25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsروح القرآن

Ayah 25:47

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّ النَّوْمَ سُبَاتًا وَّ جَعَلَ النَّهَارَ نُشُوْرًا Open ayah 25:47 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پردہ پوش، نیند کو باعث راحت اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا

وَھَوَالَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمُ الَّیْلَ لِبَاسًا وَّالنَّوْمَ سُبَاتًا وَّجَعَلَ النَّھَارَ نُشُوْرًا۔ (الفرقان : 47) (اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے رات کو پردہ پوش، نیند کو باعث راحت اور دن کو جی اٹھنے کا وقت بنایا۔ ) رات اور دن کے فوائد و منافع گزشتہ آیت کریمہ میں سائے کے پھیلنے اور سمٹنے کے حوالے سے روز و شب کی نشانی کا ذکر فرمایا۔ اب اسی روز و شب کا تذکرہ بعض اور نشانیوں کے حوالے سے کیا جارہا ہے۔ فرمایا وہی پروردگار ہے جس نے رات کو تمہارے لیے پردہ پوش بنایا، یعنی دن کی سرگرمیوں کا تھکا مارا اور فکرمعاش اور معاشی کشمکش سے شکست و ریخت کا شکار انسان جب اپنے گھر پہنچتا ہے تو اس کی شدید خواہش ہوتی ہے کہ اب مجھے کوئی ایسا گوشہ نصیب ہو جس میں میری پریشانیوں اور تھکن کا علاج ہوسکے۔ وہ گوشہ عافیت کی تلاش کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے اس احسان کو بھول جاتا ہے کہ دن کی سرگرمیوں سے راحت پہنچانے والی اگر کوئی حقیقی نعمت ہے تو وہ صرف گھر یا کوئی گوشہ عافیت نہیں بلکہ وہ رات ہے جس کی تاریکی راحت بخش چادر کی طرح اس کی طرف بڑھتی ہے اور وہ اسے اوڑھ کر لیٹ جاتا ہے۔ اگر اسے کوئی گھر یا گوشہ عافیت نصیب نہیں ہوتا تو وہ کہیں بھی آنکھیں بند کرکے لیٹ جاتا ہے اور رات کی ہلکی ہلکی تاریکی اس کو لوریاں دے کے سلا دیتی ہے۔ اسی طرح مصروفیات سے زارونزار شخص کی سب سے بڑی خواہش یہ ہوتی ہے کہ میں آرام کے لیے لیٹوں تو نیند مجھے فوراً اپنی آغوش میں لے لے۔ کیونکہ نیند ہی ایک ایسی چیز ہے جو میرے ٹوٹتے ہوئے اعصاب کو قوت فراہم کرتی اور سکون عطا کرتی ہے۔ اور اسی کے نتیجے میں میری وہ قوت کارکردگی جسے دن بھر کی مصروفیت نچوڑ چکی ہے ازسرنو بحال کرسکتی ہے۔ دیر تک محنت کرنے والا آدمی جس طرح غذا کا طالب ہوتا ہے، اسی طرح وہ نیند کا بھی محتاج ہوتا ہے۔ کیونکہ غذا جس طرح اس کی پیٹ کی آگ بجھاتی اور اسے آسودگی دیتی ہے، اسی طرح نیند اس کے اعصاب کو توانائی دیتی اور قوت کارکردگی میں اضافہ کرتی ہے۔ اس لیے فرمایا کہ وہی ذات ہے جس نے تمہارے لیے نیند کو باعث رحمت اور دافعِ کلفت بنایا ہے۔ رات کی تاریکی اور نیند اس وقت سکون کا باعث بنتی ہے جب معیشت کے امکانات سامنے کھلے ہوں۔ کیونکہ انسان کا اصل مقصد زندگی نہ سونا ہے نہ آرام کرنا، بلکہ ضروریاتِ زندگی کا حصول، طرقِ خیر کی جستجو اور مقاصدِ زندگی کے لیے جدوجہد ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے دن کی روشنی عطا فرمائی تاکہ کہیں آنا جانا، دوڑ بھاگ کرنا، لوگوں سے ملنا ملانا اور جستجو کا سفر جاری رکھنا آسان ہوجائے۔ جب ایک آدمی سو جاتا ہے تو اگر خدانخواستہ اس کی نیند طویل ہوجائے اور کبھی آنکھ نہ کھلے تو اس کی زندگی کا سفر ختم ہوگیا۔ کیونکہ اس کی زندگی دن کی روشنی کی صورت میں اس کی منتظر تھی۔ اور نیند کی حالت میں آدمی کے قویٰ اس طرح جواب دے جاتے ہیں، لگتا ہے کہ اب وہ کبھی نہیں اٹھے گا۔ اسی لیے نیند کو موت کی بہن کہا گیا ہے۔ لیکن جب دن کا اجالا پھیلتا اور سونے والا اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو یوں سمجھئے کہ اسے ایک نئی زندگی مل گئی۔ یہ تین اللہ تعالیٰ کی وہ عظیم نعمتیں ہیں جن سے ہر شخص بہرہ ور ہوتا ہے اور ہر روز اس سے فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن وہ اس ذات کا شکر ادا کرنا بھول جاتا ہے جس نے اسے یہ نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اور اسے اس بات کا بھی خیال نہیں رہتا کہ اگر وہ ذات یکتا نہ ہوتی اور اس کے اختیارات میں کوئی اور بھی شریک ہوتا تو ہر شخص کو جس تسلسل کے ساتھ یہ نعمتیں میسر ہیں اس کا کبھی امکان نہ ہوتا۔ نُشُوْر … ازسرنو جی اٹھنے کو کہتے ہیں۔ اسی لیے قیامت میں جی اٹھنے کے لیے قرآن کریم نے نُشُوْرکا لفظ استعمال کیا ہے۔ آیت کریمہ میں اس لفظ کا استعمال ہمیں اس بات کی طرف رہنمائی کرتا ہے کہ جو پروردگار شب میں سونے کے بعد صبح کو تمہیں اٹھانے کی قدرت رکھتا ہے وہ اس پر بھی قادر ہے کہ موت کی نیند کے بعد صبح قیامت کو تمہیں ازسرنو اٹھا کھڑا کرے۔ نیند کی حالت میں آدمی جس طرح بیخبر ہوتا ہے اور جس طرح اس کی صلاحیتیں دم توڑ جاتی ہیں اس لحاظ سے نیند میں اور موت میں کوئی جوہری فرق نہیں رہتا۔ ایک سوئے ہوئے آدمی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ وہ جاگ سکے گا یا نہیں۔ لیکن ہم ہر روز اللہ تعالیٰ کی قدرت کا نظارہ کرتے ہیں کہ ہم گہری نیند سوتے ہیں پھر اٹھ کھڑے ہوتے ہیں۔ کوئی شخص اگر سوچنے سمجھنے اور عبرت و نصیحت حاصل کرنے سے بالکل محروم نہیں ہے تو بڑی آسانی سے نیند کے پردے میں موت کا نظارہ کرسکتا ہے۔ اور نیند سے بیداری کے پردے میں قیامت کا یقین کرسکتا ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : موت تجدیدِ مذاقِ زندگی کا نام ہے خواب کے پردے میں بیداری کا اک پیغام ہے
Ayahs 25:48–49

وَ هُوَ الَّذِیْۤ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًۢا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِهٖ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا مِنَ السَّمَآءِ مَآءً طَهُوْرًاۙ Open ayah 25:48 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنی رحمت سے پہلے ہَوائوں کو خوشخبری بنا کے بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاکیزہ پانی اتارتے ہیں

لِّنُحْیَِۧ بِهٖ بَلْدَةً مَّیْتًا وَّ نُسْقِیَهٗ مِمَّا خَلَقْنَاۤ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ كَثِیْرًا Open ayah 25:49 in the Quran reader

تاکہ ہم اس سے کسی مردہ شہر (زمین) کو زندہ کردیں، تاکہ ہم اس سے اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کردیں

وَھُوَالَّذِیْٓ اَرْسَلَ الرِّیٰحَ بُشْرًا م بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہٖ ج وَاَنْزَلْـنَا مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً طَھُوْرًا۔ لِّـنُحْیِ بِـہٖ بَلْدَۃً مَّـیْـتًا وَّ نُسْقِیَـہٗ مِمَّا خَلَقْنَـآ اَنْعَامًا وَّ اَنَاسِیَّ کَـثِیْرًا۔ (الفرقان : 48، 49) (اور وہی ہے جو اپنی رحمت سے پہلے ہَوائوں کو خوشخبری بنا کے بھیجتا ہے اور ہم آسمان سے پاکیزہ پانی اتارتے ہیں۔ تاکہ ہم اس سے کسی مردہ شہر (زمین) کو زندہ کردیں، تاکہ ہم اس سے اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کردیں۔ ) ایک اور نشان قدرت شب و روز کی آمدوشد اور زمین پر بسنے والی مخلوقات بالخصوص انسانوں کے لیے اس میں مخفی اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا ذکر کرنے کے بعد اب اپنی ایک اور نشانی کی طرف پروردگار توجہ دلا رہے ہیں جس میں پروردگار کی ان تمام صفات اور عظمتوں کا مشاہدہ ہورہا ہے جن پر قرآن اور نبی کریم ﷺ کی دعوت کی بنیاد ہے۔ اس نشانی میں چونکہ اہل زمین کے لیے رحمت کا غلبہ ہے اس لیے اسے رحمت ہی کے نام سے یاد فرمایا گیا۔ مراد اس سے بارش ہے۔ قرآن کریم نے اور بھی متعدد مواقع پر بارش کو رحمت کے نام سے یاد فرمایا۔ اس کے لیے انسانوں کی زبانوں پر جو لفظ رائج ہے اس سے بھی اس کا اظہار ہوتا ہے۔ اسے ہمیشہ بارانِ رحمت کہہ کر یاد کیا جاتا ہے۔ اور آنحضرت ﷺ بھی بارانِ رحمت ہی کے لیے دعا فرمایا کرتے تھے۔ اس میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کی جس صفت کا ظہور ہورہا ہے وہ بیک وقت قدرت بھی ہے اور رحمت بھی، کہ بارش آنے سے پہلے موسمی ہَوائیں چلتی ہیں جو بارش کی دعائیں کرنے والوں کے لیے بشارت بن کر آتی ہیں۔ ہمیں نئی زندگی نے بہت ساری نعمتوں سے محروم کردیا ہے۔ اس لیے شہروں میں رہنے والے لوگ ہَوائوں کے اس فیضان سے بہت کم محظوظ ہوتے ہیں۔ ورنہ وہ وقت دور نہیں جس کے دیکھنے والے ابھی زندہ ہیں کہ جب برسات کی آمد آمد ہوتی تو ٹھنڈی ہَوائوں کے ایک ایک جھونکے کو کس طرح رحمت کا پیغام سمجھا جاتا تھا۔ نیک لوگ اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے اور بےفکرے اور نوجوان لوگ میدانوں اور باغوں کا رخ کرتے۔ اور اس رحمت کے محسوس کرنے میں اس وقت اور اضافہ ہوجاتا ہے جب بارش دیر سے برستی، زمین جھلس چکی ہوتی، فصلیں جل رہی ہوتیں، پانی کے حوض خشک ہونے کے قریب ہوتے اور عرب جیسی سرزمین میں لوگ خانہ بدوشی پر مجبور ہوجاتے۔ جہاں کہیں جوہڑ میں پانی ملتا وہاں اپنے جانوروں کو لے کر پہنچ جاتے۔ بادل کا کوئی آوارہ ٹکڑا بھی نظر آجاتا تو نگاہیں انتظار میں لگ جاتیں۔ ایسے میں ہَوائوں کا بارش کا پیغام بن کے آنا اللہ تعالیٰ کے فیضانِ رحمت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔ اسی رحمت کے ساتھ ساتھ اس کی قدرت بھی دکھائی دیتی ہے کہ ہَوائیں آتیں تو منتشر بادلوں اور بادل کے آوارہ ٹکڑوں کو گھیر کر ہانکتی ہوئی وہاں پہنچا دیتیں جہاں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا۔ پھر ان کو تہ بہ تہ اکٹھا کرکے دبیز کر دیتیں۔ پھر اللہ تعالیٰ کا حکم آتا تو بادل پاکیزہ اور پاکیزگی بخش پانی برسا دیتے۔ پاکیزہ سے مراد یہ ہے کہ ایسا پانی برستا جس میں گندگی کی کوئی ملاوٹ نہ ہوتی۔ جراثیم سے پاک، صحت بخش، انسانوں اور فصلوں کے لیے زندگی اور قوت کا سامان۔ جہاں جہاں یہ پانی برستا مردہ زمین ازسرنو حیات تازہ حاصل کرلیتی۔ جہاں کبھی کھ اس کی ایک پتی دکھائی نہ دیتی تھی، چند ہی دنوں میں وہاں کی زمین مخملی لباس میں ملبوس ہوجاتی۔ ٹنڈمنڈ درخت ہرے ہوجاتے۔ ہر چیز پردہ رنگ میں چھپ جاتی، رگِ سنگ میں بھی لہو کی گردش تیز ہوجاتی۔ جہاں کسی آبی مخلوق کا وجود نہ تھا، وہاں مینڈک ٹرانے لگتے، جابجا اللہ تعالیٰ کی رحمت کا گھنا سایہ ہر ایک کو اپنی آغوش میں لے لیتا۔ اور زمین اور فضا جو موت کی گرفت میں تھی ہر جگہ زندگی کی نمود دکھائی دیتی۔ سوال یہ ہے کہ کہیں شب وہ روز کی آمدوشد اور کہیں بارانِ رحمت کے نتائج کا ظہور، اور پھر اس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ کی بیشمار حکمتوں اور قدرتوں کی نمود کیا یہ سب کچھ کسی اندھی بہری علت العلل کا کرشمہ ہے۔ آخر وہ کون سی قوت ہے جس نے زمین کو بنایا، پھر اس پر مخلوقات پیدا فرمائیں اور پھر زمین اور ان مخلوقات کی ضروریات اور ابر، ہوا اور بارش کے درمیان ایک حیران کردینے والا ربط کیا خودبخود وجود میں آگیا۔ کیا اضداد کی اس باہمی ہم آہنگی کے مشاہدہ کے بعد یہ تصور کیا جاسکتا ہے کہ اس کے اندر مختلف ارادے کارفرما ہیں، یقینا ایسا نہیں۔ زمین اور اس پر بسنے والی مخلوقات بالخصوص انسان اور اس پر کی جانے والی نعمتیں خودبخود بول رہی ہیں کہ اس کائنات کا ایک ہی خالق ہے۔ ساری کائنات اسی کے ارادے کے تابع ہے۔ ہر نعمت کے پیچھے اس کی قدرت کا ظہور ہے اور اسی کی رحمت نے ہر مخلوق کو تھام رکھا ہے۔ اس آیت میں تدبر سے ہمارے سامنے ایک اور عقدہ بھی کھلتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ جس پروردگار کی قدرت سے مردہ زمین زندہ ہوتی ہے اور اجڑی ہوئی زمین میں سرسبزی اور شادابی پھیل جاتی ہے اور کتنے مردہ آبی جانور ازسرنو زندہ ہوجاتے ہیں۔ کیا اس کی قدرت سے یہ بات بعید ہے کہ نفخ صور کے بعد تمام مردہ انسانوں کو ازسرنو زندہ کردے، ایک حشر برپا ہو اور سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اعمال کی جوابدہی کے لیے کھڑے کردیئے جائیں۔ جو شخص بھی حقیقت کی نگاہ سے بارش برسنے سے پہلے کی حالت اور بارش برسنے کے بعد کی تبدیلی کو ملاحظہ کرے گا اس کے لیے اس بات پر یقین کرنا بالکل مشکل نہیں کہ جس قادر مطلق کی قدرت آج اپنے یہ رنگ دکھا رہی ہے وہ کل کو اپنا یہ رنگ کیوں نہیں دکھا سکتی۔ ایک اور بات بھی کھلتی ہوئی نظر آتی ہے، وہ یہ کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ہر قحط سالی کے بعد سرسبزی اور شادابی کا زمانہ لاتا ہے، جس زمین پر خاک اڑتی ہے وہیں شاداب کھیت بھی لہلہاتے ہیں، اسی پروردگار کی یہ بھی سنت ہے کہ جب انسانوں کے دلوں کی آبادیاں اجڑ جاتی اور روحانی کھیتیاں خشک سالی کا شکار ہوجاتی ہیں تو وہ اپنے پیغمبر رحمت کو بھیجتا ہے جس کے نتیجے میں گلشن انسانیت میں بہار آجاتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کی بعثت سے پہلے اخلاقی اور روحانی طور پر پوری دنیا پر خشک سالی چھائی ہوئی تھی، ہر طرف موت کے پہرے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر کرم فرمایا۔ قرآن اور حامل قرآن کی صورت میں پھر وہی ابررحمت گھر کر آیا۔ اس کی گھنگھور گھٹائیں برسنے کے لیے بےتاب ہیں۔ بہت دنوں کی بات نہیں انسانوں کی خشک کھیتیاں پھر زندہ ہو کر لہلہانے لگیں گی۔ آج دیکھنے والوں کو یہ بات بہت دور معلوم ہوتی ہے، لیکن جس طرح جھلستی ہوئی زمین کو دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا کہ اس کی قسمت بدل جائے گی، اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے ابررحمت کے آجانے کے بعد انسانوں کی قسمت کا فیصلہ جلد ہونے والا ہے۔ چناچہ وہ چند سالوں میں ہو کر رہا۔
Ayahs 25:50–52

وَ لَقَدْ صَرَّفْنٰهُ بَیْنَهُمْ لِیَذَّكَّرُوْا١ۖ٘ فَاَبٰۤى اَكْثَرُ النَّاسِ اِلَّا كُفُوْرًا Open ayah 25:50 in the Quran reader

ہم نے اسے ان کے درمیان مختلف اسالیب سے بیان کیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری پر ہی اڑے ہوئے ہیں

وَ لَوْ شِئْنَا لَبَعَثْنَا فِیْ كُلِّ قَرْیَةٍ نَّذِیْرًا٘ۖ Open ayah 25:51 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے

فَلَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ جَاهِدْهُمْ بِهٖ جِهَادًا كَبِیْرًا Open ayah 25:52 in the Quran reader

پس آپ کافروں کی بات کی طرف دھیان نہ دیں اور اس قرآن کے ذریعے ان سے پورا پورا جہاد کریں

وَلَـقَدْ صَرَّفْـنٰـہُ بَیْنَھُمْ لِیَذَّکَّرُوْا صلے ز فَاَبٰٓی اَکْثَرُالنَّاسِ اِلاَّ کُفُوْرًا۔ وَلَوْشِئْـنَا لَبَعَثْـنَا فِیْ کُلِّ قَرْیَۃٍ نَّذِیْرًا۔ فَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ وَجَاھِدْھُمْ بِہٖ جِھَادًا کَبِیْرًا۔ (الفرقان : 50 تا 52) (ہم نے اسے ان کے درمیان مختلف اسالیب سے بیان کیا ہے تاکہ وہ غور و فکر کریں لیکن اکثر لوگ ناشکری پر ہی اڑے ہوئے ہیں۔ اور اگر ہم چاہتے تو ہر بستی میں ایک ڈرانے والا بھیج دیتے۔ پس آپ کافروں کی بات کی طرف دھیان نہ دیں اور اس قرآن کے ذریعے ان سے پورا پورا جہاد کریں۔ ) تصریفِ آیات کا اعجاز تصریفِ آیات قرآن کریم کا ایک اعجازی پہلو ہے۔ وہ ایک ایسی بات کو جس کا تعلق انسانی زندگی کی صلاح و فلاح سے بہت گہرا ہو مختلف اسالیب میں پیرایہ بیان بدل بدل کر اس طرح لاتا ہے کہ جس سے نہ تو کہی جانے والی بات کی شگفتگی میں کمی آتی ہے اور نہ اس کا احساس ہوتا ہے کہ یہ بات پہلے بھی کہی گئی ہے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہر نئے پیرایہ بیان میں تاثیر و تسخیر میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یوں تو یہ اسلوب ہمارے شعراء میں بھی رہا وہ بھی بعض دفعہ ایک ہی مضمون کو مختلف طریقوں سے باندھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ انیس نے تو ایک طرح سے شاعرانہ تفوق کا اظہار کرتے ہوئے کہا : اک پھول کا مضموں ہو تو سو رنگ سے باندھوں لیکن قرآن کریم کا اعجاز اپنی جگہ ہے۔ آیت کا مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں، اس کی رحمتوں اور اس کی صفات کا بیان ہم نے قرآن کریم میں مختلف اسالیب سے کیا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی غیرمشروط بندگی پر مختلف اسالیب سے دلائل قائم کیے ہیں۔ مقصود صرف یہ ہے کہ انسان یاددہانی حاصل کرے۔ اور یا ان میں سے ایک ایک بات پر غور و فکر کرے تاکہ اسے اپنے رویئے کی غلطی کا احساس ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول جن باتوں کی طرف دعوت دیتے ہیں ان کی صداقت پر یقین پیدا ہو۔ لیکن ان بدنصیبوں کا حال یہ ہے کہ بیان و اظہار کے معجزانہ اسالیب بھی ان پر اثرانداز نہیں ہوسکے۔ چند خوش نصیبوں کے سوا باقی لوگ اپنے کفر اور ناشکری پر جمے ہوئے ہیں۔ بعض اہل علم نے ضمیر مفعول کا مرجع گزشتہ آیت میں بیان کی جانے والی بارش کی مثال کو بنایا ہے۔ تفہیم کے نقطہ نگاہ سے یہ بات غلط معلوم نہیں ہوتی، لیکن یہ ضرور احساس ہوتا ہے کہ اس سے بات صرف ایک عنوان تک سمٹ کر رہ جاتی ہے جبکہ تصریفِ آیات ایک ہمہ گیر عنوان ہے جو قرآن کریم میں جا بجا پھیلا ہوا ہے۔ بعض اہل علم نے ضمیرمفعول کا مرجع قرآن کریم کو بنایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس میں اور قرآن کریم کو مرجع بنانے میں مفہوم و مراد کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی وَلَوْشِئْـنَا …… ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس آیت میں شاید بعض معترضین کے اعتراض کا جواب دیا گیا ہے اور ساتھ ہی ساتھ آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ اعتراض کی بنیاد یہ معلوم ہوتی ہے کہ جب نبی کریم ﷺ نے ان کے سامنے یہ بات واضح فرمائی کہ میں ساری نوع انسانی کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول بن کے آیا ہوں، تو لوگوں نے کہا یہ کیسے ممکن ہے آپ ہر ایک شخص تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا سکیں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت میں شاید یہ بات نہ تھی کہ وہ آپ کے ساتھ کسی اور کو نبی بنا دیتا اور آپ کا کام تقسیم ہوجاتا۔ اور اگر یہ مان لیا جائے کہ اس کی قدرت صرف ایک ہی کو نبی بنا سکتی ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کی قدرت تو محدود نہیں، البتہ آپ کا دعویٰ غلط ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے معترضین سے منہ پھیر کر فرمایا کہ ہم اگر چاہتے تو ہم ہر بستی میں ایک نذیر بھیج دیتے۔ اس سے پہلے ہم ایک ہی وقت میں ایک سے زیادہ نبی اور رسول بھیج چکے ہیں۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسانیت بلوغ کی عمر کو پہنچ رہی ہے۔ اس کے مواصلاتی نظام میں تیزی سے تبدیلی آرہی ہے، قومیں اور ملک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں، انسانی علوم و فنون میں یکجائی پیدا ہورہی ہے۔ اب وقت آگیا ہے کہ انسانیت کے بکھرے ہوئے شیرازہ کو یکجا کیا جائے۔ بہت سی امتوں کی بجائے ایک امت نئی دنیا کی ضرورت ہے، جو حق کی امین بنائی جائے اور بجائے اس کے کہ قومیں قوموں سے ٹکراتی رہیں اور ہر قوم حق کی علمبردار ہونے کی مدعی ہو۔ اب حق بھی ایک ہوگا اور امت بھی ایک ہوگی۔ اب گھر گھر میں الگ الگ چراغ نہیں جلائے جائیں گے بلکہ اب آفتابِ نبوت طلوع ہوگیا ہے جو پوری دنیا کے گوشے گوشے کو منور کر دے گا۔ اور اس کے فیض سے ایک ایسی جماعت تیار ہوگی جو دنیا کے کونے کونے میں اس کے دین اور اس کی دعوت کو لے کر پہنچے گی۔ فَلاَ تُطِعِ الْـکٰفِرِیْنَ …… رہی یہ بات کہ یہ کافر کیا کہتے ہیں، آپ ان کی باتوں کی طرف دھیان نہ دیں۔ اطاعت کا معنی جس طرح کسی بات کو ماننا ہوتا ہے اسی طرح لحاظ کرنا اور دھیان دینا بھی ہوتا ہے۔ یہاں یہ اسی مفہوم میں ہے کہ آپ بالکل پرواہ نہ کریں کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں اور نہ ان کے نئے نئے مطالبات پر توجہ دیں۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے نوع انسانی کا رہبر اور ہادی بنا کر بھیجا ہے۔ آپ کے ہاتھ میں قرآن کی مشعل ہے۔ اور یہ ایک ایسا معجزہ ہے جو یدبیضاء سے بڑھ کر روشنی رکھتا ہے۔ اسی کے ذریعے آپ جہادِ کبیر کریں، یعنی لوگوں کو بدلنے میں اپنی سعی و جانفشانی کا کوئی دقیقہ اٹھا نہ رکھیں۔ اپنے تمام ممکن ذرائع کو اس میں جھونک دیں۔ جدوجہد کا کوئی پہلو تشنہ نہ چھوڑیں اور مقابلے کے کسی محاذ کو خالی نہ رہنے دیں۔ قرآن میں ہم نے اصولوں کے اثبات کے لیے ہر طرح کے دلائل فراہم کردیئے ہیں۔ انسانی زندگی کے شیرازے کو منضبط کرنے کے لیے ہم نے ایک نظام دے دیا ہے۔ اس میں معاشرے کے اصول بھی ہیں، معیشت کے ضوابط بھی۔ سیاست کے آداب بھی ہیں اور حکومت کے طریقے بھی۔ عدالت کا ایک مستقل نظام اس میں وضع کردیا گیا ہے۔ آپ اس قرآن کے ذریعے ان تمام شعبوں کے قیام اور اس میں اللہ تعالیٰ کے دین کے نفاذ کے لیے قرآن کے ذریعے جدوجہد کریں۔ اور اگر کبھی پرامن جدوجہد کام نہ آتی ہو اور دشمن آپ کا راستہ روکنے اور آپ کو مٹانے پر تل جائے تو پھر آپ قوت اور تلوار سے کام لیں۔ اس کے آداب بھی ہم نے قرآن کریم میں واضح کردیئے ہیں اور اس کے اجمال کی تفصیل اور اس کے ابہام کی شرح اور اس کے قول کی عملی تعبیر ہم نے آپ کے دل پر نازل کردی ہے جسے آپ حدیث اور سنت کی شکل میں اپنی امت کے سامنے واضح کررہے ہیں۔ یہ وہ جہاد ہے جو آپ نے قرآن کے ذریعے کرنا ہے اور یہی جہاد آپ کی سنت اور روایت بن کر امت کو منتقل ہوگا اور اسی سے امت ہمیشہ سرخرو اور برومند ہوگی۔
Ayah 25:53

وَ هُوَ الَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ هٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّ هٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ١ۚ وَ جَعَلَ بَیْنَهُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا Open ayah 25:53 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے ملادیا ہے دو دریائوں کو، ایک کا پانی شیریں اور خوشگوار اور دوسرے کا نہایت شور و تلخ اور ان دونوں کے درمیان اس نے ایک پردہ بنادیا ہے اور ایک مضبوط رکاوٹ

وَھُوَالَّذِیْ مَرَجَ الْبَحْرَیْنِ ھٰذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَّھٰذَا مِلْحٌ اُجَاجٌ ج وَجَعَلَ بَیْنَھُمَا بَرْزَخًا وَّ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا۔ (الفرقان : 53) (اور وہی ہے جس نے ملادیا ہے دو دریائوں کو، ایک کا پانی شیریں اور خوشگوار اور دوسرے کا نہایت شور و تلخ اور ان دونوں کے درمیان اس نے ایک پردہ بنادیا ہے اور ایک مضبوط رکاوٹ۔ ) مَرَجَ … کے معنی چھوڑنے اور ملانے کے ہیں۔ فُرَاتٌ … کا معنی ہے شیریں اور خوشگوار۔ حِجْرًا مَّحْجُوْرًا … کے معنی مضبوط آڑ اور محکم اوٹ کے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی ایک اور نشانی آفاق کی نشانیوں میں سے اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کے ایک حیران کن کرشمے کی طرف توجہ دلائی ہے کہ اس پروردگار کی بےپناہ قدرت کا کیا کہنا کہ وہ ایک طرف سے شیریں پانی کے دریا کو چھوڑتا ہے، دوسری طرف سے کھاری پانی کے سمندر کو۔ دونوں کی موجیں ایک دوسرے سے ٹکراتی ہیں، لیکن کیا مجال ہے کہ شیریں پانی کھاری ہوجائے یا کھاری پانی شیریں بن جائے۔ دونوں اپنی اپنی حدود کے اندر اپنی مزاجی خصوصیات کو باقی رکھتے ہیں۔ یہ کیفیت ہر اس جگہ دیکھی جاسکتی ہے جہاں کوئی بڑا دریا سمندر میں آکر گرتا ہے۔ لیکن کیا مجال ہے کہ دریا کا پانی سمندر کے پانی میں مل جائے یا سمندر کا پانی دریا کے پانی کو کھاری بنا دے۔ دریائے نیل جب بحرروم میں جا کر گرتا ہے تو کئی میلوں تک اس کا پانی سمندر میں جوں کا توں چلا جاتا ہے نہ اس کی رنگت بدلتی ہے، نہ اس کا ذائقہ تبدیل ہوتا ہے۔ زمین کے نیچے پانی کا سمندر بہہ رہا ہے، لیکن حیران کن بات یہ ہے کہ ایک جگہ سے پانی نکالا گیا تو پانی میٹھا نکلا، پھر دوسری جگہ چند فٹ کے فاصلہ پر نلکا لگایا گیا تو پانی کھاری نکلا۔ معلوم ہوتا ہے کہ زمین کے نیچے بھی قدرت نے کوئی ایسی غیرمرئی دیوار کھینچ رکھی ہے جو میٹھے اور کھاری پانی کو آپس میں ملنے نہیں دیتی۔ اس سے بھی حیرت انگیز بات یہ ہے کہ خود سمندر میں مختلف مقامات پر میٹھے پانی کے چشمے پائے جاتے ہیں جن کا پانی سمندر کے نہایت تلخ پانی کے درمیان بھی اپنی مٹھاس پر قائم رہتا ہے۔ تفہیم القرآن میں سید مودودی (رح) نے لکھا ہے کہ ترکی امیر البحر سیدی علی رئیس (کاتبِ رومی) اپنی کتاب مرآۃ الممالک میں جو سولہویں صدی عیسوی کی تصنیف ہے خلیج فارس کے اندر ایسے ہی ایک مقام کی نشاندہی کرتا ہے۔ اس نے لکھا ہے کہ وہاں آب شور کے نیچے آب شیریں کے چشمے ہیں جن سے میں خود اپنے بیڑے کے لیے پینے کا پانی حاصل کرتا رہا ہوں۔ موجودہ زمانے میں جب امریکن کمپنی نے سعودی عرب میں تیل نکالنے کا کام شروع کیا تو ابتد اء ً وہ بھی خلیج فارس کے ان چشموں سے پانی حاصل کرتی تھی۔ بعد میں ظہران کے پاس کنویں کھود لیے گئے اور ان سے پانی لیا جانے لگا۔ غور فرمائیے اللہ تعالیٰ کے سوا وہ کون سی طاقت ہے جو زیرزمین اور سمندروں کے اندر میٹھے پانی کے ذخیروں کو کڑوے پانی سے الگ رکھتی ہے۔ وہ کون قادر مطلق ہے جس نے ان کے درمیان ایک ایسی غیرمرئی دیوار کھڑی کر رکھی ہے جو نہ کسی کو نظر آتی ہے اور نہ دونوں کا باہمی تصادم اس کو توڑ سکتا ہے۔ اس سے جہاں یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ایک اللہ تعالیٰ کی بزرگ و برتر ذات ہے جس کے زیرتصرف کائنات کی ہر چیز ہے۔ وہ اپنی مشیت سے اپنی حکمت کے مطابق جو چاہتا ہے تصرف کرتا ہے۔ وہیں اس سے یہ بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ اس کائنات میں جتنے بھی اضداد ہیں سب ایک بالاتر حکیم و قدیر کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ وہ جس کو جس حد تک چاہتا ہے ڈھیل دیتا ہے اور جس جگہ چاہتا ہے روک دیتا ہے۔ مجال نہیں ہے کہ وہ خدا کی مقررہ حدود سے سرمو تجاوز کرسکیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس کائنات میں کوئی چیز اور کوئی قوت مطلق العنان نہیں بلکہ سب کی باگ ایک بالاتر قوت کے ہاتھ میں ہے۔
Ayah 25:54

وَ هُوَ الَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَآءِ بَشَرًا فَجَعَلَهٗ نَسَبًا وَّ صِهْرًا١ؕ وَ كَانَ رَبُّكَ قَدِیْرًا Open ayah 25:54 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی (کی بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو نسب والا اور سسرال والا بنادیا اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے

وَھُوَالَّذِیْ خَلَقَ مِنَ الْمَـآئِ بَشَرًا فَجَعَلَـہٗ نَسَبًا وَّصِھْرًا ط وَکَانَ رَبُّـکَ قَدِیْرًا۔ (الفرقان : 54) (اور وہی ہے جس نے انسان کو پانی (کی بوند) سے پیدا کیا، پھر اس کو نسب والا اور سسرال والا بنادیا اور آپ کا رب بڑی قدرت والا ہے۔ ) سابقہ آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی توحید اور اپنی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ پر آفاقی دلائل ذکر فرمائے۔ اب ان انفسی دلائل کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے جو انسان کی اپنی ذات میں موجود ہیں۔ اضداد میں تو افق کی ایک انفسی دلیل بلاشبہ انسان اس کائنات کا گل سرسبد ہے اور اس زمین پر انسان کے وجود اور اس کے عقل و خرد کے معرکوں سے زمین کی سرسبزی و شادابی و درخشندگی و جہاں تابی ہے۔ اس نے اگر ایک طرف سیرت و کردار اور روحانی بالیدگی کی حیرت انگیز مثالیں قائم کی ہیں تو دوسری طرف اس سرزمین کو حیرت انگیز ایجادات سے مالامال کردیا ہے لیکن ان تمام کمالات کے پیچھے اپنی کوئی ذاتی صلاحیت کارفرما نہیں، سب اللہ تعالیٰ کی دین اور اس کی قدرت کا ظہور ہے۔ اسے روحانی احساسات اور سوز و گداز کی دولت اللہ تعالیٰ ہی نے عطا کی ہے۔ اور اس کی حیرت انگیز ایجادات اس عقل کی فتوحات ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے صرف انسانوں کو عطا ہوئی ہے۔ ورنہ انسان کی اپنی حقیقت اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ پانی کی ایک حقیر بوند سے پیدا ہوا۔ اور ماں کے پیٹ میں خون اس کی غذا بنتا رہا۔ لیکن پانی کی بوند سے بننے والا وجود اور لہو سے پلنے والی ذات جب دنیا میں آتی ہے تو اس کی طلعت زیبا اور گلگوں رخسار کو دیکھ کر ماں باپ نہال ہوتے جاتے ہیں۔ جو من موہنے چہرے کو دیکھتا ہے، دل تھام کے رہ جاتا ہے۔ اور پھر یہ جیسے جیسے زندگی کی منزلیں طے کرتا جاتا ہے اس کے حسن و رعنائی میں بھی اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کی انسانیت بھی درجہ کمال کی طرف بڑھتی جاتی ہے۔ لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ اس میں سے ہر خوبی اور ہر تغیر کے پیچھے صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ اور پھر اسی پر بس نہیں اللہ تعالیٰ نے پانی کی بوند سے جس بشر کو پیدا کیا ہے وہ کبھی مرد کی صورت میں پیدا ہوتا ہے اور کبھی عورت کی شکل میں۔ حیران کن بات یہ ہے کہ دونوں کی تخلیق ایک پانی سے ہے، لیکن دونوں کے ظاہری اعضاء میں بھی اختلاف ہے اور ذہنی رجحانات اور قلبی احساسات اور جذبات میں بھی زمین و آسمان کا فرق ہے۔ دونوں کے فطری داعیات ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔ لیکن مزید حیران کن بات یہ ہے کہ اس بین تفاوت کے باوجود دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم و ملزوم ہیں۔ مرد اپنی ساری قوتوں کے باوجود نامکمل ہے۔ عورت اپنی تمام تر لطافتوں کے باوجود ادھوری ہے۔ دونوں مل کر ایک مکمل وحدت بنتے ہیں۔ اور پھر عقل کی حیرانی کا سفر ابھی ختم نہیں ہوتا بلکہ وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ جاتی ہے کہ یہ وحدت جو مرد و عورت کی ترکیب سے وجود میں آتی ہے کثیرالتعداد وحدتوں کا سرچشمہ بنتی ہے۔ ان کے یہاں بچیاں بھی پیدا ہوتی ہیں اور بچے بھی۔ کسی کے یہ سسرال بنیں گے اور کوئی ان کے بچوں کے سسرال ہوں گے۔ باہمی رشتے ہوں گے، قرابتیں بڑھیں گی۔ اس طرح ایک انسانی معاشرہ معرض وجود میں آئے گا جس میں نسبی اور سسرالی رشتے دو خاندانوں کی صورت میں جب باہمی رشتوں کی لڑی میں پروئے جائیں گے تو خاندان، خاندان سے جڑ کر ایک ملک، ایک نسل اور ایک تمدن سے وابستہ ہوجائیں گے۔ اس پروردگارِ عالم کی قدرت کاملہ اور حکمت بالغہ کا کون اندازہ کرسکتا ہے کہ جو پانی کی ایک بوند سے مرد اور عورت کو پیدا کرتا ہے اور پھر محض اپنی قدرت کے اظہار سے ایک مرد اور ایک عورت کو درجہ بدرجہ آگے بڑھاتا ہے حتیٰ کہ اس سے خاندان وجود میں آتے ہیں اور پھر خاندان آپس میں ملتے ہیں۔ ایک نسل اور ایک تمدن کی تعمیر ہوتی ہے۔ آج یہ تجربہ ہماری آنکھوں کے سامنے ہے تو ہمیں اس پر تعجب نہیں ہوتا، لیکن اگر صرف اس کی روایت پہنچتی تو شاید اس پر یقین کرنا آسان نہ ہوتا۔
Ayah 25:55

وَ یَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا یَنْفَعُهُمْ وَ لَا یَضُرُّهُمْ١ؕ وَ كَانَ الْكَافِرُ عَلٰى رَبِّهٖ ظَهِیْرًا Open ayah 25:55 in the Quran reader

اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جو انھیں کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان، اور کافر اپنے رب کے مقابلے میں (ہمیشہ شیطان کا) مددگار ہوتا ہے

وَیَعْبُدُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ مَالاَ یَنْفَعُھُمْ وَلاَّیَضُرُّھُمْ ط وَکَانَ الْکَافِرُعَلٰی رَبِّہٖ ظَہِیْرًا۔ (الفرقان : 55) (اور یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے سوا ایسی چیزوں کی بندگی کرتے ہیں جو انھیں کوئی نفع پہنچا سکتی ہیں اور نہ نقصان، اور کافر اپنے رب کے مقابلے میں (ہمیشہ شیطان کا) مددگار ہوتا ہے۔ ) کافر کی عصبیت گزشتہ آیات میں جو آفاقی اور انفسی دلائل بیان کیے گئے ہیں اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے کہ ان دلائل کے سننے والے اللہ تعالیٰ کو کائنات کا خالق ومالک اور اللہ وحدہ لاشریک سمجھیں۔ اور اس کی الوہیت کے سامنے سر جھکا دیں۔ لیکن یہ احمق لوگ ایسے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ان قوتوں کی بندگی اور عبادت کرتے ہیں جو ذاتی اور حقیقی طور پر نہ کسی کو نفع پہنچانے پر قادر ہیں اور نہ نقصان۔ اور ان کے تعصبات اور قلبی رجحانات کا عالم یہ ہے کہ ان میں سے ہر کافر اور مشرک جو بظاہر کیسا ہی غیرمتعلق ہو اپنی ہمدردیاں ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کے دین کی تبلیغ و دعوت اور اس کی سربلندی کے لیے شب و روز کوششیں کرنے والوں کے دشمن ہیں۔ اس سے جو بھی بن پڑتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے کے لیے ضرور کرتا ہے۔ اور جو قوتیں اسلام کا راستہ روکنے کے لیے زور لگا رہی ہیں ان کی حمایت اور تائید کرنا اور جس حد تک ہوسکے ان کی مدد کرنا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ ظَہِیْرًا … کا معنی معین اور مددگار ہے۔ اور اس آیت کریمہ میں اس سے مراد معینا للشیطان ہے۔ یعنی وہ شیطان کا مددگار بن کر اپنے رب کیخلاف ہر قوت کا معاون اور دست وبازو بن جاتا ہے۔ کتنا واضح فرق ہے، دونوں باتوں میں۔ یعنی دلائل کا تقاضا یہ ہے کہ وہ لوگ پیغمبر پر ایمان لائیں اور اللہ تعالیٰ کے دین کے علمبردار بن کر اٹھیں۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ وہ ہر اس قوت کے ساتھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کو نقصان پہنچانے کے درپے ہیں۔ یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس کا بظاہر کوئی جواب بن نہیں پڑتا کہ انسان عقل کا پرستار ہے اور دین کے مقابلے میں بھی عقل کی بالادستی چاہتا ہے۔ لیکن عملی طور پر حال یہ ہے کہ عقل اس سے جس چیز کا مطالبہ کرتی ہے وہ اسے نظرانداز کرکے اپنے توہمات اور آبائواجداد کے چھوڑے ہوئے تعصبات کو سب سے بڑا سرمایہ سمجھ کر اسی کی پاسداری میں لگا رہتا ہے۔
Ayahs 25:56–57

وَ مَاۤ اَرْسَلْنٰكَ اِلَّا مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًا Open ayah 25:56 in the Quran reader

اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے

قُلْ مَاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ مِنْ اَجْرٍ اِلَّا مَنْ شَآءَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 25:57 in the Quran reader

ان سے کہہ دیجیے کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلیے

وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلاَّ مُبَشِّرًا وَّنَذِیْرًا۔ قُلْ مَـآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلاَّ مَنْ شَـآئَ اَنْ یَّـتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (الفرقان : 56، 57) (اے پیغمبر ! ہم نے آپ کو ایک مبشر اور نذیر بنا کر بھیجا ہے۔ ان سے کہہ دیجیے کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلیے۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کی ذمہ داری صرف انذار وتبشیر ہے، لوگوں کو زبردستی مومن بنانا نہیں۔ جو لوگ ایمان لائیں، آپ انھیں بہتر مستقل کی بشارت دیں۔ اور جو لوگ ایمان لانے سے انکار کردیں اور کسی طرح بھی آپ کی دعوت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ ہوں تو آپ انھیں تکذیب کے نتائج سے اچھی طرح آگاہ کردیں۔ اس حد تک ذمہ داری ادا کرنے سے آپ اپنے فریضے سے فارغ ہوجاتے ہیں۔ اگر کوئی شخص ایمان لاتا ہے تو وہ اپنی عاقبت سنوارتا ہے، آپ پر کوئی احسان نہیں کرتا۔ اور اگر کوئی شخص انکار کرتا ہے تو وہ اپنی عاقبت برباد کرتا ہے، آپ کا کچھ نہیں بگاڑتا اور ان کے ایمان سے متعلق آپ سے کوئی سوال بھی نہیں کیا جائے گا۔ ایک بات یاد رہے کہ قرآن کریم میں جہاں بھی اس طرح کے ارشادات آئے ہیں ان کا اصل روئے سخن کفار کی طرف ہے۔ مقصود صرف انھیں یہ بتانا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی ایک بےغرض مصلح ہے۔ وہ محض تمہاری بھلائی کے لیے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہے۔ اس کی اپنی ذاتی منفعت کوئی نہیں۔ وہ تمہارے سامنے ایمان کی برکات اور اس کے نتائج بھی واضح کردیتا ہے اور ایمان نہ لانے کی صورت میں تمہیں جس صورتحال سے دوچار ہونا پڑے گا، اسے بھی کھول کر بیان کردیتا ہے۔ لیکن جہاں تک تعلق صاحب ایمان لوگوں کا ہے ان کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے رسول کا معاملہ اسی بات پر ختم نہیں ہوتا، بلکہ ان کے ساتھ تعلق صرف انذار وتبشیر تک نہیں بلکہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول معلم بھی ہیں اور مزکی بھی۔ حاکم بھی ہیں اور قاضی بھی اور امیر بھی ہیں اور مطاع بھی۔ اس کی زبان سے نکلا ہوا ہر فرمان مسلمانوں کے حق میں حکم کا درجہ رکھتا ہے جس کی تعمیل کرنا اور قلب و نظر کی آمادگی کے ساتھ اس کا اتباع کرنا فرض اور واجب ہے۔ دوسری آیت میں ارشاد فرمایا کہ میں جو شب و روز تمہارے سامنے اللہ تعالیٰ کا دین پیش کررہا ہوں اور تم اس کے مقابلے میں دریدہ دہنی کا ثبوت دیتے ہو، کبھی اذیت پہنچاتے ہو، کبھی اس سے بھی آگے بڑھ کر قتل کے منصوبے باندھتے ہو۔ تو میں ان میں سے ہر بات پر صبر کرتا ہوں۔ کیونکہ میں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے انجام دیتا ہوں۔ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا کیونکہ یہ کوئی دکانداری نہیں بلکہ ایک فریضے کی ادائیگی ہے۔ اگر تم اسے قبول کرلو گے تو اپنا بھلا کرو گے۔ اور اگر انکار کردو گے تو یہ کوئی کاروبار نہیں کہ میرا نقصان ہوجائے گا۔ میرا اجر صرف یہ ہے کہ تم میں جو لوگ حق کو قبول کرنے کی استعداد رکھتے ہوں وہ حق کو قبول کرلیں۔ تمہارا حق کو قبول کرلینا اور شیطان سے منہ پھیر کر اللہ تعالیٰ کی رضا کا طالب بن جانا، میری تمام جانکاہیوں اور مشقتوں کا بہترین صلہ ہے۔
Ayah 25:58

وَ تَوَكَّلْ عَلَى الْحَیِّ الَّذِیْ لَا یَمُوْتُ وَ سَبِّحْ بِحَمْدِهٖ١ؕ وَ كَفٰى بِهٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِهٖ خَبِیْرَا٤ۚۛۙ Open ayah 25:58 in the Quran reader

اور بھروسہ کیجیے اس زندہ خدا پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ رہنے کے لیے کافی ہے

وَتَوَکَّلْ عَلَی الْحَیِّ الَّذِیْ لاَ یَمُوْتُ وَسَبِّحْ بِحَمْدِہٖ ط وَکَفٰی بِہٖ بِذُنُوْبِ عِبَادِہٖ خَبِیْرَا۔ (الفرقان : 58) (اور بھروسہ کیجیے اس زندہ خدا پر جسے کبھی موت نہیں آئے گی اور اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے اور وہ اپنے بندوں کے گناہوں سے آگاہ رہنے کے لیے کافی ہے۔ ) اشرافِ قریش نبی کریم ﷺ کو ہمیشہ اپنی افرادی قوت، اپنی طاقت و شوکت اور اپنی رفاہیت و ثروت سے ڈراتے رہتے تھے کہ آپ ﷺ اپنی دعوت سے رک جائیں ورنہ ہم جب چاہیں آپ کو بھی ختم کرسکتے ہیں اور آپ کی دعوت کو بھی۔ ہمارے جواب میں نہ آپ کے پاس افرادی قوت ہے اور نہ کوئی اور قوت کا سامان۔ ان کے جواب میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اشرافِ قریش جن کے سہارے پر آپ کو دھمکیاں دیتے ہیں ان میں سے ہر سہارا فانی ہے۔ ان میں سے کسی چیز کو بقا حاصل نہیں۔ ان میں سے جو لوگ بڑھ چڑھ کر باتیں بناتے ہیں وہ اپنی زندگی کے بارے میں خود کچھ نہیں جانتے۔ اس لیے آپ ان سب کے مقابلے میں اس اللہ پر بھروسہ کریں جسے کبھی موت نہیں آئے گی۔ زندگی اس کا فیضان ہے۔ جہاں کہیں زندگی پائی جاتی ہے اس کی صفت تخلیق اور اس کی رحمت کا نتیجہ ہے۔ جس کا وہ مددگار ہوتا ہے دنیا کی کوئی طاقت اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ غارِ ثور میں چونکہ اللہ تعالیٰ ہی کے بھروسے پر آپ پناہ گزین تھے۔ اس بےپناہ قدرتوں والے نے ایک مکڑی کے جالے اور کبوتری کے گھونسلے سے آپ کی حفاظت فرمائی۔ یہ انتہائی ناپائیدار چیزیں بڑے سے بڑے قلعے سے زیادہ مضبوط ثابت ہوئیں۔ جب ایک بدوی نے برہنہ تلوار آپ کے سر پر لہراتے ہوئے کہا کہ اب آپ کو مجھ سے کون بچا سکتا ہے تو آپ نے نہایت اطمینان سے فرمایا، اللہ۔ تلوار اس کے ہاتھ سے چھوٹ گئی۔ البتہ صبروتوکل کے حصول کا وسیلہ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کے ارشادات کے مطابق اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید میں مشغول رہنا ہے۔ نماز جس کی عملی صورت ہے اس کا زیادہ سے زیادہ اہتمام رکھنا ہے۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ بقدر استعداد طاقت بھی فراہم کرنی ہے، لیکن توکل اسلحے اور افرادی قوت پر نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونا چاہیے جسے تسبیح وتحمید سے اپنی طرف متوجہ کیا جاسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ دشمن کتنا سرکش، منہ زور اور بپھرا ہوا ہے، آپ اس کی ہرگز پرواہ نہ کریں، ان کا معاملہ اپنے رب کے حوالے کریں۔ وہ ان کے تمام جرائم اور کرتوتوں سے باخبر ہے۔ اور جب باخبر ہے تو ان کے ساتھ وہی کرے گا جو ایسے لوگوں کے ساتھ کیا جانا چاہیے۔
Ayah 25:59

اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ وَ مَا بَیْنَهُمَا فِیْ سِتَّةِ اَیَّامٍ ثُمَّ اسْتَوٰى عَلَى الْعَرْشِ١ۛۚ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِهٖ خَبِیْرًا Open ayah 25:59 in the Quran reader

جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ ادوار میں، پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا (جیسے اس کی شان ہے) وہ رحمن ہے، پس اس کی شان باخبر سے پوچھو

الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَ یَّـامٍ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ ج اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِہٖ خَبِیْرًا۔ (الفرقان : 59) (جس نے پیدا کیا آسمانوں اور زمین کو اور جو کچھ ان کے درمیان ہے چھ ادوار میں، پھر وہ اپنے عرش پر متمکن ہوا (جیسے اس کی شان ہے) وہ رحمن ہے، پس اس کی شان باخبر سے پوچھو۔ ) پروردگار کی چند مزید صفات کا ذکر اس آیت کریمہ میں پروردگار کی مزید صفات بیان ہوئی ہیں کہ وہ صرف زندہ ہی نہیں بلکہ آسمانوں اور زمینوں اور ان کے درمیان تمام چیزوں کو اس نے چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ سورة الاعراف میں اس کی وضاحت گزر چکی ہے۔ دنوں سے کیا مراد ہے ؟ یہ متشابہات کے قبیل سے ہے جس کا مفہوم متعین کرنا مشکل ہے۔ عام طور پر اس سے چھ ادوار مراد لیے گئے ہیں۔ اس میں درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ کائنات کسی اتفاقی حادثہ کے طور پر وجود میں نہیں آگئی بلکہ اس کے خالق نے اسے نہایت اہتمام سے پیدا کیا ہے۔ ثُمَّ اسْتَوٰی عَلَی الْعَرْشِ … پھر وہ عرش پر متمکن ہوا۔ اس کی حقیقت سے ہم واقف نہیں۔ عرش کیا ہے اور اللہ تعالیٰ کے متمکن ہونے سے کیا مراد ہے ؟ لیکن ایسا معلوم ہوتا ہے کہ تصور یہ دینا مقصود ہے کہ اس کائنات کو پیدا کرنے کے بعد اس کا خالق کسی گوشے میں چھپ کر نہیں بیٹھ گیا، جیسا کہ بعض فلاسفہ کا خیال ہے۔ کیونکہ اگر وہ کائنات کی تخلیق کے بعد خود لاتعلق ہو کے بیٹھ جاتا تو اس کا مطلب یہ ہوتا کہ اس نے بلاوجہ ایک کارعبث انجام دیا ہے جس کی کوئی ضرورت نہ تھی۔ اور یہ چیز ایک مدبر و حکیم کی شان کے بالکل خلاف ہے۔ وہ بالفعل اپنی کائنات کے عرش حکومت پر متمکن ہے۔ یعنی اس کے سارے انتظام کی نگرانی فرما رہا ہے۔ کائنات میں جو تبدیلیاں آئیں، جو ارتقاء ہوا اور آئندہ بھی جو کچھ ہوگا وہ سب اللہ تعالیٰ کی تدبیر و حکمت سے ہورہا ہے۔ اور اس کائنات کو سنبھالنے اور اس کے نظام کو چلانے میں اس کے سوا کسی کو کوئی دخل نہیں۔ اَلرَّحْمٰنُ فَسْئَلْ بِہٖ خَبِیْرًا … الرحمن، خبر ہے۔ اس کا مبتدا ” ھو “ محذوف ہے۔ یعنی جس ذات نے اس کائنات کو وجود بخشا ہے وہ رحمن ہے۔ اس لفظ سے کائنات کے بامقصد ہونے کی طرف اشارہ ہے۔ جب اس کائنات کا وجود رحمت کی وجہ سے ہوا ہے اور رحمت ہی کے لیے اس کو پیدا کیا گیا ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ دنیا میں بےسہارا اور بےنوا لوگ ظلم کی چکی میں پستے رہیں۔ طاقتوروں کے ہاتھ سے قتل ہوتے رہیں، لوٹنے والوں کے ہاتھوں لٹتے رہیں۔ اسی طرح اچھے لوگ خیر اور بھلائی کی سربلندی کے لیے قربانیاں دیتے ہیں اور بعض دفعہ اس راستے میں جانیں دے دیں۔ لیکن نہ انھیں اپنی قربانیوں کا صلہ ملے اور نہ مجبور و مغفور لوگوں کی محرومیوں کی تلافی ہو۔ اس کی رحمت کا تقاضا یہ ہے کہ ایک دن ایسا آئے کہ اس کی رحمت کامل عدل کی صورت میں ظہور میں آئے۔ قربانیاں دینے والے بیش از بیش صلہ پائیں اور مظلوموں پر ظلم کرنے والے اللہ تعالیٰ کی عدالت میں کھڑے ہوں اور کمزوروں کو قتل کرنے والے قتل کے جرم میں پکڑے جائیں اور سب کو ویسی سزا ملے جس کے وہ حقیقت میں مستحق ہیں۔ فَسْئَلْ بِہٖ خَبِیْرًا … علامہ عثمانی (رح) اپنی تفسیر فوائدِ عثمانی میں اس آیت کی توضیح کرتے ہوئے لکھتے ہیں، یعنی اللہ تعالیٰ کی شانوں اور رحمتوں کو کسی جاننے والے سے پوچھو، یہ جاہل مشرک اسے کیا جانیں۔ وَمَا قَدَرُوا اللّٰہَ حَقَّ قَدِرِہٖ اپنی شئون و کمالات کا پوری طرح جاننے والا تو خدا ہی ہے۔ اَنْتَ کَمَااَثْنَیْتَ عَلٰی نَفْسِک ” لیکن مخلوق میں سب سے بڑے جاننے والے حضرت محمد رسول اللہ ﷺ ہیں جن کی ذات گرامی میں اللہ تعالیٰ نے اولین و آخرین کے تمام علوم جمع کردئے۔ خدا تعالیٰ کی شانوں کو کوئی ان سے پوچھے۔
Ayah 25:60

وَ اِذَا قِیْلَ لَهُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَ مَا الرَّحْمٰنُ١ۗ اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَ زَادَهُمْ نُفُوْرًا۠۩ Open ayah 25:60 in the Quran reader

اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو، وہ پوچھتے ہیں، رحمن کون ہے۔ کیا ہم سجدہ کریں اس کو جس کے متعلق تم ہمیں حکم دیتے ہو، اور یہ چیز ان کی نفرت کو اور بڑھا دیتی ہے

وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اسْجُدُوْا لِلرَّحْمٰنِ قَالُوْا وَمَا الرَّحْمٰنُ ق اَنَسْجُدُ لِمَا تَاْمُرُنَا وَزَادَھُمْ نُفُوْرًا۔ (الفرقان : 60) (اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ رحمن کو سجدہ کرو، وہ پوچھتے ہیں، رحمن کون ہے۔ کیا ہم سجدہ کریں اس کو جس کے متعلق تم ہمیں حکم دیتے ہو، اور یہ چیز ان کی نفرت کو اور بڑھا دیتی ہے۔ ) اسمِ رحمن پر قریش کا اعتراض اور اس کا جواب اس آیت کریمہ میں قریش اور دیگر مشرکین کی بیخبر ی اور جہالت کا حوالہ دیا گیا ہے جو حقیقت میں تمرد تک پہنچ چکی تھا۔ باوجود اس کے کہ کائنات کے خالق کی سب سے بڑی صفت رحمن ہے اور پروردگار کی اسی صفت کے باعث دنیا وجود میں آئی اور اسی صفت کے مکمل ظہور کے لیے قیامت برپا ہوگی اور اللہ تعالیٰ کی اس صفت عدل کا بتمام و کمال ظہور ہوگا۔ لیکن ان نادانوں کا حال یہ تھا کہ جب ان سے یہ کہا جاتا کہ اس اللہ کو سجدہ کرو جو رحمن ہے تو بڑی رعونت سے جواب دیتے کہ رحمن کیا ہے، ہم اسے نہیں جانتے۔ اور یہ ہم سے نہیں ہوسکتا کہ تم جسے سجدہ کرنے کا حکم دو ، ہم اسے سجدہ کرنا شروع کردیں۔ بلکہ ان کی سرکشی کا عالم یہ تھا کہ قرآن کریم نے اس مبارک نام کی طرف توجہ دلائی تو بجائے اس کے کہ وہ اسے ایک بڑے خزانے کی خبر سمجھیں اور اس پر شکرگزار ہوں اور صدق دل سے اس کی قدر کریں، یہی بات ان کے اندر نفرت اور بیزاری کے بڑھانے کا سبب بن گئی۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قریش رحمن کے لفظ سے بدکتے تھے۔ وہ پروردگار کے اسم ذاتی کے طور پر اللہ کے لفظ کو مانتے بھی تھے اور اسے استعمال بھی کرتے تھے۔ لیکن رحمن کو اللہ کے ساتھ یا اس کی جگہ پر قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ معاہدہ حدیبیہ کے آغاز میں جب آنحضرت ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم لکھوایا تو قریش کے سفیر نیباسمک اللھملکھنے پر اصرار کیا۔ اور صاف کہا کہ ہم رحمن کو نہیں جانتے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ واقعی رحمن کے نام سے واقف نہیں تھے، لیکن بعض اہل علم نے اس بات کو قبول کرنے سے اس بناء پر تأمل کیا ہے کہ یہ بات تاریخی طور پر ثابت ہے کہ عرب میں اللہ تعالیٰ کے لیے قدیم زمانے سے رحمن کا لفظ معروف و مستعمل تھا۔ ان کے لٹریچر میں آج بھی اللہ اور رحمن دونوں نام ملتے ہیں۔ اس لیے ان اصحابِ علم کی رائے یہ ہے کہ رحمن سے ان کا انکار محض کافرانہ شوخی اور ہٹ دھرمی کی بنا پر تھا۔ یہ بات نہ تھی کہ وہ اس سے واقف نہ تھے۔ کچھ اور اہل علم کا گمان یہ ہے کہ رحمن کا لفظ زیادہ تر اہل کتاب کے یہاں معروف تھا۔ مشرکینِ عرب اسم اللہ ہی کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ قرآن کریم نے جب رحمن کے لفظ کا استعمال کیا اور قرآن کریم کی سب سے پہلی سورة ، سورة الفاتحہ میں اس کا ذکر آیا۔ تو قریش نے یہ محسوس کیا کہ یہ اہل کتاب کی سازش ہے۔ اور محمد ﷺ نعوذباللہ من ذالکان کے آلہ کار ہیں۔ انھیں کی مدد سے قرآن کریم لکھ رہے ہیں اور انھیں کے ایمان سے ان کے خیالات کو ہم پر مسلط کرنا چاہتے ہیں۔ چناچہ اس تصور نے ان کے اندر رحمن سے نفرت پیدا کردی۔ سبب کچھ بھی ہو، قرآن کریم قریش کی حماقت پر توجہ دلاتے ہوئے انھیں یہ احساس دلانا چاہتا ہے کہ نادانو ! تم نے دوسروں کی ضد میں اپنے آپ کو ایک ایسے نام سے محروم کرلیا ہے جو تمہارے لیے بیشمار برکتوں اور رحمتوں کا خزانہ ہے۔ یہ آیت سجدہ کی آیت ہے، یعنی اس آیت کی تلاوت ختم ہونے پر سجدہ ٔ تلاوت ضروری ہے۔ اور تمام اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ اس آیت کے پڑھنے والے اور اس کے سننے والے پر سجدہ کرنا ضروری ہوجاتا ہے۔ نیز یہ بھی مسنون ہے کہ آدمی جب اس آیت کو سنے تو جواب میں کہے زَادَنَا اللّٰہُ خُضُوْعًا مَّازَادَلِلْاَعْدَائِ نُفُوْرًا ” اللہ تعالیٰ ہمارے اندر خضوع میں اضافہ کرے جتنا دشمنوں میں نفور بڑھے۔ “
Ayahs 25:61–62

تَبٰرَكَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَآءِ بُرُوْجًا وَّ جَعَلَ فِیْهَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا Open ayah 25:61 in the Quran reader

بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک منور چاند بنایا

وَ هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَ النَّهَارَ خِلْفَةً لِّمَنْ اَرَادَ اَنْ یَّذَّكَّرَ اَوْ اَرَادَ شُكُوْرًا Open ayah 25:62 in the Quran reader

اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکرگزار بننا چاہے

تَبٰـرَکَ الَّذِیْ جَعَلَ فِی السَّمَـآئِ بُرُوْجًا وَّجَعَلَ فِیْھَا سِرٰجًا وَّ قَمَرًا مُّنِیْرًا۔ وَھَوَالَّذِیْ جَعَلَ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ خِلْفَۃً لِّمَنْ اَرَادَاَنْ یَّذَّکَّرَاَوْ اَرَادَ شُکُوْرًا۔ (الفرقان : 61، 62) (بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے آسمان میں برج بنائے اور اس میں ایک چراغ اور ایک منور چاند بنایا۔ اور وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کے بعد آنے والا بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے یا شکرگزار بننا چاہے۔ ) تَبَارَکَ کا مفہوم اور سورة کی پہلی آیت سے ربط عجیب بات یہ ہے کہ اس سورة کا آغاز بھی تَبَارَکَ سے ہوا تھا اور اس کے آخری رکوع کا آغاز بھی اسی لفظ سے ہورہا ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کریم کے الفاظ و معانی میں کس قدر ہم آہنگی اور ربط پایا جاتا ہے۔ وہاں ہم نے تَبَارَکَکی تشریح کرتے ہوئے عرض کیا تھا کہ یہ لفظ ایسا وسیع المعنی ہے جس کا پورا مفہوم کسی ایک لفظ تو درکنار ایک فقرے میں بھی ادا ہونا مشکل ہے۔ اس کا مادہ ب، ر، ک ہے۔ اس سے دو مصدر مستعمل ہیں۔ 1 بَرَکَۃ 2 بُرُوْک، برکت کے مفہوم میں رفعت و عظمت اور افزائش و فراوانی کے تصورات شامل ہیں۔ اور بروک میں ثبات، بقاء اور لزوم کا تصور پایا جاتا ہے۔ اس صورت میں اس کا مطلب یہ ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو رفیع و عظیم ہے۔ وہ عظمتوں کا سرچشمہ ہے اور رفعتیں اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں۔ خیرات و حسنات اسی کے فیض سے وجود میں آتی ہیں۔ ہر چیز میں اضافہ اور کثرت اسی کی عنات کا ثمر ہے۔ وہ ذات ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہے گی۔ وہ اپنی بزرگی اور عظمت میں سب پر فائز ہے اور اپنی ذات وصفات اور افعال میں ہر ایک سے بالاتر ہے۔ اس کی ربوبیت اور فیضان بےمثال اور بینظیر ہے۔ اس کے کمالات کو کبھی زوال نہیں۔ اس کے بےمثال فیضان اور بےانتہا لطف و کرم کے طور پر سورة کے آغاز میں قرآن کریم کے نزول کو فرقان کے نام سے ذکر فرمایا گیا۔ اور اب پیش نظر آیت کریمہ میں اسی فیضان کو بروج اور سراج اور منور چاند سے تعبیر کیا۔ جس میں شاید یہ کہنا مقصود ہے کہ جب ہم نے قرآن کریم کی صورت میں آفتابِ ہدایت کو نازل فرمانے کا ارادہ کیا تو اس سے پہلے آسمان پر برج بنائے۔ برج سے مراد وہ قلعے اور دیدبان ہیں جو اس نظام کائنات میں اللہ تعالیٰ نے اس لیے بنائے ہیں کہ جن و انس ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھ سکیں۔ اور قرآن کریم کے نزول سے پہلے وہ جس طرح استراقِ سمع کا ارتکاب کرتے تھے اور پھر اپنی طرف سے اس میں جھوٹ سچ ملا کر کاہنوں کے کاروبار کو تقویت پہنچاتے تھے اور عالم الغیب ہونے کا بھرم رچا کر لوگوں کے عقائد کو بگاڑتے تھے۔ جب آخری آفتابِ ہدایت کے نزول کا وقت آیا تو اللہ تعالیٰ نے بروج میں پہرے بٹھا کر ملائے اعلیٰ کی حدود کو اس طرح کی دسترس سے بالکل محفوظ کردیا تاکہ اللہ تعالیٰ کی وحی اور اس کی القاء کی ہوئی غیب کی خبریں محفوظ حالت میں اللہ تعالیٰ کے آخری رسول تک پہنچیں اور کسی اور کو یہ دعویٰ کرنے کا موقع نہ ملے کہ وہ غیب دانی پر دسترس رکھتا ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کے فیضان کے حوالے سے سراج یعنی سورج اور روشن چاند کا ذکر فرمایا۔ یعنی جس طرح انسان کی معنوی اور روحانی زندگی کے لیے قرآن کے آفتاب کا مطلع نبوت پر طلوع ہونا ضروری تھا، اسی طرح انسان اور دیگر مخلوقات کی ظاہری اور جسمانی زندگی کے لیے سورج اور چاند کا بنایا جانا بھی ضروری تھا۔ نہ اس کے بغیر انسانی زندگی ممکن تھی اور نہ نبوت اور قرآن کے بغیر انسان کی فلاح ممکن تھی۔ نشانیوں کی کمی نہیں اصل ضرورت تذکر اور شکرگزاری کی ہے جس طرح انسانی زندگی کے لیے سورج اور چاند کا وجود ضروری ہے اسی طرح انسانی زندگی اور انسانی مشاغل کے لیے رات اور دن کا ایک دوسرے کے بعد آنا بھی ضروری ہے۔ اس سے پہلے یہ بات گزر چکی ہے کہ اگر پروردگار رات کے سائے کو مستقل کردیتا اور دن کبھی طلوع نہ ہوتا تو ہر طرح کی حیوانی اور انسانی زندگی تباہ ہوجاتی۔ اور اسی طرح اگر دن کی روشنی اور سورج کی تبش کو مستقل یا دراز کردیا جاتا تو سمندروں کا پانی بھاپ بن کر اڑ جاتا اور ہر چیز بھسم ہو کے رہ جاتی۔ اور پھر رات اور دن جس طرح ایک لگے بندھے طریقے سے اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار بن کر ایک دوسرے کے بعد آتے ہیں اور اس میں جو جو حکمتیں مضمر ہیں ہم سورة فاتحہ میں اس پر بحث کرچکے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک بات اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کی وحدانیت پر دلالت کرتی ہے۔ ہر دیدہ بینا اس سے متاثر ہوتی اور ہر قلب بیدار اس سے ہدایت پاتا ہے۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ان نشانیوں سے نصیحت حاصل کرنے اور شکرگزاری کا جذبہ پانے کا ارادہ ہو۔ اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہمارے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں۔ خود انسان کا جسم، اس کی جان، اس کے احساسات اور اس کی صلاحیتیں ایک سے ایک بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی نشانیاں ہیں، لیکن کافر ان سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ کیونکہ فائدہ اٹھانے کے لیے نیت اور ارادہ شرط ہے۔ جو آدمی پھول کی پنکھڑی کو دیکھتا ہے اگر اس کے اندر تذکر اور شکرگزاری کا جذبہ نہیں تو وہ صرف اسے خوشبو کا ذریعہ، ملائمت کا نمونہ اور یا بدرجہ آخر گل قند کا سامان سمجھتا ہے۔ لیکن جس شخص میں تذکر کا مادہ پایا جاتا ہے وہ پھول کی ہر پنکھڑی کو معرفتِ کردگار کا ورق گردانتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ تذکر، عقل کا فعل ہے اور شکر، دل کا۔ یہی دونوں حقیقتیں انسانی شرف کی ضامن اور علامت ہیں۔ لیکن ان دونوں کا دارومدار اس بات پر ہے کہ آدمی ان کے حصول کے لیے اپنے اندر جذبہ بیدار اور ارادہ بےپناہ رکھتا ہو۔