Ayah 42:38وَالَّذِیْنَ اسْتَجَابُوْا لِرَبِّھِمْ وَاَقَامُوا الصَّلٰوۃَ ص وَاَمْرُھُمْ شُوْرٰی بَیْنَـھُمْ ص وَمِمَّا رَزَقْنٰـھُمْ یُنْفِقُوْنَ ۔ (الشوری : 38)
(اور وہ لوگ اپنے رب کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے ان کو رزق بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ )
اصحابِ ایمان کی چند مزاجی خصوصیات
گزشتہ آیت کریمہ میں مشرکینِ مکہ پر عموماً اور اشرارِ قریش پر خصوصاً تنقید کرتے ہوئے ان کے بعض اخلاقی امراض کی نشاندہی فرمائی تھی جس نے ان کے سیرت و کردار اور فکری دنیا کو بالکل تہہ وبالا کرکے رکھ دیا تھا۔ پھر اس کے فوراً بعد ان لوگوں کا ذکر شروع کردیا گیا ہے جو نبی کریم ﷺ کے ہاتھ پر ایمان لائے، ان کی فکری اور عملی رہنمائی کو قبول کیا اور اس کے نتیجہ میں جس طرح ان کی زندگی میں انقلاب آیا اس کے چند بنیادی اوصاف کا ذکر فرمایا گیا ہے جس سے ایک تو تعرف الاشیاء باضدادھا کے قاعدے کے تحت قریش اور دیگر مخالفین کو اس انقلاب کو سمجھنے میں آسانی ہوسکے جس کے نتیجے میں ایسے اوصاف کے حامل لوگ تیار ہوتے ہیں جن کی مثال تاریخ میں بھی کم کم ملتی ہے۔ اور دوسری بات یہ واضح فرمائی ہے کہ آیت میں بیان کردہ بنیادی اوصاف درحقیقت ایسی بنیادیں ہیں جن پر مسلمان معاشرے کی پر شکوہ عمارت اٹھائی جاسکتی ہے۔ اور یا یوں کہہ لیجئے کہ وہ ایسا بیج ہے کہ جب انسانی طبیعتوں میں اسے اپنی جگہ بنانے کا موقع مل جاتا ہے تو اس سے اخلاقی اوصاف کا وہ چمن کھلتا ہے جس سے صرف افراد ہی نہیں بلکہ معاشرہ اور تمام معاشرتی ادارے وجود میں آتے ہیں۔ ان اوصاف میں سب سے پہلی چیز اللہ تعالیٰ پر ہر طرح کا توکل ہے جس کی تفصیل عرض کی جاچکی ہے۔ اور پھر انسانی طبیعت کا وہ رجحان ہے جس میں حق تلفی، ناانصافی اور ظلم کی نوعیت کی ہر خواہش دم توڑ جاتی ہے۔ اور سفلی جذبات اور نفسانی خواہشات اپنے محدود دائرے سے باہر نکلنے کی جسارت بھول جاتے ہیں۔ خودسری اور انانیت کا پرستار اللہ تعالیٰ کی بندگی اور آنحضرت ﷺ کے اتباع میں ایسا ڈھل جاتا ہے کہ وہی اس کا مزاج اور وہی اس کا چلن بن جاتا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ان بنیادی اوصاف سے خودبخود پیدا ہونے والے ان اوصاف کو ذکر فرمایا گیا ہے جس سے ایک مومن کی فکری دنیا کو جلا ملتی اور اخلاقی دنیا کی تعمیر مکمل ہوتی ہے۔ ان میں سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ ان کا مزاج اس طرح بن جاتا ہے کہ وہ اپنے رب کی پکار پر تحفظات کا شکار ہونے کی بجائے مکمل طور پر خودسپردگی کا انداز اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جب انھیں کسی ذمہ داری یا کسی معرکے کی طرف پکارتا ہے تو وہ لپکتے ہوئے عمل کی تصویر بن جاتے ہیں۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ﷺ انھیں کسی بات کا حکم دیتے یا کسی بات سے روکتے ہیں تو وہ بےتأمل اطاعت اور سرافگندگی کا پیکر بن جاتے ہیں۔ انھیں جس طرح اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے اور مناجات کرنے میں مزہ آتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ کے راستے میں میں سر کٹوانے میں بھی لذت محسوس کرتے ہیں۔ ان کی زندگی کی تمام خواہشات اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول میں ڈوب جاتی ہیں۔ اور ان کی تمام صلاحیتیں اعلائے کلمۃ الحق کے لیے وقف ہو کے رہ جاتی ہیں اور ان کی زندگی دوسرے بھائیوں کے لیے معاونت اور ایثار کا پیغام بن جاتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ نماز ان کی زندگی کا سب سے بڑا عنوان اور سب سے بڑی سعادت بن جاتی ہے۔ وہ صرف نماز پڑھتے نہیں بلکہ نماز کا اہتمام کرتے ہیں جس سے ان کے اندر جماعتی زندگی کا شعور پیدا ہوتا ہے۔ اور اجتماعیت ان کی انفرادیت کے لیے چیلنج بن جاتی ہے۔ وہ جب نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں تو وہ دنیا میں ہر بڑائی اور عظمت کے دعویداروں کو پس پشت ڈالتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اعلان کرتے ہیں۔ اسی کی معبودیت، اسی کی الوہیت اور اسی کی آقائی کو دل و دماغ پر حاوی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے غلام بن کر ہاتھ باندھ کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ اور ان کی صف بندی بنیانِ مرصوص بن کر ان کی اجتماعی قوت کا اظہار بن جاتی ہے۔ پھر وہ اجتماعیت کے سب سے بڑے مسئلے کو حل کرتے ہوئے اپنے اندر سے سب سے زیادہ علم وتقویٰ والے کو اپنی امامت کے لیے منتخب کرتے ہیں۔ اور نماز کے دوران اپنے طرزعمل سے یہ ثابت کرتے ہیں کہ کس طرح حدودالٰہی کے اندر رہتے ہوئے امام کی بےچون و چرا اطاعت کی جاتی ہے۔ اور کس طرح امام اس بات کا پابند ہے کہ لوگوں کو کسی ایسی بات کا حکم نہ دے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے کسی حکم کے خلاف ہو۔ پھر ان کی صفوں میں کامل یکسانیت کے ساتھ اس عزم کا اعلان کیا جاتا ہے کہ ہم اپنی اجتماعیت کو طبقات کی لعنت سے پاک کرتے ہیں اور ہماری برابری اور مساوات ہی ہماری شیرازہ بندی کی ضامن ہوگی۔ امام یوں تو آگے کھڑا ہوتا ہے لیکن اس کے پیچھے کھڑے ہونے والے ادنیٰ مقتدی کو یہ حق حاصل ہے کہ اگر وہ کوئی غلطی کرے تو وہ اس کو سب کے سامنے ٹوک دے اور اس طرح سے اجتماعیت کے سبق کو واشگاف طریقے سے دہرائے کہ امامت اور اقتدار ایک انتظامی ضرورت ہے۔ لیکن عزت نفس میں سب برابر ہیں۔ امام اور مقتدی دونوں اللہ تعالیٰ کی اطاعت میں بندھے ہوئے ہیں۔ دونوں میں سے کوئی بھی شریعت کی خلاف ورزی نہیں کرسکتا۔ اس طرح نماز کے ذریعے مسلمانوں کو نظم اجتماعی کی پوری شکل دکھا دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے صراحت سے اس بات کا ذکر فرمایا کہ اگر ہم مسلمانوں کو کہیں اقتدار دیتے ہیں تو وہ سب سے پہلے نماز کا اہتمام کرتے ہیں۔ کیونکہ نماز ہی انھیں اجتماعی زندگی کے آداب سے آگاہ کرتی ہیں۔ چناچہ نماز سے اجتماعی شعور اور اجتماعی زندگی کے آداب سے بہرہ ور کرنے کے بعد اجتماعی نظم کو درست طریقے سے چلانے کے لیے جو طریقہ سب سے زیادہ موثر اور سب سے زیادہ صحیح ہے اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ جو مسلمان ان صفات کے حامل ہوتے ہیں ان کے معاملات باہمی مشورے سے چلتے ہیں۔ یہاں اگرچہ امر کا لفظ استعمال ہوا ہے لیکن قرینہ دلالت کررہا ہے کہ اس سے مراد عام معاملہ نہیں بالکل جماعتی نظم مراد ہے۔ یعنی مسلمانوں کا جماعتی اور سیاسی نظم خودسری، انانیت، خاندانی برتری اور نسبی غرور پر مبنی نہیں بلکہ اہل ایمان کے باہمی مشورہ پر مبنی ہے۔ کیونکہ مشورہ کے بغیر اجتماعی نظم چلانا نہ صرف جاہلیت کا طریقہ ہے بلکہ ان صفات کے حاملین کی زندگی سے میل بھی نہیں کھاتا جن کا ذکر اوپر کی آیات میں کیا گیا ہے۔ مسلمانوں نے جس طرح امام اور خلیفہ کے انتخاب میں شورائیت کی روح کو بنیاد بنایا، اسی طرح نظم حکومت کے چلانے میں بھی ہر قدم پر شورائیت کو پیش نظر رکھا گیا ہے۔ اسی کے تحفظ کے لیے مسلمانوں کو اظہارِرائے کی پوری آزادی دی گئی۔ امربالمعروف اور نہی عن المنکر کو ہر مسلمان کا فرض قرار دیا گیا۔ بیت المال کو حکمران کا خزانہ بنانے کی بجائے اللہ تعالیٰ اور مسلمانوں کی امانت ٹھہرایا۔ اور حکمران کو ہر طرح کے صوابدیدی اختیارات سے محروم رکھا۔ اور اختیارات کے استعمال میں امام کو شرعی احکام کا پابند اسی طرح ٹھہرایا گیا جس طرح عام مسلمان کو شرعی احکام کا پابند بنایا۔ اور ریاست کے پالیسی معاملات طے کرتے ہوئے حکمران کو پابند کیا گیا کہ وہ اپنی شوریٰ کی رائے کا احترام کرے، اور ایسا کوئی فیصلہ نہ کرے جس میں مسلمانوں کی عام رائے کو نظرانداز کیا گیا ہو۔
مزید فرمایا کہ مسلمانوں میں جنم لینے والے اوصاف میں سے ایک اہم وصف انفاقِ مال بھی ہے۔ لیکن اس کے لیے ایک لازمی شرط یہ ٹھہرائی کہ انفاق کے لیے مال وہ ہونا چاہیے جسے یہاں اپنا رزق قرار دیا گیا ہے۔ اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ حرام اللہ تعالیٰ کا رزق نہیں، بلکہ رزق حلال ہی اللہ تعالیٰ کا رزق ہے جو جائز طریقے سے کمایا جاتا ہے۔ اور انفاق میں یہ تصور بھی گوندھا گیا ہے کہ مال سینت سینت کے رکھنے کی چیز نہیں بلکہ خرچ کرنے کی چیز ہے۔ البتہ یہ خرچ اپنی ذات اور اپنے متعلقین پر اس طرح کیا جائے کہ شرعی تقاضے اس سے پامال نہ ہونے پائیں۔ اور اس کا ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں بھی خرچ کیا جائے۔ لیکن اسے چونکہ مومنوں کی صفت قرار دیا گیا ہے اور صفت ہمیشہ موصوف کی طبیعت پر غالب رہتی اور اس کی امنگ بن جاتی ہے۔
Ayah 42:39وَالَّذِیْنَ اِذَٓا اَصَابَھُمُ الْبَغْیُ ھُمْ یَنْتَصِرُوْنَ ۔ (الشوری : 39)
(اور یہ وہ لوگ ہیں کہ جب ان پر زیادتی کی جاتی ہے تو اس کا انتقام لیتے ہیں۔ )
ایک اور مزاجی خصوصیت
بلا شبہ یہ لوگ اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ ہوتے ہیں۔ ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار اور ایک دوسرے کے دکھ درد میں شریک ہونے والے۔ اگر مسلمانوں کی کسی بات پر غصہ بھی آتا ہے تو وہ اسے معاف کردیتے ہیں۔ اور غیرمسلموں سے بھی ہمیشہ حُسنِ سلوک کرتے اور خندہ پیشانی سے پیش آتے ہیں۔ لیکن اگر کوئی شخص ان سے توہین آمیز سلوک کرتا ہے، فرعونیت کا صور پھونکتا ہے اور خودسری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان کی عزت نفس کو مجروح کرتا ہے تو ایسے لوگوں کا وہ تر نوالہ نہیں ہوتے، وہ نرم خو ضرور ہوتے ہیں لیکن کمزور اور ذلیل نہیں ہوتے۔ ان کی زندگی کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ :
خاکساروں سے خاکساری ہے
سربلندوں سے انکسار نہیں
وہ متکبر اور بددماغ لوگوں کے لیے لوہے کا چنا ثابت ہوتے ہیں۔ اور ایسے لوگوں کی زیادتیوں کا وہ انتقام لیتے ہیں تاکہ وہ یہ نہ سمجھیں کہ شریف اور خوش اخلاق لوگ کمزور ہوتے ہیں اور ان کی طاقت کے سامنے کوئی شخص کھڑا ہونے کی طاقت نہیں رکھتا تو وہ ایسے شخص کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ ثابت کردیتے ہیں کہ شرافت جھکنے کے لیے نہیں ہوتی۔
Ayah 42:40وَجَزٰٓؤُا سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِّثْـلُھَا ج فَمَنْ عَفَا وَاَصْلَحَ فَاَجْرُہٗ عَلَی اللّٰہِ ط اِنَّـہٗ لاَ یُحِبُّ الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الشوری : 40)
(اور برائی کا بدلہ ویسے ہی برائی ہے، پس جس نے درگزر کی اور اصلاح کی تو اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے، بیشک اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔ )
انتقام کا ادب
اوپر کی آیت میں جس بدلے اور انتقام کی اجازت دی گئی ہے بلکہ اسے اصحابِ ایمان کی خصلت کے طور پر ذکر کیا گیا ہے، پیش نظر آیت کریمہ میں اس کا ادب سکھایا گیا ہے کہ مسلمان اگر کسی سرکش آدمی کی سرکشی اور زیادتی کا بدلہ لیتے ہیں تو وہ ہمیشہ اس اصول کو پیش نظر رکھتے ہیں کہ برائی کا بدلہ برائی کے مطابق ہونا چاہیے یعنی جس شخص نے کسی کو ایک تھپڑ مارا ہے اسے تھپڑ تو مارا جاسکتا ہے، گھونسوں کی بارش نہیں کی جاسکتی۔ جس نے کسی کی انگلی کاٹی ہے، انتقام میں اس کا بازو نہیں کاٹا جاسکتا۔ یعنی جرم اور سزا میں برابری ہونی چاہیے۔ اسی کی مسلمانوں کو اجازت دی گئی ہے۔ لیکن اسے بھی برائی کے بدلے میں برائی ہی قرار دیا گیا ہے۔ اگرچہ اسے تجانس کا لحاظ کہا جاسکتا ہے، لیکن پھر بھی یہ بات اس سے مترشح ہوتی ہے کہ آپ کو بدلہ لینے کی اجازت تو دی جارہی ہے لیکن یہ بھی بہرحال ایک برائی ہے۔ یہ کبھی ماحول یا حالات کی بہتری کے لیے سودمند نہیں ہوتی۔ دشمنوں کو اپنا بنانے اور غیروں میں اپنائیت پیدا کرنے میں کوئی عمل اگر موثر ثابت ہوتا ہے تو وہ اصلاح کی خاطر بدلہ لینے کی بجائے عفو و درگزر ہے۔ زیادتی کرنے والا جب زیادتی پر عفو و درگزر کو دیکھتا ہے تو اگر اس کے اندر انسانیت کی کچھ بھی رمق باقی ہے توہ اس کا اثر قبول کیے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایک نہ ایک دن وہ اپنے طرزعمل پر نادم ہوتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسانیت کا نیا چراغ روشن ہوجاتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جب کوئی شخص زیادتی پر عفو و درگزر سے کام لیتا ہے تو اسے اپنے نفس پر بڑا جبر کرنا پڑتا ہے۔ اور اپنے ارادہ انتقام اور قوت انتقام کو ضبط کی زنجیر پہنانی پڑتی ہے۔ اس کے لیے اسے جو تکلیف اٹھانا پڑتی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے۔ وہ چونکہ ایسے ہی لوگوں کو پسند کرتا ہے اور یہی رویہ انسانی معاملات کی درستی کی ضمانت بنتا ہے تو وہ ایسے لوگوں کو اجر سے نوازتا ہے۔ لیکن جو لوگ ظلم کو اپنا شعار بنا لیتے ہیں انھیں وہ پسند نہیں کرتا جس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ قیامت کے دن انھیں ان کے ظلم کی سزا دی جائے گی۔
Ayahs 42:41–42وَلَمَنِ انْـتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ مَاعَلَیْہِمْ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ اِنَّمَا السَّبِیْلُ عَلَی الَّذِیْنَ یَظْلِمُوْنَ النَّاسَ وَیَبْغُوْنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیْرِالْحَقِّ ط اُوْلٰٓئِکَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الشوری : 41، 42)
(اور جن لوگوں نے اپنے اوپر ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیا تو ان کے اوپر کوئی الزام نہیں۔ الزام تو ان لوگوں پر ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں، یہی لوگ ہیں جن کے لیے دردناک عذاب ہے۔ )
ان لوگوں کے شبے کا جواب جو انتقام کو دنیاداری سمجھتے ہیں
پیشِ نظر دونوں آیتوں میں ایک شبہ کا ازالہ کیا گیا ہے جو بالعموم نیک لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ بعض نیک لوگ نیکی اور دین داری کا تقاضا یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کوئی ظالم ان پر ظلم کرتا ہے اور طاقتور لوگ انھیں اپنی طاقت کا نشانہ بناتے ہیں تو نیکی اور دین داری کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے مظالم پر صبر کیا جائے اور لب پر حرف شکایت نہ آنے پائے۔ اور اگر ظالموں کی زیادتی کا مقابلہ کرنے یا ان سے بدلہ لینے کی روش اختیار کی جائے تو یہ تو دنیاداری ہے پھر دین داری اور خدا ترسی اختیار کرنے کا کیا فائدہ ؟ اس شبہ کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جرم اور برائی دوسروں پر ظلم کرنا ہے اور لوگوں کے ساتھ سرکشی کا رویہ اختیار کرنا ہے جس سے اندازہ ہو کہ یہ شخص نہ خدا سے ڈرتا ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی پرواہ کرتا ہے۔ جو شخص ایسے برخودغلط لوگوں کی حرکتوں کو برداشت کرتا ہے وہ درحقیقت ظلم کا جواز پیدا کرتا ہے یا ظلم کو آگے بڑھنے کا موقع دیتا ہے۔ اعلائے کلمۃ الحق کے راستے میں جو تکلیفیں آتی ہیں ان پر یقینا صبر ہونا چاہیے۔ لیکن ظالموں کے ظلم کو سہنے کی عادت بنا لینا اور ان کے ظلم کو روکنے کو دنیاداری سمجھنا اس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں، اور اسلام اس کی ہرگز حوصلہ افزائی نہیں کرتا، بلکہ آنحضرت ﷺ نے ظالم کی ہمنوائی کرنے کو جرم قرار دیا اور کلمہ حق کہتے ہوئے ظالم کے ہاتھ سے جامِ شہادت پینے والے کو سیدالشہداء قرار دیا ہے۔ چہ جائیکہ اسے نیکی کا تقاضا سمجھا جائے الزام تو ان لوگوں پر ہے اور وہ لوگ قابل ملامت ہیں جو بےگناہ لوگوں پر ظلم توڑتے اور اللہ تعالیٰ کی زمین پر سرکشی کا رویہ اختیار کرتے ہیں۔ اور یہی لوگ ہیں جنھیں قیامت میں عذاب الیم سے دوچار ہونا پڑے گا۔
Ayah 42:43وَلَمَنْ صَبَرَ وَغَفَرَ اِنَّ ذٰلِکَ لَمِنْ عَزْمِ الْاُمُوْرِ ۔ (الشوری : 43)
(البتہ جس نے صبر کیا اور درگزر سے کام لیا یہ بیشک عزیمت کے کاموں میں سے ہے۔ )
حاصلِ بحث
اس آیت کریمہ میں حاصل بحث کو بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اصحابِ ایمان کو حق و باطل کی کشمکش میں اپنی ذات کی نفی کرنا پڑتی ہے اور پیش نظر صرف اعلائے کلمۃ الحق کے مفادات کو رکھنا پڑتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ مسلمان مخالفین کی نگاہوں میں کوڑا کرکٹ کا ڈھیر بن کر رہ جائیں، اور ہر متکبر آدمی یہ سمجھے کہ یہ ایسے لدو اونٹ ہیں جن پر بڑی سے بڑی ذلت لادی جاسکتی ہے۔ اس لیے فی الجملہ ان کو یہ اجازت دی گئی ہے کہ عزت نفس اور اعلائے کلمۃ الحق کے تقاضوں میں توازن قائم رکھتے ہوئے انتقام لیا جاسکتا ہے اور یہ دینداری کے خلاف نہیں بلکہ دینداری ہی کا تقاضا ہے۔ البتہ اس انتقام کو اس طرح طبیعتوں پر غالب نہیں آنا چاہیے کہ اصحابِ ایمان اس اجازت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دینی تقاضوں کے توازن کو کھو بیٹھیں۔ اصل صفت جو ایک مومن کی پہچان ہے وہ صبر اور درگزر ہی ہے۔ کیونکہ یہی وہ صفات ہیں جن سے نامساعد حالات میں بھی کھڑا رہنے کا حوصلہ ملتا ہے۔ اس لیے زیادہ سے زیادہ زور ان ہی دونوں صفات کے حصول پر ہونا چاہیے۔ ان کے بغیر حق و باطل کی کشمکش میں اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول آسان نہیں اور وہ استقامت اور پامردی جو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کو دعوت دیتی ہے وہ کبھی نصیب نہیں ہوتی۔ یہ بہرحال ایک عزیمت کا کام ہے جو اربابِ عزیمت ہی انجام دے سکتے ہیں۔ اور یہی ایک مومن کا ہدف ہونا چاہیے۔
Ayah 42:44وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْ م بَعْدِہٖ ط وَتَرَی الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ ھَلْ اِلٰی مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍ ۔ (الشوری : 44)
(جس کو اللہ ہی گمراہ کردے تو اس کے بعد اس کا کوئی کارساز نہیں، آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ جب وہ عذاب سے دوچار ہوں گے تو کہیں گے کیا اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟ )
ان آیات کا پس منظر
یوں تو اس آیت کریمہ میں ہدایت و ضلالت کے معاملہ میں اللہ تعالیٰ کے قانون کے حوالے سے نبی کریم ﷺ کو تسلی دی جارہی ہے۔ لیکن اسے سمجھنے کے لیے اس آیت کے نزول کے وقت جو ماحول تھا اس کا جاننا ضروری ہے اور سیاق کلام بھی اسی کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اس وقت ماحول یہ تھا کہ اہل عرب کا ہمہ جہت اور ہمہ پہلو بگاڑ اس حد کو پہنچ چکا تھا جس کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو مبعوث کیا اور اپنی آخری کتاب کو نازل فرمایا۔ اور کتاب ایسی جامع اور مانع حیثیت کی حامل بنائی گئی جو نہایت معقول، نہایت موثر اور دلنشین طریقے سے انسانوں کو حقیقت کا علم دے رہی اور زندگی کا صحیح راستہ بتارہی تھی۔ اور اس کتاب کی دعوت کو پیش کرنے کے لیے ایسے رسول کو مبعوث کیا گیا جو اپنی شخصیت کی دلآویزی، سیرت و کردار کی بلندی، مخالفین کے ساتھ گہری ہمدردی اور اپنی دعوت پر انتہا درجے کی استقامت کی ایسی تصویر تھا جس کی مثال انبیائے کرام میں تلاش کرنا بھی مشکل ہے۔ اور پھر آنحضرت ﷺ کی تعلیم و تربیت کے نتیجے میں صحابہ کرام کی صورت میں جو لوگ تیار ہوئے ان میں سے ایک ایک شخص اپنے سیرت و کردار کی بلندی کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی دعوت پر چلتی پھرتی دلیل اور حجت تھا۔ یہ تینوں باتیں کسی بھی شخص اور کسی بھی قوم کی آنکھیں کھول دینے کے لیے کافی ہیں۔ اور ان تینوں باتوں کو دیکھ لینے کے بعد کسی شخص کے پاس ایسا معقول عذر باقی نہیں رہ جاتا جو وہ اس دعوت کو قبول نہ کرنے کی دلیل کے طور پر پیش کرسکے۔ لیکن قریش اور دیگر اہل مکہ کے بیشتر لوگوں نے جس طرح اس دعوت کو رد کیا اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ کی سنت حرکت میں آئی اور ہدایت و ضلالت کے اس قانون نے اپنا کام دکھایا جو ایسے ہی لوگوں کے سلسلے میں تاریخ میں ہمیشہ بروئے کار آتا رہا ہے۔ یعنی جب کسی قوم پر اتمامِ حجت ہوجاتا ہے اور افہام و تفہیم کے سارے ذرائع سمجھانے میں ناکام ہوجاتے ہیں تو پھر اللہ تعالیٰ اس قوم کی گمراہی کا فیصلہ فرما دیتا ہے۔ تو جس قوم کے لیے بھی اللہ تعالیٰ گمراہی کا فیصلہ فرما دے تو اس بات کا کیا امکان ہے کہ کوئی دوسری ذات اس کی کارسازی کرتے ہوئے اس فیصلے کو بدل ڈالے۔ چناچہ اسی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ آج تو یہ لوگ آپ کی بات کو سننا بھی گوارا نہیں کرتے اور اپنی روش پر بہت نازاں ہیں۔ لیکن آپ قیامت کے روز ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ سامنے جہنم کے عذاب کو دیکھتے ہوئے بڑی حسرت کے ساتھ کہیں گے کیا دنیا کی طرف پلٹنے کی کوئی راہ اب بھی باقی ہے کہ ہم دنیا کی طرف پلٹ جائیں اور نیکی اور سعادت مندی کی راہ اختیار کرکے اس عذاب سے چھوٹنے کا کوئی سامان کرسکیں۔ یہ بات دراصل ان کے لیے ایک تعریض ہے کہ نادانو ! آج جبکہ ضلالت سے ہدایت کی طرف پلٹنے کا موقع ہے تو تم پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے۔ لیکن جب یہ موقع گزر چکا ہوگا اور فیصلہ ہوچکے گا اس وقت تم واپسی کی باتیں کرو گے تو کیا یہ بہتر نہیں کہ اس ذلت سے بچنے کے لیے آج ہی صحیح روش اپنانے کی کوشش کرو۔
Ayah 42:45وَتَرٰہُمْ یُعْرَضُوْنَ عَلَیْھَا خٰشِعِیْنَ مِنَ الذُّلِّ یَنْظُرُوْنَ مِنْ طَرْفٍ خَفِیٍّ ط وَقَالَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اِنَّ الْخٰسِرِیْنَ الَّذِیْنَ خَسِرُوْٓا اَنْفُسَہُمْ وَاَھْلِیْہِمْ یَوْمَ الْقِیٰـمَۃِ ط اَ لَآ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ فِیْ عَذَابٍ مُّقِیْمٍ ۔ (الشوری : 45)
(اور آپ ان کو دیکھیں گے کہ وہ نارجہنم پر اس طرح پیش کیے جائیں گے کہ ذلت سے جھکے ہوئے کن انکھیوں سے دیکھ رہے ہوں گے، اور اہل ایمان کہیں گے کہ اصل نقصان اٹھانے والے وہی ہیں جنھوں نے قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا، خبردار ! بیشک ظالم لوگ دائمی عذاب میں پڑیں گے۔ )
گزشتہ مضمون کو آگے بڑھایا جارہا ہے
گزشتہ آیت کے مضمون کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔ گزشتہ آیت میں یہ فرمایا گیا تھا کہ جب وہ ظالم عذاب کو دیکھیں گے تو وہ کہیں گے کیا کوئی واپسی کی سبیل بھی ہوسکتی ہے، اس آیت میں اس کے بعد کا حال بیان کیا جارہا ہے۔ ضمنی طور پر عذاب کی وضاحت کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اس عذاب سے نارجہنم مراد ہے، کیونکہ ضمیر مؤنث لائی گئی ہے۔ اس لیے اسے نارجہنم ہی کہا جاسکتا ہے کہ آج تو یہ لوگ جہنم کا مذاق اڑاتے ہیں لیکن جب جہنم کی آگ کو دیکھیں گے تو ساری شوخیاں بھول جائیں گے۔ اس طرح سر جھکائے ہوئے ہوں گے معلوم ہوگا کہ دنیا بھر کی ذلتیں ان کے سر پر لاد دی گئی ہیں۔ اور ان میں یہ ہمت نہیں ہوگی کہ جہنم کے عذاب کی طرف رخ کرسکیں۔ البتہ نظر بچا بچا کر کن انکھیوں سے جہنم کی طرف دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ کیونکہ جب کوئی مجرم قتل کے لیے مقتل کی طرف لے جایا جاتا ہے تو اس کے اندر یہ ہمت نہیں ہوتی کہ وہ کھلی آنکھوں سے جلاد کی تلوار کو دیکھ سکے۔ البتہ نظر بچا بچا کر اسے دیکھنے کی کوشش ضرور کرتا ہے تاکہ کچھ اندازہ ہوسکے کہ اس کے ساتھ کیا پیش آنے والا ہے۔ ان کی اس حالت کو دیکھ کر اصحابِ ایمان پکار اٹھیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جو دنیا میں اپنی جاہ و منزلت اور دولت و رفاہیت پر اس قدر نازاں تھے کہ عذاب کا ذکر ہی انھیں بدمزہ کردیتا تھا اور وہ کسی طرح بھی اپنے انجام کے بارے میں سوچنا گوارا نہیں کرتے تھے۔ لیکن یہ ناعاقبت اندیش لوگ یہ نہیں جانتے تھے کہ اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ چناچہ انھوں نے اپنے اس رویئے سے نہ صرف اپنا نقصان کیا بلکہ اپنے متعلقین کا بیڑہ بھی غرق کردیا اور ان کی اس برگشتگی نے اس خسارے سے انھیں دوچار کردیا جس سے بڑا خسارہ کوئی اور نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ بڑے سے بڑا نقصان بھی اپنے اثرات میں محدود ہوتا ہے، ایک وقت آتا ہے جب یہ اثرات ختم ہوجاتے ہیں یا ان کی تلافی ہوجاتی ہے۔ لیکن جہنم کی سزا ایک ایسا خسارہ ہے جس کا نہ کبھی اختتام ہوگا اور نہ اس میں کمی آئے گی۔ جو اس میں پکڑا گیا وہ ابدی عذاب میں گرفتار ہوگیا۔ اس لیے اس سے بڑھ کر اور خسارہ کون سا ہوسکتا ہے۔
Ayah 42:46وَمَا کَانَ لَہُمْ مِّنْ اَوْلِیَـآئَ یَنْصُرُوْ نَھُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ ط وَمَنْ یُّضْلِلِ اللّٰہُ فَمَا لَـہٗ مِنْ سَبِیْلٍ ۔ (الشوری : 46)
(اور ان کے اولیاء میں سے کوئی نہیں ہوگا جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کرے، اور جس کو اللہ گمراہ کردے تو پھر اس کے لیے کوئی راہ نہیں۔ )
قیامت کے روز مشرکین کی بےبسی
یہ مشرک لوگ جو آج نبی کریم ﷺ کی دعوت کو خاطر میں لانے کو تیار نہیں جب وہ قیامت کے دن ایسے عذاب میں پکڑے جائیں گے جو کبھی ٹلنے والا نہیں، تو زندگی میں اپنے جن شرکاء پر انھیں بہت ناز رہا اور اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں ان پر انھیں بڑا بھروسہ تھا، کوئی بھی ان کی مدد کرنے کے لیے نہیں آئے گا۔ نہ کوئی سفارش کی جرأت کرسکے گا اور نہ کسی اور طرح کی مدد کسی کے بس میں ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ جس شخص کو اس کے کرتوتوں کے باعث اللہ تعالیٰ بھٹکنے کے لیے چھوڑ دیتا ہے تو اس کے لیے پھر اپنے اعمال کی پاداش سے بچ نکلنے کا کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ یہ لوگ بھی قیامت کے دن اپنے اعمال کی پاداش میں پکڑے جائیں گے اور پھر اس سے بچ نکلنے کی ان کے پاس کوئی راہ نہیں ہوگی۔
Ayah 42:47اِسْتَجِیْبُوْا لِرَبِّـکُمْ مِّنْ قَبْلِ اَنْ یَّاْتِیَ یَوْمٌ لاَّ مَرَدَّلَـہٗ مِنَ اللّٰہِ ط مَالَـکُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ یَّوْمَئِذٍ وَّمَا لَـکُمْ مِّنْ نَّـکِیْرٍ ۔ (الشوری : 47)
(اپنے رب کی دعوت کو قبول کرو اس سے پہلے کہ اللہ کی طرف سے وہ دن آجائے جس کے لیے ٹلنا نہیں، اس روز تمہارے لیے نہ کوئی جائے پناہ ہوگی اور نہ تم کسی چیز کو رد کرسکو گے۔ )
آخری موقع دیا جارہا ہے
مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ تم اپنے کرتوتوں کے نتیجے میں جس صورتحال سے دوچار ہوئے ہو اس میں اگرچہ تمہارے لیے کسی کارسازی کی گنجائش نہیں، تاہم ایک آخری موقع دیا جارہا ہے کہ ہمارے آخری نبی کی دعوت کو قبول کرلو۔ ابھی تمہاری توبہ کا دروازہ بند نہیں ہوا۔ اس دعوت کو قبول کرکے اپنی عاقبت سنوارو، ورنہ جب قیامت کا دن آجائے گا جو ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے آئے گا اس وقت تمہارا اللہ تعالیٰ کی دعوت کو قبول کرنا یا نہ کرنا دونوں یکساں ہوگا۔ تم اس دن کوئی جائے پناہ تلاش نہیں کرسکو گے اور تم مدد کے لیے چیخو گے مگر کوئی تمہارا مددگار نہیں ہوگا۔ اور نہ اس روز تم کسی چیز کو رد کرسکو گے، جو کچھ تمہارے سامنے آئے گا اسے لازماً قبول کرنا ہوگا۔ تمہاری اس طرح کی کیفیت ہوگی جس میں کامل سپردگی کے سوا کوئی چارہ ٔ کار نہیں ہوگا۔
Ayah 42:48فَاِنْ اَعْرَضُوْا فَمَآ اَرْسَلْنٰـکَ عَلَیْھِمْ حَفِیْظًا ط اِنْ عَلَیْکَ اِلاَّ الْبَلٰـغُ ط وَاِنَّـآ اِذَآ اَذَقْنَاالْاِنْسَانَ مِنَّا رَحْمَۃً فَرِحَ بِھَا ج وَاِنْ تُصِبْھُمْ سَیِّئَـۃٌ م بِمَا قَدَّمَتْ اَیْدِیْھِمْ فَاِنَّ الْاِنْسَانَ کَفُوْرٌ۔ (الشوری : 48)
(پس اگر وہ اعراض کریں تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا، آپ پر صرف پہنچا دینے کی ذمہ داری ہے، اور ہم جب انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر اترانے لگتا ہے اور اگر اسے کوئی مصیبت پہنچتی ہے اس کے اعمال کی پاداش میں تو وہ ناشکرا بن جاتا ہے۔ )
مخالفین کی طبعی ناہمواری
انسان کی غیرمتوازن عادت اور متلون طبیعت کے حوالے سے انسان کی گمراہی سے پردہ اٹھایا ہے کہ یہ لوگ اگر آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے تو اس کا سبب ان کی طبعی ناہمواری ہے۔ اپنے غلط عقائد کی بنا پر یہ لوگ سلامتِ فکر سے محروم ہوچکے ہیں اور عملی آوارگی کی وجہ سے ان کے اندر خیر و شر کا شعور کمزور پڑگیا ہے۔ اس وجہ سے اب ان کی کیفیت یہ ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان پر نوازشات ہوتی ہیں تو بجائے ہر نعمت پر شکر ادا کرنے کے اللہ تعالیٰ کے ناشکرے بن جاتے ہیں اور انھیں یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ ہماری یہ خوشحالی درحقیقت ہماری ذہانت و فطانت اور محنت و صلاحیت کا نتیجہ ہے۔ اور اگر انھیں تنگدستی آپکڑتی ہے تو بےصبر ہو کر محرومی کا شکار ہوجاتے ہیں۔ یعنی نہ برے حال میں ان کے اندر جینے کی امنگ ہے اور حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ ہے اور نہ اچھے حالوں اپنی طبیعت پر قابو رکھنے کی کوشش ہے اور نہ نفسانی خواہشات کا مقابلہ کرنے کی ہمت ہے۔ ایسا آدمی ایک ایسی دعوت کو قبول کیسے کرسکتا ہے جو درحقیقت پوری زندگی کو تبدیل کرنے کی داعی ہے اور جس میں انسان کو اعلیٰ مقاصد کے لیے جینے کا سبق دیا گیا ہے اور جس میں انسانی زندگی کا شعور دے کر حیوانی زندگی سے اوپر اٹھایا گیا ہے۔ اپنی ان کمزوریوں کے باعث یہ اگر آپ کی دعوت سے اعراض کررہے ہیں تو اے پیغمبر ! آپ کو اس سے ہرگز دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو تبلیغ و دعوت کا مکلف بنایا ہے۔ نہایت تندہی اور جانفشانی سے اللہ تعالیٰ کے دین اور اس کی بندگی کی دعوت کو ان لوگوں تک پہنچانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ آپ نے اس ذمہ داری سے عہدہ برآ ہونے میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ اگر یہ لوگ اس پر بھی راہ راست پر نہیں آتے تو پھر آپ کو اللہ تعالیٰ نے ان کی ہدایت کا ذمہ دار اور نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا۔ قیامت کے دن آپ سے یہ نہیں پوچھا جائے گا کہ آپ نے ان کو ہدایت کیوں نہ دی، اور انھوں نے اسلام قبول کیوں نہ کیا۔ آپ تبلیغ و دعوت کے کام میں لگے رہئے لیکن اس بات کی پرواہ نہ کیجیے کہ یہ لوگ اسے قبول کرتے ہیں یا نہیں۔ کیونکہ آپ کی طرف سے کسی طرح کا تساہل نہ آج تک ہوا ہے اور نہ آئندہ ہوگا۔ رہا ان کی طرف سے آپ کی دعوت کا قبول نہ کرنا تو وہ ان کی اپنی محرومی اور اپنے غیرمتوازن اعمال کا نتیجہ ہے۔
Ayahs 42:49–50لِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط یَخْلُقُ مَایَشَآئُ ط یَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ اِنَاثًا وَّیَھَبُ لِمَنْ یَّشَآئُ الذُّکُوْرَ ۔ اَوْیُزَوِّجُھُمْ ذُکْرَانًا وَّاِنَاثًا ج وَیَجْعَلُ مَنْ یَّشَآئُ عَقِیْمًا ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ قَدِیْرٌ۔ (الشوری : 49، 50)
(اللہ ہی کے لیے ہے آسمانوں اور زمین کی بادشاہی، وہ پیدا کرتا ہے جو چاہتا ہے، جس کو چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے، جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے۔ جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں ملا کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے، بیشک وہ سب کچھ جاننے والا اور ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔ )
کفار کا ایمان نہ لانا ان کی اپنی محرومی ہے
آنحضرت ﷺ کی تسلی کے مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ لوگ اگر آپ کی دعوت کو قبول نہیں کرتے تو آپ اس سے پریشان نہ ہوں، اس لیے کہ اللہ تعالیٰ کی بادشاہی ان کے تسلیم کرنے یا نہ کرنے پر قائم نہیں ہے، وہ تو کائنات کی سب سے بڑی حقیقت ہے جو ہزار انکار کے باوجود اپنی جگہ قائم ہے۔ کائنات کی ہر چیز مخلوق ہے، مخلوق اپنے خالق کا انکار نہیں کرسکتی۔ انسانوں کو چونکہ فی الجملہ بندگی اور اطاعت میں اختیار دیا گیا ہے اس لیے اگر وہ اپنے اختیار کو صحیح طور سے استعمال کریں تو اس میں ان کی اپنی بھلائی ہے۔ اور اگر اسے ماننے سے انکار کرتے ہیں تو یہ ان کی اپنی محرومی ہے۔ اس کی بادشاہی کے قیام و دوام میں نہ ان کے اقرار کو دخل ہے اور نہ انکار کو۔ پھر اس پر دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ کائنات کے دیگر اسرار کو تو تم کیا جانو، یہ بات تو تمہارے اپنے گھر کا واقعہ ہے کہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے نرینہ اولاد دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے بیٹیاں عطا کرتا ہے۔ اور جسے چاہتا ہے بیٹے بھی دیتا ہے اور بیٹیاں بھی دیتا ہے۔ اور جسے کچھ نہ دینے کا فیصلہ کرتا ہے اسے بانجھ کردیتا ہے۔ لیکن اس کی اس تخلیقی قدرت میں کسی کے لیے دم مارنے کی گنجائش نہیں۔ وہ اگر اولاد نہ دینا چاہے تو کوئی زبردستی نہ خود اپنے گھر میں اولاد پیدا کرسکتا ہے اور نہ دوسروں کو دے سکتا ہے۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کسی کو بیٹیاں دینا چاہے تو کوئی اپنی خواہش سے بیٹے پیدا نہیں کرسکتا۔ اور اگر بیٹے دینا چاہے تو کوئی شخص اپنے لیے یا دوسروں کے لیے بیٹیوں کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ وہی جانتا ہے کس شخص کو کیا ملنا چاہیے ؟ وہی ہر طرح کی قدرت کا مالک بھی ہے۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کا کوئی انکار نہیں کرسکتا۔ تو پھر جو لوگ اللہ تعالیٰ کی الوہیت کو تسلیم کرنے سے گریزاں ہیں اور اس کی حاکمیت میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں تو اس سے حقیقت تو تبدیل نہیں ہوسکتی۔ اس لیے آپ ان کے انکار سے دل گرفتہ نہ ہوں، یہ اس طریقے سے اپنی عاقبت کو نقصان پہنچا سکتے ہیں آپ کا کوئی نقصان نہیں کرسکتے۔
Ayah 42:51وَمَا کَانَ لِبَشَرٍ اَنْ یُّـکَلِّمَہُ اللّٰہُ اِلاَّ وَحْیًا اَوْمِنْ وَّرَآیِٔ حِجَابٍ اَوْیُرْسِلَ رَسُوْلاً فَیُوْحِیَ بِاِذْنِہٖ مَایَشَآئُ ط اِنَّـہٗ عَلِیٌّ حَکِیْمٌ۔ (الشوری : 51)
(کسی بشر کی یہ تاب نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے سے یا پردے کے پیچھے سے یا وہ بھیجے کسی فرشتے کو، پس وہ وحی کردے اس کے اذن سے جو وہ چاہے، وہ بڑا ہی عالی مقام، بڑا ہی حکمت والا ہے۔ )
کفار کے ایک اعتراض کا جواب
روایات میں ہے کہ بعض یہودی آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے کہا ہم جس پیغمبر پر ایمان رکھتے ہیں اس کی شان تو یہ ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے بالمشافہ بات کرتا تھا۔ وہ اللہ تعالیٰ کو دیکھتا بھی تھا اور اس کا کلام سنتا بھی تھا۔ اور قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگ جو بعد میں یہودی کہلائے وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے یہ بات کہتے تھے کہ آپ یہ کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آپ سے کلام کرتا ہے، اگر یہ بات سچ ہے تو اللہ تعالیٰ ہم سے کلام کیوں نہیں کرتا ؟ حالانکہ دنیوی مرتبہ و مقام کے لحاظ سے ہم آپ سے برتر ہیں۔ اگر وہ آپ کو شرف خطاب سے نوازتا ہے تو ہم تو آپ سے زیادہ اس کے مستحق ہیں۔ ایسی ہی باتوں کا جواب پیش نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ کسی انسان کا یہ مقام و مرتبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ اس سے روبرو اور بالمشافہ بات کرے۔ وہ اپنے بلند مقام اور وسیع قدرت کے لحاظ سے اتنا عظیم ہے کہ انسان اس سے کلام کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ ایک مخلوق چاہے وہ اپنے تئیں کچھ بھی سمجھے لیکن اس کا یہ مرتبہ نہیں کہ وہ اپنے خالق سے بات کرنے کی جرأت کرسکے۔ اور دوسری یہ بات کہ اللہ تعالیٰ ایسے عظیم انوار و تجلیات کا مظہر ہے کہ کوئی بشر اس سے رو در رو ہونے کی تاب نہیں لاسکتا۔ انسان کی اصلاح کے حوالے سے اس نے جب کبھی انسانوں سے بات کرنے کی ضرورت محسوس کی ہے تو اس کے لیے تین طریقوں میں سے کوئی طریقہ اختیار فرمایا۔ پہلا طریقہ یہ ہے کہ وہ وحی کے ذریعے سے بات کرتا ہے۔ وحی سے مراد القاء، الہام، دل میں کوئی بات ڈال دینا یا خواب میں کچھ دکھا دینا ہے۔ جیسے حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو خواب میں حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کو ذبح کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ اور آنحضرت ﷺ پر بھی وحی کا آغاز سچے خوابوں کے ذریعے ہوا۔ آپ خواب میں جو کچھ دیکھتے، دن کی روشنی میں اس کی تعبیر دیکھ لیتے۔ اس لیے امت کا یہ عقیدہ ہے کہ پیغمبر کا خواب وحی ہوتا ہے۔ فرق صرف یہ ہے جسے مولانا محمدادریس کاندھلوی نے اپنے ایک شعر میں ذکر فرمایا ہے :
خوابِ پیغمبر کہ ِصبح صادق است
وحیِ بیداری کہ روز روشن است
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ وہ اپنے پیغمبر سے پردے کے پیچھے سے بات کرتا ہے۔ یعنی پیغمبر اس کی بات کو سنتا ہے لیکن اسے دیکھتا نہیں۔ اس طریقے سے پروردگار نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بات کی۔ یہ طریقہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے مخصوصات میں سے ہے۔ قرآن کریم میں یہ تصریح ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سوا اور کسی نبی سے اللہ تعالیٰ نے اس طرح کلام نہیں کیا، یہ شرف صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہی کو حاصل ہے۔ لیکن اس شرف سے آپ چند دفعہ نوازے گئے ہیں۔ تورات، اسی طریقے سے نازل ہوئی ہے جیسے باقی رسولوں پر کتابیں نازل ہوتی رہی ہیں۔ تیسرا طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا کوئی فرشتہ بھیجتا ہے اور وہ فرشتہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے جو کچھ اللہ تعالیٰ چاہتا ہے پیغمبر کے دل پر القاء کردیتا ہے۔ قرآن کریم اسی طرح آنحضرت ﷺ کے دل پر حضرت جبرائیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے نازل کیا ہے۔ سورة البقرۃ میں ارشاد فرمایا گیا ہے قُلْ مَنْ کَانَ عَدُوًّا لِّجِبِرِیْلَ فَاِنَّـہٗ نَزَّلَـہٗ عَلٰی قَلْبِکَ بِاِذْنِ اللّٰہِ (97) ” کہہ دیجیے کہ جو جبریل کا دشمن ہے (اسے معلوم ہونا چاہیے) کہ جبریل نے اس قرآن کو آپ کے دل پر اللہ تعالیٰ کے حکم سے اتارا ہے۔ “ سورة النحل میں ارشاد فرمایا گیا ہے قُلْ نَزَّلَـہٗ رُوْحُ الْقُدُسِ مِنْ رَّبِّکَ بِالْحَقِ (102) ” کہہ دیجیے اس قرآن کو روح القدس نے تیرے رب کی طرف سے اتارا ہے۔ “ یہود اور دیگر مخالفین کے سوال کے جواب کے لیے یہی تین طریقے کافی تھے، اس لیے ان ہی تین طریقوں کا ذکر فرمایا گیا۔ لیکن احادثِ مبارکہ سے ہمیں ایک اور طریقے کا بھی علم ہوتا ہے۔ وہ یہ ہے کہ فرشتہ کبھی بشری شکل میں ممثل ہو کر بھی ظاہر ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچا دیتا ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے پاس حضرت اسحاق کی ولادت کی خبر لے کر انسانی شکل میں دو فرشتے آئے۔ اور یہی فرشتے حضرت لوط (علیہ السلام) کے پاس بھی دو نوجوانوں کی شکل میں عذاب خداوندی کا پیغام لے کر گئے۔ اور نبی کریم ﷺ کے پاس حضرت جبرائیل کئی دفعہ حضرت دحیہ کلبی کی شکل میں تشریف لائے۔ مشہور حدیث جو حدیث جبرائیل کے نام سے مشہور ہے اس میں بھی اسی طرح حضرت جبرائیل انسانی شکل میں آئے اور آنحضرت ﷺ سے چند سوالات کیے۔ ان کے چلے جانے کے بعد آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ یہ جبرائیل تھے جو تمہیں تمہارا دین سکھانے کے لیے آئے تھے۔ بعض دفعہ گھر میں حضرت عائشہ ( رض) نے انھیں آنحضرت ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے دیکھا۔ ایسے ہی بعض دوسری روایات سے آنحضرت ﷺ پاس ان کے آنے کا ثبوت ملتا ہے۔ اور کبھی ایسا بھی ہوتا تھا کہ آنحضرت ﷺ حضرت جبرائیل کی آواز سنتے تھے، لیکن آپ کو وہ دکھائی نہیں دیتے تھے۔ اور وحی کا یہ طریقہ آنحضرت ﷺ پر بہت گراں ہوتا تھا۔ نبی کریم ﷺ ان تمام طریقوں سے مشرف ہوئے۔ خاص طور پر وہ طریقہ جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ مخصوص ہے کہ آپ ( علیہ السلام) حجاب کے پیچھے سے اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے۔ زمین پر تو اس طرح آپ پر وحی نہیں اتری لیکن معراج کی رات آسمانوں پر اس طریقے سے اللہ تعالیٰ نے آپ سے کلام فرمایا۔ نمازیں اسی طرح فرض کی گئیں، سورة البقرۃ کی آخری آیات اسی طرح نازل ہوئیں۔ اور اسی طرح بعض بشارتوں سے آپ کو نوازا گیا۔
آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی دو صفات کا ذکر فرمایا ہے کہ وہ علی بھی ہے اور حکیم بھی۔ علی ہونے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات اتنی بلند وبالا ہے کہ نہ اس کو کسی سے کلام کی ضرورت ہے اور نہ کوئی یہ درجہ اور مرتبہ رکھتا ہے کہ اس سے ہم کلام ہوسکے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ایک طرف اللہ تعالیٰ کا بلند مقام اور اس کے انوار و تجلیات کی وسعت ہے۔ اور دوسری طرف انسان کی کم مائیگی کہ وہ اپنی نگاہ میں وہ طاقت نہیں رکھتا جو اللہ تعالیٰ کا سامنا کرسکے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے جب پروردگار کو دیکھنے کی خواہش ظاہر کی تو یہی فرمایا گیا کہ تم مجھے دیکھ نہیں سکتے۔ یعنی اس دنیا میں انسان کے پاس وہ طاقت نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات کو برداشت کرسکے۔ سورج اللہ تعالیٰ کی ایک مخلوق ہے، لیکن جب وہ اپنی پوری تابانی پر ہوتا ہے تو انسان کی غیرمسلح آنکھ اس کو دیکھنے کی تاب نہیں رکھتی تو اس کے خالق کو کیونکر دیکھ سکتی ہے۔ لیکن اہل جنت کی نگاہوں میں جب تیزی پیدا کردی جائے گی تو وہ اپنے رب کی زیارت کرسکیں گے۔ مزید فرمایا کہ پروردگار علی ہونے کے ساتھ ساتھ حکیم بھی ہے۔ اس وجہ سے وہ اپنے بندوں کی اصلاح کے لیے ان کو اپنے خطاب و کلام سے نوازتا ہے۔ اور اس کے لیے اس نے جو طریقے اختیار فرمائے ہیں وہ آیت کریمہ میں ذکر کردیئے گئے ہیں۔ لیکن ان طریقوں سے بھی وہ خطاب صرف اپنے رسولوں سے فرماتا ہے کیونکہ اس کا تحمل بھی عام آدمی نہیں کرسکتا۔ جس کو بھی اللہ تعالیٰ رسالت کے لیے منتخب فرماتا ہے اس پر رسالت کی ذمہ داریاں عائد کرنے سے پہلے اس کے اندر وہ صلاحیت پیدا فرماتا ہے جو وحی الٰہی کا تحمل کرسکے۔
Ayahs 42:52–53وَکَذٰلِکَ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ رُوْحًا مِّنْ اَمْرِنَا ط مَاکُنْتَ تَدْرِیْ مَاالْـکِتٰبُ وَلاَالْاِیْمَانُ وَلٰـکِنْ جَعَلْنٰـہُ نُوْرًا نَّھْدِیْ بِہٖ مَنْ نَّشَآئُ مِنْ عِبَادِنَا ط وَاِنَّـکَ لَتَھْدِیْٓ اِلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ صِرَاطِ اللّٰہِ الَّذِیْ لَـہٗ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فِی الْاَرْضِ ط اَ لَآ اِلَی اللّٰہِ تَصِیْرُالْاُمُوْرُ ۔ (الشوری : 52، 53)
(اور اسی طرح اے پیغمبر ہم نے اپنے حکم سے ایک روح آپ کی طرف وحی کی ہے، آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے، لیکن ہم نے اسے ایک نور بنادیا جس سے ہم ہدایت دیتے ہیں اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتے ہیں، بیشک آپ ایک سیدھی راہ کی طرف رہنمائی کررہے ہیں۔ اس اللہ کی راہ کی طرف جس کا وہ سب کچھ ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، خبردار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف لوٹتے ہیں۔ )
آنحضرت ﷺ پر بھی وحی انہی طریقوں سے نازل ہوتی ہے
گزشتہ آیت کریمہ میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے جب کسی مقدس شخص کو رسالت کے لیے منتخب کرلیا ہے تو پھر ہم نے اپنا کلام اور اپنا پیغام اس پر تین طریقوں سے نازل کیا ہے۔ اور اس کی مزید وضاحت آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشادات میں بھی فرمائی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ہم نے ان ہی معروف طریقوں کے مطابق اے پیغمبر آپ کی طرف بھی ایک روح اتاری ہے۔ روح سے مراد وہ وحی ہے جو آپ کے قلب مبارک پر نازل ہوتی تھی۔ یا وہ تعلیم ہے جو وحی کے ذریعے سے آنحضرت ﷺ کو دی گئی۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ وحی سے مراد حضرت جبریل امین ہوں۔ کیونکہ قرآن کریم نے انھیں روح یا روح القدس کے نام سے یاد فرمایا ہے۔ اور وہی آنحضرت ﷺ کے قلب مبارک پر قرآن پاک لے کر اترتے رہے ہیں۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ ان تمام طریقوں سے آپ پر جو وحی اترتی رہی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اترتی رہی ہے۔ کیونکہ رسالت و نبوت کوئی اکتسابی منصب نہیں کہ کوئی شخص اپنی کوشش اور محنت سے اس منصب پر فائز ہوجائے اور اس پر وحی اترنا شروع ہوجائے۔ یہ تو انسانوں میں سے اللہ تعالیٰ اپنے حکمت و مشیت سے ایک ذات عزیز کا انتخاب کرتا ہے اور اسے دور دور تک اس کی خبر نہیں ہوتی کہ مجھے اس منصب پر فائز کیا جارہا ہے۔ ایسے ہی آنحضرت ﷺ کو انتخاب کیا گیا اور غارحرا کی تنہائیوں میں فرشتہ آپ کے پاس وحی لے کر آیا۔ اور دوسرے طریقوں سے بھی آپ پر وحی اترنا شروع ہوگئی۔ مِنْ اَمْرِنَاسے اسی بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ رہی یہ بات کہ اس وحی کو روح کا نام کیوں دیا گیا ہے، اس میں پہلی تو یہ بات پیش نظر رہے کہ یہ تعبیر پہلی دفعہ قرآن کریم نے اختیار نہیں کی بلکہ تمام آسمانی صحیفوں میں اللہ تعالیٰ کے کلام والہام کے لیے یہ تعبیر موجود ہے۔ اور دوسری یہ بات کہ اس میں درحقیقت اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ نوع انسانی کے لیے حقیقی زندگی کا ذریعہ صرف وحی الٰہی ہے۔ جو لوگ اسے اپنا لیں گے وہ اس حقیقی زندگی سے آشنا ہوجائیں گے اور جو لوگ اس سے کفر کریں گے وہ حقیقی زندگی سے محروم رہیں گے۔
مزید فرمایا کہ اس روح کے اترنے سے پہلے آپ نہیں جانتے تھے کہ کتاب کیا ہے اور ایمان کیا ہے۔ اس میں ایک تو اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ باقی تمام انبیاء کی طرح نبوت ملنے سے پہلے آپ کو گمان تک نہ تھا کہ آپ کو رسالت و نبوت کے لیے منتخب کیا جا چکا ہے۔ اور عنقریب آپ پر اس ذمہ داری کا بوجھ ڈالا جانے والا ہے۔ اس سے خودبخود یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس عظیم ذمہ داری کا آپ کو گمان تک نہ تھا اس کی تیاری سے متعلق آپ کیسے فکرمند ہوسکتے تھے۔ کسی بھی بڑی ذمہ داری کو ادا کرنے کے لیے یقینا آدمی اس کے لیے تیاری کرتا ہے اور اس کے لیے فکرمند بھی ہوتا ہے۔ اور پھر لوگ بھی اس کی فکرمندی کو دیکھتے ہیں اور اس کی تیاری سے بھی آگاہ ہوتے ہیں۔ لیکن آپ کی جان پہچان کے لوگوں نے کبھی آپ کو اس کے لیے فکرمند ہوتے نہ دیکھا اور نہ کبھی کسی نے ایسے لوگوں سے آپ کی ملاقات دیکھی جنھیں سابقہ کتابوں کا عالم کہا جاسکتا ہے۔ اور یا وہ مذہب کے بارے میں کچھ بھی جانتے تھے۔ اس لیے آپ پر یہ الزام لگانا کہ آپ نے اس کتاب کو خود گھڑ لیا ہے انتہا درجے کی کم عقلی اور بیخبر ی کی بات ہے۔ نبوت سے پہلے کبھی کسی نے آپ سے ایک ایسا جملہ تک نہ سنا تھا جس کا تعلق اسلام کے عطا کردہ بنیادی عقائد سے ہو۔ یا آپ نے نبوت کے بعد جن حقائق کی طرف دعوت دینا شروع کی ہے ان میں سے کسی حقیقت سے ہو۔ آپ کا تو حال یہ تھا کہ آپ امی ہونے کی وجہ سے کتاب کے تصور سے بھی آگاہ نہ تھے۔ کیونکہ آپ نہ لکھ سکتے تھے اور نہ پڑھ سکتے تھے اور نہ آپ یہ جانتے تھے کہ ایمان کے لوازم و مقتضیات کیا ہیں ؟ بلاشبہ ہر پیغمبر وحی سے پہلے بھی اپنی فطرتِ سلیم کی روشنی سے بہرہ ور ہوتا ہے۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ اجمالی ایمان اس کے اندر موجود ہوتا ہے۔ لیکن اسے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ ایمان کی تفصیل کیا ہے، اللہ تعالیٰ کی ذات کیسی ہے اس کی صفات کیا ہیں، اس کے کون سے حقوق ہیں جن کا ماننا ضروری ہے۔ اس کے علاوہ ملائکہ، نبوت، کتبِ الٰہی اور آخرت سے متعلق وہ تفصیل نہیں جانتا۔ لیکن فی الجملہ اللہ تعالیٰ کے وجود کا احساس، اس کا خوف، اس سے محبت، اس کی وحدانیت جیسی کیفیات سے وہ بہرہ ور ہوتا ہے ایسی ہی کیفیت آپ کی بھی تھی تو آپ ان باتوں کو لوگوں تک پہنچانے کے لیے کس طرح منصوبہ بندی کرسکتے تھے اور کس طرح ان حقائق پر مشتمل کتاب مرتب کرنے کے لیے فکرمند ہوسکتے تھے جنھیں آپ جانتے نہ تھے۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ اس نے آپ کو ایمان کی دولت سے بہرہ ور کیا، وحی کے ذریعے ایمان کی تفصیلات آپ کو بتائیں اور آپ کے دل میں ایک ایسی روشنی پیدا کردی جس نے آپ کے سینہ کو جگمگا دیا اور آپ لوگوں کے اندر چلتے پھرتے مینارہ نور بن گئے۔ اسی طرح آپ کو کتاب عطا فرمائی جس نے زندگی سے متعلق ہر سوال کا جواب دیا، ہر گتھی کو کھولا، اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی واضح کیے اور بندوں کے بھی۔ اور انسان کا اپنے خالق ومالک سے ٹوٹا ہوا رشتہ جوڑا۔ اور اجتماعی زندگی کے لیے ایسا نظام زندگی دیا جس نے زندگی کی ہر چول اپنی جگہ بٹھا دی۔ اور اخلاق کا ایسا نظام دیا جس نے تمام انسانی رشتوں کی نوک پلک سنوار دی۔ اور یہی مشعل ہاتھ میں لے کر آپ نے انسانی زندگی کے تمام گوشوں کو منور کردیا۔ خاندانی زندگی کا شعور اس نے دیا، معاشرتی زندگی کے اصول اس نے فراہم کیے، معاشی زندگی کی حدود اور آداب سے اس نے آگاہ کیا، عدل کے تقاضوں کی گرہیں کھولیں اور حکومت جیسے نازک کام کے لیے ایسے لوگ تیار کیے جنھوں نے شہنشاہی میں فقیری کرکے دکھائی۔ اور اس کتاب اور آنحضرت ﷺ کی تعلیم و تربیت نے اس اللہ تعالیٰ کے راستے کی طرف رہنمائی کی جو آسمان و زمین کی ہر چیز کا مالک ہے۔
آخر میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی نے تو انسانی فلاح وسعادت کے لیے ایسی رہنمائی دی جس نے ہر مشکل کو آسان کردیا۔ لیکن جن لوگوں نے ان کی رہنمائی کے فیضان سے فائدہ نہیں اٹھایا وہ یہ نہ سمجھیں کہ بات ختم ہوگئی، بلکہ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ جس پروردگار کا سب کچھ ہے اسی کے حضور تمام اعمال کو پیش ہونا ہے۔ اور اسی کے دربار سے یہ فیصلہ ہونا ہے کہ کس کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے۔ اس لیے ہر شخص کو اس کے سامنے جواب دہی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔