42. Surah Ash-Shura

الشورىConsultation · 53 ayahsروح القرآن

Ayah 42:23

ذٰلِكَ الَّذِیْ یُبَشِّرُ اللّٰهُ عِبَادَهُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ١ؕ قُلْ لَّاۤ اَسْئَلُكُمْ عَلَیْهِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّةَ فِی الْقُرْبٰى١ؕ وَ مَنْ یَّقْتَرِفْ حَسَنَةً نَّزِدْ لَهٗ فِیْهَا حُسْنًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ شَكُوْرٌ Open ayah 42:23 in the Quran reader

یہ ہے وہ چیز جس کی بشارت اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میں اس پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، بس قرابت کا حق ہے جو ادا کررہا ہوں جو شخص کوئی نیکی کرے گا تو ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے، بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور بڑی قدرافزائی کرنے والا ہے

ذٰلِکَ الَّذِیْ یُبَشِّرُاللّٰہُ عِبَادَہُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ ط قُلْ لَّآ اَسْئَلُـکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی ط وَمَنْ یَّفْتَرِفْ حَسَنَۃً نَّزِدْلَـہٗ فِیْھَا حُسْنًا ط اِنَّ اللّٰہَ غَفُوْرٌ شَکُوْرٌ۔ (الشوری : 23) (یہ ہے وہ چیز جس کی بشارت اللہ اپنے ان بندوں کو دیتا ہے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے۔ اے پیغمبر کہہ دیجیے کہ میں اس پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں، بس قرابت کا حق ہے جو ادا کررہا ہوں جو شخص کوئی نیکی کرے گا تو ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے، بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور بڑی قدرافزائی کرنے والا ہے۔ ) فضل کبیر کی وضاحت اوپر کی آیت میں جس فضل کبیر کا ذکر فرمایا گیا ہے پیش نظر آیت میں اس کی مزید وضاحت فرمائی گئی ہے۔ یہ فضل عظیم وہ دولت ہے اللہ تعالیٰ جس کی بشارت اپنے بندوں کو دیتا ہے، لیکن تمام بندوں کو نہیں، ان بندوں کو جو اس کی کبریائی اور الوہیت پر ایمان لاتے ہیں اور آنحضرت ﷺ کی اطاعت اور اتباع میں اپنے ایک ایک عمل کا سانچہ تیار کرتے ہیں۔ ایمان و عمل اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے لیکن اس کی منزل ہمیشہ وہ چیز ہونی چاہیے جس کی یہاں بشارت دی گئی ہے۔ اور یہی وہ ابدی بادشاہی ہے جو اہل جنت کو جنت میں حاصل ہوگی۔ مزید فرمایا کہ اسی ابدی بادشاہی کا تم میں استحقاق پیدا کرنے کے لیے شب و روز میرا رسول تم پر محنت کررہا ہے۔ لیکن تم اپنی نادانی اور حماقت سے یہ سمجھتے ہو کہ اس نے جس طرح اپنا سب کچھ اس خدمت کے لیے دائو پر لگا رکھا ہے اور اپنی شخصیت کو اس کے لیے پگھلا دیا ہے اور اپنی تمام صلاحیتوں کو اس کے لیے نچوڑ رہا ہے، اس میں شاید اس کا اپنا کوئی فائدہ ہے، اس لیے آنحضرت ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا ہے کہ میں اپنی اس شب و روز کی محنت پر تم سے کوئی صلہ نہیں مانگتا، میں تو صرف تمہیں ذروں سے آفتاب بنانے کی فکر میں ہوں، تمہیں ایسی انسانی اقدار سے وابستہ کرنا چاہتا ہوں جس پر ہمیشہ انسانیت فخر کرتی رہے گی۔ اس کی وجہ سے تمہیں دنیا میں سرفرازی ملے گی اور آخرت میں سرخروئی نصیب ہوگی۔ لیکن ہر وقت تمہارے لیے میری یہ کاوشیں صرف اس لیے ہیں کہ میں تم سے قرابت کا رشتہ رکھتا ہوں۔ میں صرف یہ چاہتا ہوں کہ میں اس حق قرابت سے کسی نہ کسی طرح سبکدوش ہوجاؤں۔ کوئی کہنے والا یہ نہ کہہ سکے کہ غیروں نے آپ سے فیض پایا اور اور وہ دنیا کے امام بن گئے، لیکن آپ کے اپنے اس سے محروم کیوں رہے۔ تم میری قوم کے لوگ ہو اس لیے میں تمہیں اس ہدایت اور آگاہی سے زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچانا چاہتا ہوں جو اللہ تعالیٰ کی رحمت کو دعوت دیتی ہے۔ اس آیت کی تشریح میں کسی حد تک صاحب تفہیم القرآن نے تفصیل سے کام لیا ہے، افادہ عام کے لیے میں اسے نقل کررہا ہوں۔ اصل الفاظ ہیں اِلاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی یعنی میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا مگر ” قربیٰ “ کی محبت ضرور چاہتا ہوں۔ اس لفظ ” قربیٰ “ کی تفسیر میں مفسرین کے درمیان بڑا اختلاف واقع ہوگیا ہے۔ اِلاَّ الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی کا مفہوم ایک گروہ نے اس کو قرابت (رشتہ داری) کے معنی میں لیا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ” میں تم سے اس کام پر کوئی اجر نہیں چاہتا، مگر یہ ضرور چاہتا ہوں کہ تم لوگ (یعنی اہل قریش) کم از کم اس رشتہ داری کا تو لحاظ کرو جو میرے اور تمہارے درمیان ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ تم میری بات مان لیتے لیکن اگر تم نہیں مانتے تو یہ ستم تو نہ کرو کہ سارے عرب میں سب سے بڑھ کر تم ہی میری دشمنی پر تل گئے ہو۔ “ یہ حضرت عبداللہ بن عباس کی تفسیر ہے جسے بکثرت راویوں کے حوالہ سے امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابن جریر، طبرانی، بہیقی اور ابن سعد وغیرہم نے نقل کیا ہے اور یہی تفسیر مجاہد، عکرمہ، قتادہ، سُدی، ابومالک، عبدالرحمن بن زید، بن اسلم، ضحاک، عطاء بن دینار اور دوسرے اکابر مفسرین نے بھی بیان کیا ہے دوسرا گروہ ” قربیٰ “ کو قرب اور تقرب کے معنی میں لیتا ہے اور آیت کا مطلب یہ بیان کرتا ہے کہ ” میں تم سے اس کام پر کوئی اجر اس کے سوا نہیں چاہتا کہ تمہارے اندر اللہ تعالیٰ کے قرب کی چاہت پیدا ہوجائے۔ “ یعنی تم ٹھیک ہوجاؤ، بس یہی میرا اجر ہے۔ یہ تفسیر حضرت حسن بصری سے منقول ہے، اور ایک قول قتادہ سے بھی اس کی تائید میں نقل ہوا ہے بلکہ طبرانی کی ایک روایت میں ابن عباس کی طرف بھی یہ قول منسوب کیا گیا ہے۔ خود قرآن مجید میں ایک دوسرے مقام پر یہی مضمون ان الفاظ میں ارشاد ہوا ہے : قُلْ مَآ اَسْئَلُکُمْ عَلَیْہِ مِنْ اَجْرٍ اِلاَّ مَنْ شَآئَ اَنْ یَّتَّخِذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً (الفرقان : 57) ” ان سے کہہ دو کہ میں اس کام پر تم سے کوئی اجرت نہیں مانگتا، میری اجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے رب کا راستہ اختیار کرلے۔ “ تیسرا گروہ ” قربیٰ “ کو اقارب (رشتہ داروں) کے معنی میں لیتا ہے، اور آیت کا مطلب یہ بیان کرتا ہے کہ ” میں تم سے اس کام پر کوئی اجر اس کے سوا نہیں چاہتا کہ تم میرے اقارب سے محبت کرو۔ “ پھر اس گروہ کے بعض حضرات اقارب سے تمام بنی عبدالمطلب مراد لیتے ہیں، اور بعض اسے صرف حضرت علی و فاطمہ اور ان کی اولاد تک محدود رکھتے ہیں۔ یہ تفسیر سعید بن جبیر اور عمرو بن شعیب سے منقول ہے، اور بعض روایات میں یہی تفسیر ابن عباس اور حضرت علی بن حسین ( زین العابدین) کی طرف منسوب کی گئی ہے لیکن متعدد وجوہ سے یہ تفسیر کسی طرح بھی قابل قبول نہیں ہوسکتی۔ اول تو جس وقت مکہ معظمہ میں سورة شوریٰ نازل ہوئی ہے اس وقت حضرت علی و فاطمہ کی شادی تک نہیں ہوئی تھی، اولاد کا کیا سوال۔ اور بنی عبدالمطلب میں سب کے سب نبی کریم ﷺ کا ساتھ نہیں دے رہے تھے، بلکہ ان میں سے بعض کھلم کھلا دشمنوں کے ساتھی تھے اور ابولہب کی عداوت کو تو ساری دنیا جانتی ہے۔ دوسرے نبی کریم ﷺ کے رشتہ دار صرف بنی عبدالمطلب ہی نہ تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ، آپ کے والد ماجد اور آپ کی زوجہ محترمہ حضرت خدیجہ کے واسطے سے قریش کے تمام گھرانوں میں آپ کی رشتہ داریاں تھیں۔ اور ان سب گھرانوں میں آپ کے بہترین صحابی بھی تھے اور بدترین دشمن بھی۔ آخر حضور ﷺ کے لیے یہ کس طرح ممکن تھا کہ ان سب اقرباء میں سے آپ صرف بنی عبدالمطلب کو اپنا رشتہ دار قرار دے کر اس مطالبہ محبت کو انہی کے لیے مخصوص رکھتے۔ تیسری بات، جو ان سب سے زیادہ اہم ہے، وہ یہ ہے کہ ایک نبی جس بلندمقام پر کھڑا ہو کر دعوت الی اللہ کی پکار بلند کرتا ہے، اس مقام سے اس کار عظیم پر یہ اجر مانگنا کہ تم میرے رشتہ داروں سے محبت کرو، اتنی گری ہوئی بات ہے کہ کوئی صاحب ذوق سلیم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو یہ بات سکھائی ہوگی اور نبی نے قریش کے لوگوں میں کھڑے ہو کر یہ بات کہی ہوگی۔ قرآن مجید میں انبیاء (علیہم السلام) کے جو قصے آئے ہیں ان میں ہم دیکھتے ہیں کہ نبی پر نبی اٹھ کر اپنی قوم سے کہتا ہے کہ میں تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، میرا اجر تو اللہ رب العالمین کے ذمہ ہے۔ (یونس 72، ہود 29۔ 51، الشعراء 109، 127، 145، 164، 180) سورة یٰسین میں نبی کی صداقت جانچنے کا معیار یہ بتایا گیا ہے کہ وہ اپنی دعوت میں بےغرض ہوتا ہے۔ (آیت 21) ۔ خود نبی کریم ﷺ کی زبان سے قرآن پاک میں بار بار یہ کہلوایا گیا ہے کہ میں تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ (الانعام 9، یوسف 104، المومنون 72، الفرقان 57، سبا 47، ص 86، الطور 40، القلم 46) ۔ اس کے بعد یہ کہنے کا آخر کیا موقع ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف بلانے کا جو کام کررہا ہوں اس کے عوض تم میرے رشتہ داروں سے محبت کرو۔ پھر یہ بات اور بھی زیادہ بےموقع نظر آتی ہے کہ جب ہم دیکھتے ہیں کہ اس تقریر کے مخاطب اہل ایمان نہیں بلکہ کفار ہیں۔ اوپر سے ساری تقریر انہی سے خطاب کرتے ہوئے ہوتی چلی ا آرہی ہے، اور آگے بھی روئے سخن انہی کی طرف ہے۔ اس سلسلہ کلام میں مخالفین سے کسی نوعیت کا اجر طلب کرنے کا آخر سوال ہی کہاں پیدا ہوتا ہے۔ اجر تو ان لوگوں سے مانگا جاتا ہے جن کی نگاہ میں اس کام کی کوئی قدر ہو جو کسی شخص نے ان کے لیے انجام دیا ہو۔ کفار حضور ﷺ کے کام کی کون سی قدر کررہے تھے کہ آپ ان سے یہ بات فرماتے کہ یہ خدمت جو میں نے تمہارے لیے انجام دی ہے اس پر تم میرے رشتہ داروں سے محبت کرنا۔ وہ تو الٹا اسے جرم سمجھ رہے تھے اور اس کی بنا پر آپ کی جان کے درپے تھے۔ (تفہیم القرآن) یہ ایک جملہ معترضہ تھا جسے آنحضرت ﷺ کی زبان سے کہلوایا گیا۔ اس کے بعد پھر اسی فضل کبیر کی وضاحت کرتے ہوئے مزید ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا عالم یہ ہے کہ اگر اس کے صاحب ایمان بندوں میں سے کوئی نیکی کرتا ہے تو صرف اس کی مجرد نیکی پر اس کے ساتھ معاملہ نہیں کیا جاتا بلکہ ہم اس کی نیکی میں خوبی کا مزید اضافہ کردیتے ہیں۔ اس کی چھوٹی سے چھوٹی نیکی میں بھی بیش از بیش بڑھنے کے امکانات پیدا کردیتے ہیں۔ اور اس کے صلے میں چنددرچند اضافہ کردیتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آخر میں اپنی دو صفات کا ذکر فرمایا ہے جن میں اسی فضل کبیر کی دو کیفیتوں کا ذکر ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ اگر ان صاحب ایمان بندوں کے کسی کام میں کوئی کو تاہیاں رہ جاتی ہیں یا ان سے کبھی خاص قسم کے لمحات میں کسی گناہ کا صدور ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ان سے چشم پوشی فرماتا ہے۔ اور اگر وہ نیکی کی چھوٹی سے چھوٹی پونجی بھی لے کر آتے ہیں تو اللہ تعالیٰ اسے نظرانداز نہیں کرتا بلکہ اس کی پرورش کرکے اس کو بڑھا دیتا ہے اور اس پر بیش از بیش اجر عطا فرماتا ہے۔
Ayah 42:24

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ Open ayah 42:24 in the Quran reader

کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، پس اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر کردے، اور اللہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو ثابت کرتا ہے، اپنے کلمات کے ذریعے سے، بیشک وہ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے

اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰی عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا ج فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰہُ یَخْتِمْ عَلٰی قَلْبِکَ ط وَیَمْحُ اللّٰہُ الْبَاطِلَ وَیُحِقُّ الْحَقَّ بِکَلِمٰتِہٖ ط اِنَّـہٗ عَلِیْمٌ م بِذَاتِ الصُّدُوْرِ ۔ (الشوری : 24) (کیا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اللہ پر جھوٹ باندھا ہے، پس اگر اللہ چاہے تو تیرے دل پر مہر کردے، اور اللہ باطل کو مٹاتا ہے اور حق کو ثابت کرتا ہے، اپنے کلمات کے ذریعے سے، بیشک وہ دلوں کے بھیدوں کو جاننے والا ہے۔ ) مخالفین کا قرآن کو افتراء قرار دینے کا جواب آنحضرت ﷺ کی دعوت کو بےاثر کرنے کے لیے مخالفین لوگوں کو یہ کہہ کر مطمئن کرنے کی کوشش کرتے تھے کہ یہ شخص جس کتاب کو منزل من اللہ کہتا ہے اور اسی بنا پر اپنے رسول ہونے کا دعویٰ کرتا ہے، اس کی حیثیت افتراء کے سوا کچھ نہیں ہے۔ یہ قرآن کریم کی مختلف آیات کو خود لکھتا، اس کی سورتوں کو خود مرتب کرتا اور محنت سے اس کی عبارتوں کو بناتا اور سنوارتا ہے، لیکن لوگوں پر اپنی برتری اور تقدس کا رعب جمانے کے لیے اپنی کوششوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتا ہے تاکہ لوگ اسے آسانی سے قبول کرلیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی اس جسارت کا ذکر کرتے ہوئے نہایت حیرت سے یہ بات فرمائی ہے کہ یہ بات قریش اور اہل مکہ کہہ رہے ہیں جبکہ آنحضرت ﷺ کی زندگی کتاب کی طرح ان کے سامنے ہے۔ وہ بچپن سے لے کر ڈھلتی عمر تک آپ کی زندگی کے ایک ایک دور سے واقف ہیں۔ انھیں خوب معلوم ہے کہ آپ کس بےداغ کردار کے مالک ہیں۔ اور انھیں اس بات کا بھی اعتراف ہے کہ جس کتاب کو وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پیش کررہے ہیں اس کی فصاحت و بلاغت، اس کی شگفتگی اور دلآویزی، اس میں پیش کیا جانے والا حیرت انگیز نظام زندگی، اس کی پیشگوئیاں جنھیں آج تک غلط ثابت نہیں کیا جاسکا، اور معذب قوموں کے صحیح حالات، جبکہ تاریخ بھی انھیں پیش کرنے سے قاصر ہے۔ اور اس کے تاریخی اور علمی محاکمے، اور قوموں کے عروج وزوال کے اصول، اور اس کے علاوہ بیشمار حقائق کی وجہ سے ہر سنجیدہ آدمی اس کا اعتراف کرتا ہے کہ یہ کتاب کسی انسان نے مرتب نہیں کی بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب ہے، کیونکہ اس کی نظیر کسی انسان کے بس کی بات نہیں۔ ان تمام اعترافات کے باوجود اگر وہ پھر بھی اس کتاب کو ایک افترا قرار دیتے ہیں اور اس کی نسبت آنحضرت ﷺ کی طرف کرتے ہیں تو بجز اس کے اور کچھ نہیں کہا جاسکتا : اک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا مزید فرمایا کہ کبھی مخالفین نے اس بات پر غور کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس کتاب کو گھڑ کر اور غلط بیانی سے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرکے کیا پایا ہے ؟ آپ مکہ بھر میں سب سے زیادہ ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کی تجارت آپ کی ضرورتوں کے لیے نہ صرف کافی تھی بلکہ وہ آپ کی دنیوی عزت کا ذریعہ بھی تھی، لیکن جیسے ہی آپ نے اللہ تعالیٰ کی اس کتاب اور اس کے پیغام کو نبی اور رسول ہونے کی حیثیت سے لوگوں کے سامنے پیش کرنا شروع کیا تو وہ لوگ جو کل تک آپ کو آنکھوں پر بٹھاتے تھے آپ کے بدترین دشمن ہوگئے، آپ کا کاروبار بیٹھ گیا، آپ کے شب و روز اس دعوت کی نذر ہو کر رہ گئے جو آپ لوگوں کے سامنے پیش کررہے تھے، زندگی کا کوئی دکھ ایسا نہیں جو اس نبوت اور کتاب کی وجہ سے آپ کو برداشت نہیں کرنا پڑا۔ یہ کٹھن ذمہ داری تھی جو آپ کی چاہت کے بغیر اللہ تعالیٰ نے آپ کے سپرد کی۔ اور جس کے بارے میں خود قرآن کریم نے کہا کہ اس ذمہ داری نے آپ کی کمر توڑ کے رکھ دی تھی۔ چناچہ اسی حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ آپ نے اس نعمت کی طلب نہیں کی تھی، ہم نے خود یہ ذمہ داری آپ کے سر پر ڈالی۔ اور اب بھی اس کے بارے میں آپ کا کوئی اختیار نہیں، آج بھی اگر اللہ چاہے تو وحی الٰہی کے سلسلے کو روک سکتا ہے، اور وہ نعمت جلیلہ جو آپ کے دل پر اترتی ہے اور دنیا کو ہدایت سے سیراب کرتی ہے اگر اللہ چاہے تو آپ کے دل کو اس کے لیے بند کرسکتا ہے۔ اور یہی وہ چیز ہے جو سورة بنی اسرائیل میں اس طرح بیان کی گئی ہے : وَلَئِنْ شِئْنَا لَنَذْہَبَنَّ بِالَّذِیْ اَوْحَیْنَا اِلَیْـکَ ثُمّ لاَ تَجِدُلَـک بِہٖ عَلَیْنَا وَکِیَلاً ۔ اِلاَّ رَحْمَۃً مِّنْ رَّبِّکَ ط اِنَّ فَضْلَـہٗ کَانَ عَلَیْکَ کَبِیْرًا۔ ” اور اگر ہم چاہیں تو اس کو سلب کرلیں جو ہم نے تمہاری طرف وحی کی ہے، پھر تم کسی کو ہمارے مقابل میں اس کو واپس لانے کے لیے وکیل نہ بنا سکو، یہ محض تمہارے رب کا تمہارے اوپر ایک فضل ہے، بیشک اس کا فضل تمہارے اوپر بہت بڑا ہے۔ “ مزید ایک اور حقیقت سے پردہ اٹھایا کہ مخالفین ذرا اس پر توجہ دیں کہ آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی دعوت کا ہدف صرف ایک ہے کہ حق کو مستحکم کیا جائے اور باطل کو مٹا دیا جائے۔ ہر وہ چیز جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو شرک میں بدلتی ہے وہ باطل ہے۔ جو انسان کا رشتہ اللہ تعالیٰ سے جوڑنے کی بجائے توڑتی ہے وہ باطل ہے۔ جو مساواتِ انسانی اور وحدت بنی آدم کو نقصان پہنچا کر طبقات پیدا کرتی ہے، وہ باطل ہے۔ جو انسان کو اقدارِ انسانیت سے تہی دامن کرکے حیوان صفت بناتی ہے، وہ باطل ہے۔ اور جو عدل و مساوات کا راستہ بند کرکے ظلم کا راستہ کھول کر انسانی زندگی کو زارونزار کرتی ہے، وہ باطل ہے۔ اور وہ چیز جو اس کے برعکس حقائق کو نمایاں اور نافذ کرتی ہے، انسانی ذہنوں اور انسانی دلوں میں اترتی ہے اور اسے زندگی کا مزاج بنا دیتی ہے وہ حق ہے۔ قرآن کریم حق کو مستحکم کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کی دعوت ہزار مخالفتوں کے باوجود حق کو ثابت کرتی اور باطل کو مٹاتی ہے۔ کیا افترا کرنے والوں اور جھوٹ بولنے والوں کی زندگی کے اہداف یہ ہوتے ہیں۔ اور پھر وہ انھیں پورا کرنے کے لیے کیا سب کچھ اس پر قربان کردیتے ہیں ؟۔ یہ صورتحال خود بولتی ہے کہ قرآن کریم کو آنحضرت ﷺ نے افترا کیا ہے یا اللہ تعالیٰ نے وحی کے ذریعے اسے آپ کے دل پر اتارا ہے۔ علاوہ ازیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیشہ باطل کو مٹاتا اور حق کو مستحکم کرتا ہے۔ اب اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنحضرت ﷺ کے دل پر نازل نہیں ہوئی بلکہ حضور ﷺ نے خود اس کو گھڑ لیا ہے تو یہ سراسر ایک باطل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی سنت کا تقاضا یہ ہے کہ وہ اسے مٹا دے۔ لیکن تاریخ کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی ہے اس وقت بھی اور اس کے بعد بھی دھیرے دھیرے آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کی دعوت نفوذ پیدا کرتی گئی، مخالفتیں سمٹتی گئیں، کوئی قبیلہ ایسا نہ رہا جس کے گھروں میں یہ دعوت داخل نہ ہوئی ہو۔ حتیٰ کہ چند ہی سالوں میں یہ دعوت جزیرہ عرب کا چلن، قانون اور مزاج بن گئی۔ یہ صورتحال بجائے خود اللہ تعالیٰ کے رسول کے برحق ہونے اور قرآن کریم کے منزّل ہونے کی ایک ایسی قطعی دلیل ہے جس میں شک و شبہ کی کوئی گنجائش نہیں۔ آخر میں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہارے دل بھی اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کبھی افترا نہیں کرسکتے۔ اور قرآن کریم اللہ تعالیٰ ہی کی کتاب ہے۔ لیکن تمہارے کچھ مفادات، کچھ تعصبات اور کچھ تحفظات ہیں جو تمہیں باطل پر قائم رہنے کے لیے اکساتے ہیں، اللہ تعالیٰ انھیں خوب جانتا ہے۔ اور وہ وقت دور نہیں جب تمہاری مخالفت کے طوفان کہر کی طرح چھٹتے چلے جائیں گے اور حق کا نور ہر سو پھیل جائے گا۔
Ayahs 42:25–26

وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ Open ayah 42:25 in the Quran reader

اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو

وَ یَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ یَزِیْدُهُمْ مِّنْ فَضْلِهٖ١ؕ وَ الْكٰفِرُوْنَ لَهُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ Open ayah 42:26 in the Quran reader

وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے، اور جو منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے

وَھُوَالَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَۃَ عَنْ عِبَادِہٖ وَیَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَیَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَ ۔ وَیَسْتَجِیْبُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَیَزِیْدُھُمْ مِّنْ فَضْلِہٖ ط وَالْکٰفِرُوْنَ لَھُمْ عَذَابٌ شَدِیْدٌ۔ (الشوری : 25، 26) (اور وہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا اور برائیوں سے درگزر کرتا ہے، اور جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔ وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعا قبول کرتا اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے، اور جو منکر ہیں ان کے لیے سخت عذاب ہے۔ ) توبہ اور اصلاح کی ترغیب گزشتہ آیت میں کفار کو سرزنش کرنے کے بعد پیش نظر آیت کریمہ میں توبہ کی ترغیب دی گئی ہے۔ اس کے لب و لہجہ کو دیکھ کر دشمن بھی شاید یہ اعتراف کرنے پر مجبور ہوگا کہ اگر یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ نہ ہوتی تو کہیں تو اس میں انسانی جذبات کا زیروبم نظر آتا۔ تنبیہ اور سرزنش کے بعد توبہ کی ترغیب صرف اس ذات خداوندی کا کمال ہے جو ہر طرح کے جذبات سے بلند ہے اور جو انسانوں کو جہنم سے دور اور جنت کے قریب دیکھنا چاہتی ہے۔ چناچہ ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے نبی پر جھوٹے الزامات لگا کر اپنی آپ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مستحق بنانے کی بجائے اب بھی وقت ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے طلبگار بن جائیں۔ اللہ تعالیٰ نہایت ہی مہربان اور اپنے بندوں کے گناہوں سے درگزر فرمانے والا ہے۔ تم اگر توبہ کرو گے تو وہ تمہارے ساتھ بھی یہی سلوک کرے گا۔ وہ صرف گزشتہ گناہوں کو ہی معاف نہیں کرے گا بلکہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دعائیں قبول فرمائے گا اور اپنے فضل و کرم سے انھیں گراں بار کردے گا۔ لیکن اگر تم نے اپنے کفر کا رویہ جاری رکھا تو اس سے اللہ تعالیٰ کا تو کچھ نہیں بگڑے گا، تم اپنے آپ کو آخرت میں عذاب شدید کا مستحق بنا لو گے۔ توبہ کی حقیقت توبہ کے لفظی معنی لوٹنے اور رجوع کرنے کے ہیں، اور شرعی اصطلاح میں کسی گناہ سے باز آنے کو توبہ کہتے ہیں۔ اور اس کے صحیح و معتبر ہونے کے لیے تین شرائط ہیں۔ ایک یہ کہ جس گناہ میں فی الحال مبتلا ہے اس کو فوراً ترک کردے، دوسرے یہ کہ ماضی میں جو گناہ ہوا اس پر نادم ہو، اور تیسرے یہ کہ آئندہ اسے ترک کرنے کا پختہ عزم کرلے اور کوئی شرعی فریضہ چھوڑا ہوا ہے تو اسے ادا یا قضا کرنے میں لگ جائے اور اگر گناہ حقوق العباد سے متعلق ہے تو اس میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ اگر کسی کا مال اپنے اوپر واجب ہے اور وہ شخص زندہ ہے تو یا اسے وہ مال لوٹائے یا اس سے معاف کرائے اور اگر وہ زندہ نہیں اور اس کے ورثہ موجود ہیں تو ان کو لوٹائے، اگر ورثہ بھی نہیں ہیں تو بیت المال میں داخل کرائے، بیت المال بھی نہیں ہے یا اس کا انتظام صحیح نہیں ہے تو اس کی طرف سے صدقہ کردے، اور اگر کوئی غیرمالی حق کسی کا اپنے ذمہ واجب ہے، مثلاً کسی کو ناحق ستایا ہے، برا بھلا کہا ہے، یا اس کی غیبت کی ہے تو اسے جس طرح ممکن ہو راضی کرکے اس سے معافی حاصل کرے۔ اور یہ تو ہر قسم کی توبہ کے لیے ضروری ہے ہی کہ گناہ کا ترک کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے ہو، اپنے کسی جسمانی ضعف یا مجبوری کی بنا پر نہ ہو۔ اور شریعت میں اصل مطلوب توبہ ہے کہ توبہ سارے ہی گناہوں سے کی جائے، لیکن اگر صرف کسی خاص گناہ سے توبہ کی گئی تو اہل سنت کے مسلک کے مطابق اس گناہ کی حد تک تو معافی ہوجائے گی، دوسرے گناہوں کا وبال سر پر رہے گا۔ (معارف القرآن)
Ayah 42:27

وَ لَوْ بَسَطَ اللّٰهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَ لٰكِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّا یَشَآءُ١ؕ اِنَّهٗ بِعِبَادِهٖ خَبِیْرٌۢ بَصِیْرٌ Open ayah 42:27 in the Quran reader

اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کو کھول دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے مگر وہ ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے

وَلَوْبَسَطَ اللّٰہُ الرِّزْقَ لِعِبَادِہٖ لَبَغَوْا فِی الْاَرْضِ وَلٰـکِنْ یُّنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَّایَشَآئُ ط اِنَّـہٗ بِعِبَادِہٖ خَبِیْرٌ م بَصِیْرٌ۔ (الشوری : 27) (اور اگر اللہ اپنے بندوں کے لیے رزق کو کھول دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے مگر وہ ایک اندازے کے ساتھ جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے، بیشک وہ اپنے بندوں سے باخبر اور ان کو دیکھنے والا ہے۔ ) قریش کے رویئے پر تنبیہ اور مسلمانوں کی فکری کوتاہی پر توجہ گزشتہ آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے اور نیک اعمال کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کی دعائیں قبول فرماتا ہے۔ اور اصحابِ صفہ اور حضرت خباب ( رض) جیسے غریب صحابہ جب قریش کے امراء کو دیکھتے تھے تو ان کے ذہن میں بھی یہ خواہش پیدا ہوتی تھی کہ کاش ہم بھی ان جیسے دولت مند ہوتے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ہم قریش کو دیکھتے ہیں کہ قریش کی سرکشی میں جن عوامل نے بنیادی کردار ادا کیا ہے ان میں سے ایک بہت بڑا عامل یہ تھا کہ وہ اپنی دولت و ثروت کو اپنے برحق ہونے کی دلیل سمجھتے تھے۔ اور نبی کریم ﷺ کی بات پر اس لیے کان دھرنے کو تیار نہ تھے کہ وہ کوئی بڑی دولت و ثروت کے مالک نہیں۔ ان پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ انھیں اپنا پیشوا تسلیم کرلیا جائے، اور یہ بات سردارانِ قبائل اپنی کسر شان سمجھتے تھے۔ چناچہ قریش کے رویئے پر تنبیہ کرتے ہوئے اور مسلمانوں کو ان کی فکری کوتاہی پر توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ دولت و ثروت کسی کے برسرحق ہونے کی دلیل نہیں، اسے تو اللہ تعالیٰ نے انسانوں کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنایا ہے وہ کسی کو دولت سے اس لیے نوازتا ہے تاکہ وہ یہ دیکھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں پر شکر ادا کرتا ہے یا نہیں۔ اور کسی کو رزق کی تنگی میں اس لیے مبتلا کرتا ہے تاکہ وہ یہ دیکھے کہ وہ صبر کرتا ہے یا نہیں۔ اب یہ فیصلہ کرنا کہ کس شخص اور کس گروہ کو کس طرح کے امتحان میں مبتلا کرنا ہے، یہ انسانوں کا کام نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا ہے۔ اس کی حکمت کا جو تقاضا ہوتا ہے اس کے مطابق اللہ تعالیٰ کی مشیت حرکت میں آتی ہے۔ اس کے سوا بندوں کے حالات و مصالح سے چونکہ کوئی واقف نہیں اس لیے اللہ تعالیٰ نے دولت و ثروت کی تقسیم کو اپنے ہاتھ میں رکھا ہے۔ کیونکہ اگر وہ اسے اپنے ہاتھ میں نہ رکھتا بلکہ اس کے دروازے سب کے لیے نہایت کشادہ کردیتا کہ لوگ جتنا چاہیں اس میں سے سمیٹ لیں تو یہ چیز لوگوں کے لیے بہت بڑا فتنہ بن جاتی۔ اگر ایک طرف اللہ تعالیٰ سے سرکشی میں بیش از بیش اضافہ ہوجاتا تو دوسرے طرف انسانی زندگی اور اس کے علاقات ابتری کا شکار ہوجاتے۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ سے انسانوں کے تعلق اور بندوں کے باہمی تعلقات کو ایسا نقصان پہنچتا جس کی تلافی ممکن نہ ہوتی۔ نہ آدمی اپنے مالک کو پہچانتا اور نہ انسانی رشتوں اور ان کی ضرورتوں کی اس کے یہاں کوئی قدر و قیمت ہوتی۔ اللہ تعالیٰ چونکہ بندوں کی مصلحت سے باخبر اور ان کے مستقبل کو خوب جاننے والا ہے اس لیے رزق کی تقسیم کو اپنے ہاتھ میں رکھ کر ایک ایسا توازن عطا فرمایا جس سے دولت و ثروت کو وہ صحیح مقام ملا اور انسانی رشتوں کو باہمی ضرورتوں سے اس طرح وابستہ کیا کہ ہر چیز کی چول اپنی جگہ بیٹھ گئی اور انسانی زندگی تباہی سے بچ گئی۔
Ayah 42:28

وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 42:28 in the Quran reader

اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش نازل کرتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی حقیقی کارساز اور ستودہ صفات ہے

وَھُوَالَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْ م بَعْدِ مَاقَنَطُوْا وَیَنْشُرُ رَحْمَتَـہٗ ط وَھُوَالْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الشوری : 28) (اور وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش نازل کرتا ہے اور اپنی رحمت پھیلا دیتا ہے اور وہی حقیقی کارساز اور ستودہ صفات ہے۔ ) اوپر جو کچھ فرمایا گیا اس پر دلیل اوپر جو کچھ فرمایا گیا ہے پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر ایسی دلیل قائم کی گئی ہے جس سے ہر شخص کو واسطہ پڑتا ہے۔ یعنی جس طرح اللہ تعالیٰ ایک اندازے کے ساتھ بندوں پر رزق اتارتا ہے اور بندوں کو اس معاملے میں کچھ اختیار نہیں ہوتا کہ کس شخص کو کتنی دولت ملنی چاہیے اور کس شخص کو کتنی۔ اللہ تعالیٰ کی حکمت و مصلحت ہے جو اس میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ اس کی مثال دیکھنا چاہو تو بارش کو دیکھ لو۔ عرب میں بعض دفعہ ہفتوں اور مہینوں نہیں بلکہ سالوں بارش نہیں ہوتی۔ بندے بےبسی کا شکار ہوجاتے ہیں اور جنھیں انھوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ بھی اس معاملے میں کچھ نہیں کرسکتے۔ مایوسی اس حد تک بڑھتی ہے کہ لوگ اپنا مسکن اور اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور ہوجاتے ہیں۔ اور بعض دفعہ موت کے انتظار میں بیٹھ جاتے ہیں کہ اچانک اللہ تعالیٰ کی رحمت جوش میں آتی ہے، گھٹا اٹھتی ہے، چھم چھم بارش برستی ہے اور دیکھتے ہی دیکھتے جل تھل ایک ہوجاتا ہے اور چند ہی دنوں میں زمین مخمل کا لباس پہن لیتی ہے۔ مایوس لوگوں کے چہروں پر رونق آجاتی ہے اور ہر سنجیدہ فکر آدمی یہ سمجھ لیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کو جھنجھوڑنے اور آسمان کے بند دریچوں کو کھولنے کی طاقت کسی میں نہیں۔ کوئی ایسی طاقت نہیں جو بارش نازل کرنے میں کوئی اختیار رکھتی ہو۔ عام لوگ بھی اور جنھیں خدا رسیدہ سمجھا جاتا ہے وہ بھی اس معاملے میں بےبس دکھائی دیتے ہیں۔ تب یہ بات کھل جاتی ہے کہ بارش کے نازل کرنے کا اختیار اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کے پاس نہیں ہے۔ اور رزق و فضل کا مالک اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی اور نہیں۔ وہی ذات ہے جو ولی بھی ہے اور حمید بھی۔ یعنی وہی کارسازِحقیقی ہے۔ اور تمام سزاوارِحمد و شکر کاموں کا منبع وہی ہے۔ وہ چونکہ اپنی ذات میں ستودہ صفات ہے اس لیے وہ اپنے دشمنوں سے بھی وسائلِ رزق کو نہیں روکتا۔
Ayah 42:29

وَ مِنْ اٰیٰتِهٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ مَا بَثَّ فِیْهِمَا مِنْ دَآبَّةٍ١ؕ وَ هُوَ عَلٰى جَمْعِهِمْ اِذَا یَشَآءُ قَدِیْرٌ۠ Open ayah 42:29 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو اس نے ان دونوں میں جاندار مخلوقات پھیلا رکھی ہیں اور وہ ان کے جمع کرنے پر بھی قادر ہے جب ان کو جمع کرنا چاہے

وَمِنْ اٰیٰـتِہٖ خَلْقُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَمَا بَثَّ فِیْھِمَا مِنْ دَآ بَّۃٍ ط وَھُوَعَلٰی جَمْعِھِمْ اِذَا یَشَآئُ قَدِیْرٌ۔ (الشوری : 29) (اور اس کی نشانیوں میں سے ہے آسمانوں اور زمین کی پیدائش اور جو اس نے ان دونوں میں جاندار مخلوقات پھیلا رکھی ہیں اور وہ ان کے جمع کرنے پر بھی قادر ہے جب ان کو جمع کرنا چاہے۔ ) مخالفین کو ترہیب آنحضرت ﷺ کی دعوت میں ترغیب کے ساتھ ساتھ ترہیب سے بھی باقاعدہ کام لیا جاتا ہے۔ اور بار بار مخالفین کو تنبیہ کی جاتی ہے کہ اگر تم نے اپنے رویئے کو بدلنے کی کوشش نہ کی تو سوچ لو پھر قیامت کے دن اس کا کیا جواب دو گے۔ اور اگر تمہاری سرکشی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا تو پھر تم اس سے کیسے بچ سکو گے۔ مخالفین اسے محض ایک ڈراوا سمجھتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک نزول عذاب یا وقوع قیامت ایک ایسی بات تھی جسے وہ بعیداز عقل سمجھتے تھے۔ چناچہ ان کی اس خام خیالی کو رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ بعض باتیں پیش پا افتادہ ہیں جنھیں تم نظرانداز کردیتے ہو۔ زمین کا بچھونا تمہارے پائوں کے نیچے بچھا ہوا ہے اور آسمان کی چھت تمہارے سروں پر تنی ہوئی ہے۔ کیا یہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی نشانیاں ہیں۔ اور مزید یہ کہ ان دونوں میں اس نے جاندار مخلوقات بھی پیدا کر رکھی ہیں۔ جس ذات کی یہ نشانیاں ہیں اس کی قدرت کا کون اندازہ کرسکتا ہے۔ لیکن یہ کس قدر حماقت کی بات ہے کہ ایسی قادرمطلق ذات سے متعلق تم یہ سمجھتے ہو کہ وہ زمین و آسمان کی پیدائش اور مخلوقات کو ہر جگہ پھیلانے پر تو قادر ہے لیکن انھیں جمع کرنے پر قادر نہیں، اس لیے قیامت کیسے آسکتی ہے ؟ آیتِ کریمہ میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان میں جاندار مخلوقات پیدا کررکھی ہیں، تو اس کے بارے میں ممکن ہے کسی کے ذہن میں یہ اشکال پیدا ہو کہ زمین پر تو مخلوقات نظر آرہی ہیں، لیکن آسمانوں میں ان مخلوقات کا ہونا ایک عجیب سی بات ہے۔ اولاً تو یہ بات انسان کی کو تاہی فکر پر دلالت کرتی ہے جس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ اس لیے کہ ہم نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس کس کُرّے اور کون سے آسمانوں میں کیسی کیسی جاندار مخلوق پیدا کر رکھی ہیں۔ لیکن میں محض سمجھانے کے لیے عرض کرتا ہوں کہ سماء کا لفظ جس طرح آسمان پر بولا جاتا ہے ویسے ہی فضا پر بھی بولا جاتا ہے۔ اور فضا میں کیسی کیسی مخلوقات ہیں انھیں تو ہم نہیں جانتے، لیکن پرندوں کو اڑتا ہوا تو دیکھتے ہیں اور ان کی بیشمار اقسام سے بھی واقف ہیں۔
Ayahs 42:30–31

وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ Open ayah 42:30 in the Quran reader

اور تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور تمہاری بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی کرتا ہے

وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ Open ayah 42:31 in the Quran reader

اور نہ تم زمین میں اللہ کو عاجز کردینے والے ہو اور تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار

وَمَـآ اَصَابَـکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْـکُمْ وَیَعْفُوْا عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَمَآ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ صلے ج وَمَا لَـکُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰہِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّلاَ نَصِیْرٍ ۔ (الشوری : 30، 31) (اور تم پر جو مصیبت بھی آتی ہے تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آتی ہے اور تمہاری بہت سی برائیوں سے وہ درگزر بھی کرتا ہے۔ اور نہ تم زمین میں اللہ کو عاجز کردینے والے ہو اور تمہارے لیے اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی کارساز ہے اور نہ مددگار۔ ) مخالفین کے زعم باطل کے ابطال پر دلیل اس آیت کریمہ میں مخالفین کے ایک زعم باطل پر چوٹ لگائی جارہی ہے اور اس کے ابطال پر دلیل بھی دی جارہی ہے۔ اشرافِ قریش یہ سمجھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نظام مجازات نہیں۔ ہر شخص کو اپنے وسائل سے کام لینے کی چھٹی ملی ہوئی ہے۔ چناچہ طاقتور اگر کمزوروں پر ظلم کررہا ہے تو یہ اس کی طاقت کا تقاضا ہے۔ اور مظلوم کو اس بات کی سزا مل رہی ہے کہ اس نے اپنے آپ کو طاقتور کیوں نہیں بنایا۔ ظالم سے نہ کبھی دنیا میں پوچھا جائے گا اور نہ کبھی آخرت میں اس کی بازپرس ہوگی۔ ہر شخص اپنی صلاحیت اور طاقت کے مطابق من مرضی کے اعمال بجا لانے کے لیے آزاد ہے۔ چناچہ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا کوئی نظام مجازات نہیں اور اس کی صفت عدل کا کوئی تقاضا نہیں تو پھر تم بعض دفعہ مختلف تکالیف کا شکار کیوں ہوتے ہو۔ اور بعض آفات غیرمتوقع طور پر تمہیں کیوں آگھیرتی ہیں۔ اور جس طرح اہل مکہ آنحضرت ﷺ کی نبوت کے انکار کی وجہ سے قحط کا شکار ہیں تو آخر ایسا کیوں ہے ؟ یہ ایک واضح علامت ہے اس بات کی کہ اللہ تعالیٰ تمہارے کرتوتوں کی سزا بعض دفعہ دنیا میں بھی دیتا ہے۔ اگرچہ وہ بہت ساری باتوں کو نظرانداز کردیتا ہے اور ان پر بازپرس آخرت میں ہوگی لیکن یہاں بھی بعض مصائب تم پر نازل کرکے تمہیں یہ بتانا مقصود ہے کہ دنیا میں تمہیں شتر بےمہار بنا کر نہیں بھیجا گیا کہ تم جس طرح چاہو زندگی گزارو۔ اگر ایسا ہوتا تو زندگی کے حوادث تمہارے اپنے ہاتھوں میں ہوتے۔ اور کبھی بھی تمہارے ارادے فسخ ہونے میں نہ آتے۔ اور نہ کبھی تمہارے وسائل تمہارے حسب حال نتیجہ خیزہونے سے انکار کرتے۔ اور پھر انھیں تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جس طرح دنیا میں وہ تم پر مصائب نازل کرکے اور مختلف حوادث کا شکار کرکے تم پر یہ بات واضح کرتا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بہت دور نہیں ہو اور نہ زمین میں اس کی گرفت سے تمہیں کوئی بچا سکتا ہے۔ اسی طرح اس نے ایک یوم الفصل بھی رکھا ہے جو کامل جزاء و سزا کا دن ہے۔ اس میں تمہیں ہر عمل کا جواب دینا پڑے گا اور وہاں بھی تمہیں نہ کسی کی نصرت اور مدد چھڑا سکے گی اور نہ کوئی تمہاری کارسازی کرسکے گا۔ اور دنیا میں تمہارے جن گناہوں سے درگزر کیا گیا تھا قیامت میں ان کی جزاء و سزا سے بھی تمہیں گزارا جائے گا۔ واضح رہے کہ آیت کریمہ میں خطاب صرف کفار سے ہے۔ انھیں یہ بتایا گیا ہے کہ انھیں جو تکلیفیں بھی پہنچتی ہیں وہ ان کے اعمال کی پاداش میں پہنچتی ہیں۔ لیکن ان کا تعلق انبیائے کرام اور دیگر صالحینِ عظام سے نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کو جو تکلیفیں اور مصیبتیں بھی آتی ہیں وہ ان کے اعمال کی سزا کے طور پر نہیں بلکہ ابتلاء کے طور پر پیش آتی ہیں اور وہ ان کے گناہوں اور خطائوں اور کوتاہیوں کا کفارہ بنتی چلی جاتی ہیں۔ آنحضرت ﷺ کا ارشادِ کر امی ہے : مَایُصِیْبُ المُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلاَ وَصَبٍ وَلاَھَمٍّ وَلاَحُزْنٍ وَلاَ اَذَیً وَلاَغَمٍّ حَتّٰی الشَّوْکَۃُ یُشَاکُھَا اِلاَّ کَفَّرَاللّٰہُ بِھَا مِنْ خَطَایَاہٗ (بخاری و مسلم) ” مسلمان کو جو رنج اور دکھ اور فکر اور غم اور تکلیف اور پریشانی بھی پیش آتی ہے حتیٰ کہ اگر ایک کانٹا بھی اس کو چبھتا ہے تو اللہ اس کو اس کی کسی نہ کسی خطا کا کفارہ بنا دیتا ہے۔ “ اور اللہ تعالیٰ کی راہ کے جو برگزیدہ لوگ ہیں جن میں شہداء بھی شامل ہیں، ان کو جن مصائب سے واسطہ پڑتا ہے وہ ان کے گناہوں کا کفارہ نہیں بلکہ ترقی درجات کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ ان پر صبر کرنے سے ان کے اندر ایسی صلاحیت پیدا ہوتی ہے جو انھیں مسلسل مدارج کی بلندی کی طرف مہمیز کرتی رہتی ہے۔
Ayahs 42:32–35

وَ مِنْ اٰیٰتِهِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ كَالْاَعْلَامِؕ Open ayah 42:32 in the Quran reader

اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے جہاز ہیں پہاڑوں کی مانند

اِنْ یَّشَاْ یُسْكِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَلْنَ رَوَاكِدَ عَلٰى ظَهْرِهٖ١ؕ اِنَّ فِیْ ذٰلِكَ لَاٰیٰتٍ لِّكُلِّ صَبَّارٍ شَكُوْرٍۙ Open ayah 42:33 in the Quran reader

اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے، پس وہ سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے

اَوْ یُوْبِقْهُنَّ بِمَا كَسَبُوْا وَ یَعْفُ عَنْ كَثِیْرٍ٘ Open ayah 42:34 in the Quran reader

یا ان کو تباہ کردے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں اور بہتوں سے درگزر فرمائے

وَّ یَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْۤ اٰیٰتِنَا١ؕ مَا لَهُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ Open ayah 42:35 in the Quran reader

اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیات میں کٹ حجتی کرتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں

وَمِنْ اٰیٰـتِہِ الْجَوَارِ فِی الْبَحْرِ کَالْاَعْلاَمِ ۔ اِنْ یَّشَاْ یُسْکِنِ الرِّیْحَ فَیَظْلَـلْنَ رَوَاکِدَعَلٰی ظَھْرِہٖ ط اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَاٰیٰتٍ لِّـکُلِّ صَبَّارٍ شَکُوْرٍ ۔ اَوْ یُوْبِقْھُنَّ بِمَا کَسَبُوْا وَیَعْفُ عَنْ کَثِیْرٍ ۔ وَّیَعْلَمَ الَّذِیْنَ یُجَادِلُوْنَ فِیْٓ اٰیٰـتِنَا ط مَالَہُمْ مِّنْ مَّحِیْصٍ ۔ (الشوری : 32 تا 35) (اور اس کی نشانیوں میں سے سمندروں میں چلنے والے جہاز ہیں پہاڑوں کی مانند۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ساکن کردے، پس وہ سمندر کی سطح پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں، بیشک اس میں نشانیاں ہیں ہر صبر و شکر کرنے والے کے لیے۔ یا ان کو تباہ کردے ان کے کرتوتوں کی پاداش میں اور بہتوں سے درگزر فرمائے۔ اور جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیات میں کٹ حجتی کرتے ہیں کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں۔ ) دنیا کی کامیابیوں پر اترانے والوں کے لیے ایک تمثیل آنحضرت ﷺ کی دعوت کے وہ مخالفین جو اپنی دنیوی کامیابیوں سے بدمست ہو کر آنحضرت ﷺ کی دعوت اور قرآن کریم کی حقانیت کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے، ان کے سامنے ایک مثال پیش کی جارہی ہے کہ تم اپنی زندگی کو ایک بحری جہاز کے سفر کی مانند سمجھو کہ بحری جہاز جب تک سمندر کی سطح پر بےروک ٹوک رواں دواں رہتا ہے اور وہ پہاڑ کی مانند اپنا حجم رکھتے ہوئے بےتکلف پانی کی لہروں پر بہتا چلا جاتا ہے تو اس میں سوار ہونے والے اسے اپنی صلاحیتوں کا نتیجہ سمجھ کر عیش و عشرت میں مگن ہر طرح کی پریشانی سے بےفکر، اپنے سفر سے لذت اندوز اور سمندر کے خوبصورت مناظر سے محظوظ ہوتے ہوئے محوِسفر رہتے ہیں۔ انھیں یہ کبھی خیال بھی نہیں آتا کہ ہمارے اس جہاز کو کوئی حادثہ بھی پیش آسکتا ہے اور سمندر کی لہریں ہماری نہیں کسی اور قوت کے قبضے میں ہیں۔ وہ جب تک چاہے انھیں پرسکون اور ہَوائوں کو حسب حال رکھے تاکہ بادبان ہَوائوں کے زور پر جہاز کو اڑاتے ہوئے لے جائیں اور جب وہ چاہے ہَوائوں کو روک دے اور جہاز اپنے مسافروں سمیت سطح سمندر پر جم کے رہ جائیں۔ مسافر ہزار کوشش کریں لیکن جہاز اپنی جگہ سے ہلنے نہ پائے۔ کیونکہ جب تک ہوا بادبانی جہازوں کو قوت فراہم نہیں کرے گی یا ہوا کا رخ جہاز کے حسب حال نہیں ہوگا تو جہاز آگے بڑھنے سے قاصر ہوگا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ اللہ تعالیٰ ان جہازوں کو غرق کردے اور ان مسافروں کے اعمال کی پاداش میں جہاز کے ساتھ ہی پانی کی نذر کردے۔ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ایک سے زیادہ جہاز محوسفر ہوں تو ایسا خوفناک طوفان اٹھے جس کی طغیانی اور قوت کو دیکھتے ہوئے محسوس ہو کہ کوئی جہاز بھی ڈوبنے سے بچ نہیں سکے گا۔ لیکن طوفان بھی چونکہ اللہ تعالیٰ کے قبضہ ٔ قدرت میں ہے، جن جہازوں کے ڈبونے کا اسے حکم ہو ان کو ڈبو دے اور جن سے درگزر کرنے اور بچانے کا حکم ہو، انھیں بچا دے۔ یعنی ہوا کا ساکن کردینا اور ہوا کو طوفان بنادینا اور اسی طوفان سے بعض جہازوں کو بچا لینا اللہ تعالیٰ کی قدرت میں ہے۔ یہ مثال دے کر ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جو لوگ ہماری ان نشانیوں کو دیکھ کر بھی کج بحثی اور کٹ حجتی کرتے ہیں اور بجائے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان لانے اور اس کے نبی کی دعوت کو قبول کرنے کے ایسے واقعات کو حوادث کا نام دیتے ہیں اور حوادث کو اتفاقات کے حوالے سے دیکھتے ہیں ان کے لیے یہ مثال کافی ہے کہ جس طرح دنیا میں اللہ تعالیٰ جب کسی کو ڈبونا چاہتا ہے یا اس کا غضب کسی پر بھڑکتا ہے تو کوئی اسے بچانے والا نہیں ہوتا۔ اسی طرح انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ قیامت کے دن جب وہ اپنے کفر کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے سامنے کھڑے ہوں گے اور ان کے پاس اپنی زندگی کو من مرضی سے گزارنے کا کوئی عذر نہیں ہوگا تو وہاں وہ تمنا کریں گے کہ کاش آج ہم جہنم کے عذاب سے کسی طرح بچ نکلیں اور کوئی ہمیں اپنی پناہ میں لے لے تو ان کے لیے کوئی پناہ گاہ اور کوئی جائے فرار نہیں ہوگی۔ ان آیات میں سے دوسری آیت کے آخر میں جملہ معترضہ کی صورت میں اس مقصد کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے جو اس تمثیل میں مضمر ہے کہ جو لوگ اپنی زندگی کو وقت کے سمندر میں تیرتا ہوا دیکھ رہے ہیں اس میں ان کے لیے بہت سی عبرتیں پوشیدہ ہیں۔ زندگی کی کامیابیوں کی کلید صبر اور شکر سے وابستہ ہے۔ یعنی انھیں اس بات پر یقین آنا چاہیے کہ زندگی کی باگ ڈور ہمارے قبضے میں نہیں ہے اور جس عمر اور وقت کے سہارے زندگی آگے بڑھ رہی ہے وہ بھی ہمارے بس میں نہیں۔ اس میں کبھی ایسے دن بھی آتے ہیں جب انسان حوادث اور مصائب کا شکار ہوتا ہے تو وہ اگر حالات کی ناسازگاری سے مایوس اور دل شکستہ ہو کر بیٹھ جائے اور اپنی ہمتوں کی شکست و ریخت دیکھ کر مستقبل سے مایوس ہوجائے تو اسے ناکامیوں سے بچانے والی کوئی چیز نہیں۔ اس کے لیے ایک ہی راستہ ہے کہ وہ اس بات کا یقین پیدا کرے کہ حالات اللہ تعالیٰ کے قبضے میں ہیں۔ وہ جب حالات کو ابتر بناتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے بندوں کا امتحان لیتا ہے کہ وہ مجھ پر بھروسہ کرتے ہوئے صبر کا دامن پکڑتے ہیں یا نہیں۔ اور اپنے برے حالوں میں مجھے پکارتے ہیں یا نہیں پکارتے۔ اسی طرح اگر اسے سازگار حالات میسر آئیں تو اسے بجائے اترانے اور فخر کرنے کے ان حالات کا سررشتہ بھی اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں سمجھنا چاہیے۔ اور یقین رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بہتر حالات اور نعمتوں سے نواز کر آزمایا ہے کہ میں اس کا شکر ادا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی بندگی بجا لاتا ہوں یا نہیں۔ یعنی شکستہ حالات میں دل شکستہ ہوجانا اور بہتر حالات اور سازگار ماحول میں اللہ تعالیٰ کی بندگی کرنے کی بجائے متکبر اور مغرور ہو کر اپنی ذات کے پندار میں مبتلا ہوجانا ایسی کمزوری ہے جو انسان کو انسانیت سے دور کردیتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے بارے میں غلط تصور قائم کرنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس مثال کے ذرریعے انسان کے لیے اس ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کا راز بتایا گیا ہے۔
Ayah 42:36

فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ Open ayah 42:36 in the Quran reader

پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع حقیر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں

فَمَآ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْ ئٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا ج وَمَا عِنْدَاللّٰہِ خَیْرٌوَّ اَبْقٰی لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَلٰی رَبِّھِمْ یَتَوَکَّلُوْنَ ۔ (الشوری : 36) (پس جو کچھ بھی تمہیں دیا گیا ہے وہ دنیوی زندگی کی متاع حقیر ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی، ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے اور اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔ ) خلاصہ بحث گزشتہ مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا کہ زندگی کی ناکامیوں کا دوسرا نام اگر صبر و شکر کا فقدان ہے تو پھر اے مکہ کے لوگو ! تمہارے پاس جو کچھ بھی ہے چاہے وہ تمہارے باغات ہوں یا درہم و دینار کا خزانہ۔ کیا ان میں سے ہر چیز حیات دنیا کی متاع حقیر نہیں ہے ؟ کیا تمہاری زندگیاں چند روزہ نہیں ہیں ؟ کیا تمہیں ایک دن موت کا شکار نہیں ہونا ہے ؟ تو پھر جن نعمتوں پر اور جس دولت و ثروت پر تم اتراتے ہو، اس کی حقیقت ہی کیا ہے۔ اس دنیا میں کتنے سکندر اٹھے اور کتنے جہاں پناہ گزرے اور کتنے جہانگیروں نے دنیا میں اپنے نام پیدا کیے لیکن وہ کتنا عرصہ زندہ رہے، قارون کی دولت کہاں گئی، اور ہامان کی جنت کہاں ہے ؟ آج دنیا میں ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں۔ فراعنہ و نماردہ تاریخ میں عبرت کے سامان کے طور پر موجود ہیں۔ لیکن جن قوتوں پر وہ اتراتے تھے ان میں سے کچھ بھی باقی نہیں۔ لیکن ہمارے نبی کی دعوت تمہیں جو راستہ دکھا رہی ہے وہ اللہ تعالیٰ کے قرب کا راستہ ہے۔ وہ ایسی زندگی کا راستہ ہے جس میں کامیابیوں کے چمن کھلتے ہیں، جس میں انسانیت توانا ہوتی ہے اور دنیا میں بسنے والوں کو آرام و راحت کا پیغام ملتا ہے۔ اس کے بدلے میں آخرت میں جو کچھ ملنے والا ہے اس میں سے ایک ایک نعمت اس قدر بہتر ہے کہ اس سے زیادہ بہتری کا تصور ممکن نہیں ہے۔ اور ایسی پائیدار ہے جس میں فنا کا کوئی اندیشہ نہیں۔ لیکن یہ سب کچھ ان لوگوں کو ملنے والا ہے جو اللہ تعالیٰ ، اس کے رسول اور ضروریاتِ دین پر ایمان رکھتے ہیں اور جن میں سب سے پہلی صفت یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر توکل کرتے ہیں۔ اللہ پر توکل کو یہاں ایمان لانے کا لازمی تقاضا اور آخرت کی کامیابی کے لیے ایک ضروری وصف قرار دیا گیا ہے۔ توکل کے معنی یہ ہیں کہ : اولاً ، آدمی کو اللہ تعالیٰ کی رہنمائی پر کامل اعتماد ہو اور وہ یہ سمجھے کہ حقیقت کا جو علم، اخلاق کے جو اصول، حلال و حرام کے جو حدود، اور دنیا میں زندگی بسر کرنے کے لیے جو قواعد و ضوابط اللہ نے دیئے ہیں وہی برحق ہیں اور انہی کی پیروی میں انسان کی خیر ہے۔ ثانیاً ، آدمی کا بھروسا اپنی طاقت، قابلیت، اپنے ذرائع و وسائل، اپنی تدابیر اور اللہ کے سوا دوسروں کی امداد و اعانت پر نہ ہو بلکہ وہ پوری طرح یہ بات ذہن نشین رکھے کہ دنیا اور آخرت کے ہر معاملے میں اس کی کامیابی کا اصل انحصار اللہ تعالیٰ کی توفیق و تائید پر ہے اور اللہ کی توفیق و تائید کا وہ اسی صورت میں مستحق ہوسکتا ہے جبکہ وہ اس کی رضا کو مقصود بنا کر، اس کے مقرر کیے ہوئے حدود کی پابندی کرتے ہوئے کام کرے۔ ثالثاً ، آدمی کو ان وعدوں پر پورا بھروسا ہو جو اللہ تعالیٰ نے ایمان و عمل صالح کا رویہ اختیار کرنے والے اور باطل کی بجائے حق کے لیے کام کرنے والے بندوں سے کیے ہیں، اور انہی وعدوں پر اعتماد کرتے ہوئے وہ ان تمام فوائد اور منافع اور لذائذ کو لات مار دے جو باطل کی راہ پر جانے کی صورت میں اسے حاصل ہوتے نظر آتے ہوں، اور ان سارے نقصانات اور تکلیفوں اور محرومیوں کو انگیز کر جائے جو حق پر استقامت کی وجہ سے اس کے نصیب میں آئیں۔ توکل کے معنی کی اس تشریح سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایمان کے ساتھ اس کا کتنا گہرا تعلق ہے اور اس کے بغیر جو ایمان محض خالی خولی اعتراف و اقرار کی حد تک ہو اس سے وہ شاندار نتائج کیوں نہیں حاصل ہوسکتے جن کا وعدہ ایمان لا کر توکل کرنے والوں سے کیا گیا ہے۔ (تفہیم القرآن)
Ayah 42:37

وَ الَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓئِرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ وَ اِذَا مَا غَضِبُوْا هُمْ یَغْفِرُوْنَۚ Open ayah 42:37 in the Quran reader

اور جو بچتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے، اور جب غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں

وَالَّذِیْنَ یَجْتَنِبُوْنَ کَبٰٓـئِرَالْاِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ وَاِذَا مَاغَضِبُوْا ھُمْ یَغْفِرُوْنَ ۔ (الشوری : 37) (اور جو بچتے ہیں بڑے بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے، اور جب غضبناک ہوتے ہیں تو وہ معاف کردیتے ہیں۔ ) ایمان اور توکل سے پیدا ہونے والی تین مزید صفات صاحبِ ایمان لوگوں کی مزید ان صفات کا ذکر فرمایا گیا ہے جو ایمان اور توکل کے نتیجے میں پیدا ہوتی ہیں۔ جو کہنے کو تو تین قسم کی صفات ہیں، لیکن حقیقت میں زندگی کے تمام منفی روئیوں کو سمیٹ لیا گیا ہے۔ انسانی سیرت و کردار میں جب بگاڑ پیدا ہوتا ہے تو فکری گمراہیوں کے ساتھ ساتھ جو عملی کو تاہیاں پیدا ہوتی ہیں ان میں سب سے پہلی چیز یہ ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بےنیاز ہو کر اپنی ذات کے گنبد میں ایسا اسیر ہوتا ہے کہ خودغرضی اس کا مطلوب بن جاتی ہے۔ وہ دوسروں کی حق تلفی کرتا ہے، حقوق چھینتا ہے، ناانصافی اور ظلم سے کام لیتا ہے۔ اور یہ وہ چیز ہے جسے قرآن کریم نے اثم کا نام دیا ہے۔ اور اس لوٹ کھسوٹ، خودغرضی اور حب دنیا کے نتیجے میں جو برائی سر اٹھاتی ہے وہ بےحیائی یعنی شرم و حیاء کا فقدان ہے۔ آدمی اللہ تعالیٰ سے بےنیاز ہو کر انسانی زندگی سے بھی بےنیاز ہوجاتا ہے۔ شرم و حیاء انسانی زندگی کا خاصہ ہے۔ لیکن جب بگاڑ زور دکھاتا ہے تو انسان، انسانی خصوصیات سے بےبہرہ ہوجاتا ہے اور اس کی سیرت و کردار کی جو ضمانت شرم و حیاء کی صورت میں اس کا احاطہ کیے رہتی ہے وہ بھی ختم ہونے لگتی ہے اور انسان سب سے پہلے نگاہ آوارہ کا شکار ہوتا ہے، پھر قدم آگے بڑھتا ہے تو زبان بےقابو ہونے لگتی ہے۔ آخر وہ اس بڑے گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے جس کے بعد شرم و حیاء کا ہر ٹان کہ ٹوٹ جاتا ہے جسے زنا کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے اسے لپیٹتے ہوئے فاحشہ کا نام دیا ہے۔ انسانی سیرت و کردار کے بگاڑ کے بعد جو خصلتیں انسان میں پیدا ہونے لگتی ہیں بالخصوص دوسرے انسانوں کے سامنے جن کا اظہار ہوتا ہے، وہ تکبر، خودسری اور حد سے بڑھی ہوئی انانیت کی صورت اختیار کرتی ہیں۔ اور اس کے نتیجے میں طغیان و فساد اور دوسروں پر درازدستی اور ظلم جنم لیتے ہیں۔ قرآن کریم نے اس کے منبع کی خبر دیتے ہوئے اسے غضب سے تعبیر کیا ہے۔ اس لیے صاحب ایمان و توکل لوگوں کی تعریف کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ وہ حق تلفی اور حق شکنی کی ایسی ہر کوشش سے تائب ہوجاتے ہیں جو انھیں اس راستے کے کسی بڑے گناہ تک پہنچا دے۔ یعنی وہ بڑے بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں۔ انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ پہلے چھوٹے گناہ کرتا ہے۔ یعنی ایسے گناہ جنھیں صراحتہً نہ حرام کہا گیا نہ لعنت کی گئی اور نہ اس پر عذاب کی دھمکی دی گئی اور نہ معذب قوموں کا شعار رہا۔ ایسی عام سی باتیں جو بےخیالی میں انسانوں سے سرزد ہوتی ہیں لیکن وہ اسلامی مزاج سے میل نہیں کھاتیں۔ لیکن جب وہ اس طرح کے گناہوں پر دلیر ہوجاتا ہے تو پھر وہ ایسے بڑے گناہوں میں مبتلاء ہوئے بغیر نہیں رہتا جنھیں صاف صاف حرام قرار دیا گیا ہے اور یا ان پر لعنت فرمائی گئی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب اس آیت میں یہ فرمایا گیا کہ وہ بڑے گناہوں سے اجتناب کرتے ہیں تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ اولاً تو صغیرہ گناہوں کا ارتکاب نہیں کرتے اور ان کی پاکیزہ سیرت ان کے تحمل سے انکار کرتی ہے۔ لیکن اگر کبھی ایسی کوئی بات ان سے سرزد ہوجائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ وہ کبھی بڑے گناہوں میں مبتلا نہیں ہوتے۔ گویا بڑے گناہوں سے اجتناب کا ذکر فرما کر گناہوں کے تصور سے ہی اجتناب کا حکم دے دیا گیا، اور اللہ تعالیٰ کے صاحب ایمان بندوں کے بارے میں یہ واضح کردیا گیا ہے کہ ان کی سیرت ایسی پاکیزہ اور ان کی فطرت ایسی مصفا ہوجاتی ہے کہ اس میں گناہ کا تصور بار نہیں پاتا۔ اور دوسری بات یہ فرمائی کہ وہ فواحش سے اجتناب کرتے ہیں۔ یعنی شرم و حیاء ان کا ایسا زیور ہے کہ کوئی سی بےحیائی انھیں اپنی طرف کھینچنے میں کامیاب نہیں ہوتی۔ سر جھکا کے چلنا، نگاہوں کو آوارہ ہونے سے بچانا، مخلوط مجالس سے دور رہنا اور ایسی ہر دلچسپی کے قریب نہ جانا جو فسق و فجور کا مزاج رکھتی ہے، یہ ان کی علامت بن جاتا ہے۔ چونکہ وہ لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اور اللہ تعالیٰ کے دین پر چلنے والے اتباعِ سنت کے حریص اور ہر قدم پر قیامت کے دن کی جواب دہی کا احساس رکھنے والے ہیں، اس لیے اولاً تو وہ چھوٹوں پر غضبناک نہیں ہوتے اور اگر کبھی ان کا غصہ بھڑک اٹھے تو وہ عموماً معاف کردیا کرتے ہیں۔ سیدنا حسن ( رض) کے بارے میں مؤرخین نے بیان کیا ہے کہ ان کا ایک بہت چہیتا غلام ایک دفعہ مہمانوں کے لیے کھانا لا رہا تھا، کہیں اس کا پائوں الجھا تو گرم گرم شوربے کا پیالہ اس کے ہاتھ سے اچھل کر حضرت حسن ( رض) کی کمر پر جا گرا۔ گرم شوربے نے کھال ادھیڑ کر رکھ دی۔ انھوں نے نہایت غصے سے اپنے غلام کی طرف دیکھا۔ وہ چونکہ اسی گھر کا تربیت یافتہ تھا، فوراً کہنے لگا ! وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ ” اللہ سے ڈرنے والے غصہ پی جایا کرتے ہیں۔ “ تو حضرت حسن ( رض) نے فوراً نگاہیں جھکا لیں۔ اس نے موقع غنیمت جان کر آیت کا دوسرا جملہ پڑھا وَالْعَافِیْنَ عَنِ النَّاسِ ” وہ لوگوں کو معاف کردیا کرتے ہیں۔ “ حضرت حسن ( رض) نے فرمایا ! جا میں نے تجھے معاف کیا۔ اس نے گرم لوہے پر مزید چوٹ لگاتے ہوئے کہا : وَاللّٰہُ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ ” اور اللہ احسان کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔ “ حضرت حسن ( رض) نے فرمایا جا میں نے تجھے آزاد کیا۔ مختصر یہ کہ آخری صفت کا حاصل یہ ہے کہ وہ تارک الدنیاراہب یا بھکشو قسم کے لوگ نہیں ہوتے کہ وہ ہر وقت منفعل سے بنے رہیں، بلکہ باوقار اور باغیرت انسانوں کی طرح انھیں غصہ بھی آتا ہے۔ لیکن ان کی سرشت انتقامی نہیں ہوتی۔ وہ لوگوں سے درگزر اور چشم پوشی کا معاملہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے معاملہ میں نہایت حساس۔ لیکن اپنی ذات کے بارے میں نہایت فراخ دل، حلیم اور بردبار ہوتے ہیں۔ جس طرح حضرت عائشہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ کے بارے میں بیان کیا ہے کہ ما انتقم رسول اللہ ﷺ لنفسہ فی شیء قط الا ان تنتھک حرمۃ اللہ ” رسول اللہ ﷺ نے کبھی اپنی ذات کے لیے انتقام نہیں لیا۔ البتہ جب اللہ تعالیٰ کی حرمتوں میں سے کسی حرمت کی ہتک کی جاتی، تب آپ سزا دیتے تھے۔ “