Ayah 36:22وَمَا لِیَ لَآ اَعْبُدُالَّذِیْ فَطَرَنِیْ وَاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 22)
(اور میں کیوں نہ بندگی کروں اس ہستی کی جس نے مجھ کو پیدا کیا ہے، اور تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ )
قوم کی ملامت کا جواب
اسلوبِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اس مخلص بندے کی تقریر کے جواب میں اس بپھری ہوئی قوم نے اس کی مخلصانہ دعوت کو قبول کرنے کی بجائے اسے ملامت شروع کردی کہ تم ایسا لگتا ہے کہ ان رسولوں سے کوئی سازباز کرچکے ہو۔ یا ان کے خفیہ ایجنٹ ہو۔ تم پروگرام کے تحت عین وقت پر ان کی حمایت کے لیے پہنچے ہو تاکہ تم لوگوں کو گمراہ کرنے میں کامیاب ہوسکو۔ تم درحقیقت دین آبائی کے دشمن ہو اور اس کے لیے تم نے قوم کی ہمدردی کا لبادہ اوڑھ رکھا ہے۔ چناچہ قوم کی ملامت کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے اس مخلص بندے نے یہ کہا کہ تمہاری ملامت اپنی جگہ اور تمہارا دین آبائی پر تعصب بھی اپنی جگہ، لیکن میں تم سے صرف یہ پوچھ رہا ہوں کہ میں نے تمہارے مشرکانہ رویئے کے برعکس ایک اللہ تعالیٰ کی بندگی کا عہد کیا ہے۔ تو تم مجھے بتائو کہ آخر اس میں کیا قباحت ہے۔ آخر میں اس ذات کی بندگی کیوں نہ کروں جس نے مجھے پیدا کیا۔ یعنی میں اپنے خالق اور مالک کی بندگی کروں تو تم مجھے ملامت کرتے ہو۔ اور تم اپنے مصنوعی معبودوں کو پکارو اور ان کی بندگی بجا لائو جبکہ انھوں نے نہ تمہیں پیدا کیا اور نہ تمہاری ضروریاتِ زندگی فراہم کرنے میں ان کا کوئی حصہ ہے۔ تو تم اپنے رویے میں بالکل صحیح ہو۔ تم خود دونوں باتوں میں تقابل کرکے دیکھو۔ کیا میرا رویہ اور میرا فیصلہ انصاف کے مطابق ہے یا تمہارا رویہ۔ اور دوسری بات اس مخلص بندے نے یہ کہی کہ ایک دن تمہیں بھی مرنا اور اسی خدا کی طرف جانا ہے جس کی بندگی پر آج تمہیں اعتراض ہے۔ ذرا غور کرو کہ جب اس کے سامنے پیشی ہوگی۔ تو اس کی بندگی سے انکار کا کیا جواب دو گے۔
Ayahs 36:23–24ئَ اَتَّخِذُ مِنْ دُوْنِہٖٓ اٰلِھَۃً اِنْ یُّرِدْنِ الرَّحْمٰنُ بِضُرٍّلاَّ تُغْنِ عَنِّیْ شَفَاعَتُھُمْ شَیْئًا وَّلاَ یُنْقِذُوْنَ ۔ اِنِّیْٓ اِذًالَّفِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 23، 24)
(کیا میں اس کے علاوہ دوسروں کو معبود بنائوں، اگر خدائے رحمن مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھڑا ہی سکتے ہیں۔ بیشک میں اس وقت ایک صریح گمراہی میں ہوں گا۔ )
شرکاء پر تنقید
اگر تمہارے کہنے میں آکر میں اس ذات کی بندگی نہ کروں اور اسے معبود نہ بنائوں جس نے مجھے پیدا کیا اور وجود بخشا۔ تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کو چھوڑ کر ایسی چیزوں کو اپنا معبود بنا لوں جن کی بےبسی کا حال یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے کوئی تکلیف یا نقصان پہنچانا چاہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حضور میری سفارش نہیں کرسکتے۔ اور نہ ان کی سفارش میرے کسی کام آسکتی ہے۔ اور اگر وہ مجھے سزا دینا چاہے تو وہ مجھے اس کی سزا سے چھڑا نہیں سکتے۔ اس کے باوجود اگر میں ایسا کروں یعنی غیر اللہ کو معبود بنا لوں تو یہ ایک ایسی کھلی ہوئی گمراہی ہوگی جس کے لیے میرے پاس کوئی عذر نہ ہوگا۔
Ayah 36:25اِنِّیْٓ اٰمَنْتُ بِرَبِّکُمْ فَاسْمَعُوْنِ ۔ (یٰسٓ: 25)
(بےشک میں تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں، پس تم میری بات سنو۔ )
اتمامِ حجت
اس کا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جب اس مخلص انسان نے محسوس کیا کہ یہ سنگ دل لوگ بجائے میری ہمدردی اور خیرخواہی میں ڈوبی ہوئی تقریر سے اثر لینے کے مجھے سنگسار کردینے پر تل گئے ہیں اور ان کی جاہلی عصبیت نے انہیں بالکل درندہ بنادیا ہے۔ تو انھوں نے اتمامِ حجت کے طور پر سب کے سامنے اعلان کیا کہ میں تو تمہارے رب پر ایمان لے آیا ہوں کیونکہ مجھے اس بات کا احساس ہے کہ جو میرا خالق اور رب ہے بندگی بھی اسی کی زیب دیتی ہے، میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرسکتا۔ اس لیے میں اس کی ذات وصفات کو تسلیم کرتے ہوئے غیرمشروط طور پر ایمان کا اعلان کرتا ہوں۔ لیکن ساتھ ہی تمہیں توجہ دلاتا ہوں کہ جس طرح وہ میرا رب ہے تمہارا بھی رب ہے۔ اگر اس کی ربوبیت کا تقاضا مجھے ایمان لانے پر مجبور کرتا ہے تو تمہیں بھی اس تقاضے کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تو تم میری اس بات کو غور سے سنو اور سمجھو۔ میں جانتا ہوں کہ اس کے بعد میری آواز خاموش کردی جائے گی۔ لیکن جب تک میری قوت گویائی باقی ہے میں تمہیں تمہارے رب کی یاد دلاتا رہوں گا۔
دوسرا اس کا مطلب یہ ہے کہ اس مخلص انسان کا خطاب قوم سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں سے ہے۔ ان کی دعوت و تبلیغ کی تائید کے لیے جو کچھ بن پڑے وہ کر گزرنا ان کے فرائض میں شامل تھا۔ کیونکہ یہ ان پر ایمان لا چکے تھے۔ چناچہ اپنے اس فرض کو آخری حد تک انجام دینے کے لیے انھوں نے برہنہ دشمنوں کے سامنے اس کا اعلان کرکے ان کی صداقت کا اعتراف کیا۔ اور لوگوں کے سامنے یہ بات واضح کردی کہ اگر ان کی صداقت میں کوئی شبہ ہوتا اور یہ لوگ اپنے دعویِٰ رسالت میں جھوٹے ہوتے تو میں کبھی جان پر کھیل کر اس بےباکانہ طریقے سے ایمان کا اظہار نہ کرتا۔ پھر رسولوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ میرے اس اعلان کو سن لیجیے اور اللہ تعالیٰ کے سامنے میرے ایمان کی شہادت دیجیے۔
Ayahs 36:26–27قِیْلَ ادْخُلِ الْجَنَّۃَ ط قَالَ یٰـلَیْتَ قَوْمِیْ یَعْلَمُوْنَ ۔ بِمَا غَفَرَلِیْ رَبِّیْ وَجَعَلَنِیْ مِنَ الْمُکْرَمِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 26، 27)
(اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ جنت میں داخل ہوجا، اس نے کہا : کاش ! میری قوم کو معلوم ہوتا۔ کہ میرے رب نے کس چیز کی وجہ سے مجھے بخش دیا اور مجھے باعزت لوگوں میں داخل فرمایا۔ )
راہِ حق کے شہید کو بشارت کا مفہوم
اسلوبِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ مخلص انسان جو شہر کے ایک دوردراز گوشے سے قوم کو سمجھانے کے لیے آیا تھا بجائے اس کی بات کو قبول کرنے کے ان ظالموں نے اسے قتل کردیا۔ چناچہ جیسے ہی اس کا خون زمین پر گرا اللہ تعالیٰ نے اس کی عظیم قربانی کو قبول فرمالیا۔ اور حکم دیا کہ ہمارے اس مخلص بندے کو جنت میں داخل کردو۔ ظاہر الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس شہیدراہِ حق کو فی الواقع جنت میں داخل کردیا گیا۔ اور یہ کوئی پہلا واقعہ نہیں، آنحضرت ﷺ کے ارشادات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنگ احد کے شہداء کو بھی پرندوں کی شکل میں جنت میں رکھا گیا ہے اور انہیں آزادی بخشی گئی ہے کہ جنت میں وہ جہاں چاہیں جائیں اور جنت کے جو پھل کھانا چاہیں وہ کھائیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ آج بھی اللہ تعالیٰ کی جنت میں غذا دیے جارہے ہیں۔ بعض لوگوں کو اس پر اشکال ہوتا ہے کہ جنت میں لوگ اپنی قربانیوں اور کارناموں کے باعث اس وقت جائیں گے جب قیامت برپا ہوگی۔ حساب کتاب کے بعد جب ان کے جنت میں جانے کا فیصلہ ہوجائے گا تو تب انہیں جنت میں داخل کیا جائے گا۔ تو یہ شہید راہ حق قیامت کے برپا ہونے سے پہلے جنت میں کیسے چلا گیا۔ ہم عرض کرچکے ہیں کہ شہدائے احد شہادت کے ساتھ ہی جنت میں پہنچا دیے گئے تھے۔ اور قاضی عیاض ( رض) نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے لکھا ہے کہ شہداء کی مختلف قسمیں ہیں جن میں جو اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ مقرب ہیں انہیں شہادت کے فوراً بعد جنت میں داخل کردیا جاتا ہے۔ اور باقی شہداء کو مختلف مدارج میں رکھا جائے گا۔ البتہ جنت میں ان کا داخلہ آخرت میں ہوگا۔ نیز عالم برزخ میں انہیں ان کی قبروں میں جنت کی بعض نعمتیں پہنچائی جائیں گی اور وہ برزخ میں رہتے ہوئے بھی جنت کے مزے لوٹیں گے۔
بعض لوگوں نے اس آیت کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ کسی فرشتے کی معرفت اس شہید کو یہ پیغام پہنچایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اہل جنت میں شمار فرمایا ہے تم جنت میں یوں تو قیامت کے بعد جاؤ گے لیکن تمہیں اطمینان رکھنا چاہیے کہ تم اہل جنت میں سے ہو۔ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض شہداء کو جنت میں ان کا ٹھکانہ دکھا دیا جاتا ہے۔ چناچہ وہ ٹھکانہ دیکھ کر تمام بزرخی زندگی میں اسی سرور میں مخمور رہتے ہیں۔ فرشتوں کے ذریعے دخول جنت کی خوشخبری اور آثار جنت کا مشاہدہ چونکہ موت کے بعد ہی ہوسکتا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظالم قوم نے فی الواقع اللہ تعالیٰ کے اس مخلص بندے کو قتل کردیا تھا۔
مردِمومن کا کمال اخلاق
دخولِ جنت کی اس خوشخبری کے بعد اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے اس مردمومن کے کمال اخلاق کا ذکر فرمایا ہے کہ اس کی نہایت مخلصانہ دعوت کو قبول کرنے کی بجائے قوم نے جو اس پر ظلم توڑا کہ اس کی جان لے لی۔ انسانی نقطہ نگاہ سے تو اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے اس قوم کی شکایت کرتا اور ان کی بربادی کے لیے بددعا کرتا۔ لیکن اس کی بلندیِ اخلاق دیکھیے کہ وہ کسی جذبہ انتقام میں مبتلا ہونے کی بجائے موت کا شکار ہو کر بھی اسی ہمدردی اور غمگساری کے جذبے میں ڈوب کر وہ اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہے کہ کاش میری قوم کو معلوم ہوجاتا کہ میرے رب نے ایمان کی وجہ سے مجھے کیسے اعزازات سے نوازا ہے اور میری مغفرت فرما کر کس طرح میرے مستقبل کو ہمیشہ کے لیے درخشاں بنادیا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وہ میرے انجام سے باخبر ہو کر ایمان کا راستہ اختیار کریں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جو لوگ دعوت الی اللہ کے منصب پر فائز ہوتے ہیں ان کی سیرت و کردار کی تعمیر اور ان کے قلب و دماغ کا ڈھانچا کس طرح کے خیالات سے وجود میں آتا ہے اور وہ اپنی قوم کی طرف سے اذیتوں کے باوجود کبھی ان کے بدخواہ نہیں ہوتے۔ قوم ان کی جان لینے کے درپے ہوتی ہے اور ان کی ساری توانائیاں انہیں جہنم سے بچانے کے لیے صرف ہوتی ہیں۔ چناچہ اس مردمومن کی تعریف کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا : نَصَحَ قَوْمَہٗ حَیًّا وَّمَیِّتًا ” اس شخص نے جیتے جی بھی اپنی قوم کی خیرخواہی کی اور مر کر بھی۔ “
Ayahs 36:28–29وَمَـآ اَنْزَلْـنَا عَلٰی قَوْمِہٖ مِنْ م بَعْدِہٖ مِنْ جُنْدٍمِّنَ السَّمَآئِ وَمَا کُنَّا مُنْزِلِیْنَ ۔ اِنْ کَانَتْ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً فَاِذَا ھُمْ خٰمِدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 28، 29)
(اور اس کے بعد اس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اتارا، اور نہ ہم اتارنے ہی والے تھے۔ بس ایک ڈانٹ تھی اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔ )
مکذبینِ رسول کے لیے سنت الٰہی
شہر کے دوردراز گوشے سے آنے والے مردمومن کی شہادت کے بعد یہ معلوم نہیں ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو شہید کردیا گیا یا انہیں ہجرت پر مجبور کردیا گیا۔ ممکن ہے کہ وہ شہید نہ ہوئے ہوں لیکن قوم کے بپھرے ہوئے جذبات اور ظالمانہ عزائم کو دیکھ کر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے کسی دوسرے علاقے کی طرف ہجرت فرمائی ہو۔ اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جب کسی قوم کی طرف مبعوث ہونے والا پیغمبر ہجرت کرنے پر مجبور کردیا جاتا ہے اور قوم اس کی تکذیب پر تل جاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کا عذاب انہیں مزید مہلت نہیں دیتا۔ چناچہ اس قوم پر بھی اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ اور اس کے بارے میں نہایت برہمی سے یہ بات فرمائی گئی ہے کہ ہم نے آسمان سے انہیں تباہ کرنے کے لیے کوئی لشکر نہیں اتارا اور نہ ایسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے ہم لشکر اتارا کرتے ہیں۔ ویسے بھی اللہ تعالیٰ کے لشکر بیشمار ہیں۔ زمین پر بھی ہیں اور آسمان پر بھی۔ انہیں میں سے فرشتوں کا لشکر بھی ہے۔ اور انسانوں کی کسی آبادی کو تباہ کرنے کے لیے فرشتوں کے لشکر کی ضرورت نہیں ہوتی بلکہ ایک فرشتہ بھی کسی شہر کی تباہی کے لیے کافی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کی ذات فرشتوں یا کسی اور لشکر کی محتاج نہیں۔ وہ چاہے تو کسی دوسرے کی معاونت کے بغیر ساری دنیا کو بھی تباہ کرسکتا ہے لیکن روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت جبریل (علیہ السلام) نے شہر کی فصیل کے دروازے کو پکڑ کر ایک زوردار اور ہیبت ناک آواز نکالی، جس نے ساری قوم کے شعلہ حیات کو بجھا کر رکھ دیا۔ ہوسکتا ہے کہ ان کی حرارتِ غریزی سلب کرلی گئی ہو۔ اور خمود چونکہ بجھا دینے کو کہتے ہیں اس سے ممکن ہے اشارہ اس بات کی طرف ہو کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور ان پر ایمان لانے والوں کے خلاف دشمنی اور عداوت سے ایسے پھنکار رہے تھے جیسے سانپ شعلے اگلتا ہے یا آگ کی بھٹی شعلہ بار ہوتی ہے۔ چناچہ جیسے ہی اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا ان کی عداوت کے شعلے تو سرد ہونا ہی تھے زندگی کا شعلہ بھی بجھ کر رہ گیا۔
Ayahs 36:30–32یٰحَسْرَۃً عَلَی الْعِبَادِ ج مَا یَاْتِیْھِمْ مِّنْ رَّسُوْلٍ اِلاَّ کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ اَلَمْ یَرَوْا کَمْ اَھْلَـکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنَ الْقُرُوْنِ اَنَّھُمْ اِلَیْھِمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔ وَاِنْ کُلٌّ لَّمَّا جَمِیْعٌ لَّدَیْنَا مُحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 30 تا 32)
(افسوس ہے بندوں کے حال پر جو رسول بھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے۔ کیا انھوں نے دیکھا نہیں کہ ہم نے ان سے پہلے کتنی قوموں کو ہلاک کیا، بیشک وہ ان کے پاس کبھی لوٹ کر نہیں آئیں گے۔ بیشک وہ ہمارے ہی حضور میں حاضر کیے جائیں گے۔ )
مکذبینِ رسول پر افسوس
انسانی نفسیات کو متوجہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ افسوس ہے ان بندوں پر جو راہ حق پہچاننے کی بجائے ہمیشہ اپنی خواہشات کے اتباع میں نفسانیت کا کھیل کھیلتے رہے ہیں۔ ان کا بگاڑ جب حد سے گزرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان کی ہدایت کے لیے کوئی نہ کوئی رسول بھیجتا ہے تاکہ یہ لوگ تباہی سے بچ جائیں۔ لیکن یہ لوگ چونکہ حقیقت کی نگاہ سے محروم ہوچکے ہوتے ہیں بجائے رسول کی دعوت کو قبول کرنے اور اس کی عظمت کو پہچاننے کے اس کی تکذیب پر تل جاتے ہیں۔ وہ نہایت خیرخواہی اور ہمدردی سے ان کی بھلائی چاہتا ہے اور یہ نادانوں کی طرح اس کا منہ چڑاتے اور اس کا مذاق اڑاتے ہیں۔ آج یہی روش قریش مکہ کی ہے وہ بھی اسی راستے پر چل رہے ہیں جس راستے پر اس سے پہلے تباہ ہونے والی قومیں چلتی رہی ہیں۔ حالانکہ یہ لوگ اس بات سے انکار نہیں کرسکتے کیونکہ یہ روایات سینہ بہ سینہ ان کی قوم میں پھیلی ہوئی ہیں کہ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کتنی قوموں کو تکذیبِ رسول کی پاداش میں تباہ کیا ہے اور وہ قومیں پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئیں۔ انھوں نے اپنے استہزا کا انجام دیکھ لیا۔ اور یہ بھی بجائے اس سے سبق سیکھنے کے وہی انجام دیکھنا چاہتے ہیں۔ ان تباہ ہونے والی قوموں کو بھی اپنی دولت و ثروت پر بڑا ناز تھا۔ اور وہ پیغمبر کی باتوں کو ازکاررفتہ سمجھتے تھے۔ لیکن آج وہ کہاں ہیں۔ قریش اور ان جیسے دوسرے لوگ بھی اسی انجام سے دوچار ہو کر وہیں پہنچیں گے جہاں وہ پہنچ چکے ہیں۔ اور پھر ایک روز ان سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش ہونا ہے۔ وہاں ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا۔
آخری آیت کی نحوی توجیہ
وَاِنْ کُلٌّ… الخ۔ اِنْ نافیہ بھی ہوسکتا ہے اور مخففہ بھی۔ لیکن ل کے قرینے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ اِنْ مخففہ ہے۔ کُلٌّ کل الخلائق کے معنی میں مبتدا ہے۔ اور جَمِیْعٌ مبتدا کی خبر ہے جو المجموعون کے معنی میں ہے۔ مُحْضَرُوْنَ دوسری خبر ہے۔
Ayahs 36:33–35وَاٰیـَۃٌ لَّھُمُ الْاَرْضُ الْمَیْتَۃُ صلے ج اَحْیَیْنٰـھَا وَاَخْرَجْنَا مِنْھَا حَبًّا فَمِنْہُ یَاْکُلُوْنَ ۔ وَجَعَلْنَا فِیْھَا جَنّٰتٍ مِّنْ نَّخِیْلٍ وَّاَعْنَابٍ وَّفَجَّرْنَا فِیْھَا مِنَ الْعُیُوْنِ ۔ لِیَاکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ لا وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْ ط اَفَلاَ یَشْکُرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 33 تا 35)
(اور ان لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی نشانی مردہ زمین ہے، ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلے اگائے، پس اس میں سے وہ کھاتے ہیں۔ اور ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس میں چشمے جاری کردیے۔ تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں، یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں، تو کیا وہ شکر نہیں کرتے۔ )
اس سورة کے آغاز میں آنحضرت ﷺ کی اصل حیثیت، قرآن کریم کی آپ کی رسالت پر گواہی اور آپ کے فرضِ منصبی کو بیان کرنے کے بعد قریش مکہ کے رویے پر تنقید فرمائی گئی۔ اور آپ کے فرضِ منصبی کی نزاکتوں کو واضح کرنے کے لیے تاریخی استشہاد کے طور پر گزشتہ کسی دور میں مبعوث ہونے والے رسولوں کی تبلیغی کاوشوں اور ان کی قوم کے ردعمل کو واضح کرتے ہوئے قریش کو آئینہ دکھاتے ہوئے اس قوم کا بھیانک انجام بیان کیا گیا ہے تاکہ قریش اور دیگر اہل عرب اچھی طرح اندازہ کرسکیں کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں وہ جو طرزعمل اختیار کرچکے ہیں اس کا نتیجہ تاریخ کے مختلف ادوار میں کیا نکلتا رہا ہے اور آج بھی اگر وہی طرزعمل اختیار کیا گیا تو اللہ تعالیٰ کی سنت میں چونکہ تبدیلی نہیں آتی اس لیے آج بھی اس انجام سے مختلف کسی اور انجام کی توقع رکھنا احمقوں کی جنت میں بسنے کے مترادف ہوگا۔ چناچہ اس یاددہانی اور وارننگ کے بعد اب اس دعوت کے بنیادی نکات کو دلائل کے ساتھ واضح فرمایا جارہا ہے تاکہ جو شخص بھی راہ راست پر آنا چاہے وہ علم کی پوری روشنی کے ساتھ آئے۔ اور جو گمراہی کی موت مرنا چاہے اسے یہ شکایت نہ ہو کہ حق ہم پر پوری طرح واضح نہیں کیا گیا تھا۔
توحید پر ربوبیت سے دلیل
مذہب کی تاریخ سے ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ جب بھی کوئی رسول کسی قوم کی طرف مبعوث ہوئے ہیں تو اس قوم نے اپنے انکار کو ہمیشہ نشانیوں کے مطالبے کے پیچھے چھپانے کی کوشش کی اور اپنی ہٹ دھرمی اور استکبار کو یہ کہہ کر جواز بخشا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا رسول واقعی اپنی دعوت میں سچا ہے تو اسے ہماری منہ مانگی نشانیاں دکھانے سے انکار نہیں ہونا چاہیے۔ قریش مکہ بھی ایسے ہی ہتھکنڈوں سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے کوشاں تھے۔ چناچہ پروردگار نے ان سے نہایت سامنے کی بات فرمائی ہے کہ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کی حقانیت کے لیے نشانیاں مطلوب ہیں تو نشانیاں تو ان کے گردوپیش اور ان کے سامنے پھیلی ہوئی ہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ ان کی ہٹ دھرمی اور استکبار انہیں ان نشانیوں کی طرف متوجہ نہیں ہونے دیتا۔ چناچہ سب سے پہلے ایک ایسی نشانی کو بیان کیا جارہا ہے جس سے کوئی انسان بھی غافل نہیں رہتا۔ اس لیے کہ ایسا کون سا شخص ہوگا جس کا زمین سے سابقہ نہ رہتا ہو۔ اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ تم ذرا زمین کو دیکھو کہ زمین اپنی تمام تر وسعتوں اور اپنے دامن میں کھولتا ہوا لاوا رکھنے کے باوجود تمہارے قدموں میں اس طرح بچھی ہوئی ہے کہ جس سے زیادہ سرافگندگی اور عاجزی کا اظہار ممکن نہیں۔ انسان اس پر دوڑتا بھاگتا ہے، بڑی بڑی گاڑیاں چلاتا ہے، گہرے نالے کھودتا ہے، بڑی بڑی عمارتیں اس کی سطح پر اٹھاتا ہے، بڑے بڑے ڈیم بناتا ہے، لیکن زمین نے آج تک انسان کی ان کارروائیوں کو بروئے کار لانے سے کبھی انکار نہیں کیا۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اس میں سختی اس قدر ہے کہ بڑے سے بڑا بوجھ اٹھا لیتی ہے۔ حتیٰ کہ بڑے بڑے پہاڑ بھی اس کے سینے پر ایستادہ ہیں۔ لیکن جب کوئی شخص اس پر سونے کے لیے لیٹ جاتا ہے تو اس کی نرمی اسے اس طرح اپنی آغوش میں لے لیتی ہے کہ وہ سمجھتا ہے کہ میں ماں کی آغوش میں سو رہا ہوں۔ لیکن اس سب سے بڑھ کر جس نشانی کی طرف یہاں توجہ دلائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ جب کہیں نزول باراں میں تاخیر ہوجاتی ہے تو ایک مدت گزرنے کے بعد ہر طرف دھول اڑتی دکھائی دیتی ہے، جوہڑ سوکھ جاتے ہیں، کسی مینڈک کے ٹرانے کی آواز نہیں آتی، زمین گھاس کی پتی تک کو ترس جاتی ہے، انسانی بستیاں قحط کا شکار ہوجاتی ہیں اور چارہ نہ ملنے کی وجہ سے جانور مرنے لگتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس زمین پر اب زندگی گزارنا ممکن نہیں رہا کہ اچانک گھٹا اٹھتی ہے اور چھم چھم بارش ہونے لگتی ہے۔ چند دنوں میں وہ زمین جس پر ہر طرف موت کا پہرہ تھا ہر طرف مجسم زندگی میں تبدیل ہوجاتی ہے، سوکھے ہوئے درختوں میں کونپلیں پھوٹنے لگتی ہیں، زمین کا بڑا حصہ مخملی لباس پہن لیتا ہے، کاشتکاروں کی محنت رنگ لانے لگتی ہے اور جن غلوں پر انسان کی معاش کا انحصار ہے ان کی فصلیں لہلہانے لگتی ہیں اور جابجا کھجور، انگور اور دوسرے پھلوں کے باغات اپنی بہار دینے لگتے ہیں۔ اس سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے وجود کی نشانی اور کیا ہوگی۔ اس سے جہاں یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس کائنات کا خالق زمین پر بسنے والوں کی ضروریات سے غافل نہیں، اسی طرح اس سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح وہ اپنی تخلیق میں کسی کا محتاج نہیں بلکہ ہر مخلوق اس کی محتاج ہے، اسی طرح کائنات کا نظام و انصرام چلانے اور مخلوقات کی ضروریات پوری کرنے میں بھی وہ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ اپنی ذات میں بھی وحدہ لاشریک ہے اور اپنی صفات میں بھی۔ اس نے اپنی بیشمار نعمتیں دے کر انسان میں یہ احساس پیدا کیا ہے کہ یہ ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی نہیں کیونکہ وہ نہ زمین میں قوت روئیدگی پیدا کرسکتا ہے اور نہ وہ کسی اور نعمت کو ازخود وجود بخش سکتا ہے۔ انہیں اس پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں یہ ساری نعمتیں محض اپنے فضل و کرم سے عطا کیں۔ اور بغیر کسی استحقاق کے ہمیں ان نعمتوں سے بہرہ مند فرمایا ہے۔ افسوس تو ان بندوں پر ہے جو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو کھاتے، استعمال کرتے لیکن اس کی شکرگزاری کرنے کی بجائے اکڑتے اور نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔
ضمیر کا مرجع ؟
لِیَاکُلُوْا مِنْ ثَمَرِہٖ بعض اہل علم نے ضمیر کو مذکر دیکھ کر اس کا مرجع اللہ تعالیٰ کو ٹھہرایا ہے لیکن سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے یہ تکلّف معلوم ہوتا ہے۔ بہتر یہ ہے کہ اس کا مرجع ارض کو بنایا جائے۔ رہی یہ بات کہ ضمیر مذکر ہے اور ارض (زمین) مونث ہے۔ اس لیے ضمیر اور مرجع میں موافقت نہیں رہتی۔ لیکن اہل علم جانتے ہیں کہ عربی زبان میں بعض دفعہ ضمیر لفظ کے ظاہر کے اعتبار سے نہیں بلکہ اس کے مفہوم کے اعتبار سے آتی ہے اور اسے اہل ادب علی سبیل التأویل سے تعبیر کرتے ہیں۔ یہاں بھی ارض البلدالطیب کے معنی میں ہے۔ قرآن کریم نے سورة الاعراف میں اسے اسی معنی میں استعمال کیا ہے۔ ارشاد باری ہے :
وَالْبَلَدُالطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُـہٗ بِاِذْنِ رَبِہٖ وَالذَّیْ خَبُثَ لاَ یَخْرُجُ اِلاَّنَـکِدًا (الاعراف : 58)
” اور جو زمین زرخیر ہوتی ہے اس کی نباتات تو اس کے رب کے حکم سے خوب اپجتی ہیں اور جو زمین ناقص ہوتی ہے اس سے ناقص ہی چیز اگتی ہے۔ “
وَمَا عَمِلَتْہُ اَیْدِیْہِمْاس کا ایک ترجمہ تو ہم نے اوپر متن میں کیا ہے لیکن ایک دوسرا ترجمہ بھی ہوسکتا ہے اور وہ بھی صحیح ہے۔ وہ یہ ہے تاکہ یہ کھائیں اس زمین کے پھل اور وہ چیزیں جو ان کے اپنے ہاتھ بناتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ نعمتوں سے انسان مختلف نعمتیں اور غذائیں بناتا ہے۔ غلے سے روٹی، سبزیوں سے سالن پھر آٹے اور بیسن سے مختلف قسم کی مٹھائیاں، مختلف پھلوں سے مربے، اچار، چٹنیاں اور ایسی ہی اور بیشمار چیزیں وغیرہ۔ یہ بھی درحقیقت اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ عقل کا کرشمہ ہے۔ اس لحاظ سے ان مصنوعی نعمتوں پر بھی اللہ تعالیٰ ہی کا شکر لازم ہے۔
Ayah 36:36سُبْحٰنَ الَّذِیْ خَلَقَ الْاَزْوَاجَ کُلَّھَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ وَمِنْ اَنْفُسِھِمْ وَمِمَّا لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 36)
(پاک ہے وہ ذات جس نے تمام جوڑے پیدا کیے ان چیزوں میں سے بھی جن کو زمین اگاتی ہے اور خود ان کی اپنی جنس سے بھی اور ان چیزوں میں سے بھی جن کو وہ جانتے تک نہیں۔ )
سُبْحٰنَکا مفہوم
سُبْحٰنَکلمہ ٔ تنزیہ ہے۔ اس سے اللہ تعالیٰ کو ہر عیب اور ہر کمزوری سے پاک اور ہر نارسائی سے بالا ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے۔ ان آیات میں اگرچہ مشرکین کی تردید اور شرک کی مذمت پیش نظر ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات کی تنزیہ پیش نظر نہیں۔ لیکن شرک چونکہ بجائے خود انسانی عقائد میں بہت بڑی خرابی کا نام ہے۔ اس لیے جب ایسی کسی خرابی کا انتساب پروردگار کی طرف ہوتا ہے تو اس کا مفہوم دراصل یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے اندر کوئی نہ کوئی کمزوری پائی جاتی ہے۔ مثلاً اگر کوئی شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی فلاں فلاں صفات میں فلاں فلاں قوتیں شریک ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دوسرے لفظوں میں یہ کہنا چاہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی ان صفات کو بروئے کار لانے پر قادر نہیں۔ اگر اس کی قدرت کامل ہوتی تو کسی دوسرے کی شرکت کا کوئی سوال پیدا نہ ہوتا۔ وہ اپنی قدرت کی ناتمامی کے باعث دوسروں کو اپنے ساتھ شریک کرنے پر مجبور ہوا ہے۔ اور یا اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات وصفات میں تو کسی کو شریک نہیں کیا لیکن بعض ہستیاں ایسی طاقتور ہیں کہ پروردگار ان کی مداخلت روکنے پر قادر نہیں۔ اس لیے وہ اپنی کمزوری کے باعث ان کی مداخلت کو برداشت کررہا ہے۔ ایسے ہی بعض دیگر مشرکانہ تصورات ہیں جو درحقیقت اللہ تعالیٰ کی طرف کمزوریوں کو منسوب کرنے کے مترادف ہیں۔ چناچہ ان تمام خرافات کے ازالے کے لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ایسے تمام عیوب و نقائص اور کمزوریوں سے پاک اور منزّہ ہے۔
توحید پر صفت تخلیق سے استدلال
اللہ تعالیٰ کو ہر نقص اور عیب سے پاک ثابت کرنے کے بعد صرف اس کی ایک صفت تخلیق کا حوالہ دیا ہے جس پر غور کرنے کے بعد اگر کسی شخص کی عقل پر پتھر نہیں پڑگئے تو وہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے ہر طرح کے شرک سے تائب ہوجاتا ہے۔ وہ جب دیکھتا ہے کہ یوں تو اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق بجائے خود ایسی حیران کردینے والی ہے کہ جیسے جیسے تدبر کا قدم آگے بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے آدمی کے حیرت واستعجاب میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ لیکن جب ہم خصوصی طور پر یہ دیکھتے ہیں کہ اس نے جو چیزیں بھی پیدا کی ہیں ان میں انتہا درجے کا تنوع پایا جاتا ہے۔ انسانوں ہی کو دیکھ لیجیے ان کی شکلوں، رنگوں، قامتوں، زبانوں، صلاحیتوں، مزاجوں اور ذوقوں میں باہمی کس قدر اختلاف اور فرق پایا جاتا ہے۔ پھولوں کو دیکھ لیجیے۔ ان کے رنگ اور ان کی خوشبو اس قدر اپنے اندر تنوع رکھتی ہے کہ آدمی اس سیلاب کے سامنے ڈوبتا چلا جاتا ہے۔ اس نے آسمان پر روشنی کے جو بڑے بڑے کُرّے سجا رکھے ہیں اور بڑے بڑے فانوس جلا رکھے ہیں کوئی شخص ان کی روشنی کی کنہ کو کماحقہ پا نہیں سکتا۔ اور پھر اسی پر بس نہیں اس نے ہر چیز کے جوڑے جوڑے بھی پیدا کیے ہیں۔ عورت مرد کا جوڑا تو انسان کے اپنے وجود کا باعث ہے اس لیے اسے تو ہر ایک جانتا ہے لیکن حیوانات کی نسلیں بھی نر اور مادہ کے ازدواج سے وجود میں آئی ہیں۔ اسی طرح نباتات میں ماہرینِ زراعت تزویج کے اصول کی کارفرمائی کو دیکھتے ہیں تو انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں۔ اب تو علم کا سفر یہاں تک بڑھ چکا ہے کہ بےجان مادوں میں بھی تزویج کے عمل کی کارفرمائی ثابت ہوچکی ہے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ خود مادے کی بنیادی ترکیب منفی اور مثبت برقی توانائی کے ارتباط سے ہوئی ہے۔ ابھی نہ جانے اس عالم کا کتنا حصہ ہمارے علم کی رسائی سے باہر ہے۔ جب کبھی وہ روشنی میں آیا تو اس بات کی مزید تصدیق ہوجائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے اس میں تنوع بھی رکھا ہے اور تزویج کا عمل بھی جاری ہے۔ یہ تنوع اور یہ ازدواج اللہ تعالیٰ کی حکمت و صنّاعی کی ایسی دلیل ہے اور اس کی وحدانیت اور الوہیت کا ایسا ثبوت ہے جس کے سامنے شرک کی ہر آلودگی دم توڑ جاتی ہے۔
ہر چیز کے جوڑا جوڑا ہونے سے یہ بات بھی سمجھ میں آتی ہے کہ جس طرح ہر چیز اپنے جوڑے سے مل کر اپنے مقصد کو پورا کرتی ہے اسی طرح دنیا کا بھی کوئی جوڑا ہونا چاہیے ورنہ دنیا بالکل بےمقصد و بےغائت ہو کر رہ جاتی ہے۔ اور یہ بات ایک حکیم خالق کی شان سے بعید ہے کہ وہ کوئی عبث اور بےمقصد کام کرے۔ چناچہ اس دنیا کے اس خلا کو بھرنے کے لیے اس نے آخرت بنائی ہے۔
Ayah 36:37وَاٰیـَۃٌ لَّھُمُ الَّیْلُ صلے ج نَسْلَخُ مِنْہُ النَّھَارَ فَاِذَا ھُمْ مُّظْلِمُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 37)
(اور ان کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اس سے دن کو کھینچ لیتے ہیں، پس وہ اچانک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں۔ )
رات اور دن کی نشانی سے استدلال
لوگوں کو توجہ دلانے کے لیے ایک اور نشانی کا ذکر فرمایا کہ جس طرح دن اللہ تعالیٰ کی ایک نشانی ہے اسی طرح رات بھی اللہ تعالیٰ کی نشانی ہے۔ حالانکہ اگر کبھی انسان اس بات پر غور کرے کہ دن کیسے گزرتا ہے اور رات کیسے آتی ہے اور دن کے جانے اور رات کے آنے میں کیا حکمتیں کارفرما ہیں۔ دن کو کس طرح نور کی چادر اڑھائی جاتی ہے تو لوگوں کے لیے روشن دن نمودار ہوجاتا ہے جس میں وہ زندگی کی سرگرمیاں جاری رکھتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اپنی یہ نورانی چادر اس سے کھینچ لیتے ہیں تو وہ تاریکی میں ڈوب جاتا ہے جس سے لوگوں کو آرام کا موقع ملتا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ روزوشب کے انقلاب کا یہ سلسلہ جاری نہ کرتا تو انسان ہمیشہ تاریکی ہی میں رہتا۔ روزوشب کا یہ ایاب و ذہاب اور مخلوق کے مفاد کے لیے ان کی یہ سازگاری اس بات کی صاف دلیل ہے کہ یہ دنیا اضداد کی رزم گاہ نہیں ہے بلکہ یہ خالق کی بنائی ہوئی دنیا ہے جو اس کے تمام اضداد کو اس کے مجموعی مفاد کے لیے استعمال کررہا ہے۔
Ayahs 36:38–39وَالشَّمْسُ تَجْرِیْ لِمُسْتَقَرٍّلَّھَا ط ذٰلِکَ تَقْدِیْرُالْعَزِیْزِالْعَلِیْمِ ۔ (یٰسٓ: 38)
(اور سورج اپنے ایک معین مدار پر گردش کرتا ہے، یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔ )
سورج کی نشانی سے استدلال
دن کے وقت ظاہر ہونے والی سب سے بڑی نشانی سورج ہے۔ آفتاب پرستوں کو توجہ دلائی جارہی ہے کہ ذرا اس آفتاب کو دیکھو اپنے حجم، اپنی طاقت، اپنی افادیت اور اپنی وسعت کے باوجود وہ کس قدر نیازمندی کے ساتھ اپنے مدار میں گردش کرتا رہتا ہے۔ کیا مجال کہ اپنے محور و مدار سے ذرا ہٹ سکے یا اس کی پابندیِ اوقات میں منٹ یا سیکنڈ کا بھی فرق پیدا ہوسکے۔ اگر آفتاب اپنے ارادے میں آزاد ہوتا، وہ ایک مضبوط قانون اور نظم کا پابند نہ ہوتا تو کبھی نہ کبھی اپنے محور یا مدار سے نکلتا، کبھی اپنا فرض انجام دینے میں کوتاہی کرتا اور اس کے نتیجے میں کبھی نہ کبھی لیل و نہار کے ایاب و ذہاب میں تبدیلی آتی۔ لیکن ایسا کبھی نہ ہونا کیا اس بات کی دلیل نہیں کہ وہ ایک عزیز اور علیم ذات کی منصوبہ بندی کا پابند ہے۔ اور اپنی بےپناہ طاقت کے باوجود وہ اس کے سامنے ادنیٰ غلام کی بھی حیثیت نہیں رکھتا۔
Ayah 36:40وَالْقَمَرَ قَدَّرْنٰـہُ مَنَازِلَ حَتّٰی عَادَ کَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِیْمِ ۔ لاَالشَّمْسُ یَنْبَغِیْ لَھَآ اَنْ تُدْرِکَ الْقَمَرَ وَلاَالَّیْلُ سَابِقُ النَّھَارِ ط وَکُلٌّ فِیْ فَلَکٍ یَّسْبَحُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 39، 40)
(اور چاند، ہم نے اس کی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں یہاں تک کہ وہ کھجور کی پرانی ٹہنی کے مانند ہو کر رہ جاتا ہے۔ نہ سورج کی مجال ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے اور سب اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں۔ )
چاند کی نشانی سے دلیل
جس طرح خدائے عزیز وعلیم نے سورج کا ایک مستقر ٹھہرایا اور وہ اس کی طرف چل رہا ہے اسی طرح اس نے چاند کی بھی منزلیں مقرر کر رکھی ہیں۔ وہ اپنے سفر اور اپنی منزلوں کے بارے میں نہ خودکار ہے اور نہ خودمختار ہے، بلکہ وہ اس عظیم ہستی کے قانون و نظام میں ایسا بندھا ہوا ہے کہ صدیوں سے وہ اس نظام کے مطابق چل رہا ہے اور کبھی اس میں تقدیم و تاخیر کا سوال پیدا نہیں ہوا۔ اللہ تعالیٰ نے جو اس کے لیے منزلیں ٹھہرا رکھی ہیں وہ اسے بہر صورت طے کرنا پڑتی ہیں۔ ایک دن وہ ہلال بن کر طلوع ہوتا ہے پھر روز بروز بڑھتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ چودھویں رات کو بدرکامل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد گھٹتا چلا جاتا ہے یہاں تک کہ یہ منزلیں طے کرتے کرتے وہ بالآخر کھجور کی پرانی ٹہنی کی مانند ہو کے رہ جاتا ہے۔ اور یہ منزلوں کا تعین اور سفر کی یکسانی ایسی مستحکم ہے کہ انسان حساب لگا کر یہ معلوم کرسکتا ہے کہ کس روز چاند کس منزل میں ہوگا۔ کہنا صرف یہ ہے کہ جس چاند کا حال یہ ہے کہ وہ منازلِ فلکی طے کرتا کرتا سوکھ کے کانٹا اور خمیدہ قامت ہو کے رہ جاتا ہے جس طرح کھجور کی سوکھی ٹہنی ہوتی ہے اور اپنی رفتار اور منزلوں کے تعین میں ایسا مجبورِ محض ہے کہ لاکھوں سالوں میں منٹ سیکنڈ کا تغیر نہیں ہوسکا۔ کیسے نادان ہیں وہ لوگ جو ایسی مجبور و مقہور ذات کو اللہ تعالیٰ کا شریک ٹھہراتے اور اس کی پوجا کرتے ہیں۔
اسی مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ سورج اپنی تمام تر عظمت و وسعت کے باوجود اس کی مجال نہیں رکھتا کہ وہ اپنے مدار سے نکل کر چاند کے مدار میں جا گھسے اور اس کو پکڑ لے۔ اور نہ رات کی یہ مجال ہے کہ دن کی مقررہ مدت ختم ہونے سے پہلے آجائے۔ اور وہ دن کی روشنی کو سمیٹ کر اپنی تاریکیوں کو غالب کردے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر کُرّہ اپنے مدار میں اسی طرح گردش کرنے پر مجبور ہے۔
ان آیات کا اصل مقصد علم ہیئت کے حقائق کو بیان کرنا نہیں ہے بلکہ انسان کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ اگر وہ آنکھیں کھول کر دیکھے اور عقل سے کام لے تو زمین سے لے کر آسمان تک جدھر بھی وہ نگاہ ڈالے گا اس کے سامنے خدا کی ہستی اور اس کی یکتائی کے بےحد و حساب دلائل آئیں گے اور کہیں کوئی ایک دلیل بھی دہریت اور شرک کے ثبوت میں نہ ملے گی۔ ہماری یہ زمین جس نظام شمسی میں شامل ہے اس کی عظمت کا یہ حال ہے کہ اس کا مرکز، سورج زمین سے 3 لاکھ گنا بڑا ہے اور اس کے بعید ترین سیارے نیپچون کا فاصلہ سورج سے کم از کم 2 ارب 79 کروڑ 30 لاکھ میل ہے بلکہ اگر پلوٹو کو بعید ترین سیارہ مانا جائے تو وہ سورج سے 4 ارب 60 کروڑ میل دور تک پہنچ جاتا ہے۔ اس عظمت کے باوجود یہ نظام شمسی ایک بہت بڑے کہکشاں کا محض ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔ جس کہکشاں (Galaxy) میں ہمارا یہ نظام شمسی شامل ہے اس میں تقریباً 3 ہزار ملین (3 ارب) آفتاب پائے جاتے ہیں اور اس کا قریب ترین آفتاب ہماری زمین سے اس قدر دور ہے کہ اس کی روشنی یہاں تک پہنچنے میں 4 سال صرف ہوتے ہیں۔ پھر یہ کہکشاں بھی پوری کائنات نہیں ہے، بلکہ اب تک کے مشاہدات کی بنا پر اندازہ کیا گیا ہے کہ یہ تقریباً 20 لاکھ لوبی سحابیوں (Spiral Nebulse) میں سے ایک ہے اور ان میں سے قریب ترین سحابیے کا فاصلہ ہم سے اس قدر زیادہ ہے کہ اس کی روشنی 10 لاکھ سال میں ہماری زمین تک پہنچتی ہے۔ رہے بعید ترین اجرامِ فلکی جو ہمارے موجودہ آلات سے نظر آتے ہیں ان کی روشنی تو زمین تک پہنچنے میں 10 کروڑ سال لگ جاتے ہیں۔ اس پر بھی یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انسان نے ساری کائنات دیکھ لی ہے۔ یہ خدا کی خدائی کا بہت تھوڑا سا حصہ ہے جو اب تک انسانی مشاہدے میں آیا ہے۔ آگے نہیں کہا جاسکتا کہ مزید ذرائع مشاہدہ فراہم ہونے پر اور کتنی وسعتیں انسان پر منکشف ہوں گی۔
تمام معلومات جو اس وقت تک کائنات کے متعلق بہم پہنچی ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پورا عالم اسی مادے سے بنا ہوا ہے جس سے ہماری یہ چھوٹی سی ارضی دنیا بنی ہے اور اس کے اندر وہی ایک قانون کام کررہا ہے جو ہماری زمین کی دنیا میں کارفرما ہے ورنہ یہ کسی طرح ممکن نہ تھا کہ ہم اس زمین پر بیٹھے ہوئے اتنی دور دراز دنیائوں کے مشاہدے کرتے اور ان کے فاصلے ناپتے اور ان کی حرکات کے حساب لگاتے۔ کیا یہ اس بات کا صریح ثبوت نہیں ہے کہ یہ ساری کائنات ایک ہی خدا کی تخلیق اور ایک ہی فرمانروا کی سلطنت ہے ؟ پھر جو نظم، جو حکمت، جو صناعی اور جو مناسبت ان لاکھوں کہکشائوں اور ان کے اندر گھومنے والے اربوں تاروں اور سیاروں میں پائی جاتی ہے اس کو دیکھ کر کیا کوئی صاحب عقل انسان یہ تصور کرسکتا ہے کہ یہ سب کچھ، آپ سے آپ ہوگیا ہے ؟ اس نظم کے پیچھے کوئی ناظم، اس حکمت کے پیچھے کوئی حکیم، اس صنعت کے پیچھے کوئی صانع اور اس مناسبت کے پیچھے کوئی منصوبہ ساز نہیں ہے ؟
Ayahs 36:41–44وَاٰیـَۃٌ لَّھُمْ اَنَّا حَمَلْنَا ذُرِّیَّتَھُمْ فِی الْفُلْکِ الْمَشْحُوْنَ ۔ وَخَلَقْنَا لَھُمْ مِّنْ مِّثْلِہٖ مَا یَرْکَبُوْنَ ۔ وَاِنْ نَّشَاْ نُغْرِقْھُمْ فَلاَ صَرِیْخَ لَھُمْ وَلاَ ھُمْ یُنْقَذُوْنَ ۔ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنَّا وَمَتَاعًا اِلٰی حِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 41 تا 44)
(اور ایک نشانی ان کے لیے یہ بھی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ پھر ہم نے ان کے لیے پیدا کیں اسی کی مانند جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں پھر نہ کوئی ان کا فریاد سننے والا ہو اور نہ وہ بچائے جاسکیں۔ پس ہماری رحمت ہے اور ایک وقت معین تک ان کو بہرہ مند کرنا ہے۔ )
صفتِ تخلیق اور صفت ابقاء سے استدلال
اللہ تعالیٰ کی توحید اور انسانی زندگی پر اس کے احسانات اور کائنات کے نظم و نسق اور اس کے سنبھالنے میں اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کے دلائل کے طور پر جو نشانیاں بیان کی جارہی ہیں ان میں سے ایک نشانی یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانی نسل کو حضرت نوح (علیہ السلام) کی بھری ہوئی کشتی میں سوار کیا۔ بھری ہوئی کشتی سے مراد یہ ہے کہ قوم نوح پر تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں جب عذاب بھیجنے کا فیصلہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو ایک بڑی کشتی بلکہ یوں کہنا چاہیے کہ بحری جہاز بنانے کا حکم دیا۔ انسان اس سے پہلے کشتی کی صنعت سے بالکل بیخبر تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اس کی آبادی خشکی پر دریائوں اور سمندروں میں گھری ہوئی تھی۔ اس کے پاس دریائوں اور سمندروں کو پار کرنے کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔ اور پھر جو عذاب آنے والا تھا وہ چونکہ غیرمعمولی پانی کا سیلاب تھا جس سے خشکی میں رہ کر بچنا ناممکن تھا۔ حضرت نوح (علیہ السلام) جب کشتی تیار کرچکے تو اچانک طوفان کے آثار پیدا ہوئے۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ جس تنور میں آگ جلتی تھی وہیں سے سب سے پہلے پانی ابلنا شروع ہوا۔ پھر جابجا چشمے ابل پڑے، آسمان نے اپنے بند کھول دیے، موسلادھار بارش نے دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک کردیا، حضرت نوح (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ اپنی کشتی میں ہر طرح کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا سوار کرلو تاکہ طوفان کے بعد کی زندگی میں ان سے کام لیا جاسکے۔ اور جو لوگ ایمان لا چکے ہیں وہ مرد ہوں یا عورت کشتی کے مختلف حصوں میں انہیں بھی سوار کرلو۔ ظاہر ہے کہ زندگی کی مختلف ضرورتوں اور مختلف جانوروں سے لدی ہوئی یہ کشتی اپنے اندر کس قدر وسعت رکھتی تھی کہ صاحب ایمان لوگوں کی نسل ساری کی ساری اس میں سوار کردی گئی۔ اور اسی کشتی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی زندگی اور بقاء کا سامان کیا۔ جبکہ باقی تمام نوع انسانی سیلاب کی نذر ہو کر لقمہ اجل ہوگئی۔ اس لیے سب سے پہلے اس وقت کے انسان پر زندگی کی حفاظت کے حوالے سے اللہ تعالیٰ نے جو احسان کیا اور کشتی پر سوار کرکے ان کی بقا کا جو انتظام فرمایا اس کا ذکر کیا گیا۔ اور دوسری آیت میں مزید احسان کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم نے پھر کشتی نوح جیسی اور کشتیاں بھی پیدا فرمائیں جن پر بعد کی نسلیں سوار ہوتی رہیں اور آج بھی انسان اسی کشتی کو ترقی دیتے ہوئے کہیں کا کہیں پہنچ گیا ہے۔ لیکن اس احسان سے کبھی فارغ نہیں ہوسکتا جس کی ابتدا کشتی نوح سے ہوئی۔ اللہ تعالیٰ نے بعد کی کشتیاں بنانے کی نسبت اپنی طرف فرمائی ہے۔ جس میں اشارہ اس بات کی طرف ہے کہ انسان نے جتنی بھی ایجادات کی ہیں چاہے وہ سمندر پر سفر کے حوالے سے ہوں یا زمینی اور فضائی سفر کے حوالے سے، یا زندگی کی دوسری ضروریات کو پورا کرنے کے لیے، ان میں سے ہر ایجاد بظاہر انسان کا کرشمہ ہے، لیکن درحقیقت اللہ تعالیٰ کی نوازش اور اس کی عطا ہے۔ ان ایجادات میں جس جوہر نے بنیادی کردار ادا کیا ہے وہ جوہرِعقل ہے۔ اور یہ جوہر ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انسان پر سب سے بڑا احسان اور انعام ہے۔ اور مزید یہ کہ عقل بھی ایجادات کے سلسلے میں اس وقت کوئی نیا کارنامہ انجام دینے میں کامیاب ہوتی ہے جب اچانک اللہ تعالیٰ انسان کی اس ایجاد کو ایک نئے سفر کی طرف اشارہ فرماتا ہے۔ اور اچانک اس کے اندر ایک نیا دیپ جل اٹھتا ہے۔ نیوٹن نے بارہا سیب کے درخت سے سیب کو گرتے دیکھا، لیکن کبھی اسے کشش ثقل کا الہام نہیں ہوا۔ لیکن ایک دن اچانک سیب کو گرتے دیکھ کر وہ اس راز کو پا گیا کہ آخر سیب نیچے ہی کیوں گرتا ہے، اوپر کیوں نہیں جاتا ؟ یہ یقینا زمین کی کشش کا نتیجہ ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کو فطرت کی طاقتوں پر جو تصرف کے اختیارات حاصل ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے عطا کردہ ہیں۔ اور ان طاقتوں پر تصرف کے جو طریقے اس نے دریافت کیے ہیں وہ بھی اللہ تعالیٰ کی رہنمائی سے اس کے علم میں آئے ہیں۔ اسرارِ فطرت کا پتہ چلا لینا اور ان قوتوں سے کام لینے کے طریقے جان سکنا اللہ تعالیٰ کی مرضی کے سوا ممکن نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی جب مرضی ہوتی ہے اور وہ جس چیز کو انسان کی بھلائی کے لیے وجود میں لانا چاہتا ہے انسان کی اس کی طرف رہنمائی کردیتا ہے۔ لیکن یہ انسان کی غلطی ہے کہ وہ ان ایجادات کو اپنی ذاتی قوت تسخیر کا نتیجہ سمجھ لیتا ہے اور یہیں سے اس کی گمراہی کی ابتدا ہوتی ہے۔ اس لیے اگلی آیت کریمہ میں توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ یہ ہمارا احسان ہے کہ ہم نے حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں اس وقت کے صاحب ایمان لوگوں کی نسل کو سوار کیا اور پھر انہیں سے آئندہ زمین پر نوع انسانی کا سلسلہ چلا۔ پھر انسان درجہ بدرجہ ایجادات میں آگے بڑھتا رہا اور آج اس کی کشتیاں سمندر کے سینے پر دوڑتی پھرتی ہیں، لیکن اسے کبھی یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ انہیں کشتی سمیت غرق کردے۔ اور یہ نہ کوئی فریاد کرسکیں اور نہ کوئی ان کی فریاد رسی کرسکے اور نہ کبھی یہ ہلاکت سے محفوظ رہ سکے۔ یہ تو سراسر اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے کہ اس نے انسان کو اپنی حکمت و مشیت کے مطابق مختلف صلاحیتوں سے نوازا، ان کے اظہار کا موقع دیا اور ایک وقت خاص تک ان نعمتوں سے اسے بہرہ مند ہونے کا موقع فراہم کیا۔
Ayah 36:45وَاِذَا قِیْلَ لَھُمُ اتَّقُوْا مَابَیْنَ اَیْدِیْکُمْ وَمَا خَلْفَکُمْ لَعَلَّـکُمْ تُرْحَمُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 45)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ ڈرو اس چیز سے جو تمہارے آگے اور پیچھے ہے، اور شاید کہ تم پر رحم کیا جائے۔ )
انسان کے بگاڑ کی مثال
انسان کے بگاڑ کی انتہا یہ ہے کہ وہ نہ دوسروں کے انجام سے عبرت حاصل کرتا ہے اور نہ آئندہ آنے والا انجام اس کے اندر تشویش پیدا کرتا ہے۔ حیوانوں کی طرح جب تک اسے چارہ کھانے کو ملتا رہتا ہے اسے کسی بات کی ہوش نہیں ہوتی۔ قریش چونکہ ایسی ہی صورتحال سے دوچار تھے اس لیے ان کے بارے میں کہا جارہا ہے کہ انہیں گزشتہ اقوام کی تاریخ کے حوالے سے سمجھانے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ کان دھرنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ اور موت کے بعد کی زندگی یعنی آخرت میں جو کچھ پیش آنے والا ہے اس سے انہیں ڈرایا جاتا ہے تب بھی ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا۔ حالانکہ یہی دو حوالے ہیں جس سے انسان کا رویہ بدلنے میں مدد لی جاسکتی ہے۔ لیکن قریش معلوم ہوتا ہے تباہی کی طرف بڑھ رہے ہیں کیونکہ جن باتوں سے اللہ تعالیٰ کی رحمت کو متوجہ کیا جاتا ہے وہ ان باتوں کو سننے کے بھی روادار نہیں۔
آیت کا ایک دوسرا مفہوم بھی ہے اگرچہ اس سے آیت کی مراد میں فرق نہیں پڑتا لیکن حوالے ضرور بدل جاتے ہیں۔ اس مضمون کی طرف سورة سبا کی ایک آیت ہمیں متوجہ کرتی ہے۔ آیت یہ ہے :
اَفَلَمْ یَرَوْا اِلٰی مَابَیْنَ اَیْدِیْھِمْ وَمَا خَلْفَھُمْ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْاَرْضِ ط اِنْ نَشَاْ نَخْسِفْ بِھِمُ الْاَرْضَ اَوْنُسْقِطْ عَلَیْھِمْ کِسَفًا مِّنَ السَّمَآئِ ۔
” کیا وہ اپنے آگے اور پیچھے کے آسمان اور زمین پر غور نہیں کرتے، اگر ہم چاہیں تو ان کے سمیت زمین کو دھنسا دیں یا ان کے اوپر آسمان سے ٹکڑے گرا دیں۔ “
پیشِ نظر آیت کریمہ میں آگے اور پیچھے سے مراد زمین و آسمان ہیں۔ یعنی اس بات سے ڈرو کہ زمین تمہارے سمیت دھنسا نہ دی جائے اور آسمان سے تم پر ٹکڑے نہ گرا دیے جائیں۔ لیکن یہ بدبخت متنبہ ہونے کی بجائے اعراض کرتے اور مزید نشانیوں کا مطالبہ کرتے ہیں۔
Ayah 36:46وَمَا تَاْتِیْہِمْ مِّنْ اٰیـَۃٍ مِّنْ اٰیٰتِ رَبِّہِمْ اِلاَّ کَانُوْا عَنْھَا مُعْرِضِیْنَ ۔ (یٰسٓ: 46)
(ان کے رب کی نشانیوں میں سے جو نشانی بھی ان کے سامنے آتی ہے وہ اس سے اعراض کرتے ہیں۔ )
بگاڑ کی انتہا
اللہ تعالیٰ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کے دین سے روگردانی ان کی اس حد تک طبیعتِ ثانیہ بن چکی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کی آیات میں سے کوئی آیت بھی ان کی نصیحت کے لیے پڑھی جائے یا اس کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی انہیں متنبہ کرنے کے لیے آجائے تو یہ بجائے اس کی طرف التفات کرنے کے اس سے اعراض کرتے ہیں۔ نہ آثار کائنات کی کوئی بات ان پر اثرانداز ہوتی ہے، نہ کوئی معجزہ اپنا اثر چھوڑتا ہے اور نہ تاریخی شواہد ہی انہیں متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ ہَوائے نفس کے اتباع نے انہیں بالکل پتھر میں تبدیل کردیا ہے۔
Ayah 36:47وَاِذَا قِیْلَ لَہُمْ اَنْفِقُوْا مِمَّا رَزَقَـکُمُ اللّٰہُ لا قَالَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنُطْعِمُ مَنْ لَّوْیَشَآئُ اللّٰہُ اَطْعَمَہٗٓ صلے ق اِنْ اَنْـتُمْ اِلاَّ فِیْ ضَلٰـلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (یٰسٓ: 47)
(اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو، جن لوگوں نے کفر کیا ہے وہ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ کیا ہم ان لوگوں کو کھلائیں جنھیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلا دیتا، تم تو بالکل ایک صریح گمراہی میں پڑگئے ہو۔ )
اخلاقی کج روی اور بےحسی
گزشتہ آیات میں ان کے اعراض کے حوالے سے ان کی سنگدلی کو نمایاں کیا گیا کہ کوئی تذکیر ان پر اثرانداز نہیں ہوتی اور کوئی نصیحت ان پر کارگر نہیں ہوتی۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ وہ قبولیتِ حق کی استعداد سے تو محروم ہوئے ہی تھے، اخلاقی بےحسی کی بھی انتہا کو پہنچ گئے ہیں۔ اہل عرب اپنی تمام تر گمراہیوں کے باوجود غریب پروری اور مہمان نوازی کو ایک بہت بڑی نیکی سمجھتے تھے۔ لیکن قرآن کریم کے مخالفین کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے معروفات اور اپنی معاشرتی خوبیوں سے بھی تہی دامن ہوگئے ہیں۔ جب ان سے کہا جاتا کہ تمہیں اپنی دولت و ثروت پر بڑا ناز ہے تو پھر اپنی دولت سے کچھ حصہ نکالو اور ان لوگوں پر صرف کرو جو نان شبینہ تک کے محتاج ہیں۔ تو حیرت کی بات ہے کہ وہ یہ جواب دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی نے ہمیں دولت دی ہے اور اللہ تعالیٰ ہی نے انہیں نادار رکھا ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو انہیں بھی کھانے پینے کے وافر اسباب فراہم کردیتا۔ اللہ تعالیٰ کا انہیں محروم رکھنا اس بات کی دلیل ہے کہ وہ انہیں کھلانا پلانا نہیں چاہتا، بلکہ ان کی محرومی ہی اس کی مشیت کا تقاضا ہے۔ تو ہم اس کی مشیت کی خلاف ورزی کرنے والے کون ہوتے ہیں۔ اگر وہ انہیں فاقوں میں دیکھ کر خوش ہوتا ہے تو ہم ان کو کیسے کھلا پلا سکتے ہیں۔ اور اگر ہم اس کی مشیت کے خلاف کریں گے تو یہ اسے ناراض کرنے کے مترادف ہوگا اور ہم اسے ناراض کرنے کا حوصلہ نہیں رکھتے۔ اندازہ کیجیے کہ انسانی عقل کیسی عیار ہے جب بگڑتی ہے تو بگاڑ کے کیسے کیسے دلائل ایجاد کرتی ہے۔ ایک عام آدمی بھی سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی کو رزق خود ہاتھ بڑھا کر نہیں دیتا بلکہ اس کے مختلف اسباب ہیں جن کے ذریعے وہ رزق فراہم کرتا ہے۔ انہیں میں سے ایک ذریعہ اور سبب یہ بھی ہے کہ امراء کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ غرباء کو ان کا حق دیں۔ لیکن جب دولت مند لوگ یہ حق ادا کرنے کی بجائے دولت پر قبضہ کرکے بیٹھ جاتے ہیں تو غرباء کی غربت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اور یہ بات اتنی واضح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس پر کسی تبصرے کی ضرورت محسوس نہیں فرمائی۔ مقصود صرف ان کی شقاوت اور بدبختی اور قساوت اور سفاہت کو نمایاں کرنا ہے۔
Ayahs 36:48–50وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْـتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ مَا یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ صَیْحَۃً وَّاحِدَۃً تَاْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُوْنَ ۔ فَلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ تَوْصِیَۃً وَّلَآ اِلٰٓی اَھْلِھِمْ یَرْجِعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 48 تا 50)
(اور وہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ یہ قیامت کی دھمکی کب پوری ہوگی، اگر تم لوگ سچے ہو۔ یہ لوگ بس ایک ڈانٹ ہی کے منتظر ہیں جو انہیں آپکڑے گی اس حال میں کہ وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔ پس نہ تو وہ کوئی وصیت کرسکیں گے اور نہ اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹ سکیں گے۔ )
الْوَعْدُ سے مراد
ہم نے ترجمے میں اگرچہ الْوَعْدُ سے قیامت مراد لی ہے لیکن اس سے مراد عذاب بھی لیا جاسکتا ہے۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ مخالفین کو دونوں کے حوالے سے ڈراتے تھے کہ اگر تم ایمان نہ لائے اور تمہاری سرکشی بڑھتی چلی گئی تو ممکن ہے کہ تم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجائے۔ ورنہ جہاں تک قیامت کا تعلق ہے وہ تو اپنے وقت پر آئے گی لیکن اس وقت تم ایمان سے تہی دامن ہونے کی وجہ سے جواب دہی میں کچھ کہہ نہیں پائو گے۔ اب اگر یہاں الْوَعْدُسے عذاب ہی مراد لیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم کی حیرت انگیز آیات اور نہایت موثر دلائل سننے کے باوجود وہ ہمیشہ عذاب کا مطالبہ کرتے ہیں کہ جب تک ہم اپنی آنکھوں سے عذاب کو دیکھ نہیں لیتے اس وقت تک ہم اس کی خبر دینے والے کو سچا ماننے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ ایک معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ اگر تمہیں عذاب دکھا بھی دیا جائے تو تمہیں اس سے کیا فائدہ ہوگا۔ کیونکہ عذاب کے آنے کے بعد نہ تو ایمان کی قبولیت کا اعتبار رہتا ہے اور نہ عذاب کا شکار ہونے والے اس قابل رہتے ہیں کہ وہ ایمان قبول کرسکیں۔
اگر اس سے مراد قیامت لی جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ اور مخالفین کے درمیان جس طرح توحید کے حوالے سے دلائل کی جنگ جاری رہتی تھی اسی طرح آخرت بھی ایک نزاعی صورت اختیار کرچکی تھی۔ یہاں ان کی طرف سے قیامت کے مطالبے پر کسی دلیل کا ذکر کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا کیونکہ متعدد مواقع پر وقوع قیامت پر ایک سے ایک بڑھ کر دلائل دیے جا چکے تھے۔ لیکن وہ بار بار کج بحثی کا ثبوت دیتے تھے۔ اس لیے یہاں وقوع قیامت کا ایک منظر پیش کردیا گیا ہے تاکہ ان کے دلوں میں اگر کچھ بھی قبولیت کی رمق باقی ہے تو اسے تحریک ہوسکے۔ انہیں اندازہ ہی نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا عذاب آئے یا قیامت وہ ایک ایسا دھماکا یا ایک ایسی ڈانٹ ہوگی کہ انسان جس حال میں بھی ہوگا اسے دھر لیا جائے گا۔ لوگ اپنے معاملات میں جھگڑ رہے ہوں گے یا حق کے مقابلے میں ہنگامہ کررہے ہوں گے کہ پکڑ لیے جائیں گے۔ اب انہیں اتنی مہلت بھی نہیں ملے گی کہ وہ کسی کو وصیت کرسکیں اور وہ اپنے اہل خانہ کی طرف پلٹنا چاہیں گے لیکن اس کا موقع بھی نہیں ہوگا۔ اس سے پہلے کہ انھیں اس طرح اچانک پکڑ لیا جائے انہیں چاہیے کہ وہ زندگی سے فائدہ اٹھائیں اور آخرت کی تیاری کریں۔
Ayah 36:51وَنُفِخَ فِی الصُّوْرِ فَاِذَا ھُمْ مِّنَ الْاَجْدَاثِ اِلٰی رَبِّھِمْ یَنْسِلُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 51)
(اور صور پھونکا جائے گا تو وہ اچانک قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف چل پڑیں گے۔ )
نفخہ ثانیہ کے بعد کی کیفیت
پیشِ نظر آیت کریمہ میں آخری نفخہکا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ اس سے پہلے ہر چیز تباہ و برباد ہوچکی ہوگی، ہر طرف زندگی کے آثار ختم ہو کر موت کا سناٹا ہوگا۔ پھر اچانک صور پھونکا جائے گا اور جہاں کہیں کوئی شخص دفن ہوا تھا یا موت کا شکار ہوا تھا اسے وہیں سے اٹھایا جائے گا اور وہ اٹھتے ہی میدانِ حشر میں اپنے رب کے سامنے حاضری کے لیے بےساختہ چل پڑے گا۔