25. Surah Al-Furqaan

الفرقانThe Criterion · 77 ayahsروح القرآن

Ayah 25:63

وَ عِبَادُ الرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَى الْاَرْضِ هَوْنًا وَّ اِذَا خَاطَبَهُمُ الْجٰهِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا Open ayah 25:63 in the Quran reader

اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان کے منہ آئیں تو وہ ان کو سلام کرکے رخصت ہوجاتے ہیں

وَعِبَادُالرَّحْمٰنِ الَّذِیْنَ یَمْشُوْنَ عَلَی الْاَرْضِ ھَوْنًا وَّاِذَا خَاطَبَـھُمُ الْجٰھِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا۔ (الفرقان : 63) (اور رحمن کے بندے وہ ہیں جو زمین پر فروتنی سے چلتے ہیں اور جب جاہل لوگ ان کے منہ آئیں تو وہ ان کو سلام کرکے رخصت ہوجاتے ہیں۔ ) عبادالشیطان کے مقابلہ میں عبادالرحمن کا بیان گزشتہ رکوع کی آیت نمبر ساٹھ میں بتایا گیا ہے کہ جب قریش سے کہا گیا کہ رحمن کو سجدہ کرو تو انھوں نے نہایت تکبر سے جواب دیا، کون ہے رحمن ؟ رحمن کیا ہوتا ہے ؟ اور ان کے اس طرزعمل نے ان کے دلوں میں رحمن سے نفرت میں اضافہ کردیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں میں اللہ تعالیٰ کے وہ بندے جو نبی کریم ﷺ پر ایمان لائے اور آنحضرت ﷺ کی تربیت نے ان کے اندر وہ روحانی اور اخلاقی کمالات پیدا کیے کہ آج وہ مسلمانوں کی تاریخ کا قابل صد افتخار باب ہیں انھیں عبادالرحمن کے عنوان سے یاد کیا گیا اور ان کے وہ اوصاف بیان کیے گئے جو انسانیت کے جوہر ہیں۔ بتانا مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک اللہ اور رحمن میں کوئی فرق نہیں، دونوں اللہ تعالیٰ کے نام ہیں۔ تم جس ذات بزرگ و برتر کو اللہ تعالیٰ کے نام سے جانتے ہو وہی رحمن ہے، لیکن تم اس کے سامنے جھکنا اور اس کی طرف اپنا انتساب کرنا اپنے لیے باعث عار سمجھتے ہو، لیکن جن لوگوں پر انسانیت ہمیشہ ناز کرتی رہے گی ان کے لیے عبادالرحمن کا نام اور عنوان نہایت عزت و افتخار کی علامت ہے۔ عباد کا مفہوم رحمن کی طرف انتساب کے ساتھ ساتھ عباد کا لفظ بھی قابل توجہ ہے، یہ عبد کی جمع ہے جو غلام پر بولا جاتا ہے۔ آگے جن لوگوں کی صفات بیان کی جارہی ہیں ان صفات کے اصل سرچشمے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان میں یہ صفات اس لیے آئی ہیں اور ان میں یہ حیرت انگیز تبدیلیاں اس لیے رونما ہوئی ہیں کہ انھوں نے دنیا بھر کی غلامیوں سے رشتہ توڑ کر اللہ تعالیٰ سے غلامی کا رشتہ جوڑا ہے، ان کا سر صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکتا ہے، وہ صرف اس سے ڈرتے اور اس سے امید باندھتے ہیں، اسی پر بھروسہ کرتے اور اسی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہیں، ان کا قیام، رکوع، سجود اور قعود صرف اسی کے لیے ہیں۔ وہ اس شریعت کی پیروی کرتے ہیں جو اس نے اپنے رسول پر نازل کی ہے۔ اور وہ اس رسول کو اسوہ حسنہ سمجھتے ہیں جس پر وہ ایمان لائے ہیں۔ یہ اللہ اور رحمن کی بندگی ہے جس نے ان کے اندر وہ اوصاف پیدا کردیئے ہیں جن کا آگے ذکر کیا جانے والا ہے۔ بالکل سامنے کی بات ہے کہ جو شخص انسانوں کی بندگی کرے گا اس کے اندر وہ اوصاف پیدا نہیں ہوسکتے جو اس کی ذات کو رفعتِ پرواز دے سکیں۔ جو توہمات کو اپنا معبود بنائے گا اس کے اندر انسانیت کی حقیقت پیدا نہیں ہوسکتی۔ جو مظاہرقدرت کے سامنے جھکے گا اس کے اندر قوت تسخیر کبھی جنم نہیں لے سکتی۔ جو لکشمی دیوی کی پوجا کرے گا وہ حرص، بخل، خودغرضی اور نفسانی جذبات سے کبھی بلند نہیں ہوسکے گا۔ علیٰ ہذا القیاس ملکوتی صفات اور الٰہی اخلاق صرف اس شخص میں پیدا ہوسکتے ہیں جس کا سر اللہ تعالیٰ کے آستانے کے سوا کہیں اور نہ جھکتا ہو اور جس کی بندگی کا رشتہ اللہ تعالیٰ اور رحمن کے سوا کسی اور سے نہ ہو۔ سیرت و اخلاق کے دو نمونے ایک اور بات کی طرف بھی توجہ دلائی جارہی ہے وہ یہ کہ تمہارے سامنے سیرت و اخلاق کے دو نمونے ہیں۔ ایک وہ نمونہ ہے جو قرآن کریم کی دعوت کو قبول کرنے اور آنحضرت ﷺ کی پیروی کرنے کے نتیجے میں وجود میں آیا اور جسے اس رکوع میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ اور ایک وہ نمونہ ہے جو صدیوں کے توہمات، تقلیدِآباء اور جاہلیت نے پیدا کیا ہے جو آج مکہ اور عرب بھر میں چاروں طرف نظر آتا ہے۔ نہایت خاموشی کے ساتھ قریش اور دیگر اہل مکہ کو دعوت دی گئی ہے کہ تم ان دونوں نمونوں میں تقابل کرکے دیکھو۔ ایک نمونے کا عکس تو تمہارے اندر موجود ہے اور دوسرا نمونہ اصحابِ ایمان کی شکل میں تمہیں چلتا پھرتا دکھائی دیتا ہے۔ اور ان آیات میں اسی کا عکس دکھایا گیا ہے۔ پھر خود فیصلہ کرو کہ ان دونوں نمونوں میں سے انسانیت کو کس نمونے کی ضرورت ہے، اور وہ کون سا نمونہ ہے جس سے نفرتوں کے اس جہنم کی آگ بجھائی جاسکتی ہے۔ عبادالرحمن کی پہلی صفت عاجزانہ رفتار روئے سخن چونکہ اشرافِ قریش کی طرف ہے جن کے کبروغرور اور تکبر کا عالم یہ ہے کہ خدا کا محبوب نام رحمن بھی انھیں گوارا نہیں۔ اس لیے ان کے کبر و غرور پر چوٹ لگانے کے لیے سب سے پہلے عبادالرحمن کی عاجزی اور فروتنی کو ذکر کیا جارہا ہے۔ کیونکہ انسانیت کی بقا اور اس کی ترقی و عروج کے لیے جباروں اور مفسدوں کی ضرورت نہیں بلکہ شریف الطبع، حلیم، بردبار اور ہمدرد و غمگسار لوگوں کی ضرورت ہے جو لوگوں کے کام آئیں اور ان کے زخموں پر مرہم رکھیں۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ اس عاجزی اور فروتنی کے اظہار کے لیے عبادالرحمن کی رفتار اور چال کو حوالہ بنایا گیا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ رحمن کے بندے جب چلتے ہیں تو نرم چال چلتے ہیں یعنی نہایت عاجزی اور فروتنی سے چلتے ہیں۔ جس طرح اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا، طبیعت پر قابو رکھنے والا، غرور وتکبر سے دور اور تمام انسانوں کی بھلائی سوچنے والا چلتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف اس کا سر اٹھنے نہیں دیتا، لوگوں سے برابری اس کے سینے میں ہوا بھرنے نہیں دیتی۔ عاجزی اور فروتنی اسے قدم پٹخنے کی اجازت نہیں دیتی۔ وہ ہوا کے جھونکے کی طرح آتا اور گزر جاتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ اس کی رفتار میں کمزوری کا احساس ہوتا ہے۔ نرم چال سے مریضانہ چال مراد نہیں اور نہ وہ چال مراد ہے جس میں ریا کاری اور انکساری کی نمائش پائی جاتی ہے وہ نبی کریم ﷺ کی طرح مضبوط قدم رکھتے ہوئے اس طرح چلتا ہے گویا اس کے قدم نشیب کی طرف اتر رہے ہیں۔ حضرت عمرفاروق ( رض) کے متعلق روایات میں آیا ہے کہ انھوں نے ایک جوان آدمی کو مریل چال چلتے دیکھا، تو روک کر پوچھا کیا تم بیمار ہو ؟ اس نے عرض کیا جی نہیں۔ آپ ( رض) نے دُرہ اٹھا کر اسے دھمکایا اور بولے قوت کے ساتھ چلو، اسلام کو کمزوروں کی نہیں مضبوط نوجوانوں کی ضرورت ہے۔ ممکن ہے ذہن میں یہ خیال آئے کہ کسی شخص سے تعارف حاصل کرنے کے لیے یہ کبھی نہیں پوچھا جاتا کہ وہ چلتا کیسے ہیں۔ نہ کسی کا تعارف کراتے ہوئے بتایا جاتا ہے کہ وہ چلتا کیسے ہے، بلکہ ہمیشہ اس کی دیگر صفات، اس کی صلاحیتیں، اس کی مالی حالت یا اس کی علمی فتوحات کا ذکر کیا جاتا ہے۔ یہاں پروردگار نے عبادالرحمن کی صفات میں سب سے پہلے رفتار ہی کا ذکر کیوں فرمایا ؟ بات دراصل یہ ہے کہ آپ اگر کسی شخص کا اندازہ کرنا چاہتے ہیں تو اس کی ایک صورت تو یہ ہے کہ آپ اس کے ساتھ معاملات کرکے دیکھیں، ظاہر ہے کہ یہ صورت ہر ایک کے ساتھ پیش نہیں آتی۔ اور دوسری صورت یہ ہے کہ آپ اس سے گفتگو کرکے دیکھیں، کیونکہ گفتگو ایک ایسا آئینہ ہے جس میں بولنے والے کی شخصیت جھلکتی دکھائی دیتی ہے۔ سعدی نے ٹھیک کہا : شخصے کہ تانہ گفتہ باشد عیب و ہنرش نہفتہ باشد ہر بیشہ گماں مبر کہ خالی است شاید کہ پلنگ خفتہ باشد لیکن گفتگو کی نوبت بھی بہ اول مرحلہ نہیں آتی۔ تعلقات پیدا ہوتے ہیں اور، بےتکلفی تک نوبت پہنچتی ہے تو تب کھل کر بات کرنے کا موقع آتا ہے۔ لیکن چال اور رفتار ایک ایسی علامت ہے جس کے راستے میں کوئی چیز حائل نہیں۔ آپ ہر گزرنے والے کو پہلی نظر چلتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں اور مزید یہ کہ آدمی کی چال صرف اس کے اندازِ رفتار ہی کا نام نہیں بلکہ درحقیقت وہ اس کے ذہن اور اس کی سیرت و کردار کی اولین ترجمان بھی ہوتی ہے۔ اگر آپ غور سے دیکھیں گے تو سیرت و کردار کے اعتبار سے مختلف افراد کے چلنے کا انداز آپ مختلف پائیں گے۔ ایک عیار آدمی کی چال، ایک غنڈے بدمعاش کی چال، ایک ظالم و جابر کی چال، ایک خودپسند متکبر کی چال، ایک باوقار مہذب آدمی کی چال، ایک غریب مسکین کی چال اور اسی طرح مختلف اقسام کے دوسرے انسانوں کی چالیں ایک دوسرے سے اس قدر مختلف ہوتی ہیں کہ ہر ایک کو دیکھ کر باآسانی اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ کس چال کے پیچھے کس طرح کی شخصیت جلوہ گر ہے۔ پس آیت کا مدعا یہ ہے کہ رحمن کے بندوں کو تم عام آدمیوں کے درمیان چلتے پھرتے دیکھ کر ہی بغیر کسی سابقہ تعارف کے الگ پہچان لو گے کہ یہ کس طرح کے لوگ ہیں۔ ان کے چہروں کا نور، ان کی جھکی ہوئی نگاہیں، ان کی خم کی ہوئی گردنیں، ان کے جمتے ہوئے مضبوط قدم، لوگوں سے بےنیاز اپنی دھن میں مصروف، دنیا کی دلچسپیوں سے بیگانہ اور مقصد کی لگن میں منہمک یہ ایسے لوگ دکھائی دیتے ہیں جو زمین پر بوجھ بن کر نہیں بلکہ زمین کا سہاگ بن کر جینا چاہتے ہیں۔ دوسری صفت مومنانہ گفتار وَاِذَا خَاطَبَـھُمُ الْجٰھِلُوْنَ قَالُوْا سَلٰمًا… عبادالرحمن کے تعارف میں سب سے پہلے ان کی چال اور رفتار سے منعکس ہونے والی عاجزی اور فروتنی کو ذکر کرنے کے بعد دوسری صفت یہ بیان فرمائی کہ جب جاہل لوگ ان کے منہ آئیں تو وہ سلام کہہ کے رخصت ہوجاتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ پہلے عبادالرحمن کی رفتار کا ذکر فرمایا، اب ان کی گفتار کا ذکر فرمایا جارہا ہے۔ اس میں سب سے پہلی بات جو ہماری توجہ اپنی طرف مبذول کرتی ہے وہ یہ ہے کہ وہ لوگ بےضرورت بات کرنے والے نہیں ہوتے۔ اور بےمقصد بحث کرنا بھی ان کا کام نہیں۔ وہ بولتے اس وقت ہیں جب بولنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ جاو بےجا بولنا ان کا طریقہ نہیں، کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ منہ سے نکلا ہوا ہر بول قیامت کے دن ترازو کا تول بنے گا۔ ایک ایک بات کا جواب دینا پڑے گا اور یہ بھی جانتے ہیں کہ زبان جس لفظ کو اگلتی ہے کندھوں پر بیٹھے ہوئے نگران فوراً اسے لکھ لیتے ہیں۔ کوئی لفظ یا کوئی جملہ ایسا نہیں جس کو زبان ادا کرے اور وہ نامہ عمل کا حصہ نہ بنے اور پھر قیامت کے دن اس کے بارے میں جوابدہی نہ کرنا پڑے۔ یہ وہ تصورات ہیں جس نے انھیں کم سے کم بولنے پر مائل کر رکھا ہے۔ ان کی کوشش ہوتی ہے کہ بےضرورت قوت گویائی کو حرکت نہ دی جائے۔ اور مقصد سے ہٹ کر کوئی بات نہ کی جائے۔ اقبال مرحوم نے صحابہ کرام ( رض) کی تعریف کرتے ہوئے ان کی جن خصوصیات کا ذکر کیا ہے ان میں خاص طور پر اس خصوصیت کو نمایاں کیا ہے : نرم دم گفتگو، گرم دم جستجو رزم ہو یا بزم ہو پاک دل و پاکباز وہ فقرے باز، پھبتی کسنے والے، جملے پھینکنے والے اور تمسخر اڑانے والے لوگ نہیں ہوتے۔ اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ زبان آور نہیں ہوتے، یا طلاقتِ لسانی میں کمزور ہوتے ہیں بلکہ ان کا اصل مسئلہ یہ ہوتا ہے جیسے حضرت حسن بصری نے کہا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے خوف نے ہماری زبانیں گنگ کر رکھی ہیں ورنہ ہم سے بہتر زبان آور کون تھا۔ کوئی ایسی ہی بات ہے کہ خاموش ہوں میں ورنہ کیا بات ہے کہ کر نہیں آتی البتہ ایک بات ہے کہ جب ظلم کا پہرہ شدید ہوجائے، جبر کی وجہ سے زبانوں کو لونی لگ جائے اور ہر شخص منقار زیرِپَر ہوجائے تو ایسے ہو کے عالم اور سناٹے میں یہی لوگ بولتے ہیں۔ کیونکہ وہ بولنے سے احتراز اس لیے کرتے ہیں کہ جانتے ہیں کہ ہر بات کا جواب دینا پڑے گا، لیکن جب احقاقِ حق اور ابطالِ باطل کے لیے کلمہ حق کہنا واجب ہوجائے تو پھر وہ اس لیے بولتے ہیں کہ جانتے ہیں کہ اب خاموشی کا جواب دینا پڑے گا۔ یہ گزارشات جو آپ کے سامنے کی گئی ہیں یہ دراصل وَاِذَا خَاطَبَـھُمُ الْجٰھِلُوْنَ کے اسلوب سے استنباط کی گئی ہیں۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ وہ بولنے اور بات کرنے میں پہل نہیں کرتے، لیکن جب ان سے دوسرے بات کرتے ہیں تو پھر ان میں دو طرح کے لوگ ہوں گے۔ ایک تو وہ لوگ جو معرفتِ حق، فہمِ دین، دریافتِ احوال، یا تبادلہ خیالات کے لیے بات کرنا چاہیں گے تو عبادالرحمن ان کے لیے ابریشم کی طرح نرم اور پھول کی طرح ملائم ہوتے ہیں اور وہ لوگ ان سے بات کرکے یوں محسوس کرتے ہیں : تم سے مل کر یہ تعجب ہے کہ اتنا عرصہ آج تک تیری جدائی میں یہ کیونکر گزرا جاہل کا مفہوم اور سلام سے مراد اور دوسری قسم کے لوگ وہ ہوں گے جنھیں یہاں جاہل کہا گیا ہے۔ اس سے مراد اَن پڑھ یا بےعلم لوگ نہیں بلکہ وہ لوگ ہیں جو جہالت پر اتر آئیں اور کسی شریف آدمی سے بدتمیزی کا برتائو کرنے لگیں اور یا وہ لوگ ہیں جو اپنے خیالات میں اسیر اور اپنے توہمات کے پرستار ہیں۔ وہ نہ عقل کے پیمانے کو مانتے ہیں، نہ دلیل انھیں اپیل کرتی ہے۔ وہ دوسروں سے بات سمجھنے کے لیے نہیں کرتے بلکہ محض الجھانے کے لیے کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں عبادالرحمن کا طریقہ یہ ہے کہ وہ گالی کا جواب گالی سے اور بہتان کا جواب بہتان سے اور بےہودگی کا جواب بےہودگی سے نہیں دیتے۔ بلکہ جو ان کے ساتھ جہالت کا رویہ اختیار کرتا ہے وہ سمجھتے ہیں کہ وہ ایک لغو اور بےہودہ بات کا ارتکاب کررہا ہے، تو وہ سلام کہہ کے اس سے الگ ہوجاتے ہیں۔ یہ سلام نہ سلام محبت ہے، نہ سلام اجازت بلکہ یہ سلام مفارقت ہے۔ قرآن کریم نے دوسری جگہ عبادالرحمن کے اس طریقے کو کسی حد تک تفصیل سے بیان کیا ہے۔ ارشاد ہے کہ وَاِذَاسَمِعُوْا اللَّغْوَا اَعْرَضُوْا عَنْہُ وَقَالُوْا لَنَا اَعْمَالُنَا وَلَـکُمْ اَعْمَالُـکُمْ سَلاَ مٌ عَلَیْکُمْ لاَ نَبْتَغِی الْجَاہِلِیْنَ ۔ (القصص، آیت 55) (جب وہ کوئی بےہودہ بات سنتے ہیں تو اسے نظرانداز کردیتے ہیں، کہتے ہیں بھائی ہمارے اعمال ہمارے لیے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، سلام ہے تم کو ہم جاہلوں کے منہ نہیں لگتے۔ ) سلام کرکے رخصت ہوجانا کسی سے کنارہ کشی اختیار کرنے کا ایک شائستہ اور بابرکت طریقہ ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی سنت ہے، آپ ( علیہ السلام) اپنے والد سے اسی طرح الگ ہوئے تھے۔ اس طرح اگر کسی سے علیحدگی اختیار کی جائے تو توقع ہے کہ اگر اس کے اندر خیر کی کوئی رمق ہوگی تو وہ اپنے رویہ پر نظرثانی کرے گا، اور الجھنے اور الجھانے کی بجائے بات سننے اور سمجھنے کی طرف مائل ہوگا اور اگر کسی کے اندر خیر کی کوئی رمق ہی نہیں ہے اور وہ محض مجادلہ اور مناظرہ کے درپے ہے تو ایسے شخص کو منہ لگانا عبادالرحمن کے شایانِ شان نہیں۔
Ayah 25:64

وَ الَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّ قِیَامًا Open ayah 25:64 in the Quran reader

اور جو اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں

وَالَّذِیْنَ یَبِیْتُوْنَ لِرَبِّھِمْ سُجَّدًا وَّقِیَامًا۔ (الفرقان : 64) (اور جو اپنے رب کے حضور سجدہ اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ ) عبادالرحمن کے تعارف میں پہلے ان کی رفتار کا ذکر کیا، پھر گفتار کا اور اب کردار کے ذکر کا آغاز کیا جارہا ہے۔ اور کردار کے ذکر میں سب سے پہلے ان کی راتوں کی زندگی کا حوالہ دیا گیا ہے اور اسے ایسے خوبصورت پیرایہ میں ذکر کیا گیا ہے جس سے ان کی جلوت اور خلوت دونوں روشنی میں آجاتی ہیں۔ تیسری صفت عبادالرحمن کا کردار اور خلوت کی زندگی انسان کی زندگی شب و روز کے معمولات سے عبارت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ ان معمولات کی انجام دہی میں میں رفتار اور گفتار بھی شامل ہیں اور زندگی کے بنائو سنوار میں ان کا بھی ایک رول ہے۔ لیکن اگر یہ دیکھنا ہو کہ کسی شخص یا کسی گروہ کی زندگی پر اصل چھاپ کس چیز کی ہے، اس کی ترجیحات میں کسے اولیت حاصل ہے اور اس کے تصورات، خیالات اور احساسات میں کون سی چیز سب سے زیادہ نمایاں ہے۔ تو اس کے ان معمولات کو دیکھنا چاہیے جو دن کی ہمہ ہمی اور حصول روزگار کی رواروی سے فراغت کے بعد رات کی مجالس یا رات کی تاریکی میں سرانجام پاتے ہیں۔ ایک عیاش آدمی فراغت کے لمحات میسر آتے ہی شبینہ مجالس اور نائٹ کلبوں کا رخ کرتا ہے۔ زندگی کے مقاصد سے بےنیاز شخص چاریاری، گپ بازی اور تفریح گاہوں میں وقت گزارنا پسند کرتا ہے۔ علم کا شوق رکھنے والا فراغت کو مطالعہ اور علمی تجسس میں صرف کرتا ہے۔ لیکن جو شخص اللہ تعالیٰ کے تقویٰ سے مالامال، اس کے خوف سے گراں بار اور زندگی کے مقاصد سے بہرہ ور اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کا طلبگار ہے وہ رات کے بیشتر لمحات کو عبادت میں گزارنا پسند کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اسی سے دل و دماغ کی تربیت ہوتی ہے، اسی سے بندگی کو جلا ملتی ہے، اسی سے عبدیت حقیقی معراج سے ہمکنار ہوتی ہے اور اسی سے انسان اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا مضبوط تعلق قائم کرنے میں کامیاب ہوتا ہے جس کے بعد دنیا کی ہر طاقت اس کی نظروں میں ہیچ ہوجاتی ہے۔ چناچہ عبادالرحمن کے کردار کی اصل پہچان، اصل رخ اور اصل جہت کو واضح کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ ان کی راتیں سجدہ اور قیام میں بسر ہوتی ہیں۔ سجدہ و قیام کا ذکر جس اسلوب میں کیا گیا ہے اس سے وہ شوق و اضطراب جھلکتا ہے جو ان کی عبادت میں پایا جاتا ہے اور اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد صرف فرض نمازیں نہیں بلکہ وہ کیفیت مراد ہے جو ایک مردمومن کو قیام اللیل میں نصیب ہوتی ہے اور جس کو اقبال نے بیان کرتے ہوئے کہا : مرے دیدہ تر کی بےخوابیاں مرے دل کی پوشیدہ بےتابیاں مرے نالہ نیم شب کا نیاز مری خلوت و انجمن کا گداز کسی کے ذہن میں یہ خیال نہ آئے کہ عبادالرحمن کی اگر راتیں سجدہ و قیام میں گزرتی ہیں تو وہ آرام کس وقت کرتے ہیں جبکہ رات کی نیند اور آرام انسان کی ایسی بنیادی ضرورت ہے جس کے بغیر قوت کارکردگی بحال نہیں ہوتی اور انسان کی زندگی دشوار ہوجاتی ہے۔ سجدہ و قیام میں راتوں کا گزرنا یہ درحقیقت ان کی زندگی کی اولیں ترجیح اور زندگی کے غالب رویئے کی ایک تعبیر ہے۔ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسے کسی ماں کا اکلوتا بیٹا جو اس کی زندگی کا واحد سہارا ہو، بیمار پڑجائے تو وہ اگرچہ چولہا بھی جھونکتی ہے، پیٹ کا جہنم بھی بھرتی ہے، آرام بھی کرتی ہے لیکن اس کی توجہ تمام تر بیٹے کی طرف لگی رہتی ہے تو اگر کوئی آدمی یہ کہے کہ وہ شب و روز اپنے بیٹے کی تیمارداری اور غمگساری میں مصروف رہتی ہے تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ کسی وقت نہ کھاتی ہے نہ پیتی ہے اور نہ آرام کرتی ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ اس کا غم بچے کی بیماری اور اس کا اصل ہدف بچے کی تیمارداری ہے۔ یہاں بھی عبادالرحمن کے ہدف کو متعین کیا گیا ہے، ان کی زندگی کے اصل روپ کو نمایاں کیا گیا ہے۔ اور ان کی اصل پہچان جس میں ان کا کردار جھلکتا ہے اس کو سامنے لانے کی کوشش کی گئی ہے۔
Ayahs 25:65–66

وَ الَّذِیْنَ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ١ۖۗ اِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًاۗۖ Open ayah 25:65 in the Quran reader

اور جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے، بیشک اس کا عذاب بالکل چمٹ جانے والی چیز ہے

اِنَّهَا سَآءَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا Open ayah 25:66 in the Quran reader

بیشک وہ نہایت برا مستقر اور نہایت ہی برا مقام ہے

وَالَّذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَھَنَّمَ صلے ق اِنَّ عَذَابَھَا کَانَ غَرَامًا۔ اِنَّھَا سَـآئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۔ (الفرقان : 65، 66) (اور جو دعا کرتے رہتے ہیں کہ اے ہمارے رب ! ہم کو دوزخ کے عذاب سے بچا لے، بیشک اس کا عذاب بالکل چمٹ جانے والی چیز ہے۔ بیشک وہ نہایت برا مستقر اور نہایت ہی برا مقام ہے۔ ) عبادت ان میں نیکی کا پندار پیدا نہیں کرتی غور فرمایئے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے جب چلتے ہیں تو ان کا ہر قدم اللہ تعالیٰ کے خوف سے گراں بار ہوتا ہے۔ انسانیت کے مقام کو سمجھنے کی وجہ سے نہایت عاجزی سے چلتے ہیں۔ ان کا سر اللہ تعالیٰ کے خوف سے جھکا رہتا ہے اور ان میں عاجزی اللہ تعالیٰ کی کبریائی اور انسانوں میں برابری کے تأثر کے باعث نمایاں دکھائی دیتی ہے۔ وہ جب بولتے ہیں تو کبھی بولنے میں پہل نہیں کرتے۔ اپنے ایک ایک بول کو کل کا تول سمجھ کر نہایت احتیاط کرتے ہیں اور جہالت پر اترے ہوئے لوگوں سے اگر سابقہ پڑجائے تو وقت کو اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھتے ہوئے ضائع کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ گویا ان کے ایک ایک قدم پر اور ان کی زبان سے نکلنے والے ہر ہر لفظ پر جواب دہی کا احساس غالب رہتا ہے اور مزید یہ کہ دن بھر کلمہ حق کی سربلندی اور دین کی تبلیغ و دعوت میں صرف کرنے کے بعد جب رات کو بستر پر لیٹتے ہیں تو نیند میں ڈوب نہیں جاتے بلکہ اللہ تعالیٰ سے بےپناہ محبت اور اس سے غائت درجہ تعلق کی وجہ سے بار بار عبادت کے لیے اس کے دربار میں کھڑے ہوتے اور عاجزانہ التجائیں کرتے ہیں۔ ایسے لوگوں کے بارے میں کون کہہ سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں جہنم میں ڈالے گا۔ اگر اس طرح کے لوگ جہنم میں جائیں گے تو پھر جنت میں جانے والا کون ہوگا ؟ لیکن کس قدر تعجب کی بات ہے کہ یہ لوگ اپنی تمام تر نیکیوں، عبادتوں، ریاضتوں اور اللہ تعالیٰ سے قرب کا رشتہ رکھنے کے باوجود کبھی اس غلط فہمی کا شکار نہیں ہوتے کہ ہماری یہ صفات جنت میں جانے کی ضمانت بن سکتی ہیں۔ ان کا تقویٰ ان کے اندر نیکی کا پندار پیدا نہیں کرتا کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ آدمی اللہ تعالیٰ کی بندگی اور اطاعت میں ہزار محنت کرے اور جان مارے لیکن وہ اس قابل کبھی نہیں ہوسکتی کہ جنت کا حصول یقینی ہوجائے۔ انسان کبھی اس کا دعویٰ نہیں کرسکتا کہ عبادت کے دوران میرے نفس نے کبھی خیانت نہیں کی۔ میرے خیالات ہمہ تن یکسوئی کی تصویر بنے رہے۔ میں کبھی ایک لمحے کے لیے بھی غفلت کا شکار نہیں ہوا جبکہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اس قدر عظیم ہے کہ وہاں بڑی سے بڑی عبادت اور بڑی سے بڑی اطاعت کو بھی بار ملنا یقینی نہیں ہے۔ ان اعتقادات کے باعث وہ اپنی انتہائی پاکیزہ زندگی کے باوجود اللہ تعالیٰ سے ہر وقت دعا کرتے رہتے ہیں کہ الٰہی ہمیں جہنم کے عذاب سے بچائے رکھنا۔ وہ جانتے ہیں کہ جہنم کا عذاب ایک ایسی چمٹ جانے والی چیز ہے کہ اس سے پیچھا چھڑا ناممکن نہیں ہوگا۔ اس سے بچنے کے لیے جو کچھ کیا جاسکتا ہے اسی زندگی میں کیا جاسکتا ہے اور وہ بھی صرف اللہ تعالیٰ ہی کی مدد سے کیا جاسکتا ہے۔ اس کا فضل ہی ایک مومن کے لیے جائے پناہ ہے۔ جب تک وہ میسر نہیں تب تک بھروسے کی کوئی بات نہیں۔ غَرَامًا … ہمیشہ رہنے والا جو کبھی جدا نہ ہو۔ قرض خواہ کو غریم اس لیے کہتے ہیں کہ وہ قرضہ لیے بغیر جان نہیں چھوڑتا۔ مستقر اور مقام کا مفہوم اِنَّھَا سَـآئَ تْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۔ مستقر اور مقام ہم معنی الفاظ کی حیثیت سے بھی استعمال کیے جاتے ہیں، لیکن جب یہ دونوں ایک ساتھ استعمال ہوں تو پھر ان کے درمیان کچھ نہ کچھ فرق پیدا ہوجاتا ہے۔ مستقر، مستقل قیام گاہ کو کہتے ہیں اور مقام عارضی جائے قیام کو۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ جہنم ایک ایسی ہولناک جگہ ہے جسے نہ مستقر بنایا جاسکتا ہے اور نہ مقام۔ یعنی اس میں مستقل طور پر ٹھہرنا اور قرار پکڑنے کا تو خیر کیا سوال ہے، وہ تو ایسی تکلیف کی جگہ ہے جس میں آدمی ایک لمحہ گزارنا بھی پسند نہ کرے۔ یہ بات شاید اس لیے فرمائی گئی ہے کہ بعض مقامات مختصر قیام کے لیے تو گوارا ہوتے ہیں لیکن مستقل قیام کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً ریلوے سٹیشن کی انتظار گاہیں یا ہَوائی اڈوں کی انتظار گاہیں۔ مختصر وقت کے لیے انتظار میں بیٹھنا ایسی جگہ میں گراں نہیں گزرتا بلکہ وہاں بڑی سہولتیں بھی میسر ہوتی ہیں۔ لیکن اگر کسی کو اسے رہائش گاہ بنانے کے لیے کہا جائے تو کبھی کوئی تیار نہیں ہوتا، کیونکہ گاڑیوں اور جہازوں کا شور انسان کے لیے اعصاب شکن ثابت ہوتا ہے جس سے بہت سے عوارض پیدا ہوتے ہیں۔
Ayah 25:67

وَ الَّذِیْنَ اِذَاۤ اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَ لَمْ یَقْتُرُوْا وَ كَانَ بَیْنَ ذٰلِكَ قَوَامًا Open ayah 25:67 in the Quran reader

اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں بلکہ ان کا خرچ کرنا اسراف اور بخل کے درمیان اعتدال سے ہوتا ہے

وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَنْفَقُوْا لَمْ یُسْرِفُوْا وَلَمْ یَقْتُرُوْا وَکَانَ بَیْنَ ذٰلِکَ قَوَامًا۔ (الفرقان : 67) (اور وہ لوگ جب خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں اور نہ تنگی کرتے ہیں بلکہ ان کا خرچ کرنا اسراف اور بخل کے درمیان اعتدال سے ہوتا ہے۔ ) عبادالرحمن کی ایک اور صفت عبادالرحمن کی ایک صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انھیں اگر دولت عطا کرے تو وہ دولت کے نشے میں مخمور ہو کر بےاعتدالی کی روش اختیار نہیں کرتے۔ زندگی کے باقی معاملات کی طرح ان کی زندگی کا یہ پہلو بھی نہایت اعتدال کی تصویر ہوتا ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ ہمارے پاس مال و دولت اللہ تعالیٰ کی امانت ہے، ہماری ملکیت نہیں۔ ملکیت رکھنے والا شخص تو کسی حد تک اپنی مملوک چیز میں من مرضی کا رویہ اختیار کرسکتا ہے لیکن کسی امانت کا حامل ان حدود سے ہرگز تجاوز نہیں کرسکتا جو امانت رکھنے والے نے امانت رکھتے ہوئے اس پر لازم کی ہیں۔ اور ساتھ ہی ساتھ وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ ہمارے زیر تصرف مال و دولت میں دوسروں کے بھی حقوق ہیں۔ اس لیے ہم خرچ کرتے ہوئے ایسا طریقہ اختیار نہیں کرسکتے جس میں دوسروں کے حقوق متأثر ہونے کا اندیشہ ہو۔ ان تصورات کی وجہ سے وہ اپنے زیرتصرف مال میں نہ اسراف کا رویہ اختیار کرتے ہیں اور نہ بخیل بن کر خزانے کا سانپ بن جاتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ مال و دولت خرچ کرتے ہوئے آدمی کے سامنے وہ کیا معیار رہنا چاہیے جس سے اسراف سے بھی بچا جاسکے اور بخل سے بھی۔ علماء نے اسراف کی تعریف کرتے ہوئے تین چیزوں کی نشاندہی کی ہے۔ 1 ناجائز کاموں میں دولت صرف کرنا اسراف ہے، خواہ وہ ایک پیسہ ہی کیوں نہ ہو۔ یعنی کوئی ایسی چیز خریدنا جو بجائے خود حرام ہو یا حرام کا ذریعہ بن سکتی ہو، ایسے لوگوں کی خدمت کرنا جن کی وجہ سے برائی پھیل رہی ہو، ایسے ذرائع پر پیسہ لگانا جس سے غربت بڑھے اور بےحیائی پھیلے۔ 2 جائز کاموں میں خرچ کرتے ہوئے حد سے تجاوز کر جانا، یعنی اپنی استطاعت سے بڑھ کر خرچ کرنا جس سے ان کے حقوق کو نقصان پہنچے جو اس کے پاس مال و دولت پر عائد ہوتے ہیں۔ 3 نیکی کے کاموں میں ریا اور نمائش کے لیے خرچ کرنا یا شہرت کے حصول کے لیے پیسہ لٹانا، یہ سب اسراف کی مختلف شکلیں ہیں۔ بخل کا اطلاق دو چیزوں پر ہوتا ہے۔ 1 آدمی اپنی اور اپنے بال بچوں کی ضروریات پر اپنی طاقت اور حیثیت کے مطابق خرچ نہ کرے۔ مثلاً بچوں کی تعلیم و تربیت میں جائز حد تک بھی دولت خرچ کرنے سے گریز کرے۔ بچوں کو ایسا لباس بنا کر نہ دے جو ان کی جائز ضرورت ہو۔ جس معاشرے میں رہائش ہواستطاعت رکھتے ہوئے بھی ایسا مکان نہ بنائے یا گھر کی ایسی حالت رکھنے سے گریز کرے جو عزت نفس کے لیے ضروری ہو۔ اہل خانہ پر ایسی مالی پابندیاں لگا دے جس کی شریعت نے اجازت نہیں دی۔ 2 نیکی اور بھلائی کے کاموں میں پیسہ خرچ کرنا گوارا نہ کرے۔ ذاتی ضروریات اور اہل خانہ کی ضروریات پر بےدریغ روپیہ لٹائے، لیکن غریب لوگوں، رفاہی کاموں اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے ایک پیسہ بھی اس کے ہاتھ سے نہ نکلے۔ ان دونوں انتہائوں کے درمیان اعتدال کی راہ، اسلام کی راہ ہے۔ اس کے لیے ایک معین معیار مقرر کرنا اگرچہ مشکل ہے کیونکہ حالات کے تغیر کے اعتبار سے فرق پیدا ہوسکتا ہے۔ لیکن جو شخص زندہ ضمیر رکھتا ہے اور اس کے اندر بصیرت نام کی کوئی چیز بھی پائی جاتی ہے اور وہ اپنے معاشرے کی جائز ضروریات کو بھی سمجھتا ہے اور بچوں اور خواتین کے لیے احساسات کو بھی جانتا ہے، تو اس کے لیے اعتدال کی راہ اختیار کرنا اور اس کے لیے ایک معیار مقرر کرلینا کوئی مشکل کام نہیں۔ یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہمارے سلف صالحین نے جو نمونہ چھوڑا ہے اس کا رجحان انفاق فی سبیل اللہ کی طرف ہے۔ وہ معیارِ زندگی اونچا کرنے کی خبط میں مبتلا ہونے کی بجائے زیادہ سے زیادہ غریبوں کی بھلائی اور دینی ضروریات پر خرچ کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ یہی وہ طریقہ ہے جس سے برائیاں بھی روکی جاسکتی ہیں اور معاشرے میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کا جو مرض پیدا ہوتا جارہا ہے اس کا بھی علاج ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر یہ احتیاطیں ملحوظ نہ رکھیں جائیں تو پھر اس کے نتیجے میں ایک ایسی سرمایہ دارانہ ذہنیت پیدا ہوتی ہے جس میں اخلاقی قدریں عدم تحفظ کی وجہ سے دم توڑ جاتی ہیں اور ایسے معاشرے پر بالآخر اشتراکیت کا عذاب مسلط ہو کر رہتا ہے۔
Ayah 25:68

وَ الَّذِیْنَ لَا یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ وَ لَا یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰهُ اِلَّا بِالْحَقِّ وَ لَا یَزْنُوْنَ١ۚ وَ مَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِكَ یَلْقَ اَثَامًاۙ Open ayah 25:68 in the Quran reader

اور (عبادالرحمن وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے بغیر کسی حق کے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی ان باتوں کا مرتکب ہوگا وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دوچار ہوگا

وَالَّذِیْنَ لاَ یَدْعُوْنَ مَعَ اللّٰہِ اِلٰـھًا اٰخَرَوَلاَ یَقْتُلُوْنَ النَّفْسَ الَّتِیْ حَرَّمَ اللّٰہُ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلاَ یَزْنُوْنَ ج وَمَنْ یَّفْعَلْ ذٰلِکَ یَلْقَ اَثَامًا۔ (الفرقان : 68) (اور (عبادالرحمن وہ لوگ ہیں) جو اللہ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کو نہیں پکارتے اور نہ وہ اس جان کو قتل کرتے ہیں جس کے قتل کو اللہ نے حرام ٹھہرایا ہے بغیر کسی حق کے اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں اور جو کوئی ان باتوں کا مرتکب ہوگا وہ اپنے گناہوں کے انجام سے دوچار ہوگا۔ ) عبادالرحمن کا کبائر سے اجتناب عبادالرحمن کی صفات کا ذکر ہورہا ہے، اسی ضمن میں ان کی انتہائی پاکیزہ زندگی کے تین مزید روشن ابواب کا ذکر فرمایا جارہا ہے جسے اگر لپیٹ کر کہا جائے تو یہ کہا جاسکتا ہے کہ وہ پاکیزہ لوگ کسی کبیرہ گناہ کے قریب بھی نہیں پھٹکتے۔ اور کبیرہ گناہوں میں سے ان گناہوں کا ذکر فرمایا گیا ہے جن میں اہل عرب کثرت سے مبتلا تھے۔ علاوہ ازیں یہ تینوں گناہ بعض حوالوں سے زندگی میں ایسا بگاڑ پیدا کرنے کا سبب بنتے ہیں جس سے دوسرے کبائر و صغائر کا راستہ کھل جاتا ہے۔ اسی وجہ سے نبی کریم ﷺ نے متعدد احادیث میں ان کبائر کو خصوصی طور پر ذکر فرمایا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) کی روایت ہے کہ ایک مرتبہ آنحضرت ﷺ سے پوچھا گیا، سب سے بڑا گناہ کیا ہے۔ فرمایا اَنْ تَجْعَلَ لِلّٰہِ نِدًّا وَھُوَخَلَقَکَ ” یہ کہ تو کسی کو اللہ کا شریک ٹھہرائے حالانکہ اس نے تجھے پیدا کیا ہے۔ “ پوچھا گیا، اس کے بعد۔ فرمایا : اَنْ تَقْتُلَ وَلَدَکَ خَشْیَۃً اَنْ یَّطْعَمَ مَعَکَ ” یہ کہ تو اپنے بچے کو اس خوف سے قتل کر ڈالے کہ وہ تیرے ساتھ کھانے میں شریک ہوجائے گا۔ “ پوچھا گیا، پھر۔ آپ نے فرمایا : اَنْ تَزْنِیْ حَلِیْلَۃَ جَارِکَ ” یہ کہ تو اپنے ہمسائے کی بیوی سے زنا کرے۔ “ قرآن و سنت میں جابجا ان گناہوں کی مذمت کی گئی اور ان کی شناعت کو نمایاں کیا گیا ہے۔ توحید اسلام کے تمام عقائد کی بنیاد ہے۔ اسلامی زندگی کا اصل الاصول اور اس کا مبدا و معاد ہے۔ اسی سے پہلا قدم اٹھتا ہے اور یہی ایک مومن کی منزل اور معراج ہے۔ اور اس توحید کا متضاد شرک ہے۔ اسی لیے قرآن کریم نے توحید کی وسعتوں کو بھی بیان فرمایا اور شرک کی تمام اقسام و اصناف اور اس کے تمام الوان و آثار کی طرف بھی اشارے فرمائے۔ اسلام کی نگاہ میں ایک مومن کی انفرادی طور پر اور ایک امت کی اجتماعی طور پر شخصیت کی تکمیل صرف عقیدہ توحید سے ہوتی ہے۔ ایک مومن کی زندگی میں طہارتِ قلب سے لے کر طہارتِ اخلاق و اعمال تک جن مؤثرات کی ضرورت ہے وہ تمام عقیدہ توحید سے پھوٹتے ہیں۔ اس لیے وہ اللہ کی ذات کے مقابلے میں کسی اور ذات کو اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے مقابلے میں کسی اور کی صفات کو اور اللہ تعالیٰ کے حقوق کے مقابلے میں کسی اور کے حقوق کو آنکھ اٹھا کر دیکھنے کی بھی اجازت نہیں دیتا۔ اس کی ذات بھی یکتا ہے، اس کی صفات بھی بےمثال ہیں اور اس کے حقوق بھی کسی اور کی ہمسری سے پاک ہیں۔ ایک مومن جس طرح اپنا سر غیر اللہ کے سامنے جھکنے نہیں دیتا، اپنے دل میں کسی اور محبت کو بھی غالب نہیں ہونے دیتا، کسی اور کی غیرمشروط اطاعت کا تصور بھی قبول نہیں کرتا، کسی اور کا خوف اپنے اوپر طاری نہیں ہونے دیتا۔ کسی اور سے لو لگانے کو اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ناقابلِ قبول سمجھتا ہے۔ اسی طرح زندگی کے اجتماعی معاملات میں کسی اور کو رہنمائی کی غیرمشروط طور پر اجازت نہیں دیتا۔ کسی شخص یا کسی ادارے کو ایسی حکمرانی کا حق نہیں دیتا جو اللہ تعالیٰ کی حکمرانی کو چیلنج کرتی ہو۔ کسی کو ایسی قانون سازی کی سند نہیں دیتا جو اللہ تعالیٰ کے قانون سے متصادم ہو۔ یہ وہ توحید کا ایک سادہ سا تصور ہے جو اپنی جامعیت اور مانعیت میں اتنا مکمل ہے جس میں کسی طرح کی پیوندکاری ممکن نہیں۔ اور یہی ایک مومن اور امت مسلمہ کی قوت کی علامت اور اس کا حقیقی سرچشمہ ہے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے اِلٰہ کو پکارنے یعنی ماننے اور تسلیم کرنے کا تصور بھی نہیں کرسکتے۔ ہمارے آج کے مذہبی طبقات کی بحثیں عموماً یہاں تک محدود رہتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو سجدہ نہیں کیا جاسکتا، کسی کے لیے قیام اور رکوع و سجود کی اجازت نہیں، کسی سے غیرعادی طریقے پر استمداد نہیں ہوسکتی، کوئی نفع و ضرر کا مالک نہیں، اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی کسی کو اولاد دینے پر قادر نہیں، وہی قسمتیں بناتا اور بگاڑتا ہے، عزت و ذلت اسی کے ہاتھ میں ہے۔ یہ سب باتیں اپنی جگہ صحیح اور نہایت بیش قیمت ہیں۔ لیکن آج عالم اسلام میں توحید کو جو سب سے بڑا حادثہ درپیش ہے وہ یہ باتیں نہیں بلکہ وہ یہ ہے کہ عالم اسلام کی بیشتر آبادی نے اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ قانون کو رد کردیا ہے۔ غیرمشروط قانون سازی کا حق صرف اللہ تعالیٰ کو دینے کی بجائے انھوں نے بادشاہوں، آمروں اور پارلیمنٹ کو دے رکھا ہے۔ وضعی قوانین کے مقابلے میں اسلامی شریعت اپنا وزن کھو چکی ہے۔ دیگر مذاہب کی طرح اسلام ایک پرائیویٹ معاملہ ہو کر رہ گیا ہے اور مسلمانوں کی اجتماعی زندگی پر اسلام کے سوا نہ جانے کس کس کی حکومت ہے۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ ہم اسلامی تہذیب، اسلامی تمدن اور اسلامی ثقافت سے بیگانہ ہوچکے ہیں جبکہ اس آیت کریمہ میں عبادالرحمن جو درحقیقت مسلمانوں ہی کا نام ہے کو عبادالشیطان سے الگ کرنے کے لیے ان کی جس پہلی صفت کا ذکر فرمایا گیا ہے اسے قبول اور اختیار کرنے سے جو زندگی وجود میں آتی ہے اس میں ان کمزوریوں کو راہ پانے کا موقع نہیں ملتا جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے۔ عبادالرحمن کی دوسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ ناحق کبھی کسی نفس کو قتل کرنے کی جسارت نہیں کرتے۔ قتل نفس، یعنی کسی بھی مردو عورت کا قتل چاہے وہ غیرمسلم ہی کیوں نہ ہو اور اسلامی حکومت اسے پناہ دے چکی ہو اسلام کی نگاہ میں بہت بڑا جرم ہے۔ خلافتِ راشدہ کے دور میں ایسے واقعات پیش آئے کہ کسی مسلمان نے کسی غیرمسلم ذمی کو قتل کردیا تو خلیفہ وقت نے اس جرم کی پاداش میں مسلمان کو قتل کرنے کا حکم دیا۔ اور جہاں تک مسلمانوں کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ نے ایک مسلمان کی جان، مال اور آبرو کو ایسا ہی محترم ٹھہرایا ہے جس طرح کی حرمت اللہ تعالیٰ کے گھر یوم عرفہ اور حرم کو دی گئی ہے۔ قتل تو بہت دور کی بات ہے آنحضرت ﷺ نے تو یہاں تک ارشاد فرمایا مَنْ حَمَلَ عَلَیْنَا السِّلاَحَ فَلَیْسَ مِنَّا ” جس شخص نے مارنے کے لیے ہم پر ہتھیار اٹھایا، وہ ہم میں سے نہیں۔ “ یعنی اس کا اس امت سے کوئی تعلق نہیں۔ قطع نظر اس سے کہ وہ حکومتِ وقت ہو، یا ملک کی فوج۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کے سامنے سب کی حیثیت یکساں ہے۔ البتہ اس شخص کا خون مباح ہوجاتا ہے جو کوئی ایسی حرکت کرے جس کی وجہ سے اس کے خون کی حرمت اٹھا لی جائے۔ ایسے اقدامات جس سے کسی شخص کا خون اور جان اسلامی یا مسلمان حکومت کے لیے مباح ہوجاتی ہے وہ تین ہیں۔ 1 قتلِ نفس، یعنی اگر کسی شخص نے کسی دوسرے شخص کو قتل کردیا اور عدالت میں اس کا جرم ثابت ہوگیا تو ایسے شخص کو مقتول کے قصاص میں عدالت قتل کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ مقتول کے وارث معاف کردیں یا دیت پر صلح کرلیں تو دوسری بات ہے ورنہ حکومت اور ریاست کا سربراہ بھی اس کی موت کی سزا کو معاف نہیں کرسکتا اور نہ اس میں کوئی تبدیلی کرسکتا ہے۔ 2 ارتداد، یعنی کوئی شخص اسلام سے نکل جانے کا اعلان کردے، کوئی دوسرا مذہب قبول کرلے یا لامذہب ہونے کا فیصلہ کرلے، ایسی صورت میں اسلامی حکومت اسے گرفتار کرے گی، اس کے اشتباہات اور اعتراضات کو ہر ممکن طریقے سے دور کرنے کی کوشش کرے گی۔ تمام کوششوں کے باوجود اگر وہ شخص اللہ تعالیٰ کے دین کیخلاف سرکشی اور بغاوت سے باز نہ آئے تو پھر اسے موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔ 3 زنا، کوئی شادی شدہ شخص زنا کا ارتکاب کرے اور ملوث حالت میں پکڑا جائے۔ چار صالح شخص اسے ملوث حالت میں دیکھنے کی گواہی دے دیں تو عدالت اسے سنگسار کرنے کا حکم دے سکتی ہے۔ ان تین مواقع کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے کسی معصوم اور بےگناہ شخص کو قتل کرنے کی اجازت نہیں دی۔ اس آیت کریمہ میں عبادالرحمن کی تیسری صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ وہ زنا نہیں کرتے۔ زنا کس درجے کا جرم ہے اور اسلام نے اسے روکنے کے لیے کیسے احکام دیئے ہیں، ہم سورة النور میں اس کی تفصیل ذکر کرچکے ہیں۔ حاصل کلام یہ کہ یہ تینوں جرائم۔ شرک، قتل اور زنا۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کے سلسلہ میں سب سے بڑے جرائم میں سے ہیں۔ اور تمام آسمانی مذاہب نے اپنے اپنے وقت میں ان پر تنقید کی ہے۔ اور ہر پیغمبر نے اپنی امت کو ان کے نقصانات سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ عبادالرحمن اسلامی تعلیم و تربیت کے باعث اس طرح کے کبائر کا کبھی ارتکاب نہیں کرتے۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ ان جرائم کا ارتکاب کرنے والے یقینا ان کے انجام سے دوچار ہوں گے۔ اَثَامٌ … اہل لغت کے نزدیک نتیجہ گناہ کو کہتے ہیں۔
Ayah 25:69

یُّضٰعَفْ لَهُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ وَ یَخْلُدْ فِیْهٖ مُهَانًاۗۖ Open ayah 25:69 in the Quran reader

قیامت کے دن اس کے لیے عذاب بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل و خوار ہوکر

یُّضٰعَفْ لَـہُ الْعَذَابُ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ وَیَخْلُدْفِیْہٖ مُھَانًا۔ (الفرقان : 69) (قیامت کے دن اس کے لیے عذاب بڑھایا جاتا رہے گا اور وہ ہمیشہ رہے گا اس میں ذلیل و خوار ہوکر۔ ) کبائر کی ہولناک سزا اوپر کی آیت میں جن بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کیا گیا ہے وہ اپنے اثرات کے اعتبار سے اس قدر دوررس اور نتائج کے اعتبار سے ایسے شدید واقع ہوئے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کا ارتکاب کرنے والوں کو ان کے اثرات و نتائج کے اعتبار سے ایسے شدید عذاب کا سزاوار ٹھہرایا ہے کہ جس سے زیادہ شدید عذاب کا تصور بھی نہیں ہوسکتا۔ بڑی سے بڑی سزا بھی غیرمحدود نہیں ہوتی کیونکہ دنیا میں کوئی عمل بھی غیرمحدود نہیں۔ کسی شخص کو عمرقید بھی دے دی جائے تو وہ بھی عمر ختم ہونے سے ختم ہوجائے گی اور یا عام روایت کے اعتبار سے چودہ سال میں اس کا اختتام ہوجائے گا۔ اور شدت کے اعتبار سے بھی کوئی سزا قانونی طور پر ایسی نہیں ہوتی جو جان لیوا ثابت ہو۔ اور اگر کسی ظالم نے جان لیوا قسم کی سزا بھی دے ڈالی تو جب بھی اس کا اختتام انتہائے عمر پر ہوجائے گا۔ لیکن ان جرائم کی سزا ایسی حیرت انگیز ہے کہ جیسے جیسے سزا کی مدت گزرتی جائے گی ویسے ویسے اس میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ جہنم کی ابدی سزا میں اس بات کا تو امکان ہی نہیں کہ کبھی اس کا خاتمہ بھی ہوجائے۔ البتہ اس بات کا امکان ہوسکتا ہے کہ مسلسل سزا برداشت کرنے کی وجہ سے کسی حد تک احساس میں کمی ہوجائے۔ کیونکہ جو لوگ جیل میں چکی پیسنے پر لگائے جاتے ہیں شروع شروع میں ان کے ہاتھوں میں چھالے پڑجاتے ہیں جو بعض دفعہ زخموں کی صورت اختیار کر جاتے ہیں جن سے خون بہتا ہے۔ لیکن آخر ایک وقت آتا ہے کہ یہ چھالے اور زخم گٹوں میں تبدیل ہوجاتے ہیں اور پھر چکی کا پیسنا اس قدر تکلیف دہ نہیں رہتا جیسا پہلے دنوں میں ہوتا ہے۔ غالب نے انسانی فطرت کے اسی حوالے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : رنج کا خوگر ہوا انساں تو مٹ جاتا ہے رنج مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہوگئیں لیکن قیامت کا عذاب عجیب عذاب ہوگا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ صرف اس کی مدت ہی نہیں بڑھے گی بلکہ شدت میں بھی اضافہ ہوتا جائے گا۔ آگ کھال کو جھلس دے گی تو نئی کھال پہنا دی جائے گی۔ جلنے والا موت کی تمنا کرے گا لیکن موت کبھی نہیں آئے گی۔ عذاب کی اسی شدت اور اسی بڑھتی ہوئی مدت میں انسان ہمیشہ رہے گا جس کا کبھی خاتمہ نہیں ہوگا۔ بعض سزائیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو عزت و سرفرازی کا باعث بن جاتی ہیں۔ ملک کی آزادی کے لیے جہاں جہاں بھی لوگوں نے جیلیں کاٹیں اور سزائیں برداشت کیں آزادی کے بعد انھیں کو حکومت کے مناصب بھی ملے۔ اور جن لوگوں نے کسی عظیم مقصد کے لیے تکلیفیں اٹھائیں، تاریخ میں ان کا نام ہمیشہ کے لیے زندہ ہوگیا اور وہ ہمیشہ آخرت میں بہتر زندگی کے لیے پرامید رہے۔ مولانا ظفرعلی خان نے لمبی قید کاٹی، لیکن نہایت فخر اور عجز کے ساتھ کہا : محمد ﷺ پر شفاعت کا مری اس عرض کا حق ہے کہ آقا ﷺ تیری خاطر میں نے چکی جیل میں پیسی لیکن آخرت کا عذاب صرف عذاب ہی نہیں ہوگا بلکہ اس عذاب میں ذلت کی مار بھی ہوگی۔ جیسے جیسے وقت گزرتا جائے گا ویسے ویسے عذاب جھیلنے والا اپنی اور دوسروں کی نگاہوں میں ذلیل ہوتا جائے گا۔