Ayahs 25:17–18وَیَوْمَ یَحْشُرُھُمْ وَمَا یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ فَیَقُوْلُ ئَ اَنْـتُمْ اَضْلَلْـتُمْ عِبَادِیْ ھٰٓؤْ لَآئِ اَمْ ھُمْ ضَلُّوا السَّبِیْلَ ۔ قَالُوْا سُبْحٰنَکَ مَاکَانَ یَنْبَغِیْ لَنَـآ اَنْ نَّتَّخِذَ مِنْ دُوْنِکَ مِنْ اَوْلِیَـآئَ وَلٰـکِنْ مَّتَّعْتَھُمْ وَاٰبَـآئَ ھُمْ حَتّٰی نَسُوا الذِّکْرَ ج وَکَانُوْا قُوْمًا م بُوْرًا۔
الفرقان : 17، 18)
(اور اس دن کا خیال کرو جس دن (اللہ تعالیٰ ) ان لوگوں کو اور جن معبودوں کو وہ اللہ کے سوا پوجتے ہیں اکٹھا کرے گا، پھر ان سے پوچھے گا کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا یا یہ خود راہ راست سے بھٹک گئے تھے۔ وہ جواب دیں گے پاک ہے آپ کی ذات، ہمیں یہ بات زیب نہ دیتی تھی کہ ہم آپ کے سوا دوسروں کو کارساز بنائیں مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو دنیا سے بہرہ مند کیا حتیٰ کہ یہ سبق بھول گئے اور ہلاک ہونے والے بنے۔ )
آخرت میں انبیاء و صالحین کا اپنے پرستاروں سے اعلانِ براء ت
قریشِ مکہ اور دیگر اہل عرب کی گمراہی اور اس کو باقی رکھنے کے لیے آنحضرت ﷺ کی دعوت کی اندھی مخالفت جس طرح قیامت کے انکار کے باعث تھی اسی طرح اس کا ایک سبب اللہ تعالیٰ کے ساتھ مختلف قسم کا شرک بھی تھا۔ کہیں اللہ تعالیٰ کی ذات کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا گیا تھا اور کہیں اللہ تعالیٰ کی صفات میں۔ اور اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کے بہت سارے حقوق انھیں تفویض کردیئے گئے تھے۔ شرک کی تمام اقسام کی تردید تو کئی مواقع پر گزر چکی ہے یہاں صرف یہ بتایا جارہا ہے کہ جب یہ لوگ اپنے انکار و تمرد اور شرک کے باعث جہنم میں ڈالے جائیں گے تو جہاں انھیں سخت سے سخت عذاب سے دوچار ہونا پڑے گا وہیں انھیں ایک اور بھی رسوا کن اور اذیت ناک صورتحال سے واسطہ پڑے گا۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ میدانِ حشر میں جب ان کو جمع کرے گا تو ان کے ساتھ ان تمام قوتوں کو بھی جمع ہونے کا حکم دے گا جن کی یہ پوجا کرتے تھے۔ اور ان میں وہ تمام معبود شریک ہوں گے جن کا تعلق فرشتوں، جنات، مظاہرفطرت اور اجرامِ فلکی سے ہے اور وہ بھی شامل ہوں گے جنھیں مشرکین نے اپنے ہاتھوں سے تراشا تھا۔ چاہے اس کے پس پردہ انسانی شخصیات ہوں یا لوگوں کی مزعومہ اور مفروضہ قوتیں۔ ان کے تمام بت بھی ان کے ساتھ میدانِ حشر میں جمع کردیئے جائیں گے۔
مایعبدون … میں مَا کے بارے میں بعض لوگوں کا گمان یہ ہے کہ یہ غیرذوی العقول کے لیے استعمال ہوتا ہے اور مَن ذوی العقول کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے یہاں ما سے مراد صرف بےجان پتھر ہیں، زندہ شخصیات نہیں۔ لیکن یہ تصور صحیح نہیں۔ یہ درست ہے کہ مَا اور منکے استعمال میں عموماً اس کا لحاظ کیا جاتا ہے، لیکن یہ دونوں ان معنوں کے لیے مخصوص نہیں۔ بسا اوقات مَا ذوی العقول کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے اور اگر کسی صاحب عقل مخلوق کا ذکر تحقیر کے طور پر کیا جائے تو پھر اس کے لیے مَا کا استعمال سب کے نزدیک نہ صرف جائز ہے بلکہ فصاحت کا تقاضا ہے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں بھی صحیح بات یہی ہے کہ مشرکین نے جن جن کو بھی اپنی بندگی اور عبادت کا مستحق سمجھا ان کے سامنے سر جھکائے، قربانیاں دیں، ان سے استمداد کی، ان سے پناہ مانگی اور یہ یقین رکھا کہ اگر قیامت آہی گئی تو ہمارے یہ معبود اس دن ہمیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچا لیں گے۔ اللہ تعالیٰ ان کے اس اعتماد اور بھروسے کی تردید کے لیے فرما رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہاں ان سب کو جمع کرے گا۔ جہاں تک بتوں کا تعلق ہے ان کے بارے میں تو دوسری جگہ فرمایا گیا انکم وما تعبدون من دون اللہ حصب جہنم ” بیشک تم اللہ کے علاوہ جن کی عبادت کرتے ہو وہ سب جہنم کا ایندھن ہوں گے۔ “ سب کے نزدیک اس سے مراد بت ہیں انھیں قیامت کے دن ان کے پوجا کرنے والے کے ساتھ جہنم میں پھینکا جائے گا اور یہ جہنم کی آگ کے لیے ایندھن ثابت ہوں گے۔ رہے دوسرے لوگ جن میں انبیائے کرام بھی شامل ہیں اور اولیائے عظام، فرشتے اور صالحین بھی۔ ان سے پروردگار پوچھے گا کہ تم نے ان لوگوں کو گمراہ کیا تھا یا خود ہی یہ سیدھے راستے سے بھٹک گئے تھے۔ کیونکہ مشرکین کا دعویٰ یہ تھا کہ ہم جس راستے پر چل رہے ہیں ہمیں اس راستے پر ان بزرگوں اور عظیم شخصیتوں نے ڈالا آج جن کی ہم پوجا کررہے ہیں۔ تو وہ جواب میں یہ کہیں گے کہ الٰہ العالمین ہماری تو یہ مجال بھی نہ تھی یا ہمیں یہ بھی گوارا نہ تھا کہ ہم تیرے سوا کسی اور کو اپنا ولی یا کارساز بنا لیتے، تو دوسروں کو یہ کہنا کہ وہ ہماری بندگی کریں، یہ کیسے ممکن تھا۔ اسی مضمون کو سورة سبا کی آیات 40 اور 41 میں بیان فرمایا گیا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے ” کہ جس روز اللہ ان سب کو جمع کرے گا، پھر فرشتوں سے پوچھے گا کہ کیا یہ لوگ تمہاری ہی بندگی کررہے ہیں، وہ کہیں گے پاک ہے آپ کی ذات، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ ان سے۔ یہ لوگ تو جنوں یعنی شیاطین کی بندگی کررہے تھے، ان میں سے اکثر انھیں کے مومن تھے۔ “
ممکن ہے بعض لوگوں کو یہ گمان ہو کہ ہوسکتا ہے فرشتوں یا جنات کو لوگوں کے شرک اور پوجا پاٹ کی وجہ سے پروردگار قیامت کے دن اپنی عدالت میں طلب فرما لیں۔ لیکن یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ انبیائے کرام جن کو اللہ تعالیٰ نے انتہائی قدر و منزلت سے نوازا ہے انھیں ان کی امتوں کی زیادتیوں کے باعث اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہونا پڑے۔ ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے کہ سورة المائدہ کے آخری رکوع میں تفصیل سے بتایا گیا ہے کہ عیسائیوں کے غلط عقائد اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے بارے میں غلط تصورات کے حوالے سے جب عیسائیوں سے جواب طلبی ہوگی تو ساتھ ہی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کو بھی طلب کیا جائے گا اور پوچھا جائے گا کہ کیا آپ نے ان لوگوں سے یہ کہا تھا کہ مجھے اور میری ماں کو معبود بنا لو، تو وہ نہایت عاجزی سے جواب میں کہیں گے ماقلت لھم الا ما امرتنی بہ ان اعبدوا اللہ ربی و ربکم ” میں نے ان سے بس وہی کچھ کہا تھا جس کا آپ نے مجھے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ “
کفار کی گمراہی کا اصل سبب
انبیائے کرام اور صلحائے عظام اپنی براءت کا اظہار کرنے کے بعد عرض کریں گے کہ ان کو کسی نے گمراہی اور برگشتگی کے راستے پر نہیں ڈالا بلکہ آپ نے معیشتِ دنیا کی جو فراوانی ان کو اور ان کے آبائواجداد کو بخشی اور یہ پشتوں تک دولت میں کھیلتے رہے اور وسائلِ رزق پر بلاشرکتِ غیرے ان کا قبضہ رہا۔ اس سے ان میں یہ تصور پیدا ہوا کہ امارت و ثروت ہمیشہ سے ہمارے گھر کی لونڈی ہے اور ہم اور ہماری اولاد ہمیشہ اسی حال میں زندگی گزاریں گے۔ ہماری یہ حالت ہماری شناخت اور ہمارا لازمہ ہے جو ہم سے کبھی الگ نہیں ہوگا۔ اس تصور نے انھیں دنیا اور دولت دنیا کے ساتھ اس قدر گہری وابستگی پیدا کردی کہ وہ آخرت کا تصور کھو بیٹھے۔ اگر کسی نے انھیں آخرت کی طرف بلایا تو انھوں نے محض اسے واہمہ سمجھا اور آخرت سے متعلق اگر کچھ تصورات ان کے معاشرے میں موجود تھے تو وہ یکسر انھیں بھول گئے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ پہلے اخلاقی قدریں پامال ہوئیں پھر رفتہ رفتہ انسانی قدریں بھی دم توڑ گئیں۔ انسانی رشتے جو حقوق و فرائض کے تصور سے باقی رہتے ہیں وہ آخرت کا تصور ختم ہوجانے کے باعث اپنا وجود کھو بیٹھے جس کے نتیجے میں ایک ایک رشتہ ٹوٹتا چلا گیا۔ اب یہ لوگ بظاہر انسان تھے لیکن حقیقت میں بہائم کے انبوہ تھے جو انسانی آبادیوں میں حیوانوں کی طرح رہ رہے تھے۔ آخر وہ وقت آیا کہ وہ ایک ہلاک ہونے والی قوم بن گئے۔
بُور… واحد جمع مذکر اور مونث سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ اس کے معنی ہیں شور زمین اور فاسد و ناکارہ آدمی۔ جب یہ قوم کی صفت کے طور پر آتا ہے تو پھر اس کا مفہوم ہلاک ہونے والی قوم ہوتا ہے۔
Ayah 25:19فَقَدْکَذَّبُوْکُمْ بِمَا تَقُوْلُوْنَ لا فَمَا تَسْتَطِیْعُوْنَ صَرْفًا وَّلاَ نَصْرًا ج وَمَنْ یَّظْلِمْ مِّنْکُمْ نُذِقْـہُ عَذَابًا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 19)
(جھٹلا دیں گے وہ تمہارے معبود، تمہاری ان باتوں کو جنھیں تم کہہ رہے ہو، پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے اور نہ کہیں سے کوئی مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے شرک کا مرتکب ہوگا ہم اسے سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ )
ایک بلیغ اسلوب
یہ مکالمہ تو قیامت کے دن ہوگا لیکن اس کے یقینی اور حتمی ہونے کو واضح کرنے کے لیے اسے ماضی کے صیغے میں بیان کیا گیا ہے کہ تم قیامت کے دن یہ تصور لے کر پہنچو گے کہ ہم تو قیامت کا انکار کرتے رہے لیکن اب اگر قیامت آہی گئی ہے تو یقینا ہمارے مزعومہ معبود آج ہماری مدد کریں گے۔ لیکن جب تمہارے معبود صاف تم سے براءت کا اظہار کریں گے کہ ہم نے ان سے کبھی کوئی ایسی بات نہیں کہی، یہ جو کچھ بھی کرتے رہے یہ ان کی اپنی بنائی ہوئی اور وضع کردہ بات تھی۔ تو اس پر پروردگار فرمائیں گے کہ اس انکار کے بعد اب تمہارے پاس کوئی راہ فرار باقی نہیں رہی۔ اب تم نہ اپنے سے عذاب کو ہٹا سکو گے اور نہ تمہیں کہیں اور سے مدد پہنچ سکے گی اور یہ مطلب بھی ہوسکتا ہے کہ نہ تم کسی دوسرے کی ہی مدد کرسکو گے۔ اور تم میں سے جو بھی شرک کے مرتکب ہوں گے ہم ان کو ایک عذاب عظیم چکھائیں گے۔
یہاں ظلم سے مراد کفر اور شرک ہے۔ ظاہر ہے کہ کفر اور شرک سے بڑھ کر حقیقت اور صداقت پر ظلم کیا ہوسکتا ہے۔ اس سے آدمی اپنے اوپر بھی ظلم کرتا ہے اور ان حقائق پر بھی ظلم کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت پر دلالت کرتے ہیں۔
Ayah 25:20وَمَـآ اَرْسَلْنَا قَبْلَکَ مِنَ الْمُرْسَلِیْنَ اِلَّآاِنَّھُمْ لَیَاْ کُلُوْنَ الطَّعَامَ وَیَمْشُوْنَ فِی الْاَسْوَاقِ ط وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِـتْـنَـۃً ط اَتَصْبِرُوْنَ ج وَکَانَ رَبُّکَ بَصِیْرًا۔
(الفرقان : 20)
(اے پیغمبر ! ہم نے آپ سے پہلے جو بھی رسول بھیجے تھے وہ سب کھانا بھی کھاتے تھے اور بازاروں میں چلتے پھرتے بھی تھے۔ اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے، کیا تم صبر کرتے ہو، اور تمہارا رب سب کچھ دیکھ رہا ہے۔ )
قریش کے اعتراضات کی لغویت
اوپر آیت 7 میں کفار کا یہ اعتراض نقل کیا گیا ہے کہ یہ کیسا رسول ہے جو ضروریات کی فراہمی کے لیے بازار جاتا ہے، وہاں کاروبار کی دیکھ بھال میں دوڑ بھاگ کرتا ہے اور پھر کھاتا پیتا بھی ہے۔ اس آیت کریمہ میں تاریخی حوالے سے نہایت آسان انداز میں اس کا جواب دیا گیا ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ کھانا پینا اور لین دین کے لیے بازاروں میں جانا اگر منصب رسالت کے خلاف ہوتا تو پھر کبھی کوئی رسول یہ حرکت نہ کرتا جبکہ جتنے بھی رسول آئے ہیں یا کم از کم جن کو تم جانتے ہو وہ سب کھاتے پیتے اور بازاروں میں عام آدمی کی طرح چلتے پھرتے تھے۔ اہل عرب انبیائے کرام کی تاریخ سے زیادہ واقف تو نہیں تھے لیکن حضرت ابراہیم (علیہ السلام) اور حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو مانتے بھی تھے اور جانتے بھی تھے۔ بلکہ انھیں ان کا وارث ہونے کا دعویٰ بھی تھا اور اس پر انھیں بجا طور پر فخروناز بھی تھا۔ ان دونوں کے بارے میں انھوں نے کبھی یہ دعویٰ نہیں کیا کہ وہ مافوق البشر تھے۔ کیونکہ وہ جانتے تھے کہ انھوں نے بشر ہی کی حیثیت سے زندگی گزاری ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بارے میں یہ بات معروف تھی کہ وہ تیر بنایا کرتے اور شکار کھیلا کرتے تھے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی مہمان نوازی اور مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر کھانے کے کئی واقعات مشہور تھے۔ اسی طرح اگرچہ وہ لوگ بنی اسرائیل کی تاریخ سے زیادہ آگاہ نہیں تھے لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سے کسی حد تک شناسا تھے۔ اور وہ جانتے تھے کہ یہود نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بشریت سے کبھی انکار نہیں کیا۔ اور جہاں تک مسیحیوں کا تعلق ہے اگرچہ پال نے مسیحیت کی شکل بگاڑ ڈالی تاہم ان کے کھانے کا تذکرہ تو آج تک انجیل میں موجود ہے۔ اور ان کی بشریت کے ثبوت میں قرآن کریم نے ارشاد فرمایا کانا یاکلان الطعام ” وہ دونوں کھانا کھایا کرتے تھے۔ “ یعنی حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی والدہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ تو اگر یہ باتیں منصب نبوت کے منافی ہوتیں تو یہ انبیائے کرام ان باتوں کا ارتکاب کیوں کرتے، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قریش کا یہ اعتراض تاریخِ نبوت سے بیخبر ی نہیں، نظرانداز کرنے یا استفادہ نہ کرنے کی دلیل ہے۔
فتنہ کا مفہوم
وَجَعَلْنَا بَعْضَکُمْ لِبَعْضٍ فِـتْـنَـۃً ” اور ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے۔ یعنی کفار مکہ مسلمانوں کے لیے آزمائش ہیں اور مسلمان کفار کے لیے۔ سورة الانعام کی آیت 53 میں اس بات کو کسی حد تک کھول دیا گیا ہے۔ وہاں فرمایا ہے وَکَذَلِکَ فَتَنَّا بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لِیَقُوْلُوْا اَھٰؤْلَآئِ مَنَّ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِنْ م بَیْنِنَا ” اسی طرح ہم نے ایک کو دوسرے کے لیے آزمائش بنایا ہے تاکہ یہ متکبرین کہیں کہ کیا یہی لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے ہمارے درمیان سے اپنے فضل کے لیے منتخب کیا ہے ؟ “ اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کی غربت ان کے لیے آزمائش بن گئی تھی، وہ یہ سمجھتے تھے کہ مال و دولت اور ثروت و رفاہیت اللہ تعالیٰ کی نعمتیں ہیں۔ اور وہ نعمتیں ہمیشہ اپنے مقبول بندوں کو دیتا ہے۔ اگر یہ دین اللہ کا دین ہوتا جسے محمد ﷺ لے کے آئے ہیں تو یہ ہم میں سے کسی پر نازل ہوتا۔ ہمارے رئیسوں میں سے کوئی رئیس رسول بنایا جاتا اور اس پر ایمان لانے والے بھی امیر لوگ ہوتے۔
اور غربت جو انسان کو معاشرے کی نظروں سے گرا دیتی ہے اس میں ہمیشہ وہ لوگ مبتلا کیے جاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں ناپسندیدہ لوگ ہوتے ہیں۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین معزز اور دولت مند لوگوں کو نظرانداز کرکے غریبوں اور معاشرے کے گرے پڑے لوگوں کو دیا جائے اور امیر لوگ اس سے محروم رہیں۔ اس طرح سے مسلمانوں کی غربت قریش کے لیے قبول حق کی راہ میں حجاب بن کے رہ گئی۔ ممکن ہے آنحضرت ﷺ کی دعوت انھیں کسی حد تک اپیل کرتی ہو لیکن آپ ﷺ اور مسلمانوں کی غربت انھیں اسلام کی طرف بڑھنے کی اجازت نہیں دیتی تھی۔ یہ وہ آزمائش تھی جس میں وہ بری طرح ناکام ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو دولت و ثروت دی تو انھیں اس پر شکر ادا کرنا چاہیے تھا لیکن بجائے شکر ادا کرنے کے یہی دولت ان کے لیے کفر پر اصرار کرنے کا باعث بن گئی۔
اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے کفار کی طرف سے ان کے دین کا تمسخر اور پھر ان کی مخالفت و عداوت کا بڑھتے چلے جانا مسلمانوں کے لیے ایک آزمائش بن گیا۔ جیسے جیسے کفر کی اذیت رسانی میں تیزی آتی گئی مسلمانوں کے لیے آزمائش بڑھتی گئی۔ شروع میں تو صرف طنز و استہزاء تھا پھر بائیکاٹ تک نوبت پہنچی حتیٰ کہ غریب صحابہ ظلم و ستم کی چکی میں پیسے جانے لگے۔ حضرت بلال ( رض) جیسے مخلص مسلمان تپتی ریت پر کھینچے جاتے اور حضرت خباب ( رض) جیسے جاں نثار دہکتے انگاروں پر لٹائے جاتے۔ اس آزمائش میں پورا اترنا صرف انھیں لوگوں کا کام ہے جو نہایت سوچ سمجھ کر اور محکم ارادے سے دائرہ اسلام میں داخل ہوئے ہوں۔ اقبال نے حضرت بلال ( رض) کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا اور حقیقت میں ہر صحابی اس خراج کے اہل ہیں۔
نہ چھٹا وہ آستانہ تجھ سے ایک دم کے لیے
کسی کے عشق میں تو نے مزے ستم کے لیے
جفا جو عشق میں ہوتی ہے وہ جفا ہی نہیں
ستم نہ ہو تو محبت میں کچھ مزہ ہی نہیں
کفار تو اپنی آزمائش اور امتحان میں ناکام ہوگئے۔ اور مسلمانوں سے فرمایا جارہا ہے اتصبرون ” کیا تم صبر کرو گے۔ “ یعنی جس طرح کفار کا امتحان شکر میں تھا اور وہ بری طرح ناکام ہوئے، تمہارا امتحان صبر میں ہے۔ تو کیا تم اس امتحان میں پورے اترو گے اور میں عرض کرچکا ہوں کہ صحابہ کرام نے اس امتحان میں ثابت قدمی کے جو نقوش ثبت کیے ہیں دنیا آج تک اس سے روشنی حاصل کررہی ہے۔
یاد رہے کہ جب امر کے اندر ترغیب و تشویق اور حث و تحریص کا مفہوم پیدا کرنا ہو تو وہ خبر یہ اسلوب کے قالب میں آتا ہے۔ اور اگر اس پر حرف استفہام آجائے تو اس کے اندر مزید زور پیدا ہوجاتا ہے۔ معلوم ہوا کہ اس لفظ سے مسلمانوں سے صرف صبر کے بارے میں سوال نہیں کیا جارہا بلکہ نہایت پیار سے رغبت بھی دلائی جارہی ہے اور شوق بھی پیدا کیا جارہا ہے۔ اور پروردگار کا طریقہ یہ ہے کہ جب وہ کسی کام کی ترغیب دیتا ہے تو اس کی ہمت بھی عطا کرتا اور بڑی سے بڑی مشکل کے لیے راستہ آسان کردیتا ہے۔
Ayah 25:21وَقَالَ الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَـآئَ نَالَوْلَآ اُنْزِلَ عَلَیْنَا الْمَلٰٓئِکَۃُ اَوْنَرٰی رَبَّنَاط لَقَدِاسْتَکْبَرُوْا فِیْٓ اَنْفُسِھِمْ وَعَتَوْ عُتُوًّا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 21)
(اور کہتے ہیں وہ لوگ جو ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے کہ ہم پر فرشتے کیوں نہیں اتارے گئے یا ہم اپنے رب ہی کو دیکھتے، انھوں نے اپنے جی میں اپنے کو بہت بڑا سمجھا اور انھوں نے حد سے بڑھ کر سرکشی کی۔ )
متکبرین کے استکبار پر ایک ضرب
آنحضرت ﷺ اور آپ کی دعوت کے مخالفین ایک تو عام لوگ تھے اور عام لوگ کسی بات کو اختیار کرنے یا اس کی مخالفت کرنے میں بالعموم طبقہ امراء کے پیروکار ہوتے ہیں۔ اہل مکہ کا بھی یہی حال تھا۔ مخالفین میں دوسرا گروہ طبقہ خواص کا تھا جو مکہ کی سیاست اور معاشرت کو اپنے اثرات سے متأثر کرتا تھا۔ آنحضرت ﷺ اور آپ کی دعوت کے انکار میں تو یہ سب لوگ متفق الرائے تھے لیکن خیالات اور مخالفت کے انداز میں اپنا اپنا اسلوب رکھتے تھے۔ جو لوگ نسبتاً مزاج میں اعتدال کے مالک تھے وہ آنحضرت ﷺ کا انکار کرتے اور آپ کی دعوت کو ماننے سے انکار کرتے تھے۔ لیکن تمسخر، یا وہ گوئی اور اذیت رسانی سے دور رہتے تھے۔ اس بات کو تسلیم کرنے سے گریزاں تھے کہ آپ ﷺ پر وحی اترتی ہے۔ لیکن وحی الٰہی، فرشتوں اور خود پروردگار کے بارے میں زبان درازی کی جرأت نہیں کرتے تھے۔ لیکن بعض ان میں ایسے تھے جو تمرد اور تکبر میں حد سے بڑھے ہوئے اور شرافت کی ہر قدر کو پامال کرچکے تھے۔ نہ ان کی زبانوں پر کوئی قدغن تھی اور نہ ان کے روئیے میں کوئی شرافت تھی۔ اللہ تعالیٰ کی ذات ذوالجلال کے بارے میں بھی بڑی سے بڑی بات کہہ دینا ان کے لیے معمولی بات تھی۔ وہ قیامت اور آخرت کے تصور کو محض ایک لطیفہ سمجھتے تھے۔ اس لیے اس آیت کریمہ میں ان کا ذکر الذین کفروا کے ساتھ کرنے کی بجائے الَّذِیْنَ لاَ یَرْجُوْنَ لِقَـآئَ نَاکے الفاظ سے کیا گیا ہے۔ پھر یہ بتایا گیا ہے کہ تکبر کے مارے ہوئے اس گروہ کی ہر بات اظہارِ تکبر کی علامت تھی۔ غیرمعمولی دریدہ دہنی کا ثبوت دیتے ہوئے انھوں نے یہ کہا کہ محمد ﷺ کہتے ہیں کہ مجھ پر فرشتے اللہ تعالیٰ کا کلام لے کر اتر تے ہیں۔ اگر یہ بات سچ ہے تو پھر اس میں کیا حرج ہے کہ محمد ﷺ ہمارے ہی ایک بھائی ہیں، ان پر اگر فرشتے اتر سکتے ہیں تو ہم پر کیوں نہیں اتر سکتے۔ جب ہم خود اپنی آنکھوں سے فرشتوں کو دیکھ لیں گے تو تب ہمارے لیے ان کو نبی ماننا آسان ہوجائے گا۔
یہاں ملائکہ کو جمع لایا گیا ہے۔ اس سے ان کی مراد شاید یہ تھی کہ ہم میں سے ہر ایک پر الگ الگ فرشتہ نازل ہونا چاہیے تاکہ وہ ہر فرد کو آکر آنحضرت ﷺ کی نبوت کی دعوت دے اور اللہ تعالیٰ کا کلام انھیں پڑھ کر سنائے۔ یا دوسری صورت یہ ہے کہ بہت سے فرشتے مجمعِ عام میں آنحضرت ﷺ کی نبوت کا اعلان کریں۔
بعض بدباطن ایک قدم آگے بڑھ کر یہ ہر زہ سرائی کرتے کہ اگر فرشتے ہم پر نہیں اترتے تو اس میں کیا حرج ہے کہ ہم براہ راست اپنے رب سے باتیں کریں اور اس کو دیکھیں۔ اس طرح سے انھوں نے یہ گمان کیا کہ ہم شاید کوئی بہت بڑی چیز ہیں۔ اللہ تعالیٰ ایک عظیم رسول کو ہماری طرف بھیجتا ہے۔ ہم اس کا تمسخر اڑاتے، بدزبانی کرتے اور تکلیفیں پہنچاتے ہیں لیکن وہ برابر ہمیں اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کو ہماری ہدایت اور ہماری اصلاح ہر قیمت پر منظور ہے۔ ان کے اسی تصور نے انھیں انگیخت کیا اور وہ سرکشی کی ہر حد سے آگے نکل گئے۔ حالانکہ اگر تکبر نے انھیں عقل سے محروم نہ کردیا ہوتا تو یہ بات جاننا ان کے لیے کوئی مشکل نہ تھا کہ فرشتے انسانوں کو نظر نہیں آتے۔ اہل خانہ کے سامنے گھر کا ایک فرد موت کی نذر ہوجاتا ہے لیکن کسی کو اس کی جان لینے والا فرشتہ نظر نہیں آتا۔ اور جہاں تک پروردگار کی زیارت کا تعلق ہے اس کے بارے میں بھی یہ بات ان سے مخفی نہ تھی کہ کوئی آج تک پروردگار کو دیکھنے کی جرأت نہیں کرسکا۔ وہ ایک ایسی لطیف ذات ہے جو ہمارے حواس سے ماورا اور ہماری قوت ادراک سے بالا ہے۔ بنابریں یہ کیسے ممکن ہے کہ تم فرشتوں کو یا اللہ تعالیٰ کو دیکھ سکو۔
ان میں اگر کچھ اہل دانش بھی تھے تو انھیں تو اس بات کا شعور ہونا چاہیے تھا کہ عالم غیب کی چیزیں عالم دنیا میں نظر نہیں آتیں۔ اور اگر آدمی ان حقائق کو جن کا تعلق عالم غیب سے ہے اور ان پر ایمان لانا بھی ضروری ہے عالم دنیا میں دیکھ لے تو اب اس کے لیے ان پر ایمان لانا کوئی امتحان نہیں۔ کیونکہ دیکھی ہوئی اور سنی ہوئی چیزوں کو مان لینا انسانی زندگی کا معمول ہے۔ البتہ عالم غیب اور عالم بالا کے ان حقائق کو دنیا میں تسلیم کرنا ہی اصل امتحان ہے جن پر انسانی زندگی کی کامیابی اور ناکامی کا دارومدا رہے۔
Ayah 25:22یَوْمَ یَرَوْنَ الْمَلٰٓئِکَۃَ لاَ بُشْرٰی یَوْمَئِذٍلِّلْمُجْرِمِیْنَ وَیَـقُوْلُوْنَ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔ (الفرقان : 22)
(جس دن وہ لوگ فرشتوں کو دیکھیں گے اس دن مجرموں کے لیے کوئی خوشی کی بات نہ ہوگی اور فرشتے کہیں گے تمہارے لیے (جنت کا داخلہ) قطعاً حرام ہے۔ )
حِجْرًا مَّحْجُوْرًا کا مفہوم
مشکل الفاظ : حِجْرًا مَّحْجُوْرًا … سخت پردہ اور اوٹ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ حجر کے لفظی معنی محفوظ جگہ کے ہیں اور محجوراً اس کی تاکید ہے۔ حضرت ابن عباس ( رض) سے اس کے معنی حراماً محرماً منقول ہیں۔ مراد یہ ہے کہ قیامت کے روز جب یہ لوگ فرشتوں کو عذاب کے ساتھ دیکھیں گے اور ان سے معاف کرنے اور جنت میں جانے کی درخواست کریں گے یا تمنا ظاہر کریں گے تو فرشتے ان کے جواب میں کہیں گے حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔ یعنی جنت کافروں پر حرام اور ممنوع ہے۔ (مظہری) اس صورت میں یَـقُوْلُوْن کا فاعل فرشتے ہوں گے۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ لفظ استعاذہ کے الفاظ میں سے ہے اور سیبویہ کی رائے یہ ہے کہ جب یہ اس مفہوم میں آتا ہے تو بالکل اسی شکل میں استعمال ہوتا ہے اور فعلِ محذوف سے منسصوب ہوتا ہے۔ جس طرح معاذاللہ میں استعمال ہوتا ہے۔
معاندین اور متکبرین کا مطالبہ تھا کہ جس طرح محمد ﷺ پر فرشتے اترتے ہیں اسی طرح ہم پر بھی اترنے چاہئیں۔ ان سے کہا جارہا ہے کہ دنیا میں تو تم فرشتوں کو نہیں دیکھ سکتے البتہ تم آخرت میں فرشتوں کو دیکھو گے اور یا موت کے وقت فرشتوں کو دیکھ سکتے ہو، لیکن اس وقت فرشتوں کو دیکھنا تمہارے لیے خوش آئند نہیں ہوگا۔ موت کے وقت فرشتوں کا وجود موت کو زیادہ اذیت ناک بنا دیتا ہے اور کافر انھیں دیکھتے ہی چیخنے لگتا ہے۔ اور قیامت کے دن فرشتے انھیں ہانکتے اور مارتے ہوئے میدانِ حشر میں لائیں گے اور اس کے بعد جو کچھ ہوگا اس کا ذکر پیچھے گزر چکا ہے وہ دل کو دہلا دینے کے لیے کافی ہے۔ وہی موقع ہے جب تم فرشتوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھو گے۔ اور اس وقت تم چیخو گے اور پکارو گے، اللہ کی پناہ، اللہ کی پناہ۔ لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ کی پناہ تمہیں میسر نہیں آئے گی۔
Ayah 25:23وَقَدِمْنَـآ اِلٰی مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰـہُ ھَبَـآئً مَّنْثُوْرًا۔ (الفرقان : 23)
(اور ہم ان کے ہر اس عمل کی طرف جو انھوں نے کیا ہوگا متوجہ ہوں گے اور اس کو پراگندہ غبار بنادیں گے۔ )
متکبرین کے اعمال کی حقیقت
دنیا میں ایسے لوگ ہر دور میں گزرے ہیں جو خدا کے انکار اور رسالت و نبوت کو قبول نہ کرنے کے باوجود دنیا میں بعض بھلائی کے کام بھی کرتے رہے اور بعض لوگوں نے محض اپنی شہرت اور عظمت کو اجالنے کے لیے بڑے بڑے کارنامے بھی انجام دیئے اور اسی بنا پر اپنی اپنی قوم سے توقع باندھی کہ وہ انھیں اپنا ہیرو تسلیم کریں۔ ایسے لوگ اولاً تو قیامت کے وجود ہی کو نہیں مانتے لیکن اگر کبھی بحث کی خاطر تسلیم بھی کرلیں تو ساتھ ہی یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ اگر قیامت واقعی برپا ہوگئی تو اس روز بھی ہم اپنے کارناموں اور بھلائی کے کاموں کے باعث جنت کے مستحق ٹھہریں گے۔ ایسے لوگوں پر ضرب لگاتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ جن کارناموں اور کاموں پر ان لوگوں کو فخر ہے ہم سب سے پہلے ان کے انہی کارناموں کی طرف متوجہ ہوں گے اور انھیں ہوا میں ذروں کی طرح منتشر کردیں گے۔ کیونکہ جب تک عمل کرنے والے میں ایمان اور عمل میں اخلاص نہیں ہوگا اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کے مقام کو نہیں پہنچ سکتا۔ ھَبَـآئً ان ذروں کو کہتے ہیں جو روشن دان سے آنے والی دھوپ میں دکھائی دیتے ہیں۔ یہ نہایت باریک اور بےوزن ہوتے ہیں۔ مقصد یہ ہے کہ یہ متکبر لوگ اپنے جن اعمال اور کارناموں پر اتراتے اور یہ سمجھتے رہے کہ وہ قیامت کے دن ان کے کام آئیں گے ہم انھیں اس حد تک بےقدروقیمت بنادیں گے جس طرح ہوا میں منتشر ذرات ہوتے ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نے ان کے اعمال کے بارے میں جو اسلوب اختیار کیا ہے وہ نہایت حقارت آمیز ہے جس سے یہ بتانا مقصود ہے کہ اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں بڑے سے بڑا عمل بھی کوئی قدر و قیمت نہیں رکھتا جب تک اسے اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے نہ کیا جائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ ابن جدعان جو عرب بھر میں بھلائی کے کاموں میں مشہور گزرا ہے، کیا اپنے بھلائی کے کاموں کی وجہ سے بخشا جائے گا یا نہیں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا، نہیں۔ کیونکہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ یا اللہ تو مجھے بخش دے۔ آیت کے اسلوب کو دیکھتے ہوئے جہاں تحقیر کا پہلو نمایاں ہوتا دکھائی دیتا ہے وہیں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ پروردگار نہایت برہمی کا اظہار فرما رہے ہیں۔ کیونکہ آیت کے الفاظ بالکل اس طرح کے ہیں جیسے ہم اپنی زبان میں کہتے ہیں کہ میں تو اس بات کو پائوں کی ٹھوکر پر رکھتا ہوں۔
Ayah 25:24اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ یَوْمَئِذٍ خَیْرٌمُّسْتَقَرًّاوَّاَحْسَنُ مَقِیْلاً ۔ (الفرقان : 24)
(اس دن جنت والے بہترین ٹھکانے اور نہایت خوب آرام گاہ میں ہوں گے۔ )
اہلِ جنت کا مقام و مرتبہ
کفار کے متکبر لوگ جو مسلمانوں کو نہایت حقارت سے دیکھتے تھے ان کا حال بیان کرنے کے بعد ان غریب اہل جنت کا حال بیان کیا جارہا ہے کہ وہ اس دن بہترین مستقر اور اعلیٰ ترین آرام گاہوں میں ہوں گے جبکہ کفار کو اس دن کی ہولناکی انتہائی کرب اور اذیت میں جلا رہی ہوگی اور ایک پل ان کو آرام سے گزارنا نصیب نہیں ہوگا، اپنے پسینے میں ڈوبے ہوئے اپنے ہولناک انجام سے وحشت زدہ موت سے بدتر صورتحال سے دوچار ہوں گے۔ لیکن ان کے مقابل دنیا میں ان کی نگاہوں میں نہایت چھوٹے اور معمولی لوگ اعلیٰ ترین رہائش گاہوں میں آرام کررہے ہوں گے۔ مقیل قیلولہ کی جگہ کو کہتے ہیں۔ لیکن اس معنی کے لیے مخصوص نہیں، عام استعمال میں آرام گاہ اور عیش گاہ کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ عرب میں چونکہ موسم گرما میں شدید گرمی پڑتی ہے۔ سایہ دار درخت نہ ہونے کے برابر تھے اور دوپہر کا وقت بطورخاص شدید وقت ہوتا تھا۔ موسم کی شدت کے باعث عموماً کام روک دیئے جاتے تھے اور دوپہر کو لوگ اپنے اپنے گھروں میں دبک جاتے تھے۔ میدانِ حشر کی گرمی بھی چونکہ بہت شدید ہوگی اس لیے باہمی مناسبت کے باعث یہاں مقیل کا لفظ لایا گیا کہ قیلولہ کرنے یعنی دوپہر کا آرام کرنے کا کوئی موقع کافروں کو تو کیا میسر آئے گا البتہ اہل جنت کے لیے ایسی سخت اذیت کی گرمی میں بھی آرام گاہیں میسر ہوں گی۔
آیتِ کریمہ میں خیر اور احسن تقابل کے مفہوم میں استعمال نہیں ہوئے بلکہ یہ دونوں لفظ خوب ترین اور بہترین کے مفہوم میں استعمال ہوئے ہیں۔
Ayahs 25:25–26وَیَوْمَ تَشَقَّقُ السَّمَآئُ بِالْغَمَامِ وَنُزِّلَ الْمَلٰٓئِکَۃُ تَنْزِیْلاً ۔ اَلْمُلْکُ یَوْمَئِذِ نِ الْحَقُّ لِلرَّحْمٰنِ ط وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْْـکٰـفِرِیْنَ عَسِیْرًا۔ (الفرقان : 25، 26)
(اور یاد کرو جس روز آسمان پھٹ جائے گا اور بادل نمودار ہوگا اور فرشتے گروہ در گروہ اتارے جائیں گے۔ اس دن حقیقی بادشاہی خدائے رحمن ہی کی ہوگی اور وہ دن منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا۔ )
قیامت کے دن فرشتوں کا ظہور اور اللہ تعالیٰ کی حاکمیتِ مطلقہ
وقوعِ قیامت کی منظرکشی کرتے ہوئے مزید فرمایا گیا ہے کہ اس دن آسمان پھٹ جائے گا اور اس کی جگہ سفید رنگ کا پتلا سا بادل لے لے گا جو کہر کی مانند ہوگا۔ (قرطبی) مفسرینِ کرام نے عام طور پر یہی مفہوم مراد لیا ہے۔ صاحب بیان القرآن نے اس کی وضاحت فرماتے ہوئے لکھا ہے کہ آسمان شق ہو کر اس میں سے ایک رقیق بادل اترے گا جس میں فرشتے ہوں گے۔ یہ ابر بشکل سائبان آسمان سے آوے گا اور اس میں حق تعالیٰ کی تجلی ہوگی اور اس کے گرداگرد ملائکہ ہوں گے۔ یہ حساب شروع ہونے کا وقت ہوگا اور اس وقت آسمان کا پھٹنا صرف کھلنے کے طور پر ہوگا، وہ پھٹنا نہیں ہوگا جو پہلی مرتبہنفخہ صور کے وقت آسمان زمین کو فنا کرنے کے لیے ہوگا۔ کیونکہ یہ نزول غمام جس کا ذکر آیت میں ہے نفخہ ثانیہ کے بعد ہے جبکہ سب زمین و آسمان دوبارہ درست ہوچکے ہوں گے۔
اس روز جو کچھ بھی ہوگا اس کے پس منظر میں صرف ایک حکومت کارفرما ہوگی جو خداوند ذوالجلال کی ہوگی۔ جن معبودوں پر لوگوں کو بڑا ناز و اعتماد تھا وہ ان کے کچھ کام نہیں آئیں گے۔ حقیقی اختیار اور حقیقی بادشاہی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی ہوگی۔ یوں تو آج بھی اسی کی حکومت ہے لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت کے تحت کچھ اختیارات انسانوں کو تفویص کر رکھے ہیں تاکہ انسانوں کی آزمائش کی جاسکے۔ اس سے بعض نادانوں کو مغالطہ ہوجاتا ہے اور وہ اپنی خدائی کا ڈنکا بجانے لگ جاتے ہیں۔ لیکن قیامت کے دن ہر شخص پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی۔ صحیح حدیث میں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کو لپیٹ کر اپنے دائیں ہاتھ میں لے لیں گے اور دوسرے ہاتھ میں زمینوں کو لے لیں گے۔ اور پھر فرمائیں گے انا الملک انا الدیان این ملوک الارض این الجبارون این المتکبرون ” میں بادشاہ ہوں، کہاں ہیں زمین کے بادشاہ، کہاں ہے وہ سرکش اور متکبر۔ “ ہر طرف سناٹا چھا جائے گا، کوئی دم نہ مار سکے گا۔ قرآن کریم میں سورة المومن میں بھی ارشاد فرمایا گیا ہے کہ لمن الملک الیوم للہ الواحد القھار ” پوچھا جائے گا، آج بادشاہی کس کی ہے ؟ ہر طرف سے جواب آئے گا، اکیلے اللہ کی جو سب پر غالب ہے۔
وَکَانَ یَوْمًا عَلَی الْْـکٰـفِرِیْنَ عَسِیْرًا ” وہ دن کافروں کے لیے بڑا مشکل ہوگا۔ “ جب اللہ تعالیٰ کی کبریائی کے سوا ہر سہارا جواب دے جائے گا اور اللہ تعالیٰ کا جلال ہر طرف برس رہا ہوگا۔ ہر شخص اپنے انجام کی فکر میں لرزاں و ترساں انتظار میں کھڑا ہوگا، لیکن اہل ایمان اس وقت بھی خوش و خرم ہوں گے۔ لایحزنھم الفزع الاکبر ” انھیں وہ دل دہلا دینے والی گھبراہٹ غمناک نہ کرے گی۔ “ حضرت ابوسعید خدری ( رض) فرماتے ہیں کہ بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی کہ یارسول اللہ ایسے شدید ہولناک اور طویل ترین دن میں وقت کیسے کٹے گا تو آنحضرت ﷺ نے فرمایا والذی نفسی بیدہ انہ لیخفف علی المومنین حتی یکون اخف علیہ من صلوۃ مکتوبۃ یصلیھا فی الدنیا ” قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، قیامت کا عظیم الشان اور خوفناک دن ایک مومن کے لیے بہت ہلکا کردیا جائے گا حتیٰ کہ اتنا ہلکا جتنا دنیا میں ایک فرض نماز پڑھنے کا وقت ہوتا ہے۔ “
Ayahs 25:27–29وَیَوْمَ یَعَضُّ الظَّالِمُ عَلٰی یَدَیْہِ یَـقُـوْلُ یٰـلَیْتَنِی اتَّخَذْتُ مَعَ الرَّسُوْلِ سَبِیْلاً ۔ یٰـوَیْلَتٰی لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلاَ نًا خَلِیْلاً ۔ لَـقَدْ اَضَلَّنِیْ عَنِ الذِّکْرِ بَعْدَ اِذَجَآئَ نِیْ ط وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُ وْلاً ۔ (الفرقان : 27 تا 29)
(اور جس دن اپنی جان پر ظلم ڈھانے والا حسرت سے اپنے ہاتھ کاٹے گا اور کہے گا کاش میں نے رسول کی معیت میں نجات کا راستہ اختیار کیا ہوتا۔ ہائے میری بدبختی، کاش میں نے فلاں کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اسی نے مجھے گمراہ کرکے اس یاد دہانی سے برگشتہ کیا، بعد اس کہ وہ میرے پاس آچکی تھی، اور شیطان انسان کے لیے بڑا ہی بےوفائی کرنے والا ہے۔ )
قیامت کے دن مکذبین رسول کی حسرت
ہاتھ کاٹنا، اظہارِ حسرت و ندامت کی تعبیر ہے۔ اور یہ تعبیر ہماری زبان میں بھی موجود ہے۔ اور ظالم سے مراد ہر وہ شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی مخالفت کی۔ اس طرح سے اس نے اپنی جان پر ظلم کیا۔ کیونکہ جس رسول کی پیروی دنیوی اور اخروی فلاح و کامرانی کی ضامن ہے جو شخص اس کی مخالفت کرتا ہے وہ یقینا اپنی دنیا اور عاقبت تباہ کرتا ہے۔ اس سے بڑھ کر اپنے اوپر ظلم کرنا اور کیا ہوگا۔
کفار کو قیامت کی منظرکشی کے بعد توجہ دلائی گئی ہے کہ قیامت کے دن ہر وہ شخص جس نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی مخالفت کی ان پر ایمان لانے کی بجائے خواہشاتِ نفس کی پیروی کی۔ قومی عصبیت اور جھوٹی دینی حمیت میں مبتلا ہو کر قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکا اور رسول اور ان کے ساتھیوں پر ظلم ڈھانے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، وہ قیامت کے دن اپنے انجام کو سامنے دیکھ کر اپنے ہاتھ کاٹے گا کہ کاش، میں نے رسول کی مخالفت نہ کی ہوتی اور میں نے فلاں شخص کو اپنا دوست نہ بنایا ہوتا۔ اس کی دوستی مجھے لے بیٹھی، اس کی صحبت نے رفتہ رفتہ مجھے اس یاددہانی سے غافل کردیا جس نے مجھے اپنی عاقبت کی فکر پیدا کی، جس نے مجھے بتایا تھا کہ یہ دنیا دارالعمل ہے دارالجزاء نہیں۔ یہاں کے کیے ہوئے ایک ایک عمل کا کل کو حساب دینا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول تمہارے اندر اس لیے مبعوث کیا ہے تاکہ تمہیں اس نظام زندگی کی خبر دے۔ اور تم اس پر عمل کرکے اپنی عاقبت سنوار لو۔ یہ زندگی کی سب سے بڑی حقیقت جب میرے پاس آگئی تو میں اپنے دوستوں کی رفاقت اور صحبت میں ایسا بگڑا کہ میرا دل اپنے گھر سے ہی اچاٹ ہوگیا۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ہدایت میرے پاس نہ آئی ہوتی تو میں کوئی بھی عذر پیش کرسکتا تھا۔ اب اتمامِ حجت کے بعد میرے پاس کوئی عذر بھی باقی نہیں رہا۔
سیاقِ کلام کے اعتبار سے ان آیات کی تشریح میں ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے وہ کفایت کرتا ہے لیکن ہمارے آئمہ تفسیر کا خیال ہے کہ لَیْتَنِیْ لَمْ اَ تَّخِذْ فُلاَ نًا خَلِیْلاً یہ آیت ایک خاص واقعہ میں نازل ہوئی ہے، مگر حکم عام ہے۔ واقعہ یہ تھا کہ عقبہ بن ابی معیط مکہ کے مشرک سرداروں میں سے تھا۔ اس کی عادت تھی کہ جب کسی سفر سے واپس آتا تو شہر کے معزز لوگوں کی دعوت کرتا تھا۔ اور اکثر رسول اللہ ﷺ سے بھی ملا کرتا تھا۔ ایک دفعہ حسب عادت اس نے معززینِ شہر کی دعوت کی اور رسول اللہ ﷺ کو بھی بلایا۔ جب اس نے آپ ﷺ کے سامنے کھانا رکھا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں تمہارا کھانا اس وقت تک نہیں کھا سکتا جب تک تم اس کی گواہی نہ دو کہ اللہ تعالیٰ ایک ہے، اس کا کوئی شریک عبادت میں نہیں ہے، اور یہ کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں۔ عقبہ نے یہ کلمہ پڑھ لیا اور رسول اللہ ﷺ نے شرط کے مطابق کھانا تناول فرما لیا۔
عقبہ کا ایک گہرا دوست ابی بن خلف تھا۔ جب اس کو خبر ہوئی کہ عقبہ مسلمان ہوگیا ہے تو یہ بہت برہم ہوا۔ عقبہ نے عذر کیا کہ قریش کے معزز مہمان محمد ﷺ میرے گھر پر آئے ہوئے تھے، اگر بغیر کھانا کھائے میرے گھر سے چلے جاتے تو میرے لیے بڑی رسوائی تھی۔ اس لیے میں نے ان کی خاطر سے یہ کلمہ کہہ دیا۔ ابی بن خلف نے کہا کہ میں تیری ایسی باتوں کو قبول نہیں کروں گا جب تک تو جا کر ان کے منہ پر نہ تھوکے (نعوذباللہ) یہ کمبخت بدنصیب دوست کے کہنے سے اس گستاخی پر آمادہ ہوگیا اور کر گزرا۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا میں بھی ان دونوں کو ذلیل کیا کہ غزوہ بدر میں دونوں مارے گئے اور آخرت میں ان کے عذاب کا ذکر اس آیت میں کیا گیا کہ جب آخرت کا عذاب سامنے دیکھے گا تو اس وقت ندامت و افسوس سے اپنے ہاتھ کاٹنے لگے گا اور کہے گا کاش ! میں فلاں یعنی ابی ابن خلف کو دوست نہ بناتا۔ (مظہری و قرطبی)
ذکر سے مراد
آیتِ کریمہ میں الذکرکے لفظ سے مراد قرآن کریم ہے۔ اور آنحضرت ﷺ کی ذات بابرکات بھی مراد لی جاسکتی ہے۔ ایسی عظیم نعمت سے اگر کسی کی دوستی اور رفاقت محروم کردیتی ہے تو اس سے زیادہ نقصان کی بات اور کیا ہوگی۔ اس لیے نبی کریم ﷺ نے نیک اور صالح دوست منتخب کرنے کی اور بدکار لوگوں کی دوستی سے بچنے کی سخت تاکید فرمائی۔ حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) سے مروی ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا : المرء مع من احب ” کہ انسان کا حشر اس کے ساتھ ہوگا جس کے ساتھ اس کی محبت ہوگی۔ “ اس لیے ہر مسلمان کا فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں سے دوستی اور محبت کا رشتہ استوار کرے۔ فساق و فجار اور بدعقیدہ لوگوں کی صحبت سے دور بھاگے۔
وَکَانَ الشَّیْطٰنُ لِلْاِنْسَانِ خَذُ وْلاً ” اور شیطان انسان کے لیے بڑا ہی بےوفائی کرنے والا ہے۔ “ اس میں اہل علم کا اختلاف ہے کہ یہ کفار کا قول ہے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے برمحل تذکیر و تنبیہ ہے۔ اختلاف اپنی جگہ لیکن گنجائش دونوں طرح کے خیالات کی ہے۔ ایک تجربہ کار شخص جس نے زندگی بھر شیطان سے دوستی کی اور ہمیشہ اس کی پیروی کی، اگر وہ بیدار مغز آدمی ہے تو اس پر یہ بات واضح ہوئے بغیر نہیں رہتی کہ ہر شیطان خواہ وہ انسان ہو یا جن، اس کا یہ شیوہ ہے کہ پہلے طرح طرح کے چکمے دے کر نافرمانی پر اکساتا ہے، بڑے سبز باغ دکھاتا ہے اور لحظہ بہ لحظہ انسان کو اپنے رب سے دور کرتا چلا جاتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ قسمیں اٹھا اٹھا کر اپنی دوستی اور وفاداری کا یقین دلاتا ہے کہ آپ بےخوف و خطر کام کرتے چلے جائیں اور کسی قسم کا فکر و اندیشہ نہ کریں۔ اولاً تو یہ راہ ہی ہر خطرے سے بالکل محفوظ ہے اور اگر بفرضِ محال کوئی خطرہ پیش آہی گیا، کسی مصیبت نے راستہ روک ہی لیا تو میں جان کی بازی لگا دوں گا اور آپ کا بال بھی بیکا نہیں ہونے دوں گا۔ لیکن جب ان بدکرداریوں کا انجام کسی لاعلاج بیماری، کسی تباہ کن معاشی بدحالی یا کسی ناقابل برداشت مصیبت میں رونما ہوتا ہے تو یہ شیطان بالکل آنکھیں پھیر کر الگ ہوجاتا ہے۔
Ayah 25:30وَقَالَ الرَّسُوْلُ یٰـرَبِّ اِنَّ قَوْمیِ اتَّخَذُوْا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ مَھْجُوْرًا۔ (الفرقان : 30)
(اور رسول عرض کرے گا کہ اے میرے رب، میری قوم نے اس قرآن کو بالکل نظرانداز کردیا ہے۔ )
مَھْجُوْرًا کا مفہوم اور اس سے مراد
مَھْجُوْرًا … یہ متعدد معانی کے لیے بولا جاتا ہے۔ اگر اسے ھجر سے مشتق مانا جائے تو معنی ہوں گے متروک، یعنی ان لوگوں نے قرآن کو کا قابل التفات ہی نہ سمجھا۔ نہ اسے قبول کیا نہ اس سے کوئی اثر لیا۔ اور اگر ھجر سے مشتق مانا جائے تو اس کے دو معنی ہوسکتے ہیں۔ ایک یہ کہ انھوں نے اسے ہذیان اور بکواس سمجھا، دوسرے یہ کہ انھوں نے اسے اپنے ہذیان اور اپنی بکواس کا ہدف بنا لیا اور اس کے بارے میں طرح طرح کی باتیں بناتے رہے۔
آنحضرت ﷺ کی یہ شکایت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قیامت کے روز ہوگی یا اسی دنیا میں آپ ﷺ یہ شکایت فرما چکے ہیں۔ احتمال دونوں صورتوں کا ہے۔ جن اہل علم نے اس سے یہ مراد لی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے دنیا ہی میں کافروں کے رویئے کے بارے میں شکایت فرمائی، وہ اس پر اگلی آیت کو قرینہ کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ یعنی اگر یہ لوگ قرآن پاک کی عظمت کی کی پرواہ نہیں کرتے۔ نہ اس کو سنتے ہیں نہ سمجھتے ہیں بلکہ جب آپ ﷺ سنانے کی کوشش کرتے ہیں تو یہ ہنگامہ کرتے اور منہ چڑاتے ہیں، اور بات بات پر اعتراض کرتے ہیں۔ تو آپ ﷺ اس کی پرواہ مت کریں۔ ہر دور میں ہر نبی کے ساتھ ایسا ہی ہوتا رہا ہے۔
بعض دیگر اہل علم نے سورة المائدہ کی ان آیات سے جن میں رسولانِ گرامی کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں قیامت کے دن جمع کرے گا اور ان سے ان کی امتوں کے بارے میں پوچھے گا اور ان کی گواہی پر امتوں کا فیصلہ ہوگا، استدلال کرتے ہوئے کہا ہے کہ نبی کریم ﷺ سے جب اہل مکہ کے بارے میں سوال ہوگا تو اس وقت آپ پروردگار سے شکوہ کرتے ہوئے کہیں گے کہ میں نے تیری کتاب بڑی دلسوزی کے ساتھ اپنی قوم کے سامنے پیش کی، لیکن ان لوگوں نے اس کی کوئی قدر نہیں کی، بلکہ نہایت ناقدری کے ساتھ اس کو ٹھکرا دیا۔ آنحضرت ﷺ کا یہ شکوہ ان بدبختوں کے تابوت میں آخری کیل ثابت ہوگا جس کے بعد ان کے لیے زبان کھولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہے گی۔
آنحضرت ﷺ کی شکایت میں مہجور کا لفظ استعمال ہوا ہے، کہ میری قوم نے اس قرآن کریم کو بالکل مہجور اور متروک کردیا تھا۔ ظاہر ہے کہ یہ حرکت صرف کافر ہی کرسکتا ہے اس لیے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس سے کافر مراد ہے۔ لیکن بعض روایات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جو مسلمان قرآن پر ایمان تو رکھتے ہیں مگر نہ اس کی تلاوت کی پابندی کرتے ہیں اور نہ اس پر عمل کرنے کی، وہ بھی اس حکم میں داخل ہیں۔ حضرت انس ( رض) فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا من تعلم القرآن وعلق مصحفہ لم یتعاہدہ ولم ینظر فیہ جاء یوم القیمۃ متعلقا بہ یقول یارب العالمین ان عبدک ھذا اتخذنی مھجورا فاقض بینی و بینہ (قرطبی) ” جس شخص نے قرآن پڑھا مگر پھر اس کو بند کرکے گھر میں معلق کردیا اس کی تلاوت کی پابندی کی نہ اس کے احکام میں غور کیا، قیامت کے روز قرآن کریم اس کے گلے میں پڑا ہوا آئے گا اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شکایت کرے گا کہ آپ کے اس بندہ نے مجھے چھوڑ دیا تھا، اب آپ میرے اور اس کے معاملہ کا فیصلہ فرما دیں۔
Ayah 25:31وَکَذٰلِکَ جَعَلْنَا لِکُلِّ نَبِیٍّ عَدُوًّا مِّنَ الْمُجْرِمِیْنَ ط وَکَفٰی بِرَبِّکَ ھَادِیًا وَّ نَصِیْرًا۔
(الفرقان : 31)
(اسی طرح ہم نے جرائم پیشہ لوگوں میں سے ہر نبی کے دشمن بنائے اور آپ کا رب کافی ہے آپ کے لیے منزل مقصود تک پہنچانے والا اور مدد فرمانے والا۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
آنحضرت ﷺ کو کفار کے رویئے سے شکایت پر تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ قریش اور دیگر اہل مکہ کا آپ ﷺ کے ساتھ سلوک کوئی غیرمعمولی بات نہیں۔ ہم نے جس نبی اور رسول کو بھی اہل دنیا کی ہدایت کے لیے بھیجا ہے ان کی قوم میں سے بگڑے ہوئے اور سربرآوردہ لوگوں نے (جنھیں یہاں مجرمین کے لفظ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ ) اسی طرح اللہ تعالیٰ کے نبیوں اور رسولوں کی مخالفت کی ہے۔ انھوں نے انتہائی ہمدردی اور خیرخواہی سے انھیں سمجھانے کی کوشش کی اور خون کے گھونٹ پی پی کر انھیں راہ راست دکھانا چاہا، مگر ان لوگوں نے ان کی ہمدردی اور خیرخواہی کی قدر کرنے کی بجائے ہمیشہ ان کو اذیتیں پہنچائیں اور ان کا مذاق اڑایا۔ تو یہ لوگ اگر آپ کے ساتھ ایسا کررہے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں، یہ اس راہ کی لازمی سنتیں ہیں اور یہ اس سفر کے لازمی تقاضے ہیں جن سے بہرحال عہدہ برآ ہونا پڑتا ہے۔ اور یہ بھی فرمایا کہ یہ سب کچھ ہماری مشیت اور حکمت کے مطابق ہورہا ہے۔ ہم نے یہی چاہا ہے کہ حق و باطل میں یہ کشمکش برپا رہنی چاہیے تاکہ اہل حق اس بھٹی سے کندن بن کر نکلیں اور اہل باطل کو یہ شکایت نہ رہے کہ ہمیں کسی نے سمجھانے بجھانے کی کوشش نہیں کی۔ اہل حق کے اجروثواب میں مسلسل اضافہ ہوتا رہے اور اہل باطل اپنے برے رویئے سے اپنی فائل موٹی کرتے رہیں۔ چناچہ سنت اللہ کے مطابق ہر دور میں حق کے مقابلے میں یہی کچھ ہوتا رہا اور آئندہ بھی یہی کچھ ہوگا۔
زمانہ یونہی اپنے محسنوں کو تنگ کرتا ہے
یہ درس صلح دیتے ہیں وہ ان سے جنگ کرتا ہے
لیکن اس کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ ہم نے آپ ﷺ کو مخالفین کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے۔ ان کی مخالفتوں اور مزاحمتوں کے مقابلے میں آپ ﷺ کی داعیانہ کاوشیں صبر اور استقامت کے ساتھ مسلسل جاری رہنی چاہئیں۔ لیکن جہاں اسباب کی دنیا ٹوٹتی دکھائی دے گی اور ایسا معلوم ہوگا کہ قافلہ حق کسی بند گلی میں رک کر رہ گیا ہے تو آپ کا رب آپ کو منزل کا راستہ دکھائے گا۔ ان کی تدبیروں کے مقابلے میں آپ کو کامیاب تدبیریں سجھائے گا۔ ان کی سازشوں کے توڑ کے لیے محفوظ راستوں کی خبر دے گا، ان کی افرادی قوت کے مقابلے میں آپ کے دلوں کو مضبوطی سے باندھ دے گا ان کی تنظیم کو انتشار کا شکار بنا کر آپ کی صفوں میں استحکام پیدا کرے گا۔ اس کی تائید و نصرت قدم قدم پر آپ کے ہمرکاب ہوگی، ان کے وسائل کی فراوانی آپ کے وسائل کی قلت کے سامنے بےوزن ثابت ہوگی۔ غرضیکہ مدد و رہنمائی کا کوئی پہلو ایسا نہیں جس سے اللہ تعالیٰ آپ کو بہرہ ور نہیں فرمائے گا۔ بس آپ کا کام داعیانہ مساعی اور صبر و استقامت کے تقاضوں کو بروئے کار لانا ہے۔ البتہ ان کو سپھل کرنا اور مثمر بنانا یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے۔ اس وعدے کی موجودگی میں کون کہہ سکتا ہے کہ مخالفین کی مخالفت اور معاندت اہل حق کو شکست دے سکتی ہے۔