36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsروح القرآن

Ayah 36:52

قَالُوْا یٰوَیْلَنَا مَنْۢ بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا١ؐٚۘ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحْمٰنُ وَ صَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ Open ayah 36:52 in the Quran reader

وہ کہیں گے ہائے ہماری بدبختی، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھا کھڑا کیا۔۔ یہ تو وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا

قَالُوْا یٰـوَیْلَنَا مَنْ م بَعَثَنَا مِنْ مَّرْقَدِنَا سکتۃ م ھٰذَا مَاوَعَدَالرَّحْمٰنُ وَصَدَقَ الْمُرْسَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 52) (وہ کہیں گے : ہائے ہماری بدبختی ! یہ کس نے ہمیں ہماری خوابگاہ سے اٹھا کھڑا کیا۔ یہ تو وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔ ) اپنی خواب گاہوں سے اٹھنے والے سراسیمگی کے عالم میں چاروں طرف دیکھیں گے اور حیران ہو کر کہیں گے کہ ہمیں ہماری خواب گاہ سے کس نے اٹھا دیا ہے۔ وہ یہ گمان کررہے ہوں گے کہ ہم تو اپنی خواب گاہوں میں آرام کررہے تھے کہ شاید کسی خوفناک حادثے کی وجہ سے جاگ اٹھے ہیں۔ یہاں اس بات کی کوئی تصریح نہیں کہ ان کی اس بات کا جواب کون دے گا، ممکن ہے وہ اپنی گھبراہٹ پر قابو پا کر خود ہی اس نتیجے پر پہنچیں کہ یہ تو وہی قیامت کا آغاز ہے جس کا اللہ تعالیٰ کے رسول اللہ تعالیٰ کی طرف سے بار بار ذکر کرتے اور ہمیں متنبہ کرتے تھے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ فرشتوں کی طرف سے انہیں یہ کہا جائے کہ یہ وہی دن ہے اللہ تعالیٰ کے رسول جس کے بارے میں بار بار تمہیں آگاہی دیتے تھے اور تم اس کا ہمیشہ انکار کرتے تھے۔ آج دیکھ لو کہ رسولوں کی بات سچی نکلی اور تم اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ سے جس بات کو ماننے کے لیے تیار نہیں تھے آج تم اسی سے دوچار کردیے گئے ہو۔
Ayah 36:53

اِنْ كَانَتْ اِلَّا صَیْحَةً وَّاحِدَةً فَاِذَا هُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ Open ayah 36:53 in the Quran reader

بس وہ ایک ڈانٹ ہوگی پھر وہ اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے

اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 53) (بس وہ ایک ڈانٹ ہوگی پھر وہ اچانک سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔ ) ایک غلط فہمی کا ازالہ اس سے پہلے مخالفین کی یہ غلط فہمی دور کی گئی ہے کہ وہ موت کے بعد ہمیشہ کی نیند سو جائیں گے اور کبھی انہیں ازسرنو اٹھنا نہیں ہوگا اور نہ وہ اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیے جائیں گے۔ اب ان کی ایک اور غلط فہمی کا ازالہ کیا گیا ہے۔ وہ یہ کہ انہیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈرایا جائے یا وقوع قیامت سے وہ صرف اس لیے اسے بعیدازعقل سمجھتے ہیں کہ ساری کائنات کا تباہ کرنا اور پھر ازسرنو انہیں زندہ کرنا اور سب سے زندگی بھر کے اعمال کا حساب لینا یہ کوئی عقل میں آنے والی بات نہیں۔ اس کے لیے اسباب کی اتنی بڑی قوت چاہیے جسے عقل تسلیم کرنے کو تیار نہیں۔ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ نہ قیامت کے لانے میں اللہ تعالیٰ کو کسی تیاری کی ضرورت ہے اور نہ انسانوں کو دوبارہ زندہ کرکے میدانِ حشر میں لانے کے لیے اسباب کی فراہمی کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک ڈانٹ کافی ہے جس سے سب لوگ زندہ ہو کر اللہ تعالیٰ کے حضور جانے کے لیے نکل کھڑے ہوں گے جس طرح اللہ تعالیٰ نے کلمہ کُن سے ہر چیز کو بنایا، اسی طرح وہ کلمہ کُن سے ہی ہر چیز کو ختم کردے گا اور اسی ایک کلمے اور ایک ڈانٹ سے قیامت کو برپا کرسکتا ہے۔ جَمِیْعٌ کا لفظ کہہ کر یہ اشارہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور جواب دہی کے لیے کسی کو چھوڑا نہیں جائے گا بلکہ ہر چھوٹا بڑا، امیر اور مامور، عابد اور معبود سب اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر کردیے جائیں گے۔ اور مُحْضَرُوْنَ کے لفظ سے اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ آج کے بڑے بڑے سرکش اور متکبر اس طرح اللہ تعالیٰ کے حضور لائے جائیں گے جیسے مجرم عدالت کے سامنے حاضر کیے جاتے ہیں۔
Ayah 36:54

فَالْیَوْمَ لَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّ لَا تُجْزَوْنَ اِلَّا مَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ Open ayah 36:54 in the Quran reader

پس آج کسی نفس پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا، اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے ہو

فَالْیَوْمَ لاَ تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْئًا وَّلاَ تُجْزَوْنَ اِلاَّ مَاکُنْـتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 54) (پس آج کسی نفس پر ذرہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا، اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے ہو۔ ) پروردگار کی طرف سے اظہارِحقیقت عدالت کے آغاز میں پروردگارِعالم یہ پالیسی بیان جاری فرمائیں گے کہ آج ہماری عدالت میں ہر طرح کے لوگ موجود ہیں۔ انبیاء و اولیاء اور عباد و زہاد بھی اور فساق و فجار اور طواغیت و کفار بھی سب کے ساتھ یکساں انصاف ہوگا۔ آج عدل کامل کے ظہور کا دن ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کے ترازو میں تولا جائے گا۔ آج نسبتوں کی بجائے اعمال اور کردار کی عظمتیں اجاگر ہوں گی۔ ہر ایک کے ساتھ وہی سلوک ہوگا جو اس کے اعمال کا تقاضا ہوگا اور جزائے اعمال کا اثبات باقاعدہ اعتراف و شہود سے ہوگا۔
Ayahs 36:55–58

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّةِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰكِهُوْنَۚ Open ayah 36:55 in the Quran reader

بیشک آج جنت والے اپنی دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے

هُمْ وَ اَزْوَاجُهُمْ فِیْ ظِلٰلٍ عَلَى الْاَرَآئِكِ مُتَّكِئُوْنَ Open ayah 36:56 in the Quran reader

وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے

لَهُمْ فِیْهَا فَاكِهَةٌ وَّ لَهُمْ مَّا یَدَّعُوْنَۚۖ Open ayah 36:57 in the Quran reader

ان کے لیے اس میں میوے ہوں گے اور ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے

سَلٰمٌ١۫ قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ Open ayah 36:58 in the Quran reader

ربِ رحیم کی طرف سے ان کے لیے سلام ہوگا

اِنَّ اَصْحٰبَ الْجَنَّۃِ الْیَوْمَ فِیْ شُغُلٍ فٰـکِھُوْنَ ۔ ھُمْ وَاَزْوَاجُہُمْ فِیْ ظِلٰـلٍ عَلَی الْاَرَآئِکِ مُتَّـکِئُوْنَ ۔ لَہُمْ فِیْھَا فَاکِھَۃٌ وَّلَہُمْ مَّایَدَّعُوْن۔ سَلٰمٌ قف قَوْلًا مِّنْ رَّبٍّ رَّحِیْمٍ ۔ (یٰسٓ: 55 تا 58) (بےشک آج جنت والے اپنی دلچسپیوں میں مشغول ہوں گے۔ وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں تختوں پر تکیہ لگائے ہوئے ہوں گے۔ ان کے لیے اس میں میوے ہوں گے اور ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ طلب کریں گے۔ ربِ رحیم کی طرف سے ان کے لیے سلام ہوگا۔ ) اہلِ جنت پر نوازشات عدالت کی کارروائی شروع ہوگی تو سب سے پہلے ان مخلص وفاداروں کو یاد کیا جائے گا جنھوں نے زندگی کا ہر دکھ اسلام کی سربلندی کے لیے برداشت کیا۔ اور اپنی ہر خواہش اللہ تعالیٰ کے حکم اور اس کی رضا پر قربان کردی۔ انہیں بلاحساب یا ہلکی حساب فہمی کے بعد جنت میں جانے کا حکم دیا جائے گا۔ انہیں دورانِ عدالت لمبے انتظار کی کوفت میں مبتلا ہونے سے محفوظ رکھا جائے گا اور کفار کو بطور خاص ان کے ساتھ یہ سلوک دکھایا جائے گا اور جنت میں ان کی نعمتوں میں ڈوبی ہوئی زندگی اور خوش عیشی کی مسرتوں میں ان کی مشغولیت سے انہیں آگاہ کیا جائے گا تاکہ انہیں اندازہ ہوسکے کہ جن لوگوں کو انھوں نے دنیا میں ہمیشہ حقارت کی نگاہ سے دیکھا اور ہمیشہ ان کی غربت کا مذاق اڑایا، آج وہ اللہ تعالیٰ کے حضور کس قدر نوازے گئے ہیں۔ انسان کی فطرت ایسی ہے کہ وہ اپنی ہر خوشی کو نامکمل سمجھتا ہے جب تک اہل خانہ اس میں شریک نہیں ہوتے۔ اس لیے دوسری آیت میں بتایا گیا ہے کہ اہل جنت اکیلے جنت کے مزے نہیں لوٹیں گے بلکہ وہ اور ان کی بیویاں جنت کی ہر دلچسپی اور مسرت میں ایک ساتھ ہوں گے۔ وہ جنت کے درختوں کے گھنے سائے میں ایک ساتھ محوخرام ہوں گے۔ اور جب جی چاہے گا تو بادشاہوں کی طرح مزین تختوں پر ٹیک لگائے ہوئے مجلسی زندگی سے محظوظ ہوں گے۔ وہ خوشی یقینا نامکمل ہوتی ہے جس میں کام و دہن کی تواضع کا انتظام نہ ہو۔ اس لیے اگلی آیت میں فرمایا کہ ان کے سامنے ایک سے ایک بڑھ کر پھل اور میوے پیش کیے جائیں گے۔ اور ان پھلوں میں تنوع اور لذت کا عالم یہ ہوگا کہ اہل جنت جس میوے اور پھل کی خواہش کریں گے اور جس لطف و لذت کا تصور کریں گے وہ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ یہ ایک ایسا اعزاز ہے جو دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتا، کہ وہ جو چاہے فوراً اسے مل جائے۔ اور جو چیز اسے ناگوار ہو وہ فوراً اس سے دور کردی جائے۔ دنیوی زندگی میں اس کا کوئی امکان نہیں۔ لیکن اہل جنت کو جنت میں یہ مقام و مرتبہ حاصل ہوگا اور وہ بھی ایک دو دن کے لیے نہیں بلکہ ہمیشہ ان کے ساتھ ایسا ہی ہوگا۔ اس بات میں کوئی شبہ نہیں کہ اہل جنت کے دلوں کی آبادی اور ان کی روح کی خوشی اللہ تعالیٰ کی یاد میں ہے۔ یہی ان کا وہ سرمایہ ہے جس نے انہیں جنت کا مستحق بنایا اور وہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے بہرہ ور ہوئے۔ انہیں خوب یاد ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے انہیں خوشخبری سنائی تھی اور قرآن پاک نے اس پر مہرتصدیق ثبت کی تھی کہ اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کے سلام کا اعزاز بخشا جائے گا۔ اس لیے اس بات کی امید کی جاسکتی ہے کہ وہ جنت کی بیش بہا نعمتوں کے باوجود اس کی امید لگائے بیٹھے ہوں کہ اللہ تعالیٰ کا انہیں سلام پہنچے گا اور کب ہم اس کے دیدار سے مشرف کیے جائیں گے۔ چناچہ اہل جنت کی خوشیوں اور نعمتوں کو مکمل کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرماتے ہیں کہ اہل جنت کو رب رحیم کا سلام پہنچایا جائے گا۔ سورة الاحزاب میں اسی نعمت کے حوالے سے فرمایا گیا ہے : تَحِیَّتُہُمْ یَوْمَ یَلْقَوْنَـہٗ سَلاَ مٌ ” اور ان کا خیرمقدم جس دن وہ اس سے ملیں گے سلام سے ہوگا۔ “ پیش نظر آیت بھی اسی مفہوم کی حامل ہے۔ احادیثِ مبارکہ سے معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے جنت کے تمام دروازوں سے داخل ہوں گے اور اہل جنت کو اللہ تعالیٰ کا سلام پہنچائیں گے۔ اس خوشی اور سرمستی کا اندازہ وہی کرسکتا ہے جو محبت کی چاشنی سے آگاہ ہو اور جو اس بات کو سمجھ سکتا ہوں کہ جس محبوب کی خواہشِ وصل میں عمر گزری ہو اس کی طرف سے سلام آنے کی لذت کیا ہے ؟ یہ نصیب اللہ اکبر لوٹنے کی جائے ہے
Ayahs 36:59–62

وَ امْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّهَا الْمُجْرِمُوْنَ Open ayah 36:59 in the Quran reader

اور اے مجرمو ! آج تم الگ ہوجائو

اَلَمْ اَعْهَدْ اِلَیْكُمْ یٰبَنِیْۤ اٰدَمَ اَنْ لَّا تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ١ۚ اِنَّهٗ لَكُمْ عَدُوٌّ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:60 in the Quran reader

اور اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے

وَّ اَنِ اعْبُدُوْنِیْ١ؔؕ هٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ Open ayah 36:61 in the Quran reader

اور یہ کہ میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے

وَ لَقَدْ اَضَلَّ مِنْكُمْ جِبِلًّا كَثِیْرًا١ؕ اَفَلَمْ تَكُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:62 in the Quran reader

اور اس نے تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کردیا، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے

وَامْتَازُوا الْیَوْمَ اَیُّھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ اَلَمْ اَعْہَدْ اِلَیْکُمْ یٰـبَنِیْٓ اٰدَمَ اَنْ لاَّ تَعْبُدُوا الشَّیْطٰنَ ج اِنَّـہٗ لَـکُمْ عَدُوٌّمُّبِیْنٌ۔ وَّاَنِ اعْبُدُوْنِیْ ط ھٰذَا صِرَاطٌ مُّسْتَقِیْمٌ۔ وَلَقَدْ اَضَلَّ مِنْـکُمْ جِبِلاًّ کَثِیْرًا ط اَفَلَمْ تَـکُوْنُوْا تَعْقِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 59، 62) (اور اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ اور اے آدم کے بیٹو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، بیشک وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔ اور یہ کہ میری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے۔ اور اس نے تم میں سے ایک بڑی مخلوق کو گمراہ کردیا، تو کیا تم عقل نہیں رکھتے۔ ) مجرموں کا حشر اہلِ جنت کے معاملے کے بعد اب ان مجرموں کو عدالت میں طلب کیا جارہا ہے جنھوں نے زندگی میں اللہ تعالیٰ سے سرکشی کا رویہ اختیار کیا۔ اس کو ماننے سے انکار کیا یا دوسروں کو اس کا شریک ٹھہراتے رہے۔ انہیں سب سے پہلا یہ حکم دیا جائے گا کہ اے جرائم پیشہ لوگو ! آج الگ ہو کر کھڑے ہوجاؤ، تم اس قابل نہیں ہو کہ تم عدالت میں بھی باایمان بندوں کے ساتھ کھڑے رہو۔ دنیا چونکہ دارالامتحان تھی اس لیے وہاں لوگ ایک دوسرے کے ساتھ ملے جلے رہے۔ لیکن آج جزائے اعمال کا دن ہے اس لیے آج تم باایمان بندوں کے ساتھ کھڑے نہیں رہ سکتے بلکہ الگ ہو کر کھڑے ہوجاؤ۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ تم ایک گروہ اور جتھے کی صورت میں اکٹھے ہو کر کھڑے مت ہو۔ تمہارے جتھے اور پارٹیاں توڑ دی گئی ہیں، تمہارے آپس کے تمام رشتے کاٹ دیے گئے ہیں۔ اب تم میں سے ہر شخص کو اپنی ذاتی حیثیت میں اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا ہوگی۔ ان مجرموں کو اسی تنبیہ سے اندازہ ہوجائے گا آج ہمارے ساتھ کیا گزرنے والی ہے۔ اس لیے وہ جاننا چاہیں گے کہ ان کا اصل جرم کیا ہے۔ ان کو زیادہ دیر اس انتظار میں نہیں رہنا پڑے گا۔ اللہ تعالیٰ ان سے خطاب کرتے ہوئے فرمائیں گے کہ اے آدم کے بیٹو ! کیا ہر نبی اور رسول کے واسطے سے ہمیشہ تم پر یہ بات واضح نہیں کی گئی تھی کہ شیطان تمہارا دشمن ہے کہ وہ تمہارے جدِامجد کو سجدہ نہ کرنے کی وجہ سے راندہ درگاہ ہوا۔ چناچہ بجائے اس کے کہ اسے اپنی سرکشی اور حماقت پر افسوس ہوتا وہ حضرت آدم کی دشمنی پر تل گیا۔ اور اس نے فیصلہ کرلیا کہ میرے ساتھ جو کچھ ہوا چونکہ آدم کی وجہ سے ہوا ہے اس لیے میں اولادِ آدم سے اس کا انتقام لوں گا۔ اور میں ہر طرف سے اور ہر میدان میں اور ہر طریقے سے اولادِ آدم کو گمراہ کرنے کی کوشش کروں گا۔ چناچہ اس نے اپنے فیصلے کے مطابق کبھی اس میں کوتاہی نہیں کی۔ اس لیے تمہیں اچھی طرح آگاہ کردیا گیا تھا کہ شیطان مختلف طریقوں سے تمہیں بہکائے گا، دیکھنا اس کی پیروی نہ کرنا اور کبھی اس کی بندگی کرنے کی کوشش نہ کرنا۔ نہ اس کی عبادت کرنا، نہ اس کی اطاعت کرنا۔ اور زندگی کے ہر معاملے میں صرف میری اطاعت، میری پرستش اور میری بندگی کرنا، میرے سامنے سر جھکانا، میرے احکام کی تعمیل کرنا، میری نازل کردہ شریعت کے مطابق اپنا آئین اور دستور بنانا اور میرے رسول کی سنت کے مطابق اپنا طرزعمل طے کرنا۔ یہی وہ سیدھا راستہ ہے جس پر چل کر تم مجھ تک پہنچ سکتے ہو۔ لیکن تم ایسے بدنصیب ثابت ہوئے کہ میری تمام تر تنبیہات کے باوجود تم نے شیطانی وساوس کے درآنے اور اس کی سازشوں کے پنپنے کے راستے بند نہ کیے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ شیطان تمہارے اندر سے بہت سے لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ کیا تم اتنی عقل نہیں رکھتے ہو کہ اپنے دوست اور دشمن میں امتیاز کرسکو۔ اور تمہارے اندر اتنی حمیت نہیں کہ جس نے تمہارے جدِامجد کو جنت سے نکلوایا تم اس کی دشمنی کو یاد رکھتے اور اس کی پیروی کرنے سے انکار کردیتے۔
Ayahs 36:63–64

هٰذِهٖ جَهَنَّمُ الَّتِیْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ Open ayah 36:63 in the Quran reader

یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا رہا ہے

اِصْلَوْهَا الْیَوْمَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ Open ayah 36:64 in the Quran reader

جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں آج اس میں داخل ہوجائو

ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ ۔ اِصْلَوْھَا الْیَوْمَ بِمَا کُنْتُمْ تَـکْفُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 63، 64) (یہ ہے وہ جہنم جس سے تمہیں ڈرایا جاتا رہا ہے۔ جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اس کی پاداش میں آج اس میں داخل ہوجاؤ۔ ) میرے رسول میری طرف سے برابر تمہیں تمہارا عہد یاد دلاتے رہے۔ شیطان کی دشمنی کو تمہارے سامنے مبرہن کرتے رہے اور اس کی بندگی اور پیروی کے انجام سے تمہیں باخبر کرتے رہے۔ لیکن تم نے ان کی ایک بھی سن کر نہ دی۔ جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ شیطان ایک خلق کثیر کو تم میں گمراہ کرنے میں کامیاب ہوگیا۔ تو اب جہنم کی صورت میں اس کا انجام تمہارے سامنے ہے۔ اس لیے اب اس کے سوا تمہارے سامنے اور کوئی راستہ نہیں کہ تم اپنے کرتوتوں کی پاداش میں اس جہنم میں داخل ہوجاؤ، اب یہی تمہارا ٹھکانا ہے۔ اب اس میں نہ تمہارا گریہ و بکا کام آئے گا اور نہ تمہاری دعائیں سنی جائیں گی۔
Ayah 36:65

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰۤى اَفْوَاهِهِمْ وَ تُكَلِّمُنَاۤ اَیْدِیْهِمْ وَ تَشْهَدُ اَرْجُلُهُمْ بِمَا كَانُوْا یَكْسِبُوْنَ Open ayah 36:65 in the Quran reader

آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے، ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں

اَلْیَوْمَ نَخْتِمُ عَلٰٓی اَفْوَاھِھِمْ وَتُکَلِّمُنَـآ اَیْدِیْہِمْ وَتَشْھَدُ اَرْجُلُہُمْ بِمَا کَانُوْا یَکْسِبُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 65) (آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے، ان کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پائوں گواہی دیں گے جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں۔ ) اسلوب کی تبدیلی کا سبب اوپر کی آیات میں اسلوبِ کلام خطاب کا تھا۔ اس آیت میں غائب کا ہوگیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اوپر کی آیات میں انہیں زجروملامت کی جارہی تھی۔ اس کے لیے موزوں اسلوب خطاب ہی کا تھا۔ اب اس آیت میں قریش اور دیگر مخالفین کے سامنے ان کا انجام واضح کیا جارہا ہے تاکہ یہ لوگ اس سے سبق سیکھیں۔ اور یہ بھی دکھایا جارہا ہے کہ ان کی زبانیں بھی تمہاری زبانوں کی طرح دنیا میں قینچی کی طرح چلتی تھیں۔ اور کسی کی بات انہیں سننا گوارا نہ تھی۔ اب ان کی بےبسی کو دیکھو کہ وہ سخن سازی سے کام لینا چاہیں گے اور اپنے گناہوں سے مکر کر جان چھڑانے کی فکر میں ہوں گے لیکن وہ ایسا نہیں کر پائیں گے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ آج ہم ان کے مونہوں پر مہر کردیں گے۔ اور ان کے ہاتھ پائوں کو ہم قوت گویائی بخشیں گے۔ ان کی زبانیں چونکہ جھوٹ بولنے کی عادی ہیں اس لیے انہیں تو بند کردیا جائے گا۔ البتہ ہاتھ پائوں وہی کچھ بتائیں گے جو ان سے کام لیا جاتا رہا ہے۔ جب ان کے اعضاء وجوارح ان کے خلاف گواہی دے کر حجت قائم کردیں گے تو پھر ان کے پاس کہنے کو کچھ نہیں رہے گا۔ یہاں اگرچہ صرف ہاتھ اور پائوں کے بولنے کا ذکر ہے لیکن قرآن کریم نے متعدد مواقع پر ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں اور ان کی کھالوں کے بولنے کا بھی ذکر فرمایا ہے۔ سورة حم السجدہ آیت 20 میں ارشاد فرمایا گیا ہے : حَتّٰی اِذَا مَا جَآؤُھَا شَہِدَعَلَیْھِمْ سَمْعُھُمْ وَاَبْصَارُھُمْ وَجُلُوْدُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوَْنَ ۔ بعض جگہ زبانوں کے گواہی دینے کا بھی ذکر آیا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ مونہوں پر اور زبانوں پر تو مہر کردی جائے گی وہ بول نہیں سکیں گے، البتہ زبانیں اپنے مالک کے تمام کرتوتوں کو ٹھیک ٹھیک اللہ تعالیٰ کے سامنے بیان کریں گی یعنی زبان والا اپنی مرضی سے نہیں بول سکے گا، اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق بولے گا، اور ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا۔ اور سورة رحمن میں بتایا گیا ہے کہ ان گواہیوں کے پورا ہوجانے کے بعد مجرموں کو ان کی چوٹیوں اور ٹانگوں سے پکڑ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔
Ayahs 36:66–67

وَ لَوْ نَشَآءُ لَطَمَسْنَا عَلٰۤى اَعْیُنِهِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰى یُبْصِرُوْنَ Open ayah 36:66 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹا دیتے، پھر وہ راستے کی طرف سبقت کرتے تو کس طرح دیکھ پاتے

وَ لَوْ نَشَآءُ لَمَسَخْنٰهُمْ عَلٰى مَكَانَتِهِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّا وَّ لَا یَرْجِعُوْنَ۠ Open ayah 36:67 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ پر ہی انہیں مسخ کر کے رکھ دیتے تو وہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے

وَلَوْنَشَآئُ لَطَمَسْنَا عَلٰٓی اَعْیُنِہِمْ فَاسْتَبَقُوا الصِّرَاطَ فَاَنّٰی یُبْصِرُوْنَ ۔ وَلَوْنَشَآئُ لَمَسَخْنٰـھُمْ عَلٰی مَکَانَتِھِمْ فَمَا اسْتَطَاعُوْا مُضِیًّاوَّلاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 66، 67) (اور اگر ہم چاہتے تو ان کی آنکھیں مٹا دیتے، پھر وہ راستے کی طرف سبقت کرتے تو کس طرح دیکھ پاتے۔ اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ پر ہی انہیں مسخ کر کے رکھ دیتے تو وہ نہ آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے لوٹ سکتے۔ ) حیرت انگیز بات اور تنبیہ و تہدید ان دو آیتوں میں دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں لیکن ان میں سے پہلے ایک بات یہ ہے کہ حیرت ہوتی ہے کہ مخالفین کی انتہا درجہ مخالفت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت ان سے منہ نہیں موڑتی۔ اور اس وقت تک ان کو مہلت دی جارہی ہے جب تک ان سے قبولیت کی استعداد کا آخری امکان ختم نہیں ہوجاتا۔ اور پھر مزید حیرت کی بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بےپایاں قدرت کے سامنے ایسی کوئی روک بھی نہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی گرفت میں تاخیر ہورہی ہو۔ چناچہ اسی صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ مخالفین کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے جو ان کو صلاحیتیں دے رکھی ہیں ان سے وہ کوئی کام لینے کی بجائے بری طرح انہیں پامال کررہے ہیں۔ ایسی صورتحال میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ہم ان کی آنکھوں کو مٹا دیتے۔ یعنی ان سے بصارت سلب کرلیتے۔ اور پھر یہ راستے کی تلاش میں بھٹکتے پھرتے۔ اور ان کو کہیں راہ نہ ملتی۔ لیکن ہم نے ایسا نہیں کیا تاکہ وہ آخری حد تک بصارت سے فائدہ اٹھائیں اور اللہ تعالیٰ کی رحمت کو اپنے حسب حال دیکھ کر اس کے دین کی طرف بڑھیں۔ دوسری بات یہ فرمائی گئی ہے کہ وہ اپنی جن صلاحیتوں اور قوتوں کے بل بوتے پر اللہ تعالیٰ کے دین کی مخالفت کررہے ہیں اور اپنے تئیں یہ سمجھتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغمبر کی کاوشوں کو ناکام کردیں گے۔ کاش ! کبھی انہیں یہ خیال ہوتا کہ ہم اگر چاہیں تو ہم انہیں ان کی جگہ پر ہی مسخ کرکے رکھ سکتے تھے۔ نہ ان کی آنکھیں کام دیتیں، نہ ان کی ٹانگیں ان کا بوجھ اٹھاتیں۔ وہ ایک پاگل اور مفلوج آدمی کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے۔ نہ وہ کہیں آگے بڑھ سکتے اور نہ پیچھے پلٹ سکتے۔ یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے ان کے ساتھ ایسا نہیں کیا۔ اور اگر ہم ایسا کرنے کا ارادہ کرلیتے تو ان میں یہ طاقت نہیں کہ وہ ہمارے ارادے میں حائل ہوجاتے۔ اب بھی ان کے پاس موقع ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی اس مہلت اور رحمت سے فائدہ اٹھائیں اور اس کی عطا کردہ صلاحیتوں کا حق پہچانیں اور اپنے رب کی شکرگزاری کرتے ہوئے اس کے رسول کا دامن تھام لیں۔
Ayah 36:68

وَ مَنْ نُّعَمِّرْهُ نُنَكِّسْهُ فِی الْخَلْقِ١ؕ اَفَلَا یَعْقِلُوْنَ Open ayah 36:68 in the Quran reader

اور جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں تو ہم پیچھے لوٹا دیتے ہیں اس کو اس کی خلقت میں، تو کیا وہ سمجھتے نہیں

وَمَنْ نُّعَمِّرْہُ نُنَـکِّسْہُ فِی الْخَلْقِ ط اَفَلاَ یَعْقِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 68) (اور جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں تو ہم پیچھے لوٹا دیتے ہیں اس کو اس کی خلقت میں، تو کیا وہ سمجھتے نہیں۔ ) گزشتہ دھمکی پر انسانی زندگی کے احوال سے دلیل گزشتہ دو آیتوں میں مخالفین کو دھمکی دی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ جن قوتوں کو وہ راہ راست پر صرف کرنے کی بجائے خواہشاتِ نفس کی تکمیل اور اسلامی دعوت کو ناکام کرنے میں صرف کررہے ہیں، اس کا تقاضا تو یہ تھا کہ ہم ان کی بینائی سلب کرلیتے اور انہیں ہر طرح سے مسخ کرکے عضومعطل بنا کے رکھ دیتے، تاکہ لوگ انہیں دیکھ کر عبرت حاصل کریں۔ لیکن ان لوگوں کی حماقتوں کا کیا کہنا کہ یہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں اور قوتوں کو اپنی ملک سمجھتے اور اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کی دسترس سے باہر سمجھتے ہیں۔ ان کا گمان یہ ہے کہ ہم جو چاہیں کریں ہمیں کوئی پوچھنے اور پکڑنے والا نہیں۔ چناچہ ان کی اس غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے خود انسان کی اپنی زندگی کے احوال و مشاہدات سے دلیل دی جارہی ہے کہ تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ انسان کو گندے پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا جاتا ہے۔ ماں کے پیٹ میں گزرنے والی احوال و کیفیات کو چھوڑو، وہ دنیا میں آنے کے بعد بھی ایک مضغہ گوشت کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ حواس سے بےبہرہ، عقل سے محروم، ہر طرح کے احساس سے عاری۔ اسے یہ تک معلوم نہیں ہوتا کہ ماں باپ جو میرے وجود کا باعث ہیں وہ کون ہیں، کسی کی پہچان نہیں ہوتی۔ پھر قدرت اسے بتدریج طاقت اور توانائی بخشتی ہے۔ حتیٰ کہ جوانی کی حدود میں داخل ہونے کے بعد وہ قوت اور توانائی کا پیکر بن جاتا ہے۔ پھر جیسے جیسے ان قوتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ عہدہ و منصب کی ہیبتیں بھی شامل ہوجاتی ہیں تو وہ بالکل بھول جاتا ہے کہ دنیا میں میری آمد ایک بےبس بچے کی طرح ہوئی تھی اور آج جبکہ اپنے آپ کو قوتوں اور توانائیوں کا سرچشمہ دیکھ رہا ہوں یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی عطا اور اس کی دین ہے۔ چناچہ وہ اسی بےخودی اور مستی میں اپنے آپ کو بندہ سمجھنے کی بجائے فرعون اور نمرود سمجھنے لگتا ہے اور اسے یقین ہوتا ہے کہ میری اس حالت پر کبھی زوال نہیں آئے گا۔ اور میری یہ فرمانروائی ہمیشہ باقی رہے گی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت ایک تدریج کے ساتھ اپنا کام کرتی ہے کہ توانائی کی جگہ ناتوانی اترنے لگتی ہے۔ بلند ہمتی اور اولوالعزمی کی بجائے گوشہ عافیت میں بیٹھ رہنا بھلا معلوم ہونے لگتا ہے۔ پھر ایک وقت آتا ہے جب ہوش و حواس جواب دینے لگتے ہیں اور تاب و تواں پر مردنی طاری ہونے لگتی ہے۔ قرآن کریم نے اس حالت کی منظرکشی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : اللّٰہُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ ضُعْفٍ ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ ضُعْفٍ قُوَّۃً ثُمَّ جَعَلَ مِنْ بَعْدِ قُوَّۃٍ ضُعْفًاوَّشَیْبَۃً ۔ (الروم : 54) ” اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ناتوانی سے، پھر ناتوانی کے بعد اس نے توانائی بخشی پھر توانائی کے بعد ضعف اور بڑھاپا طاری کردیا۔ “ کتنے لوگ ہیں جن پر جسمانی ضعف و ناتوانی کے ساتھ ساتھ ہوش و حواس اور شعور و خرد میں بھی ضعف کا شکار ہوتے ہیں، وہ شخص جو کل تک دانشور کہلاتا تھا اور لوگ اس کے فکری سرمائے کو اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے وہ جب اس ارذل العمر کو پہنچتا ہے تو اس کی دانشوری جواب دے جاتی ہے اور وہ اپنی بعض حرکتوں میں بالکل بچوں کی سطح پر اتر جاتا ہے۔ اسے دیکھ کر کوئی اندازہ بھی نہیں کرسکتا کہ یہ شخص بھی کبھی فکر و دانش کی مملکت کا تاجدار رہا ہو۔ قرآن کریم نے اس کی تصویر کھینچتے ہوئے فرمایا : وَمِنْکُمْ مَّنْ یُرَدُّ اِلٰی اَرْذَلِ الْعُمُرِ لِکَیْ لاَ یَعْلَمَ مِّنْ بَعْدِ عِلْمٍ شَیْئًا۔ (النحل : 70) ” اور تم میں بعض وہ بھی ہوتے ہیں جو ارذل العمر کو پہنچائے جاتے ہیں یہاں تک وہ جاننے کے بعد کچھ نہیں جانتے۔ “ پیشِ نظر آیت کریمہ میں اسی صورتحال سے استدلال کیا گیا ہے کہ جس پروردگار کی قدرت کا عالم یہ ہے کہ وہ بےبس بچے کو وقت کے ساتھ ساتھ قوت اور طاقت کا سرچشمہ بنا دیتا ہے اور پھر اسی جوانِ رعنا کو بتدریج بڑھاپے میں مبتلا کرکے فکری افلاس اور جسمانی ناتوانی کی علامت بنا دیتا ہے۔ کیا اس کے لیے یہ بات مشکل ہے کہ تم اپنی جس قوت وہیبت پر ناز کررہے ہو اور اپنے جن حواس کو اپنی ہیبت کا ذریعہ سمجھتے ہو وہ ان سب کو سلب کرلے کہ تم نہ کوئی چیز دیکھ سکو، نہ سن سکو اور نہ کہیں اپنی جگہ سے حرکت کرسکو۔ یہ وہ کیفیت ہے جو تم بڑھاپے تک پہنچنے والے لوگوں میں بالعموم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو۔ یہ کس قدر سامنے کی بات ہے لیکن افسوس ہے کہ یہ سمجھنے سوچنے سے محروم ہوگئے ہیں۔
Ayahs 36:69–70

وَ مَا عَلَّمْنٰهُ الشِّعْرَ وَ مَا یَنْۢبَغِیْ لَهٗ١ؕ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّ قُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌۙ Open ayah 36:69 in the Quran reader

اور ہم نے (اپنے نبی کو) شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور یہ اس کو زیب بھی نہیں دیتی، یہ تو ایک یاد دہانی ہے اور نہایت واضح قرآن ہے

لِّیُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَیًّا وَّ یَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكٰفِرِیْنَ Open ayah 36:70 in the Quran reader

تاکہ ان لوگوں کو خبردار کردے جن کے اندر زندگی ہے اور کافروں پر حجت تمام ہوجائے

وَمَا عَلَّمْنٰـہُ الشِّعْرَ وَمَا یَنْبَغِیْ لَـہٗ ط اِنْ ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌوَّقُرْاٰنٌ مُّبِیْنٌ۔ لِّـیُنْذِرَ مَنْ کَانَ حَیًّاوَّیَحِقَّ الْقُوْلُ عَلَی الْـکٰفِرِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 69، 70) (اور ہم نے (اپنے نبی کو) شعر کی تعلیم نہیں دی ہے اور یہ اس کو زیب بھی نہیں دیتی، یہ تو ایک یاد دہانی ہے اور نہایت واضح قرآن ہے۔ تاکہ ان لوگوں کو خبردار کردے جن کے اندر زندگی ہے اور کافروں پر حجت تمام ہوجائے۔ ) ہم پہلی آیت کی تشریح میں کچھ کہنے کی بجائے وہ تصریحات نقل کردینا کافی سمجھتے ہیں جو سورة الشعراء کی آیات 224 تا 227 کی تشریح کے ضمن میں لکھوا چکے ہیں۔ آنحضرت ﷺ پر شاعر ہونے کے الزام کی تردید مخالفین جس طرح آنحضرت ﷺ کو کاہن قرار دیتے تھے اور جس کی تردیدہم گزشتہ آیات میں پڑھ چکے ہیں، اسی طرح وہ آپ ﷺ کو شاعر بھی قرار دیتے تھے حالانکہ ان کا وہ بالائی طبقہ جو شعرفہمی میں ایک مقام رکھتا تھا اس نے کبھی آنحضرت ﷺ کو شاعر قرار نہیں دیا اور جب ان سے پوچھا جاتا کہ کیا قرآن کریم شعر کی زبان میں نازل ہوا ہے تو وہ اسے شعر کہنے سے بھی گریز کرتے تھے۔ البتہ جس بات نے انہیں مجبور کیا کہ قرآن کریم کو شاعری کی کتاب اور آنحضرت ﷺ کو ایک شاعر قرار دیں وہ یہ بات تھی کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی نبوت کی دلیل کے طور پر قرآن کریم کو پیش کیا کہ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں کیونکہ مجھ پر قرآن کی صورت میں اللہ تعالیٰ کی کتاب نازل ہوئی ہے۔ اور پھر قرآن کریم کے اعجاز کو قرآن اور اپنی حقانیت کی دلیل ٹھہرایا اور چیلنج کیا کہ اگر تم قرآن کو اللہ تعالیٰ کی کتاب نہیں سمجھتے تو پھر اس کی مثال لا کر دکھائو۔ تو اب ان کے لیے آنحضرت ﷺ کی نبوت سے انکار کی ایک ہی صورت باقی رہ جاتی تھی کہ وہ قرآن کریم کے اعجاز اور اس کی فصاحت و بلاغت کو شعر کا نتیجہ قرار دیں اور آنحضرت ﷺ کو شاعر ثابت کریں۔ اور لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کریں کہ تم جس کتاب کی فصاحت و بلاغت کی وجہ سے اسے آسمانی کلام ماننے پر مجبور ہورہے ہو اس کی یہ فصاحت و بلاغت کوئی نئی بات نہیں بلکہ یہ وہی چیز ہے جو ہمیں شاعروں کے کلام میں نظر آتی ہے۔ اس لیے محمد ﷺ پیغمبر نہیں بلکہ شاعر ہیں۔ البتہ تم یہ کہہ سکتے ہو کہ قرآن کریم میں جو فصاحت و بلاغت پائی جاتی ہے اس کا جواب کسی اور شاعر کے یہاں نظر نہیں آتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ سب سے بڑے شاعر ہیں، لیکن یہ مطلب تو ہرگز نہیں ہوسکتا کہ وہ اس قرآن کی دلیل کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں۔ آپ ﷺ کو شاعر قرار دے کر وہ ایک اور پہلو سے بھی آپ ﷺ کی نبوت کے بارے میں لوگوں میں بدگمانیاں پیدا کرتے تھے۔ وہ یہ کہ شاعروں کے بارے میں عام طور پر اہل عرب یہ تصور رکھتے تھے کہ ہر بڑے شاعر کے ساتھ ایک جن ہوتا ہے جو اس کو شعر الہام کرتا ہے۔ تو محمد ﷺ چونکہ ایک شاعر ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ساتھ بھی ایک جن لگا ہوا ہے جو ان پر خوبصورت کلام القاء کرتا ہے۔ محمد ﷺ کو غلط فہمی ہوئی ہے کہ وہ کوئی فرشتہ ہے حالانکہ یہ ویسا ہی جن ہے جیسا ہر بڑے شاعر کے ساتھ ہوتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے پیش نظر آیات کریمہ میں تین کسوٹیاں رکھ دی ہیں جس پر پرکھ کر یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم کسی شاعر کا کلام ہے یا کلام ربانی ہے۔ اور اس کا سنانے والا کوئی شاعر ہے یا اللہ تعالیٰ کا رسول۔ فیصلہ کن تین کسوٹیاں پہلی کسوٹی یہ پیش کی گئی ہے کہ جس طرح درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے، اسی طرح کوئی کلام بھی اس بات سے پہچانا جاتا ہے کہ اس نے اپنے زیراثر لوگوں کو کس طرح کی سیرت و کردار سے آراستہ کیا ہے اور اس کے پڑھنے اور سننے والے اپنے اندر کیسے خصائل رکھتے ہیں۔ شعراء اور ان کا کلام آپ کے سامنے ہے اور ان کے پڑھنے والوں کی زندگیاں بھی آپ کے گردوپیش میں پھیلی ہوئی ہیں۔ اسی طرح محمد ﷺ نے جن لوگوں کو اپنی تعلیم و تربیت سے جس رنگ میں رنگا ہے، وہ بھی آپ کے سامنے ہے۔ دونوں کا تقابل کرکے دیکھ لو۔ اگر تو دونوں کی زندگیوں کا رنگ ایک جیسا ہے، ان کے طوراطوار یکساں ہیں، ان کے اہداف ملتے جلتے ہیں، ان کے اعمال ایک دوسرے سے مشابہ ہیں، تو آپ کہہ سکتے ہیں کہ واقعی دونوں شاعر ہیں اور دونوں کا کلام یکساں ہے۔ اور اگر ایسا نہیں ہے بلکہ ہم دیکھتے ہیں کہ ایک طرف انتہائی سنجیدگی، تہذیب، شرافت، راست بازی اور خدا ترسی ہے، بات بات میں ذمہ داری کا احساس ہے، برتائو میں لوگوں کے حقوق کا پاس ولحاظ ہے، معاملات میں کمال درجہ کی دیانت و امانت ہے۔ اور دوسری طرف شعراء کے ساتھی گمراہ، اوباش، عیاش اور شرپسند قسم کے لوگ ہیں جن کی زندگیاں فسق و فجور سے عبارت ہیں، جن کا سب سے بڑا ہدف عشق بازی اور شراب نوشی ہے اور جن کی دلچسپیاں حسن پرستی، شہوانیت اور جنسی مواصلت کے گرد گھومتی ہیں، جنھوں نے قوم کو اتفاق و اتحاد کی دولت دینے کی بجائے ہمیشہ بکر و تغلب کی لڑائیوں جیسے فسادات میں مبتلا کیا ہے، جو اخلاق کی بندشوں سے آزاد، جذبات و خواہشات کی رو میں بہنے والے اور لطف و لذت کے پرستار، نیم حیوان قسم کے لوگ ہیں جن کے ذہن کو کبھی یہ خیال چھو کر بھی نہیں گیا کہ دنیا میں انسان کے لیے زندگی کا کوئی بلند تر نصب العین بھی ہے۔ تو ان دونوں کرداروں کو دیکھ کر اور زندگی کے ان دو نمونوں کو دیکھ کر کون کہہ سکتا ہے کہ یہ دونوں نمونے یکساں ہیں اور جس کلام کے زیراثر یہ دو الگ الگ نمونے تیار ہوئے ہیں اس کلام کا منبع ومصدر ایک ہی ہے اور دونوں میں کوئی فرق نہیں۔ دوسری کسوٹی جس پر پرکھ کر اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ قرآن کریم اللہ تعالیٰ کی کتاب اور اس کا پیش کرنے والا اللہ تعالیٰ کا رسول ہے یا وہ ایک عظیم شاعر اور قرآن کریم شاعری کی کتاب ہے۔ یہ ہے کہ ان شاعروں کا حال یہ ہے کہ ہر وادی میں بھٹکتے پھرتے ہیں یعنی ان کا توسن فکر ایک بےلگام گھوڑے کی طرح ہر وادی میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ ان کے فکر کی کوئی بنیاد نہیں۔ جس طرح ہر درخت اپنی جڑ سے پھوٹتا ہے، آہستہ آہستہ تنا بنتا ہے، پھر اس سے شاخیں پھوٹتی ہیں اور برگ و بار لاتا ہے لیکن وہ اپنی جڑ سے کبھی بےنیاز نہیں ہوتا اور نہ اس کے پھل اس کی حقیقت سے بیگانہ ہوتے ہیں۔ یہی حال انسان کا بھی ہے کہ اگر اس کے عقائد متعین ہیں، اس کی سوچ کا راستہ مقرر ہے، اس کی منزل طے شدہ ہے، اس کے اہداف واضح ہیں وہ ایک طرح کے طوراطوار اور خصائل و شمائل کو پیدا کرتا ہے۔ اس کے افراد میں کتنی بھی وسعت پیدا ہوجائے، اس کے معاملات کی پختگی، اس کی معاشرت کی شائستگی اور اس کے اخلاق کے پیمانوں میں کبھی تبدیلی پیدا نہیں ہوتی۔ کیونکہ قرآن کریم دل و دماغ کو ایک متعین فکر فراہم کرتا ہے۔ وہ انسان کو صراط مستقیم پر چلاتا ہے، ایمان و عمل اس کی پہچان بن جاتی ہے، خدا ترسی، ہمدردی و غمگساری سے انسانی معاملات میں شائستگی پیدا کرتا ہے۔ گہری نظر سے دیکھنے والا اندازہ کرسکتا ہے کہ یہ معاشرہ اپنی ایک جڑ رکھتا ہے، یہ قبیلہ اپنا ایک نسب رکھتا ہے، اس کی دنیا متعین آداب سے عبارت ہے جبکہ شعراء کے یہاں کوئی متعین راستہ نہیں، کوئی فکری نظام نہیں، جذبات یا خواہشات و اغراض کی ہر نئی رو ان کی زبان سے ایک نیا مضمون ادا کراتی ہے، ان کے جہاز کا لنگر کسی چٹان سے بندھا ہوا نہیں، ان کے خیالات کی کشتیاں طبیعت سے اٹھنے والی لہروں کے ساتھ اپنا راستہ بدلتی رہتی ہیں، ایک لہر اٹھی تو حکمت و موعظت کی باتیں ہونے لگیں، دوسری لہر آئی تو اسی زبان سے انتہائی گندے سفلی جذبات کا ترشح شروع ہوگیا، جس کو چاہا آسمان پر چڑھا دیا، جسے چاہا قعرمذلت میں گرا دیا، خدا پرستی اور دہریت، مادہ پرستی اور روحانیت، حسن اخلاق اور بداخلاقی، پاکیزگی اور گندگی، سنجیدگی اور ہزل قصیدہ اور ہجو سب کچھ ایک ہی شاعر کے کلام میں آپ کو پہلو در پہلو ملے گا۔ آپ کسی شاعر کو پڑھتے ہوئے کبھی یہ محسوس کریں گے کہ میں ایک شیطان کو پڑھ رہا ہوں، اور کبھی یوں محسوس ہوگا کہ میں کسی روحانی رہنما کو پڑھ رہا ہوں۔ انہیں ایسی باتیں کہتے ہوئے کبھی کسی روک کا احساس نہیں ہوتا۔ یہ مسائلِ تصوف یہ ترا بیان غالب تجھے ہم ولی سمجھتے ہیں جو نہ بادہ خوار ہوتا ایسے عظیم دو فرقوں کے حامل کلاموں کو اگر کوئی شخص ایک کہتا ہے یا دونوں کو ایک ہی نام دیتا ہے تو یہ ایک ایسی جسارت ہے جسے قبول نہیں کیا جاسکتا۔ یہ تیسری کسوٹی ہے جس پر قرآن کریم اور شعراء کے کلام کو پرکھا جاسکتا ہے کہ شاعر گفتار کے غازی ہوتے ہیں۔ کردار سے انہیں کوئی خاص نسبت نہیں ہوتی۔ ان کے دعوئوں کو دیکھو تو ہر میدان کے لاجواب آدمی معلوم ہوتے ہیں، لیکن عمل کی دنیا میں دیکھو تو بالکل صفردکھائی دیتے ہیں۔ جن مکارمِ اخلاق کی تعریف میں وہ آسمان و زمین کے قلابے ملاتے ہیں ان پر عمل کرنے کی انہیں کبھی توفیق نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس پیغمبر کو دیکھو کہ وہ جو کلام پیش کررہے ہیں اس کا سب سے بڑا عملی نمونہ وہ خود ہیں۔ آپ کا جاننے والا ہر شخص گواہی دیتا ہے کہ آپ جو کہتے ہیں وہی کرتے ہیں اور جو کرتے ہیں وہی کہتے ہیں۔ آپ کے قول و فعل کی مطابقت ایسی صریح حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہ کرسکتا تھا۔ آپ نے جس بندگیِ رب، جن مکارمِ اخلاق اور جس ایثار و قربانی کی دعوت مخلوق کو دی اس پر سب سے زیادہ عمل خود کرکے دکھایا۔ تو ایسے قدسی صفات شخص کو ان شاعروں کی صف میں کھڑا کرنا جن کے اقوال و اعمال میں ادنیٰ مطابقت بھی نہیں ہے، بہت بڑی زیادتی ہے۔ ایک ضروری بات ان آیات کو پڑھتے ہوئے ایک بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ قرآن کریم کی تنقید دورجا ہلیت کے شعراء پر ہے شعر یا فنِ شعر پر نہیں۔ قرآن کریم اور آپ نے اس دور کے شعراء پر تنقید اس لیے کی ہے کہ ان کی شاعری جن مضامین سے لبریز تھی اسلام انہیں برائیوں، گمراہیوں اور بداخلاقیوں سے روکنے کے لیے آیا تھا۔ شعر دور جاہلیت میں اہل عرب میں ابلاغ کا سب سے بڑا ذریعہ تھا۔ ایک موثر شاعر اپنی شاعری سے بعض دفعہ قوم میں آگ لگا دیتا تھا اور اس کے اشعار کے اثر سے لوگوں کے تنِ مردہ میں زندگی کا خون دوڑنے لگتا تھا۔ چناچہ ایسا موثر ذریعہ ٔ ابلاغ اگر برائی کی ترویج کے لیے وقف ہو کر رہ جائے تو اس سے بڑی نقصان دہ چیز اور کوئی نہیں ہوسکتی۔ اور اس دور کے شعراء نے اتنی موثر صلاحیت کو جن باتوں کے لیے وقف کر رکھا تھا ان کی حیثیت انسانیت کے لیے سم قاتل سے کم نہ تھی۔ ان کی شاعری کے بیشتر مضامین شہوانیت، عشق بازی، شراب نوشی یا قبائلی منافرت، جنگ و جدل یا نسلی فخر و غرور پر مشتمل تھے۔ نیکی اور بھلائی کی باتیں کہیں خال خال پائی جاتی تھیں۔ چونکہ وہ لوگ فضائلِ اخلاق سے بہت حد تک تہی دامن ہوچکے تھے اس لیے ان کی شاعری جھوٹ، بہتان، ہجو، بےجا تعریف، طعن وتشنیع، مشرکانہ خیالات اور قبائلی تفاخر میں محصور ہو کر رہ گئی تھی۔ اور شاعری کی تأثیر کی وجہ سے یہ عیوب ان کی سیرت و کردار کا لازمی حصہ بن چکے تھے۔ ظاہر ہے کہ ایسی شاعری اور ایسے شاعروں کو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول کبھی تحسین کی نگاہ سے نہ دیکھ سکتے تھے بلکہ اس کو یکسر بدل ڈالنا یا ختم کردینا ان کے مشن کا بنیادی جز تھا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ایسی ہی شاعری کے بارے میں فرمایا : لَاَنْ یَّمْتَلِیَٔ جَوْفُ اَحْدِکُمْ قَیْحًا خَیْرٌلَـہٗ مِنْ اَنْ یَّمْتَلِیَٔ شَعْراً ۔ ” تم میں سے کسی شخص کا پیٹ پیپ سے بھر جائے، اس سے زیادہ بہتر ہے کہ وہ شعر سے بھرے۔ “ ایک اور بات بھی قابل توجہ ہے، وہ یہ کہ یہ بات کسی حد تک مسلمہ ہے کہ مبالغہ شعر کا ایک لازمی وصف ہے۔ کہا جاتا ہے کہ شعر میں اگر مبالغہ نہ ہو تو اس میں شعریت یا شعری حسن پیدا نہیں ہوتا۔ اور ادھر حال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا نبی دنیا میں اظہارِ حقیقت اور راست گوئی کا نمونہ بن کر آتا ہے۔ وہ اگر تعریف کرتا ہے تو حقیقت سے آگے نہیں بڑھتا اور اگر کسی پر تنقید کرتا ہے تو صداقت سے نیچے نہیں گرتا۔ اس کی ذات، اس کی ہر بات اور اس کا ہر عمل انسانوں کے لیے میزان کی حیثیت رکھتا ہے جس کا کوئی پلڑا نہ اٹھتا ہے اور نہ جھکتا ہے۔ اسی لیے اس کی زندگی کو اسوہ حسنہ قرار دیا گیا ہے۔ اس تقابل کو دیکھ کر بڑی آسانی سے یہ فیصلہ کیا جاسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کو شعر سے مناسبت کیوں نہ تھی اور اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو شعر گوئی کی صلاحیت کیوں نہ عطا فرمائی۔ سورة یٰسین میں پروردگار نے اس کی عقدہ کشائی کرتے ہوئے فرمایا وَمَا عَلَّمْنَاہُ الشِّعْرَ وَمَایَنْبَغِیْ لَـہٗ ” ہم نے آپ کو شعر نہیں سکھایا اور نہ یہ آپ کے کرنے کا کام ہے۔ “ یہی وجہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کو شعر سے دلچسپی نہ تھی۔ دورانِ گفتگو میں کبھی کسی شاعر کا کوئی اچھا شعر زبان مبارک پر آتا بھی تو غیرموزوں پڑھ جاتے تھے یا اس میں الفاظ کا الٹ پھیر ہوجاتا۔ حضرت حسن بصری فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ دورانِ تقریر میں آپ ﷺ نے شاعر کا مصرع یوں نقل کیا : کفی بالاسلام والشیب للمرء ناھیا حضرت ابوبکر صدیق ( رض) نے عرض کیا، یارسول اللہ ! اصل مصرع یوں ہے : کفی الشیب والاسلام للمرء ناھیا اور بھی اس طرح کی کئی مثالیں روایات میں موجود ہیں۔ ایسے موقعوں پر حضرت ابوبکر صدیق ( رض) عام طور پر عرض کرتے، یارسول اللہ ! شعر اس طرح نہیں بلکہ اس طرح ہے۔ تو آپ ﷺ فرماتے کہ بھائی میں شاعر نہیں ہوں اور نہ شعر گوئی میرے کرنے کا کام ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ ﷺ نے اچھے اشعار کو ہمیشہ پسند فرمایا، اور اچھے شعراء کی ہمیشہ حوصلہ افزائی فرمائی۔ اور آپ ﷺ نے یہ اصولی بات فرمائی : حسن الشعرکحسن الکلام قبیحہ کقبیح الکلام ” اچھا شعر اچھے کلام کی طرح ہے اور برا شعر برے کلام کی طرح ہے۔ “ دوسری حدیث میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ان من الشعر لحکمۃ ” بعض اشعار میں بڑی دانائی کی باتیں ہوتی ہیں۔ “ اِلاَّالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَذَکَرُوا اللّٰہَ کَثِیْرًا وَّانْتَصَرُوْا مِنْ م بَعْدِمَاظُلِمُوْا ط وَسَیَعْلَمُ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْٓا اَیَّ مُنْقَلَبٍ یَّنْقَلِبُوْنَ ۔ ” بجز ان لوگوں کے جو ایمان لائے جنھوں نے نیک اعمال کیے اور کثرت سے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا، اور انھوں نے بدلہ لیا اس کے بعد کہ ان پر ظلم کیا گیا، اور عنقریب جان لیں گے جنھوں نے ظلم و ستم کیے کہ ان کا ٹھکانا کیا ہوتا ہے۔ “ شانِ نزول شعراء پر تنقیدی آیات کے نزول کے بعد حضرت حسان ابن ثابت ( رض) ، عبداللہ بن رواحہ ( رض) ، کعب بن مالک ( رض) اور کعب بن زہیر ( رض) روتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی : یارسول اللہ ! شاعروں کے حق میں اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل کی ہیں، ہم بھی تو شاعر ہیں، ہم تو ہلاک ہوگئے، ہماری نجات کی کوئی صورت نظر نہیں آتی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے پیش نظر آیت کریمہ نازل فرمائی۔ اس میں ان شعراء کو مستثنیٰ کیا گیا ہے جو چار خصوصیات کے حامل ہیں۔ چار خصوصیات کے حامل شعراء کا استثناء جن میں پہلی خصوصیت یہ ہے کہ وہ مومن ہوں۔ یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کی کتابوں کو سچے دل سے مانتے ہوں اور آخرت پر یقین رکھتے ہوں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کی شاعری کا ایک ہدف متعین ہوجائے گا۔ خیالات کی ہر لہر کے ساتھ شعر گوئی کی قوت حرکت میں نہیں آئے گی بلکہ ان کا ہر شعر کلمہ حق کی حمایت اور ذکرالٰہی کی سربلندی میں کام آئے گا۔ وہ دل و دماغ اور اپنی زبان کو اللہ تعالیٰ کا عطیہ اور امانت سمجھیں گے۔ انہیں اس بات کا یقین ہوگا کہ میری زبان سے جو شعر نکلے گا وہ قیامت کے دن میزان کا تول بنے گا اور مجھے اس کا جواب دینا ہوگا۔ اور پھر میرے شعر کی تاثیر سے جو اثرات مرتب ہوں گے مجھے اس کی ذمہ داری کو بھی قبول کرنا پڑے گا۔ دوسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ ایمان کے ساتھ ساتھ عمل صالح کی دولت سے بھی مالامال ہوں گے۔ وہ ایمان لاکر چونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی غیرمشروط اطاعت کا عہد کرچکے ہیں، اس لیے ان کی پوری زندگی تقویٰ اور عمل صالح سے عبارت ہوگی۔ وہ فسق و فجور کا نہ ارتکاب کریں گے اور نہ ان کے اشعار فسق کی تبلیغ سے آلودہ ہوں گے۔ وہ ان تمام اخلاقی بندشوں کو اپنے اخلاق کی زنجیر بنادیں گے جنھیں شریعت نے ان پر لازم کیا ہے۔ اور انہیں مکارمِ اخلاق کو وہ اپنے شعر کی قوت سے لوگوں کے دلوں میں راسخ کرنے کی کوشش کریں گے۔ تیسری خصوصیت ان کی یہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یاد کریں گے۔ اپنے عام حالات اور اوقات میں بھی اور اپنے کلام میں بھی۔ ان کی زندگی ایک ہی رنگ میں رنگی ہوئی اور ایک ہی طرزعمل سے عبارت ہوگی۔ ان کی شاعری میں انہیں چیزوں کا اظہار ہوگا جو اسلامی تعلیمات نے ان کے حوالے کی ہیں اور ان کی زندگی میں وہی چیزیں چلتی پھرتی دکھائی دیں گی جن کا وہ اپنی شاعری میں اظہار کریں گے۔ ان کی زندگی میں ثنویت نہیں ہوگی کہ شخصی زندگی تو زہدوتقویٰ سے آراستہ ہو لیکن کلام سراسر رند و ہوسنا کی سے لبریز ہو۔ جیسے ہمارے یہاں بعض ایسے محترم شاعر گزرے ہیں جنھوں نے شراب خانہ خراب کو کبھی منہ نہیں لگایا، لیکن ان کی شاعری میں شراب کا استعمال اس کثرت سے ہوا ہے معلوم ہوتا ہے کہ ان سے بڑا بادہ خوار کوئی نہیں ہوگا۔ اور ان کی زندگی کا یہ رنگ بھی نہیں ہوگا کہ وہ شعر میں بڑی حکمت و معرفت کی باتیں کریں اور ایسا لگے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کا ان سے بڑھ کر مبلغ کوئی نہیں، مگر ان کی ذاتی زندگی کو دیکھیے تو اس میں یاد خدا کے آثار تک نظر نہ آئیں۔ اسلام جس طرح اپنے ماننے والوں کو متعین اہداف دیتا ہے، اسی طرح انہیں اسی منزل کا مسافر بھی بناتا ہے، ان کی تمام زندگی کا سفر اسلام ہی کی منزل کی طرف رواں دواں رہتا ہے۔ نہ کبھی منزل بدلتی ہے اور نہ کبھی سفر کی جہت تبدیل ہوتی ہے۔ یہ یکسانی اور یک رنگی ان شاعروں کی خصوصیت ہے جن کا یہاں ذکر فرمایا جارہا ہے۔ چوتھی خصوصیت ان شعراء کی یہ ہے کہ چونکہ ان کے جذبات و احساسات بھی اسلام کا رنگ اختیار کرچکے ہیں، ان کو اسی بات پر غصہ آتا ہے جو اسلام کی نگاہ میں بری ہے اور اسی بات پر خوشی ہوتی ہے جو اسلام کی نگاہ میں اچھی ہے۔ ان کا دادودہش اسلام کے حوالے سے ہوتا ہے اور ان کا انتقام اور انتصار بھی اسلام ہی کے حوالے سے متشکل ہوتا ہے۔ وہ اگر کسی کی تعریف کرتے ہیں تو اسلام کی خاطر اور کسی کی ہجو کہتے ہیں تو اسلام کی خاطر۔ چناچہ اسی کا نتیجہ تھا کہ صحابہ کرام ( رض) جو تمام ذاتی، نسلی اور قومی عصبیتوں سے ہاتھ اٹھا چکے تھے، اب ان کا بالکل یہ حال ہوگیا تھا جس کی تصویر حالی نے کھینچی ہے : بھڑکتی نہ تھی خود بخود آگ ان کی شریعت کے قبضے میں تھی باگ ان کی جہاں کردیا نرم، نرما گئے وہ جہاں کردیا گرم، گرما گئے وہ مسلمان شعراء کا یہ عالم ہوگیا تھا کہ وہ اپنی تمام تر طلاقتِ لسانی اور شعری مہارت کے باوجود اپنی اس صلاحیت کو کبھی شخصی اغراض کے لیے استعمال نہیں کرتے تھے۔ البتہ جب ان پر کوئی ظلم کرتا یا نسلی یا قومی عصبیتوں کی آگ بھڑکاتا یا آنحضرت ﷺ کی شان میں گستاخی کرتا یا اسلامی تعلیمات کو ہجو وطعن کا نشانہ بناتا تھا، تو پھر اسلام کے حق میں اور باطل سے انتقام لینے کے لیے ان کی زبانیں حرکت میں آتی تھیں اور وہ اپنی زبانوں سے وہی کام لیتے تھے جو ایک مجاہد تیر و نشتر سے کام لیتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ شعرائے کفر جب اسلام اور نبی کریم ﷺ کے خلاف الزامات کے طوفان اٹھاتے اور نفرت و عداوت کی آگ بھڑکاتے تھے تو اس کا جواب دینے کے لیے آنحضرت ﷺ شعرائِ اسلام کی ہمت افزائی فرماتے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ نے ایک موقع پر حضرت کعب بن مالک ( رض) سے فرمایا : اہجھم فوالذی نفسی بیدہ لھو اشد علیھم من النبل ” ان کی ہجو کہو کیونکہ اس اللہ کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، تمہارا ہر شعر ان کے حق میں تیر سے زیادہ تیز ہے۔ “ حضرت حسان ابن ثابت ( رض) کے لیے مسجد نبوی میں منبر رکھا جاتا تھا اور وہ کافر شعراء کا جواب دیتے تھے۔ اور آ نحضرت ﷺ انہیں دعائوں سے نوازتے تھے۔ ابوسفیان اسلام لانے سے پہلے آنحضرت ﷺ کی ہجو کہا کرتا تھا۔ ایک دن اس کی ہر زہ سرائی کے جواب میں حضرت حسان ( رض) نے جو اشعار کہے ان میں سے چند حسب ذیل ہیں : ہَجَوْتَ مُحَمَّدًا فَاَجَبْتُ عَنْہٗ وَاِنَّ اَبِیْ وَوَالِدَتِیْ وَعِرْضِیْ اَتَشْتِمُہٗ وَلَسْتَ لَہٗ بِکُف ٍٔ لِسَانِیْ صَارِمٌ لاَعَیْبَ فِیْہِ وَعِنْدَاللّٰہِ فِیْ ذَاکَ الْجَزَائٗ لِعِرْضِ مُحَمَّدٍ مِنْکُمْ وِقَائٗ فَشَرُّکُمَا لِخَیْرِکُمَا الْفِدَائٗ وَبَحْرِیْ لاَ تُکَدِّرُہُ الْدِّلاَ ئٗ ” اے ابوسفیان ! تو نے میرے محبوب ﷺ کی جناب میں نازیبا باتیں کیں اور میں اس ہجو کا تمہیں جواب دے رہا ہوں۔ مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کی جناب میں مجھے اس کی جزائے خیر ملے گی۔ “ ” سنو ! تمہاری بدزبانی سے حضور ﷺ کی عزت کو بچانے کے لیے میرا باپ، میری ماں اور میری عزت بطور سپر کام دیں گے یعنی میں اپنے باپ، اپنی ماں اور اپنی عزت تک کو حضور ﷺ کی عزت پر قربان کردوں گا۔ “ ” تو اس کی جناب میں نازیبا بات کہتا ہے جس کا تو ہم پایہ نہیں ہے۔ تم دونوں میں سے جو برا ہے وہ اس پر فدا ہو جو تم میں سے اچھا ہے۔ “ ” میری زبان تیز تلوار ہے اس میں کوئی نقص نہیں ہے اور میرا بحر فصاحت اتنا گہرا ہے کہ ڈول نکالنے سے وہ مکدر نہیں ہوتا۔ “ آیت کے آخری حصہ میں ظالموں کے انجام کی خبر دی گئی ہے اور یہاں ظالم سے مراد وہ لوگ ہیں جو حق کو نیچا دکھانے کے لیے سراسر زیادتی سے کام لیتے ہیں۔ نبی کریم ﷺ پر کبھی شاعر ہونے کا الزام لگاتے تھے اور کبھی کاہن ہونے کا۔ تاکہ لوگ آپ کی نبوت کے بارے میں یکسو نہ ہوسکیں۔ اور اسلام کو آگے بڑھنے کا موقع نہ ملے۔ انہیں وارننگ دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ وہ عنقریب جان لیں گے کہ ان کا ٹھکانا کیا ہوتا ہے اور وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ قرآن کے نزول کا مقصد دوسری آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کی بعثت اور قرآن کریم کے نزول کا مقصد بیان فرمایا گیا ہے کہ آپ ﷺ دنیا میں شعر و شاعری کے لیے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کو ہدایت دینے کی غرض سے ان کے برے انجام سے انذار کرنے کے لیے تشریف لائے ہیں۔ لیکن اس انذار اور آگاہی کے لیے جس طرح اللہ تعالیٰ کے رسول کی غیرمعمولی شخصیت اور قرآن کریم کی غیرمعمولی فصاحت و بلاغت اور آپ کی انتہا درجہ محنت و مشقت اور ہمدردی و خیرخواہی کی ضرورت ہے اور اس کے بغیر دعوت الی اللہ کا کام ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھتا اور انسانوں کے لیے انذار بےفائدہ ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح دوسری ضرورت یہ ہے کہ جن لوگوں کی طرف اللہ تعالیٰ کا رسول مبعوث ہوتا ہے اور شب و روز ان کی اصلاح کے لیے کوشش کرتا ہے وہ لوگ ایسے نہ ہوں جن میں ہَوائے نفس کے اتباع اور سفلی جذبات میں ڈوبے رہنے کے باعث انسانی قدریں دم توڑ چکی ہوں اور وہ لوگ اس بنیادی احساس سے محروم ہوچکے ہوں کہ انسان کا کوئی خالق ومالک بھی ہے اور اس نے انسانوں کو یقینا ایک مقصد زیست دے کر پیدا کیا ہے۔ اس لیے جب تک اس بات کی خبر نہ ہو کہ وہ مقصد زیست کیا ہے اور انسانوں کا خالق ومالک کن باتوں سے خوش ہوتا اور کن باتوں سے ناراض ہوجاتا ہے اور انسانی زندگی کی بھلائی کے لیے وہ بنیادی عقائد و نظریات اور وہ مکارمِ اخلاق کیا ہیں جو انسانوں کی انسانیت اور ان کے باہمی حقوق و آداب کی ادائیگی کی ضمانت بن سکتے اس وقت تک پیغمبر کی غیرمعمولی دعوت بھی حد درجہ تسخیر و تاثیر رکھنے کے باوجود کامیابی سے محروم رہتی ہے۔ اور جن لوگوں میں یہ مذکورہ بالا خصوصیات ہوتی ہیں وہی لوگ ہیں جنھیں یہاں حَیٌّ کے لفظ سے یاد فرمایا گیا ہے۔ حَیٌّکا معنی ہے زندہ۔ اور انسان کی زندگی سانس کی آمدورفت کا نام نہیں۔ اور نہ عمدہ خوراک اور زرق برق لباس کا نام ہے۔ بلکہ زندہ انسان وہ ہے جس کا ضمیر زندہ ہے جو اپنے مقصدحیات سے وابستہ ہے۔ جس میں قبولیتِ حق کا شعلہ بجھا نہیں۔ جو نصیحت کے جواب میں صورت حجر نہیں بلکہ زندہ ضمیر لے کر حاضر ہوتے ہیں اور جن کی فطرت زندہ ہے۔ یہی لوگ ہیں جن پر انذار اثرانداز ہوتا ہے جن کے بارے میں قرآن کریم نے کہا : اِنَّمَا تُنْذِرُ مَنِ اتَّبَعَ الذِّکْرَ وَخَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ ۔ (یٰسٓ: 11) ” تم انہیں کو ڈرا سکتے ہو جو نصیحت پر دھیان دیں اور بن دیکھے خدا سے ڈریں۔ “ اسی کے بارے میں اقبال کہتا ہے : اے دل زندہ کہیں تو نہ مر جائے کہ زندگانی عبارت ہے تیرے جینے سے دوسری بات اس آیت کریمہ میں یہ فرمائی گئی ہے اور اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی بھی ہے کہ آپ کی دعوت کے نتیجے میں صرف وہی لوگ حق کو قبول کریں گے جن کے دل زندہ ہیں یعنی ان کے اندر حقیقی روحانی اور معنوی زندگی باقی ہے۔ لیکن آپ کا انذار سب کے لیے ہے۔ جو دل زندہ سے محروم ہوچکے ہیں آپ انذار انہیں بھی کریں۔ لیکن ان سے حق کی قبولیت کی امید نہ رکھیں یا کم از کم ان کے عدم قبولیت سے آپ دل گرفتہ نہ ہوں کیونکہ انھوں نے اپنے کرتوتوں سے اپنے آپ کو اس دولت سے محروم کرلیا ہے۔ البتہ آپ کے انذار سے فائدہ یہ ہوگا کہ ان پر اتمامِ حجت ہوجائے گا اور وہ قیامت کے دن یہ بہانہ نہ کرسکیں گے کہ ہمیں کسی نے انذار نہیں کیا تھا۔ اگر ہمیں ڈرایا جاتا یا سمجھایا جاتا تو یقینا ہم بھی آج صاحب ایمان لوگوں میں ہوتے۔
Ayahs 36:71–73

اَوَ لَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَهُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَاۤ اَنْعَامًا فَهُمْ لَهَا مٰلِكُوْنَ Open ayah 36:71 in the Quran reader

کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پس وہ ان کے مالک ہیں

وَ ذَلَّلْنٰهَا لَهُمْ فَمِنْهَا رَكُوْبُهُمْ وَ مِنْهَا یَاْكُلُوْنَ Open ayah 36:72 in the Quran reader

اور ہم نے انہیں ان کا مطیع کردیا، پس ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا وہ گوشت کھاتے ہیں

وَ لَهُمْ فِیْهَا مَنَافِعُ وَ مَشَارِبُ١ؕ اَفَلَا یَشْكُرُوْنَ Open ayah 36:73 in the Quran reader

اور ان میں ان کے لیے دوسرے فوائد اور مشروبات ہیں، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے

اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا خَلَقْنَا لَھُمْ مِّمَّا عَمِلَتْ اَیْدِیْنَـآ اَنْعَامًا فَھُمْ لَھَا مٰلِکُوْنَ ۔ وَذَلَّلْنٰـھَا لَھُمْ فَمِنْھَا رَکُوْبُھُمْ وَمِنْھَا یَاْکُلُوْنَ ۔ وَلَھُمْ فِیْھَا مَنَافِعُ وَمَشَارِبُ ط اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 71 تا 73) (کیا ان لوگوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھ کی بنائی ہوئی چیزوں میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کیے، پس وہ ان کے مالک ہیں۔ اور ہم نے انہیں ان کا مطیع کردیا، پس ان میں سے بعض ان کی سواریاں ہیں اور بعض کا وہ گوشت کھاتے ہیں۔ اور ان میں ان کے لیے دوسرے فوائد اور مشروبات ہیں، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے ! ) کفار کی سرکشی کے مقابلے میں رحمت کے اسلوب میں دلائلِ ربوبیت گزشتہ آیت میں ہم یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کی تشریف آوری صرف اس لیے تھی کہ آپ لوگوں کو ہدایت قبول نہ کرنے کے نتیجے میں جس صورتحال سے اولاً تو دنیا میں اور ثانیاً آخرت میں سابقہ پیش آنے والا ہے اس سے آپ لوگوں کو انذار کریں۔ یعنی آپ ڈرائیں دھمکائیں اور خبردار کریں۔ لیکن پروردگار کی رحمت چونکہ ہمیشہ ہر چیز پر محیط رہتی ہے اس لیے وہ انتہائی ناراضگی کی حالت میں بھی برہمی کا اظہار کرنے کی بجائے اپنی نعمتوں کا ذکر فرما کر ان کی بند طبیعتوں کو کھولنے کی ایک صورت پیدا فرماتا ہے۔ گزشتہ آیات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم سے کوئی فائدہ اٹھانے کی بجائے اسے شاعری قرار دے رہے ہیں۔ اور نبی کریم ﷺ کو شاعر کہہ کر لوگوں کے ذہنوں میں یہ بات ڈالنا چاہتے ہیں کہ وہ جس فصیح وبلیغ کلام سے لوگوں کے دلوں کو مسخر کرتے ہیں وہ وحی الٰہی نہیں بلکہ کمال درجے کی شاعری ہے اور آپ اس دور کے سب سے بڑے شاعر ہیں۔ اس لیے ان کے کلام سے متأثر ہونے کا نتیجہ یہ تو ہوسکتا ہے کہ انہیں ایک بڑا شاعر سمجھا جائے لیکن اس کا کوئی جواز نہیں کہ انہیں اللہ تعالیٰ کا رسول مان لیا جائے۔ اندازہ کیجیے کہ یہ موقع ایسا ہے کہ پروردگار کی طرف سے شدید برہمی کا اظہار ہونا چاہیے کیونکہ قرآن کریم کو شاعری قرار دینا اور آنحضرت ﷺ کی نبوت کا انکار یہ ایک ایسی جسارت ہے جو ناقابلِ معافی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی رحمت کا کیا ٹھکانا ہے کہ برہمی کے اظہار کی بجائے دلوں میں نئی جوت جگانے کے لیے فرمایا جارہا ہے کہ نادانو ! اور کچھ نہیں تو تم اپنے مویشیوں پر ہی غور کرو جن سے تم گوناگوں فائدے اٹھاتے ہو۔ انہیں کسی اور کی کمال صنعت نے پیدا نہیں کیا بلکہ یہ سراسر اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہیں۔ اور اس کی انتہا درجہ کی کرم فرمائی ہے کہ اس نے ان جانوروں کو اپنے کمال تخلیق سے پیدا فرمایا اور پھر تمہارے حوالے کرکے تمہیں ان کا مالک بنادیا۔ اولاً تو جانوروں کی تخلیق بجائے خود اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کا اظہار ہے اور پھر مزید یہ کہ بیشتر جانور انسان سے زیادہ قوت و طاقت کے مالک ہیں لیکن اللہ تعالیٰ نے انہیں اس طرح پیدا فرمایا ہے کہ گائے اور بھینس دودھ دیتی ہیں تو کبھی انکار نہیں کرتیں۔ اونٹنی دودھ بھی دیتی ہے اور باربرداری کی خدمت بھی انجام دیتی ہے اور عرب کے صحرا میں جہاں کئی دنوں تک پانی نہیں ملتا وہ بغیر کھائے پیے اس صحرا کو سامان اور اپنے مالک سمیت اٹھائے ہوئے لے جاتی ہے اور کبھی اپنے مالک سے سرتابی نہیں کرتی۔ بیل رہٹ بھی کھینچتے ہیں اور باربرداری کا کام بھی کرتے ہیں۔ بھیڑ بکریاں اللہ تعالیٰ نے اس طرح پیدا کی ہیں کہ وہ سر جھکائے ہر وقت انسان کی ضرورتوں کے لیے قربان ہونے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے علاوہ بھی انسان کے کتنے فوائد ہیں جو ان جانوروں سے وہ حاصل کرتا ہے۔ کہیں دودھ کی لسی بن رہی ہے، کہیں دہی تیار ہورہا ہے، کہیں گھی نکالا جارہا ہے پھر اس سے مختلف قسم کے کھانے تیار ہورہے ہیں، مختلف مٹھائیاں بن رہی ہیں، کہیں انسان ان کے بالوں سے فائدہ اٹھا رہا ہے، کہیں ان کی کھالوں سے خیمے بنائے جارہے ہیں۔ حتیٰ کہ ان کی ہڈیاں اور بول و براز بھی منفعت سے خالی نہیں۔ ان میں سے ہر نعمت انسان کے لیے نہ صرف لذیذ ہے بلکہ خوشگوار اور صحت بخش بھی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کی طرف توجہ دلا کر سوال کرتا ہے کہ کیا ان تمام نعمتوں کے مقابلے میں جو اللہ تعالیٰ نے ان کو دے رکھی ہیں ان پر کوئی حق عائد نہیں ہوتا۔ یقینا انسانی فطرت، انسانی عقل اور انسانی اخلاق اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ جس محسن نے ایسی گراں قدر نعمتوں سے گراں بار کر رکھا ہے یقینا اس کا یہ حق ہے کہ اس کی شکرگزاری اور فرماں برداری کی جائے۔ اپنی نیاز مندی اور شکرگزاری میں کسی اور کو شریک نہ کیا جائے اور اس کی رضا کے خلاف کبھی سوچنے کی زحمت بھی نہ کی جائے۔ اپنی ہمتوں اور طاقتوں کو اسی کے احکام کی بجاآوری میں صرف کیا جائے اور دل ہمیشہ اپنے محسن کی محبت سے سرشار رہیں۔