32. Surah As-Sajda

السجدةThe Prostration · 30 ayahsروح القرآن

Ayahs 32:15–17

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰیٰتِنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُكِّرُوْا بِهَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّ سَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّهِمْ وَ هُمْ لَا یَسْتَكْبِرُوْنَ۩ Open ayah 32:15 in the Quran reader

ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں جب یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے

تَتَجَافٰى جُنُوْبُهُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ خَوْفًا وَّ طَمَعًا١٘ وَّ مِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ Open ayah 32:16 in the Quran reader

ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّاۤ اُخْفِیَ لَهُمْ مِّنْ قُرَّةِ اَعْیُنٍ١ۚ جَزَآءًۢ بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:17 in the Quran reader

تو کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان لوگوں کے واسطے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک پوشیدہ ہے

اِنَّمَا یُؤْمِنُ بِاٰ یٰـتِـنَا الَّذِیْنَ اِذَا ذُکِّرُوْا بِھَا خَرُّوْا سُجَّدًا وَّسَبَّحُوْا بِحَمْدِ رَبِّہِمْ وَھُمْ لاَیَسْتَکْبِرُوْنَ ۔ السجدۃ تَتَجَا فٰی جُنُوْبُھُمْ عَنِ الْمَضَاجِعِ یَدْعُوْنَ رَبَّھُمْ خَوْفًا وَّطَمَعًا ز وَّمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّـآ اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍج جَزَآئً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 15 تا 17) (ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنھیں جب یہ آیات سنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ سجدے میں گرپڑتے ہیں اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کرتے ہیں اور وہ تکبر نہیں کرتے۔ ان کے پہلو بستروں سے الگ رہتے ہیں وہ اپنے رب کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں اور جو کچھ رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ تو کوئی متنفس نہیں جانتا کہ ان لوگوں کے واسطے ان کے اعمال کے صلہ میں آنکھوں کی کیا ٹھنڈک پوشیدہ ہے۔ ) قرآن پر ایمان لانے والوں کی صفات اس سے پہلے کی آیات میں ان لوگوں کی صفات بیان کی گئی ہیں جو قرآن حکیم اور نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے سے گریز کررہے تھے۔ اب پیش نظرآیات میں یہ بتایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کی کتاب پر ایمان لاتے ہیں یا آئندہ ایمان لائیں گے وہ کس قسم کے لوگ ہوتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کے لیے کیا اجروثواب ہے۔ ان کی پہلی صفت یہ بیان کی گئی ہے کہ جب انھیں اللہ تعالیٰ کی کتاب کی آیات پڑھ کر نصیحت کی جاتی ہے یا یاددہانی کرائی جاتی ہے تو وہ بجائے اس کے کہ اللہ تعالیٰ کی آیات میں بیان کردہ کسی بات پر جھگڑیں اور بحث کریں وہ فوراً سجدوں میں گرجاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں۔ یعنی وہ اپنے غلط خیالات سے تائب ہو کر اللہ تعالیٰ کے ارشادات پر کان دھرتے اور ہر ہدایت پر سر جھکا دیتے ہیں۔ انھیں چونکہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے نازل ہوئی ہے یہ اس کا کلام اور اس کے فرامین کا مجموعہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی عظمت چونکہ ان کے دلوں میں اتر چکی ہے اور خشیت اور انابت سے وہ اپنے دلوں کو آباد کرچکے ہیں تو جیسے ہی انھیں اللہ تعالیٰ کی آیات سے نصیحت کی جاتی ہے تو وہ فوراً سر سجدے میں رکھ دیتے ہیں یعنی سرتاپا تسلیم بن جاتے ہیں۔ اور چونکہ انھیں اللہ تعالیٰ کی معرفت بہت حد تک حاصل ہوچکی ہے اس لیے و وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتے ہیں یعنی جو صفات اس کے لائق نہیں ان سے اس کی تنزیہہ کرتے ہیں۔ اور جو صفات اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہیں ان کو اللہ تعالیٰ کے لیے ثابت کرتے ہیں۔ حمد اور تسبیح سے اسی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اور یہ دولت ان کو اس وجہ سے نصیب ہوتی ہے کہ ان میں استکبار نہیں۔ یعنی وہ حق کے مقابلے میں نہ اپنی خواہشات کو حائل ہونے دیتے ہیں اور نہ کسی ازم سے وابستگی ان کے لیے روکاٹ بنتی ہے۔ اور نہ آبائواجداد کی تقلید اور نہ معاشرے کا چلن ان کے پائوں کی زنجیر بنتا ہے۔ وہ ہر چیز کو اللہ تعالیٰ کی کبریائی پر قربان کردیتے ہیں۔ وہ حق کو ہرحال میں ہر سطح پر ہر چیز سے بالا سمجھتے ہیں۔ مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے حاضری اور آخرت کی بازپرس کا خوف چونکہ ان پر غالب رہتا ہے اس لیے وہ راتوں کو اٹھ اٹھ کر گرم بستروں سے نکل کر اپنے رب کے حضور کھڑے ہوجاتے، اس کو پکارتے اور اس کی رضا کے طالب ہوتے ہیں۔ وہ اسی سے امید رکھتے ہیں اور اسی کے خوف سے دل کو معمور رکھتے ہیں۔ اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے ان کو دے رکھا ہے وہ ہرحال میں اس کو خرچ کرتے ہیں۔ یاد رہے کہ مال حرام کو اللہ تعالیٰ نے کہیں بھی اپنا رزق قرار نہیں دیا۔ تو اس لحاظ سے اس آیت کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ اللہ تعالیٰ کے دیے ہوئے رزق حلال میں سے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ وہ حرام مال کے قریب بھی نہیں جاتے، مفت بھی مل جائے تو اس کو ہاتھ نہیں لگاتے۔ ان کے پاس جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کا دیا ہوا حلال رزق ہوتا ہے اس لیے وہ یقینا اسی میں سے خرچ کرتے ہیں چاہے اس کے شدید ضرورت مند کیوں نہ ہوں۔ وہ جانتے ہیں کہ حرام مال کو اللہ تعالیٰ قبول نہیں فرماتا بلکہ اس کی بارگاہ میں حرام مال پیش کرنا اس کی تقدیس کے خلاف ہے۔ یہ جو فرمایا گیا کہ ان کے پہلو ان کے بستروں سے الگ رہتے ہیں اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہ بالکل سوتے نہیں۔ بلکہ مطلب یہ ہے کہ وہ آرام کی فطری خواہش کے پیش نظر اور نیند کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے سوتے بھی ہیں لیکن دھیان اللہ تعالیٰ کی عبادت کی طرف لگا رہتا ہے۔ وہ بستروں پر اٹھنے کے لیے لیٹتے ہیں اور جب بارگاہِ حق میں کھڑے ہوتے ہیں تو نیند یا آرام کا جذبہ ان پر غالب نہیں آنے پاتا۔ علماء نے اس سے مراد قیام اللیل بھی لیا ہے اور نماز تہجد بھی۔ اور اگر کوئی شخص عشاء کی نماز باجماعت پڑھ کر سو جائے اور پھر کسی وجہ سے اٹھ نہ سکے اور فجر کی نماز جماعت کے ساتھ ادا کرے تو اللہ تعالیٰ اسے بھی انھیں لوگوں میں شمار فرماتا ہے جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ تیسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ان خوش نصیب بندوں کی شب بیداری اور انفاق کا صلہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایسی نعمتیں مقدر کر رکھی ہیں جو ان کے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک کا باعث ہوں گی۔ اور وہ ایسی بےمثال اور انمول نعمتیں ہیں کہ دنیا میں کوئی ان کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ متعدد کتب حدیث میں نبی کریم ﷺ کی یہ حدیث نقل کی گئی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : قَالَ اللّٰہُ تَعْالٰی اَعْدَدْتُّ لِعِبَادِیَ الصَّالِحِیْنَ مَالاَعَیْنٌ رَاَتْ وَلاَ اُذُنٌ سَمِعَتْ وَلاَ خَطَرَ عَلٰی قَلْبِ بَشَرٍ ” اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں نے اپنے نیک بندوں کے لیے وہ کچھ فراہم کر رکھا ہے جسے نہ کبھی کسی آنکھ نے دیکھا، نہ کبھی کسی کان نے سنا، اور نہ کوئی انسان اس کا تصور کرسکا۔ “ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے کہ ان خوش نصیب بندوں کو جو کچھ ملے گا وہ ان کے اپنے ہی اعمال کا صلہ ہوگا۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جس سے ان خوش نصیب بندوں کی قسمت کی بلندی بشری پیمانوں کو شکست دے رہی ہے۔ بلاشبہ ان کو جو کچھ ملے گا وہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہوگا کیونکہ انسانوں کے اعمال اس قابل کہاں کہ بارگاہِ حق میں بار پاسکیں۔ لیکن اس کے باوجود جب اللہ تعالیٰ انھیں ان نعمتوں کا حقدار ان کے اعمال کی وجہ سے قرار دے رہا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس نے ان کے اعمال کو نہ صرف قبول کیا بلکہ بارآور بھی فرمایا ہے۔ اس سے ان کی خوشیوں میں ایسا اضافہ ہوگا وہ شاید کسی اور چیز سے ممکن نہ ہو۔
Ayah 32:18

اَفَمَنْ كَانَ مُؤْمِنًا كَمَنْ كَانَ فَاسِقًا١ؔؕ لَا یَسْتَوٗنَؐ Open ayah 32:18 in the Quran reader

بھلا وہ شخص جو مومن ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو فاسق ہے، دونوں یکساں نہیں ہوسکتے

اَفَمَنْ کَانَ مُؤْمِنًا کَمَنْ کَانَ فَاسِقًا ط لاَ یَسْتَوٗنَ ۔ (السجدۃ : 18) (بھلا وہ شخص جو مومن ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو فاسق ہے، دونوں یکساں نہیں ہوسکتے۔ ) مومن اور فاسق کا مفہوم اور ان میں عدم مساوات مومن سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے اوصاف اوپر کی آیات میں بیان کیے گئے ہیں جو اللہ تعالیٰ کو اپنا رب اور معبودِواحد مان کر اس قانون کی اطاعت کو زندگی کا رویہ بنا لیتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کے ذریعے سے بھیجا ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کی تسبیح وتحمید کرتے اور ہر وقت اس کے احکام کے سامنے گردن جھکائے رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں رزق دیتا ہے تو وہ استطاعت کے مطابق اس کے راستے میں خرچ بھی کرتے ہیں۔ اور اس کی اطاعت اور عبادت میں کبھی کوتاہی نہیں کرتے۔ اور فاسق وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے احکام سے باغی، اس کی حدود کو پامال کرنے والے اور اپنے نفس یا غیر اللہ کے پیروکار ہوتے ہیں۔ ان دونوں کے افکار، طرزِحیات اور اعمال میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ جس طرح ان کا طرزفکر اور طرزحیات یکساں نہیں اور دونوں الگ الگ راستوں کے مسافر ہیں، اسی طرح آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ الگ الگ معاملہ فرمائے گا۔ اور گزشتہ آیات میں تفصیل سے مومن اور فاسق دونوں کے الگ الگ انجام کو بیان فرمایا گیا ہے۔ وہ اپنے وفادار بندوں کو نعمتوں سے نوازے گا اور اپنے باغیوں اور طاغیوں کو سخت ترین سزائیں دے گا۔ اور ایسا وہ اس لیے کرے گا کہ اس کا ہر کام مبنی برحکمت ہے۔ وہ جس طرح سب کا خالق ہے اسی طرح سب کے لیے عادل اور رحیم و کریم بھی ہے۔ اگر اس کے نزدیک یہ دونوں طرح کے لوگ یکساں ہوتے تو یہ اس کی صفت حکمت اور صفت عدالت کی صریحاً خلاف ورزی ہوتی۔ چناچہ اسی حکمت کا تقاضا ہے کہ قیامت کا دن آئے، اس کے وفادار بندے وفاداریوں کا صلہ پائیں اور اس کے نافرمان، نافرمانیوں کی سزا بھگتیں۔
Ayah 32:19

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَهُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰى١٘ نُزُلًۢا بِمَا كَانُوْا یَعْمَلُوْنَ Open ayah 32:19 in the Quran reader

جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے باغ ہیں رہنے کے، مہمانی ان کاموں کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے

اَمَّا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَلَھُمْ جَنّٰتُ الْمَاْوٰی ز نُزُلاً م بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ ۔ (السجدۃ : 19) (جو لوگ ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ان کے لیے باغ ہیں رہنے کے، مہمانی ان کاموں کی وجہ سے جو وہ کرتے تھے۔ ) نُزُلٌ… اس ضیافت اور مہمانی کو کہتے ہیں جو مہمان کو سب سے پہلے ہلکی پھلکی پیش کی جاتی ہے جبکہ اصل کھانا اور دیگر لوازمات ابھی پیش کرنا باقی ہوتے ہیں۔ صاحبِ ایمان و عمل کی جزاء اس سے پہلے ارشاد فرمایا کہ مومن اور فاسق برابر نہیں ہیں۔ دنیا میں بعض دفعہ دونوں میں کوئی فرق نظر نہیں آتا۔ اور آرام و راحت اور دولت و ثروت کے لحاظ سے بعض دفعہ فاسق مومن سے بہتر حالت میں ہوتا ہے۔ لیکن طرز حیات، طرز فکر اور اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں سے تعلق رکھنے کے حوالے سے دونوں میں کوئی نسبت نہیں ہوتی۔ اسی طرح آخرت میں اجروثواب اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں دونوں کی حیثیت کو واضح طور پر کھول کر رکھ دے گا۔ یہاں اسی کا بیان ہورہا ہے کہ جو لوگ ایمان لائے اور ہزار مشکلات کے باوجود وہ ایمان پر ثابت قدم رہے اور پھر نفس کی تمام اکساہٹوں اور حالات کی ناہمواریوں اور معاشرے کی بداطواریوں کے باوجود انھوں نے ہمیشہ حُسنِ عمل کا سرمایہ جمع کیا اور احکامِ شریعت کی پیروی میں زندگی گزاری۔ اللہ تعالیٰ انھیں جنتوں میں ٹھکانا عطا فرمائے گا۔ ان کی قیام گاہیں وہ عظیم باغات ہوں گے جنھیں جنات کے نام سے یاد کیا گیا ہے لیکن وہ اپنی صفات کے اعتبار سے بےمثال ہیں۔ اولین مہمانی کے طور پر انھیں ان جنتوں میں اتارا جائے گا جو ان کی قیام گاہیں بھی ہوں گی۔ چونکہ عام طور پر کسی عظیم مہمان کو جس گیسٹ ہائوس میں اتارا جاتا ہے وہ اپنی زیب وزینت میں اصل قیام گاہ سے کہیں بڑھا ہوا ہوتا ہے اور وہاں چونکہ قیام مختصر ہوتا ہے اس لیے آئو بھگت بھی خوب ہوتی ہے لیکن مستقل قیام گاہ کی شان و شوکت اور اس میں آئوبھگت یقینا ویسی نہیں ہوسکتی اس لیے کہ یہاں کا قیام تو ہمیشہ کے لیے ہے۔ لیکن یہاں اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرمایا گیا کہ آئو بھگت تو ایسی ہوگی جیسی پہلی مہمانی میں ہوتی ہے، لیکن یہ عارضی قیام گاہیں نہیں ہوں گی بلکہ یہ ان کی مستقل قیام گاہیں ہوں گی۔ اور یہاں کے ناز و نعم اور استقبالیہ ٹھاٹھ باٹھ میں کوئی کمی نہیں آئے گی۔ اور یہ سب کچھ انھیں یقینا اللہ تعالیٰ کے فضل سے میسر آئے گا لیکن ان کے اعزاز کے لیے اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے منسوب کرے گا اور ان کی خوشی میں اضافے کے لیے فرمائے گا کہ یہ سب کچھ تمہارے حُسنِ عمل کا نتیجہ ہے۔
Ayah 32:20

وَ اَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰىهُمُ النَّارُ١ؕ كُلَّمَاۤ اَرَادُوْۤا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْهَاۤ اُعِیْدُوْا فِیْهَا وَ قِیْلَ لَهُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِ الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تُكَذِّبُوْنَ Open ayah 32:20 in the Quran reader

اور رہے وہ جنھوں نے نافرمانی کی، تو ان کا ٹھکانا جہنم ہے، جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اب اس دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے

وَاَمَّا الَّذِیْنَ فَسَقُوْا فَمَاْوٰ ھُمُ النَّارُط کُلَّمَآ اَرَادُوْٓا اَنْ یَّخْرُجُوْا مِنْھَـآ اُعِیْدُوْا فِیْھَا وَقِیْلَ لَھُمْ ذُوْقُوْا عَذَابَ النَّارِالَّذِیْ کُنْتُمْ بِہٖ تُکَذِّبُوْنَ ۔ (السجدۃ : 20) (اور رہے وہ جنھوں نے نافرمانی کی، تو ان کا ٹھکانہ جہنم ہے، جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اسی میں دھکیل دیے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ اب اس دوزخ کے عذاب کا مزہ چکھو جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔ ) نافرمانوں کی سزا اہلِ ایمان کی جزا بیان کرنے کے بعد ان بدنصیبوں کی سزا بیان کی جارہی ہے جو اللہ تعالیٰ کے نافرمان تھے اور جنھیں فُساق و فُجار کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جس طرح اہل ایمان کی جزا جنت ہے، اسی طرح ان کی سزا جہنم ہے۔ وہ سیدھے اس میں دھکیل دیے جائیں گے۔ ظاہر ہے کہ جہنم کا شدید ترین عذاب کون برداشت کرسکتا ہے۔ اس لیے وہ اس سے نکلنے کے لیے ہاتھ پائوں ماریں گے، لیکن انھیں دوبارہ اسی عذاب میں دھکیل دیا جائے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ اب یہاں سے نکلنے کی کوشش مت کرو اس لیے کہ یہاں سے نکل جانا کسی طرح ممکن نہیں۔
Ayah 32:21

وَ لَنُذِیْقَنَّهُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰى دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَكْبَرِ لَعَلَّهُمْ یَرْجِعُوْنَ Open ayah 32:21 in the Quran reader

اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے قریب کا عذاب بھی ضرور چکھائیں گے تاکہ یہ باز آجائیں

وَلَـنُذِیْقَنَّہُمْ مِّنَ الْعَذَابِ الْاَدْنٰی دُوْنَ الْعَذَابِ الْاَکْبَرِ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (السجدۃ : 21) (اور ہم ان کو بڑے عذاب سے پہلے قریب کا عذاب بھی ضرور چکھائیں گے تاکہ یہ باز آجائیں۔ ) عذابِ ادنیٰ اور عذاب اکبر کا مفہوم جو لوگ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیتے ہیں اور کسی طرح بھی اس بات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے کہ ہماری طرف مبعوث کیے جانے والے واقعی اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور ہمیں ان پر ایمان لانا چاہیے۔ تو اللہ تعالیٰ انھیں راہ راست پر لانے کے لیے چھوٹی موٹی تکلیفیں پہنچاتا ہے۔ کبھی ان پر کوئی وبا بھیج دیتا ہے، کبھی زلزلہ آتا ہے، کبھی بارشیں روک دی جاتی ہیں اور کبھی سیلاب سے انھیں تباہ کیا جاتا ہے، کبھی فصلیں اجڑ جاتی ہیں اور قحط سالی کا سماں ہوجاتا ہے، کبھی تجارت خسارے میں چلی جاتی ہے۔ یہ مختلف حوادث ہیں جن سے انفرادی طور پر بھی اور اجتماعی طور پر بھی قوموں کو آزمائش میں ڈالا جاتا ہے تاکہ انھیں اس بات کا یقین پیدا ہو کہ وہ جس طرح زندگی گزار رہے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ وہ من مرضی کے مالک ہیں کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں، یہ غلط ہے۔ یہ حوادث انھیں یہ بتانے کے لیے آتے ہیں کہ انھیں آزمائش کے طور پر فی الجملہ ایک آزادی دی گئی ہے، لیکن وہ مکمل طور پر خودمختار نہیں ہیں۔ انھیں اس بات کی آزادی تو ہے کہ وہ اپنے لیے جو چاہیں راستہ اختیار کریں لیکن اس بات کے وہ پابند ہیں کہ صحیح راستہ اختیار کرنے پر جزا کے مستحق ہوں گے اور غلط راستہ اختیار کرنے پر سزا ملے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کے نبی کی بعثت کے بعد اب ان کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی پر ایمان لائیں اور اس کی رہنمائی کو قبول کریں۔ یہ چھوٹے موٹے حوادث انھیں بار بار توجہ دلاتے ہیں کہ تمہارے اوپر بھی کوئی ذات ہے جو تمہیں کنٹرول کررہی ہے اور یہ حوادث اس کی جانب سے تمہیں تنبیہ کرنے کے لیے آتے ہیں کہ اپنی حالت پر غور کرو اور کائنات کے مالک کی عظمت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کی فرماں روائی کو قبول کرو۔ اصل طاقت اسی حاکم مطلق کے ہاتھ میں ہے۔ اس کی طرف سے جب کوئی آفت تمہارے اوپر آئے تو تمہاری کوئی تدبیر اسے دفع کرسکتی ہے اور نہ کسی غیر اللہ کا سہارا تمہارے کام آسکتا ہے۔ یہ تنبیہات عذاب ادنیٰ ہیں۔ یعنی اس دنیا میں بھیجی جانے والی سزائیں یا تکلیفیں جو درحقیقت حق کی طرف راغب کرنے اور رہنمائی کے لیے ہوتی ہیں۔ لیکن اس کے مقابلے میں عذاب اکبر وہ عذاب ہے جو کفروفسق کی پاداش میں آخرت میں ہوگا۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ یہاں عذاب ادنیٰ سے مراد اس آیت میں وہ سزائیں ہیں جو آنحضرت ﷺ کی نبوت کے انکار کے نتیجے میں قریش کو دی گئیں۔ ان میں یقینا وہ قحط بھی شامل ہے جو آنحضرت ﷺ کی دعا کے نتیجے میں اہل مکہ پر مسلط کیا گیا۔ اور اسی سلسلے کا عذاب غزوہ بدر کی وہ شکست ہے جس نے قریش کی کمر توڑ دی اور اس کی سطوت و وجاہت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا۔ اس میں بڑے بڑے سردار مارے گئے، ان کی قیادت کی پہلی صف تباہی کی نذر ہوگئی اور اس کی آخری شکل فتح مکہ تھی۔ قریش کی خوش قسمتی یہ تھی کہ ان کے اندر قبولیتِ اسلام کا سلسلہ رکا نہیں۔ اور پھر فتح مکہ کے بعد ان کی اکثریت آنحضرت ﷺ پر ایمان لے آئی۔ اس لیے ان پر اس قسم کا فیصلہ کن عذاب نہیں آیا جیسے پہلی معذب قوموں پر آتے رہے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آیت کریمہ میں عذاب ادنیٰ سے مراد وہ عذاب ہے جو کسی قوم پر نبی کی تکذیب کے نتیجے میں آتا ہے۔ اور عذاب اکبر سے مراد وہ عذاب ہے جو آخرت میں آئے گا۔ اور قریش نے چونکہ اسلام قبول کرلیا اس لیے وہ عذاب ادنیٰ کی مکمل شکل سے محفوظ رہے۔ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُوْنَ … اس میں عذاب ادنیٰ کی غرض وغایت بیان کی گئی، کہ عذاب ادنیٰ کی تکمیلی شکل سے پہلے اس کے بعض اجزاء مختلف تکالیف اور آزمائشوں کی شکل میں جھنجھوڑنے کے لیے آتے ہیں۔ اور جو قوم ان تنبیہات سے فائدہ اٹھاتی ہے جیسے قریش نے اٹھایا تو وہ دنیا میں عذاب سے بچ جاتی ہے۔ اور جو اپنی ہٹ پر قائم رہتے ہیں وہ قوم عادوثمود کی طرح عذاب ادنیٰ کا شکار دنیا میں ہوتے ہیں اور آخرت میں عذاب اکبر کا شکار ہوں گے۔
Ayah 32:22

وَ مَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُكِّرَ بِاٰیٰتِ رَبِّهٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْهَا١ؕ اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ۠ Open ayah 32:22 in the Quran reader

اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے پھر وہ اس سے اعراض کرے، ہم ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے

وَمَنْ اَظْلَمُ مِمَّنْ ذُکِّرَ بِاٰ یٰتِ رَبِّہٖ ثُمَّ اَعْرَضَ عَنْھَاط اِنَّا مِنَ الْمُجْرِمِیْنَ مُنْتَقِمُوْنَ ۔ (السجدۃ : 22) (اور اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جسے اس کے رب کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے پھر وہ اس سے اعراض کرے، ہم ایسے مجرموں سے ضرور انتقام لیں گے۔ ) باغی کی سزا کا سبب گزشتہ آیت میں فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ کے باغی ہیں ان کا ٹھکانہ جہنم ہے۔ اس آیت کریمہ میں اس کی وجہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ذرا غور کرو کہ ہم نے انسانوں کو زمین پر آباد کیا تو انھیں شعور اور عقل سے بہرہ ور فرمایا، انھیں حواس بھی عطا فرمائے، غور و فکر کی قوتوں سے نوازا، پھر اسی پر بس نہیں کی ان کی طرف اپنے نبی بھیجے اور کتابیں اتاریں اور ساتھ ساتھ ان کے حواس اور ان کی عقل کی رہنمائی کے لیے ایسے نشانیاں روشن کیں جن سے وہ بہت آسانی سے حقیقت تک پہنچ سکتے تھے۔ ان نشانیوں میں آفاق کی نشانیاں بھی ہیں اور وہ نشانیاں بھی ہیں جن کا تعلق انسان کی فطرت اور اس کے وجدان سے ہے۔ ایسی نشانیاں بھی ہیں جو انسان کی اندرونی زندگی سے عبارت ہیں، ایسی بھی ہیں جو انسان کے اخلاقی تصورات میں پائی جاتی ہیں۔ انسانی تاریخ کے مسلسل تجربات بھی کتنی نشانیاں ہمارے سپرد کرتے ہیں۔ کتنی نشانیاں ہیں جو آفاتِ ارضی و سماوی کی صورت میں دیکھی جاسکتی ہیں۔ ان تمام ذرائع سے مقصود صرف یہ ہے کہ انسان کو یہ بتایا جائے کہ تیرا کوئی خالق اور مالک بھی ہے، تجھ پر بہت سے خدائوں کی نہیں صرف ایک خدا کی حکومت ہے، اسی کی عبادت و اطاعت تیرے لیے صحیح راستہ ہے، تجھے بیشمار خوبیاں دے کر اس لیے نہیں بھیجا گیا کہ تو خودرو پودے کی طرح مَل دَل کے ختم ہوجائے بلکہ تیری زندگی کا ایک مقصد ہے اس مقصد کے مطابق زندگی گزارنا تجھ پر لازم کیا گیا ہے۔ تو خودمختار نہیں کہ جیسے چاہے زندگی گزارے بلکہ اللہ تعالیٰ نے تیری رہنمائی کے لیے اپنے انبیاء اور اپنی کتابوں کے ذریعہ سے جو ہدایت بھیجی ہے اس کی پیروی تجھ پر لازم ہے۔ لیکن جو شخص ان باتوں کو قبول کرنے کی بجائے صرف خواہشِ نفس کی بات سنتا ہے وہ آنکھیں رکھتا ہے لیکن آنکھوں سے کام نہیں لیتا، وہ کان رکھتا ہے لیکن کام کی باتیں نہیں سنتا، اسے دل کی نعمت میسر ہے لیکن سوچنے سمجھنے کی کوشش نہیں کرتا، بلکہ ہر نصیحت کرنے والے کی نصیحت سے اعراض کرتا ہے اور ہر صحیح بات سے منہ پھیر لیتا ہے، صرف یہی نہیں بلکہ اپنے دل و دماغ سے باطل کی ہمنوائی کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ تو بتایئے اس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا۔ کیا وہ اس قابل نہیں کہ جب وہ اپنی دنیا کی زندگی ختم کرنے اور اپنے امتحان کی مدت سے گزر جانے کے بعد اپنے اللہ کے سامنے حاضر ہو تو اسے اس بغاوت کی سزا دی جائے۔ اور جن نعمتوں کی اس نے ناقدری کی اس کا اس سے حساب مانگا جائے۔
Ayah 32:23

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ فَلَا تَكُنْ فِیْ مِرْیَةٍ مِّنْ لِّقَآئِهٖ وَ جَعَلْنٰهُ هُدًى لِّبَنِیْۤ اِسْرَآءِیْلَۚ Open ayah 32:23 in the Quran reader

ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تو آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑیں، ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا

وَلَقَدْ اٰ تَیْنَا مُوْسَی الْـکِتٰبَ فَلاَ تَـکُنْ فِیْ مِرْیَۃٍ مِّنْ لِقَـآئِہٖ وَجَعَلْنٰـہُ ھُدًی لِّـبَـنِیْٓ اِسْرَآئِیْلَ ۔ (السجدۃ : 23) (ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی تو آپ اس کے ملنے سے شک میں نہ پڑیں، ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا۔ ) ایک اعتراض کا جواب یہ خاتمہ سورة کی آیات ہیں، ان آیات میں اسی مضمون کو سمیٹا جارہا ہے جس سے سورة کا آغاز ہوا تھا۔ اس سے مقصود شاید یہ ہے کہ قرآن پاک کی حقیقی عظمت و اہمیت اور وجاہت و افادیت کو دل و دماغ میں اتار دیا جائے۔ اس آیت کریمہ میں خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ سے ہے لیکن حقیقت میں خطاب ان لوگوں سے ہے جو آنحضرت ﷺ کی رسالت میں اور آپ کے اوپر کتاب الٰہی کے نازل ہونے میں شک کررہے تھے۔ لیکن ان سے براہ راست خطاب اس لیے نہیں فرمایا گیا کیونکہ انھوں نے اپنے مسلسل اعراض و انکار سے اپنے آپ کو خطاب کے قابل نہیں چھوڑا۔ ان سے منہ پھیر کر آنحضرت ﷺ سے خطاب فرما کر اصل میں یہ بات ان کو سنائی جارہی ہے۔ اور ان کے ایک اعتراض کا جواب دیا جارہا ہے۔ وہ بار بار اس اعتراض کو دہراتے تھے کہ ایک انسان چاہے وہ کردار و افکار میں کتنا بھی اجلا کیوں نہ ہو اس قابل نہیں ہوجاتا کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام سنے یا اس پر اللہ تعالیٰ کا کلام نازل ہو۔ کہاں اللہ تعالیٰ کی عظیم ہستی اور کہاں انسان کی پستی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ جو اپنے اوپر کتاب نازل ہونے کا دعویٰ کررہے ہیں یہ سراسر افتراء ہے۔ چناچہ اس سورة کی آیات 2 اور 3 میں بھی اس اتہام کا ذکر کیا گیا ہے اور اس کا جواب بھی دیا گیا ہے۔ لیکن اب اس کا ایک اور جواب دیا جارہا ہے جو پہلے جواب سے زیادہ سہل اور واضح ہے۔ اس جواب کا حاصل یہ ہے کہ ان لوگوں کے اعتراض کی بنیاد یہ ہے کہ ایک بندے پر اللہ تعالیٰ کا کلام کیسے نازل ہوسکتا ہے، یہ تو بعید از امکان ہے۔ اس طرح سے وہ آنحضرت ﷺ کے دعویٰ نبوت اور نزول کتاب کو غیرمعتبر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم نزول کتاب کو بعیدازعقل سمجھتے ہو۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں نزول کتاب کا واقعہ پہلی دفعہ پیش آیا ہے جبکہ اس سے پہلے متعدد رسولوں پر کتابیں نازل ہوچکی ہیں۔ یہ ٹھیک ہے کہ تم زیادہ رسولوں اور کتابوں سے واقف نہیں ہو۔ لیکن جزیرہ عرب میں تمہارے قرب و جوار میں بسنے والی قوم یہود سے تم نے کئی دفعہ سنا ہوگا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر ایک کتاب نازل ہوئی تھی جس کا نام تورات تھا اور وہ آج بھی ان کے علماء کے پاس موجود ہے۔ ان کے مدارس میں وہ کتاب پڑھائی جاتی ہے۔ ان کی عدالتوں میں اس کے احکام کے مطابق فیصلے ہوتے ہیں۔ اگرچہ وہ ترمیم اور تحریف کا شکار ہوچکی ہے لیکن تم اس کتاب سے اور جس پیغمبر پر وہ کتاب نازل ہوئی ہے اس سے خوب واقف ہو۔ اس لیے قرآن کریم کے نزول کو تمہیں خلاف عقل قرار دیتے ہوئے سوچنا چاہیے کہ تم ایک ایسی چیز کا انکار کررہے ہو جس کا وقوع اس سے پہلے کئی دفعہ تاریخ میں ہوچکا ہے اور تم اسے تسلیم بھی کرتے ہو۔ اس لیے انکار کرنے والوں کو بجائے اسے شک کی نگاہ سے دیکھنے کے اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہیے۔ مِنْ لِقَـآئِہٖ میں ضمیر کے مرجع کی وضاحت ہم نے جو کچھ عرض کیا ہے اس حوالے سے کیا ہے کہ مِنْ لِقَـآئِہٖ میں ضمیر کا مرجع کتاب ہے۔ یعنی جیسی کتاب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر نازل ہوئی تھی ویسی کتاب نبی کریم ﷺ پر نازل ہوئی ہے تو یہ کوئی غیرمعمولی اور حیران کن بات نہیں۔ آپ اس میں کوئی شک نہ کریں۔ اس میں شک کرنے سے اگرچہ آنحضرت ﷺ کو روکا گیا ہے لیکن درحقیقت روئے سخن ان لوگوں کی طرف ہے جنھیں قرآن کریم کے اللہ تعالیٰ کی کتاب ہونے میں شبہ تھا۔ البتہ بعض اہل علم نے جن میں حضرت ابن عباس ( رض) اور قتادہ جیسے اکابر شامل ہیں۔ ضمیر کا مرجع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا یہ ہے کہ آیت میں رسول اللہ ﷺ کی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے ملاقات کی خبر دی گئی ہے۔ چناچہ ایک ملاقات شب معراج میں ہونا احادیثِ صحیحہ سے ثابت ہے اور قیامت میں ملاقات ہونا بھی بعض احادیث میں مذکور ہے۔ لیکن حضرت حسن بصری ( رح) نے اس کی تفسیر یہ فرمائی ہے کہ جس طرح حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ایک کتاب دی گئی اور لوگوں نے ان کی تکذیب کی اور ان کو ستایا، آپ بھی یقین رکھیں یہ سب چیزیں آپ کو بھی پیش آئیں گی۔ اس لیے آپ ان مصائب سے کبھی دل گرفتہ نہ ہوں۔ اس کو اس راہ کی ناگزیر سنت سمجھ کر قبول کریں۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس ضمیر کا مرجع الکتاب نہیں بلکہ وہ یوم انتقام یا یوم عذاب ہے جس کی گزشتہ آیات میں دھمکی دی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جس طرح ہم نے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اس کی تکذیب کرنے والوں کو ہم نے اس دنیا میں عذاب دیا اور آخرت میں بھی ان کو عذاب دیں گے، اسی طرح ہم نے جو تمہارے ذریعے سے کتاب اتاری ہے اس کی تکذیب کرنے والوں کو بھی ہم دنیا اور آخرت دونوں میں سزا دیں گے۔ میری ناچیز رائے یہ ہے کہ ضمیر کا مرجع تو الکتاب ہی ہے البتہ کتاب کی تکذیب کا نتیجہ ہمیشہ یہ رہا ہے اور یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ تکذیب کرنے والوں کو ضرور سزا دیتا ہے۔ تو جب یہ بات اس کے نتیجے کے طور پر ثابت ہے تو خود اسی کو مرجع قرار دینا اور بعض شواہد سے اسے ثابت کرنے کی کوشش کرنا تکلف معلوم ہوتا ہے۔ کتاب ہدایت کے لیے ہے آیت کے آخر میں فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کو بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا۔ یعنی موسیٰ پر جو کتاب ہم نے نازل کی تھی وہ محض تبرک کے طور پر یا ثواب کمانے کے لیے نہیں دی تھی بلکہ اسے ان کی زندگی کے لیے ہدایت بنایا تھا۔ یعنی وہ کتاب ان کے لیے کتاب قانون بھی تھی اور کتاب زندگی بھی۔ وہ ان کے لیے رہنما بھی تھی اور فلاح و کامرانی کی ضامن بھی۔ چناچہ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ باوجود اس کے کہ وہ لوگ صدیوں سے غلامی کی زنجیروں میں جکڑے ہوئے تھے اور ذلت و نکبت ان کی شناخت بن چکی تھی۔ اور وہ نہایت نا گفتہ بہ حالت میں زندگی گزار رہے تھے لیکن اس کتاب کی اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رہنمائی نے ان کی کایا پلٹ دی۔ وہ غلامی کی ذلت سے نکل کر اس کتاب کے فیض اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی رہنمائی سے دنیا کی امامت کے منصب پر فائز ہوگئے۔ بظاہر یہ ان کے اعتراض کا جواب ہے لیکن حقیقت میں انھیں مستقبل کا نقشہ دکھایا جارہا ہے کہ تورات کی طرح قرآن کریم بھی کتاب ہدایت بن کے آیا ہے اور نبی کریم ﷺ قیامت تک کی نوع انسانی کے لیے آئیڈیل بن کر تشریف لائے ہیں۔ ان دونوں کی رہنمائی میں یہ عرب کے گرے پڑے لوگ اٹھیں گے اور دنیا کی امامت پر فائز ہوجائیں گے۔ چناچہ تاریخ نے یہ منظر خود اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ : خود نہ تھے جو راہ پر اوروں کے ہادی بن گئے کیا نظر تھی جس نے مردوں کو مسیحا کردیا
Ayah 32:24

وَ جَعَلْنَا مِنْهُمْ اَئِمَّةً یَّهْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْا١ؕ۫ وَ كَانُوْا بِاٰیٰتِنَا یُوْقِنُوْنَ Open ayah 32:24 in the Quran reader

تو ہم نے ان میں ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے، جب انھوں نے ثابت قدمی دکھائی اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے

وَجَعَلْنَا مِنْہُمْ اَئِمَّۃً یَّھْدُوْنَ بِاَمْرِنَا لَمَّا صَبَرُوْاقف ط وَکَانُوْا بِاٰ یٰـتِـنَا یُوْقِنُوْنَ ۔ (السجدۃ : 24) (تو ہم نے ان میں ایسے پیشوا پیدا کیے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے، جب انھوں نے ثابت قدمی دکھائی اور وہ ہماری آیات پر یقین رکھتے تھے۔ ) کتاب سے ہدایت لینے کا ثمرہ جب بنی اسرائیل نے کتاب یعنی تورات کو ہدایت کے طور پر قبول کرلیا اور اپنی انفرادی اور اجتماعی زندگی اس کی رہنمائی میں دے دی تو اللہ تعالیٰ نے ان کو امامت و قیادت کے منصب پر فائز کردیا۔ ظاہر ہے کہ امامت و قیادت کا منصب اگرچہ پوری امت کا استحقاق ہوتا ہے لیکن ان میں عملی طور پر وہ لوگ اس منصب پر فائز ہوتے ہیں جن میں علمی اور عملی اوصاف دوسروں سے بڑھ کر ہوتے ہیں۔ امامت پر فائز لوگوں کی پہلی صفت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کی قیادت اپنے مفادات، اپنے تحفظات، اپنی ترجیحات، اپنی ہَوائے نفس اور اپنی مرضی کے تابع نہیں ہے بلکہ وہ لوگوں کی رہنمائی اس طرح کرتے ہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے۔ معاملہ سیاست کا ہو یا عدالت کا یا ایوان کو چلانے کا ان کی نکیل اور لگام کتاب اللہ کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ وہ ایسی کسی بات کا تصور بھی نہیں کرتے جس میں اللہ تعالیٰ کے دین کی حیثیت تابع کی ہوجائے اور دوسری چیزیں متبوع بن کر رہ جائیں۔ ایسی امامت و قیادت کے راستے میں یقینا ہمیشہ دشواریاں حائل ہوتی ہیں۔ شیطانی گروہ، نفسانی وساوس اور مختلف طبقات کے مفادات قدم قدم پر رکاوٹ بنتے ہیں۔ بعض نام نہاد اہل علم علمی تاویلوں کے زور سے منزل سے ہٹانے کی کوشش کرتے ہیں، مختلف قسم کے دبائو استعمال کیے جاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے راستے پر چلنے والے یہ رہنما اور امام ان تمام مشکلات اور موانع پر صبر و استقامت کی تصویر بن جاتے ہیں۔ اور یہ صبر ہمہ پہلو قسم کا ہوتا ہے۔ کسی معصیت کو اپنے قریب نہیں آنے دیتے، یعنی صبرعن المعصیات کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت خود بھی کرتے ہیں اور دوسروں سے بھی کراتے ہیں۔ اور اگر اس راستے میں موانع پیش آتے ہیں تو وہ اطاعت پر صبر کرتے ہیں۔ جیسے حضرت صدیق اکبر ( رض) نے مانعینِ زکوٰۃ سے زکوٰۃ لینے کے معاملے میں نہایت استقامت کا مظاہرہ کیا۔ اسے صبرعلی الطاعات کہتے ہیں۔ یہ دو کام کرنا یعنی معصیت سے بچنا اور اطاعت پر ثابت قدمی دکھانا ہر دور میں سب سے مشکل کام رہا ہے۔ اس راستے میں بیشمار مصائب سے واسطہ پڑتا ہے۔ انھیں بھی جب اس راستے میں مصائب سے واسطہ پڑتا ہے تو یہ لوگ ہر طرح کی مصیبتوں کو جھیلتے اور برداشت کرتے ہیں۔ اسے صبرعلی المصائب کہا جاتا ہے۔ اور تیسری صفت ان کی یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات یعنی اس کی کتاب کے احکام پر انتہا درجے کا یقین رکھتے ہیں۔ اور یہی صفت درحقیقت صبر و استقامت کی اساس اور بنیاد ہے۔ حالات کیسے بھی نامساعد کیوں نہ ہوں انھیں یقین ہوتا ہے کہ ہم جو کچھ کررہے ہیں اس میں غلطی کا کوئی امکان نہیں۔ اور اس بات پر بھی اطمینان ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ یقینا اس راستے میں ہماری مدد فرمائے گا۔ بظاہر یہ آیتیں پڑھتے ہوئے اور تاریخِ یہود کا مطالعہ کرتے ہوئے حیرانی ہونے لگتی ہے کہ کبھی اس قوم کے رہنما ان صفات کے حامل ہوتے تھے جن کا اس آیت میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور بعد ان کے سیرت و کردار نے جو رنگ اختیار کیا اس کے لیے پہلے پارے کے دس رکوع پڑھ لینا ہی کافی ہے۔ لیکن آج جب ہم اپنی امت کو دیکھتے ہیں تو پھر حیرت کی کوئی بات نہیں رہتی۔ قوم یہود نے اتنے بڑے بڑے لوگ پیدا نہیں کیے جتنے امت اسلامیہ نے کیے۔ اور ان کی تاریخ اتنی روشن نہیں جتنی مسلمانوں کی ہے۔ باایں ہمہ آج جب دنیا بھر میں پھیلے ہوئے عالم اسلام پر نظر پڑتی ہے تو آدمی دل مسوس کے رہ جاتا ہے کہ یا اللہ ! یہی وہ لوگ تھے جنھوں نے سینکڑوں سال تک دنیا کی امامت کی۔ ٹھیک کہا کسی نے : کبھی ان فاقہ مستوں نے رُخِ ہستی سنوارا تھا مگر آج ان کی اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی
Ayah 32:25

اِنَّ رَبَّكَ هُوَ یَفْصِلُ بَیْنَهُمْ یَوْمَ الْقِیٰمَةِ فِیْمَا كَانُوْا فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ Open ayah 32:25 in the Quran reader

بیشک تیرا رب ہی قیامت کے روز ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں

اِنَّ رَبَّکَ ھُوَیَفْصِلُ بَیْنَـھُمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ فِیْمَا کَانُوْا فِیْہِ یَخْتَلِفُوْنَ ۔ (السجدۃ : 25) (بےشک تیرا رب ہی قیامت کے روز ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں یہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔ ) جب تک بنی اسرائیل کے علماء و امراء میں امامت و سیادت کے وہ اوصاف باقی رہے جس کا ذکر متذکرہ بالا آیت کریمہ میں کیا گیا ہے تو دنیا کی امامت و قیادت ان کے ہاتھ میں رہی۔ لیکن جب یہ لوگ ان اوصاف سے تہی دامن ہوگئے تو پھر یہ مختلف فرقوں میں بٹ گئے۔ عقائد عبادات اور فقہی احکام تک دین کا کوئی شعبہ ایسا نہ رہا جس میں انھوں نے اختلافات نہ پیدا کیے ہوں۔ اب قرآن کریم کے آجانے کے بعد اور نبی کریم ﷺ کی بعثت مبارکہ کے بعد انھیں ایک موقع ملا تھا کہ وہ اپنے تعصبات سے بلند ہو کر آنحضرت ﷺ پر ایمان لاتے اور قرآن و سنت کی رہنمائی کو قبول کرلیتے۔ لیکن انھوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی بجائے اپنے آپ کو نسلی تفاخر کی نذر کردیا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ سلامتی کے راستے سے دور ہوجانے کی وجہ سے مزید اختلافات میں مبتلا ہوتے چلے گئے۔ اب دنیا میں تو ان اختلافات کے حل ہونے کی کوئی صورت نہیں۔ اب تو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ ان اختلافات کا فیصلہ فرمائے گا جن کی وجہ سے یہ ہدایت سے محروم ہو کر رہ گئے۔
Ayah 32:26

اَوَ لَمْ یَهْدِ لَهُمْ كَمْ اَهْلَكْنَا مِنْ قَبْلِهِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰكِنِهِمْ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ١ؕ اَفَلَا یَسْمَعُوْنَ Open ayah 32:26 in the Quran reader

کیا انھیں ہدایت نہ دی (اس بات) نے کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جن کے رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں، بیشک ان کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں، تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں

اَوَلَمْ یَھْدِلَـھُمْ کَمْ اَھْلَکْنَا مِنْ قَبْلِھِمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ یَمْشُوْنَ فِیْ مَسٰکِنِھِمْ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ ط اَفَلاَ یَسْمَعُوْنَ ۔ (السجدۃ : 26) (کیا انھیں ہدایت نہ دی (اس بات) نے کہ ان سے پہلے ہم نے کتنی ہی قوموں کو ہلاک کردیا جن کی رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں، بیشک ان کے اندر بہت سی نشانیاں ہیں، تو کیا یہ لوگ سنتے نہیں۔ ) پچھلی قوموں کی طرف اجمالی اشارہ اس آیت کریمہ میں روئے سخن قریش کی طرف ہے۔ انھیں یہ بات کہی جارہی ہے کہ ہم نے تمہارے سامنے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی امت کی تاریخ کے بعض اوراق الٹے ہیں اور اسی کی روشنی میں تم باقی قوموں کو بھی دیکھ سکتے ہو۔ تم خوب جانتے ہو کہ جن جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کی تکذیب کی اور ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا اور پھر انھیں ناکام کرنے کے لیے ان کی جان کے درپے ہوگئے تو آخر اللہ تعالیٰ نے ان کے ساتھ کیا معاملہ کیا۔ فرعون اور اس کی بیشتر قوت بحرقلزم کی نذر ہوگئی۔ عاد وثمود کی قومیں زمین کا رزق بن گئیں۔ قوم لوط پر پتھروں کی بارش کی گئی۔ ایسی ہی کتنی قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں۔ صرف اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنی طرف مبعوث ہونے والے رسولوں کو ماننے اور ان کی دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور پھر انھیں مٹانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوئے۔ اور ان قوموں کی تاریخ کوئی ڈھکی چھپی بھی نہیں۔ یہ قریش ان بستیوں میں سے گزرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کی وجہ سے تباہ ہوئیں۔ تو کیا انھیں تاریخ کے ان حقائق سے یہ بات سمجھنے میں مدد نہیں ملتی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے کہ رسول کو جھٹلا نے والی قوم اس کے عذاب سے کبھی نہیں بچی۔ اور آج تم نے وہی طرز عمل اختیار کررکھا ہے۔ تو کیا تم اس تاریخ سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس سے سبق سیکھنے کی کوشش نہیں کرو گے یا تم بھی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سامانِ عبرت بن جاؤ گے۔
Ayah 32:27

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَآءَ اِلَى الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِهٖ زَرْعًا تَاْكُلُ مِنْهُ اَنْعَامُهُمْ وَ اَنْفُسُهُمْ١ؕ اَفَلَا یُبْصِرُوْنَ Open ayah 32:27 in the Quran reader

کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو ایک چٹیل زمین کی طرف ہانک کے لے جاتے ہیں، پھر اسی زمین سے وہ کھیتی اگاتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ دیکھتے نہیں

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا نَسُوْقُ الْمَـآئَ اِلَی الْاَرْضِ الْجُرُزِ فَنُخْرِجُ بِہٖ زَرْعًا تَاْکُلُ مِنْہُ اَنْعَامُھُمْ وَاَنْفُسُھُمْ ط اَفَلاَ یُبْصِرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 27) (کیا انھوں نے نہیں دیکھا کہ ہم پانی کو ایک چٹیل زمین کی طرف ہانک کے لے جاتے ہیں، پھر اسی زمین سے وہ کھیتی اگاتے ہیں جس میں سے ان کے چوپائے بھی کھاتے ہیں اور وہ خود بھی، تو کیا وہ دیکھتے نہیں۔ ) الْاَرْضِ الْجُرُزِ… چٹیل اور بنجر زمین کو کہتے ہیں۔ مسلمانوں کے درخشاں مستقبل کی طرف اشارہ اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کے درخشاں مستقبل کی خبر بھی دی گئی ہے اور قریش کو تنبیہ بھی فرمائی گئی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ ان آیات کے نزول کے وقت قریش کی اذیت رسانیوں اور بےتحاشا مخالفتوں کے باعث آنحضرت ﷺ کی دعوت انتہائی مشکلات کا شکار محسوس ہورہی تھی۔ اہل مکہ نے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی تبلیغ و دعوت کے سامنے کان بند کرلیے اور دل سخت کرلیے ہیں۔ اور منصوبہ بندیاں ہونے لگی ہیں کہ اس دعوت کے اسباب کو ہمیشہ کے لیے ختم کردیا جائے۔ چناچہ ایسے ہی حالات کا نتیجہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے طائف کا سفر فرمایا کہ شاید وہاں اسلامی قوت کو کوئی دست وبازو میسر آئے اور اس دعوت کو آگے بڑھنے کا موقع ملے۔ لیکن وہاں جو کچھ ہوا تاریخ اس پر شاہد ہے۔ اس صورتحال کو دیکھ کر یقینا مسلمان بھی انتہائی پریشانی محسوس کررہے تھے اور قریش اس بےبسی کو دیکھ کر حد درجہ مسرور اور مطمئن تھے۔ چناچہ اس پس منظر میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ بعض دفعہ ایک بنجر زمین جس میں دور دور تک کہیں ہریالی کا نشان تک نظر نہیں آتا اس میں ہر طرف اڑتی ہوئی دھول سے گمان سے ہوتا ہے کہ یہ زمین شاید کسی کھیتی کے بھی قابل نہیں۔ لیکن جب اس پر بارش برستی ہے یا دوسری جگہ سے بارش کا پانی وہاں پہنچ جاتا ہے تو دیکھتے ہی دیکھتے وہاں ہر طرف ہریالی ہی ہریالی نظر آنے لگتی ہے اور اس زمین کی قسمت ہی بدل جاتی ہے۔ آج اگرچہ مکہ کی سرزمین اللہ تعالیٰ کی طرف سے برسنے والی ہدایت کی بارش سے محروم دکھائی دیتی ہے اور ان لوگوں کے دل بنجر زمین سے بھی زیادہ سخت معلوم ہوتے ہیں لیکن کوئی تعجب نہیں کہ اس بارش کا یہ ریلا کسی ایسی سرزمین میں پہنچ جائے جہاں کی سرزمین لہلہاتی کشت زار میں تبدیل ہوجائے اور پھر وہاں سے مخلوقِ خدا کو وہ فائدہ پہنچے جس کا سان گمان بھی نہیں کیا جاسکتا۔ ایسا لگتا ہے کہ اس میں شاید ہجرت کی طرف اشارہ ہے اور اس وقت مدینے کی سرزمین دارالہجرت بن جانے کے بعد جس طرح مرکز اسلام بننے والی تھی، شاید اس کی خبر دی گئی ہے۔ اور آخر میں فرمایا کہ کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ؟ اور اس سے پہلے فرمایا تھا کہ کیا یہ لوگ سنتے نہیں ؟ اس سے شاید ایک تو اس طرف اشارہ ہے کہ یہ لوگ سماعت سے بھی محروم ہوچکے ہیں اور بصارت سے بھی۔ بظاہر یہ زندہ لوگ ہیں لیکن حقیقت میں یہ بنجر زمینیں ہیں۔ لیکن اگر آج یہ حق کو قبول کرلیں تو جس طرح یہ ہمیشہ دیکھتے ہیں کہ بارش سے بنجر زمین لہلہا اٹھتی ہے اسی طرح ان کی قسمتیں بھی بدل سکتی ہیں۔
Ayah 32:28

وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْفَتْحُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 32:28 in the Quran reader

یہ لوگ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو

وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (السجدۃ : 28) (یہ لوگ کہتے ہیں یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچے ہو۔ ) جب مخالفین آنحضرت ﷺ کی دعوت کو روکنے کے لیے اپنی مخالفتوں اور مشکلات میں اضافہ کردیتے اور مسلمان حالات کے بگڑے ہوئے تیور دیکھ کر پریشان ہوجاتے ہیں تو وہ آنحضرت ﷺ سے دعا کی درخواست کرتے تو آپ انھیں تسلی دیتے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں بےیارومددگار نہیں چھوڑے گا، انشاء اللہ اس کی مدد ضرور آئے گی اور ایک دن ضرور فتح اسلام کی ہوگی۔ تو یہی باتیں جب مسلمان کفار سے کہتے تو وہ مذاق اڑاتے ہوئے بار بار مطالبہ کرتے کہ آخر وہ فتح کب آئے گی ؟ یعنی اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ غلبہ آخر اسلام کو نصیب ہوگا تو آخر وہ وقت کب آئے گا۔
Ayah 32:29

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لَا یَنْفَعُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْۤا اِیْمَانُهُمْ وَ لَا هُمْ یُنْظَرُوْنَ Open ayah 32:29 in the Quran reader

کہہ دیجیے ! کہ فیصلہ کے دن ان لوگوں کو ایمان نفع نہیں دے گا جنھوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ان کو اس کے بعد مہلت دی جائے گی

قُلْ یَوْمَ الْفَتْحِ لاَ یَنْفَعُ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِیْمَانُھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْظَرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 29) (کہہ دیجیے ! کہ فیصلہ کے دن ان لوگوں کو ایمان نفع نہیں دے گا جنھوں نے کفر کیا ہوگا اور نہ ان کو اس کے بعد مہلت دی جائے گی۔ ) آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ یہ لوگ بار بار فتح اور فیصلے کا مطالبہ کرتے ہیں تو انھیں شاید معلوم نہیں کہ فیصلہ حق کے غلبے اور کفر و شرک کی مکمل ناکامی کی صورت میں ہوتا ہے اور کفر اپنی زندگی میں کبھی ناکامی قبول نہیں کرتا۔ اس لیے اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آتا ہے اور ایسے لوگ اپنے انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ لیکن یہ فیصلے کے دن کا اس طرح مطالبہ کرتے ہیں کہ گویا یہ ان کے غلبے کا دن ہے۔ حالانکہ یہ ان کے غلبے کا نہیں بلکہ مغلوبیت کا دن ہوگا۔ یہ اسے دیکھ کر تمنا کریں گے کہ اب انھیں مہلت دی جائے تاکہ وہ ایمان لے آئیں۔ لیکن نہ انھیں مہلت ملے گی اور نہ ان کا ایمان قبول کیا جائے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کے آجانے کے بعد ایمان قبول نہیں کیا جاتا۔ فرعون نے ڈوبتے ہوئے اپنے ایمان کا اعلان کیا، لیکن اس کا ایمان قبول کرنے کی بجائے اسے بحرقلزم میں ڈبو دیا گیا اور اس سے یہ کہا گیا کہ اب تمہیں ایمان یاد آیا اس سے پہلے تم انتہائی نافرمان اور پرلے درجے کے مفسد رہے ہو۔
Ayah 32:30

فَاَعْرِضْ عَنْهُمْ وَ انْتَظِرْ اِنَّهُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ۠ Open ayah 32:30 in the Quran reader

تو آپ ان سے اعراض کیجیے اور انتظار کیجیے، بیشک وہ بھی منتظر ہیں

فَاَعْرِضْ عَنْھُمْ وَانْتَظِرْ اِنَّـھُمْ مُّنْتَظِرُوْنَ ۔ (السجدۃ : 30) (تو آپ ان سے اعراض کیجیے اور انتظار کیجیے، بیشک وہ بھی منتظر ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو ہدایت کی گئی ہے کہ یہ لوگ اگر اپنی نادانی کے باعث عذاب کو ایک مذاق سمجھ رہے ہیں اور بار بار اس کا مطالبہ کررہے ہیں تو ایسے نادانوں سے بحث کرنے کا کوئی فائدہ نہیں، انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ وہ ان کے لیے جو مہلت مقدر کرچکا ہے اگر انھوں نے اس مہلت سے فائدہ نہ اٹھایا تو یقینا عذاب کا شکار ہوں گے۔ آپ بھی انتظار کیجیے کہ کب ان کی مہلت ختم ہوتی ہے۔ اور وہ تو یقینا منتظر ہیں۔ انھیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ اس انتظار کا نتیجہ آخر کیا نکلتا ہے۔