترتیب سے چند نکات کا ذکر کرتے ہیں جس سے اس اعتراض کی لغویت واضح ہوجائے گی۔ 1 آنحضرت ﷺ پر نبوت سے پہلے کی زندگی میں کبھی کسی نے جھوٹ کا الزام نہیں لگایا بلکہ آپ ﷺ نے کوہ صفا پر کھڑے ہو کر جب لوگوں سے استفسار کیا تو سب نے آپ ﷺ کی صداقت کی بالاتفاق گواہی دی۔ تو اب جبکہ آپ ﷺ کی عمر ڈھل رہی تھی اور معاملہ دنیا کا نہیں، عاقبت کا تھا اور بات اللہ تعالیٰ کے حوالے سے کہی جارہی تھی، اس میں کیسے امکان ہوسکتا تھا کہ آپ ﷺ نعوذباللہ جھوٹ کا ارتکاب کرتے۔ 2 آپ کی علمی اعانت کے لیے جن لوگوں کے نام لیے جارہے تھے وہ سب آزاد کردہ غلام تھے۔ اور وہ انھیں قبیلوں اور انھیں افراد سے آزاد ہوئے تھے جو آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔ اہل عرب کا طریقہ یہ تھا کہ کوئی غلام جس قبیلے سے آزاد ہوتا تھا اس کا لوا کا تعلق اس قبیلے سے رہتا تھا اور وہ اس سے آزاد ہو کر اجتماعی زندگی نہیں گزار سکتا تھا۔ کیا کوئی عقل مند آدمی سوچ سکتا ہے کہ یہ آزاد ہونے والے غلام اچانک اتنے خوشحال اور طاقتور ہوگئے تھے کہ اپنے سابقہ آقائوں کی پروا کیے بغیر نعوذباللہ کسی سازش میں شریک ہوسکتے تھے۔ 3 اسلام دشمنی میں قریش نے شرافت کی ہر قدر کو پامال کر ڈالا تھا اور کسی کی عزت ان کے ہاتھوں محفوظ نہیں تھی۔ حضرت بلال کو تپتی ریت پر گھسیٹا جاتا اور حضرت خباب کو دہکتے انگاروں پر لٹایا جاتا تھا۔ لیکن یہ آزاد کردہ غلام جن کی وجہ سے بقول قریش سارا کاروبارِ نبوت چل رہا تھا کیا قریش کی دسترس سے باہر تھے، ان کے لیے کیا یہ ممکن نہیں تھا کہ وہ ان کے گھروں پر چھاپے مارتے بلکہ جب ان کے بقول محمد ﷺ ان کے ساتھ مل کر وہ کلام تیار کررہے تھے جسے کلام خداوندی کے طور پر لوگوں کے سامنے پیش کیا جانے والا تھا۔ اور وہ غلام مختلف کتابوں سے آپ کو مواد نکال کر اور ترجمہ کرکے دے رہے تھے۔ عین اس حالت میں چھاپہ مار تے اور سارا ذخیرہ برآمد کرکے عوام کے سامنے لے آتے اور انھیں دکھاتے کہ دیکھو یہ ہے وہ علمی سرمایہ جو فلاں فلاں کی مدد سے تیار ہورہا ہے اور اس کے بل بوتے پر نبوت کی تیاریاں ہورہی ہیں۔ لیکن قریش کبھی ایسی کسی بات کے لیے تیار نہ ہوئے۔ 4 دنیا کا ہر ہوش مند آدمی جانتا ہے کہ جس کو کسی شخصیت کے بارے میں یہ معلوم ہوجائے کہ اس شخصیت کا تانا بانا اور اس کے تمام دعاوی کی بنیاد ایک سازش پر ہے اور فلاں فلاں لوگ اس سازش میں شریک رہے ہیں۔ تو وہ شخص ایسے شخص کے دعوئوں کو کبھی تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتا، کیونکہ وہ اس کی حقیقت سے واقف ہے اور اگر وہ خود اس سازش میں شریک رہ چکا ہو تو پھر تو دور دور تک اس کا امکان نہیں کہ وہ دعویٰ کرنے والی شخصیت کی عظمت کا اسیر ہوجائے۔ لیکن کس قدر عجیب بات ہے کہ جن لوگوں کے نام لیے جارہے ہیں وہ نہ صرف ایمان لائے بلکہ آنحضرت ﷺ کی محبت اور آپ ﷺ کی عقیدت ہمیشہ ان کی زندگی کا سرمایہ بنی رہی۔ 5 یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو لوگ کسی کی شخصیت بنانے، اس کی عظمت اجالنے اور اس کے لیے اقتدار حاصل کرنے کی تگ و دو میں پیش پیش ہوتے ہیں انھیں ہمیشہ اس شخصیت کا سب سے زیادہ قرب میسر ہوتا ہے اور اگر اقتدار مل جائے تو وہ اقتدار کا نمایاں ستون ہوتے ہیں۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جن لوگوں کا نام لیا جارہا ہے وہ آنحضرت ﷺ کے جاں نثار صحابہ میں تو ضرور شامل ہیں لیکن نہ انھیں کوئی نمایاں مقام میسر ہے نہ وہ آنحضرت ﷺ کے دست راست بنے اور نہ آپ ﷺ کے بعد ان میں سے کسی پر خلافت کی ذمہ داریاں ڈالی گئیں۔ اور جنھیں امت میں عظیم مقام ملا اور امت نے سب سے زیادہ ان پر اعتماد کیا اور آنحضرت ﷺ کی بارگاہ میں سب سے زیادہ جنھیں قرب نصیب ہوا ان کے بارے میں کبھی مخالفین نے بھی الزام نہ لگایا کہ وہ اس سازش میں شریک تھے یا انھیں اس کی خبر بھی تھی۔ ہمارے نزدیک یہ ہیں بالکل پیش پا افتادہ حقائق جنھیں دیکھتے ہوئے اس بات کا ادراک کرنا آسان ہوجاتا ہے کہ قرآن کریم نے ان کے بظاہر وزنی اعتراض کا جواب دینا کیوں پسند نہیں فرمایا۔ یہ تو ان اعتراضات کی تفصیل اور ان کا تفصیلی رد تھا جس کا تعلق قریش اور اہل مکہ سے تھا۔ لیکن آج کے مستشرقینِ مغرب قرآن کریم کے خلاف جو کچھ کہتے ہیں ان میں اور قریش میں قدرمشترک یعنی انکارِ نبوت تو موجود ہے لیکن جو الزام یہ لگاتے ہیں وہ آنحضرت ﷺ کے ہمعصر مخالفین نے کبھی نہیں لگایا تھا حالانکہ اس الزام کے مصادر کا جہاں تک تعلق ہے قریش براہ راست ان سے آگاہ تھے۔ اگر اس میں کوئی بھی حقیقت ہوتی تو وہ سب سے پہلے یہ الزام ضرور لگاتے۔ مستشرقین کا کہنا یہ ہے کہ محمد ﷺ بچپن میں اپنے چچا ابوطالب کے ساتھ ملک شام گئے تھے، وہاں آپ کی ملاقات بحیرہ راہب کے ساتھ ہوئی تھی۔ قرآن کریم جن مضامین کو پیش کرتا ہے یہ تمام مضامین آپ ﷺ نے اس راہب سے سیکھے تھے جبکہ وہ ملاقات اگر اسے صحیح تسلیم کرلیا جائے تو صرف ایک کھانے پر ہوئی تھی جس کا دورانیہ یقینا گھنٹہ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوگا۔ پھر اس کے بعد پچیس سال کی عمر میں آپ ﷺ نے جب تجارتی سفروں کا آغاز کیا تو ان سفروں کے دوران یقینا آپ ﷺ کی عیسائی راہبوں اور یہودی ربیوں سے ملاقاتیں رہی ہوں گی۔ ان ملاقاتوں میں آپ ﷺ نے یہ ساری معلومات حاصل کیں جبکہ یہ سفر آپ ﷺ نے اکیلے نہیں کیے، قافلوں کے ساتھ کیے۔ جہاں بھی آپ ﷺ گئے قافلے کے ساتھ گئے۔ اور کسی جگہ بھی اپنے ہم سفروں سے اجنبی شہر میں الگ ہونے کا کوئی سوال نہ تھا۔ لیکن اس کے باوجود مستشرقین کے خیال میں ان چند ملاقاتوں اور ان اسفار میں آپ ﷺ نے وہ تمام علوم حاصل کرلیے جو قرآن کریم میں پیش کیے گئے ہیں۔ اور اس پر بھی عجیب بات یہ ہے کہ آپ ﷺ کا پہلا سفر بچپن میں ہوا اور بعد کے چند سفر جوانی میں ہوئے لیکن چالیس سال کی عمر تک کسی شخص نے آپ ﷺ کی زبان سے اس علم اور ہدایت سے متعلق ایک جملہ نہیں سنا۔ چالیس سال کی عمر کے بعد یک لخت آپ ﷺ کی زبان سے وہ سوتا پھوٹا جس نے علم اور ہدایت کی دنیا کو سیراب کردیا۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے بچپن اور جوانی سے قریش سے بڑھ کر کون باخبر ہوسکتا تھا لیکن انھوں نے اس طرح کی کوئی بات کبھی آپ ﷺ سے متعلق نہیں کہی۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ مکہ کے رہنے والے کبھی اس بےسروپا بات کو قبول نہیں کریں گے۔ چناچہ وہ اپنی تمام تر جہالت اور بداخلاقی کے باوجود یہ سفید جھوٹ بولنے کی جرأت نہ کرسکے۔ لیکن ان کے بعد آنے والے مستشرقین کے نام سے ایسے بےحیا لوگ پیدا ہوئے جنھوں نے اسی سفید جھوٹ کو علم اور تحقیق کے نام سے آنحضرت ﷺ کی نبوت کے انکار کے لیے اس طرح بناسنوار کے پیش کیا کہ یورپ آج تک ان کی سازش کی گرفت سے نکل نہیں سکا۔
Ayah 25:6

قُلْ اَنْزَلَهُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ اِنَّهٗ كَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا Open ayah 25:6 in the Quran reader

ان سے کہہ دیجیے کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے، واقعی وہ بہت بخشنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے

قُلْ اَنْزَلَـہُ الَّذِیْ یَعْلَمُ السِّرَّ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط اِنَّـہٗ کَانَ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ (الفرقان : 6) (ان سے کہہ دیجیے کہ اس کو اس نے اتارا ہے جو آسمانوں اور زمین کے بھید کو جانتا ہے، واقعی وہ بہت بخشنے والا اور ہمیشہ رحم فرمانے والا ہے۔ ) معترضین پر ایک لطیف طنز نبی کریم ﷺ کو حکم دیا گیا کہ ایسے لچر اور بےسروپا اعتراضات کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ البتہ اتمامِ حجت کے لیے آپ ﷺ انھیں یہ بتادیں کہ قرآن کریم کی تصنیف انسانوں کے بس کی بات نہیں۔ ایسا کارنامہ نہ کوئی عربی انجام دے سکتا ہے اور نہ کوئی عجمی۔ کیونکہ اس میں جو کچھ فرمایا گیا ہے وہ اس وسیع علم پر موقوف ہے جس کا ادراک انسانی دسترس سے ماورا ہے۔ اس لیے قریش نے جو مختلف لوگوں کے نام لیے ہیں ان بیچاروں کی کیا بساط ہے، ساری دنیا بھی اس علم و حکمت میں کوئی اضافہ نہیں کرسکتی جو قرآن کریم کی سطر سطر سے مترشح ہوتی ہے۔ ایسی کتاب صرف پروردگار ہی نازل فرما سکتا ہے جو اس کائنات کے تمام بھیدوں سے واقف ہے اور اس کے ظاہر اور باطن اور آغاز و انجام ہر چیز سے آگاہ ہے۔ اس نے ماضی کے کتنے اوراق الٹ کر عبرتوں کا سامان کردیا ہے۔ اور حاضر کو زیربحث لا کر انسانوں کی ذمہ داریاں واضح کردی ہیں اور مستقبل کے نتائج سے بھی پردہ اٹھا دیا ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ قریش جس طرح کے الزامات لگاتے ہیں اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ زمین پھٹ جائے اور آسمان سے ان پر آگ برسے۔ لیکن اللہ تعالیٰ انھیں توبہ و اصلاح کا موقع دینا چاہتا ہے، کیونکہ وہ نہایت رحیم و کریم اور جب بھی کوئی راہ راست پر آجائے تو مغفرت فرما دینے والی ذات ہے۔
Ayahs 25:7–8

وَ قَالُوْا مَالِ هٰذَا الرَّسُوْلِ یَاْكُلُ الطَّعَامَ وَ یَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ١ؕ لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِ مَلَكٌ فَیَكُوْنَ مَعَهٗ نَذِیْرًاۙ Open ayah 25:7 in the Quran reader

اور وہ کہتے ہیں کہ کیا ہے اس رسول کو جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اتارا جاتا اس کی طرف کوئی فرشتہ اور وہ اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا

اَوْ یُلْقٰۤى اِلَیْهِ كَنْزٌ اَوْ تَكُوْنُ لَهٗ جَنَّةٌ یَّاْكُلُ مِنْهَا١ؕ وَ قَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا Open ayah 25:8 in the Quran reader

یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو

وَقَالُوْا مَالِ ھٰذَاالرَّسُوْلِ یَاْکُلُ الطَّعَامَ وَیَمْشِیْ فِی الْاَسْوَاقِ ط لَوْلَآ اُنْزِلَ اِلَیْہِ مَلَکٌ فَیَکُوْنَ مَعَہٗ نَذِیْرًا۔ اَوْیُلْقٰٓی اِلَیْہِ کَنْزٌ اَوْتَـکُوْنُ لَـہٗ جَنَّـۃٌ یَّاکُلُ مِنْھَا ط وَقَالَ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلاَّ رَجُلاً مَّسْحُوْرًا۔ (الفرقان : 7، 8) (اور وہ کہتے ہیں کہ کیا ہے اس رسول کو جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے۔ ایسا کیوں نہ ہوا کہ اتارا جاتا اس کی طرف کوئی فرشتہ اور وہ اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو ڈراتا۔ یا اس کے لیے کوئی خزانہ اتارا جاتا، یا اس کے لیے کوئی باغ ہوتا جس سے وہ اپنی معاش حاصل کرتا اور ظالم کہتے ہیں کہ تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو۔ ) قریش کے بعض مزید اعتراضات اس آیت کریمہ میں قریش کے بعض اور اعتراضات کا حوالہ دیا گیا ہے اور ساتھ ہی یہ بات بھی بتائی گئی ہے کہ وہ صرف اعتراض ہی نہیں کرتے تھے بلکہ طنز اور تعریض کے تیر بھی چلاتے تھے۔ آیت کا پہلا لفظ اسی کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ وہ جب آنحضرت ﷺ کو کھاتا پیتا اور بازاروں میں چلتا پھرتا دیکھتے تو وہ تعجب کا اظہار کرتے ہوئے کہتے کہ یہ طوراطوارتو عام انسانوں کے ہیں۔ رسول کو کھانے پینے اور ضروریات کی فراہمی سے کیا کام۔ وہ درحقیقت یہ سمجھتے تھے کہ بشر کبھی رسول نہیں ہوسکتا۔ اللہ تعالیٰ کے پاس فرشتوں کی فوج ظفر موج ہے۔ اس نے فرشتوں میں سے کسی کو رسول بنا کر کیوں نہ بھیج دیا۔ چلیے اگر یہی منظور تھا کہ کسی بشر ہی کو رسول بنایا جائے تو پھر کم از کم یہ تو ہونا چاہیے تھا کہ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ ہوتا جو بار بار لوگوں کو وارننگ دیتا اور اعلان کرتا کہ لوگو، یہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں، یہ جس چیز سے ڈرا رہے ہیں اس سے ڈرو، ورنہ میں تم پر عذاب کا کوڑا برسائوں گا۔ اور اگر یہ نہیں تو کم از کم اپنے رسول کو معاشی احتیاجات سے ہی بےفکر رکھا ہوتا۔ اس پر کوئی خزانہ اتار دیا جاتا اور پھل کھانے کے لیے کوئی شاندار باغ دیا ہوتا۔ لیکن یہ کیسا رسول ہے جس کے ساتھ ان میں سے کوئی بات بھی نہیں، ہماری طرح کا ایک عام آدمی اپنی معاش پیدا کرنے کا خود ذمہ دار، کوئی ہٹو بچو کہنے والا نہیں، نہ کوئی دولت و ثروت ہمراہ اور نہ کوئی بڑا قطعہ زمین جس میں سروقامت درخت کھڑے ہوں اور رسیلے پھلوں سے لدے پودے بہار دے رہے ہوں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ تو کم سے کم رسالت کے تقاضے ہیں اور جب ان میں سے کوئی بات بھی نہیں تو آخر اسے اللہ تعالیٰ کا رسول کیسے مانا جاسکتا ہے۔ لیکن تم نے ان تمام باتوں کو نظرانداز کرکے ایک تہی دست شخص کو اگر رسول مان کر اس کے پیچھے چلنا شروع کردیا ہے تو اس کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے کہ تم ایک سحر زدہ آدمی کے پیچھے لگ گئے ہو، یعنی تم اس کے دماغی اختلال یا اس کی آسیب زدگی اور یا جادو کے اثر کی وجہ سے دیوانگی کو نبوت سمجھ رہے ہو اور اس کی پیروی کرنے لگے ہو۔ تو اس پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔
Ayah 25:9

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:9 in the Quran reader

دیکھیے وہ آپ پر کیسی کیسی پھبتیاں چست کررہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات ان کو نہیں سوجھتی

اُنْظُرْکَیْفَ ضَرَبُوْا لَـکَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 9) (دیکھیے وہ آپ پر کیسی کیسی پھبتیاں چست کررہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کوئی ٹھکانے کی بات ان کو نہیں سوجھتی۔ ) ضربِ مثل کا مفہوم ضربِ مثل کا محاورہ جس طرح کوئی تمثیل بیان کرنے یا کوئی حکمت کی بات کہنے کے لیے آتا ہے، اسی طرح کسی پر اعتراض کرنے یا اس پر پھبتی چست کرنے کے لیے بھی آتا ہے۔ پروردگار نے ان کے خرافات اور ہفوات کو بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ دیکھیے یہ آپ ﷺ کے بارے میں کیسی کیسی لایعنی باتیں کرتے اور کیسی پھبتیاں کستے ہیں، لیکن آپ ﷺ کی دعوت کے مقابلے میں ان کی حیثیت لچر اور پوچ باتوں کے سوا کچھ بھی نہیں۔ یہ باتیں اس قابل نہیں کہ ان پر سنجیدگی سے بحث کی جائے۔ ایک طرف آپ ﷺ کی دعوت اور اس پر دلائلِ آفاق، دلائلِ انفس، دلائلِ فطرت، تاریخی شواہد اور عقلی استدلال کا ذخیرہ ہے جس میں سے کسی کا جواب ان سے بن نہیں پڑتا۔ اور دوسری طرف یہ بےسروپا باتیں ہیں اور پھر آپ کی دعوت کے نتیجے میں برپا ہونے والا ایک اخلاقی انقلاب ہے اور خود مخالفین کے زمرے میں سے چھن چھن کر آنے والے وہ سعید لوگ ہیں جو اسلام کی آغوش میں چلے آرہے ہیں۔ جو شخص بھی ان دونوں میں تقابل اور توازن کرکے دیکھے کا اسے خود اندازہ ہوجائے گا کہ حق کدھر ہے اور باطل کہاں ہے، ذمہ داری کا احساس کہاں ہے اور غیرسنجیدگی کہاں ہے، نبوت کے اثرات کیسے ہوتے ہیں اور کفر و شرک کے نتائج کیا ہوتے ہیں۔ بس ان باتوں کی طرف توجہ ہی اصل اس آیت کا پیغام ہے۔
Ayah 25:10

تَبٰرَكَ الَّذِیْۤ اِنْ شَآءَ جَعَلَ لَكَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِكَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ١ۙ وَ یَجْعَلْ لَّكَ قُصُوْرًا Open ayah 25:10 in the Quran reader

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات، وہ جو اگر چاہے تو تمہیں اس سے بھی کہیں بہتر چیزیں بخش دے۔ بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور آپ کے لیے محل بنوا دے

تَبٰرَکَ الَّذِیْٓ اِنْ شَآئَ جَعَلَ لَـکَ خَیْرًا مِّنْ ذٰلِکَ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھَرُ لا وَیَجْعَلْ لَّـکَ قُصُوْرًا۔ (الفرقان : 10) (بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات، جو اگر چاہے تو آپ کو اس سے بھی کہیں بہتر چیزیں بخش دے۔ بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں، اور آپ کے لیے محل بنوا دے۔ ) سورة کا آغاز تبارک کے لفظ سے کیا گیا تھا۔ گزشتہ رکوع میں معترضین کے چند اعتراضات کا ذکر فرمایا گیا تھا، اب ان کا جواب دیا جارہا ہے اور اس کا آغاز اسی لفظ تبارک سے ہورہا ہے۔ اعتراضات کا جواب تبارک کی تشریح میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ اس میں افزونی اور کثرت، بقا اور دوام اور مبالغے کا مفہوم پایا جاتا ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سورة کا آغاز اس لفظ سے فرما کر اپنی ذات کا تعارف کرایا تھا جس سے خودبخود شرک کی تردید ہوجاتی ہے۔ اب اسی لفظ کی معنوی حیثیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اعتراضات کا جواب دیا جارہا ہے کہ جس ذات کی قدرت، حکمت اور فیضان کی کوئی انتہا نہیں اور جو ہر طرح کے تغیر و انقلاب کے تصور سے پاک ہے اس کی ہر صفت بقا اور دوام رکھتی ہے۔ اس کے رسول کے بارے میں مخالفین کا تمسخر کرتے ہوئے اس کی غربت اور ناداری کو نشانہ بنانا یہ درحقیقت اس ذات سے بدگمانی اور اس کی بےادبی پر دلالت کرتا ہے جس کے خزانوں کی وسعت کا کوئی شخص اندازہ نہیں کرسکتا اور جس کا جودوکرم یوں تو تمام مخلوقات کے لیے ہر وقت ابلتا ہے لیکن اپنے مخصوص بندوں کے لیے تو اس کی عنایات بےپایاں ہیں۔ اس کے رسول کے بارے میں یہ کہنا کہ آپ اگر اللہ تعالیٰ کے رسول ہوتے تو اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ایک باغ بھی اتارتا جس طرح مکہ کے رئیسوں کے طائف میں باغات ہیں اور وہ انھیں باغات اور مال و منال کی وجہ سے تکبر کا اظہار کرتے اور آنحضرت ﷺ کی غربت پر طعن توڑتے ہیں۔ تو آپ ﷺ کا اپنی ضروریات کی فراہمی کے لیے بازاروں میں جانا اور دوسرے عام لوگوں کی طرح رزق کے حصول کی کوشش میں لگے رہنا یہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے مقام سے بہت فروتر بات ہے۔ اس سے خودبخود یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول نہیں ہیں۔ چناچہ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ اپنے رسول کو مال و منال کی کثرت سے گراں بار نہ کرنا اور باغ وغیرہ کی مصروفیت میں نہ ڈالنا یہ اللہ تعالیٰ کی مشیت کا تقاضا ہے، ورنہ اس کی قدرت اور اس کے فیضان سے ایک باغ کیا بہت سے باغات بھی آنحضرت ﷺ کے لیے مہیا کردینا کوئی مشکل کام نہیں تھا۔ اسی طرح آپ ﷺ کے لیے بڑے بڑے محلات کھڑے کردینا یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کے لیے معمولی بات ہے۔ لیکن قدرت کا ایسا نہ کرنا اس وجہ سے ہے کہ یہ باتیں رسالت کی ضروریات میں شامل نہیں۔ رسالت علم کی وسعت، کردار کی عظمت، مال و منال کی نگاہوں میں بےقدری، رشتہ و پیوند کی بےوقعتی، طلبِ دنیا کی بجائے طلب آخرت کی بیتابی، ضروریات کو ضروریات کی حد پر رکھ کر مقاصدِ زندگی کی بارآوری، مخلوقِ خدا کی خدمت اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کی جسم و جان کے اصل ہدف کے طور پر چارہ گری یہ اور اسی قسم کی صفات وہ سرمایہ ہے جس کی رسول کے گھر میں فراوانی ہوتی ہے اور جس سے اہل دنیا عموماً محروم رہتے ہیں، لیکن قریش کی ذہنی رسائی اور ان کی کامیابیوں کے لیے ہدف کی بلندی کا تعلق چونکہ صرف درہم و دینار، مال و دولت، محلات اور باغات ہیں اور جہاں کہیں انھیں اس کی کمیابی دکھائی دیتی ہے وہ اسے اپنی بساط علم کے مطابق کمزوری اور ناداری سمجھ کر تکبر کا اظہار کرتے اور تمسخر اڑانے لگتے ہیں۔ یہ بات بھی یاد رہے کہ جس طرح دولت کی فراوانی اور دنیوی اعزازات نبوت و رسالت کی ضرورت نہیں، اسی طرح اس عظیم منصب پر فائز ہونے والی عظیم شخصیات کے ذوق کی چیز بھی نہیں۔ قرطبی نے اپنی تفسیر میں ایک حدیث نقل کی ہے کہ اس آیت کو لے کر خازن جنت بارگاہِ رسالت میں حاضر ہوئے۔ رضوان نے بارگاہِ رسالت میں حاضر ہو کر سلام عرض کیا۔ پھر کہا، یا محمد ﷺ رب العزت آپ ﷺ کو سلام فرماتے ہیں اور یہ ایک صندوقچی ہے اس صندوقچی میں سے نور چمک رہا تھا اور اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ھذہ مفاتیح خزائن الدنیا ” اس میں دنیا کے سارے خزانوں کی کنجیاں ہیں، آپ ﷺ یہ لے لیں۔ اس کی وجہ سے آپ ﷺ کے آخرت کے اجر میں مچھر کے برابر بھی کمی نہیں ہوگی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کی طرف دیکھا، گویا آپ ﷺ ان کی رائے پوچھ رہے تھے۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اپنا ہاتھ زمین پر مارا، یہ اشارہ کرنے کے لیے کہ آپ ﷺ تواضع اختیار کریں۔ حضور ﷺ نے فرمایا : یا رضوان ! لاحاجۃ لی فیھا، الفقر اَحَبُّ الی وان اکون عبدا صابرا شکورا ” اے رضوان مجھے ان کی ضرورت نہیں، مجھے فقر زیادہ پسند ہے اور مجھے یہ چیز زیادہ مرغوب ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کا صابر اور شکرگزار بندہ بنوں۔ “ قال رضوان اصبت، اللہ لک ” آپ کا یہ فیصلہ درست ہے، اللہ آپ کا ہے۔ “ (قرطبی) اسی اختیار کردہ فقر کا نتیجہ تھا کہ جب فتوحات کا راستہ بھی کھل گیا اور بعض علاقوں سے عشر اور خراج بھی آنے لگا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کے فقر و فاقہ میں کوئی کمی نہیں آئی۔ سچ کہا ظفر علی خان نے : قدموں میں ڈھیر اشرفیوں کا لگا ہوا ہے تین دن سے پیٹ پر پتھر بندھا ہوا ہیں دوسروں کے واسطے سیم و زر و گہر اپنا یہ حال کہ ہے چولھا بجھا ہوا
Ayah 25:11

بَلْ كَذَّبُوْا بِالسَّاعَةِ١۫ وَ اَعْتَدْنَا لِمَنْ كَذَّبَ بِالسَّاعَةِ سَعِیْرًاۚ Open ayah 25:11 in the Quran reader

بلکہ ان لوگوں نے اس گھڑی کو جھٹلا دیا ہے اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے

بَلْ کَذَّبُوْا بِالسَّاعَۃِ قف وَاَعْتَدْنَا لِمَنْ کَذَّبَ بِالسَّاعَۃِ سَعِیْرًا۔ (الفرقان : 11) (بلکہ ان لوگوں نے اس گھڑی کو جھٹلا دیا ہے اور جو اس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ تیار کر رکھی ہے۔ ) اَلسَّاعَۃ … ساعت کے معنی گھڑی اور وقت کے ہیں اور اس پر ال عہد کا ہے۔ یعنی وہ مخصوص گھڑی جو قیامت کے نام سے معروف ہے اور قرآن کریم میں جابجا اس لفظ کو قیامت کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ ایک مغالطہ آنحضرت ﷺ کی غربت اور دنیوی مال و اسباب میں کمی کے حوالے سے قریش جس طرح تمسخر اڑاتے تھے اور دولت و ثروت اور دنیوی کامرانیوں کو وہ جس طرح بڑائی کی علامت اور اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے اس آیت کریمہ میں ان کے اس مغالطے کو دور کیا گیا یا اس کی تردید فرمائی گئی ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ وہ جس طرح آنحضرت ﷺ کو طعن وتشنیع کا ہدف بنائے ہوئے ہیں اور آپ ﷺ پر عجیب و غریب اعتراضات کررہے ہیں اس کا سبب یہ نہیں ہے کہ واقعی آپ ﷺ پر ایمان نہ لانے کے یہی حقیقی اسباب ہیں اور یہی وہ موانع ہیں جس کی وجہ سے وہ اسلام کے قریب آنے سے گریزاں ہیں۔ فرمایا کہ اصل بات یہ نہیں بلکہ اصل سبب یہ ہے کہ وہ آخرت کا انکار کرچکے ہیں جبکہ آپ کی دعوت کا تمام تر دارومدار آخرت کو تسلیم کرنے پر ہے۔ کیونکہ جو شخص آخرت کو دارالجزاء نہیں مانتا اور وہاں جوابدہی کے تصور کو قبول نہیں کرتا اور دنیا کو دارالعمل نہیں سمجھتا اور اسی زندگی کو اصل زندگی اور اسی زندگی کے خاتمے کو حقیقی فنا سمجھتا ہے اسے کبھی عیش و عشرت کی زندگی اور من مرضی کے طوراطوار، دولت و ثروت کی پوجا، طاقت کی حکمرانی اور لذت کی آرزو سے دستبردار ہونے کے لیے آمادہ نہیں کیا جاسکتا۔ وہ آخر اپنی مرضی کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی مرضی کو کیسے اختیار کرسکتا ہے۔ اور وہ خودغرضی اور ہوس کا پتلا ہو کر قربانی اور ایثار کا راستہ کیسے اختیار کرسکتا ہے۔ تو جب تک یہ لوگ آخرت کو قبول نہیں کرتے اس وقت تک کسی اور تبدیلی کی توقع رکھنا خام خیالی ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے باوجود کوئی بھی ہوش مند اور عقل مند شخص اس بات سے انکار نہیں کرسکتا کہ جس طرح آخرت کا منکر عقلی اور اخلاقی دلائل کو قیامت کے وجود کے لیے قطعی نہیں سمجھتا اسی طرح وہ آخرت کے انکار کو بھی کسی دلیل سے قطعی اور حتمی قرار نہیں دے سکتا۔ اولاً تو اقرار و انکار کے دونوں پلڑے برابر نہیں لیکن اگر عقل پر ہی اعتماد کرتے ہوئے دونوں کو برابر بھی سمجھ لیا جائے تو تب بھی ایک سوال ایسا ضرور ہے جو عقل مند آدمی کو آخرت کے تصور پر غور کرنے کے لیے مجبور کردیتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ اگر واقعی آخرت نہ ہوئی اور ہماری یہی موت آخری اور مکمل موت ثابت ہوئی تو انکار کرنے والا اور اقرار کرنے والا دونوں یکساں ہوں گے۔ نہ اقرار کرنے والے کا اقرار اس کے کام آئے گا اور نہ انکار کرنے والے کا انکار اس کے لیے کسی نقصان کا باعث ہوگا لیکن اگر یہ بات واقعہ بن کر سامنے آگئی کہ صور پھونکا گیا، قیامت برپا ہوگئی اور سب لوگ جوابدہی کے لیے عدالت کے کٹہرے میں کھڑے کردیئے گئے۔ اب جس شخص نے آخرت کا اقرار کرکے اور دنیا کو دارالعمل سمجھ کر آخرت کے لیے تیاری کی ہوگی وہ تو وہاں بچ جائے گا لیکن جو آخرت کے انکار پر اڑا رہا وہ پکڑا جائے گا۔ چناچہ خالصتاً عقل کو بنیاد بناتے ہوئے یہ فرمایا گیا ہے کہ یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ جو شخص قیامت اور آخرت کی تکذیب کرتا اور اس کا انکار کرتا ہے ہم نے اس کے لیے بھڑکنے والی آگ تیار کر رکھی ہے۔ وہ دنیا میں چاہے دولت و ثروت کے کیسے انبار رکھتا ہو اور کتنی بڑی حکومت و ریاست کا مالک ہو، وہ اس دوزخ کے عذاب سے بچ نہیں سکے گا۔
Ayah 25:12

اِذَا رَاَتْهُمْ مِّنْ مَّكَانٍۭ بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَهَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا Open ayah 25:12 in the Quran reader

وہ جب دور ہی سے ان کو دیکھے گی تو وہ اس کا بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے

اِذَا رَاَ تْھُمْ مِّنْ مَّکَانٍ م بَعِیْدٍ سَمِعُوْا لَھَا تَغَیُّظًا وَّ زَفِیْرًا۔ (الفرقان : 12) (وہ جب دور ہی سے ان کو دیکھے گی تو وہ اس کا بپھرنا اور دھاڑنا سنیں گے۔ ) تَغَیُّظ … کے معنی غصہ سے بپھرنے کے ہیں۔ زَفِیْر … کے معنی چیخنے اور دھاڑنے کے ہیں۔ دوزخ اور اہل دوزخ کی تصویر دوزخ آگ کی طرح ایک ایسی مخلوق ہے جس میں نہ روح ہے اور نہ حواس ہیں۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اس کا دور سے دیکھنا محض ایک استعارہ ہے لیکن اس میں بھی کوئی تعجب نہیں ہونا چاہیے کہ اگر یہ کہا جائے کہ دوزخ اور جہنم کو اللہ تعالیٰ نے دیکھنے اور محسوس کرنے کی قوت عطا فرمائی ہے۔ وہ دور سے آتے ہوئے کافروں کو دیکھ لے گی اور چونکہ کفر اور شرک سے نفرت اس کی فطرت میں ودیعت کی گئی ہے اس لیے وہ انھیں دیکھ کر ایسے بپھرے گی اور دھاڑے گی کہ گویا انتقام کے جوش میں وہ پہلے سے تلملا رہی ہے۔ اور جوشِ غضب کی وجہ سے شیر کی طرح بپھری ہوئی اور دھاڑ رہی ہے۔
Ayah 25:13

وَ اِذَاۤ اُلْقُوْا مِنْهَا مَكَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا هُنَالِكَ ثُبُوْرًاؕ Open ayah 25:13 in the Quran reader

اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں باندھ کر ڈال لیے جائیں گے تو وہ اس وقت اپنی موت کو پکارنے لگیں گے

وَاِذَ آ اُلْقُوْا مِنْھَا مَکَانًا ضَیِّقًا مُّقَرَّنِیْنَ دَعَوْا ھُنَا لِکَ ثُـبُوْرًا۔ (الفرقان : 13) (اور جب وہ اس کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں باندھ کر ڈال لیے جائیں گے تو وہ اس وقت اپنی موت کو پکارنے لگیں گے۔ ) اہلِ دوزخ کی آخری خواہش یہ تصویر ہے اس وقت کی جب ان ظالموں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا۔ یوں تو اس سے بھی بڑھ کر اور عذاب کیا ہوگا کہ کسی کو جہنم کی آگ کے حوالے کردیا جائے لیکن ایسے بدترین کافر جو نبی کریم ﷺ کو ذہنی اذیت دیتے رہے اور آپ ﷺ کا جینا دوبھر کیے رکھا، انھیں جہنم کی کسی تنگ جگہ میں ہاتھ پائوں باندھ کر پھینکا جائے گا۔ اس سے عذاب کی شدت کا تصور میں اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ ایک تو جہنم کی آگ کی تیزی اور پھر مجرم کے ہاتھ پائوں کا باندھنا اور پھر ایسی تنگ جگہ پر پھینکا جانا جہاں وہ حرکت تک نہ کرسکیں۔ تو اب ان کے پاس چیخنے چلانے کے سوا اور کیا چارہ ہوگا۔ لیکن جب وہ محسوس کریں گے کہ ہر لمحہ گزرنے کے ساتھ عذاب کی شدت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور قوت برداشت مسلسل جواب دیتی جارہی ہے تو پھر وہ موت کو پکارنا شروع کردیں گے یعنی اللہ تعالیٰ سے دعا کریں گے کہ انھیں موت دے دے تاکہ تکلیف کی شدت سے نجات پالیں۔ اس کے جواب میں ان سے کہا جائے گا ممکن ہے داروغہ جہنم جواب میں یہ کہے گا یا غیب سے ان کو یہ آواز سنائی دے۔
Ayah 25:14

لَا تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُبُوْرًا وَّاحِدًا وَّ ادْعُوْا ثُبُوْرًا كَثِیْرًا Open ayah 25:14 in the Quran reader

آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو

لاَ تَدْعُوا الْیَوْمَ ثُـبُوْرًا وَّ احِدًا وَّادْعُوْا ثُـبُوْرًا کَثِیْرًا۔ (الفرقان : 14) (آج ایک ہی موت کو نہ پکارو بلکہ بہت سی موتوں کو پکارو۔ ) تم یہ سمجھتے ہو کہ موت تمہاری تکلیف کا خاتمہ کر دے گی، لیکن تمہیں معلوم ہونا چاہے کہ ابھی تو تمہیں ایک مصیبت میں مبتلا کیا گیا ہے مزید بیشمار مصیبتیں تم پر حملہ آور ہونے کے لیے تیار ہیں۔ تم کس کس مصیبت پر موت مانگو گے۔ آہ، اس شخص کے بارے میں کیا کہا جائے جو اپنی مصیبت میں تخفیف کے لیے بھی کوئی راستہ نہ پائے۔ اس کے پاس ایک ہی خواہش باقی رہ جاتی ہے کہ وہ موت کی تمنا کرے جبکہ وہ ہمیشہ موت سے بھاگتا رہا۔ لیکن جب یہ تمنا بھی اس کے کام نہ آئے تو اس کی بےبسی، محرومی اور ناامیدی کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ ٹھیک کہا غالب نے : منحصر مرنے پہ ہو جس کی امید ناامیدی اس کی دیکھا چاہیے قرآن کریم میں ایک جگہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جب جہنم کی آگ کافروں کے جسموں کو جلائے گی تو وہ اس انتظار میں ہوں گے کہ کھال جلنے کے بعد شاید جلن کی شدت میں کچھ کمی آجائے اور یا موت واقع ہوجائے، لیکن اللہ تعالیٰ ان کی کھالوں کو جلنے کے بعد جسم سے اتار دے گا اور ہر شخص کو نئی کھال پہنائی جائے گی تاکہ وہ نئے سے نئے عذاب کا مزہ چکھیں۔ تکلیف اور عذاب دینے کی یہ قدرت اللہ تعالیٰ کے سوا اور کسی میں نہیں۔ قیامت کے دن یہ قوت پوری طرح بروئے کار آچکی ہوگی۔
Ayahs 25:15–16

قُلْ اَذٰلِكَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّةُ الْخُلْدِ الَّتِیْ وُعِدَ الْمُتَّقُوْنَ١ؕ كَانَتْ لَهُمْ جَزَآءً وَّ مَصِیْرًا Open ayah 25:15 in the Quran reader

ان سے پوچھئے کیا یہ (انجام) بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا خدا ترسوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے صلہ اور ٹھکانہ ہوگی

لَهُمْ فِیْهَا مَا یَشَآءُوْنَ خٰلِدِیْنَ١ؕ كَانَ عَلٰى رَبِّكَ وَعْدًا مَّسْئُوْلًا Open ayah 25:16 in the Quran reader

ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمہ وعدہ ہے جس کا ایفا لازم ہے

قُلْ اَذٰلِکَ خَیْرٌ اَمْ جَنَّۃُ الْخُلْدِالَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّـقُوْنَ ط کَانَتْ لَھُمْ جَزَآئً وَّ مَصِیْرًا۔ لَہُمْ فِیْھَا مَایَشَآئُ وْنَ خٰلِدِیْنَ ط کَانَ عَلٰی رَبِّکَ وَعْدًا مَّسْـُٔوْلاً ۔ (الفرقان : 15، 16) (ان سے پوچھئے کیا یہ (انجام) بہتر ہے یا وہ ابدی جنت جس کا خدا ترسوں سے وعدہ کیا گیا ہے، وہ ان کے لیے صلہ اور ٹھکانہ ہوگی۔ ان کے لیے اس میں وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے، یہ آپ کے رب کے ذمہ وعدہ ہے جس کا ایفا لازم ہے۔ ) جنت اور اہل جنت کی تصویر اب یہ اس اصل مدعا کا ذکر ہے جس کے لیے دوزخ کی یہ ساری تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ یہ قریش جو آپ ﷺ کی بےمائیگی کا آپ ﷺ کو طعنہ دیتے ہیں اور اپنی دولت و ثروت پر نازاں ہیں ان سے پوچھئے کہ تمہاری دولت و ثروت اور خواہشات کی غلامی اور من مرضی کی زندگی کا نتیجہ تو وہ ہے جو جہنم کی صورت میں ہم نے تمہارے سامنے پیش کیا ہے۔ اور دوسری وہ بےمائیگی کی زندگی ہے جو آنحضرت ﷺ اور مسلمان گزار رہے ہیں اس کا نتیجہ وہ ہمیشہ رہنے والی جنت ہے جس کا وعدہ ان لوگوں سے کیا گیا ہے جو اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے ہیں۔ اب تم بتائو ان میں سے بہتر کیا ہے۔ ممکن ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے وعدے پر اعتماد نہ کرو اور آنحضرت ﷺ کی زبان سے اس وعدے کو سن کر تمسخر میں اڑا دو ۔ لیکن تمہیں خوب معلوم ہے کہ جس کی زبان اس وعدے کو بیان کررہی ہے اس زبان سے کبھی آج تک جھوٹ نہیں نکلا۔ تمہاری نگاہیں چونکہ اسی دنیا کی زندگی تک محدود ہیں اس وجہ سے تم اپنے باغوں اور محلوں پر نازاں اور مومنین کی بےمائیگی پر طعنہ زن ہو۔ لیکن اگر تم نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہوتا تو تم بصیرت کی نگاہ سے دیکھ سکتے تھے۔ کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لیے کس ابدی بادشاہی کا اہتمام کر رکھا ہے۔ اس آیت کریمہ میں جنت سے متعلق چار باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں جس کا وجود دنیا سے باہر تصور میں بھی ممکن نہیں۔ 1 ہر صاحب ایمان جانتا ہے کہ آخرت میں نجات کا دارومدار ایمان و عمل کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم پر ہے کیونکہ بہتر سے بہتر عمل بھی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کرنے کے قابل نہیں ہوتا۔ خیال کی کوئی نہ کوئی لغزش، ارادے کی کوئی نہ کوئی لرزش اور عمل کی کوئی نہ کوئی نارسائی وقوع پذیر ہوئے بغیر نہیں رہتی۔ کون سی چال ہے جو لڑکھڑاہٹ سے پاک ہو اور کون سی نیکی ہے جس میں خلوص نیت، خشوع اور خضوع کے پیمانوں سے ہمیشہ تل کے نکلے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ ان کوتاہیوں اور کمزوریوں کی تلافی اپنے فضل سے فرما دیتا ہے۔ کوئی بڑی سے بڑی شخصیت بھی محض اپنے عمل کے اعتماد کو کافی نہیں سمجھتی۔ لیکن اس آیت میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی گئی ہے کہ اہل ایمان کو یہ جنت ان کے اعمال کے صلے اور بدلے کے طور پر ملے گی۔ انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ اطمینان دلایا جائے گا کہ تم نے یہ جنت اپنی سعی و عمل سے حاصل کی ہے اور تم اس کے پوری طرح حقدار ہو۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اہل جنت کو لطف و لذت کے ساتھ ساتھ سرفرازی کا اعزاز بھی حاصل ہوجائے گا۔ 2 جنت اہل ایمان کی ابدی قیام گاہ ہوگی اس لیے محروم ہونے کا کبھی اندیشہ نہیں ہوگا۔ اور یہ ایسی نعمت ہے کہ بادشاہ تک اس کا تصور نہیں کرسکتے کیونکہ یہاں ہر نعمت کو زوال ہے۔ اسی لیے نعمت ملنے کے بعد اس کے ہاتھ سے نکل جانے کا خدشہ کبھی دل سے الگ نہیں ہوتا۔ آج کے شاہ کل کے گدا ہوجاتے ہیں اور آج کے گدا تخت و تاج کے مالک بن جاتے ہیں۔ لیکن جنت میں ہر نعمت کو ثبات وقرار میسر آئے گا۔ 3 جنت میں ہر وہ نعمت میسر آئے گی جس کی اہل جنت خواہش کریں گے۔ دنیا میں کتنی ایسی نعمتیں ہیں جو عالم پناہوں اور شاہجہانوں کے بھی بس میں نہیں۔ سکندر فتوحاتِ عظیمہ کا پھریرا لہرا کے بھی دنیا سے خالی ہاتھ جاتا ہے۔ شداد اپنی تعمیر کردہ جنت دیکھنے سے محروم رہتا ہے۔ کتنی ناممکن چیزیں ہیں جنھیں انسان ممکن نہیں بنا سکتا، لیکن جنت میں کوئی چیز ناممکن نہیں ہوگی۔ ہر شخص جو چاہے گا جو خواہش اس کے دل سے اٹھے گی لبوں پر آتے ہی تعمیل کے قالب میں ڈھل جائے گی۔ 4 اللہ تعالیٰ کی شان یہ ہے کہ وہ کسی قانون اور وعدے کا پابند نہیں۔ دنیا کا ہر قانون اس کے قانون کا پابند اور اس کی رضا کے تابع ہے۔ وہ قیامت کے دن سب سے جواب طلبی کرے گا لیکن کوئی شخص اس سے سوال کرنے کا حق نہیں رکھتا باایں ہمہ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے اہل جنت سے جو وعدے فرمائے ہیں اس کا ایفا اپنے اوپر لازم کیا ہے اور بندوں کے سامنے اس کے لیے اپنے آپ کو ذمہ دار اور مسئول ٹھہرایا ہے۔