36. Surah Yaseen

يسYaseen · 83 ayahsروح القرآن

Ayahs 36:74–75

وَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ اٰلِهَةً لَّعَلَّهُمْ یُنْصَرُوْنَؕ Open ayah 36:74 in the Quran reader

اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی

لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَهُمْ١ۙ وَ هُمْ لَهُمْ جُنْدٌ مُّحْضَرُوْنَ Open ayah 36:75 in the Quran reader

وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے بلکہ وہ ان کی حاضر کی ہوئی فوج بنیں گے

وَاتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اٰلِھَۃً لَّعَلَّہُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ لاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَھُمْ لا وَھُمْ لَہُمْ جُنْدٌمُّحْضَرُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 74، 75) (اور انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سوا دوسرے معبود بنا لیے ہیں اس امید پر کہ ان کی مدد کی جائے گی۔ وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکیں گے بلکہ وہ ان کی حاضر کی ہوئی فوج بنیں گے۔ ) مخالفین کے دلوں کی سنگینی مخالفین کے دلوں کی سختی اور قبولیتِ حق سے اعراض کی انتہا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ربوبیت کا جس طرح ذکر فرمایا اور انسانوں پر کی جانے والی بیشمار نعمتوں کا حوالہ دے کر انہیں اپنے شکر کی طرف توجہ دلائی۔ اس کا نتیجہ تو یہ ہونا چاہیے تھا کہ وہ حق کی طرف لپکتے اور اپنی سرکشی اور تمرد کو ختم کرکے اللہ تعالیٰ کے عاجز بندے بن جاتے۔ بصورتِ دیگر وہ اپنے انجام سے ڈرتے اور ان پر سراسیمگی کی کیفیت طاری ہوجاتی۔ لیکن ان کا حال یہ ہے کہ ان تمام باتوں سے اثر قبول کرنے کی بجائے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں کچھ معبود بنا لیے ہیں اور یہ اعتقاد رکھتے ہیں کہ اگر بالفرض قیامت آہی گئی اور جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا پڑا تو یہ ہمارے معبود ہمیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے بچا لیں گے۔ پروردگار ان کی غلط فہمی کو دور کرنے کے لیے فرما رہا ہے کہ نادانو ! وہ تمہاری کیا مدد کریں گے، وہ اس قابل کہاں کہ تمہاری مدد کو پہنچیں۔ البتہ جب تم سے تمہاری ان مشرکانہ زندگی کے بارے میں جواب طلب کیا جائے گا تو یہی تمہارے معبود تمہارے خلاف اس لشکر میں حاضر ہوں گے جو تمہارے خلاف گواہی دے گا۔ یا اس کا مطلب یہ ہے کہ جب یہ مجرموں کی صف میں کھڑے ہوں گے تو جن قوتوں کو انھوں نے اپنا معبود بنا رکھا تھا انہیں بھی ان کے ساتھ کھڑا کیا جائے گا۔ کیونکہ دنیا میں یہ جھوٹے معبود اپنے نام نہاد پرستاروں کی پرستش ہی سے اپنے وجود اور بقا کے ضامن تھے۔ اگر یہ لوگ ان کا پر اپیگنڈا نہ کرتے اور خلق خدا کو ان کا گرویدہ نہ بناتے تو کوئی انہیں پوجنے والا نہ ہوتا۔ اس لیے یہ ان کے لشکر کے طور پر ان کے ساتھ پکڑے جائیں گے۔
Ayah 36:76

فَلَا یَحْزُنْكَ قَوْلُهُمْ١ۘ اِنَّا نَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَ مَا یُعْلِنُوْنَ Open ayah 36:76 in the Quran reader

پس آپ کو غمگین نہ کرے ان کی کوئی بات، ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں

فَلاَ یَحْزُنْـکَ قَوْلُھُمْ م اِنَّا نَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 76) (پس آپ کو غمگین نہ کرے ان کی کوئی بات، ہم جانتے ہیں جو کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں۔ ) آنحضرت ﷺ کو تسلی اس آیت میں آنحضرت ﷺ کو تسلی دی گئی ہے۔ کیونکہ حق و باطل کی کشمکش میں مخالفین کی طرف سے اٹھتا ہوا طوفانِ مخاصمت جس میں استہزا، اتّہامات، اعتراضات اور خرافات کے بیشمار بگولے ذات رسالت مآب ﷺ کی طرف بڑھ رہے ہیں تو اس کا طبیعت پر اثر ہونا ایک فطری بات ہے۔ بالخصوص اس بات کا اندازہ کرکے کہ میں اللہ تعالیٰ کا آخری رسول ہوں اور مجھے ایک ایسا کامیاب انقلاب برپا کرنا ہے جس سے نوع انسانی کی ہدایت کے امکانات پیدا ہوسکتے ہیں۔ لیکن یہاں حال یہ ہے کہ مخالفت میں اضافہ ہوتا جارہا ہے، کسی کا ایمان لانا جان پر کھیلنے کے مترادف ہوگیا ہے۔ ایسی صورتحال میں وہ تبدیلی کیسے آئے گی جس کی آرزو میں میں شب و روز محنت کر رہا ہوں۔ اس پر تسلی دیتے ہوئے فرمایا گیا کہ یہ لوگ آپ کی مخالفت میں جو کچھ بھی کہہ رہے ہیں آپ اس کا ہرگز اثر قبول نہ کریں۔ کیونکہ اولاً تو الزامات لگانے والے بھی جانتے ہیں کہ ان کے الزامات کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ وہ جب تنہائی میں آپس میں بیٹھتے ہیں تو آنحضرت کی صداقت کا اعتراف کرتے ہیں لیکن دشمنی انہیں تسلیم کرنے سے روکتی ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ ان کا مقابلہ صرف آپ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ سے ہے۔ وہ آپ کے خلاف چاہے کیسی بھی صورتحال پیدا کردیں لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کو وہ کبھی چیلنج نہیں کرسکتے۔ ان کی خفیہ اور علانیہ ہر طرح کی کاوشوں کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ جس طرح اس کا علم لامحدود ہے اسی طرح اس کی قدرت اور حکومت بھی ہر طرح کی حدود سے ماورا ہے۔ وہ جس طرح ہر بات کو جانتا ہے اسی طرح ہر بات کا تدارک کرنے کی بھی قوت رکھتا ہے۔ تو جب ان کی ہر تدبیر اور ہر سازش کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے اور آپ اسی کے کام میں شب و روز لگے ہوئے ہیں اور دشمن اسی کام کی وجہ سے آپ کے ساتھ دشمنی کررہا ہے تو پھر آپ کے پریشان ہونے کی کوئی وجہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ خود اس کا انتظام فرمائیں گے بس آپ اس پر بھروسا رکھیں وہ دشمنوں سے نمٹنے کے لیے تنہا کافی ہے۔
Ayahs 36:77–78

اَوَ لَمْ یَرَ الْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰهُ مِنْ نُّطْفَةٍ فَاِذَا هُوَ خَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ Open ayah 36:77 in the Quran reader

کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو پھر وہ ایک کھلا ہوا جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا

وَ ضَرَبَ لَنَا مَثَلًا وَّ نَسِیَ خَلْقَهٗ١ؕ قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَ هِیَ رَمِیْمٌ Open ayah 36:78 in the Quran reader

اور اس نے ہم پر ایک پھبتی چست کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہتا ہے کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہوجائیں گی

اَوَلَمْ یَرَالْاِنْسَانُ اَنَّا خَلَقْنٰـہُ مِنْ نُّطْفَۃٍ فَاِذَا ھُوَخَصِیْمٌ مُّبِیْنٌ۔ وَضَرَبَ لَنَا مَثَلاً وَّ نَسِیَ خَلْقَـہٗ ط قَالَ مَنْ یُّحْیِ الْعِظَامَ وَھِیَ رَمِیْمٌ۔ (یٰسٓ: 77، 78) (کیا انسان دیکھتا نہیں کہ ہم نے اس کو پانی کی ایک بوند سے پیدا کیا تو پھر وہ ایک کھلا ہوا جھگڑالو بن کر کھڑا ہوگیا۔ اور اس نے ہم پر ایک پھبتی چست کی اور اپنی پیدائش کو بھول گیا، کہتا ہے کون ان ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ وہ بوسیدہ ہوجائیں گی۔ ) مخالفین کو اوقات یاد دلائی گئی ہے تسلی کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ قریش اور دوسرے لوگ آپ کی مخالفت میں جو کچھ کہہ رہے ہیں اس سے آپ کو دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ جب کوئی انسان یا کوئی معاشرہ اخلاق کی حدود کو پامال کردیتا ہے اور ہدایت کی ہر بات سے منہ موڑ لیتا ہے تو ایسے معاشرے سے بڑی سے بڑی بات کا صدور بھی قابل تعجب نہیں ہوتا۔ ان لوگوں کا حال یہ ہوگیا ہے کہ یہ اللہ کریم پر بھی پھبتیاں کسنے کی جسارت سے باز نہیں آتے۔ حالانکہ ان کی اپنی حیثیت یہ ہے کہ ان کا ہر چھوٹا بڑا آدمی گندے پانی کی ایک بوند سے پیدا ہوا، پھر ماں کے پیٹ میں بھی اسے خون سے غذا دی جاتی رہی ہے، پھر وہ پیدا ہوا تو ایک مضغہ گوشت کے سوا کچھ نہ تھا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے احسانات نے جیسے جیسے اس کو گراں بار کیا ویسے ویسے وہ اللہ تعالیٰ کا کھلم کھلا دشمن بنتا چلا گیا۔ اور دشمن بھی ایسا جس کی زبان کو کوئی روک نہیں۔ کسی عظمت کا خوف کسی بڑائی کا احساس اسے بڑی سے بڑی بات کہنے سے نہیں روکتا۔ اور ان ہی میں سے بعض لوگوں کی جرأت کا عالم یہ ہے کہ وہ اللہ کریم کے بارے میں ایسی باتیں کہتے ہیں جس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ انہیں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور طاقت میں بھی شبہ ہے۔ وہ قیامت کے وقوع کو اس لیے خلاف عقل سمجھتے ہیں کہ اتنی بڑی تبدیلی اور اتنی بڑی تباہی اللہ تعالیٰ کی قدرت سے بہت بڑی چیز ہے۔ ابن عباس ( رض) ، قتادہ ( رض) اور سعید بن جبیر ( رض) کی روایات سے ان لوگوں کے ہذیان اور جسارتوں کا اندازہ ہوتا ہے جن میں یہ واقعہ بھی بیان کیا گیا ہے کہ کفار مکہ کے سرداروں میں سے ایک شخص قبرستان سے کسی مردے کی ایک بوسیدہ ہڈی لیے ہوئے آگیا اور اس نے نبی کریم ﷺ کے سامنے اسے توڑ کر اور اس کے منتشر اجزاء ہوا میں اڑا کر آپ سے کہا : اے محمد ! ﷺ تم کہتے ہو کہ مردے پھر زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔ بتائو ان بوسیدہ ہڈیوں کو کون زندہ کرے گا ؟ اس سے آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ اگر کسی شخص کے دل میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ادنیٰ تصور بھی موجود ہو تو وہ کسی ایسی بےہودہ بات کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ چناچہ اگلی آیت کریمہ میں اسی بات کا جواب دیا گیا ہے۔
Ayah 36:79

قُلْ یُحْیِیْهَا الَّذِیْۤ اَنْشَاَهَاۤ اَوَّلَ مَرَّةٍ١ؕ وَ هُوَ بِكُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُۙ Open ayah 36:79 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کہہ دیجیے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے

قُلْ یُحْیِیْھَا الَّذِیْٓ اَنْشَاَھَـآ اَوَّلَ مَرَّۃٍ ط وَھُوَ بِکُلِّ خَلْقٍ عَلِیْمُ نِ ۔ (یٰسٓ: 79) (اے پیغمبر کہہ دیجیے ان کو وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا اور وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے۔ ) مخالفین کے اعتراض کا جواب آخرت میں ازسرنو زندگی پر کفار کا اعتراض دو وجہ سے تھا۔ ایک وجہ تو یہ تھی کہ ہزاروں سال میں فنا کے گھاٹ اتر جانے والی مخلوق جن کا ریشہ ریشہ اور ذرہ ذرہ ہوا میں اڑ چکا ہے اور جن کے جسم کا کوئی حصہ محفوظ نہیں، آخر انہیں دوبارہ زندہ کیسے کیا جائے گا ؟ اور دوسری وجہ یہ تھی کہ کوئی شخص کہاں مرا، کہاں اس کی قبر بنی اور اس کی لاش مٹی ہو کر کہاں کہاں پھیل گئی اور مٹی کے ذرات اڑ کر کہاں کہاں پہنچے ؟ اس پوری تفصیل کو ایک فرد کے حوالے سے آخر کون جان سکتا ہے اور مزید کہ اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ کہی جاتی ہے کہ ہر شخص کا نامہ ٔ عمل اس کے ہاتھوں میں دیا جائے گا گویا ان کی زندگی بھر کے اعمال کا ریکارڈ محفوظ ہوگا جو اس کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا۔ اندازہ کیجیے کیا ایسی بات کو عقل تسلیم کرسکتی ہے۔ قرآن کریم نے ان دونوں باتوں کا اس آیت کریمہ میں جواب دیا۔ پہلی بات کے جواب میں فرمایا کہ تمہیں انسانوں کے ازسرنو پیدا ہونے یعنی دوبارہ اٹھائے جانے پر اعتراض ہے۔ سوال یہ ہے کہ جس ذات بابرکات نے پہلی دفعہ انسانوں اور دیگر مخلوقات کو پیدا کیا تو یہ تخلیق کا عمل اگر ہم اپنی آنکھوں سے نہ دیکھتے تو یقینا کوئی بھی ہزاروں سال میں پیدا ہونے والی مخلوقات کے بارے میں یقین نہیں کرسکتا تھا کہ کوئی ذات اتنا بڑا کام بھی انجام دے سکتی ہے۔ لیکن اب جبکہ کائنات اپنی وسعتوں سمیت ہمارے سامنے ہے اور انسانی زندگی کے مظاہر بھی ہمارے سامنے ہیں تو ہمیں اس کے تسلیم کرنے میں کوئی تأمل نہیں۔ لیکن یہ کس قدر عجیب بات ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے تخلیقی عمل پر تو کسی شبے کا اظہار نہیں کرتے لیکن اسی تخلیقی قوت سے دوبارہ کام لینے پر ہمیں عقلی استبعاد آپکڑتا ہے۔ آخر یہ کیسی منطق ہے کہ جو کام پروردگارِعالم ایک دفعہ کرچکے ہیں اور ہزاروں سال سے وہ کام جاری ہے آخر اسے دوبارہ کیوں نہیں کرسکتے۔ دوسری بات کا جواب یہ دیا ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپناہ ہے اسی طرح اس کا علم بھی حدود سے ماورا ہے۔ نہ اس کی تخلیقی قوت کے سامنے کوئی رکاوٹ حائل ہوسکتی ہے اور نہ اس کے علم کے لیے کوئی چیز روک بن سکتی ہے۔ جس طرح وہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے اسی طرح وہ ہر چیز کو جاننے والا بھی ہے۔ اسے خوب معلوم ہے کہ انسانی وجود کے ذرات کہاں کہاں بکھرے ہوئے ہیں۔ اور وہ یہ بھی جانتا ہے کہ زمین کیا کمی کرتی رہی ہے اور کیا اضافہ کرتی رہی ہے۔ جن چیزوں کی حفاظت بلکہ تصور بھی انسانی علم کے لیے ناممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے علمی کمال کے سامنے بہت معمولی حیثیت رکھتا ہے۔ سورة ق میں ارشاد فرمایا گیا ہے : قَدْعَلِمْنَا مَاتَنْقُصُ الْاَرْضُ مِنْھُمْ وَعِنْدَنَا کِتٰبٌ حَفِیْظٌ ” زمین ان کے اندر سے جو کچھ کم کرتی ہے ہم اس کو جانتے ہیں اور ہمارے پاس سارا ریکارڈ رکھنے والی ایک کتاب ہے۔ “ اسی طرح پروردگار عالم یہ بھی جانتے ہیں کہ انسان نے کیا کارنامے انجام دیے ہیں، کن اعمال کا ارتکاب کیا ہے، کہاں کہاں اس کی آمدورفت رہی ہے، کس کس سے تعلق رہا ہے اور کہاں کہاں اس کے معاملات کی دنیا پھیلی ہوئی ہے ؟ کیونکہ وہ ہر مخلوق کو جاننے والا ہے اور انسانوں کے اعمال بھی اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے باہر نہیں۔
Ayah 36:80

اِ۟لَّذِیْ جَعَلَ لَكُمْ مِّنَ الشَّجَرِ الْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَاۤ اَنْتُمْ مِّنْهُ تُوْقِدُوْنَ Open ayah 36:80 in the Quran reader

وہی ہے جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے آگ جلا لیتے ہو

الَّذِیْ جَعَلَ لَـکُمْ مِّنَ الشَّجَرِالْاَخْضَرِ نَارًا فَاِذَٓا اَنْـتُمْ مِّنْہُ تُوْقِدُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 80) (وہی ہے جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے آگ جلا لیتے ہو۔ ) ضد سے ضد کا ظہور تمہیں اس بات میں استبعاد نظر آتا ہے کہ موت سے زندگی کیسے نکل سکتی ہے، ضد سے ضد کا ظہور کیسے ہوسکتا ہے، خزاں سے بہار کیسے پھوٹ سکتی ہے۔ اسی لیے تمہیں انسانوں کا دوبارہ جی اٹھنا بعیدازعقل معلوم ہوتا ہے۔ حالانکہ ضد سے ضد کا ظہور تمہارے اپنے مشاہدات کا حصہ ہے۔ کیا آج کی دنیا میں پانی سے بجلی پیدا نہیں کی جاتی، کوئلے سے سفید دھاگا نہیں نکالا جاتا۔ چلیے اسے تو آپ مشینوں کا عمل سمجھ لیجیے لیکن قرآن کریم نے ایک ایسی مثال دی ہے جو نزول قرآن کے وقت انسانی تجربے کا حصہ تھی۔ پہاڑوں اور صحرا میں رہنے والے بدو اور صحرائوں کے مسافردو ہرے بھرے درختوں کی ٹہنیوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر آگ نکالتے تھے یعنی ان سے چقماق کا کام لیتے تھے۔ جب ان ٹہنیوں کو آپس میں ٹکرایا جاتا تھا تو ان سے آگ کے شعلے جھڑنے لگتے تھے اور یہ کوئی افسانہ نہیں، یہ دو درخت ” مرخ “ اور ” عقار “ کے نام سے صحرائوں اور پہاڑوں میں پائے جاتے تھے۔ اور دورجاہلیت کے ادب میں اس کا عام تذکرہ موجود تھا۔ الکامل للمبرد میں مختلف اشعار میں اس کا ذکر پایا جاتا ہے۔ اور حماسی شاعر بھی اس سے بیخبر نہ تھے۔ اگر ان دو درختوں کی سرسبز ٹہنیوں سے آگ کے شعلے جھڑ سکتے ہیں اور یہ بھی یقینا اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہے تو اللہ تعالیٰ اپنی قدرت کاملہ سے انسانوں کو دوبارہ زندہ کیوں نہیں کرسکتا۔
Ayah 36:81

اَوَ لَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤى اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَهُمْ١ؐؕ بَلٰى١ۗ وَ هُوَ الْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ Open ayah 36:81 in the Quran reader

کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان کی جیسی مخلوق پیدا کردے، کیوں نہیں، اور وہی اصل پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے

اَوَلَیْسَ الَّذِیْ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓی اَنْ یَّخْلُقَ مِثْلَھُمْ ط ص بَلٰی ق وَھُوَالْخَلّٰقُ الْعَلِیْمُ ۔ (یٰسٓ: 81) (کیا وہ ذات جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اس بات پر قادر نہیں کہ وہ ان کی جیسی مخلوق پیدا کردے، کیوں نہیں، اور وہی اصل پیدا کرنے والا اور جاننے والا ہے۔ ) مسلَّمات سے دلیل سابقہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے سوالیہ انداز میں فرمایا اور اس سوال کی بنیاد مشرکین کے مزعومات اور مسلَّمات پر رکھی۔ کیونکہ مشرکین اس بات کو تسلیم کرتے تھے کہ زمین اور آسمانوں کا پیدا کرنے والا بلکہ تمام کائنات کا خالق اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اور اس کے سوا کسی میں یہ قدرت نہیں کہ وہ کائنات کی تخلیق کرسکے۔ چناچہ ان کے اس اعتقاد کو سوال کی صورت دیتے ہوئے فرمایا کہ کیا وہ ذات جس کے بارے میں تمہیں اعتراف ہے کہ وہ زمین اور آسمانوں کا خالق ہے اور کائنات کی ہر چیز اسی کی تخلیق سے وجود میں آئی ہے تو کیا وہ زمین اور آسمانوں اور کائنات کو بنانے کے بعد صفت تخلیق سے محروم ہوگیا یا وہ مسلسل تخلیق کے عمل سے تھک گیا اور تنگ آگیا ہے جبکہ کائنات پر غور و فکر کرنے والے اس بات کے داعی ہیں : یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید کہ آرہی ہے دما دم صدائے کن فیکون اگر اس کی صفت تخلیق ویسے ہی تروتازہ، شگفتہ اور شاداب ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ زمین و آسمان کو تباہ کرنے کے بعد دوبارہ پیدا نہ کرسکے جبکہ کسی چیز کو پہلی دفعہ وجود دینا دوسری دفعہ کے وجود دینے سے مشکل ہوتا ہے۔ لیکن جب ایک چیز کامیابی سے تخلیق کے مراحل سے گزر جاتی ہے تو پھر اس کا اعادہ کرنا مشکل نہیں ہوتا۔ لیکن قیامت کے منکرین کا عجیب حال ہے کہ وہ کائنات کی ایک ایک چیز کا خالق اللہ تعالیٰ کو جانتے ہیں لیکن قیامت کی صورت میں تمام کائنات کی تباہی اور پھر ازسرنو زندگی بپا ہونے کو مستبعد از عقل سمجھتے ہیں جبکہ اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کا عالم یہ ہے کہ وہ صرف خالق ہی نہیں بلکہ خلّاق ہے۔ نہ اس کی تخلیقی قوت میں پہلے کوئی کمی تھی اور نہ اب ہے، اور نہ کبھی ہوسکتی ہے۔ اسی طرح مخلوقات کی تباہی کے بعد وہ خوب جانتا ہے کہ کوئی شخص کس سرزمین میں مرا، اس کے اجزاء کہاں بکھر گئے، اور اس کے ذرات ہوا کے دوش پر کہاں کہاں پہنچے۔ کیونکہ وہ خلّاق ہونے کے ساتھ ساتھ علیم بھی ہے اور علیم میں بھی خلّاق کی طرح مبالغے کے ساتھ ساتھ استمرار اور دوام بھی پایا جاتا ہے۔
Ayah 36:82

اِنَّمَاۤ اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَیَكُوْنُ Open ayah 36:82 in the Quran reader

بلاشبہ اس کا معاملہ بس یہ ہے کہ جب وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے حکم دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے

اِنَّمَآ اَمْرُہٗٓ اِذَٓا اَرَادَ شَیْئًا اَنْ یَّـقُوْلَ لَـہٗ کُنْ فَیَکُوْنُ ۔ (یٰسٓ: 82) (بلاشبہ اس کا معاملہ بس یہ ہے کہ جب وہ کسی بات کا ارادہ کرتا ہے تو وہ اسے حکم دیتا ہے کہ ہوجا، تو وہ ہوجاتی ہے۔ ) مخالفین کی ایک غلط فہمی کا ازالہ قیامت کو مشرکین کے بعیدازعقل سمجھنے کا ایک سبب یہ بھی تھا کہ انہیں اس بات کا ادراک نہیں ہورہا تھا کہ اتنی وسیع کائنات کا اچانک ٹوٹ جانا اور پھر ازسرنو وجود میں آجانا اور پھر ہر شخص کو نئی زندگی کا مل جانا اور سب کا محشر میں پہنچ کر اپنے ایک ایک عمل کا جواب دینا، یہ کیسے ممکن ہے۔ اتنی بڑی تبدیلی اور اتنے وسائل کی فراہمی کیسے ممکن ہے۔ چناچہ ان کی کوتاہ فکری کا رد کرتے ہوئے پروردگار ارشاد فرما رہا ہے کہ قیامت کا برپا کرنا ہو یا کوئی اس سے بھی بڑا کام، اللہ تعالیٰ کو اس کے لیے کوئی تیاری نہیں کرنا پڑتی۔ مشرکین چونکہ اس کی قدرتوں اور اس کی صفات کو اپنے امکانات اور اپنی صلاحیتوں پر قیاس کرتے ہیں اس لیے ان کو دشواری پیش آرہی ہے جبکہ حقیقت صرف اتنی ہے کہ اللہ تعالیٰ جب کسی کام کا ارادہ فرماتا ہے تو وہ اسے وقوع پذیر ہوجانے کا حکم دیتا ہے۔ اسے اس کے لیے نہ کہیں سرمایہ فراہم کرنا پڑتا ہے نہ مٹیریل ڈھونڈنا پڑتا ہے نہ اس کے لیے کسی خاص اہتمام کی ضرورت پڑتی ہے۔ بس وہ ایک حکم دیتا ہے اور ہر چیز حکم کے مطابق وجود میں آجاتی ہے یا اپنا وجود کھو دیتی ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ کائنات کی سب سے بڑی قدرت اور قوت کا نام اللہ تعالیٰ کا حکم ہے۔ رہی یہ بات کہ اس کا حکم اور اس کی تعمیل کی حقیقت کیا ہے، اس کا تعلق سراسر اللہ تعالیٰ کے علم سے ہے۔ ہمارے سامنے اس کے مظاہر ہیں کہ زمین اور آسمان اور ان میں بیشمار کُرّے اور بیشمار مخلوقات اور پھر ان کی زندگی، بقا کے امکانات اور ہر مخلوق کی زندگی کے لیے اسباب کی فراہمی یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ کے حکم سے وجود میں آرہا ہے اور ہم اپنی آنکھوں سے اسے دیکھ رہے ہیں۔ لیکن ان میں سے ہر چیز کے وجود اور اللہ تعالیٰ کے حکم کے درمیان جو نقطہ اتصال ہے اس سے ہم بیخبر ہیں۔ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے وسیع علم کا حصہ ہے۔ اور چونکہ قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ یہ متشابہات میں داخل ہے۔
Ayah 36:83

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِهٖ مَلَكُوْتُ كُلِّ شَیْءٍ وَّ اِلَیْهِ تُرْجَعُوْنَ۠ Open ayah 36:83 in the Quran reader

پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جائو گے

فَسُبْحٰنَ الَّذِیْ بِیَدِہٖ مَلَـکُوْتُ کُلِّ شَیْ ئٍ وَّاِلَیْہِ تُرْجَعُوْنَ ۔ (یٰسٓ: 83) (پس پاک ہے وہ ذات جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔ ) مشرکین کی اصل کمزوری کی نشان دہی سورة کی آخری آیت میں مشرکین کے مشرکانہ خیالات کا رد کرنے کے بعد ایک ایسی بات فرمائی گئی ہے جو درحقیقت مشرکین کی اصل کمزوری ہے۔ اگر وہ اس کمزوری سے نجات پالیں تو نہ وہ شرک میں مبتلا ہوسکتے ہیں اور نہ کبھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جسارت کرسکتے ہیں۔ وہ کمزوری یہ ہے کہ شرک جو اللہ کریم کی ذات وصفات میں کسی بھی نقص اور عیب کو تسلیم کرلینے کا دوسرا نام ہے۔ کیونکہ جس ذات کے بارے میں آدمی یہ یقین رکھتا ہو کہ اس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں اس کا علم ہر طرح کی نارسائی سے پاک ہے، اس کی کبریائی کے مقابلے میں کسی اور کبریائی کا تصور بھی ممکن نہیں۔ ایسا شخص نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی عبادت کرسکتا ہے نہ استمداد کے لیے ہاتھ پھیلا سکتا ہے نہ کسی کمزور لمحے میں کسی اور کو پکار سکتا ہے نہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی حاکمیت کو تسلیم کرسکتا ہے۔ یہ ساری خرابیاں اس شخص میں پیدا ہوتی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی ذات وصفات میں کمزوریوں، نقائص اور عیوب کو تسلیم نہ کرتے ہوئے بھی تسلیم کرتا ہے زبان سے اس کی برتری کا دعویٰ کرتا ہے لیکن عملی زندگی میں اس کی ذات وصفات میں مختلف قسم کی کمزوریوں کو محسوس کرتا ہے۔ اس لیے اصل بیماری کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ ہر طرح کے نقص اور عیب سے پاک ہے۔ کسی کمزوری کا تصور بھی اس کے ساتھ ممکن نہیں۔ ہر چیز کا اختیار و اقتدار اس کے ہاتھ میں ہے کسی اور کا اس میں کوئی ساجھا و نہیں۔ اس ذات کبریا کے سوا جس طرح کسی کو پوجا نہیں جاسکتا اسی طرح اس کے بنائے ہوئے آئین و قانون کی غیرمشروط اطاعت بھی نہیں کی جاسکتی۔ وہ چونکہ ہر طرح کے اختیار و اقتدار کا مالک ہے اس لیے اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ یہ یقین رکھا جائے : کہ ہے ذات واحد عبادت کے لائق زباں اور دل کی شہادت کے لائق اسی کے ہیں فرماں اطاعت کے لائق اسی کی ہے سرکار خدمت کے لائق لگائو تو لَو اپنی اس سے لگائو جھکائو تو سر اس کے آگے جھکائو اسی پر ہمیشہ بھروسا کرو تم اسی کے سدا عشق کا دم بھرو تم اسی کے غضب سے ڈرو، گر ڈرو تم اسی کی طلب میں مرو، جب مرو تم مبرا ہے شرکت سے اس کی خدائی نہیں اس کے آگے کسی کو بڑائی یہ اس لیے بھی ضروری ہے کہ تم سب اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے۔ اس وقت تم یہ گونجتی ہوئی آواز سنو گے لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ ، لِلّٰہِ الْوَاحِدِالْقَہَّارِ ” بتائو آج کس کی حکومت ہے، پھر خود ہی جواب دیا جائے گا ایک اللہ کی جو قہار ہے۔ “ تب ان لوگوں کے پائوں تلے سے زمین نکل جائے گی جو اپنی زندگیوں میں نجانے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اور کس کس کو دخیل اور موثر مانتے تھے۔