25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsروح القرآن

Ayah 25:32

وَ قَالَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْهِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَةً وَّاحِدَةً١ۛۚ كَذٰلِكَ١ۛۚ لِنُثَبِّتَ بِهٖ فُؤَادَكَ وَ رَتَّلْنٰهُ تَرْتِیْلًا Open ayah 25:32 in the Quran reader

اور ان کافروں نے کہا کہ محمد ﷺ پر پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتار دیا گیا، ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو مضبوط کردیں اور اسی لیے ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے (تدریج و اہتمام کے ساتھ نازل کیا ہے

وَقَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَوْلاَ نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَـۃً وَّاحِدَۃً ج کَذٰلِکَ ج لِنُـثَـبِّتَ بِہٖ فُؤَادَکَ وَرَتَّلْنٰـہُ تَرْتِیْلاً ۔ (الفرقان : 32) (اور ان کافروں نے کہا کہ محمد ﷺ پر پورا قرآن ایک ہی دفعہ کیوں نہ اتار دیا گیا، ہم نے ایسا ہی کیا تاکہ اس کے ذریعہ سے ہم آپ کے دل کو مضبوط کردیں اور اسی لیے ہم نے اس کو ٹھہر ٹھہر کر پڑھا ہے (تدریج و اہتمام کے ساتھ نازل کیا ہے) ۔ قرآن کریم کے بیک وقت نہ اترنے کی وجہ اس آیت کریمہ میں معترضین کا ایک اور اعتراض ذکر فرمایا گیا ہے اور یہ ان کا بڑا دلپسند اعتراض ہے جسے وہ بار بار لوگوں کو بدگمان کرنے کے لیے پیش کرتے رہتے تھے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر یہ کتاب خدا کی نازل کردہ ہے تو اللہ تعالیٰ کا علم تو اس قدر وسیع اور اس قدر منضبط ہے کہ اسے سوچنے اور اہتمام کرنے کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ کتاب کو مختلف اجزاء اور مختلف اقساط میں مرتب کرنا یہ انسانوں کی کمزوری ہے۔ کیونکہ کتاب کے تمام تر مندرجات ایک وقت میں مصنف کے ذہن میں نہیں ہوتے۔ وہ جیسے جیسے آگے بڑھتا ہے نئے نئے گوشے واشگاف ہوتے جاتے ہیں، اور یہ بات بھی اس کے احاطہ قدرت سے باہر ہے کہ وہ بیک وقت ایک کتاب کو وجود دے دے۔ وہ اپنی فطرت اور محدودیت کے باعث کتاب کا آغاز ایک لفظ سے کرتا ہے اور پھر یہ الفاظ ایک طویل وقت میں ایک کتاب کی صورت اختیار کرتے ہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ ایسی تمام کمزوریوں اور ایسی تمام قیود سے پاک ہے۔ بایں ہمہ قرآن کریم کا تھوڑا تھوڑا کرکے نازل ہونا یہ شبہ پیدا کرتا ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں بلکہ محمد ﷺ اسے لکھنے کی خود محنت کرتے ہیں۔ جتنا لکھ لیتے یا لکھوا لیتے ہیں اور مدد کرنے والے جتنی معلومات بہم پہنچا دیتے ہیں اسے بنا سنوار کے لوگوں کے سامنے پیش کردیتے ہیں۔ اس کے جواب میں پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کی جارہی ہے اور اس کو تھوڑا تھوڑا وقفے وقفے سے نازل کرنا یہ ہماری حکمت کا تقاضا ہے اس کا دھیرے دھیرے نزول اور ٹھہر ٹھہر کے اترنا کسی کمزوری کے باعث نہیں بلکہ انسانوں کی ہدایت کے تقاضے کے مطابق ہے۔ اس بات کو سمجھنے کے لیے مندرجہ ذیل نکات پر غور کرنا ضروری ہے۔ 1 اگر یہ کتاب محض کسی مقابلے میں پیش کرنے کے لیے تیار کی جاتی یا محض اس سے اظہارِ علم مقصود ہوتا تو یقینا اسے ایک ہی بار مکمل شکل میں نازل ہونا چاہیے تھا لیکن اس کا نزول انسانوں کی اصلاح کی غرض سے ہوا ہے۔ اور جو لوگ اس کے اولین ہدف اور سب سے پہلے حاملین ہیں سب جانتے ہیں کہ وہ امی محض ہیں۔ ان کی غالب اکثریت کسی کتاب کو پڑھ نہیں سکتی۔ اور جس عظیم پیغمبر کو ان کی طرف بھیجا گیا ہے وہ بھی امی ہیں۔ وہ انھیں پڑھ کے سنا نہیں سکتے۔ تو ایک مکمل کتاب ان کے لیے پریشانی کا باعث تو ہوسکتی تھی، ہدایت کا نہیں۔ 2 یہ کتاب چونکہ کتاب زندگی ہے جو انسانی زندگی کے ایک ایک باب کو زیربحث لاتی اور اس کی اصلاح کرتی ہے۔ اصلاح کا عمل ایک ترتیب اور تدریج چاہتا ہے۔ اس میں سب سے پہلے خیالات اور اعتقادات کی اصلاح ہوتی ہے۔ اور جب تک یہ اصلاح ایک خاص حد تک نہیں پہنچ جاتی اس پر احکام کی عمارت کا اٹھانا بےنتیجہ مشق کے سوا کچھ نہیں۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ لوگوں کے دل و دماغ میں صالح تبدیلی پیدا کیے بغیر ان پر احکام کا بوجھ لاد دیا جاتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا کہ عرب کے بدو جو کسی منضبط زندگی کے عادی نہ تھے، احکام کی پابندیوں کو دیکھ کر بھاگ کھڑے ہوتے اور اصلاح کا یہ عمل آغاز ہی میں رک کر رہ جاتا۔ 3 احکام میں اخلاق کے علاوہ معاشرت، معاملات، سیاست، حکومت، تعلیم اور باہمی روابط جیسے بیشمار ابواب ہیں جن میں ایک ایسی سوسائٹی جو تمدن کے معمولی تقاضوں سے واقف نہ ہو۔ اس میں عقائد کے ساتھ ساتھ اخلاق کی اصلاح کا عمل تو ممکن ہوسکتا ہے لیکن باقی تمام ابواب اس وقت تک نہیں کھولے جاسکتے جب تک ان میں جماعتی تشخص اور حیات ملی کا شعور پیدا نہیں ہوتا۔ اور یہ ایسے حالات میں کسی حد تک بھی ممکن نہیں ہوتا جہاں چھپ کر نمازیں پڑھنے پر مجبور ہونا پڑے اور جہاں کوئی بھی معاملہ اپنی مرضی سے کرنا ممکن دکھائی نہ دے۔ یہی وجہ ہے کہ مکی زندگی میں عقائد اور اخلاق کے علاوہ کم سے کم احکام نازل ہوئے۔ 4 ہجرت کا معنی سب کچھ چھوڑ کر ایک نئی دنیا تعمیر کرنا ہے۔ اس میں تعلقات کا نیا تصور، نیا سماج، نئی شیرازہ بندی اور تحفظ کے نئے احساسات کی ضروریات وجود میں آتی ہیں۔ اور سب سے پہلے انھیں کی فکر کرنا پڑتی ہے اور مزید یہ کہ جب تک کسی شہر پر مکمل کنٹرول نہیں ہوتا تو مخلوط معاشرے میں زندگی گزارنا پڑتی ہے۔ ان حالات میں ایک کتاب قانون مکمل شکل میں اور کتاب زندگی مکمل تفصیلات کے ساتھ ہاتھوں میں تھما دی جائیں تو تصور کیجیے کہ اس کے نتائج کیا ہوں گے۔ 5 ایک ایسا معاشرہ جو زندگی کے نئے ضوابط کے ساتھ اپنی تعمیر کررہا ہے اس پر اگر دنیا بھرکے دشمن حملہ آور ہوجائیں جو انھیں ختم کرنے کا تہیہ کیے ہوئے ہوں تو ایسی صورت میں زندگی کا وہ حصہ جو جنگی حکمت عملی سے تعلق رکھتا ہو وہی زندگی کا اصل ہدف بن جاتا ہے۔ اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کے آداب اسی کے گرد حرکت کرتے ہیں۔ اگر ایک ایسی کتاب جو زندگی کی تمام جہتوں سے متعلق احکام دیتی ہے اس کا اچانک بوجھ اگر ایسی ہنگامی صورت میں اجتماعی زندگی پر ڈال دیا جائے تو کبھی بھی اس کے نتائج وہ نہیں ہوسکتے جن کا حاصل کرنا مطلوب ہوتا ہے۔ نزولِ قرآن کے وقت کو سامنے رکھتے ہوئے اگر ان چند نکات پر غور کرلیا جائے تو یہ بات سمجھنا کوئی مشکل نہیں کہ قرآن کریم کو کیوں نجماً نجماً ایک تدریج کے ساتھ نازل کیا گیا۔ اس کی حکمتیں خود بخود سامنے آنے لگتی ہیں۔ لیکن اگر یہ باتیں سامنے نہ ہوں تو بظاہر یہ بات دل کو لگتی ہے کہ قرآن کریم کا نزول یکبارگی کیوں نہ کردیا گیا ؟ ہم نے جن نکات کا ذکر کیا ہے یہ صرف امت اسلامیہ کی خصوصیت نہیں بلکہ اس سے پہلے بھی جو امتیں گزری ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے کتابیں اتاری ہیں جنھیں ہم آسمانی صحائف کہتے ہیں ان میں سے کوئی صحیفہ بھی بیک دفعہ نازل نہیں ہوا۔ جن لوگوں نے یہ خیال کیا ہے اس کا خیال ان صحائف سے بیخبر ی پر مبنی ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر صرف تورات کے احکامِ عشرہ بیک دفعہ نازل ہوئے ہیں، باقی ساری کتاب مختلف اوقات میں ضرورت کے تحت نازل ہوتی رہی۔ ان میں بہت سے احکام ایسے ہیں جن کے متعلق قرآن اور تورات دونوں میں بہ تصریح موجود ہے کہ یہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی ہجرت سے پہلے نازل ہوئے ہیں۔ بہت سے احکام دریا کے عبور کے بعد یا صحرائے سینا کی زندگی کے دور میں نازل ہوئے ہیں۔ اسی طرح انجیل تمام تر سیدنا مسیح (علیہ السلام) کے مواعظِ حکمت پر مشتمل ہے جو مختلف مواقع پر حسب اقتضائے حالات آپ پر نازل ہوئے۔ یہی حال باقی صحائف کا بھی ہے۔ یہ تمام صحائف تھوڑا تھوڑا کرکے وقفے وقفے کے ساتھ نازل ہوئے کیونکہ ان کتابوں کے ذریعے ان رسولوں نے جن پر یہ کتابیں نازل ہوئی تھیں قوم کا علاج اور تزکیہ کرنا تھا۔ ان کے لیے ضروری تھا کہ ایک تدریج کے ساتھ اصلاح کے عمل کو آگے بڑھائیں۔ چناچہ یہی اللہ تعالیٰ کی سنت قرآن کریم کے بارے میں بھی روبہ عمل آئی ہے کہ اس کو بھی تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا گیا ہے۔ سرسری نظر سے بھی دیکھا جائے تو پیش نظر آیت کریمہ میں قرآن کریم کو تدریجاً نازل کرنے کی کئی حکمتیں بیان ہوئی ہیں جن کو ہم ایک ترتیب کے ساتھ عرض کردیتے ہیں۔ 1 اس طرح لوح قلب پر یہ اچھی طرح نقش ہوجاتا ہے۔ 2 ہر آیت کا مفہوم خوب ذہن نشین ہوجاتا ہے۔ 3 ضرورت کے موقع پر آیات کا نزول ہوگا تو دلالاتِ نفظیہ کے ساتھ جب قرائنِ حالیہ بھی مل جائیں گے تو آیات کا مفہوم اور مصداق زیادہ واضح ہوجائے گا۔ 4 ہر موقعہ پر جب وحی الٰہی اترے گی تو دل کو اطمینان رہے گا کہ جس خالق نے مجھے اس کار عظیم کو سرانجام دینے کے لیے مقرر فرمایا ہے اس کی نظر عنایت ہر وقت میرے شامل حال ہے۔ 5 کیونکہ یہ ایک دستورِ حیات ہے اس کو تدریجاً نافذ کرنا ہی مناسب ہے تاکہ اس کو اپنانے میں آسانی ہو۔ اگر کسی قوم کو اپنے تمام اطوار ورسوم کو یکبارگی ترک کرکے بالکل جدید دستورِ حیات اپنانے کا حکم دیا جائے تو اس کے لیے بڑا مشکل ہوجاتا ہے لیکن اگر آہستہ آہستہ احکام نازل ہوں تو اس طرح ان پر عمل کرنے میں بڑی آسانی ہوتی ہے۔
Ayah 25:33

وَ لَا یَاْتُوْنَكَ بِمَثَلٍ اِلَّا جِئْنٰكَ بِالْحَقِّ وَ اَحْسَنَ تَفْسِیْرًاؕ Open ayah 25:33 in the Quran reader

وہ آپ پر کوئی اعتراض پیش نہیں کریں گے مگر ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ آپ کو بتادیں گے

وَلاَ یَاْ تُوْنَـکَ بِمَثَلٍ اِلاَّ جِئْنٰـکَ بِالْحَقِّ وَاَحْسَنَ تَفْسِیْرًا۔ (الفرقان : 33) (وہ آپ پر کوئی اعتراض پیش نہیں کریں گے مگر ہم اس کا صحیح جواب اور اس کی بہترین توجیہ آپ کو بتادیں گے۔ ) قرآن کریم کے تدریجاً نزول کی ایک اور حکمت قرآن کریم کیوں تدریجاً نازل کیا گیا، اس کی ایک حکمت پیش نظر آیت کریمہ میں بھی بیان فرمائی گئی، وہ یہ ہے کہ جب بھی نبی کریم ﷺ ان کے سامنے قرآن کریم کی دعوت یا قرآن کریم کا کوئی حکم پیش کرتے ہیں تو وہ اپنی عادت کے مطابق اس پر عجیب و غریب سوالات اٹھاتے ہیں، الٹے سیدھے اعتراض کرتے ہیں اور نئی سے نئی باتیں نکالتے ہیں۔ ” مثل “ کا اطلاق ان تمام باتوں پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ وہ جو سوال بھی کریں ہم اس کا بہترین جواب آپ پر اتاریں۔ کوئی سوال اٹھائیں تو ہم اس کی توجیہ و تفسیر آپ پر نازل کردیں۔ اس طرح سے آپ کی دعوت کے راستے کے کانٹے سمٹ جائیں گے، علمی دشواریاں دور ہوتی جائیں گی اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ تبلیغ و دعوت کے راستے میں ایسے کندہ ناتراش لوگوں سے واسطہ پڑجاتا ہے جو ماحول کو پراگندہ کرتے اور حالات کو بےقابو کردیتے ہیں۔ ایسی حالت میں ایک داعی کو جہاں علمی کمک کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کی بھی حاجت ہوتی ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کریم جب اترتا ہے تو جہاں وہ سوالوں اور اعتراضات کا جواب لے کر آتا ہے، وہیں حوصلے کے اصل سرچشمے سے سیرابی اور وابستگی کا سامان لے کر بھی آتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جس کی ضرورت بار بار انبیائے کرام کو پیش آتی ہے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ انھیں دنیا کے لیے مینارہ نور بناتا ہے اس لیے ان کی رہنمائی اور ان کے طرزعمل میں کسی کمزوری کا شائبہ بھی باقی نہیں چھوڑتا تاکہ قیامت تک آنے والے لوگ ان سے استفادہ کرتے رہیں۔
Ayah 25:34

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰى وُجُوْهِهِمْ اِلٰى جَهَنَّمَ١ۙ اُولٰٓئِكَ شَرٌّ مَّكَانًا وَّ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:34 in the Quran reader

جو لوگ ہانکے جائیں گے اوندھے منہ جہنم کی طرف، ان کا بہت برا ٹھکانہ ہوگا اور وہ سب سے زیادہ گم کردہ راہ ہوں گے

اَلَّذِیْنَ یُحْشَرُوْنَ عَلٰی وُجُوْھِھِمْ اِلٰی جَھَنَّمَ لا اُوْلٰٓئِکَ شَرٌّمَّکَانًا وَّاَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 34) (جو لوگ ہانکے جائیں گے اوندھے منہ جہنم کی طرف، ان کا بہت برا ٹھکانہ ہوگا اور وہ سب سے زیادہ گم کردہ راہ ہوں گے۔ ) سابقہ آیت میں آنحضرت ﷺ کو اپنی تائید و نصرت سے نوازنے کا یقین دلایا اور اس طرح سے آپ ﷺ کو تسلی اور اطمینان کا سامان فراہم کیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان لوگوں کا انجام ذکر فرمایا جن کی سوچ الٹی، دماغ ٹیڑھا اور ارادے فاسد ہیں۔ وہ ہر وقت الٹے سیدھے اعتراضات سوچتے اور الجھائو ڈالنے کے لیے الجھے ہوئے سوالات کرتے ہیں۔ تو جس طرح ان کے دماغوں نے ہمیشہ الٹا سفر کیا، قیامت کے دن ان کو مونہوں کے بل گھسیٹ کر جہنم میں ڈالا جائے گا۔ وہ جس طرح دنیا میں اوندھے چلتے رہے، قیامت کے دن بھی اوندھے منہ چلائے جائیں گے اور یہ لوگ سب سے زیادہ برے ٹھکانے میں ہیں اور سب سے زیادہ راہ کھوئے ہوئے ہیں۔ تو ایسے گم کردہ راہ لوگوں کی اصل منزل اور ان کا اصل ٹھکانہ جہنم کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔
Ayah 25:35

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَ جَعَلْنَا مَعَهٗۤ اَخَاهُ هٰرُوْنَ وَزِیْرًاۚۖ Open ayah 25:35 in the Quran reader

اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا مددگار بنایا

وَلَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَجَعَلْنَا مَعَہٗٓ اَخَاہُ ھٰرُوْنَ وَزِیْرًا۔ (الفرقان : 35) (اور ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب عطا کی اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کو ان کا مددگار بنایا۔ ) قریش کو تنبیہ کے لیے تاریخِ انبیاء سے استدلال گزشتہ آیات میں قریش اور دیگر اہل مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کے حوالے سے جو مختلف قسم کے اعتراضات کرتے تھے ان کا جواب دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ ان کا انجام بھی بیان کیا گیا ہے جس سے وہ قیامت کے دن دوچار ہونے والے ہیں۔ اب پیش نظر آیات میں بعض جلیل القدر انبیائے کرام اور ان کی قوموں کی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے مزید سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ تمہیں اگر اپنے انجام کی فکر نہیں اور اس سے فکرمند ہو کر اپنے رویئے پر نظرثانی کرنے کو تیار نہیں ہو تو تم سے پہلے کئی قومیں گزر چکی ہیں اور ان کی طرف متعدد رسول مبعوث ہوچکے ہیں اور ان کے حالات اور ان کی تباہ شدہ بستیوں کے احوال سے تم کسی حد تک واقف ہو۔ تو کیا اس آئینہ میں تم اپنے انجام کو دیکھ نہیں سکتے، کہ جس طرح تمہاری طرف ایک رسول آیا اور تم اس کی تکذیب کررہے ہو، اسی طرح ان قوموں کی طرف بھی رسول آئے اور انھوں نے ان کی تکذیب کی۔ تو وہ اس جرم کی پاداش میں تباہ و برباد کردی گئیں۔ تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر وہی جرم تم کرو تو اللہ تعالیٰ کا عدل کیا تمہیں چھوڑ دے گا، اور تم اس کی گرفت سے اس لیے بچ جاؤ گے کہ تم بیت اللہ کے متولی اور اس کے جوار میں رہنے والے ہو۔ سب سے پہلے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر ان کی جلالتِ قدر اور شہرت کے باعث گزشتہ قوموں اور ان کی طرف مبعوث ہونے والے رسولوں کا تذکرہ کرتے ہوئے سب سے پہلے بنی اسرائیل کے سب سے زیادہ جلیل القدر صاحب کتاب و شریعت نبی اور رسول حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا تذکرہ کیا گیا ہے، کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب دی۔ اور ان کے ساتھ ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو مددگار بنایا۔ اس آیت میں سب سے پہلی بات جو قابل توجہ ہے، وہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو نبوت دی گئی اور ان کی درخواست پر حضرت ہارون (علیہ السلام) کو ان کا شریک کار بنایا گیا تو اس وقت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کوئی کتاب نازل نہیں کی گئی تھی۔ کیونکہ وہ کتاب جو تورات کے نام سے معروف ہے۔ وہ مصر سے خروج کے بعد وادی سینا میں آپ ( علیہ السلام) کو دی گئی جس کا آغاز ان احکامِ عشرہ سے ہوتا ہے جو طور سینا پر سنگین کتبوں کی شکل میں آپ ( علیہ السلام) کو دیئے گئے۔ اور یہاں جس کتاب کا ذکر ہورہا ہے اس کا تعلق تو اس وقت سے ہے جب آپ ( علیہ السلام) کو منصب نبوت پر سرفراز کیا گیا۔ تو سوال یہ ہے کہ اس کتاب سے مراد کیا ہے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے اور یہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ ہدایات ہیں جو نبوت کے منصب پر مامور ہونے کے وقت سے لے کر خروج تک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو دی جاتی رہیں۔ ان میں وہ خطبے بھی شامل ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون کے دربار میں دیئے اور وہ ہدایات بھی شامل ہیں جو فرعون اور اور آل فرعون کیخلاف جدوجہد کے دوران آپ ( علیہ السلام) کو دی جاتی رہیں۔ قرآن مجید نے جگہ جگہ ان کا ذکر فرمایا ہے۔ لیکن تورات میں ان چیزوں کا کہیں وجود نہیں۔ ہماری ناقص رائے میں ان ہدایات کی حیثیت وہی ہے جو آنحضرت ﷺ کی احادیث کی ہے۔ آپ ﷺ کی تئیس سالہ تبلیغی مساعی اور غلبہ دین کی کاوشوں کے سلسلے میں جو ہدایات دی جاتی رہی ہیں ان میں جو اصولی احکام ہیں وہ تو قرآن کریم کی شکل میں نازل ہوئے۔ لیکن جو تشریحی امور ہیں اور جن کا تعلق غلبہ دین کے راستے میں پیش آنے والی مشکلات سے ہے انھیں مضمون اور مفہوم کی شکل میں عموماً آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک پر نازل کیا گیا۔ اور آپ ﷺ نے ان کے مطابق ہدایات بھی دیں اور احکام کی وضاحت بھی فرمائی۔ اور جہاں کہیں ضرورت لاحق ہوئی عمل کی صورت آرائی بھی کی۔ یہی کیفیت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل کی جانی والی ہدایات کی ہے۔ رہی یہ بات کہ انھیں کتاب کا نام دیا گیا ہے تو اس میں تعجب کی کوئی بات نہیں۔ کیونکہ پیغمبر کی احادیث اور سنت، کتاب کی تشریح و تعبیر اور تفصیل و وضاحت پر مشتمل ہوتی ہے۔ اور کتاب اللہ کے اقوال کو عملی شکل دینے اور ادارتی سانچے میں ڈھالنے کی کاوش ہوتی ہے۔ اس لیے وہ کتاب سے ہٹ کر کوئی اجنبی چیز نہیں ہوتی۔ ثبوت کے اعتبار سے دونوں میں فرق ضرور ہے لیکن عمل کے اعتبار سے دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) کی رفاقت اہتمام دعوت کے حوالے سے دوسری بات جو قابل توجہ ہے وہ یہ ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اظہار وبیان کے حوالے سے اپنے طبعی اشکال کو محسوس کرتے ہوئے اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو رسالت دینے، آپ کا وزیر بنانے اور اس ذمہ داری کی ادائیگی میں معاون بنانے کی درخواست کی۔ اور یہ فرمایا کہ واخی ہارون ہوافصح منی لسانا ” میرے بھائی ہارون بیان و اظہار میں مجھ سے زیادہ فصیح ہیں۔ “ اور میں اپنے اندر جرأتِ اظہار میں کمی پاتا ہوں۔ تو انھیں میرے ساتھ لگا دیجیے تاکہ ہم دونوں مل کر اس کار عظیم کو انجام دے سکیں۔ کسی رسول کی دعا سے دوسرے شخص کو رسول بنا کر اس کا معاون و مددگار بنادینا تاریخِ رسالت میں اس کی اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ یہ ایک غیرمعمولی احسان ہے جو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر کیا ہے۔ اور قرآن کریم بار بار اس احسان کا ذکر کرتا ہے۔ چناچہ پیش نظر آیت میں بھی اس احسان کا ذکر اس حوالے سے کیا جارہا ہے کہ قریش کو اس بات کا احساس ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مصر کی اصلاح کے لیے کس قدر اہتمام سے کام لیا تھا، کہ ایک نہیں بیک وقت دو رسولوں کو ان کی طرف مبعوث کیا تاکہ اللہ تعالیٰ کے دین کے ابلاغ اور لوگوں کی تفہیم میں کوئی کمی نہ رہ جائے۔ اس طرح تبلیغ و دعوت کا حق بھی ادا ہوجائے گا اور اتمامِ حجت بھی ہوجائے گا۔ لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے اس احسان و اہتمام کی کوئی قدر نہ کی، تو پھر ان کا جو انجام ہوا تو تم اس سے واقف ہو اور اگلی آیت میں نہایت اختصار سے اس کا ذکر کیا جارہا ہے۔
Ayah 25:36

فَقُلْنَا اذْهَبَاۤ اِلَى الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَا١ؕ فَدَمَّرْنٰهُمْ تَدْمِیْرًاؕ Open ayah 25:36 in the Quran reader

پس ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں اس قوم کی طرف جائو جنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی، آخرکار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا

فَـقُـلْنَا اذْھَبَـآ اِلَی الْقَوْمِ الَّذِیْنَ کَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِـنَا ط فَدَمَّرْنٰـھُمْ تَدْمِیْرًا۔ (الفرقان : 36) (پس ہم نے ان سے کہا کہ تم دونوں اس قوم کی طرف جاؤ جنھوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی، آخرکار ان لوگوں کو ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا۔ ) یہاں نہایت اجمال کے ساتھ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور قوم فرعون کی سرگزشت کی طرف اشارہ مقصود ہے اس لیے صرف دو فقروں میں اس کو سمیٹ دیا گیا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ ہم نے حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون (علیہما السلام) کو حکم دیا کہ تم دونوں قوم فرعون کی طرف ان کی ہدایت کے لیے جاؤ اور انھیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف دعوت دو ۔ وہ جس کفر اور شرک کا شکار ہیں اس کی غلطی ان پر واضح کرنے کی کوشش کرو اور اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی بندگی اور اطاعت کو پوری طرح کھول کر ان کے سامنے بیان کرو تاکہ اگر وہ ہدایت قبول کرنا چاہیں تو کرسکیں۔ چناچہ یہ دونوں اللہ تعالیٰ کے عظیم رسول ان کے پاس گئے اور افہام و تفہیم کا پوری طرح حق ادا کیا۔ لیکن انھوں نے ان کی دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کی آیات کی تکذیب کی اور جھٹلایا۔ سوال یہ ہے کہ یہاں آیات سے مراد کیا ہے۔ اگر اس سے مراد تورات کی آیات لی جائیں تو یہ صحیح نہیں ہوگا کیونکہ ابھی تورات آپ ( علیہ السلام) پر نازل نہیں کی گئی۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ اس سے وہ معجزات مراد لیے جائیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرعون اور آل فرعون کے سامنے اپنی دعوت پیش کرتے ہوئے دکھائے۔ آپ ( علیہ السلام) نے اپنا عصا پھینکا تو وہ بہت بڑا اژدھا بن گیا۔ اپنے ہاتھ کو بغل میں دبا کر نکالا تو وہ سورج کی طرح چمکنے لگا۔ یہ دو معجزات آپ ( علیہ السلام) کی ماموریت کی دلیل تھے۔ کیونکہ معجزہ ایک ایسے عمل کو کہتے ہیں جس کا ظہور پیغمبر کے ہاتھ سے ہوتا ہے اور اس کی نظیر لانا کسی اور کے بس میں نہیں ہوتا، اور کوئی اس کا توڑ بھی نہیں کرسکتا۔ ایسے عمل کا ظہور اس بات کی دلیل ہوتا ہے کہ جس کے ہاتھ پر اس معجزے کا ظہور ہورہا ہے وہ یقینا اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بن کر آیا ہے۔ لیکن فرعون اور آل فرعون نے اسے سحر قرار دے کر مسترد کردیا۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد انسان کے گردوپیش میں پھیلی ہوئی مظاہرِفطرت اور مظاہرِ قدرت کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار نشانیاں ہوں جو اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی صفات پر دلالت کرتی ہیں۔ ہر عقل مند آدمی جب ان پر غور کرتا ہے تو اگر وہ تحفظاتِ ذہنی یا گروہی تعصبات کا شکار نہیں، تو کوئی وجہ نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی توحید تک نہ پہنچ سکے، لیکن ان لوگوں نے ایسی تمام نشانیوں کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی صفات پر دلیل ماننے سے انکار کردیا۔ تیسری صورت یہ ہوسکتی ہے اور یہ زیادہ قرین قیاس ہے کہ آیات سے مراد توحید اور آخرت کے دلائل اور یا وہ تشریعی احکام ہیں جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ان تک پہنچے۔ اور جن کی تبلیغ بعد میں ایک مدت تک بنی اسرائیل کے صلحاء کرتے رہے۔ ان لوگوں نے ایسی تمام آیات کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ اور ان میں سے ہر ایک کو سحر یا پرانے وقتوں کی باتیں کہہ کر مسترد کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے انھیں تباہ و برباد کردیا۔
Ayah 25:37

وَ قَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا كَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰهُمْ وَ جَعَلْنٰهُمْ لِلنَّاسِ اٰیَةً١ؕ وَ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًاۚۖ Open ayah 25:37 in the Quran reader

اور قوم نوح کو بھی جبکہ انھوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے ان کو غرق کردیا، اور ہم نے انھیں لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنادیا اور ہم نے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب بھی تیار کر رکھا ہے

وَقَوْمَ نُوْحٍ لَّمَّا کَذَّبُوا الرُّسُلَ اَغْرَقْنٰـہُمْ وَجَعَلْنٰـھُمْ لِلنَّاسِ اٰ یَۃً ط وَاَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الفرقان : 37) (اور قوم نوح کو بھی جبکہ انھوں نے رسولوں کی تکذیب کی ہم نے ان کو غرق کردیا، اور ہم نے انھیں لوگوں کے لیے ایک نشان عبرت بنادیا اور ہم نے ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ ) حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اولین رسول اور دیگر بعض خصوصیات کے باعث گزشتہ دو آیتوں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ذکر سب سے پہلے شاید اس لیے کیا گیا کہ اہل کتاب کی وجہ سے قریش حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رسالت سے آگاہ تھے۔ اور ان کی وجہ سے فرعون اور آل فرعون پر جو عذاب آیا اس کا تذکرہ اکثر وہ اہل کتاب سے سنتے رہتے تھے۔ اور اب قوم نوح کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اس کی وجہ شاید یہ ہے کہ طوفانِ نوح کے واقعات سینہ بہ سینہ نسلاً بعدِنسلٍ قریش تک پہنچ چکے تھے اور لوگ اس سے اچھی طرح واقف تھے اور پھر یہ بات بھی ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) ، حضرت آدم (علیہ السلام) کے بعد پہلے رسول بھی ہیں اور دنیا کی تباہی کے بعد آدم ثانی بھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے سامنے اللہ تعالیٰ کا دین پیش کیا، شرک کی مذمت کی، اللہ تعالیٰ کی توحید کی طرف بلایا اور پھر چند سالوں تک نہیں، ساڑھے نو سو سال تک آپ ( علیہ السلام) نے ان میں حق رسالت ادا کیا۔ اور اس قدر جان ماری اور لوگوں کی اذیتیں برداشت کیں کہ تاریخِ مذہب میں اس کی اور کوئی مثال نہیں ملتی۔ لیکن آپ ( علیہ السلام) کی قوم نے آپ ( علیہ السلام) کی بات سن کے بھی نہیں دی۔ بہت مختصر تعداد میں لوگ آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لائے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر طوفانِ بادوباراں مسلط کیا اور زمین کے سوتے کھول دیئے گئے۔ بجز ان لوگوں کے جو آپ ( علیہ السلام) پر ایمان لائے، کسی شخص کو زندہ نہیں چھوڑا گیا۔ اور یہ ایک ایسا ہولناک واقعہ تھا کہ طویل زمانہ گزر جانے کے باوجود بھی لوگوں کے ذہنوں سے کبھی فراموش نہ ہوا۔ ہر نسل نے دوسری نسل کو یہ داستان پہنچائی اور اس طرح سے اس تباہ ہونے والی قوم کو تمام دنیا کے انسانوں کے لیے عبرت بنادیا۔ تاکہ ہر دور کا انسان اس سے سبق حاصل کرے کہ جو لوگ رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں بالآخر ان کا حشر یہ ہوا کرتا ہے۔ آخر میں فرمایا کہ ایک پوری قوم کا طوفان میں ڈبو دیا جانا اور ہلاک کردینا ایک بہت بڑی سزا سہی، لیکن جو لوگ صدیوں تک اللہ تعالیٰ کے رسول کی نہایت ہمدردی و غمگساری پر مبنی تبلیغ و دعوت کے باوجود ایمان لانے سے انکار کرتے ہیں، ان کے لیے یہ سزا کافی نہیں۔ ویسے بھی اللہ تعالیٰ کی ذات کا انکار جبکہ وہ کائنات کا خالق ومالک ہے اور اس کے اختیارات میں کسی اور کو شریک کرنے کی جسارت اتنا بڑا جرم ہے جس کے لیے بڑی سے بڑی سزا بھی کوئی معنی نہیں رکھتی۔ اس لیے ہم نے ایسے ظالموں کے لیے آخرت میں دردناک عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ یہاں بھی وہ دنیا کے لیے نمونہ عبرت بنے رہے اور آخرت میں بھی ان کی سزا عذاب الیم ہوگی۔ ایک رسول کا انکار، سب کا انکار اس آیت میں ” الرسل “ کا لفظ قابل غور ہے۔ ” الرسل “ رسول کی جمع ہے حالانکہ قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی تکذیب کی اور آپ ( علیہ السلام) کو جھٹلایا تھا۔ آپ ( علیہ السلام) کی موجودگی میں کوئی دوسرا رسول مبعوث نہیں ہوا۔ لیکن الرسل کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس قوم نے بہت سے رسولوں کو جھٹلایا۔ ظاہر ہے یہ امرواقعی کے مطابق نہیں۔ اس کا ایک جواب بعض اہل علم نے یہ دیا کہ اس طریق تعبیر سے مقصود اس جرم کی سنگینی کی طرف توجہ دلانا ہے کہ جو لوگ کسی ایک رسول کی تکذیب کرتے ہیں وہ درحقیقت سب رسولوں کی تکذیب کرتے ہیں۔ کیونکہ تمام رسولوں کا پیغام ایک ہے، اور ان کا بھیجنے والا بھی ایک ہے۔ جو شخص ایک رسول کو ماننے سے انکار کرتا ہے وہ درحقیقت سلسلہ رسالت اور سرچشمہ رسالت کا انکار کرتا ہے۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا نام کہنے تو ایک پیغمبر کا نام ہے، لیکن ان کا انکار سلسلہ نبوت کا انکار ہے۔ مولانا روم کے اشارات اس معاملے میں ازبس لطیف واقع ہوئے ہیں۔ انھوں نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں فرمایا اور وہی بات حضرت نوح (علیہ السلام) کے بارے میں کہی جاسکتی ہے : نامِ احمد نام جملہ انبیاء است چونکہ صد آمد نود ہم پیش ما است بعض اہل علم نے اس کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ قوم نوح نے حضرت نوح (علیہ السلام) کا انکار اس بنیاد پر کیا تھا کہ تم ایک بشر ہو اور بشر کبھی رسول نہیں ہوسکتا۔ وہ بشر کو ایک فروتر مخلوق سمجھتے تھے اور رسالت کا منصب ان کے نزدیک کسی برتر مخلوق کا استحقاق ہے جبکہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک جتنے بھی نبی اور رسول آئے ہیں وہ سب بشر تھے۔ تو اگر بشریت اور نبوت میں منافات ہے اور اس کی وجہ سے حضرت نوح (علیہ السلام) کی نبوت کا انکار کیا جاسکتا ہے تو پھر باقی انبیاء کو ماننے کا کیا جواز رہ جاتا ہے۔ تو اس سے نتیجہ خودبخود یہ نکلتا ہے کہ انھوں نے ایک رسول کا انکار نہیں کیا بلکہ سب رسولوں کا انکار کردیا۔
Ayah 25:38

وَّ عَادًا وَّ ثَمُوْدَاۡ وَ اَصْحٰبَ الرَّسِّ وَ قُرُوْنًۢا بَیْنَ ذٰلِكَ كَثِیْرًا Open ayah 25:38 in the Quran reader

اور عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کی بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا

وَّعَادًا وَّثَمُوْدَاْ وَاَصْحٰبَ الرَّسِّ وَقُرُوْنًا م بَیْنَ ذٰلِکَ کَثِیْرًا۔ (الفرقان : 38) (اور عاد اور ثمود اور اصحاب الرس اور بیچ کی صدیوں کی بہت سی قوموں کو ہم نے ہلاک کردیا۔ ) یہاں فعل اَھَلَـکْنَا قرینے کی دلالت کے باعث محذوف ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جس طرح ہم نے قوم فرعون اور قوم نوح کو تباہ کیا صرف اس بنیاد پر کہ انھوں نے اپنے اپنے رسول کی تکذیب کی۔ اسی طرح ہم نے قوم عاد، قوم ثمود اور اصحابِ الرس اور ان کے درمیان کئی صدیوں میں گزرنے والی قوموں کو تباہ کردیا۔ ان کا جرم بھی صرف یہ تھا کہ جو رسول ان کی طرف مبعوث ہوئے انھوں نے ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا تھا۔ اور جب تک وہ اپنی تبلیغی مساعی میں مصروف رہے انھوں نے کبھی انھیں آرام سے جینے نہ دیا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے عذاب نے آکر ان کا کام تمام کردیا۔ اصحابُ الرس سے کیا مراد ہے ؟ اس آیت میں قوم عاد اور قوم ثمود تو تاریخ میں جانی پہچانی قومیں ہیں اور عرب ان سے اچھی طرح واقف تھے۔ البتہ اصحاب الرس کے بارے میں کوئی متعین بات کہنا بہت مشکل ہے۔ کیونکہ آج تک تحقیق نہ ہوسکا کہ یہ کون لوگ تھے۔ ابن جریر نے متعدد نام ذکر کیے ہیں، لیکن ان میں سے کسی پر ان کو خود بھی اطمینان نہیں۔ صاحب کشاف نے دوسرے ناموں کے ساتھ ساتھ قوم شعیب کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ لیکن یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی۔ کیونکہ سورة ق میں اصحاب الرس اور اصحاب الایکۃ دونوں نام الگ الگ اور مستقل قوموں کے لیے آئے ہیں اور اصحاب الایکۃ سے خود قرآن کریم کی تصریح کے مطابق اصحابِ مدین یعنی حضرت شعیب کی قوم کے لوگ مراد ہیں۔ اگر اصحاب الرس سے مراد قوم شعیب ہوتی تو پھر اس کے ساتھ اصحاب الایکۃ کے ذکر کا کیا محل تھا۔ بعض لوگوں نے یہ کہا ہے کہ یہ قوم ثمود کے کچھ بقایا تھے جو کسی کنویں کے پاس رہتے تھے، لیکن یہ محض ایک قول ہے جس کی کوئی دلیل نہیں۔ سید سلیمان ندوی (رح) نے ارض القرآن میں اس سے اسماعیلی قبائل کے بارہ سلسلوں میں سے قیدار کو مراد لیا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ اعتراف بھی کیا ہے کہ اس کے حالات بالکل مجہول ہیں۔ حالات کے مجہول ہونے سے قطع نظر بنی اسماعیل میں آنحضرت ﷺ کے سوا کسی رسول کی بعثت ثابت نہیں۔ اور یہاں اصحاب الرس کا ذکر جس سیاق میں آیا ہے اس سے یہ بات واضح ہے کہ ان کی طرف رسول کی بعثت ہوئی اور انھوں نے عادوثمود کی طرح اس کی تکذیب کی۔ اس وضاحت سے یہ بات ثابت ہوجاتی ہے کہ اصحاب الرس کے بارے میں کوئی چیز قابل اطمینان نہیں۔ زیادہ سے زیادہ جو بات کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ ایک ایسی قوم تھی جو کسی کنویں کے پاس آباد تھی۔ اور اس بدبخت قوم نے اپنی طرف مبعوث ہونے والے پیغمبر کو کنویں میں پھینک کر یا لٹکا کر مارا تھا۔ عربی زبان میں پرانے کنویں، کچے کنویں یا اندھے کنویں کو ” رس “ کہتے ہیں۔
Ayah 25:39

وَ كُلًّا ضَرَبْنَا لَهُ الْاَمْثَالَ١٘ وَ كُلًّا تَبَّرْنَا تَتْبِیْرًا Open ayah 25:39 in the Quran reader

ہم نے ان میں سے ہر ایک کو مثالیں دے دے کر سمجھایا اور بالآخر ہر ایک کو نیست و نابود کردیا

وَکُلاًّ ضَرَبْنَالَـہُ الْاَمْثَالَ ز وَکُلاًّ تَبـَّرْنَا تَتْبِیْرًا۔ (الفرقان : 39) (ہم نے ان میں سے ہر ایک کو مثالیں دے دے کر سمجھایا اور بالآخر ہر ایک کو نیست و نابود کردیا۔ ) ضربِ مثل کا مفہوم ضرب مثل کا معنی ہوتا ہے کسی بات کو تمام ممکن ذرائع اور لوازم کے ساتھ واضح کردینا۔ جس میں مثالیں بھی شامل ہیں، تذکیر و تنبیہ بھی، اور ہر بات کی پوری تفصیل بھی۔ پیش نظر صرف یہ ہوتا ہے کہ بات کو اتنا کھول دیا جائے اور اس کے عواقب و نتائج کو اتنا واضح کردیا جائے کہ سننے والے کو سمجھنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے۔ کیونکہ حقائق کو سپاٹ انداز میں بیان کردینے سے بات کہنے کا حق تو ادا ہوجاتا ہے لیکن تفہیم و تشریح کا حق ادا نہیں ہوتا۔ اس کے لیے اگر حقائق کو مصور و ممثل کردینے کی ضرورت پڑے اور تاریخ کے احوال و واقعات کا سہارا لینا پڑے تو یہ عین مطلوب ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول چونکہ لوگوں پر حجت تمام کرنے کے لیے آتے ہیں، اس لیے وہ صرف اصول و ضوابط بیان کردینے پر ہی اکتفا نہیں کرتے بلکہ تمثیلات اور تاریخ کے امثال و واقعات سے بات کو اس طرح واضح کردیتے ہیں کہ ایک ہٹ دھرم آدمی کے سوا کوئی اس کا انکار نہیں کرسکتا۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جن قوموں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا انھیں یہ شکایت کبھی نہیں رہی کہ ان کی طرف بھیجے جانے والے رسول نے تبلیغ و دعوت میں کوئی کمی کی یا افہام و تفہیم میں کوئی کمزوری رہ گئی ہے۔ ان کے انکار کا سبب ان کی ہٹ دھرمی، تکبر و غرور یا عالم غیب کے حقائق کو آنکھوں سے دیکھ کر ماننے پر اصرار تھا۔ اور جب کوئی قوم اس سطح پر اتر جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کی سنت کے مطابق قہرالٰہی اس پر برستا ہے اور وہ تباہ کردی جاتی ہے۔
Ayah 25:40

وَ لَقَدْ اَتَوْا عَلَى الْقَرْیَةِ الَّتِیْۤ اُمْطِرَتْ مَطَرَ السَّوْءِ١ؕ اَفَلَمْ یَكُوْنُوْا یَرَوْنَهَا١ۚ بَلْ كَانُوْا لَا یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا Open ayah 25:40 in the Quran reader

اور یہ لوگ تو اس بستی پر سے گزر چکے ہیں جس پر بدترین بارش برسائی گئی، کیا یہ اس کو دیکھتے نہیں رہے ہیں بلکہ یہ لوگ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے

وَلَقَدْ اَ تَوْا عَلَی الْقَرْیَۃِ الَّتِیْٓ اُمْطِرَتْ مَطَرَالسَّوْئٍ ط اَفَلَمْ یَکُوْنُوْا یَرَوْنَھَا ج بَلْ کَانُوْا لاَ یَرْجُوْنَ نُشُوْرًا۔ (الفرقان : 40) (اور یہ لوگ تو اس بستی پر سے گزر چکے ہیں جس پر بدترین بارش برسائی گئی، کیا یہ اس کو دیکھتے نہیں رہے ہیں بلکہ یہ لوگ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔ ) قومِ لوط کی بستی سے استشہاد اس آیت کریمہ میں معذب قوموں کی تاریخ کے سلسلے میں قوم لوط کی بستی کی طرف اشارہ کیا گیا، اور ایک مشاہداتی دلیل قائم کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ بستی ان کے لیے اجنبی نہیں، اپنے تجارتی اسفار میں یہ بارہا اس بستی کے کھنڈرات سے گزرتے ہیں۔ ملک شام یا فلسطین کو جاتے ہوئے یہ ان کی گزرگاہ ہے چونکہ اس بستی کی تباہی غیرمعمولی نوعیت کی ہے اور آس پاس کے رہنے والے بھی قوم لوط کی عبرتناک داستانیں پوچھنے والوں کو سناتے رہتے ہیں۔ اس لیے اس بستی سے متعلق کوئی بات قریش سے مخفی نہیں۔ اور جو عظیم تباہی اس بستی پر آئی، اس سے بھی عرب کا بچہ بچہ واقف ہے۔ اس قوم کی تباہی صرف زلزلے یا کسی طوفانِ بادوباراں سے نہیں ہوئی بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ تباہی اور ہلاکت کی بیشتر قوتوں نے ان پر حملہ کردیا۔ دھرتی الٹ ڈالی گئی، پھر پتھروں کی بارش کی گئی۔ آج ڈیڈ سی کے قرب و جوار میں ان کے کھنڈرات بکھرے ہوئے ہیں۔ قریش سے کہا جارہا ہے کہ اولاً تو قوم عاد وثمود کی بستیاں بھی تمہاری آگاہی سے دور نہیں۔ لیکن قوم لوط کی بستیاں تو بالکل تمہارے راستے میں ہیں۔ تو کیا اس کی تباہی کو دیکھ کر بھی تمہیں خیال نہیں ہوتا کہ کہیں تم بھی اس انجام سے دوچار نہ کردیئے جاؤ۔ کیونکہ جس جرم میں وہ پکڑے گئے تھے اسی جرم کا ارتکاب تم بھی شب و روز کررہے ہو۔ آیت کے آخر میں قریش کا ان تمام آثار و مشاہدات سے متأثر نہ ہونے کا سبب بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ ان بستیوں سے گزرنے کے باوجود بھی متأثر اس لیے نہیں ہوتے کہ یہ لوگ قیامت کے آنے، ازسرنو زندہ ہونے اور اللہ تعالیٰ کی عدالت میں جوابدہی کا یقین نہیں رکھتے۔ کسی کام کے نتائج اور کسی عمل کے اثرات کی پرواہ اس شخص کو ہوتی ہے جسے اپنے اعمال اور اپنے کاموں کے بارے میں کہیں جوابدہی کا اندیشہ ہو۔ وہ ہر کام کرنے سے پہلے سو دفعہ سوچتا ہے کہ جب مجھے اس کام سے متعلق پوچھا جائے گا تو اگر میں نے اسے صحیح انجام نہیں دیا تو میں کیسے جوابدہی کرسکوں گا۔ لیکن اگر اسے اس بات پر یقین ہو کہ مجھے کہیں جوابدہی کے لیے کھڑا نہیں کیا جائے گا، کوئی عدالت مجھے طلب نہیں کرسکتی، میری زندگی کا چراغ گل ہوجانے کے بعد دوبارہ کبھی نہیں جلے گا، میں مر نے کے بعد فنا ہوجاؤں گا۔ تو اسے اس بات کی فکر کیسے ہوسکتی ہے کہ میں کیا کررہا ہوں۔ فرمایا گیا ہے کہ قریش کا اصل مسئلہ صرف یہ ہے وہ دوبارہ جی اٹھنے پر یقین نہیں رکھتے۔ تو اس لیے جو جی میں آتا ہے کررہے ہیں۔
Ayahs 25:41–42

وَ اِذَا رَاَوْكَ اِنْ یَّتَّخِذُوْنَكَ اِلَّا هُزُوًا١ؕ اَهٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰهُ رَسُوْلًا Open ayah 25:41 in the Quran reader

اور یہ لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق بنا لیتے ہیں، (کہتے ہیں) کیا یہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے

اِنْ كَادَ لَیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِهَتِنَا لَوْ لَاۤ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْهَا١ؕ وَ سَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلًا Open ayah 25:42 in the Quran reader

اس شخص نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا، اگر ہم ان پر جم نہ گئے ہوتے، اور وہ وقت دور نہیں جب یہ عذاب دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ سب سے زیادہ گمراہ کون ہے

وَاِذَارَاَوْکَ اِنْ یَّـتَّـخِذُوْنَـکَ اِلاَّ ھُزُوًا ط اَھٰذَا الَّذِیْ بَعَثَ اللّٰہُ رَسُوْلاً ۔ اِنْ کَادَ لَـیُضِلُّنَا عَنْ اٰلِھَتِنَا لَوْلَآ اَنْ صَبَرْنَا عَلَیْھَا ط وَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ حِیْنَ یَرَوْنَ الْعَذَابَ مَنْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 41، 42) (اور یہ لوگ جب آپ کو دیکھتے ہیں تو آپ کو مذاق بنا لیتے ہیں، (کہتے ہیں) کیا یہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ اس شخص نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا، اگر ہم ان پر جم نہ گئے ہوتے، اور وہ وقت دور نہیں جب یہ عذاب دیکھیں گے تو جان لیں گے کہ سب سے زیادہ گمراہ کون ہے۔ ) جب کوئی قوم اپنی گمراہی میں تباہی کے قریب پہنچ جاتی ہے تو اللہ تعالیٰ اس قوم پر احسان فرماتے ہوئے ان میں اپنا رسول مبعوث کرتا ہے تاکہ وہ لوگوں کو تباہی سے بچا کر راستی اور کامرانی کے راستے پر ڈال دے۔ قریش کی بدنصیبی اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی بعثت کے ساتھ بلاواسطہ اہل مکہ پر یہ احسان فرمایا کہ ان کو تباہی سے بچنے کا ایک راستہ دیا کہ اگر تم ہمارے رسول پر ایمان لے آئو اور قرآن کریم کی تعلیمات کو قبول کرو تو تم جس تباہی کے دہانے پر پہنچ گئے ہو، اس سے بچ کر دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل کرسکتے ہو، لیکن ان بدبختوں کا حاصل یہ ہے کہ بجائے اللہ تعالیٰ کے احسان کو جاننے اور اس کے حق کو ادا کرنے کے جب بھی آنحضرت کو دیکھتے ہیں تو ازراہِ طنز و تحقیر یہ کہتے ہیں کہ اچھا یہی ہیں وہ صاحب جنھیں اللہ تعالیٰ نے رسول بنا کر بھیجا ہے۔ یعنی یہ غریب آدمی ہیں، کوئی ٹھاٹ باٹھ اور کروفر نہیں رکھتے، کسی باغ کے مالک نہیں، کوئی خزانہ ان کی تحویل میں نہیں، کسی قبیلے کے سردار نہیں۔ ثروت و رفاہیت کی کسی بات کا ان پر دور دور تک اثر نہیں۔ تو آخر کس بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنا رسول بنادیا ہے۔ اس طرح مذاق اڑاتے ہوئے آپ کو لوگوں کی نگاہ میں ہلکا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتے ہیں کہ ان حضرت نے تو ہمیں ہمارے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم تعصب اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر اپنے خدائوں کی بندگی پر جم نہ گئے ہوتے۔ اندازہ کیجیے کہ دونوں باتوں میں کس قدر تضاد ہے۔ ایک طرف تو آنحضرت ﷺ کی حیثیتِ عرفی کو قبول کرنے سے بھی انکار ہے۔ آپ ﷺ کی خاندانی عظمتیں، آپ ﷺ کے کردار کی بلندی، نبوت سے پہلے آپ ﷺ کی نیک نامی اور ہر دلعزیزی، ہر چیز کو مسترد کرتے ہوئے آپ ﷺ کو نشانہ استہزاء بنایا جارہا ہے۔ اور دوسری طرف آپ ﷺ کی قوت استدلال، آپ ﷺ کے پیغام کی تسخیر، آپ ﷺ کی شخصیت کا سحر اور آپ ﷺ کے کردار کے اثرورسوخ کو بھی تسلیم کیا جارہا ہے کہ اگر ہم نے اپنے تعصب اور ہٹ دھرمی کا سہارا نہ لیا ہوتا اور ہمارے آبائی اور ذہنی تحفظات نے ہمارے قدم نہ پکڑ لیے ہوتے اور قومی شیرازہ بکھر جانے کے نام نہاد خطرات کا اندیشہ دامن گیر نہ ہوا ہوتا تو اس شخص کے دلائل کے سامنے تو ہم بالکل سپرانداز ہوچکے ہوتے۔ اس تضاد کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوجاتا ہے کہ وہ لوگ کس ذہنی مخمصے اور احساسِ کمتری کا شکار ہیں کہ ایک طرف بڑائی کے دعویدار ہیں اور دوسری طرف اندر سے بری طرح بوکھلائے ہوئے ہیں۔ پیغمبر کی حقانیت کی اس سے بڑی دلیل اور کیا ہوسکتی ہے کہ بدترین مخالف بھی زبانوں سے شعلے اگلیں، لیکن ان کے اندر کی دنیا ڈگمگاتی دکھائی دے۔
Ayahs 25:43–44

اَرَءَیْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰهَهٗ هَوٰىهُ١ؕ اَفَاَنْتَ تَكُوْنُ عَلَیْهِ وَكِیْلًاۙ Open ayah 25:43 in the Quran reader

کیا آپ نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے، کیا آپ ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہیں ؟

اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَكْثَرَهُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْ یَعْقِلُوْنَ١ؕ اِنْ هُمْ اِلَّا كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ سَبِیْلًا۠ Open ayah 25:44 in the Quran reader

کیا آپ گمان رکھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں، یہ تو بس چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے

اَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـھَہٗ ھَوٰ ہُ ط اَفَاَنْتَ تَـکُوْنُ عَلَیْہِ وَکِیْلاً ۔ اَمْ تَحْسَبُ اَنَّ اَکْثَرَھُمْ یَسْمَعُوْنَ اَوْیَعْقِلُوْنَ ط اِنْ ھُمْ اِلاَّ کَالْاَنْعَامِ بَلْ ھُمْ اَضَلُّ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 43، 44) (کیا آپ نے اس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا لیا ہے، کیا آپ ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہیں ؟ کیا آپ گمان رکھتے ہیں کہ ان میں سے اکثر سنتے یا سمجھتے ہیں، یہ تو بس چوپایوں کے مانند ہیں بلکہ ان سے بھی گئے گزرے۔ ) قریش کی گمراہی کا ایک بہت بڑا سبب اتباعِ ہَوائے نفس ہے گزشتہ آیت کریمہ میں قریش کا آنحضرت ﷺ پر ایمان نہ لانے بلکہ آپ ﷺ کی ذات کو نشانہ استہزاء بنا لینے کا سبب یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ لوگ دوبارہ جی اٹھنے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کا یقین نہیں رکھتے، اس لیے ان کی زندگی سراسر غیرسنجیدہ اور کھیل کود کا تماشا بن کر رہ گئی ہے اور جو ذات عزیز ہر طرح کا دکھ اٹھا کر محض ان کی خیرخواہی کے لیے انھیں زندگی کے حقائق اور آخرت کی فکر سے بہرہ ور کرنا چاہتی ہے یہ اسے کوئی اہمیت دینے کی بجائے مذاق کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں ان کی ایک دوسری خرابی کا ذکر کیا جارہا ہے کہ جس طرح ان کی زندگی کے تصورات کو آخرت سے لاتعلقی نے بگاڑا، اسی طرح ان کی زندگی کے تمام معاملات اس لیے بگاڑ کا شکار ہوئے ہیں کہ وہ خواہشِ نفس کو اپنا معبود بنا چکے ہیں۔ معبود بنا لینے سے مراد یہ ہے کہ جس طرح خدا کی پوجا کی جاتی اور معبود کے سامنے سر جھکایا جاتا اور اطاعت کی جاتی ہے، اسی طرح یہ ہر معاملے میں اپنی خواہشِ نفس کی اطاعت کرتے ہیں۔ مذہب کیا کہتا ہے، یہ تو بہت دور کی بات ہے۔ عقل جو ان کے اپنے سروں میں بھی ہے، یہ اس کی بات سننے کے بھی روادار نہیں۔ ان کی عقل ان کی خواہشِ نفس کی تابع ہوچکی ہے۔ اپنی زندگی پر عقل کو حکمران بنانے کی بجائے وہ یہ سمجھتے ہیں کہ عقل کا کام خواہشِ نفس کی بجاآوری کے لیے آسانیاں پیدا کرنا، اس کے لیے راستے کھولنا اور مشکلات کو دور کرنا ہے۔ گویا حقیقی مطاع، حقیقی محبوب اور حقیقی متبوع خواہشِ نفس ہے، عقل نہیں۔ عقل تو اس کی ایجنٹ ہے اور اس کے اشاروں پر چلتی ہے اور اس کے لیے راستہ صاف کرتی ہے۔ تو جو شخص یا جو قوم اپنی عقل کا چراغ گل کردے اور نفس کی خواہشات کی پرستار بن جائے، اس کو حق کا راستہ دکھانا اور صحیح راستے کی طرف رہنمائی کرنا کسی کے بس کی بات نہیں۔ اسے اس بات سے کوئی غرض نہیں رہتی کہ کیا حق ہے، کیا باطل، کیا خیر ہے کیا شر۔ یہ اس کے نزدیک سراسر جذباتی باتیں ہیں۔ کیا ہونا چاہیے اور کیا نہیں ہونا چاہیے، یہ کمزور لوگوں کی سوچ ہے۔ اس کے نزدیک ہر وہ چیز ہونی چاہیے جو نفس کا تقاضا ہو۔ ایسی سوچ رکھنے والا شخص اور ایسے راستے پر چلنی والی قوم شیطان کے پھندے میں تو گرفتار ہوسکتی ہے، حق کے راستے کی مسافر نہیں بن سکتی۔ آنحضرت ﷺ سے کہا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ایسے لوگوں کو راہ راست پر لانے کی ذمہ داری کیسے قبول کرسکتے ہیں، آپ ﷺ شب و روز اس فکر میں ہیں کہ میں انھیں اپنی بات سنائوں اور سمجھائوں۔ اسلام دین فطرت ہے، شاید میری باتیں ان کی فطرت کو زندہ کردیں، آپ ﷺ کا یہ خیال صحیح نہیں۔ لوگوں کے ساتھ آپ کی ہمدردی اپنی جگہ، ان کی ہدایت کے لیے بےچین ہوجانا، سب بجا، لیکن جن لوگوں کی عقلیں مائوف ہوچکی ہیں اور وہ خواہشاتِ نفس کی پیروی میں سننے اور سمجھنے کی تمام صلاحیتیں ضائع کرچکے ہیں، آپ انھیں نہ سنا سکتے ہیں اور نہ سمجھا سکتے ہیں کیونکہ وہ انسانیت کی سطح سے گر کر حیوانیت کی سطح پر اتر گئے ہیں۔ انسان اگر حق کے راستے سے منحرف بھی ہوجائے لیکن عقل و خرد سے دستبردار نہ ہو۔ یعنی وہ عقل کو بہرحال زندگی کا حقیقی رہنما مانتا ہو۔ تو یہ کہا جائے گا کہ وہ انسان کی سطح سے نہیں گرا۔ اس کے بارے میں امید کی جاسکتی ہے کہ شاید اسے سمجھا بجھا کر حق کی طرف لایا جاسکے۔ لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے جو ہر عقل سے منہ موڑ کر صرف خواہش کے پیچھے چلتا ہے وہ انسان نہیں بلکہ حیوان ہے۔ جس طرح بھیڑ بکریوں کو بالکل معلوم نہیں ہوتا کہ ان کا ہانکنے والا انھیں چرا گاہ کی طرف لے جارہا ہے یا بوچڑخانے کی طرف۔ وہ بس آنکھیں بند کرکے ہانکنے والے کے اشارے پر چلتی رہتی ہیں۔ اسی طرح جو شخص عقل سے منہ موڑ کر خواہشِ نفس کی پیروی کرتا ہے اور یا اپنے گمراہ کن لیڈروں کے اشاروں کی طرف چلتا رہتا ہے تو وہ انسان نہیں بلکہ انسان نما حیوان ہے جسے بھیڑ بکری کہنا بھی شاید بھیڑ بکری کے ساتھ زیادتی ہو۔ کیونکہ بھیڑ بکریوں کو خدا نے عقل و شعور سے نہیں نوازا، وہ اگر چرواہے یا قصائی میں امتیاز نہیں کرتیں تو کچھ عیب نہیں، لیکن حیف ہے ان انسانوں پر جو خدا سے عقل و شعور کی نعمتیں پا کر بھی اپنے آپ کو بھیڑ بکریوں کی سی غفلت و بےشعوری میں مبتلا کرلیں۔ چوپائے اور جانورہر حال اور ہر شکل میں اپنی جبلت پر قائم رہتے ہیں۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے ان کو پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی خواہشات کی پیروی میں سر مو اپنی جبلت سے انحراف نہیں اختیار کرتے۔ لیکن انسان جب اپنی خواہشوں کا غلام بن جاتا ہے تو وہ جبلت اور فطرت کے تمام حدود توڑ کر چوپایوں سے بھی بدتر بن جاتا ہے۔
Ayahs 25:45–46

اَلَمْ تَرَ اِلٰى رَبِّكَ كَیْفَ مَدَّ الظِّلَّ١ۚ وَ لَوْ شَآءَ لَجَعَلَهٗ سَاكِنًا١ۚ ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْهِ دَلِیْلًاۙ Open ayah 25:45 in the Quran reader

اے مخاطب ! کیا تو نے اپنے رب کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سایہ کو پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنا دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا

ثُمَّ قَبَضْنٰهُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا Open ayah 25:46 in the Quran reader

پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں

اَلَمْ تَرَ اِلٰی رَبِّکَ کَیْفَ مَدَّالظِّلَّ ج وَلَوْشَآئَ لَجَعَلَـہٗ سَاکِـنًا ج ثُمَّ جَعَلْنَا الشَّمْسَ عَلَیْہِ دَلِیْلاً ۔ ثُمَّ قَبَضْنٰـہُ اِلَیْنَا قَبْضًا یَّسِیْرًا۔ (الفرقان : 45، 64) (اے مخاطب ! کیا تو نے اپنے رب کی قدرت کو نہیں دیکھا کہ وہ کس طرح سایہ کو پھیلا دیتا ہے اور اگر وہ چاہتا تو اسے ٹھہرا ہوا بنا دیتا، پھر ہم نے سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ پھر ہم اس کو آہستہ آہستہ اپنی طرف سمیٹ لیتے ہیں۔ ) سابقہ آیات میں تاریخ کے شواہد کی روشنی میں مخالفین کو تنبیہ کی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو یہ اطمینان دلایا گیا ہے کہ آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ کے جواب میں مخالفت اور معاندت کا جو طوفان اٹھا ہے یہ کوئی پہلا موقع نہیں۔ آپ سے پہلے آنے والے رسولوں کے ساتھ بھی ان کے مخالفین نے یہی رویہ اختیار کیا۔ لیکن آہستہ آہستہ حق غالب آیا اور باطل مغلوب ہوگیا۔ آپ کی دعوت بھی انشاء اللہ تعالیٰ غالب ہو کے رہے گی اور سابقہ امتوں کو تکذیبِ رسل کے نتیجے میں جس طرح عذاب کا شکار ہونا پڑا آنحضرت ﷺ کے مخالفین کو اس سے تنبیہ کی گئی ہے کہ اگر تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو تمہارا انجام بھی سابقہ امتوں سے مختلف نہیں ہوگا۔ رات اور دن کا آنا اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے پیشِ نظر آیات کریمہ میں بعض آفاقی اور کائناتی نشانیوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جن سے نبی کریم ﷺ کی ان تمام باتوں کی تصدیق ہوتی ہے جو آپ اپنی قوم کے سامنے پیش کررہے تھے۔ دلائلِ آفاق میں سے سب سے پہلی دلیل جو پیش کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ کائنات کے وسیع اطراف و جوانب اور اس کی پہنائیوں میں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی جو بیشمار نشانیاں ہیں ان میں سے اگرچہ ایک ایک نشانی اللہ تعالیٰ کے وجود اور اس کی بےپایاں قدرت پر دلالت کرتی ہے، لیکن انھیں سمجھنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک ایسی نشانی جس سے ہر شخص کو واسطہ پڑتا ہے اور وہ انسانی زندگی کی پیش پا افتادہ حقیقت ہے۔ سب سے پہلے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا اور اس میں خطاب ایک ایسے لفظ سے کیا گیا ہے جس سے فرداً فرداً ہر مخاطب مراد ہے۔ یعنی ایک ایک شخص کو توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سائے کو کیسے پھیلا دیا ہے۔ ظِل عربی زبان میں اس سایہ کو کہتے ہیں جو صبح کے وقت سورج نکلنے سے پہلے ہوتا ہے یعنی رات بھر کا سایہ۔ اور وہ سایہ جو دوپہر کے بعد ہوتا ہے جو سورج کے ڈھلنے سے وجود میں آتا ہے اسے فَیٔ کہتے ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ رات بھر جو تم پر سایہ طاری رہتا ہے کبھی تم نے اس کی افادیت اور اپنی زندگی کے لیے اس کی اہمیت پر غور کیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس سائے کو مستقل تم پر مسلط رکھتا تو نتیجہ یہ ہوتا کہ انسانی زندگی ناممکن ہوجاتی۔ حیوانی اور نباتاتی زندگی کے امکانات بھی ختم ہوجاتے۔ کیونکہ سورج ایک ایسا انجن ہے جس سے کائنات کا نظام چلتا اور ہمارے چولہے جلتے ہیں۔ سائے کے مسلط ہونے کے نتیجے میں چونکہ سورج طلوع ہونے میں نہ آتا تو زندگی کی رات دراز ہوجاتی۔ اور اگر اس سائے کو ہٹا کر سورج کی روشنی کو مسلط کردیا جاتا تو تب بھی ہر طرح کی زندگی ناممکن ہوجاتی۔ گرمیوں کا طویل دن پانی کو بھاپ بنا کے اڑا دیتا، سمندر صحرا میں تبدیل ہوجاتے۔ سورج کا مسلسل سامنا ہر چیز کو جلا کر خاکستر کردیتا۔ نہ انسانی زندگی باقی رہتی اور نہ حیوانی اور نباناتی زندگی اپنا وجود باقی رکھ سکتی۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے سائے کو دراز ضرور کیا ہے لیکن اس کو ساکن اور مستقل مسلط نہیں کیا۔ پھر اپنی قدرت اور حکمت کے مطابق سورج کو اس پر دلیل بنایا۔ جس طرح دلیل کسی چیز کو کھولتی اور واضح کرتی ہے اسی طرح سورج شب کی عالمگیر تاریکی کے اندر دلیل راہ بنتا اور اس کو ہٹاتا اور کھولتا ہے۔ ملاحوں کی اصطلاح میں دلیل اس شخص کو کہتے ہیں جو کشتیوں کو راستہ بتاتا ہوا چلے۔ سورج بھی دھیرے دھیرے اور آہستہ آہستہ طلوع ہوتا اور پھر اوپر اٹھتا چلا جاتا ہے۔ جیسے جیسے وہ آگے بڑھتا ہے روشنی اس کی رکاب میں آگے بڑھتی ہے اور سایہ سمٹتا جاتا ہے۔ ایسا نہیں ہوتا کہ یک لخت سایہ اٹھا لیا جائے اور سورج کی گرمی برسنے لگے۔ اگر ایسا ہوتا تو اچانک گرمی ہر چیز کو بھسم کر کے رکھ دیتی اور ایسا بھی نہیں ہوتا کہ اچانک گرمی سمٹ جائے اور ٹھنڈک برسنے لگے۔ اور اگر ایسا ہوتا تو سردی ہر چیز کو منجمد کردیتی۔ سائے کے سمٹنے اور سورج کے آگے بڑھنے میں جو ایک تدریج کا عمل پایا جاتا ہے یہی ہماری زندگی کا بقا کا اصل راز ہے۔ اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ کی جس قدرت اور نشانی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس سے ایک بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ رات بھر سائے کا پھیلا رہنا اور پھر سورج کے طلوع ہونے سے اس کا آہستہ آہستہ سمٹنا یہ ایک ایسی چیز ہے جس سے ہمیں ہر روز واسطہ پڑتا ہے، ہم اس کی افادیت سے فائدہ تو اٹھاتے ہیں لیکن یہ کبھی نہیں سوچتے کہ یہ ایک ایسا عمل ہے جو ہماری بقا کا ضامن ہے۔ لیکن اس کا سررشتہ کس کے ہاتھ میں ہے۔ کیا اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور رات طاری کرسکتا ہے ؟ کیا کسی میں یہ قدرت ہے کہ وہ سورج کو نکلنے کا حکم دے سکے ؟ جب ہر شخص اپنی آنکھوں سے اس کی اس قدرت کا نمونہ دیکھتا ہے تو یہ کس قدر حماقت کی بات ہے کہ اتنی واضح نشانی کے بعد بھی ہم دوسروں کو اس کا شریک کرنے لگتے ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کا سورة قصص میں ذکر فرمایا گیا۔ ارشادِخداوندی ہے : قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ الَّیْلَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُاللّٰہِ یَاتِیَکُمْ بِضِیَـآئٍ ط اَفَلاَ تَسْمَعُوْنَ ۔ قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیْکُمُ النَّھَارَ سَرْمَدًا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ مَنْ اِلٰـہٌ غَیْرُاللّٰہِ یَا تِیَکُمْ بِلَیْلٍ تَسْکُنُوْنَ فِیْہِ ط اَفَلاَ تُبْصِرُوْنَ ۔ وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَـکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضُلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (قصص : 71۔ 73) (ان سے کہو کہ بتائو، اگر اللہ رات کو تمہارے اوپر قیامت تک کے لیے مسلط کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے روشنی کو لائے گا، کیا تم سنتے نہیں ! ان سے پوچھو کہ بتائو، اگر اللہ تمہارے اوپر دن کو قیامت تک کے لیے مسلط کردے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمہارے لیے شب کو لائے گا جس میں تم سکون پا سکو ! کیا تم دیکھتے نہیں ! یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو اور تاکہ تم اس کے فضل کے طالب بنو اور تاکہ تم اسی کے شکرگزار بنو۔ ) ایک اور حکمت جو ہمیں اس آیت کریمہ کی روشنی میں معلوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ جس طرح رات کا سایہ اس قدر ہمہ گیر ہوتا ہے کہ جس شخص نے اپنی آنکھوں سے رات اور دن کی آمد و رفت کا منظر نہ دیکھا ہو وہ کبھی یہ تصور نہیں کرسکتا کہ رات کی حکومت بھی کبھی زوال پذیر ہوگی۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ آخر وہ ختم ہو کے رہتی ہے۔ اسی طرح نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت کفروشرک اور جہالت کا سایہ پوری دنیا پر چھایا ہوا معلوم ہوتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ اب کبھی روشنی طلوع نہیں ہوگی۔ اور یہ تاریکی ہمیشہ ہم پر مسلط رہے گی۔ لیکن جس طرح آفتاب کے طلوع ہوجانے کے بعد رات کی تاریکی چھٹ جاتی ہے، اسی طرح اب آفتابِ نبوت طلوع ہوچکا ہے۔ جیسے جیسے اس کی کرنیں پھیلتی جائیں گی اور جوں جوں یہ آفتاب اوپر اٹھتا جائے گا، کفر و شرک اور جہالت کی تاریکی سمٹتی جائے گی۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ جس طرح رات کی تاریکی ایک تدریج کے ساتھ آہستہ آہستہ سمٹتی اور دن کا اجالا آہستہ آہستہ پھیلتا ہے، دھوپ اور سائے میں یک لخت تغیرات نہیں ہوتے، کیونکہ یک لخت تغیر ایک جھٹکے کی صورت میں کہیں بھی شکست و ریخت کا باعث ہوسکتا ہے۔ اسی طرح حق کی روشنی بھی حادثاتی طور پر نہیں پھیلتی بلکہ تبلیغ و دعوت اور اخلاص کی قوت سے آہستہ آہستہ اس کا دائرہ اثر پھیلتا ہے اور پھر ایک وقت آتا ہے جب کفر و شرک کی تاریکیوں کو کہیں جائے پناہ نہیں ملتی، اب بھی ایسا ہی ہو کے رہے گا۔