42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsروح القرآن

Ayah 42:13

شَرَعَ لَكُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰى بِهٖ نُوْحًا وَّ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ وَ مَا وَصَّیْنَا بِهٖۤ اِبْرٰهِیْمَ وَ مُوْسٰى وَ عِیْسٰۤى اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَ لَا تَتَفَرَّقُوْا فِیْهِ١ؕ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِیْنَ مَا تَدْعُوْهُمْ اِلَیْهِ١ؕ اَللّٰهُ یَجْتَبِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یَّشَآءُ وَ یَهْدِیْۤ اِلَیْهِ مَنْ یُّنِیْبُ Open ayah 42:13 in the Quran reader

اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دی کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرو، مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طرف آپ ان کو دعوت دے رہے ہیں، اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لیے چن لیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے

شَرَعَ لَـکُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصّٰی بِہٖ نُوْحًا وَّالَّذِیْٓ اَوْحَیْنَـآ اِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہٖٓ اِبْرٰھِیْمَ وَمُوْسٰی وَعِیْسٰٓی اَنْ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلاَ تَتَفَرَّقُوْا فِیْہِ ط کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوْھُمْ اِلَیْہِ ط اَللّٰہُ یَجْتَبِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یَّشَآئُ وَیَھْدِیْٓ اِلَیْہِ مَنْ یُّـنِیْبُ ۔ (الشوری : 13) (اس نے تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا ہے جس کا حکم اس نے نوح کو دیا تھا، اور جس کی وحی ہم نے آپ کی طرف کی اور جس کی ہدایت ہم نے ابراہیم اور موسیٰ اور عیسیٰ کو دی کہ اس دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا کرو، مشرکین پر وہ چیز شاق گزر رہی ہے جس کی طرف آپ ان کو دعوت دے رہے ہیں، اللہ جسے چاہتا ہے اپنی طرف آنے کے لیے چن لیتا ہے اور اپنی طرف آنے کا راستہ اسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔ ) شَرَعَ کا لغوی معنی ہے راستہ بنانا، اور اصطلاحاً اس سے مراد طریقہ، ضابطہ اور قاعدہ مقرر کرنا ہے۔ اسی سے نکلا ہوا لفظ تشریع ہے جو قانون سازی کے لیے بولا جاتا ہے اور شرع اور شریعت قانون کے لیے۔ اور شارع واضع قانون کو کہتے ہیں۔ دِین، آئین اور طریقے پر بولا جاتا ہے۔ اصطلاحاً دین کسی کی سیادت و حاکمیت تسلیم کرکے اس کے احکام کی اطاعت کرنے کو کہتے ہیں۔ اور جب یہ طریقہ کے معنی میں بولا جاتا ہے تو اس سے مراد وہ طریقہ ہوتا ہے جسے آدمی واجب الاتباع اور اس کے مقرر کرنے والے کو مطاع مانے۔ اللہ تعالیٰ حاکم حقیقی ہے اس لیے اس نے سب کو ایک ہی دین دیا گزشتہ آیت میں ہم نے یہ بات پڑھی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی آسمانوں اور زمین کا مالک اور حاکم حقیقی ہے۔ اور حاکم حقیقی کا مطلب یہ ہے کہ اسے کائنات پر تکوینی طور پر اور اہل زمین پر تشریعی طور پر حاکمیت حاصل ہے۔ اس کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اہل زمین اس کی رعایا ہیں حاکم کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنی رعایا کو انفرادی اور اجتماعی طور پر زندگی گزارنے کا ایک ایسا ڈھب سکھائے جس میں اختیارات کی حدود بھی واضح ہوں، حقوق کی تفصیل میں بھی کوئی ابہام نہ ہو، معیشت کے اصول بھی دیئے گئے ہوں اور سیاست کی آزادیوں کے ساتھ ساتھ پابندیاں بھی ذکر کی گئی ہوں، کسب و اکتساب کے ذرائع پر دسترس بھی دی گئی ہو اور وسائلِ رزق کی حلت اور حرمت بھی کھول دی گئی ہو، حکومت کے امکانات بھی واضح کیے گئے ہوں اور اقتدار کی نزاکتوں کو بھی واضح کردیا گیا ہو۔ رہنمائی کا یہ مسودہ آئین کہلاتا ہے۔ اسی کو یہاں دین سے تعبیر کیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حاکمیت کے تقاضے سے ہر پیغمبر کی امت کو یہ آئین عطا فرمایا۔ چناچہ قریش اور دیگر اہل عرب کے سامنے یہ بات کھول کر بیان کردی گئی کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے وہی دین پسند فرمایا ہے جو اس نے حضرت نوح (علیہ السلام) کو دیا تھا اور اسی کی تلقین حضرت ابراہیم، حضرت موسیٰ اور حضرت عیسیٰ (علیہم السلام) کو بھی کی گئی تھی۔ حضرت نوح (علیہ السلام) کا ذکر اس لیے کیا گیا کہ طوفانِ نوح سے پہلی دنیا کے ختم ہوجانے کے بعد نئی دنیا ان ہی کی اولاد اور ان پر ایمان لانے والوں کی اولاد سے آباد ہوئی۔ اور ان کے لیے پہلے رسول حضرت نوح (علیہ السلام) تھے۔ اور پھر نبی کریم ﷺ کا ذکر فرمایا گیا جو آخری نبی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کو جو دین دیا گیا ہے وہ کوئی اجنبی نہیں بلکہ شروع سے لے کر آخری نبی تک سب کا یہی دین رہا ہے اور یہی اللہ تعالیٰ کا حقیقی دین ہے۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا ذکر یہاں اس لیے فرمایا گیا کہ انھیں اہل عرب اپنا پیشوا مانتے تھے اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا اس لیے کہ یہودی ان کی طرف اپنا انتساب کرتے تھے۔ اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) عیسائیوں کے رسول تھے۔ نبی کریم ﷺ کی بعثت کے وقت یہی تین مذاہب اور ان کے پیروکار نبی کریم ﷺ کے سامنے اور آپ کی دعوت کا ہدف تھے۔ اس طرح سے بظاہر پانچ انبیاء کرام کا ذکر ہوا ہے۔ لیکن حقیقت میں تمام دنیائے مذہب کا ذکر ہوگیا۔ کیونکہ اس وقت انسان ان ہی مذاہب میں بٹے ہوئے تھے۔ اس تفصیل سے سب سے پہلی جو بات واضح ہوئی وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ انسانوں کی ہدایت کے لیے پہلے مبعوث ہونے والے رسول نہیں بلکہ ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے رسول بھی آتے رہے اور ان پر شریعتیں بھی نازل ہوتی رہیں۔ اور دوسری بات یہ معلوم ہوئی کہ سارے پیغمبروں اور رسولوں کا دین ایک ہی رہا۔ جو دین پہلے رسول کا تھا، وہی آخری رسول کا ہے ان میں کوئی فرق نہیں۔ انبیاء کا فرض دین کا قیام ہے تمام انبیاء کو دین عطا کرنے کے ساتھ ہی یہ ہدایت دی گئی تھی کہ وہ دین کو قائم کریں۔ اَقِیْمُوا الدِّیْنَ کے دو معنی کیے گئے ہیں۔ شاہ ولی اللہ ( رح) نے اس کا ترجمہ کیا ” قائم کنید دین را “ یعنی دین کو قائم کرو۔ اور شاہ رفیع الدین صاحب اور شاہ عبدالقادر صاحب نے اس کا ترجمہ کیا ہے ” قائم رکھو دین کو۔ “ دونوں ترجمے درست ہیں۔ اقامت کے معنی قائم کرنے کے بھی ہیں اور قائم رکھنے کے بھی۔ انبیاء (علیہم السلام) ان دونوں کاموں پر مامور تھے کہ جہاں یہ دین قائم نہیں وہاں اسے قائم کریں۔ اور جہاں قائم ہوچکا ہو اس کو قائم رکھنے کے اسباب فراہم کریں اور لوگوں میں اس کی تڑپ پیدا کریں۔ اقامتِ دین کا مفہوم اقامتِ دین چونکہ اب ایک مقبول اصطلاح بن چکی ہے اس لیے سب سے پہلے اقامت کا مفہوم سمجھ لینا چاہیے۔ یہ لفظ جس طرح مادی اور جسمانی اشیاء کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی طرح معنوی چیزوں کے لیے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مادی اشیاء کے لیے اس لفظ کا مفہوم ہوتا ہے سیدھا کردینا، کسی چیز کو گرنے سے بچا لینا، کسی پڑی اور گری ہوئی چیز کو اٹھا دینا۔ قرآن کریم میں حضرت موسیٰ اور حضرت خضر (علیہما السلام) کے واقعہ کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ جب وہ ایک گائوں میں داخل ہوئے تو انھوں نے ایک دیوار کو دیکھا کہ وہ گرا چاہتی ہے، تو انھوں نے اس کو سیدھا کردیا۔ اس کے لیے جو تعبیر اختیار کی گئی ہے وہ یہ ہے یُرِیْدُ اَنْ یَّنْقَضَّ فَاَقَامَہُ ” دیوار گرا چاہتی تھی، انھوں نے اس کو سیدھا کردیا۔ “ اَقَامَہُکا یہاں معنی ہے سیدھا کردینا۔ اور اگر وہ چیز معنوی ہو تو اس میں اقامت کا مفہوم محض اس چیز کی تبلیغ کرنا نہیں بلکہ کماحقہ عملدرآمد کرنا ہے۔ مثلاً جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اپنی حکومت قائم کرلی تو اس کے معنی یہ نہیں ہوتے کہ اس نے اپنی حکومت کی طرف دعوت دی بلکہ یہ ہوتے ہیں کہ اس نے ملک کے لوگوں کو اپنا مطیع بنا لیا اور حکومت کے تمام شعبوں کی ایسی تنظیم کردی کہ ملک کا سارا انتظام اس کے احکام کے مطابق چلنے لگا۔ اسی طرح جب ہم یہ کہتے ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) کو دین کے قائم کرنے یا قائم رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور جس کی ذمہ داری خصوصی طور پر آنحضرت ﷺ کے بعد آپ کی امت پر ڈالی گئی ہے، تو اس سے مراد صرف اتنی بات نہیں ہوسکتی کہ وہ خود اس دین پر عمل کریں اور دوسروں میں اس کی تبلیغ کریں تاکہ لوگ اس کا برحق ہونا تسلیم کرلیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب لوگ اسے تسلیم کرلیں تو اس سے آگے قدم بڑھا کر پورا کا پورادین ان میں عملاً رائج اور نافذ کیا جائے تاکہ اس کے مطابق عملدرآمد ہونے لگے اور ہوتا رہے۔ اس میں شک نہیں کہ دعوت و تبلیغ اس کام کا لازمی ابتدائی مرحلہ ہے جس کے بغیر دوسرا مرحلہ پیش نہیں آسکتا۔ لیکن ہر صاحب عقل آدمی خود دیکھ سکتا ہے کہ اس حکم میں دعوت و تبلیغ کو مقصود کی حیثیت نہیں دی گئی بلکہ دین قائم کرنے اور قائم رکھنے کو مقصود قرار دیا گیا ہے۔ دعوت و تبلیغ اس مقصد کے حصول کا ذریعہ ضرور ہے مگر بجائے خود مقصد نہیں۔ کجا کہ کوئی شخص اسے انبیاء کے مشن کا مقصد وحید قرار دے بیٹھے۔ ایک سوال کا جواب یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) کو اگر ایک ہی دین دیا گیا اور ان میں کوئی اختلاف نہیں تھا تو پھر ان کی شریعتوں میں اختلاف کیوں ہے ؟ اور پروردگار نے خود اسے تسلیم بھی فرمایا۔ لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا ” ہم نے تم میں سے ہر ایک کو ایک شریعت اور منہاج عطا کیا تھا۔ “ اس سے بعض لوگوں نے یہ رائے قائم کرلی کہ دین چونکہ ایک ہی تھا اور شریعتیں مختلف تھیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ دین سے مراد یا دین میں شامل شرعی احکام و ضوابط نہیں بلکہ صرف بنیادی عقائد اور کتاب ونبوت کا ماننا ہے، اللہ تعالیٰ کی عبادت بجالانا ہے اور زیادہ سے زیادہ چند بڑے بڑے اخلاقی ضوابط ہیں جو اس میں شامل ہیں اور جو سب شریعتوں میں یکساں ہیں۔ یہی وہ چیز ہے جس کے قائم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح عیسائی امت شریعت سے آزاد ہوگئی، امت اسلامیہ کا بھی پڑھا لکھا طبقہ شریعتِ اسلامی سے آزاد ہو کر زندگی گزارنے اور ملک کو چلانے پر مصر ہے اور پوری دنیا میں مذہب کو تسلیم کرنے کے ساتھ ساتھ (سیکولرازم) کے نام سے اسلامی نظام کا راستہ روکنے کے لیے مختلف مذاہب اکٹھے ہورہے ہیں۔ اس لیے میں زور دے کر یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ قرآن کریم نے ہمیں جو دین کا تصور دیا اور اسے قائم کرنے کا حکم دیا ہے اس سے مراد صرف ایمانیات اور چند بڑے بڑے اخلاقی اصول ہی نہیں ہیں بلکہ شرعی احکام بھی اس میں شامل ہیں۔ مثلاً قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ : 1 وَمَآ اُمِرُوْٓا اِلاَّ لِیَعْبُدُوا اللّٰہَ مُخْلِصِیْنَ لَـہُ الدِّیْنَ حُنَفَـآئَ وَیُقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَیُـؤْتُوا الزَّکٰوٰۃَ وَذٰلِکَ دِیْنُ الْـقَـیِّمَۃ۔ (البینہ، آیت 5) ” اور ان کو حکم نہیں دیا گیا مگر اس بات کا کہ یکسو ہو کر اپنے دین کو اللہ تعالیٰ کے لیے خالص کرتے ہوئے اس کی عبادت کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں، اور یہی راست رو ملت کا دین ہے۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ نماز اور زکوٰۃ اس دین میں شامل ہیں، حالانکہ ان دونوں کے احکام مختلف شریعتوں میں مختلف رہے ہیں۔ کوئی شخص بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ تمام پچھلی شریعتوں میں نماز کی یہی شکل و ہیئت، یہی اس کے اجزاء، یہی اس کی رکعتیں، یہی اس کا قبلہ، یہی اس کے اوقات اور یہی اس کے دوسرے احکام رہے ہیں۔ اسی طرح زکوٰۃ کے متعلق بھی کوئی یہ دعویٰ نہیں کرسکتا کہ تمام شریعتوں میں یہی اس کا نصاب، یہی اس کی شرحیں اور یہی اس کی تحصیل اور تقسیم کے احکام رہے ہیں۔ لیکن اختلاف شرائع کے باوجود اللہ تعالیٰ ان دونوں چیزوں کو دین میں شمار کررہا ہے۔ 2 حُرِّمَتْ عَلَیْکُمُ الْمَیْتَۃُ وَالدَّمُ وَلَحْمُ الْخِنْزِیْرِ وَمَـآ اُھِلَّ لِغَیْرِاللّٰہِ بِہٖ … اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَـکُمْ دِیْنَـکُمْ ۔ (المائدہ 3) ” تمہارے لیے حرام کیا گیا مردار اور خون اور سٔور کا گوشت اور وہ جانور جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو، اور وہ جو گلا گھٹ کر یا چوٹ کھا کر یا بلندی سے گر کر یا ٹکر کھا کر مرا ہو یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو، سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پا کر ذبح کرلیا اور وہ جو کسی آستانے پر ذبح کیا گیا ہو۔ نیز یہ بھی تمہارے لیے حرام کیا گیا کہ تم پانسوں کے ذریعے سے اپنی قسمت معلوم کرو۔ یہ سب کام فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے مایوسی ہوچکی ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔ آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ یہ سب احکامِ شریعت بھی دین ہی ہیں۔ 3 قَاتِلُوا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَلاَ یُحَرِّمُوْنَ مَا حَرَّمَ اللّٰہُ وَرَسُوْلُـہٗ وَلاَ یَدِیْنُوْنَ دِیْنَ الْحَقِّ ۔ (التوبہ 29) ” جنگ کرو ان لوگوں سے جو اللہ اور یوم آخر پر ایمان نہیں لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول نے حرام کیا ہے اسے حرام نہیں کرتے اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ “ معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لانے کے ساتھ حلال و حرام کے ان احکام کو ماننا اور ان کی پابندی کرنا بھی دین ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے دیئے ہیں۔ 5 اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ فَاجْلِدُوْا کُلَّ وَاحِدٍ مِّنْھُمَا مِائَۃَ جَلْدَۃٍ وَّلاَ تَاْخُذْکُمْ بِھِمَا رَاٰفَۃٌ فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ تُؤْمِنُوْنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ۔ (النور 2) ” زانیہ عورت اور مرد دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملہ میں تم کو دامن گیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزآخر پر ایمان رکھتے ہو۔ “ 6 مَاکَانَ لِیَاخُذَ اَخَاہُ فِیْ دِیْنِ الْمَلِکِ ۔ (یوسف 76) ” یوسف ( علیہ السلام) اپنے بھائی کو بادشاہ کے دین میں پکڑ لینے کا مجاز نہ تھا۔ “ اس سے معلوم ہوا کہ فوجداری قانون بھی دین ہے۔ اگر آدمی خدا کے فوجداری قانون پر چلے تو وہ خدا کے دین کا پیرو ہے اور اگر بادشاہ کے قانون پر چلے تو وہ بادشاہ کے دین کا پیرو۔ یہ چار تو وہ نمونے ہیں جن میں شریعت کے احکام کو بالفاظ صریح دین سے تعبیر کیا گیا ہے لیکن اس کے علاوہ اگر غور سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ جن گناہوں پر اللہ تعالیٰ نے جہنم کی دھمکی دی ہے (مثلاً زنا، سودخوری، قتل مومن، یتیم کا مال کھانا، باطل طریقوں سے لوگوں کے مال لینا وغیرہ) اور جن جرائم کو خدا کے عذاب کا موجب قرار دیا ہے (مثلاً عمل قوم لوط اور لین دین میں قوم شعیب ( علیہ السلام) کا رویہ) ان کا سدباب لازماً دین ہی میں شمار ہونا چاہیے، اس لیے کہ دین اگر جہنم اور عذاب الٰہی سے بچانے کے لیے نہیں آیا ہے تو اور کس چیز کے لیے آیا ہے ؟ اسی طرح وہ احکام شریعت بھی دین ہی کا حصہ ہونے چاہئیں جن کی خلاف ورزی کو خلود فی النار کا موجب قرار دیا گیا ہے، مثلاً میراث کے احکام، جن کو بیان کرنے کے بعد آخر میں ارشاد ہوا ہے کہ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْـہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَـہٗ عَذَابٌ مُّھِیْنٌ۔ (النساء 14) ” جو اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی اور اللہ کے حدود سے تجاوز کرے گا، اللہ اس کو دوزخ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ “ اسی طرح جن چیزوں کی حرمت اللہ تعالیٰ نے پوری شدت اور قطعیت کے ساتھ بیان کی ہے، مثلاً ماں بہن اور بیٹی کی حرمت، شراب کی حرمت، چوری کی حرمت، جوئے کی حرمت، جھوٹی شہادت کی حرمت، ان کی تحریم کو اگر اقامتِ دین میں شامل نہ کیا جائے تو اس کے معنی یہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے کچھ غیرضروری احکام بھی دے دیئے ہیں جن کا اجراء مقصود نہیں ہے۔ علیٰ ھذا القیاس جن کاموں کو اللہ تعالیٰ نے فرض قرار دیا ہے کہ مثلاً روزہ اور حج، ان کی اقامت کو بھی محض اس بہانے اقامتِ دین سے خارج نہیں کیا جاسکتا کہ رمضان کے 30 روزے تو پچھلی شریعتوں میں نہ تھے اور کعبے کا حج تو صرف اس شریعت میں تھا جو اولاد ابراہیم کی اسماعیلی شاخ کو ملی تھی۔ دراصل ساری غلط فہمی صرف اس وجہ سے پیدا ہوئی ہے کہ آیت لِکُلٍّ جَعَلْنَا مِنْـکُمْ شِرْعَۃً وَّمِنْھَاجًا (ہم نے تم میں سے ہر امت کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ مقرر کردی) کا الٹا مطلب لے کر اسے یہ معنی پہنا دیئے گئے ہیں کہ شریعت چونکہ ہر امت کے لیے الگ تھی، اور حکم صرف اس دین کے قائم کرنے کا دیا گیا ہے جو تمام انبیاء کے درمیان مشترک تھا، اس لیے اقامتِ دین کے حکم میں اقامتِ شریعت شامل نہیں ہے حالانکہ درحقیقت اس آیت کا مطلب اس کے بالکل برعکس ہے۔ سورة مائدہ میں جس مقام پر یہ آیت آئی ہے اس کے پورے سیاق وسباق کو آیت 41 سے آیت 50 تک اگر کوئی شخص بغور پڑھے تو معلوم ہوگا کہ اس آیت کا صحیح مطلب یہ ہے کہ جس نبی کی امت کو جو شریعت بھی اللہ تعالیٰ نے دی تھی وہ اس امت کے لیے دین تھی اور اس کے دورنبوت میں اسی کی اقامت مطلوب تھی۔ اور اب چونکہ سیدنا محمد ﷺ کا دورنبوت ہے، اس لیے امت محمدیہ کو جو شریعت دی گئی ہے وہ اس دور کے لیے دین ہے اور اس کا قائم کرنا ہی دین کا قائم کرنا ہے۔ رہا ان شریعتوں کا اختلاف تو اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ خدا کی بھیجی ہوئی شریعتیں باہم متضاد تھیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے جزئیات میں حالات کے لحاظ سے کچھ فرق رہا ہے۔ مثال کے طور پر نماز اور روزے کو دیکھئے۔ نماز تمام شریعتوں میں فرض رہی ہے مگر قبلہ ساری شریعتوں کا ایک نہ تھا اور اس کے اوقات اور رکعات اور اجزاء میں بھی فرق تھا۔ اسی طرح روزہ ہر شریعت میں فرض تھا مگر رمضان کے 30 روزے دوسری شریعتوں میں نہ تھے۔ اس سے یہ نتیجہ نکالنا صحیح نہیں ہے کہ مطلقاً نماز اور روزہ تو اقامتِ دین میں شامل ہے مگر ایک خاص طریقے سے نماز پڑھنا اور خاص زمانے میں روزہ رکھنا اقامتِ دین سے خارج ہے بلکہ اس سے صحیح طور پر جو نتیجہ نکالنا ہے وہ یہ ہے کہ ہر نبی کی امت کے لیے اس وقت کی شریعت میں نماز اور روزے کے لیے جو قاعدے مقرر کیے گئے تھے انہی کے مطابق اس زمانے میں نماز پڑھنا اور روزہ رکھنا دین قائم کرنا تھا اور اب اقامتِ دین یہ ہے کہ ان عبادتوں کے لیے شریعتِ محمدیہ میں جو طریقہ رکھا گیا ہے ان کے مطابق انھیں ادا کیا جائے۔ انہی دو مثالوں پر دوسرے تمام احکام شریعت کو بھی قیاس کرلیجئے۔ (تفہیم القرآن) اقامتِ دین کا حکم دینے کے بعد آخری بات جو اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں ارشاد فرمائی وہ یہ ہے کہ دین کو قائم کرو اور اسے قائم رکھو اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔ یعنی اس کے اندر متفرق نہ ہوجاؤ۔ یہ اسی طرح کی ہدایت ہے جس طرح پروردگار نے آل عمران میں فرمایا وَاعْتَصِمُوْا بِحَبْلِ للّٰہِ جَمِیْعًا وَّلاَ تَفَرَّقُوْا ” سب مل کر اللہ کی رسی کو پکڑو اور متفرق نہ ہو۔ “ حَبْلُ للّٰہِسے مراد اللہ تعالیٰ کا دین ہے۔ سب مل کر اسی کو تھامو، اور اس میں تفرقہ پیدا نہ کرو۔ یعنی ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ جس کے ہاتھ میں جو رسی آجائے اسی کو وہ حَبْلِ للّٰہسمجھ بیٹھے اور اصل رسی کو چھوڑ دے۔ مقصد یہ ہے کہ قرآن و سنت کے الفاظ میں جس بات کی معقول گنجائش نہ ہو اس کو ذہنی اختراع کے طور پر قرآن و سنت کے حوالے سے پیش کرے۔ اور پھر اس پر اصرار کرے کہ اس بات کے ماننے پر کفرو ایمان کا مدار ہے۔ اور یہ نئی بات کئی طرح کی ہوسکتی ہے۔ ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ دین میں جو چیز نہ تھی وہ اس میں لاکر شامل کردی جائے۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دین میں جو بات شامل تھی اسے نکال باہر کیا جائے۔ اس کی یہ صورت بھی ہوسکتی ہے کہ نصوص میں تحریف کا راستہ نکالا جائے اور الفاظ کے ہیرپھیر سے ایسے انوکھے عقائد اور نرالے اعمال ایجاد کیے جائیں جن کی قرآن و سنت میں کوئی گنجائش نہ ہو۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ جو چیز اہم تھی اسے غیراہم بنادیا جائے، اور جو چیز حد سے حد مباح کے درجے میں تھی اسی فرض و واجب بلکہ اس سے بھی بڑھا کر اسلام کا رکن رکین بنادیا جائے۔ اسی طرح کی حرکتوں سے ہر دور میں اللہ تعالیٰ کے دین میں تفرقہ پیدا ہوتا رہا۔ اور پھر رفتہ رفتہ ان فرقوں نے مستقل ادیان کی صورت اختیار کرلی۔ البتہ اس تفرقے کا اس جائز اور معقول اختلافِ رائے سے کوئی تعلق نہیں جو دین کے احکام کو سمجھنے اور نصوص پر غور کرکے ان سے مسائل مستنبط کرنے میں فطری طور پر اہل علم کے درمیان واقع ہوتا ہے اور جس کے لیے خود کتاب اللہ کے الفاظ میں لغت اور محاورے اور قواعدِ زبان کے لحاظ سے گنجائش ہوتی ہے۔ مزید فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر وہی دین اتارا ہے جو تمام انبیاء کا دین ہے۔ اور اسی دین کی تعلیم اہل عرب کے جدِاعلیٰ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے بھی انھیں دی تھی۔ لیکن یہ اپنے انفرادی اور اجتماعی بگاڑ کے نتیجے میں اس حد تک اس دین سے دور چلے گئے کہ اب جبکہ آپ ان کے سامنے وہی دین پیش کررہے ہیں جس کی اساس توحید پر ہے اور جس کی ہر بات وحی الٰہی کے ذریعے نازل ہورہی ہے تو قریش اور دیگر اہل عرب کو انتہائی ناگوار گزر رہا ہے۔ اس پر آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کے معاملے میں صبر اختیار کریں۔ ان میں بیشتر لوگ اگرچہ اس دین کی دشمنی پر تلے ہوئے ہیں لیکن ان میں ایسے لوگ بھی ہیں جو اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کررہے ہیں اور اللہ انھیں کھینچ کھینچ کر اپنی طرف لا رہا ہے۔ لیکن جو لوگ اس کی طرف متوجہ نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق انھیں ہدایت عطا نہیں فرماتا، بلکہ وہ توفیقِ ہدایت سے محروم ہوجاتے ہیں۔ وہ ایک غیور خدا ہے جو اس سے تضرع اور عاجزی سے بار بار مانگتا ہے تو آخر اللہ تعالیٰ اس کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور اسے اپنی توفیق سے نواز دیتا ہے۔ لیکن اس کے لیے شرط یہ ہے کہ وہ ہر طرف سے کٹ کر اللہ تعالیٰ ہی سے لو لگائے۔ اور اس عزم کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے دست سوال دراز کرے : ہر تمنا دل سے رخصت ہوگئی اب تو آجا اب تو خلوت ہوگئی
Ayah 42:14

وَ مَا تَفَرَّقُوْۤا اِلَّا مِنْۢ بَعْدِ مَا جَآءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْیًۢا بَیْنَهُمْ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّكَ اِلٰۤى اَجَلٍ مُّسَمًّى لَّقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْكِتٰبَ مِنْۢ بَعْدِهِمْ لَفِیْ شَكٍّ مِّنْهُ مُرِیْبٍ Open ayah 42:14 in the Quran reader

اور وہ لوگ متفرق نہیں ہوئے مگر صحیح علم آچکنے کے بعد محض ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہوئے، اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات ایک مدت معین کے لیے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان فوراً فیصلہ کردیا جاتا۔ اور بیشک جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں

وَمَا تَفَرَّقُوْٓا اِلاَّ مِنْ م بَعْدِ مَاجَآئَ ھُمُ الْعِلْمُ بَغْیًا م بَیْنَھُمْ ط وَلَوْلاَ کَلِمَۃٌ سَبَقَتْ مِنْ رَّبِّکَ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسْمًّی لَّقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّ الَّذِیْنَ اُوْرِثُوا الْـکِتٰبَ مِنْ م بَعْدِ ھِمْ لَفِیْ شَکٍّ مِّنْہُ مُرِیْبٍ ۔ (الشوری : 14) (اور وہ لوگ متفرق نہیں ہوئے مگر صحیح علم آچکنے کے بعد محض ایک دوسرے پر زیادتی کرتے ہوئے، اگر آپ کے رب کی طرف سے ایک بات ایک مدت معین کے لیے طے نہ پاچکی ہوتی تو ان کے درمیان فوراً فیصلہ کردیا جاتا۔ اور بیشک جو لوگ ان کے بعد کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اس کی طرف سے ایک الجھن میں ڈالنے والے شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ ) ہدایت و ضلالت کے اعتبار سے امتوں کا المیہ قوموں کی ہدایت و ضلالت کی تاریخ نہایت عبرت انگیز ہے۔ قریش اور دیگر اہل عرب اگر آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کے نزول کے بعد اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرنے سے ابا کررہے اور مخالفت پر تلے ہوئے ہیں تو یہ کوئی نئی بات نہیں، ان سے پہلی قوموں نے بھی اپنی طرف مبعوث ہونے والے انبیاء کے ساتھ یہی رویہ اختیار کیے رکھا۔ حالانکہ انبیاء کی معرفت حق ان کے پاس آچکا تھا۔ العلم سے مراد وہ اللہ تعالیٰ کا دین ہے جو وحی کے نتیجے میں پیغمبر پر اترتا ہے اور پیغمبر اپنی قوم تک اس کی ایک ایک بات کو پہنچاتا ہے۔ لیکن قوموں کے سامنے چونکہ اپنے ذاتی مفادات، امتیازات، تعصبات اور مصنوعی عزت و حرمت کے دعوے ہوتے ہیں جنھیں وہ باقی رکھنا بہرصورت ضروری سمجھتی ہیں۔ اس لیے جس طریقے سے بھی وہ حق آجانے کے بعد اپنی گمراہی کو باقی رکھ سکتے ہیں یا نئے نئے شوشے چھوڑ کر اپنے لیے کوئی امتیاز قائم کرسکتے ہیں تو وہ اس سے دریغ نہیں کرتے، بلکہ ہر ممکن طریقے سے حق کا راستہ روکنے اور اپنی ضد اور انتقام کو تسکین پہنچانے کے لیے جو ان سے ہوسکتا ہے نئے نئے اختلافات کی راہیں کھولتے ہیں۔ ہدایت و ضلالت کے حوالے سے ایک سوال اور اس کا جواب سوال یہ ہے کہ نزول حق کے بعد طبقاتِ باطل کو اپنی بقاء کی خاطر اختلافات کی جو دنیا بسانا پڑتی ہے اور جس کی وجہ سے انسان کی فکری اور معنوی زندگی میں محرومیاں پہاڑوں کی صورت اختیار کر جاتی ہیں۔ تو کیا یہ ضروری نہ تھا کہ ایسے لوگوں کو ان کے جرائم کی پاداش میں عذاب کی نذر کردیا جاتا۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسانوں کی ہدایت و ضلالت کے حوالے سے اپنی ایک سنت بنا رکھی ہے اور ایک فیصلہ کر رکھا ہے کہ ہر امت اور ہر گروہ کے لیے ایک مہلت عمل ہے اور اس کے خاتمے کے لیے ایک اجل مسمیٰ مقرر کر رکھی ہے۔ جب تک وہ مقررہ مدت نہیں آجاتی قوموں کی مہلت عمل چلتی رہتی ہے۔ اور جب وہ اجل مسمیٰ آجاتی ہے تو پھر اللہ تعالیٰ کے عذاب کا کوڑا برستا ہے اور اس قوم کا فیصلہ چکا دیا جاتا ہے۔ ان قوموں کو بھی ایسی ہی مہلت عمل کی وجہ سے زندگی ملتی رہی ہے اور قریش بھی اسی مہلت عمل سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ لیکن پہلی قوموں کے ساتھ ایک اور حادثہ بھی پیش آتارہا ہے جس کا امکان نبی آخرالزمان ﷺ کے بعد ختم کردیا گیا ہے۔ وہ حادثہ یہ تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پر تورات اتاری گئی۔ لیکن مرورایام کے بعد ایسا وقت بھی آیا کہ تورات تحریف کا شکار ہوگئی۔ عجیب و غریب ترمیمیں کی گئیں اور پھر سیاسی اور جنگی حوادث نے اسے یکسر مٹا ڈالا، اس کی جگہ جو نئی کتاب مرتب کی گئی اس میں اللہ تعالیٰ کی کتاب کے مندرجات کم، تاریخی حالات اور بنی اسرائیل کو پیش آنے والے واقعات زیادہ تھے۔ اب جب یہ تورات آنے والی نسلوں کو ملی تو وہ ایک نئی الجھن میں ڈالنے والے شک میں مبتلا ہوگئے۔ وہ اگر تورات کا انکار کرتے تھے تو ان کے سامنے کوئی روشنی کا سامان نہ تھا۔ اور اگر وہ اقرار کرتے تو کتاب، ترمیم، تحریف اور ازسرنو مرتب ہونے کی وجہ سے ایسی صورت اختیار کرچکی تھی جس میں قدم قدم پر ایسے شکوک و شبہات سر اٹھاتے تھے جن کی قابل قبول تاویل اور توجیہ ممکن نہ تھی۔ قریش کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہیے کہ ان کے سامنے قرآن جیسی روشن کتاب موجود ہے اور آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی مینارہ نور کے طور پر قدم قدم پر انھیں روشنی بہم پہنچا رہی ہے۔ اس کے باوجود اگر وہ حق سے منہ موڑتے اور اپنے مفادات کے گنبد سے باہر نکلنے کی کوشش نہیں کرتے تو وہ اپنے پیچھے داستانِ عبرت چھوڑ جائیں گے۔
Ayah 42:15

فَلِذٰلِكَ فَادْعُ١ۚ وَ اسْتَقِمْ كَمَاۤ اُمِرْتَ١ۚ وَ لَا تَتَّبِعْ اَهْوَآءَهُمْ١ۚ وَ قُلْ اٰمَنْتُ بِمَاۤ اَنْزَلَ اللّٰهُ مِنْ كِتٰبٍ١ۚ وَ اُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ رَبُّنَا وَ رَبُّكُمْ١ؕ لَنَاۤ اَعْمَالُنَا وَ لَكُمْ اَعْمَالُكُمْ١ؕ لَا حُجَّةَ بَیْنَنَا وَ بَیْنَكُمْ١ؕ اَللّٰهُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا١ۚ وَ اِلَیْهِ الْمَصِیْرُؕ Open ayah 42:15 in the Quran reader

پس آپ اسی دین کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں اور ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہی ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی، ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے

فَلِذٰلِکَ فَادْعُ ج وَاسْتَقِمْ کَمَآ اُمِرْتَ ج وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ ھُمْ ج وَقُلْ اٰمَنْتُ بِمَآ اُنْزَلَ اللّٰہُ مِنْ کِتٰبٍ ج وَاُمِرْتُ لِاَعْدِلَ بَیْنَـکُمْ ط اَللّٰہُ رَبُّـنَا وَرَبُّـکُمْ ط لَـنَـآ اَعْمَالُـنَا وَلَـکُمْ اَعْمَالُـکُمْ ط لاَحُجَّۃَ بَیْنَنَا وَبَیْنَـکُمْ ط اَللّٰہُ یَجْمَعُ بَیْنَنَا ج وَاِلَیْہِ الْمَصِیْرُ ۔ (الشوری : 15) (پس آپ اسی دین کی دعوت دیں اور اس پر جمے رہیں جیسا کہ آپ کو حکم دیا گیا ہے اور ان کی خواہشات کا اتباع نہ کریں اور ان سے کہہ دیجیے کہ اللہ نے جو کتاب اتاری ہے میں اس پر ایمان لایا ہوں، اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں، اللہ ہی ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی، ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، ہمارے اور تمہارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں، اللہ ہم سب کو جمع کرے گا اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔ ) آنحضرت ﷺ کو استقامت کی تلقین اس سے پہلے بتایا جا چکا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمام انبیائے کرام کی طرف ایک ہی دین بھیجا تھا، لیکن لوگوں نے اس میں تفرقے پیدا کردیئے۔ تفرقوں کا سبب کبھی تو الحاد ہوا اور کبھی دین سے انحراف۔ کبھی لوگوں کے اپنے مفادات کی پاسبانی اور کبھی اپنی فتوحات کے باقی رکھنے کی فکر۔ اور کبھی قومی اور علاقائی تعصبات۔ ان مختلف عوارض نے انسانوں کی وحدت کو تباہ کیا اور وہ مختلف تفرقوں میں بٹ کر حق سے دور ہوگئے۔ ایسی صورتحال میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ کی طرف جو دین بھیجا گیا ہے یہ وہی دین ہے جو تمام انبیائے کرام پر نازل ہوا تھا۔ لوگوں نے اگرچہ اس کی شکل بگاڑ ڈالی ہے لیکن آپ ہر طرف سے بےنیاز ہو کر اسی خالص دین کی دعوت لوگوں کے سامنے رکھیں۔ مختلف عصبیتوں کے پر چارک اور مختلف آستانوں کے پاسبان یقینا آپ کی مخالفت میں آسمان سر پر اٹھا لیں گے اور آپ کے بارے میں عجیب و غریب اتہامات باندھیں گے۔ لیکن آپ ان کی مطلق پرواہ نہ کریں اور ہرحال میں ثابت قدم رہ کر لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے خالص دین کی طرف بلائیں۔ ان میں بہت سے لوگ ہمدردوں کی صورت میں آپ سے کمپرومائز کرنے کی کوشش کریں گے۔ ان کا مقصد یہ ہوگا کہ وہ کسی طرح اپنی خواہشات کو آپ کے دین میں داخل کرنے میں کامیاب ہوجائیں۔ اور اپنے اوہام و خرافات کو دین کا حصہ بنادیں۔ آپ ان کی ایسی ہر بات کو ٹھکرا دیں اور ان کی کسی خواہش کی پرواہ نہ کریں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے دین میں رسوم و بدعات کی پیوندکاری نہیں کی جاسکتی۔ مخالفین کے انتہائی اصرار پر آپ ان سے صاف صاف کہہ دیں کہ تم نے جن باتوں کے حق میں آستینیں چڑھا رکھی ہیں اور مرنے مارنے پر تلے ہوئے ہو، تم بتائو ان میں سے کسی بات کی تمہارے پاس سند موجود ہے۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر میں تمہاری بات کیسے مان لوں جبکہ میں ایک ایسی کتاب پر ایمان لایا ہوں جو اللہ تعالیٰ نے مجھ پر اتاری ہے۔ اور جس کے حق اور سچ ہونے میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا۔ اور پھر مجھے پروردگار نے ایک کارخاص کے لیے مجھے بھیجا ہے اور وہ یہ ہے کہ تم نے دین میں جتنے تفرقے پیدا کرلیے ہیں ان میں تمہارے پاس صحیح بات کو جاننے کا کوئی ذریعہ نہیں ہے۔ ہر شخص اپنے فرقے کے حق اور سچ ہونے کا داعی ہے۔ لیکن ان تمام دعاوی میں سچائی کس کے ساتھ ہے، اس کے جاننے کی کوئی صورت نہیں۔ مجھے اللہ تعالیٰ نے اسی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے بھیجا ہے۔ میں اللہ تعالیٰ کا رسول ہوں، میرا کام یہ ہے کہ میں تمہیں یہ بتائوں کہ کیا حق ہے اور کیا باطل۔ کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ۔ اور کون سا راستہ صراط مستقیم ہے۔ میں تمہارے درمیان انصاف کرنے کے لیے آیا ہوں۔ بنابریں تم مجھ سے اپنی بدعات و خرافات کی پیروی کی توقع نہ رکھو۔ بلکہ اگر تمہیں اللہ تعالیٰ توفیق دے تو مجھ سے یہ جاننے کی کوشش کرو کہ تم میں سے کس کے ساتھ کتنا حق ہے اور کتنا باطل۔ اور اللہ تعالیٰ کا اصلی دین کیا ہے۔ پھر مخالفین کو تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمارا بھی رب ہے اور تمہارا بھی رب ہے۔ ہم سب کو اسی کے سامنے پیش ہونا ہے، وہاں ہمارے اعمال ہمارے کام آئیں گے اور تمہیں اپنے اعمال کا جواب دینا ہوگا۔ نہ ہم سے تمہارے متعلق پوچھا جائے گا بجز اس کے کہ ہم نے تبلیغ و دعوت کا فرض انجام دیا ہے یا نہیں۔ اور نہ تم سے ہمارے متعلق پوچھا جائے گا۔ اسی سے ملتی جلتی بات سورة یونس میں فرمائی گئی ہے : وَاِنْ کَذَّبُوْکَ فَقُلْ لِّیْ عَمَلِیْ وَلَـکُمْ عَمَلُـکُمْ اَنْتَ بِرِیْؤُنَ مِمَّا اَعْمَلُ وَاَنَا بِرِیْ مِمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ ” اور اگر وہ آپ کو جھٹلاتے ہیں تو کہہ دیجیے کہ میرے لیے میرا عمل ہے اور تمہارے لیے تمہارا عمل، تم بری ہو میرے عمل سے اور میں بری ہوں تمہارے اعمال سے۔ “ آخر میں فرمایا کہ اگر اس افہام و تفہیم اور معقول دلائل کی فراہمی کے بعد بھی بات تمہاری سمجھ میں نہیں آتی اور تم ہرحال میں اپنی بات پر اڑے رہنا چاہتے ہو، تو پھر ہمارے اور تمہارے درمیان مزید طول کلام کی ضرورت نہیں۔ کیونکہ مقصود بات کو واضح کرنا ہے، بحث کو بڑھانا نہیں۔ اب معاملہ اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے، وہ ایک نہ ایک دن سب کو جمع کرے گا اور فیصلہ فرمائے گا۔ اور اس میں کوئی شبہ ہی نہیں کہ ہم سب کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔
Ayah 42:16

وَ الَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰهِ مِنْۢ بَعْدِ مَا اسْتُجِیْبَ لَهٗ حُجَّتُهُمْ دَاحِضَةٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَ عَلَیْهِمْ غَضَبٌ وَّ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:16 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں حجت کررہے ہیں، بعد اس کے کہ اس کو قبول کیا جاچکا ہے ان کی حجت ان کے رب کے پاس بالکل باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے

وَالَّذِیْنَ یُحَآجُّوْنَ فِی اللّٰہِ مِنْ م بَعْدِ مَااسْتُجِیْبَ لَـہٗ حُجَّتُھُمْ دَاحِضَۃٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ وَعَلَیْہِمْ غَضَبٌ وَّلَہُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ۔ (الشوری : 16) (اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں حجت کررہے ہیں، بعد اس کے کہ اس کو قبول کیا جاچکا ہے ان کی حجت ان کے رب کے پاس بالکل باطل ہے اور ان پر اس کا غضب ہے اور ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ) یُحَآجُّوْنَکا مصدر مُحَآجَّۃٌ ہے۔ اس کا معنی مجادلہ اور کٹ حجتی کرنا ہے۔ فِی اللّٰہِاس میں اللہ سے پہلے مضاف محذوف ہے۔ یعنی فِیْ دِیْنِ اللّٰہِ یا فِیْ تَوْحِیدِاللّٰہِ ۔ کٹ حجتی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں مکہ کا جب کوئی شخص آنحضرت ﷺ کی دعوت سے متأثر ہو کر اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرلیتا تھا تو اس کے قبیلے اور اس کے جان پہچان کے لوگوں میں مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوتا تھا۔ اس کی معاشرتی حیثیت اور اس کی رسمی شخصیت کو نظرانداز کرتے ہوئے ہر طرف سے اس پر کلماتِ قبیحہ کی بوچھاڑ ہوتی تھی۔ لوگ ہاتھ دھو کے اس کے پیچھے پڑجاتے تھے۔ اس کے قبیلے اور اس کے دوست احباب میں نئے دین کے حوالے سے ایک نہ ختم ہونے والی بحث چھڑ جاتی تھی اور کوشش یہ ہوتی تھی کہ اس نومسلم کو دوبارہ جاہلیت کی طرف لوٹنے پر مجبور کردیا جائے۔ اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرلیتا ہے تم اس سے ایک نئی بحث چھیڑ دیتے ہو حالانکہ مکہ کی فضا میں اللہ تعالیٰ کے دین کو اختیار کرنا آسان فیصلہ نہیں۔ اس نے یقینا سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کیا ہوگا اور پھر اس سے پہلے جو لوگ اللہ تعالیٰ کے دین کو اختیار کرچکے ہیں انھوں نے بھی یقینا تمام پہلوئوں پر غور و فکر کیا ہوگا۔ اور مزید یہ کہ یہ دین کوئی نیا دین نہیں۔ حضرت نوح (علیہ السلام) سے لے کر آنحضرت ﷺ تک اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہی دین نازل ہوتا رہا ہے۔ تو آج اس میں ایسی کیا نئی بات پیدا ہوگئی ہے کہ لوگوں نے اسے بحث کا موضوع بنا لیا ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ اگر اس حجت بازی میں ذرا بھی معقولیت ہوتی تو تمام مذاہب اس پر کبھی متفق نہ ہوتے اور تمام رسولوں کا کبھی اس پر اتفاق نہ ہوتا۔ تم جو کچھ کہہ رہے ہو وہ کٹ حجتی کے سوا کچھ نہیں اور کٹ حجتی اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ ایسا کرنے والوں پر ہمیشہ اس کا غضب بھڑکتا ہے اور آخرت میں وہ عذاب شدید کا شکار ہوں گے۔
Ayah 42:17

اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ Open ayah 42:17 in the Quran reader

اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور میزان نازل کی، اور آپ کیا جانیں شاید فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو

اَللّٰہُ الَّذِیْٓ اَنْزَلَ الْـکِتٰبَ بِالْحَقِّ وَالْمِیْزَانَ ط وَمَا یُدْرِیْکُ لَعَلَّ السَّاعَۃَ قَرِیْبٌ۔ (الشوری : 17) (اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب اتاری اور میزان نازل کی، اور آپ کیا جانیں شاید فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔ ) قرآن حق و باطل میں میزان ہے اس سے متعلق جواب دہی کی فکر کرو گزشتہ آیت سے پیوستہ آیت میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی زبان سے یہ اعلان کروایا کہ تم میری حیثیت کو اچھی طرح سمجھ لو، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں۔ چناچہ جس پروردگار نے مجھے اس کا حکم دیا ہے اسی نے مجھ پر ایک ایسی کتاب اتاری ہے کہ جس کو حق کے ساتھ نازل فرمایا ہے۔ یعنی اس کی کوئی بات بھی حق سے ہٹی ہوئی نہیں، بلکہ اس کا ہر فیصلہ اور اس کا ہر حکم حق کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ مزید فرمایا کہ مجھ پر اللہ تعالیٰ نے میزان بھی نازل فرمائی ہے۔ یہ قرآن کا بیان ہے یعنی جس طرح اس کتاب کا ایک ایک حرف حق اور سچ کی علامت ہے اسی طرح اس کتاب میں جو نظام عطا فرمایا گیا ہے اور اس کتاب میں جو شریعت نازل کی گئی ہے اس کی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ترازو کی طرح تول کر صحیح اور غلط، حق اور باطل، ظلم اور عدل کا فرق واضح کردیتی ہے۔ اس میں جس اعتدال کے ساتھ حقوق اللہ کو بیان کیا گیا ہے اسی اعتدال کے ساتھ حقوق العباد کو بھی بیان فرمایا گیا ہے۔ مختلف مذاہب نے جس طرح حقوق اللہ اور حقوق العباد میں افراط وتفریط سے کام لیا اور جس طرح اللہ تعالیٰ کی صفات میں بےبصیرتی کا ثبوت دیتے ہوئے انسانی صفات کے ساتھ اس طرح اس کا تعلق قائم کیا کہ باہمی فرق کرنا مشکل ہوگیا۔ توحید اور شرک کو اس طرح آپس میں مدغم کیا گیا کہ دونوں کا امتیاز ان کے لیے معمہ بن کر رہ گیا۔ اسلامی شریعت نے جس طرح انسانی اعمال کو اعتدال کی راہ پر چلایا اسی طرح اس نے اللہ تعالیٰ کی صفات کو بھی اس طرح کھول کر بیان کیا کہ خالق اور مخلوق کے درمیان کہیں بھی یکسانی کا تصور پیدا نہیں ہوا۔ اور اللہ تعالیٰ کا بندوں کے ساتھ تعلق اس قدر واضح انداز میں اور عملی نزاکتوں کے ساتھ واضح کیا گیا کہ اس میں کسی قسم کا التباس باقی نہ رہا۔ تنزیہ صفات میں ایسا اعتدال قائم کیا کہ تعطیل تک نوبت پہنچنے نہیں پائی اور اثبات نے ایسی صراط مستقیم پر چل کر دکھایا کہ تشبیہ کا شائبہ پیدا نہیں ہوا۔ اس طرح سے زندگی کے ہر شعبے میں عدل و انصاف کا ایسا معیار قائم کیا جس نے نہ کوئی ذہنی الجھن باقی چھوڑی اور نہ کوئی عملی دشواری پیدا ہوسکی۔ خوش نصیب ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت سے فائدہ اٹھا کر اپنی دنیا و عقبیٰ بنا لے، ورنہ قیامت بہت دور کا معاملہ نہیں، بہت قریب ہے۔ اس روز تو ہر معاملہ کھل کر سامنے آجائے گا۔ افراط وتفریط نمایاں ہوجائے گی، راستی اور ناراستی کو ممیز کردیا جائے گا۔ لیکن اس روز اس سے فائدہ اٹھانے کا وقت گزر چکا ہوگا۔ اب پچھتاوے کے سوا اور کچھ نہیں ہوگا۔
Ayah 42:18

یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ Open ayah 42:18 in the Quran reader

اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ آنے والی ہے، خبردار بیشک جو لوگ اس گھڑی کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں

یَسْتَعْجِلُ بِھَا الَّذِیْنَ لاَ یُؤْمِنُوْنَ بِھَا ج وَالَّدِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْھَا لا وَیَعْلَمُوْنَ اَنَّھَا الْحَقُّ ط اَلَآ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَۃِ لَفِیْ ضَلٰـلٍ م بَعِیْدٍ ۔ (الشوری : 18) (اس کے لیے جلدی مچاتے ہیں وہ لوگ جو اس پر ایمان نہیں رکھتے، اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ بیشک وہ آنے والی ہے، خبردار بیشک جو لوگ اس گھڑی کے بارے میں جھگڑ رہے ہیں وہ بہت دور کی گمراہی میں مبتلا ہیں۔ ) قیامت سے متعلق فکری اصلاح ضروری ہے قیامت کے بارے میں لوگوں کا رویہ عجیب ہے اور وہ بےسبب نہیں، اصل بات یہ ہے کہ جو لوگ قیامت کے آنے پر یقین نہیں رکھتے وہ محض اسے ایک ڈراوا سمجھتے ہیں اس لیے اس سے ڈرنے کی بجائے اس کا مذاق اڑاتے ہیں کہ اگر قیامت کو آنا ہوتا تو وہ کب کی آچکی ہوتی۔ بار بار ہمیں ڈراوا دیا جارہا ہے، لیکن وہ آنے کا نام نہیں لیتی، معلوم ہوتا ہے کہ اس کا جہاز کہیں راستے ہی میں رک گیا ہے۔ اور جو لوگ اس پر ایمان رکھتے ہیں انھیں اندازہ ہے کہ وہ کتنا ہولناک دن ہے اور اس روز انسانوں پر کیا گزرے گی۔ وہ اس کی ہولناکی کے تصور ہی سے کانپ کانپ جاتے ہیں۔ یہ دو رویئے جب تک باقی ہیں قیامت کے بارے میں یہ دونوں طرزعمل بھی باقی رہیں گے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ جن لوگوں کو اس کے آنے کا یقین نہیں، ان کے اندر یقین پیدا کیا جائے۔ اس لیے آیت کے آخر میں فرمایا کہ جو لوگ قیامت کے بارے میں جھگڑا کرتے ہیں اور اتنی واضح حقیقت کو سمجھنے کی کوشش نہیں کرتے وہ درحقیقت بہت دور کی گمراہی میں جا پڑے ہیں کیونکہ قیامت پر ایمان درحقیقت انسان کو صحیح نہج اختیار کرنے، حقیقی منزل کا شعور پیدا کرنے اور اپنی عملی زندگی میں صالح تبدیلیاں لانے کی ضمانت دیتا ہے۔ اس کے بغیر انسانی زندگی میں تبدیلی کا محض خواب ہی دیکھا جاسکتا ہے۔
Ayah 42:19

اَللّٰهُ لَطِیْفٌۢ بِعِبَادِهٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآءُ١ۚ وَ هُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ۠ Open ayah 42:19 in the Quran reader

اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بخشتا ہے وہ بڑی قوت والا ہے اور زبردست ہے

اَللّٰہُ لَطِیْفٌ م بِعِبَادِہٖ یَرْزُقُ مَنْ یَّشَآئُ ج وَھُوَالْقَوِیُّ الْعَزِیْزُ ۔ (الشوری : 19) (اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے وہ جس کو چاہتا ہے رزق بخشتا ہے وہ بڑی قوت والا ہے اور زبردست ہے۔ ) نافرمانوں کو ڈھیل دینے کی حکمت گزشتہ آیت کے مضمون پر ایک اعتراض وارد ہوتا ہے کہ جو لوگ قیامت پر واضح دلائل کے باوجود ایمان نہیں لاتے بلکہ اس کا مذاق اڑاتے ہیں ایسے لوگ اس قابل نہیں کہ انھیں مہلت دی جائے، انھیں تو فوری سزا ملنی چاہیے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی ذات بہت لطیف یعنی مہربان ہے۔ اور یہ مہربان کا لفظ بھی اس کی رأفت کے مضمون کو واضح نہیں کرتا۔ اسی رأفت کا نتیجہ ہے کہ کچھ لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے جبکہ اس پر دلائل بالکل واضح ہیں اور پھر اس کا مذاق بھی اڑاتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ انھیں مہلت پہ مہلت دیئے جاتا ہے۔ حتیٰ کہ ان کی کسی ضرورت کو روکنا بھی گوارا نہیں فرماتا۔ نہایت باریک بینی سے ان کی تمام ضرورتوں کو پورا فرماتا ہے اور اپنے خزانوں سے جتنا چاہتا ہے رزق عنایت فرماتا ہے۔ عذاب لانے میں جلدی نہ کرنا اور گرفت میں مہلت دیتے چلے جانا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ وہ قوی اور غالب ہے، اسے یہ اندیشہ نہیں کہ مہلت مل جانے سے کوئی شخص اس کی گرفت سے بچ کر نکل جائے گا۔ جلدی وہ کیا کرتا ہے جسے شکار کے نکل جانے کا اندیشہ ہوتا ہے۔
Ayah 42:20

مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ Open ayah 42:20 in the Quran reader

جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دے دیتے ہیں، اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں

مَنْ کَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَۃِ نَزِدْلَـہٗ فِیْ حَرْثِہٖ ج وَمَنْ کَانَ یُرْیِدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِہٖ مِنْھَا وَمَا لَـہٗ فِی الْاٰخِرَۃِ مِنْ نَّصِیْبٍ ۔ (الشوری : 20) (جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ہم اس کی کھیتی کو بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اسے دنیا ہی میں سے دے دیتے ہیں، اور آخرت میں اس کے لیے کوئی حصہ نہیں۔ ) انسان ایک کسان ہے محنت کے مطابق پھل پائے گا گزشتہ آیت کریمہ میں یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جس طرح اپنے ہر بندے کو وجود بخشا اور اس کے امکانات عطا کیے اور ضرورت کے مطابق صلاحیتوں سے نوازا ہے، اسی طرح ہم نے ہر بندے کو رزق بھی عطا کیا ہے۔ اس میں جس طرح بندوں کی ضرورتوں کا لحاظ کیا جاتا ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اپنی حکمت کی پاسداری بھی فرماتا ہے۔ اس کی حکمت کا تقاضا یہ ہے کہ انسانوں کے رزق میں ایک تفاوت رکھا جائے ورنہ رزق میں سب کے لیے یکسانی اور برابری زندگی کے نظام کہ تہ وبالا کردے گی اور انسان ایک دوسرے کے لیے مفید بننے کی بجائے نفع و ضرر سے بےنیاز ہوجائیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک مزید حقیقت کو واضح فرمایا گیا ہے کہ انسانوں کو زندگی کے امکانات سے فائدہ اٹھانے کے لیے قوتیں اور صلاحیتیں تو اللہ تعالیٰ عطا فرماتا ہے لیکن ان سے کام لے کر اپنے لیے بہتر مقام پیدا کرنا اس کا دارومدار انسان کی اپنی ضرورت، اپنی ہمت اور کوشش پر ہے۔ لیکن قدرت نے مزید کرم یہ فرمایا ہے کہ اس نے انسانوں کے سامنے دو راستے کھول دیئے ہیں۔ ایک راستہ آخرت کی طرف جاتا ہے اور دوسرا راستہ دنیا کی طرف۔ اور ہر شخص کو آزادی دے دی ہے کہ وہ اپنی صلاحیتوں کا رخ دنیا بنانے کی طرف کرے یا آخرت بنانے کی طرف۔ اس بات کی تفہیم و تسہیل کے لیے ایک مثال بھی دی گئی ہے کہ انسان بنیادی طور پر ایک کسان ہے۔ جس طرح ایک کسان کو زمین دے کر اور زمین سے کام لینے کے لیے مطلوبہ توانائیاں عطا کرکے اور مقاصد کو واضح فرما کر زمین سے کام لینے کے لیے آزاد چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اس طرح اس کسان کو بھی ایک زمین دی گئی ہے وہ اس کا جسم اور جان ہے۔ اور اس کے حواس اور اس کی عقل وہ ہتھیار ہیں جس سے وہ زمین کو جوتے گا اور اپنا مقصد حاصل کرے گا۔ البتہ اس زمین میں کاشت کرنے کے لیے اس کے سامنے دو طرح کے بیج رکھے گئے ہیں۔ ایک بیج وہ ہے جو دنیا کی فصل اگاتا اور انسان کی حیوانی ضروریات کو آگے بڑھاتا ہے۔ اور دوسرا بیج وہ ہے جس سے آخرت کی فصل تیار ہوتی ہے۔ اب یہ کسان کی اپنی صوابدید پر ہے کہ وہ اپنی زمین میں دنیا کا بیج اگاتا ہے یا آخرت کا۔ لیکن ان دونوں بیجوں میں انتخاب اور اس میں محنت کی آزادی فی الجملہ اسے حاصل ہے جس پر کوئی پابندی نہیں۔ لیکن اس آیت کریمہ میں اس بات کی وضاحت کے لیے مزید دو باتیں ارشاد فرمائی گئی ہیں وہ یہ کہ اگر کوئی شخص آخرت کا بیج بوتا اور اس کے لیے محنت کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے کہ ہم اس کی فصل کے بارآور ہونے میں خصوصی مدد دیتے ہیں۔ اور اپنی طرف سے اس میں اضافہ فرماتے ہیں۔ وہ اگر ایک نیکی کرتا ہے تو دوسری نیکی کا راستہ اس کے لیے کھول دیا جاتا ہے۔ اور اگر مزید نیکیاں کرتا چلا جاتا ہے تو آخرت میں اس کے لیے اس میں کم از کم دس گنا اضافہ کردیا جائے گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ اس کے خشوع خضوع اور اخلاص کو دیکھتے ہوئے اس اضافے میں غیرمعمولی برکت دے دی جائے۔ لیکن جہاں تک دنیا کا تعلق ہے اسے دنیا سے محروم نہیں کیا جاتا۔ وہ اس کی ہمت اور محنت کے مطابق برابر اس کو ملے گی۔ البتہ یہ ہوسکتا ہے کہ کبھی اسے آزمائش بنا کر اس میں کمی بیشی کا فیصلہ کیا جائے۔ اور جو شخص آخرت سے منہ پھیر کر یا بےنیاز ہو کر صرف دنیا بنانے کی فکر میں لگا رہتا ہے اس کے لیے اس آیت میں ایک بات واضح فرمائی گئی ہے کہ وہ دنیا طلبی میں چاہے کتنی محنت کرے اسے دنیا اتنی دی جائے گی جتنی اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے مقدر کی ہے۔ اور اس کے ساتھ دوسری ایک بات جو سب سے اہم ہے وہ یہ ہے کہ طالب دنیا کا آخرت میں کوئی حصہ نہیں ہوگا۔ اسے جو کچھ ملنا ہے وہ دنیا میں مل جائے گا، آخرت میں اس کے لیے محرومیوں کے سوا کچھ نہیں۔
Ayah 42:21

اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ Open ayah 42:21 in the Quran reader

کیا ان لوگوں کے ایسے شریک خدا بھی ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا، اگر فیصلہ کی مدت پہلے طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا، بیشک ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہے

اَمْ لَھُمْ شُرَکٰٓؤُا شَرَعُوْا لَہُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَالَمْ یَاْذَنْ م بِہِ اللّٰہُ ط وَلَوْ لاَ کَلِمَۃُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَھُمْ ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَھُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الشوری : 21) (کیا ان لوگوں کے ایسے شریک خدا بھی ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اذن اللہ نے نہیں دیا، اگر فیصلہ کی مدت پہلے طے نہ ہوگئی ہوتی تو ان کا فیصلہ کردیا جاتا، بیشک ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ ) دینِ مشرک پر اظہارِتعجب نہایت تعجب کے انداز میں پروردگار مشرکین کے حوالے سے یہ ارشاد فرما رہا ہے کہ تمام دنیا کے وہ لوگ جو مذہب سے رشتہ رکھتے ہیں وہ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ دین ہر دور میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ہی کی بڑائی اور عظمت سب کے نزدیک مُسلّم ہے اور اس عظمت کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کے احکام سب کے لیے واجب العمل ہوں۔ بنا بریں اسی کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ اپنے بندوں کے لیے زندگی گزارنے کا ایسا طریقہ عطا کرے جس پر عمل کرنا سب کے لیے ضروری ہو۔ یعنی کبریائی اور حاکمیت بھی اسی کی ہو اور عبادت بھی اسی کی، کی جائے۔ یہی وہ دین ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے بندوں کو ملتا رہا ہے۔ لیکن کس قدر عجیب بات ہے کہ یوں تو اہل کتاب نے بھی تحلیل و تحریم کا حق اپنے احبارو رھبان کو دے دیا ہے۔ لیکن مشرکینِ مکہ نے تو اپنی زندگی کے ہر شعبے کے لیے ایسے طریقے اختیار کرلیے ہیں اور جنھیں وہ سب کے لیے لازم سمجھتے ہیں اور جن کا تعلق اللہ تعالیٰ سے کم اور غیروں سے زیادہ ہے۔ اس میں عبادات بھی شامل ہیں اور افکار و عقائد بھی۔ اس میں اخلاقیات کو بھی غیر اللہ کی طرف منسوب کیا جاتا ہے اور تہذیب و ثقافت کو بھی۔ جن جن قوتوں کی طرف انھوں نے یہ سب کچھ منسوب کر رکھا ہے وہی درحقیقت اللہ تعالیٰ کے وہ شریک ہیں جن کی بندگی اور اطاعت کو وہ لازمی سمجھتے ہیں۔ کیونکہ دین کے لفظ سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد وہ قوتیں نہیں جنھیں صرف پوجا پاٹ کے لیے استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے سامنے عبادت کے مراسم ادا کیے جاتے ہیں۔ بلکہ اس سے مراد وہ قوتیں یا وہ انسان ہیں جن کی حکمرانی افکار و عقائد پر بھی ہے اور اخلاقی اصولوں سے لے کر تہذیب و ثقافت تک بھی۔ ہر معاملے میں ان سے رہنمائی لی جاتی ہے، انھیں کے طریقے پر حکومتیں چلتی اور آئین بنتے ہیں۔ انھیں کی رہنمائی میں دماغوں کے سانچے ڈھلتے اور تعلیمی افکار وجود میں آتے ہیں۔ وہ مذہبی زبان میں بیشک انھیں خدائی کا درجہ نہ دیں لیکن اطاعت و بندگی میں ان کا وہی مقام ہے جو اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے دین کا ہوتا ہے۔ کیمونزم کے ماننے والے اپنا سب کچھ کارل مارکس کو سمجھتے ہیں۔ چین میں ایک وقت تک اس کیمونزم کی اطاعت کی گئی جو مائوزے تنگ سے منسوب تھا۔ اور ہمارے افکار و عقائد اور نظریات اور فلسفوں میں کتنی ایسی شخصیات ہیں جو مختلف مکاتب کی بانی ہیں اور سرمایہ دار ملکوں میں ان کو وہی مقام حاصل ہے جو مذہب نے خالق کائنات کے لیے تجویز کر رکھا ہے جس طرح غیر اللہ کی عبادت حرام ہے، اسی طرح غیر اللہ کی غیرمشروط اطاعت بھی حرام ہے۔ اور اسی طرح افکار و نظریات اور تحلیل و تحریم میں جو حیثیت پروردگارِعالم کو حاصل ہے وہی کسی اور کو کسی بھی نام سے دینا شرک اور حرام ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے سوا یہ اختیارات کسی اور کو تفویض نہیں فرمائے۔ جس طرح وہ اپنی ذات میں یکتا ہے، اسی طرح وہ اپنی صفات اور اپنے حقوق میں بھی یکتا ہے۔ اور یہ اتنا بڑا جرم ہے کہ جب بھی کہیں اس کا صدور ہوتا ہے تو اس کا لازمی تقاضا ہے کہ اس کا ارتکاب کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجائے۔ چناچہ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ نے ان کے فیصلے کے لیے ایک وقت مقرر نہ کردیا ہوتا تو یقینا ایسے لوگوں کا قصہ تمام کردیا جاتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کا فیصلہ یہ ہے کہ اس نے دنیا کو دارالعمل قرار دے کر مہلت عمل دے رکھی ہے اور آخرت کو دارالجزاء ٹھہرایا ہے۔ چناچہ جب تک اس کی مہلت کا وقت ختم نہیں ہوتا اس وقت تک اللہ تعالیٰ کا عذاب نہیں آتا۔ ورنہ اس جرم کا تقاضا یہی تھا کہ جیسے ہی اس جرم کا صدور ہوتا اس کے کرنے والوں پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوجاتا۔ لیکن ایسا کرنے والوں کو کسی خودفریبی میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے، ایسا شرک کرنے والے ہی قرآن کی زبان میں ظالم ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب تجویز کر رکھا ہے۔
Ayah 42:22

تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ Open ayah 42:22 in the Quran reader

آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے وہ بہشتوں کے باغیچوں میں ہوں گے اور ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، یہی وہ سب سے بڑا فضل ہے

تَرَی الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا کَسَبُوْا وَھُوَ وَاقِعٌ م بِہِمْ ط وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوالصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ ج لَھُمْ مَّایَشَآئُ وْنَ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَضْلُ الْـکَبِیْرُ ۔ (الشوری : 22) (آپ ظالموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنے اعمال کے انجام سے ڈر رہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا، اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے وہ بہشتوں کے باغیچوں میں ہوں گے اور ان کے لیے ان کے رب کے پاس وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، یہی وہ سب سے بڑا فضل ہے۔ ) آخرت میں ہر شخص کو اپنے اعمال سے سابقہ پیش آئے گا آنحضرت ﷺ سے خطاب ہے یا ہر مخاطب سے جو اہل جنت میں سے ہوگا، کہ آج یہ مشرکین بات سننے کے روادار نہیں، پٹھے پر ہاتھ نہیں دھرنے دیتے، بات بات پر نبی کریم ﷺ کا تمسخر اڑاتے اور اصحابِ ایمان کو مذاق کا نشانہ بناتے ہیں، لیکن آپ ان ظالموں کو قیامت کے روز دیکھیں گے کہ وہ اپنے دنیا میں کیے ہوئے اعمال کے حوالے سے لرزاں اور ترساں ہوں گے۔ آج تو وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ قیامت کے روز ہماری شفاعت کریں گے اس لیے ہمیں قیامت کی سزا سے کیا ڈرنا۔ لیکن جب وہ قیامت کے دن دیکھیں گے کہ کوئی ان کی سفارش کرنے کی جرأت نہیں کرتا، تو انھیں یقین آجائے گا کہ آج ایمان و عمل کے سوا کوئی سکہ چلنے والا نہیں۔ اور پھر جب اپنے اعمال کا جائزہ لیں گے تو وہاں سوائے مشرکانہ رسوم اور اللہ تعالیٰ کے دین سے سرکشی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ تو انھیں اندازہ ہوجائے گا کہ ہمارا انجام کیا ہونے والا ہے۔ لیکن ان کے اس لرزاں اور ترساں ہونے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جس عذاب کا ان کے لیے فیصلہ ہوچکا ہے وہ عذاب ان کے سر پر ضرور پڑے گا اور وہ کسی تدبیر سے اسے دفع نہ کرسکیں گے۔ البتہ جو لوگ ان کی تمام تر مخالفت اور تمسخر کے باوجود بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے دین پر ایمان لائے اور انھوں نے آنحضرت ﷺ کے احکام اور ہدایت کے مطابق زندگی گزاری اور اپنا ایک ایک عمل شریعت کے مطابق کیا وہ اس روز جنت کے باغیچوں میں ہوں گے۔ جس طرح جنتیں ایک سے زیادہ ہوں گی، اسی طرح ہر جنت میں مختلف باغیچے ہوں گے جسے اہل جنت اپنی خوشی کے مطابق استعمال کریں گے۔ اور ان جنتوں کی سب سے بڑی بات یہ ہے کہ اہل جنت کو ان کے رب کے پاس ہر وہ نعمت ملے گی جس کی وہ خواہش کریں گے اور یہ ایسی بات ہے کہ دنیا کے حکمران بھی کبھی اس کا تصور نہیں کرسکتے کیونکہ ہر چیز کا حاصل کرنا انسان کی قدرت سے ماورا ہے۔ اور یہی وہ فضل کبیر ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اہل جنت کو خصوصی انعام کے طور پر ملنے والا ہے۔