Ayahs 25:70–71اِلاَّ مَنْ تَابَ وَاٰمَنَ وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا فَاُوْلٰٓئِکَ یُبَدِّلُ اللّٰہُ سَیَّاٰ تِہِمْ حَسَنٰتٍ ط وَکَانَ اللّٰہُ غَفُوْرًا رَّحِیْمًا۔ وَمَنْ تَابَ وَعَمِلَ صَالِحًا فَاِنَّـہٗ یَتُوْبُ اِلَی اللّٰہِ مَتَابًا۔ (الفرقان : 70، 71)
(مگر وہ جو توبہ کرلیں گے ایمان لائیں گے اور عمل صالح کریں گے، تو اللہ ان کی برائیوں کو بھلائیوں سے بدل دے گا اور اللہ بڑا بخشنے والا مہربان ہے۔ اور جو شخص توبہ کرتا اور عمل صالح اختیار کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔ )
توبہ، مژدہ جانفزا
اوپر کی آیات میں جن تین بڑے بڑے گناہوں کا ذکر کرنے کے بعد ان کی ہولناک سزائوں کا ذکر کیا گیا ہے اسے پڑھ کر آدمی ہل کر رہ جاتا ہے۔ اور دل سے بار بار یہ آواز اٹھتی ہے کہ اگر کوئی شخص اس طرح کے جرائم کا ارتکاب کر بیٹھے تو کیا اس کے دوبارہ سنبھل جانے کی کوئی امید ہوسکتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ پیش نظر آیت کریمہ میں ہمیں ایسی ہی خوشخبری سنائی گئی ہے اور توبہ کی صورت میں ایک ایسی نوید جانفزا دی گئی ہے جس پر جتنا بھی شکر ادا کیا جائے کم ہے لیکن اس کی حقیقی قدروقیمت کا اندازہ اس وقت ہوتا ہے جب ہم دیگر مذاہب کا مطالعہ کرتے ہیں۔
اسلام سے پہلے جتنے مذاہب تھے وہ اگرچہ دنیوی اور اخروی کامیابی کے دعوے دار تھے۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ پوجا پاٹ کی چند ظاہری رسوم اور شریعت کے ایک بےجان ڈھانچے کے سوا اپنے پاس کچھ نہیں رکھتے تھے۔ ان کے دئیے ہوئے اعتقادات سے نہ تو انابت الی اللہ کے جذبات پیدا ہوتے تھے اور نہ کسی شخص کو اپنے اعمال کی اصلاح کی طرف توجہ ہوتی تھی اور اگر کبھی کسی شخص کو خیال پیدا ہو تاکہ میں ڈھیروں گناہ کرچکا ہوں اگر اللہ کے سامنے حاضری ہوئی تو کیا جواب دوں گا، مجھے اپنی زندگی میں تبدیلی پیدا کرنی چاہیے تو یہ مذاہب گناہوں سے نکل کر نیکی اور اطاعت کی زندگی اختیار کرنے کے لیے نہ صرف کہ اس کی کوئی مدد نہیں کرتے تھے بلکہ اسے مایوس کرتے تھے کہ ایک دفعہ گناہوں کی زندگی اختیار کرلینے سے آدمی اس کے نتائج سے بچ نہیں سکتا۔ اسے بہرصورت اس کی سزابھگتنا پڑے گی۔ یہ ایک ایسا تصور تھا جس نے انسان کی کمر پر بےانتہا بوجھ لاد دیا تھا اور اسے اپنی اصلاح اور اپنے مستقبل کی تعمیر سے مایوس کردیا تھا۔ ہندوئوں میں تناسخ اور آواگون کے تصورات اسی مایوسی کا نتیجہ تھے اور عیسائیوں نے اس کے لیے کفارہ کے نام سے ایک راستہ نکالا، جو نامعقولیت کے سوا کچھ بھی نہیں اور اس پر مستزاد یہ کہ انھوں نے نجات کا سررشتہ مذہبی پروہتوں کے ہاتھ میں دے کر اصلاح اور توبہ کے عمل کو اور مشکل بنادیا اور انسان کی مایوسی کو اور گہرا کردیا۔
اسلام اہل دنیا کے لیے ایک نوید جاں فزا بن کر آیا۔ اس نے انسانوں کو امید کی ایک روشنی دی، انھیں بتلایا کہ انسان کی معنوی اخلاقی اور روحانی زندگی اسی قانون کے مطابق چل رہی ہے جو قانون ہم اپنے گردوپیش میں کارفرما دیکھتے ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ تکوینی اور تشریعی قوانین کا پیراہن جدا جدا ہے، لیکن ان کے اصل مزاج اور روح میں کوئی تضاد نہیں ہے۔ جس طرح ایک درخت بیمار ہوتا ہے اور علاج سے درست ہوجاتا ہے، چارپائے بیمار ہوتے ہیں اور علاج سے شفا پاجاتے ہیں، انسانی جسم بیماریوں کا شکار ہوتا ہے اور بروقت علاج سے صحت پا جاتا ہے، بالکل اسی طرح انسانی روح کو بھی بیماریاں لگتی ہیں۔ اس کی بیماری کبھی عقیدے کی خرابی ہے، کبھی اخلاق کا بگاڑ ہے، کبھی معاملات کی بےاعتدالی ہے، کوئی وجہ نہیں ہے کہ باقی مخلوقات کی طرح اس کی بیماریوں کا علاج نہ ہوسکے اور وہ بروقت علاج سے شفا یاب نہ ہوسکیں۔ چناچہ جس طرح باقی اجسام کا علاج معالج کے پاس جانا اور اس کے بتائی ہوئی ادویہ کو استعمال کرنا ہے اسی طرح روحانی بیماریوں کا علاج بھی اللہ کی طرف پلٹنا اور اس کے پیغمبر کی ہدایات کے مطابق زندگی کے اعمال کو درست کرنا ہے۔ اللہ کی طرف پلٹنے کو توبہ کہتے ہیں کیونکہ توبہ کا معنی ہی ” پلٹنا اور رجوع کرنا “ ہے۔ ایک بندہ جو اللہ کی نافرمانی کرتا ہے وہ درحقیقت اللہ کا آستانہ چھوڑ دیتا ہے اور شیطان یا اپنے نفس کا راستہ اختیار کرلیتا ہے۔ پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ میں اپنے آقا کا راستہ اور آستانہ چھوڑ کر بہت بڑی غلطی کرگیا ہوں اب وہ اپنے غلط رویہ اور معصیت سے اللہ کی اطاعت کی طرف پلٹتا ہے اور دوبارہ پھر اس آستانے پر جھک جاتا ہے جسے وہ چھوڑ گیا تھا۔ پھر وہ اپنے اعمال کا جائز ہ لیتا ہے ان میں سے ہر وہ عمل جس سے اللہ کی نافرمانی جھلکتی ہے اسے وہ چھوڑ دیتا ہے اور بھلائیوں اور نیکی کے کاموں میں سبقت اپنا شعار بنالیتا ہے۔ وہ کوشش کرتا ہے کہ مجھ سے جو کو تاہیاں ہوئی ہیں اس کی معافی مانگ کر میں اپنے اللہ کو راضی کرلوں۔ یہی درحقیقت توبہ ہے۔
انسان جب بگاڑکا شکار ہوتا ہے تو وہ صرف گناہ گار ہی نہیں ہوتا بلکہ انسانیت کی سطح سے بھی گرجاتا ہے کیونکہ انسانیت اور اللہ کی معصیت دونوں ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ امام غزالی علیہ الرحمۃ نے اس کو اپنے خاص انداز میں خوبصورت تعبیر دی ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ گناہوں پر اقدام کے تین درجے ہیں۔ پہلا یہ ہے کہ کسی گناہ کا کبھی ارتکاب نہ ہو یہ تو فرشتوں کی خصوصیت ہے یا انبیائے کرام کی۔ دوسرا درجہ یہ ہے کہ گناہوں پر اقدام کرے اور پھر ان پر اصرار جاری رہے کبھی ان پر ندامت نہ ہو اور نہ کبھی ان کے ترک کا خیال آئے یہ درجہ شیاطین کا ہے۔ تیسرا مقام بنی آدم کا ہے کہ گناہ سرزد ہو تو فوراً اس پر ندامت ہو اور آئندہ اس کے ترک کا پختہ عزم ہو۔ یہی وہ چیز ہے جس کا قرآن کریم نے باربار حکم دیا ہے اور آنحضرت ﷺ نے اس کے بیشمار فضائل بیان فرمائے ہیں۔ البتہ یہ ضروری ہے کہ اس توبہ میں حقیقت کا رنگ ہو محض الفاظ کا کھیل نہ ہو۔ آدمی زبان ہی سے توبہ نہ کرے بلکہ اس کا پورا سراپا توبہ کی تصویر بن جائے۔ اسی کو ” توبۃ النصوح “ کہا گیا ہے۔ علماء کہتے ہیں کہ ایسی توبہ کے تین ارکان ہیں۔
توبہ کے تین ارکان
1 اپنے کیے پر ندامت اور شرمساری، حدیث میں بھی آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے : انما التوبۃ الندم ” توبہ نام ہی ندامت کا ہے “۔ آدمی اپنے گناہ پر اس حد تک نادم ہو کہ آنکھوں سے آنسوئوں کی برکھا برسے اور دل اس تصور سے پگھلتا جائے کہ مجھ سے یہ جرم کیوں سرزد ہوا۔
2 جس گناہ کا ارتکاب کیا ہے، اس کو فوراً چھوڑ دے اور آئندہ اس سے باز رہنے کا پختہ عزم کرے۔
3 تلافیِ مافات کی فکر کرے یعنی جو گناہ ہوچکا ہے، اس کا جتنا تدارک ممکن ہو کرے۔ یعنی نمازیں چھوٹ گئی ہیں تو تمام چھوٹی ہوئی نمازوں کا حساب کرکے ان کی قضاکرے، روزے چھوٹ گئے ہیں تو ان کی قضاکرے، جتنے سالوں کی زکوٰۃ نہیں دی، حساب کرکے پوری زکوٰۃ ادا کرے، جتنے لوگوں کے حقوق اس کے ذمہ ہیں سب کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کرے، جو لوگ مرچکے ہوں ان کی اولاد کو دے اور اگر کوئی بھی باقی نہ ہو تو پھر خیرات کردے اور اللہ سے معافی مانگے۔ جن کی دل آزاریاں کی ہیں عزتوں کو صدمہ پہنچایا ہے سب سے معافی مانگے اور اگر مالی حقوق ادا کرنے کی صلاحیت نہ رہی ہو تو پھر اہل حقوق سے معاف کرانے کی کوشش کرے اور اگر یہ بھی نہ ہوسکے تو زندگی بھر اللہ سے معافی مانگے۔ اللہ فرماتا ہے کہ اگر واقعی تم ایسی توبہ کرو تو اللہ اسے قبول کرنے والا ہے بلکہ اس نے انسانوں کو سہارا دیتے ہوئے فرمایا : لاتقنطوا من رحمۃ اللہ ان اللہ یغفرالذنوب جمیعاً ” اللہ کی رحمت سے مایوس مت ہو اللہ سب گناہ بخش دے گا اس لیے کہ اللہ بخشنے والا مہربان ہے “۔ آنحضرت کا ارشاد ہے کہ اگر کسی کے گناہوں سے زمین اور آسمان کی فضا بھر جائے اور وہ سچے دل سے توبہ کرے اللہ اسے بھی معاف کردے گا کیونکہ :
ایں درگہ ما درگہِ نومیدی نیست
صد بار اگر توبہ شکستی باز آ
جہالت کا مفہوم
جو شخص اللہ کے دروازے پر اپنے آپ کو ڈال دیتا ہے اور اس کی رحمت کا طلبگار ہوتا ہے۔ اس کی رحمت کے متوجہ ہونے میں اگرچہ کوئی دیر نہیں لگتی لیکن اس میں پروردگار نے محض اپنے فضل و کرم سے سورة النساء کی آیت نمبر 17 اور 18 میں بعض احتیاطوں کا ذکر فرمایا ہے جن کے ملحوظ رکھنے سے اس کی رحمت کا آنا یقینی ہوجاتا ہے۔ ان آیات کا ترجمہ یہ ہے ” اللہ پر توبہ قبول کرنے کی ذمہ داری تو انہی لوگوں کے لیے ہے جو برا کام جہالت سے کرتے ہیں پھر جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں وہی ہیں جن کی توبہ اللہ قبول فرماتا ہے اور اللہ سب کچھ جاننے والا حکمت والا ہے۔ اور ان لوگوں کی توبہ نہیں ہے جو کیے جاتے ہیں برے کام یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت سر پر آن کھڑی ہوئی تو بولا کہ اب میں نے توبہ کرلی اور نہ ان لوگوں کی توبہ ہے جو حالت کفر میں مرتے ہیں ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب تیار کررکھا ہے۔ “ پہلی آیت کریمہ میں جہالت کا لفظ غلط فہمی کا باعث ہوسکتا ہے اس لیے ہم ضروری سمجھتے ہیں کہ توبہ کی وضاحت کے لیے جہالت کا مفہوم واضح کردیاجائے۔
عام طور پر جہالت کا معنی ” بےعلمی، بیخبر ی، نہ جاننا اور نادانی “ سے کیا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص جان بوجھ کر قصداً اور عمداً گناہ کرے اس کا گناہ توبہ کرنے سے بھی معاف نہیں ہوگا۔
اکثر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس آیت کا یہ مفہوم نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسا شخص جو گناہ تو قصد اور ارادے سے کرتا ہے لیکن اسے گناہ کرتے ہوئے اس بات کا احساس نہیں رہتا کہ اس گناہ کا نتیجہ کیا ہوگا، آخرت میں اس پر کتنی بڑی سزاملے گی ؟ اس انجامِ بد اور اخروی عذاب سے غفلت اس کے گناہ کا سبب بن جاتی ہے۔ تو اس آیت میں جہالت سے مراد یہی اخروی عذاب سے غفلت ہے۔ اسی سے ملتا جلتا معنی حماقت اور بےوقوفی بھی ہے۔ سورة یوسف میں یہ لفظ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) نے اپنے بھائیوں سے فرمایا تھا : ھل علمتم مافعلتم بیوسف واخیہ اذانتم جاہلون ” کیا تمہیں معلوم ہے جو تم نے یوسف اور اس کے بھائی سے کیا جبکہ تم جاہل تھے “۔ یہاں بھائیوں کو جاہل کہا گیا ہے حالانکہ انھوں نے جو کچھ کیا وہ جان بوجھ کر اور عمداً کیا تھا۔ مگر انھیں اس کا اندازہ نہ تھا کہ اس فعل کا انجام کیا ہوگا ؟ اور یہی بیوقوفی ہے اورا سی لیے ان کو جاہل کہا گیا۔ شائد اسی وجہ سے صحابہ کرام اس بات پر متفق تھے کہ بندہ جو گناہ کرتا ہے چاہے وہ بالقصد ہو یا بلاقصد وہ بہرحال جہالت ہے۔
ابو حیان نے تفسیر بحر محیط میں مثال سے سمجھایا کہ اس کو ایسا ہی سمجھو جیسے حدیث میں آتا ہے لایزنی الزانی وھو مومن ” زنا کرنے والا جب زنا کرتا ہے تو وہ مومن نہیں ہوتا “۔ یعنی وہ مومن ہونے کی حالت میں زنا نہیں کرتا کیونکہ جب وہ اس فعل کا ارتکاب کرتا ہے، تو ایمان کی طرف سے اس کی توجہ ہٹ جاتی ہے یہی چیز جہالت ہے جو گناہ کا باعث بنتی ہے۔ لیکن بعض اہل علم اسی بات کو ایک اور انداز میں سلجھاتے ہیں وہ کہتے ہیں جہالت کا لفظ جس طرح نہ جاننے کے معنی میں آتا ہے اسی طرح جذبات سے مغلوب ہو کر کوئی شرارت یا ظلم یا گناہ کا کام کر گزرنے کے معنی میں بھی آتا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ یہ لفظ عام طور پر علم کی بجائے حلم کی ضد کے طور پر استعمال ہوتا ہے۔ معلقات کا مشہور شعر ہے
اَلاَ لاَ یَجْھَلَنْ اَحْدٌ عَلَیْنَا
فَنَجْھَلْ فَوْقَ جَھْلِ الْجَاہِلِیْنَا
(خبردار کوئی ہمارے خلاف جہالت کا اظہار نہ کرے کہ ہم بھی تمام جاہلوں سے بڑھ کر جہالت کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ )
اس شعر میں دیکھ لیجیے جہالت کا لفظ حلم کے ضد کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ شاعر اپنے مخالفوں سے کہہ رہا ہے کہ اپنے جذبات پر قابو رکھو اور اگر تم نے مشتعل ہو کر کوئی کام کیا تو پھر ہمارے اشتعال کو کوئی نہ روک سکے گا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص بھی کبھی جذبات سے مغلوب ہو کر ( جبکہ ارادہ کام نہیں کرتا) کوئی گناہ کرگزرے اور پھر فوراً اس پر ندامت کا اظہار کرے اور اللہ کی طرف پلٹے تو اللہ اس کے گناہ کو معاف کردے گا۔ میرا ناقص خیال یہ ہے کہ جہالت کو حلم کا ضد قرار دے لیں یا اسے حماقت کہہ لیں یا اخروی عذاب سے غفلت کی تعبیر اختیار کریں۔ مآل کار سب کا مفہوم ایک ہی ہے کہ آدمی گناہ ضرور اپنے ارادہ سے ہی کرتا ہے لیکن اس وقت اس کا ارادہ دوسرے احساسات سے مغلوب ہوتا ہے اور یہی وہ گناہ گا رہے جسے توبہ کی توفیق نصیب ہوسکتی ہے اور جو شخص گناہ کو گناہ کے جذبے سے کرتا ہے ایسے شخص کے بارے میں بہت کم امید کی جاسکتی ہے کہ وہ کبھی گنہ سے پلٹنے کی کوشش کرے گا۔
اس آیت کریمہ میں دوسری شرط لگائی گئی ہے ” من قریب “ یعنی توبہ اس کی قبول ہوگی جو فوراً پہلی فرصت یعنی قریب زمانہ میں توبہ کرے۔ جن لوگوں نے اس لفظ کو عام معنی میں لیا ہے، وہ تو یہی سمجھتے ہیں کہ جس نے توبہ کرنے میں تاخیر سے کام لیا اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی لیکن جب ہم احادیث کو دیکھتے ہیں تو یہ بات صحیح معلوم نہیں ہوتی کیونکہ توبہ کی قبولیت کے لیے آنحضرت کے بعض ارشادات بالکل واضح ہیں۔ معلوم ہوتا ہے من قریب کی یہی صحیح تعبیر ہے۔ آپ نے فرمایا : ان اللہ یقبل توبۃ العبدمالم یغرغر ” اللہ تعالیٰ اپنے بندے کی توبہ اس وقت تک قبول فرماتے ہیں جب تک اس پر موت اور نزع روح کا غرغرہ طاری نہ ہوجائے “۔ ایک اور حدیث حضرت عبداللہ بن عمر ( رض) سے مروی ہے کہ انھوں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ” جو بندئہ مومن موت سے ایک مہینہ پہلے اپنے گناہ سے توبہ کرے یا ایک دن یا ایک گھڑی پہلے توبہ کرے اللہ تعالیٰ اس کی توبہ قبول فرمائیں گے بشرطیکہ اخلاص کے ساتھ سچی توبہ کی جائے “۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب تک انسان پر نزع کی کیفیت طاری نہیں ہوتی اور انسان موت کو سامنے نہیں دیکھ لیتا اس وقت تک اس کے لیے توبہ کا موقعہ ہے اور اللہ کی صفت کریمی سے امید واثق ہے کہ جب بھی بندہ توبہ کرے گا اللہ اس کی توبہ قبول فرمائے گا۔
مولانا تھانوی نے تفسیر بیان القرآن میں ایک اور طرح سے اس کی وضاحت فرمائی ہے کہ موت کے قریب دو حالتیں پیش آتی ہیں ایک تو بأس و ناامیدی کی جب کہ انسان ہر دوا و تدبیر سے عاجزہوکر یہ سمجھ لے کہ اب موت آنے والی ہے، اس کو حالت بأس سے تعبیر کیا گیا ہے۔ دوسری حالت اس کے بعد کی ہے جبکہ نزع روح شروع ہوجائے اور غرغرہ کا وقت آجائے، اس حالت کو ” یاس “ کہا جاتا ہے۔ پہلی حالت یعنی حالت بأس تک تو من قریب کے مفہوم میں داخل ہے اور توبہ اس وقت کی قبول ہوتی ہے مگر دوسری حالت یعنی حالت یاس کی توبہ مقبول نہیں جبکہ فرشتے اور عالم آخرت کی چیزیں انسان کے سامنے آجائیں کیونکہ وہ من قریب کے مفہوم میں داخل نہیں۔
دوسری آیت کریمہ میں ان لوگوں کارویہ ذکر کیا گیا ہے جو زندگی کے بارے میں عملی طور پر اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ زندگی بہت دراز ہے، ابھی سے آخرت کی باتیں کرنا زندگی کو بےرنگ اور بےنمک بنانے والی بات ہے۔ جس زندگی میں خوشیاں نہ ہوں اور عیش و عشرت کی امنگ نہ ہو وہ زندگی تو بوجھ بن جاتی ہے۔ اس طرح کی زندگی جس میں آنے والی ناکامی کا خوف، جوابدہی کے اندیشے، موت کے لہراتے ہوئے سائے، بداعمالیوں کے پچھتاوے، طبیعتِ ثانیہ بن جائیں، اس میں زندگی گزارنے کا کیا لطف رہ جاتا ہے۔ نیکی کی باتیں اچھی باتیں ہیں، آخرت کی فکر بھی بجا ہے، لیکن جب بڑھاپا آئے گا تو یہ باتیں بھی ہوجائیں گی۔ آخرت کی تیاری بھی کرلیں گے، گزری ہوئی زندگی کی بداعمالیوں کا جائزہ لے کر توبہ کا بھی سوچ لیں گے، لیکن ابھی اتنی جلدی کیا پڑی ہے۔ یہ زندگی کا وہ رویہ ہے جس میں عام اہل دنیا گرفتار ہیں۔ مومن، مومن ہوتے ہوئے بھی اپنی بےفکر زندگی پر مطمئن ہے اور کافر اپنے کفر پر غور کرنے کے لیے تیار نہیں۔ جوانی کی دیوانگی کسی کو فرزانگی کی خبر نہیں لینے دیتی۔ دنیا ایک نشہ ہے، جس میں ہر آدمی مخمور نظر آتا ہے۔
اللہ تعالیٰ اس رویے پر تنقید کرتے ہوئے فرما رہے ہیں کہ توبہ کے لیے وہ رویہ درکار ہے جس کا ذکر گزشتہ آیت میں کیا گیا ہے۔ اسی رویہ کی وجہ سے توبہ کی دولت نصیب ہوسکتی ہے، ورنہ یہ رویہ جس کا ذکر اس آیت میں کیا جارہا ہے یہ تو سراسر بدقسمتی اور محرومی کا غماز ہے، جس میں آدمی برائیوں پر برائیاں کیے چلا جارہا ہے۔ لیکن اسے بالکل ہوش نہیں کہ میں کس طرح اپنی زندگی ضائع کررہا ہوں، مہلت عمل میرے ہاتھوں سے نکلی جارہی ہے۔ لیکن اچانک جب موت اس کے سر پر آکھڑی ہوتی ہے، تو پھر اسے احساس ہوتا ہے کہ اب میں اس دنیا کی طرف جانے لگا ہوں جس میں مجھے اپنی گزشتہ زندگی کا حساب دینا ہوگا۔ تو تب اسے خیال آتا ہے کہ اب میں اپنے اللہ سے معافی مانگوں اللہ فرماتا ہے کہ جب سکرات الموت طاری ہوجائیں اور آنے والی دنیا کی علامات ظاہر ہونے لگیں تو اس وقت کی توبہ اللہ قبول نہیں فرماتا۔ جس طرح جب فرعون ڈوبنے لگاتو اس نے فوراً اللہ پر ایمان لانے کا اعلان کیا۔ قرآن کریم بتاتا ہے کہ اسے جواب دیا گیا : اَلْئٰنَ وَقَدْ عَصَیْتَ قَبْلُ وَکُنْتَ مِنَ الْمُفْسِدِیْنَ ” اب تجھے یاد آیا، اس سے پہلے تو نافرمانی کرتارہا ہے اور تو فساد پھیلانے والوں میں سے تھا “۔ اس کے بعد اس کو ڈبو دیا گیا۔
اسی طرح وہ آدمی جو کفر کی حالت میں ساری زندگی گزاردیتا ہے اور جب موت کی علامات ظاہر ہونے لگتی ہیں اور فرشتے تک نظر آنے لگتے ہیں تو پھر وہ ایمان لانے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ فرماتا ہے کہ اس حال میں اس کا ایمان بھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ یہ ایمان لانا ہی اس کی توبہ ہے۔ توبہ کا وقت دوسری زندگی کی سرحد میں داخل ہونے سے پہلے ہے یا اس کا مطلب شائد یہ ہے کہ جب ایک آدمی کفر کی حالت میں مرجاتا ہے، تو موت کے بعد عالم برزخ یا عالم آخرت میں اللہ سے دعائیں کرتا ہے کہ یا اللہ ! مجھے دوبارہ دنیا میں بھیج میں تیرے فرمانبردار بندوں جیسی زندگی گزاروں گا۔ ظاہر ہے اب اسے دوبارہ دنیا میں آنے کا موقعہ نہیں دیا جائے گا۔ اسے بتایا جائے گا کہ توبہ کا وقت موت سے پہلے تھا جو تم نے ضائع کردیا۔
مختصر یہ کہ اللہ کا اپنے بندے پر کتنا بڑا انعام ہے کہ وہ زندگی کے آخری مرحلے میں داخل ہونے سے پہلے پہلے اگر کسی وقت بھی اللہ کی طرف پلٹ آئے، معصیت کی زندگی چھوڑ دے، گناہوں سے توبہ کرلے، تو اللہ تعالیٰ نہائیت رحمت کا سلوک فرماتے ہیں۔ نہ صرف گناہ معاف کیئے جاتے ہیں بلکہ گزشتہ گناہوں کو سرے سے مٹا دیا جاتا ہے۔ اگر توبہ اور استغفار میں اخلاص اور ندامت کا بھرپور اظہار کیا جائے اور بندگی کا پورا سرمایہ اس کے آستانے پر ڈھیر کردیا جائے تو کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ گناہوں کو نیکیوں کی شکل دے دیتا ہے اور گناہ گار کو اتنا نوازتا ہے کہ نوازشات کی انتہا ہوجاتی ہے۔ اس کی ندامت کے آنسوموتیوں کی طرح عزیز ہوجاتے ہیں اور اس کا پگھلتا ہوا دل اللہ کی رحمت وعنائت کا مورد بن جاتا ہے۔
موتی سمجھ کے شان کریمی نے چن لیے
قطرے جو تھے میرے عرق انفعال کے
حقیقت یہ ہے کہ نیکی ایک بڑی سعادت ہے۔ لیکن گناہوں پر ندامت سحر گا ہی کی آہیں اور نالہ ٔ نیم شب کا نیاز وہ سرمایہ ہے جس سے بندگی کو رفعتِ پرواز مل جاتی ہے۔
اس دل پہ خدا کی رحمت ہو جس دل کی یہ حالت ہوتی ہے
اک بار خطا ہوجاتی ہے سو بار ندامت ہوتی ہے
حاصل کلام یہ کہ آنحضرت ﷺ نے اللہ کے فضل و کرم سے انسان کی اصلاح کا بند دروازہ کھول کر ایک ایسا احسان فرمایا اور اس زور و شور سے اس کی تبلیغ فرمائی کہ انسانوں کی مردہ زندگی میں نئی امنگ دوڑنے لگی۔ رحمتِ خداوندی سے مایوس لوگوں نے محسوس کیا کہ ہمیں نئی زندگی کی نوید دی جارہی ہے۔ چناچہ جو لوگ محض رحمت خداوندی سے مایوس ہونے کی وجہ سے گناہوں پر دلیر ہوگئے تھے اور یہ سمجھ کر کہ آخرت کا دروازہ ہم پر بند ہو ہی گیا ہے تو دنیاوی عیش و عشرت کا دروازہ ہم خود اپنے اوپر بند کیوں کریں۔ وہ نئی توانائی اور نئی امید کے ساتھ اصلاح کے اس عمل کی طرف پلٹے انھیں اپنی تنہائی اور پسماندگی کا احساس جاتارہا۔ وہ احساسِ کہتری کے ہر اثر سے آزاد ہو کر اپنی زندگی بنانے کی طرف متوجہ ہوگئے اور قرآن کریم نے اس مضمون کی دلنوازی اور اثر آفرینی میں جس طرح اضافہ کیا وہ بجائے خود اللہ کی رحمتوں میں سے ایک رحمت ہے۔ اس طرح سے انسان کی قسمت جو صدیوں سے سورة ی تھی اسے جاگنے کا موقعہ ملا اور اللہ سے بندوں کا ٹوٹا ہوا رشتہ نئے سرے سے قائم ہوگیا۔
توبہ کی اس نعمت نے عرب کے بگڑے ہوئے لوگوں کو کس طرح سنبھالا اس کا اندازہ بہت سے واقعات سے ہوتا ہے جو نبی کریم ﷺ کے زمانے میں پیش آئے۔ مثال کے طور پر ایک واقعہ ملاحظہ ہو جسے ابن جریر اور طبرانی نے نقل کیا ہے۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) کہتے ہیں کہ ایک روز میں مسجد نبوی سے عشاء کی نماز پڑھ کر پلٹا تو دیکھا کہ ایک عورت میرے دروازے پر کھڑی ہے، میں اس کو سلام کرکے اپنے حجرے میں چلا گیا اور دروازہ بند کرکے نوافل پڑھنے لگا۔ کچھ دیر کے بعد اس نے دروازہ کھٹکھٹایا۔ میں نے اٹھ کر دروازہ کھولا اور پوچھا کیا چاہتی ہے۔ وہ کہنے لگی میں آپ سے ایک سوال کرنے آئی ہوں۔ مجھ سے زنا کا ارتکاب ہوا، ناجائز حمل ہوا، بچہ پیدا ہوا تو میں نے اسے مار ڈالا۔ اب میں معلوم کرنا چاہتی ہوں کہ میرا گناہ معاف ہونے کی بھی کوئی صورت ہے۔ میں نے کہا، ہرگز نہیں۔ وہ بڑی حسرت کے ساتھ آہیں بھرتی ہوئی واپس چلی گئی اور کہنے لگی افسوس یہ حسن آگ کے لیے پیدا ہوا تھا۔ صبح نبی کریم ﷺ کے پیچھے نماز پڑھ کر جب میں فارغ ہوا تو میں نے حضور ﷺ کو رات کا قصہ سنایا۔ آپ ﷺ نے فرمایا، ابوہریرہ تم نے بڑا غلط جواب دیا۔ کیا تم نے قرآن کریم کی یہ آیت نہیں پڑھی۔ اور آپ نے وہی آیت تلاوت کی جو اس وقت ہمارے پیش نظر ہے۔ حضور ﷺ کا یہ جواب سن کر میں نکلا اور اس عورت کو تلاش کرنا شروع کیا۔ رات کو عشاء ہی کے وقت وہ ملی۔ میں نے اسے بشارت دی اور بتایا کہ سرکار رسالت مآب ﷺ نے تیرے سوال کا یہ جواب دیا ہے۔ وہ سنتے ہی سجدے میں گرگئی اور کہنے لگی، شکر ہے اس اللہ کا جس نے میرے لیے معافی کا دروازہ کھولا۔ پھر اس نے گناہ سے توبہ کی اور اپنی لونڈی کو اس کے بیٹے سمیت آزاد کردیا۔
Ayah 25:72وَالَّذِیْنَ لاَ یَشْھَدُوْنَ الزُّوْرَ لا وَاِذَا مَرُّوْا بِاللَّغْوِمَرُّوْا کِرَامًا۔ (الفرقان : 72)
(اور (عبادالرحمن وہ ہیں) جو جھوٹ کے گواہ نہیں بنتے، اور اگر کسی بےہودہ بات پر ان کا گزر ہوتا ہے تو وقار کے ساتھ گزر جاتے ہیں۔ )
عبادالرحمن کا لغویات سے احتراز
زُور … جھوٹ یا جھوٹی بات کو کہتے ہیں۔ باطل کے لیے بھی یہ لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نیک بندے کسی باطل اور کسی جھوٹی بات میں کبھی شریک نہیں ہوتے۔ اور کسی ایسی تقریب اور ایسی مجلس میں جانا پسند نہیں کرتے جہاں کوئی باطل بات ہورہی ہو یعنی کوئی خلاف شریعت کام سرانجام دیا جارہا ہو۔ اور کسی جھوٹ میں کبھی شامل ہونے یا شریک ہونے کو تیار نہیں ہوتے۔ ہر وہ کام جو خلاف واقعہ ہو یا اللہ تعالیٰ سے جس طرح کی زندگی کا ہم وعدہ کرچکے ہیں اس کیخلاف ہو۔ وہ ایسی کسی مصروفیت میں شامل نہیں ہوتے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ کبھی جھوٹی گواہی نہیں دیتے۔ کوئی ایسی بات زبان سے نہیں نکالتے جو خلاف واقعہ ہو یا ان کے علم کے خلاف ہو۔ حق کی گواہی کو وہ کبھی باطل کی گواہی سے تبدیل نہیں کرتے اور حتی المقدور حق کی گواہی کے لیے کمربستہ رہتے ہیں اور اس طرح کے اخفاء سے کام نہیں لیتے جس سے جھوٹ کو فروغ یا سپورٹ ملنے کا امکان ہو۔
لغو ہر ایسی بات کو کہتے ہیں جو سنجیدہ اور شائستہ انسانوں کے کہنے یا کرنے کی نہ ہو۔ اور ایسی بات کو بھی لغو کہا جاتا ہے جس میں نہ دنیا کا فائدہ ہو نہ دین کا۔ جسے آنحضرت ﷺ نے لایعنی قرار دیا۔ اور اگر کہیں انھیں ایسی مجلس کے قریب سے گزرنا پڑے جہاں اس طرح کی حرکتیں ہورہی ہوں تو وہاں سے ایسے گزرتے ہیں جیسے ایک مہذب اور پاکیزہ مزاج آدمی گندگی کے ڈھیر کے قریب سے گزرتا ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ( رض) ایسی ہی ایک تقریب کے پاس سے گزرے تو آپ ( رض) نے اپنی چادر سے منہ اور سر لپیٹ لیا اور اس طرح خاموشی سے گزر گئے کہ کسی کو احساس تک نہ ہوا۔ دور سے کسی نے آپ کو پہچانا۔ صبح کی نماز کے بعد آنحضرت ﷺ سے ان کے اس طرزعمل کا ذکر کیا تو آنحضرت ﷺ نے اس کی تائید میں یہ آیت ِ کریمہ تلاوت فرمائی۔
Ayah 25:73وَالَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِاٰیٰتِ رَبِّہِمْ لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا۔ (الفرقان : 73)
(اور (عبادالرحمن) وہ لوگ ہیں کہ جب انھیں نصیحت کی جاتی ہے ان کے رب کی آیات کے ذریعے سے تو ان پر بہرے اور اندھے ہو کر نہیں گرتے۔ )
لَمْ یَخِرُّوْا عَلَیْھَا صُمًّا وَّ عُمْیَانًا … قرطبی اور بحرمحیط کی وضاحت کے مطابق لَمْ یَخِرُّوْاگر پڑنے کے مفہوم پر دلالت نہیں کرتا بلکہ اس کا مفہوم روگردانی اور سرتابی ہے۔
عبادالرحمن کا نصیحت سے شغف
انسان میں بعض کمزوریاں ایسی ہیں کہ جب تک انسان نہایت ہوش مندی سے اپنا احتساب نہ کرے اسے ان کمزوریوں کا احساس نہیں ہوپاتا۔ انہی میں سے ایک کمزوری یہ ہے کہ جس شخص کو اللہ تعالیٰ بہت زیادہ نیکی اور عبادت کی توفیق دیتا ہے بالعموم اس کے اندر نیکی کا پندار پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جب اسے کسی بھلائی کی نصیحت کی جاتی یا کسی حقیقت کی یاددہانی کرائی جاتی ہے تو وہ عموماً اس پندار کی وجہ سے اس یاددہانی کی طرف توجہ نہیں دیتا اور سمجھتا ہے کہ مجھے اس کی ضرورت نہیں۔ لیکن وہ لوگ جو اپنی تمام تر عبادت، ریاضت اور نیکی سے شغف کے باوجود نصیحت کی ہر بات کو اپنی متاع گم گشتہ سمجھتے ہیں حقیقت میں یہ لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ کا بےپایاں احسان ہوتا ہے۔ چناچہ ایسے ہی لوگوں کو یہاں عبادالرحمن کے نام سے یاد کیا گیا ہے اور ان کی یہ صفت بیان کی گئی ہے کہ جب انھیں قرآن کے ذریعے تعلیم و تذکیر کی جاتی ہے تو وہ اعراض کی بجائے لپکتے ہوئے اس کی طرف اس طرح متوجہ ہوتے ہیں جس طرح ایک پیاسا ٹھنڈے پانی کی طرف ہاتھ بڑھاتا ایک بھوکا کھانے کی ہر چیز کو اپنے لیے نعمت غیرمترقبہ سمجھتا اور تھکاوٹ سے چور آدمی جہاں بھی جگہ ملے بےقرار ہو کر سو جاتا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ قرآن کریم کے مخالفین پر تعریض بھی کی گئی ہے کہ جب ان کے سامنے قرآن کریم پڑھا جاتا ہے تو وہ پڑھنے والے کو اس طرح دیکھتے ہیں جیسے اندھے ہوتے ہیں اور قرآن کریم کو اس طرح سنتے ہیں جیسے بہرے ہوتے ہیں لیکن عبادالرحمن کا شوق ایسے مواقع پر دیکھنے کے قابل ہوتا ہے۔ وہ قرآن کریم کی ہر بات سے گہرا اثر قبول کرتے، اس کی پیروی کرتے، اس کے فرائض کی پابندی کرتے اور اس کے نواہی سے اس طرح اجتناب کرتے ہیں جیسے مہلک چیزوں سے بچا جاتا ہے اور قرآن پاک کی تعلیم اور نصیحت ان کے لیے آب حیات سے بڑھ کر ہوتی ہے۔
Ayah 25:74وَالَّذِیْنَ یَـقُوْلُوْنَ رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَجِنَا وَذُرِّیّٰـتِـنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّـقِیْنَ اِمَامًا۔ (الفرقان : 74)
(اور جو دعا کرتے ہیں کہ اے ہمارے رب ہم کو ہماری بیویوں اور ہماری اولاد کی جانب سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام بنا۔ )
عبادالرحمن کی جامعیت
عبادالرحمن کی صفاتِ حمیدہ کو پڑھ کر گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید یہ لوگ علائقِ دنیا سے لاتعلق، گھریلو زندگی سے بےنیاز اور حقوق و فرائض کی گراں باریوں سے گریزاں ہوں گے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتا کر ہماری اس غلط فہمی کو دور کردیا گیا ہے کہ وہ ازدواجی زندگی کی ذمہ داریوں سے گراں بار اور بیوی بچوں کے حقوق سے بہرہ ور بھی ہیں۔ وہ نہ صرف ان رشتوں سے گریزاں نہیں بلکہ ان کے اندر ان رشتوں کی چاہت بھی پائی جاتی ہے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ان رشتوں کی چاہتیں اور دلبستگیاں سیرت و افکار میں آلودگی پیدا کرنے کا باعث ہوں، لیکن ہم اس کے برعکس یہ دیکھتے ہیں کہ وہ اپنی بیویوں سے محبت اور اپنی اولاد سے گہری وابستگی رکھنے کے باوجود ان کے لیے وہ کچھ نہیں چاہتے جو ہمیشہ شوہر اپنی بیوی اور باپ اپنی اولاد کے لیے چاہتا ہے۔ وہ بیوی کو اچھا مکان اور آرام و راحت ضرور بہم پہنچاتے ہیں اور اولاد کے خوب سے خوب تر مستقبل کے لیے کوشاں بھی رہتے ہیں، لیکن حقیقت میں جو ان کے دل کے ارمان ہیں وہ ان کی دعائوں کی صورت میں ظاہر ہوتے ہیں۔ کیونکہ دعا ایک ایسی چیز ہے جو انسانی سیرت کے مخفی گوشوں کو بےنقاب کردیتی ہے۔ دعا ہی سے انسان کے ارادوں کی بھنک پڑتی اور اس کی بلند نظری اور عالی ظرفی کا اندازہ ہوتا ہے۔ چناچہ وہ تنہائی میں جب اپنے رب سے عجز و نیاز کا رشتہ جوڑ کر دعا کے لیے ہاتھ پھیلاتے ہیں تو نہ وہ دولت کی ریل پیل مانگتے ہیں اور نہ بچوں کے لیے امارت و سیادت کی درخواست کرتے ہیں بلکہ صرف یہ عرض کرتے ہیں یا اللہ ہماری بیویوں اور ہمارے بچوں سے ہمیں آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما۔ ہماری آنکھوں کی ٹھنڈک دنیوی سربلندی میں نہیں بلکہ اخروی فوزوفلاح میں ہے۔ ہمارے گھر کو جنت کا نمونہ بنا دے، جس میں بیوی کی امانت و دیانت، عفت مآبی، غیرت و حمیت اور تقویٰ و طہارت کی روشنی پھیلی ہوئی ہو۔ اور اولاد ایک مومن قانت کی تصویر، تقویٰ و اخلاص کی پیکر، اپنے والدین کی فرمانبردار اور اللہ اور رسول کی کامل وفادار ہو۔ یہی وہ خوبیاں ہیں جو جنت میں لے جانے والی اور آخرت میں کامیابی کی ضمانت ہیں۔ اور یہی وہ بشارتیں ہیں جن سے ایک مومن کو آنکھوں کی ٹھنڈک نصیب ہوسکتی ہے۔
عبادالرحمن کے ہدف کی بلندی
دوسرے جملے میں ارشاد فرمایا کہ وہ اپنے اہل خانہ کے لیے دعا سے فارغ ہو کر پھر اپنے اللہ سے اپنے لیے دعا مانگنا شروع کردیتے ہیں۔ اور وہ دعا صرف اعمالِ حسنہ اور اخلاقِ طیبہ کے لیے نہیں ہوتی، کیونکہ یہ دولت وہ پہلے بھی حاصل کرچکے ہیں۔ وہ اس سے ایک قدم آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ سے التجا کرتے ہیں کہ الٰہی ! ایمان لانے کے بعد مکہ کی سرزمین ہر مومن کے لیے تنگ ہوتی جارہی ہے، اذیتیں بڑھتی جارہی ہیں، حالات روزبروز بگڑتے جارہے ہیں، ہر گھر میں ایک تصادم برپا ہے، مسلمان کمزور ہونے کے باعث ظلم کی چکی میں پسے جارہے ہیں۔ اس لیے ہر ایمان لانے والا استقامت میں دشواری محسوس کررہا ہے اور ہر ایمان کا ارادہ کرنے والا اپنے سامنے رکاوٹوں کے انبار دیکھ رہا ہے۔ انسانی ہمت جواب دیتی جارہی ہے، زمین گرمی سے جھلس گئی ہے لیکن بارش کا ہر قطرہ اس لیے برسنے کی ہمت نہیں کررہا کہ برسنے کا نتیجہ جھلس جانے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔ الٰہی ہمیں توفیق عطا فرما کہ ہم ایسے مومنوں اور تقویٰ شعار لوگوں کے لیے امامت اور پیشوائی کا فرض انجام دے سکیں، ہم مخالفتوں کو انگیخت کریں اور برداشت کریں، ہماری استقامت دوسروں کے لیے حوصلے کا سامان بن جائے۔
آج کے حالات میں کہا جارہا ہے کہ مہنگائی بڑھ جانے کے باعث تنخواہوں میں گزارہ نہیں ہورہا اس لیے رشوت سے بچنا یا دیگر حرام ذرائع سے اجتناب کرنا ناممکن ہوگیا ہے۔ آج ہر مومن اور متقی کا فرض ہے کہ وہ جہاں کہیں بھی ہے اپنے عمل سے ایسے ہی مشکل حالات میں جینے کا راستہ پیدا کرے۔ جب دفتر میں لوگ یہ کہیں کہ ہم رشوت کیوں نہ لیں، تنخواہ سے کسی طور گزارہ نہیں ہوسکتا تو دفتر کے ایک کونے میں بیٹھا ہوا کوئی کلرک رشوت سے اجتناب اور پرہیز کی تصویر بن کر اپنے رفیقوں کو یہ سبق دے سکے کہ میرا عمل دیکھو میں بھی تمہاری طرح بیوی بچوں کی ذمہ داریاں رکھتا ہوں، مجھے بھی اپنے بچوں کو تعلیم دلانا ہے، میری ضرورتوں میں اور تمہاری ضرورتوں میں کوئی جوہری فرق نہیں۔ اس کے باوجود میں رشوت کے قریب نہیں جاتا، تنخواہ میں سمٹ کے رہتا ہوں۔ اور اللہ تعالیٰ نے میری تنخواہ میں ایسی برکت دے رکھی ہے کہ میں بڑی آسانی سے زندگی گزار رہا ہوں۔ فرق صرف استقامت اور بےصبری، اللہ تعالیٰ پر بھروسہ اور اللہ سے ناامیدی اور جذبہ کفایت اور ہوس کی اسیری میں ہے۔ یہ دو مختلف رویوں کے نام ہیں۔ ان میں سے ایک رویہ متقین کے لیے رہنما پیدا کرتا ہے جس سے وہ اپنی زندگیوں میں روشنی پاتے ہیں۔ اور دوسرا رویہ کم ظرف، ہوس کے اسیر اور خواہشات کے پرستار پیدا کرتا ہے جو دھرتی کا بوجھ بن کر دھرتی کے لیے عذاب بن جاتے ہیں۔
Ayahs 25:75–76اُوْلٰٓئِکَ یُجْزَوْنَ الْغُرْفَـۃَ بِمَا صَبَرُوْا وَیُلَقَّوْنَ فِیْھَا تَحِیَّـۃً وَّسَلٰـمًا۔ خٰلِدِیْنَ فِیْھَا حَسُنَتْ مُسْتَقَرًّا وَّ مُقَامًا۔ (الفرقان : 75، 76)
(یہ ہیں وہ لوگ جنھیں ان کے صبر کے باعث بالاخانے دیئے جائیں گے اور ان میں ان کا خیرمقدم تحیت وسلام کے ساتھ ہوگا۔ وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے، بہت عمدہ ہے وہ ٹھکانہ اور قیام گاہ۔ )
عبادالرحمن کا اخروی مقام و مرتبہ
گزشتہ آیات میں ہم جن بلند قامت انسانوں کی صفاتِ حمیدہ عبادالرحمن کے حوالے سے پڑھ چکے ہیں۔ یہی وہ لوگ ہیں جنھیں قیامت کے دن جنت میں اس طرح خوش آمدید کہا جائے گا کہ کہیں انھیں دعائیں دی جارہی ہوں گی، اور کہیں سلامتی کے ترانے گائے جارہے ہوں گے۔ نہایت احترام اور اجلال کے ساتھ فرشتوں کے جلو میں انھیں جنت کے بالاخانوں میں لایا جائے گا۔ اب ہمیشہ کے لیے یہ بالاخانے ان کی قیام گاہیں ہوں گی۔ انھوں نے دنیا میں تواضع اور فروتنی کی زندگی گزاری۔ اس وجہ سے جنت کی عالی مقامی کے سزاوار ٹھہریں گے۔ ہماری زبان میں بالاخانہ دوسری منزل پر بنے ہوئے مکان کو کہتے ہیں، لیکن اس آیت میں جس طرح اس لفظ کا استعمال ہوا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ وہ جنت کا کوئی نہایت بلند مقام ہے جسے زندگی بھر کے صبر کے صلے میں اللہ تعالیٰ اہل جنت کو عطا فرمائے گا۔ کیونکہ یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے مخالفین کے مظالم کا نہایت مردانگی سے مقابلہ کیا۔ اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے بڑی سے بڑی مخالفت کو خاطر میں نہ لائے۔ ہر خوف اور لالچ کے مقابلے میں راہ راست پر ثابت قدم رہے۔ شیطان کی تمام ترغیبات اور نفس کی ساری خواہشات ان کے سامنے بےبس ہو کر رہ گئیں۔ لطف و لذت کا کوئی مطالبہ انھیں ایمان کے راستے سے نہ ہٹا سکا۔ اور گناہ کی ساری لذتیں اور مال و دولت کی ساری منفعتیں ان کے راستے کا غبار بن گئیں۔ اللہ تعالیٰ کے راستے میں آنے والی ہر مصیبت پر صبر کیا، ہر اطاعت پر جمے رہے، اور ہر خواہش کا مقابلہ کیا۔ ان تینوں کیفیتوں کے لیے عربی زبان میں صبر ہی کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے۔ تو جن لوگوں نے ایسی غیرمعمولی زندگی گزاری اور غیرمعمولی جرأت و استقامت سے دنیا کی خواہشات کو شکست دی وہ یقینا اس کے مستحق ہیں کہ اللہ تعالیٰ انھیں بالاخانوں سے نوازے اور تہنیت وسلام سے ان کا استقبال کیا جائے۔ اور پھر یہ اعزاز ایسا پائیدار ہو جس پر کبھی زوال کا سایہ نہ پڑے۔ اور آخر میں فرمایا کہ تم کیا جانو جنت کا مستقر یعنی عارضی ٹھکانہ اور مقام یعنی مستقل قیام گاہ کتنی عظیم چیز ہے جس کا نہ کماحقہ ادراک کیا جاسکتا ہے اور نہ الفاظ میں اس کے اظہار کا حق ادا ہوسکتا ہے۔
Ayah 25:77قُلْ مَا یَعْبَـؤُا بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلاَ دُعَآؤُکُمْ ج فَقَدْکَذَّبْتُمْ فَسَوْفَ یَکُوْنُ لِزَامًا۔
(الفرقان : 77)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میرے رب کو تمہاری کیا پرواہ ہے اگر تمہیں دعوت دینا نہ ہوتا، سو تم نے اس کی تکذیب کردی تو وہ چیز عنقریب لازم ہو کر رہے گی۔ )
مخالفین کو وارننگ
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے مخالفین کو دھمکی دی ہے اور براہ راست ان سے کچھ کہنے کی بجائے آنحضرت ﷺ کو ارشاد فرمایا گیا کہ آپ انھیں یہ وارننگ دے دیں، کیونکہ وہ آپ ہی کے سامنے اللہ تعالیٰ کے دین کا انکار کرتے اور اللہ تعالیٰ کے عذاب کا تمسخر اڑاتے ہیں اور آپ جس طرح خون جگر پی پی کر ان کی اصلاح کی خاطر تبلیغ و دعوت کا فرض انجام دے رہے ہیں وہ اس سے اثر لینے کی بجائے اسے آپ کی دیوانگی قرار دے رہے ہیں۔ وہ جیسے جیسے مخالفت میں آگے بڑھتے جارہے ہیں آپ کی تبلیغی کاوشوں میں ویسے ویسے سرگرمی آتی جارہی ہے۔ وہ بدزبانی کرتے ہیں اور آپ ان کی ہدایت کے لیے دعائیں مانگتے ہیں۔ انھیں کہہ دیجیے کہ میں یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کر رہا ہوں اور تم یہ سمجھتے ہو کہ تم اسے قبول نہ کرکے شاید اللہ تعالیٰ کا یا میرا کچھ بگاڑ رہے ہو۔ حالانکہ میری تبلیغ و دعوت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے مسلسل قرآن کریم کا نزول محض اس لیے ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے اوپر یہ بات لازم کر رکھی ہے کہ میں اس وقت تک کسی قوم کو عذاب نہیں دے گا جب تک اس پر اتمامِ حجت نہ ہوجائے تاکہ قیامت کے دن کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ ہمارے پاس کوئی انذار کرنے والا نہیں پہنچا۔ یہ ہے وہ ذمہ داری جس کی ادائیگی کے لیے اللہ تعالیٰ رسول بھیجتا اور کتاب نازل کرتا ہے، ورنہ زمین پر بسنے والی ایک ادنیٰ مخلوق کی اللہ تعالیٰ کا کیا پرواہ ہوسکتی ہے۔ اب جبکہ تم اس کو جھٹلا چکے ہو اور میری ہمدردیاں اور خیرخواہیاں تمہاری اس سرکشی کو روکنے سے عاجز رہ گئی ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ تکذیب و انکار کرنے والی قوموں پر اتمامِ حجت ہوجانے کے بعد جس طرح عذاب آتا رہا ہے تم بھی اپنے رویئے سے اس کے قریب پہنچ چکے ہو۔ کیونکہ تکذیب کا لازمی نتیجہ اللہ تعالیٰ کا عذاب ہے۔ قدرت اس میں مہلت تو دیتی ہے لیکن وہ ایسی لازم ہوجانے والی چیز ہے جس سے کوئی امت اپنے آپ کو تبدیل کیے بغیر بچ نہیں سکتی۔