Ayahs 44:30–31وَلَقَدْ نَجَّیْنَا بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ مِنَ الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ ۔ مِنْ فِرْعَوْنَ ط اِنَّـہٗ کَانَ عَالِیًا مِّنَ الْمُسْرِفِیْنَ ۔ (الدخان : 30، 31)
(ہم نے بنی اسرائیل کو ذلیل کرنے والے عذاب سے نجات دی۔ یعنی فرعون سے، بیشک وہ حد سے گزر جانے والوں میں بڑا ہی سرکش تھا۔ )
سرکش حکمران عذاب مھین ہے
بنی اسرائیل انبیائے کرام کی اولاد تھے لیکن ایمان و عمل میں کوتاہیوں اور مقاصدِزندگی سے بےتعلقی کے باعث حالات کی ستم ظریفی کا نشانہ بن چکے تھے۔ فرعون اور آل فرعون کی حکومت میں مسلسل انھیں پرمشقت زندگی گزارنے پر مجبور کیا گیا۔ چونکہ حکمران خاندان نے حکومت ان سے لی تھی اس لیے ان کی شعوری کوشش تھی کہ انھیں حالات کے نشیب و فراز میں اس قدر الجھا دیا جائے اور انھیں معاشرتی زندگی میں اس قدر پست حالت میں اتار دیا جائے کہ آہستہ آہستہ ان کے دل و دماغ سے حکمرانی کا تصور محو ہو کر رہ جائے اور وہ دوسرے درجے کی شہری زندگی پر قناعت کرلیں۔ انھیں اجتماعی زندگی کے ہر موقع سے اس طرح محروم کردیا گیا کہ ان کے اندر اجتماعیت کا تصور مفلوج ہو کر رہ گیا۔ ان کے صحت مند لوگوں سے بیگار لی جاتی تھی اور ان کی لڑکیوں اور عورتوں سے گھروں کا کام کاج کرایا جاتا تھا۔ پوری قوم زخموں سے زارونزار تھی۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت کے بعد فرعون اور آل فرعون کے لیے بنی اسرائیل کا وجود مزید کھٹکنے لگا تھا۔ وہ جیسے جیسے بنی اسرائیل کو ساتھ لے جانے کی اجازت طلب کرتے تھے، ویسے ویسے ان پر مظالم کی شدت بڑھتی جارہی تھی۔ لیکن جب فرعون اور آل فرعون نے مسلسل معجزات کی صورت میں اپنے اوپر عذاب کا نزول دیکھا تو گھبرا کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اجازت دے دی کہ وہ بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے جائیں۔ گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جیسے ہی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر نکلے تو فرعون نے محسوس کیا کہ ہم نے اجازت دے کر غلطی کی ہے۔ چناچہ وہ فوجوں کو ساتھ لے کر تعاقب کے لیے نکلا۔ آخر اللہ تعالیٰ کا قانونِ عذاب حرکت میں آیا جس کے نتیجے میں اسے بحرقلزم میں ڈوبو دیا گیا اور بنی اسرائیل کو نہایت آرام و راحت کے ساتھ بحرقلزم کے دوسرے کنارے پر پہنچا دیا گیا۔ اس طرح سے اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو اس توہین آمیز اور رسوا کردینے والے عذاب سے نجات دے دی جس میں وہ عرصہ دراز سے مبتلا تھے۔ لیکن اصل عذاب ان کے لیے وہ تھا جو فرعون کی شکل میں ان پر مسلط ہوچکا تھا۔ اس لیے آیت کریمہ میں مِنْ فِرْعَوْنَکو الْعَذَابِ الْمُھِیْنِ سے بدل بنایا گیا ہے۔ ایک طویل زمانے تک بنی اسرائیل جس کرب انگیز حالت میں مبتلا تھے اس کا سب سے نازک زمانہ وہ تھا جو انھوں نے فرعون کے ساتھ گزارا۔ کیونکہ یہ زمانہ ان کے لیے ذلیل کردینے والا عذاب بن گیا تھا جس کا سبب صرف فرعون تھا۔ تو اللہ تعالیٰ نے جیسے ہی اسے بحرقلزم کی موجوں کے حوالے کیا تو یہ اصل عذاب اللہ تعالیٰ نے ان کے سر سے ٹال دیا۔ اور فرعون کے سب سے بڑے عذاب بن جانے کی وجہ یہ تھی کہ زمین اور اہل زمین کو جس چیز کی وجہ سے فساد کا نشانہ بننا پڑتا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی حدود سے نکل جانا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی بندگی اور آپس میں معاملات کی خوش اسلوبی کا علم دے کر دنیا کو اس کے لیے جنت نظیر بنایا۔ لیکن جب انسان اللہ تعالیٰ کی بندگی کی حدود سے نکل بھاگتا ہے اور انسانی رشتوں کو پامال کرتا ہے تو وہ زمین اور اہل زمین کے لیے ایک عذاب بن جاتا ہے۔ فرعون چونکہ انسانی رشتوں کی پامالی اور اللہ تعالیٰ کی قائم کردہ حدود سے نکل جانے والوں میں سب سے زیادہ سرکش تھا اس لیے اسے عذاب مہین قرار دیا گیا ہے۔ اس سے بنی اسرائیل کو نجات مل جانا اللہ تعالیٰ کا سب سے بڑا احسان تھا۔
Ayah 44:32وَلَقَدِاخْتَرْنٰـہُمْ عَلٰی عِلْمٍ عَلَی الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الدخان : 32)
(ہم نے ان کو دنیا والوں پر سب کچھ جانتے ہوئے ترجیح دی۔ )
بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کا عظیم احسان
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر دوسرا احسان یہ کیا کہ فرعون اور اس کی قوم کو تو بحرقلزم میں غرق کردیا گیا لیکن بنی اسرائیل کو اس عظیم منصب کے لیے چن لیا گیا جس کی امامت کا شرف ان کے جدِامجد حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کو حاصل رہا۔ یعنی توحید کی امانت ان کے سپرد کی گئی۔ اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) جیسے عظیم رسول کو مبعوث فرما کر قومی شیرازہ بندگی اور تبلیغ و دعوت کے سارے امکانات ان پر کھول دیئے گئے اور یہ اتنا بڑا فیصلہ پروردگار نے محض عنایتِ خسروانہ کے طور پر نہیں فرمایا بلکہ بنی اسرائیل کی تمام کمزوریاں اور تمام خوبیاں اللہ تعالیٰ کے علم میں تھیں۔ اللہ تعالیٰ سے بڑھ کر اس بات کو کون جانتا تھا کہ جس طرح مصر میں انھیں غلام بنا کر رکھا گیا اور پھر مسلسل ذلت و اہانت کا ہر تیر ان پر آزمایا گیا۔ ان کی خاندانی خصوصیات کو ایک ایک کرکے کچلا گیا اور انھیں بنیادی ضرورتوں کا محتاج بنا کر اولوالعزمی اور خدا پرستی کے ہر تعلق سے بےنیاز کیا گیا۔ ان تمام کھوئی ہوئی اقدار کو دوبارہ حاصل کرنے کی ایک ہی صورت تھی کہ انھیں بگڑے ہوئے انسانوں کی صحبت اور تکلفات اور تعیشات کی دنیا سے نکال کر ایک ایسی صحرائی زندگی اور سنگلاخ وادیوں کی ہمنشینی سے بہرہ ور کیا جاتا تاکہ ان کے اندر سے وہ تمام بہیمانہ قباحتیں نکلیں اور اپنی ذات کے گنبد سے نکل کر وسیع تر آفاق سے ان کا رشتہ جڑے، تاکہ غلامی کی وہ زنجیریں جنھوں نے انھیں اپنی ذات میں محصور کرکے رکھ دیا اور وہ کھانے پینے کے علاوہ کسی اور جذبے سے یکسر بیگانہ ہو کر رہ گئے۔ کیونکہ :
فطرت کے مقاصد کی کرتا ہے نگہبانی
یا بندہ صحرائی یا مرد کہستانی
یہی وجہ ہے کہ جب بنی اسرائیل نے من وسلویٰ کی غذا پر اکتفا کرنے سے انکار کردیا اور ان نعمتوں کا مطالبہ کیا جنھیں زمین اگاتی ہے جن سے کام و دہن کی لذت کو تو سکون ملتا ہے لیکن زمین سے رشتہ جڑ جانے کے باعث بلندیوں کے سارے رشتے کٹ جاتے ہیں۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس مطالبے کے جواب میں ارشاد فرمایا کہ تم سے یہ صحرا نوردی تمہاری کھوئی ہوئی عظمتوں کو زندہ کرنے کے لیے کروائی جارہی ہے، لیکن تم اب تک اپنا رزق خاک راہ میں تلاش کرنا چاہتے ہو۔ اور تمہارے لیے زندگی اسی رزق میں ہے اور اسی میں کھو جانا تمہارا مقصد زندگی ہے۔ لیکن جن جذبات کی زندگی سے تمہاری عظمتیں وابستہ ہیں اور جس سے تمہاری قومی سرفرازیوں کا سروسامان ہوتا ہے جس سے بہیمیت کم ہوتی اور رفعتوں کے رشتے توانا ہوتے ہیں ان سے تم رشتہ توڑ دینا چاہتے ہو۔ تو پھر اس صحرا نوردی کا کیا حاصل ؟
Ayah 44:33وَاٰ تَیْنٰـھُمْ مِّنَ الْاٰیٰتِ مَافِیْہِ بَـٰٓلؤٌا مُّبِیْنٌ۔ (الدخان : 33)
(اور ہم نے ان کو ایسی نشانیاں دیں جن میں کھلی آزمائش تھی۔ )
بَـٰٓلؤٌاکا معنی تو آزمائش ہے اور مبین کھلا، واضح اور صریح کو کہتے ہیں۔ لیکن آزمائش چونکہ دو طرح سے ہوتی ہے کبھی نعمتیں دے کر اور کبھی تنگدستی کے ذریعے۔ نعمتوں سے شکر کا اندازہ کیا جاتا ہے کہ نعمتیں پانے والا کیا نعمتیں دینے والے کا شکرگزار بھی ہے یا نہیں۔ اور نعمتوں سے محروم کردینے سے صبر اور رضا کی آزمائش ہوتی ہے۔ یعنی جس کو اللہ تعالیٰ نے تنگدستی میں مبتلا کیا ہے کیا وہ اس پر صبر کرتا اور اسی میں اللہ تعالیٰ کی رضا ڈھونڈتا ہے یا اس پر زبان شکایت کو دراز کردیتا ہے۔
بنی اسرائیل کے لیے انعامات اور آزمائشیں
اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو بحرقلزم سے پار اتار کر زندگی گزارنے کے لیے ایک ایسی پرسکون فضا عطا فرمائی جس میں نہ کسی ظلم کا سایہ تھا اور نہ کسی شخصیت پرستی کی پرچھائیں۔ جس میں نہ اسباب کی دنیا کی فراہمی کے جھمیلے اور نہ متنوع قسم کی انسانی مصروفیات۔ صرف ایک ہدف تھا کہ بندگیِ رب کو ادا کرنا ہے اور انفرادی اور اجتماعی زندگی کی تعمیر کرنی ہے۔ اور ضروریاتِ زندگی کی مصروفیات نے جس طرح انسان کی اولوالعزمی کو نقصان پہنچایا تھا، یہاں کی زندگی سے اس کی تلافی کرنے کے لیے اگر ایک طرف من وسلویٰ جیسی غیرمعمولی نعمتیں عطا کی گئیں اور ایک چٹان سے پانی کے چشمے رواں کیے گئے اور دھوپ کی شدت سے بچنے کے لیے ابر کا سایہ فراہم کیا گیا۔ اسی طرح ان محدود نعمتوں پر صبر اور شکر کی تلقین بھی کی گئی۔ اور ایک ایسی سخت زندگی کا خوگر بنانے پر زور دیا گیا جو ایک مجاہد قوم کے لیے ضروری ہے۔ اس طرح سے بیک وقت انھیں صبر اور شکر دونوں آزمائشوں میں ڈالا گیا تاکہ انسانیت کی کشتی غیرمتوازن نہ ہونے پائے۔ چناچہ جب مصر سے نکلے ہوئے بنی اسرائیل نے ان نعمتوں پر صبر کرنے میں کمزوری دکھائی تو انھیں صحرا کی وسعتوں میں زندگی گزار دینے پر مجبور کیا گیا اور انھیں کی اولاد میں سے بندہ صحرائی اور مردکہستانی تیار ہوئے۔ تب جا کے یہ قوم اس قابل ہوئی کہ شرق اردن اور فلسطین کا علاقہ ان کی برکتوں سے مالامال ہوا۔ لیکن یہ اس حکائیت دراز میں سے جو جستہ جستہ اشارے کیے گئے وہ قریش اور دیگر اہل مکہ کو یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ تخت حکومت اور دولت کی فراوانی عظمتیں عطا کرنے کے لیے کافی نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ آزمائشیں ہیں کہ جن میں ناکامی، زندگی کی ناکامی بن جاتی ہے۔ زندگی کی کامیابی کے لیے بندگیِ رب کا رشتہ اور مقصد زندگی کا شعور یہ دو بنیادی قدریں ہیں کہ جب تک ان میں توانائی پیدا نہیں ہوتی اس وقت تک نہ قومی شیرازہ بندی ہوتی ہے اور نہ اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے۔ اس لیے بنیادی چیز جو کسی قوم کو اٹھاتی ہے وہ ان بنیادی جذبات کا حصول ہے۔ غلامی ہمیشہ قوموں میں ان ہی دونوں چیزوں کو تباہ کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس لیے پروردگار نے بنی اسرائیل پر مسلسل احسانات کرکے اور مسلسل آزمائشیں ڈال کر ان ہی دونوں چیزوں میں انھیں طاق کرنے کی کوشش کی۔ اس میں اگرچہ ایک طویل عرصہ صرف ہوگیا اور قوم کا افرادی قوت کا بہت بڑا حصہ اس راستے میں کام آگیا، لیکن جب تک یہ بنیادی جذبات پیدا نہیں کردیئے گئے اس وقت تک بنی اسرائیل نے اپنا وہ فرض انجام نہیں دیا جو ان کے سپرد کیا گیا تھا۔
اس تناظر میں ہمیں ہمیشہ غور کرنا چاہیے کہ پاکستان بھی اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم عطیہ ہے جو مسلمانوں کو ان کا فرضِ منصبی ادا کرنے کے لیے دیا گیا۔ مسلمان اس سے پہلے غلامی کی طویل رات گزار چکے تھے۔ ضرورت اس بات کی تھی کہ غلامی کی زنجیریں کاٹی جاتیں، قومی شعور کو جلا بخشی جاتی، بنیادی ضرورتوں کی محبت کو دلوں سے نکال کر مقاصد سے لگائو پیدا کیا جاتا اور نئی نسل کی تیاری کے لیے نصاب تعلیم میں بنیادی تبدیلیاں کی جاتیں۔ لیکن ہم نے یہ قطعہ زمین حاصل کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے وعدوں کو بھلا دیا اور بجائے فرضِ منصبی کی ادائیگی کے مال و دولت کی افزونی کی فکر میں لگ گئے۔ آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے کہ جہاں سے ہم نے رخت سفر باندھا تھا ہم اس سے بہت دور جا چکے ہیں۔ اور جس چیز کو ہم نے منزل ٹھہرایا تھا وہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوچکی ہے۔ اور جن ذلتوں سے اللہ تعالیٰ نے ہمیں نجات دی تھی ہم نے انھیں ذلتوں کے حصول کا سامان کرلیا ہے۔ ہم نے اس میخانے کو مسجد بنانے کا تہیہ کیا تھا لیکن ہم نے صرف میخانے کا نام بدلا ہے بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ہم بیشتر مساجد کو بھی میخانوں میں تبدیل کرچکے ہیں۔
Ayahs 44:34–35اِنَّ ھٰٓؤُلَآئِ لَیَقُوْلُوْنَ ۔ اِنْ ھِیَ اِلاَّ مَوْتَتُنَا الْاُوْلٰی وَمَا نَحْنُ بِمُنْشَرِیْنَ ۔ (الدخان : 34، 35)
(بےشک یہ لوگ کہتے ہیں۔ ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں اور ہم اس کے بعد زندہ نہیں کیے جائیں گے۔ )
قریش کا عقیدہ
گزشتہ آیات میں جو کچھ فرمایا گیا ہے انھیں سن لینے یا پڑھ لینے کے بعد بجز اس آدمی کے جس نے اپنی محرومی کا فیصلہ کر رکھا ہو، کوئی دوسرا شخص ہدایت سے محروم نہیں رہ سکتا۔ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اللہ تعالیٰ کے دین کی حقانیت اور وقوع قیامت پر ایسے عقلی اور واقعاتی دلائل دیئے گئے ہیں کہ جن کا جواب دینا آسان نہیں۔ لیکن قریش اور ان کے ہمنوائوں کا حال یہ ہے کہ وہ نہایت بلندآہنگی سے یہ بات کہتے نہیں تھکتے کہ یہاں ہر جینے والا جس موت کا شکار ہوتا ہے اس کے علاوہ اسے اور کوئی موت نہیں آتی۔ یہی پہلی موت ہے اور یہی آخری موت ہے۔ ہم کبھی بھی دوبارہ اٹھائے نہیں جائیں گے۔ یہ جو ہمیں بار بار قیامت سے ڈرایا جارہا ہے یہ محض ایک ہوَّا ہے جس سے سننے والوں کو ڈرانا مقصود ہے تاکہ لوگ گھبرا کر محمد ﷺ کی دعوت کو قبول کرلیں۔
Ayah 44:36فَاْتُوْا بِٰابَـآئِنَـآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الدخان : 36)
(تو لائو ہمارے باب دادا کو اگر تم سچے ہو۔ )
انکارِآخرت پر دلیل
قیامت کے انکار پر قریش اپنی بات کی تائید میں یہ دلیل پیش کرتے تھے کہ اگر موت کے بعد کوئی زندگی ہے اور ہمیں واقعی دوبارہ زندہ کیا جانا ہے تو اس پر یقین پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے کہ ہمارے آبائواجداد جو طبعی زندگی گزار کر موت کا شکار ہوچکے ہیں ان میں سے کسی کو زندہ کرکے دکھا دو ۔ وہ اہل ایمان سے بار بار اس کا تقاضا کرتے تھے کہ تم اگر اپنے دعوے میں سچے ہو تو تم اپنے دعوے کو بڑی آسانی سے ثابت کرسکتے ہو کہ کسی مرحوم کو زندگی سے آشنا کردو۔ سورة الجاثیۃ میں قرآن کریم نے قریش کی اس دلیل کو ان کی واحد دلیل قرار دیا ہے جس پر انھیں بڑا ناز ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْہِمْ اٰیَاتُنَا بَیِّنَاتٍ مَّاکَانَ حُجَّتُھُمْ اِلاَّ اَنْ قَالُوْاائْتُوْا بِاٰ بَائِنَا اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ ” جب ان کو موت کے بعد کی زندگی کے حق میں ہماری روشن دلیلیں پڑھ کر سنائی جاتی ہیں تو واحد دلیل جو وہ اس کے مقابل میں پیش کرتے ہیں ان کا یہ قول ہوتا ہے کہ اگر تم سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے دکھائو۔ “ قرآن کریم نے اس دلیل کو ذکر ضرور فرمایا، لیکن اس کا جواب نہیں دیا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس دلیل کی لغویت اس قدر واضح ہے کہ اس کا جواب دینے کی ضرورت نہیں۔ اس کی وجہ یہ معلوم ہوتی ہے کہ قرآن کریم نے جو دعویٰ بار بار کیا ہے اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ ایک دن آئے گا جب کائنات کی ہر چیز کی بساط لپیٹ دی جائے گی۔ زمین بھی توڑ دی جائے گی اور آسمان بھی لپیٹ دیا جائے گا۔ پھر ایک دن آئے گا جب ہز چیز کو اللہ تعالیٰ ازسرِنو وجود میں لائے گا۔ نئی زمین وجود میں آئے گی اور نیا آسمان بنایا جائے گا۔ جو لوگ دنیا میں آئے اور موت کا شکار ہوگئے انھیں نئے سرے سے زندہ کرکے میدانِ حشر میں پہنچایا جائے گا وہاں وہ اپنے پروردگار کے حضور اپنے ایک ایک عمل کا جواب دیں گے۔ اسی جواب دہی کے نتیجہ میں جزاء و سزا کا ترتب ہوگا، اسے آخرت کہتے ہیں۔ اس میں دیکھ لیجیے انسانوں کو دوسری زندگی آخرت کے دن ملے گی۔ اور وہ ازسرنو زندہ ہو کر آخرت کے دن میدانِ حشر میں پہنچیں گے۔ یہ دعویٰ قرآن کریم نے کبھی نہیں کیا اور نہ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ لوگوں کو دوسری زندگی ملے گی تو پھر وہ پلٹ کر دنیا میں آئیں گے۔ تو جس بات کا دعویٰ نہیں کیا گیا اس کا مطالبہ مہمل ہونے کے سوا کیا کہا جاسکتا ہے۔ اسی لیے اس کا جواب دینے کی کوشش نہیں کی گئی۔
Ayah 44:37اَھُمْ خَیْرٌ اَمْ قَوْمُ تُبَّعٍ لا وَّالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط اَھْلَـکْنٰـہُمْ ز اِنَّہُمْ کَانُوْا مُجْرِمِیْنَ ۔ (الدخان : 37)
(کیا یہ بہتر ہیں یا تبع کی قوم، اور اس سے پہلے کے لوگ ؟ ہم نے ان کو ہلاک کردیا، بیشک وہ مجرم تھے۔ )
مجرمانہ ذہنیت ہلاکت کا باعث ہے
تبعقبیلہ حمیر کے بادشاہوں کا لقب تھا۔ جس طرح حبشہ کا ہر حکمران نجاشی کہلاتا تھا اور رومی سلطنت کا ہر تاجدار قیصر کے نام سے پکارا جاتا تھا اور ایران کے حکمران کسریٰ کہلاتے تھے اور مصر کے حکمرانوں کو فرعون کہہ کر پکارا جاتا تھا۔ اسی طرح قبیلہ حمیر کے بادشاہوں کو تبع کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ یہ لوگ قوم سبا کی ایک شاخ سے تعلق رکھتے تھے۔ 115 قبل مسیح میں ان کو سبا کے ملک پر غلبہ حاصل ہوا اور 300 ء تک یہ حکمران رہے۔ عرب میں ان کی مادی شوکت و عظمت اور ذہنی صلاحیتوں کا بڑا چرچا رہا۔ اور انصار چونکہ قحطانی قریش سے تعلق رکھتے تھے اور یمن سے آئے تھے اس لیے تبع بادشاہوں سے انھیں خاص لگائو تھا اور ہمیشہ ان کی عظمتوں کے گن گاتے رہتے تھے۔ اس لیے پروردگار نے ان سے سوال کیا کہ تم تبع حکمرانوں کو خوب جانتے ہو۔ مادی شان و شوکت اور ذہنی صلاحیتوں کے اعتبار سے کیا وہ لوگ برتر تھے یا تم برتر ہو ؟ اگر وہ واقعی ہر لحاظ سے تم سے برتر تھے تو آج وہ کہاں ہیں ؟ کیا ان کی شان و شوکت ان کو موت سے بچا سکی اور کیا ان کا اقتدار زوال سے محفوظ رہا ؟ یقینا اللہ تعالیٰ نے انھیں ہلاک کردیا۔ اور ہلاکت کا سبب صرف ایک تھا کہ ان لوگوں نے مادی شان و شوکت میں تو ترقی کی لیکن اپنی روحانی زندگی اور اخلاقی حالت میں روز بروز گرتے چلے گئے۔ اللہ تعالیٰ کے یہاں دوام مادی شان و شوکت کو نہیں بلکہ اس زندگی کو ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا اظہار ہوتا ہو، اس کے احکام کی فرماں برداری اور اس کی رضا کا حصول ان کے نزدیک سب سے اہم دولت ہو۔ جب یمن کے تبابعہ اس دولت سے محروم ہوگئے اور محض اپنی شان و شوکت پر اترانے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کی گردن توڑ دی۔ اور اسی طرح ان سے پہلے کی قوموں نے بھی جب اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کو اپنا شعار بنا لیا اور وہ محض دنیوی زندگی کو اپنا مقصود سمجھنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے ان کو بھی ہلاک کردیا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیشہ وہ قومیں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوتی رہی ہیں جنھوں نے دنیوی شان و شوکت کو اپنا ہدف بنایا اور اللہ تعالیٰ کے دین کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ تم بھی قریش کے لوگو ! اسی ہدف کے پیچھے بھاگ رہے ہو اور تمہیں بھی اپنی دولت و صولت پر بڑا ناز ہے اور تم معمولی سی خوشحالی پر آپے سے باہر ہورہے ہو۔ اگر یہ بڑی بڑی قومیں ہلاکت و تباہی سے نہ بچ سکیں تو آخر تم کیسے بچ جاؤ گے۔
جب بھی کوئی شخص ان حقائق پر نظر ڈالے گا کہ دنیا میں وہ قومیں جن کی عظمتوں کے پھریرے لہراتے تھے وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں محض اس وجہ سے کہ انھوں نے اپنے کردار، اپنے اخلاق کی تعمیر کی کوئی فکر نہ کی اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول کو کبھی منزل نہ بنایا تو اس کا مطلب آخر اس کے سوا کیا ہے کہ جو قومیں بھی آخرت سے انکار کرتی ہیں اور وہ دنیا ہی کو اپنی منزل بنا کر اسی کی تعمیر میں لگی رہتی ہیں اور آخرت میں جواب دہی کی فکر انھیں کبھی پریشان نہیں کرتی، وہ یقینا ہلاکت کا شکار ہوتی ہیں اور ان کی تباہی کا اصل سبب آخرت کا انکار ہوتا ہے جو ان کے اندر جرائم پیدا ہونے کا سبب بنتا ہے۔
Ayahs 44:38–39وَمَا خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا لٰعِبِیْنَ ۔ مَاخَلَقْنٰـھُمَـآ اِلاَّ بِالْحَقِّ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الدخان : 38، 39)
(آسمانوں اور زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کو ہم نے کھیل کے طور پر پیدا نہیں کیا۔ ہم نے ان کو پیدا نہیں کیا ہے مگر ایک غایت کے ساتھ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں۔ )
آخرت اللہ تعالیٰ کی صفات کا لازمی تقاضا
گزشتہ آیت کریمہ میں اثباتِ قیامت کی دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کا یقین انسان کے اندر صحیح عقیدے اور کردار کے پیدا ہونے کا ضامن ہے۔ اور اگر قیامت کا انکار کردیا جائے تو انسان کو جرائم کے ارتکاب سے روکنے والی کوئی چیز کم ہی موثر ثابت ہوتی ہے۔ انسان کا روز کا مشاہدہ اور تاریخی دلائل اس پر شاہد ہیں۔ پیش نظر آیت کریمہ میں ایک دوسری دلیل دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر قیامت کا انکار کردیا جائے جو کہ اللہ تعالیٰ کے کامل عدل کے ظہور کا دن ہے تو اس سے اللہ تعالیٰ کی صفت تخلیق کا نہ صرف انکار لازم آتا ہے بلکہ کائنات کی تخلیق کی توجیہ مشکل ہوجاتی ہے۔ جب انسان یہ دیکھتا ہے کہ زمین و آسمان اور ان کے درمیان پیدا ہونے والی مخلوقات کی زندگی کا کوئی مقصد نہیں، ایسا لگتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے محض تفریحِ طبع کے طور پر اس کائنات کو پیدا فرمایا۔ اور وہ مسلسل اس سے تفریح حاصل کررہا ہے۔ جب اس تفریح سے اس کا دل بھر جائے گا تو وہ کائنات کو توڑ پھوڑ کے پھینک دے گا۔ اندازہ فرمایئے کہ اللہ تعالیٰ جیسی حکیم ذات کے بارے میں یہ کیسا گرا ہوا تصور ہے۔ اور مزید جب ہم یہ دیکھتے ہیں کہ اس نے کائنات کی ایک ایک چیز کو بامقصد بنایا ہے اور بالخصوص انسان جیسی غیرمعمولی مخلوق تو بہت برتر مقاصد دے کر پیدا کی گئی ہے تو انسان کا مخلوقات سے متعلق تصور بگڑ کے رہ جاتا ہے۔ وہ حیران ہوتا ہے کہ یہاں کتنے لوگ ہیں جنھوں نے محض اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے تن من دھن قربان کر ڈالا۔ اگر یہ کائنات بےمقصد زندگی کے بعد خودرو پودے کی طرح مل دل کر ختم ہونے والی ہے تو پھر ان قربانیوں کا کیا حاصل۔ اسی طرح جو لوگ زندگی بھر اس لیے محرومیوں پر حرف شکایت زبان پر نہ لائے کہ قیامت کے نام سے ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ہماری محرومیوں کو صحیح تعبیر ملے گی، ہمیں انصاف سے بہرہ ور کیا جائے گا اور جن لوگوں نے ہمارے ساتھ ظلم کیا ان کو قرارواقعی سزا ملے گی، تو انھیں محرومیوں کا بوجھ اٹھانا آسان ہوجاتا ہے۔ لیکن اگر قیامت محض ایک تصور ہے جس کی کوئی حقیقت نہیں تو پھر آخر ان محرومیوں کا ازالہ کہاں اور کب ہوگا ؟ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی چند صفات ہیں مثلاً وہ رحیم و کریم ہے، وہ جباروقہار ہے، وہ علیم اور عادل ہے۔ اگر قیامت کا وقوع محض ایک تصور ہے جو کبھی حقیقت آشنا نہیں ہوگا تو اس کے رحم و کرم کا ظہور کب ہوگا۔ اور اس کی صفت عدل کب دکھی انسانوں کے زخموں کی مرہم بن سکے گی۔ انسان چیختا رہے گا لیکن ظلم ڈھانے والے، دوسروں کے کھنڈرات پر اپنے محل اٹھانے والے اور طاقت کے بل بوتے پر گھروں کے چراغ بجھانے والے اس کی چیخ و پکار پر ہنستے رہیں گے۔ کیونکہ نہ وہ دن آئے جب یہ لوگ اپنے برے انجام کو پہنچیں۔ اور نہ وہ دن آئے جب اس کی خاطر اور انسانوں کی بھلائی کی خاطر قربانی و ایثار کی داستان رقم کرنے والے اپنے ایثار کی قیمت پاسکیں۔ اگر ان میں سے ہر تقاضا واقعی حقیقت کا متلاشی ہے تو پھر قیامت کے انکار سے بڑھ کر اور کسی نامناسب بات کا تصور نہیں کیا جاسکتا۔
Ayah 44:40اِنَّ یَوْمَ الْفَصْلِ مِیْقَاتُھُمْ اَجْمَعِیْنَ ۔ (الدخان : 40)
(ان سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے۔ )
مشرکین کی دلیل کا جواب
قیامت کے منکرین نے سب سے بڑی دلیل یہ پیش کی تھی کہ اگر واقعی قیامت برحق ہے تو پھر تم ہمارے مرحوم بزرگوں میں سے کسی کو زندہ کرکے اٹھا لائو تو ہم مان لیں گے کہ اگر ایک شخص زندہ ہوسکتا ہے تو ساری نوع انسانی بھی زندہ ہوسکتی ہے۔ اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ زندگی بعد موت کوئی تماشا نہیں ہے کہ جہاں کوئی اس سے انکار کرے تو فوراً ایک مردہ قبرستان سے اٹھا کر اس کے سامنے لا کھڑا کیا جائے۔ وہ دن تو اللہ تعالیٰ کے عدل کے ظہور کا دن ہوگا۔ تمام لوگ اپنے اعمال کو نتائج سمیت وہاں لے کر آئیں گے اور ہر ایک کو جزاء و سزا کی صورت میں انصاف ملے گا۔ دنیا میں کسی شخص کو زندہ بھی کردیا جائے تو یہ تو صرف زندگی بعد موت کا ثبوت ہوگا۔ رہے اس کے اعمال جو نہ جانے کب تک نتیجہ خیزی کی عمر سے گزرتے رہے ہیں، انھیں تو دنیا میں پیش نہیں کیا جاسکتا۔ جس طرح ایک جھیل میں پیدا ہونے والی لہر جھیل کے ساحل سے ٹکرائے بغیر ناتمام رہتی ہے، اسی طرح انسانی عمل بھی قیامت کے ساحل پر پہنچ کر مکمل ہوگا۔ اور مزید یہ بات بھی کہ افراد، افراد کے ساتھ اور نسلیں نسلوں کے ساتھ روابط کی صورت میں بہت سے اعمال میں شریک ہیں۔ اس لیے کسی ایک فرد کا زندہ کیا جانا قیامت کے مقاصد کو بروئے کار لانے کا ذریعہ نہیں ہوسکتا۔ اس لیے انسانوں کو صحیح اور مکمل انصاف صرف اس صورت میں ملے گا جب وہ ایک دن تمام نسلوں سمیت تمام زندگیوں کا اثاثہ لے کر اللہ تعالیٰ کے حضور جمع ہوں۔ چناچہ ان کے تمام روابط اور اعمال کے تمام نتائج کو سامنے رکھ کر اللہ تعالیٰ فیصلہ فرمائے گا کہ اس میں خیر کتنا ہے اور شر کتنا، اس میں حق رسی کتنی ہے اور حق تلفی کتنی ہے۔ اور اس طرح سے وہ مقاصد پورے ہوں گے جن کی خاطر قیامت کا دن رکھا گیا ہے۔ اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی تمام صفات اپنے معنی و مفہوم کا صحیح محمل پائیں گی۔
Ayah 44:41یَوْمَ لاَ یُغْنِیْ مَوْلًی عَنْ مَّوْلًی شَیْئًا وَّلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ (الدخان : 41)
(جس دن کوئی رشتہ دار کسی رشتہ دار کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ وہ مدد کیے جائیں گے۔ )
مَوْلًی ایسے شخص کے لیے بولا جاتا ہے جو کسی تعلق کی بنا پر دوسرے شخص کی حمایت کرے، چاہے وہ تعلق رشتے داری کا تعلق ہو یا دوستی کا یا کسی اور قسم کا۔
قیامت کا ہولناک دن
یعنی قیامت کا دن ایسا ہولناک اور ایسا انصاف پرور ہوگا کہ کوئی شخص کسی سے تعلق کی بنیاد پر اس کے کام نہیں آسکے گا۔ ایک نفسی نفسی کا عالم ہوگا۔ وہاں صرف ایمان و عمل کا سکہ چلے گا اور پروردگار کے حضور اسی کی قدر کی جائے گی۔ لوگوں نے جن قوتوں کو اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے یا جن کے بارے میں ان کا تصور یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن ہماری مدد کریں گے، کوئی کسی کی مدد نہیں کرسکے گا۔ ہر شخص اپنی فکر میں گرفتار ہوگا۔ کیونکہ کامل انصاف کو بروئے کار لانے کے لیے یہ ضروری ہے کہ کوئی عدالت کو متأثر نہ کرسکے، کوئی کسی بڑے سے بڑے مجرم کی رعایت کا سامان نہ کرسکے اور کوئی بےیارومددگار اپنے لیے انصاف کو دور نہ جانے۔ اور قیامت کے روز ایسا ہی ہوگا۔
Ayah 44:42اِلاَّ مَنْ رَّحِمَ اللّٰہُ اِنَّـہٗ ھُوَالْعَزِیْزُالرَّحِیْمُ ۔ (الدخان : 42)
(سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، بیشک وہی عزیزورحیم ہے۔ )
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قیامت کے روز ایمان و عمل ہی انسان کے کام آئیں گے۔ لیکن اس کے لیے بھی لازمی شرط یہ ہے کہ صاحب ایمان اور صاحب عمل کے اندر اپنے ایمان اور اپنے عمل کا پندار پیدا نہ ہو، وہ ایمان کے تقاضوں پر کان دھرے اور عمل کے لیے پوری کوشش بروئے کار لائے۔ لیکن ساتھ ہی اس بات پر یقین رکھے کہ کسی شخص کا عمل بھی اس وقت تک آبرومند نہیں ہوگا جب تک اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال نہ ہو۔ یہ صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل کے لیے ایمان و عمل ضروری ہے۔ لیکن عمل کے وجود اور اس کے نتیجہ خیز ہونے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کا فضل ضروری ہے۔ اس لیے جسے اللہ تعالیٰ نے عمل کی توفیق عطا فرمائی ہے وہ ہمیشہ اپنے رب سے فضل و کرم کی دعا بھی کرتا ہے۔ حضور ﷺ نے بجا طور پر فرمایا ہے کہ کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے فضل کے بغیر بخشا نہیں جائے گا۔ پوچھا گیا کہ کیا آپ بھی اس کے فضل سے بخشے جائیں گے، فرمایا : ہاں، میں بھی۔ اسی طرح انسان اپنی بخشش کے لیے دوسروں کی صفات کو ذریعہ نہ سمجھے۔ لیکن ساتھ ہی اگر رفع درجات اور اعزاز بخشی کے لیے اللہ تعالیٰ کسی کو شفاعت کا حکم دے دے تو یہ بھی اس کا فضل اور اس کی عنایت ہے۔ وہ چونکہ عزیز ہے اس لیے کوئی شخص بھی اس کے فیصلے پر اثرانداز نہیں ہوسکتا۔ لیکن ساتھ ہی ساتھ رحیم بھی ہے اس لیے اس کی رحمت ہر کمی بیشی کو اپنے جلو میں لے لے گی اور بندوں کے ساتھ رحم و کرم کا ایسا سلوک فرمائے گی کہ انسان خشیت الٰہی کی وجہ سے اس دن اس کا تصور بھی نہیں کرسکیں گے۔
Ayahs 44:43–46اِنَّ شَجَرَتَ الزَّقُّوْمِ ۔ طَعَامُ الْاَثِیْمِ ۔ کَالْمُھْلِ ج یَغْلِیْ فِی الْبُطُوْنِ ۔ کَغَلْیِ الْحَمِیْمِ ۔ (الدخان : 43 تا 46)
(بےشک زقوم کا درخت۔ گنہگار کا کھاجا ہوگا۔ تیل کی تلچھٹ کی مانند پیٹ میں جوش کھائے گا۔ جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔ )
مجرموں کا حشر
اوپر آیت 40 میں یوم الفصل کا ذکر آیا ہے۔ پیش نظر آیات کریمہ میں اس یوم الفصل یعنی قیامت کے دن کی منظرکشی کی گئی ہے۔ یہ دن چونکہ فیصلے کا دن ہوگا، اس لیے پیش نظر آیات میں بتایا گیا ہے کہ فیصلہ کتنا بےلاگ ہوگا اور کس طرح انسانوں کے مختلف طبقات دو حصوں میں تقسیم ہوجائیں گے جن میں سے ایک حصہ اللہ تعالیٰ کے فرمانبرداروں کا اور دوسرا حصہ نافرمانوں کا ہوگا۔ اور یہ چونکہ یوم الجزاء ہے اس لیے دونوں کے ساتھ وہ سلوک ہوگا جو عدل اور انصاف کا تقاضا ہے۔ سب سے پہلے نافرمانوں کی تصویرکشی کی گئی ہے۔ ان نافرمانوں اور گنہگاروں کے جہنم میں جھونکے جانے کے بعد جو ان پر قیامت گزرے گی وہ تو الگ داستان ہے یہاں صرف ان کی غذا کی بات کی گئی ہے۔ عجیب بات یہ ہے کہ یہ لوگ انتہائی تیز آگ میں جلیں گے، لیکن جلنے کے باوجود انھیں موت نہیں آئے گی۔ ایسے شدید عذاب میں بھی انھیں بھوک لگے گی۔ جب کھانا مانگیں گے تو انھیں زقوم کے درخت کا کھانا دیا جائے گا۔ درخت سے مراد ظاہر ہے کہ اس کا پھل ہے۔ اس زقوم کا ترجمہ عام طور پر تھوہر سے کیا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت کے اعتبار سے دنیا کے تھوہر کو آخرت کے تھوہر سے کوئی نسبت نہیں۔ ممکن ہے اس کی شکل اس سے ملتی ہو، لیکن بدذائقہ ہونے میں دونوں میں کوئی مشابہت نہیں۔ اسے اگر کسی چیز سے مشابہت ہے تو وہ ” مھل “ ہے جس کے کئی معنی کیے جاتے ہیں۔ مثلاً پگھلی ہوئی دھات، پیپ لہو، پگھلا ہوا تارکول، لاوا، تیل کی تلچھٹ۔ لیکن اشتقاق کے پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ تیل کی تلچھٹ کا معنی ترجیح کے قابل ہے۔ اور یہ صرف سادہ تیل کی تلچھٹ نہیں ہوگی بلکہ اس میں حیران کن بات یہ ہوگی کہ یہ گنہگاروں کے معدے میں جا کر اس طرح جوش کھائے گا جس طرح تیل گرم کرنے پر کھولتا ہے۔ لیکن تیل کا کھولنا اس کی حدت، شدت اور جلن کو نمایاں کرتا ہے۔ لیکن اس کا ابال اور اس کا جوش نظروں میں زیادہ نہیں جچتا۔ اس لحاظ سے ابلتا ہوا پانی جب جوش میں آتا ہے تو وہ جوش کی وجہ سے برتن سے باہر نکلنے کی کوشش کرتا ہے۔ اہل جہنم کو جس زقوم سے غذا بہم پہنچائی جائے گی اس کی شدت اور تلخی تو تیل کی طرح ہوگی، لیکن اس کا ابلنا اور جوش کھانا ابلتے ہوئے پانی کی طرح ہوگا۔
Ayahs 44:47–48خُذُوْہُ فَاعْتِلُوْہُ اِلٰی سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ ثُمَّ صُبُّوْا فَوْقَ رَاْسِہٖ مِنْ عَذَابِ الْحَمِیْمِ ۔ (الدخان : 47، 48)
(اسے پکڑو اور گھسیٹتے ہوئے جہنم کے بیچ تک لے جاؤ۔ پھر انڈیلو ان کے سر کے اوپر کھولتے پانی کا عذاب۔ )
مجرموں کے عذاب کی تفصیل
سیاقِ کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ جہنم کے کارکنوں کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم دیا جائے گا کہ ان میں سے ایک ایک گنہگار کو پکڑو اور کھینچتے ہوئے دھکیلتے ہوئے جہنم کے بیچ تک لے جاؤ تاکہ انھیں اندازہ ہو کہ جسم کی جن قوتوں اور رعنائیوں کو انھوں نے اسلام کیخلاف استعمال کیا ان کی ٹھیک جگہ جہنم کے بیچ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انھیں انسان بنا کر اور جسم و جان کی نعمتیں عطا فرما کر ان پر احسان فرمایا اور انھوں نے انھیں صلاحیتوں کو اللہ تعالیٰ کے خلاف استعمال کیا۔ اور پھر مزید حکم یہ ہوگا کہ اب ان میں سے ہر ایک کے سر پر کھولتے ہوئے پانی کا عذاب انڈیلو۔ یعنی اصل خرابی تو ان کے دماغ میں تھی۔ ان کا کبر اور غرور ان کو اپنے مالک کے سامنے جھکنے نہیں دیتا تھا اور ان کے خودساختہ تصورات حق کی کسی بات کو سننے کے روادار نہیں تھے۔ اس لیے ان کے سر پر ابلتا اور کھولتا ہوا عذاب انڈیلو تاکہ ان کے کبروغرور کا انجام ان کے سامنے آسکے۔
Ayahs 44:49–50ذُقْ ج لا اِنَّـکَ اَنْتَ الْعَزِیْزُالْـکَرِیْمُ ۔ اِنَّ ھٰذَا مَاکُنْتُمْ بِہٖ تَمْتَرُوْنَ ۔ (الدخان : 49، 50)
(چکھ اس کا مزہ، بیشک تو تو بڑا زبردست اور عزت والا آدمی ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کے بارے میں تم شک رکھتے تھے۔ )
جہنم کے کارکن اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق ہر اس شخص سے جس کے سر پر گرم پانی کا عذاب انڈیلیں گے، کہیں گے کہ تو تو دنیا میں اپنے آپ کو بہت بڑا آدمی سمجھتا تھا، تو کسی کو خاطر میں نہیں لاتا تھا اور تجھے اپنی عزت وہیبت کا انتہا درجے کا گھمنڈ تھا۔ جس کا نتیجہ یہ تھا کہ تم آج کے دن کا ہمیشہ انکار کرتے رہے اور تمہیں اس کے بارے میں ہمیشہ شک و شبہ رہا۔ یہ وہی دن ہے، اب اپنے انکار کی پاداش میں تمہیں جس عذاب کا مستحق سمجھا گیا ہے اب اس کا مزہ چکھو، تاکہ تمہیں اپنی اصل حیثیت کا احساس ہو، اور اس بات کا بھی اندازہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے دین سے سرتابی اس کے احکام کی نافرمانی اور اپنی ذات کے بارے میں خودفریبی کتنا بڑا گناہ ہے۔
Ayahs 44:51–53اِنَّ الْمُتَّقِیْنَ فِیْ مَقَامٍ اَمِیْنٍ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ وَّعُیُوْنٍ ۔ یَّلْبَسُوْنَ مِنْ سُنْدُسٍ وَّاِسْتَبْرَقٍ مُّتَقٰبِلِیْنَ ۔ (الدخان : 51 تا 53)
(بےشک اللہ سے ڈرنے والے امن کی جگہ میں ہوں گے۔ باغوں اور چشموں میں۔ وہ سندس اور استبرق کا لباس پہنے آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔ )
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں پر انعام
گنہگاروں اور نافرمانوں کے انجام کی تصویرکشی کے بعد، اب متقین کے انجام کی تصویرکشی کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والے اللہ تعالیٰ کی عنایات اور اس کی رحمتوں کا مورد ہوں گے۔ اس کی سب سے پہلی عنایت یہ ہوگی کہ وہ ایسی امن کی جگہ میں ہوں گے جہاں کوئی کھٹکا اور اندیشہ ان کے قریب نہیں پھٹکے گا۔ نہ انھیں کوئی خوف ہوگا اور نہ غم۔ وہ بہت بڑے مقام کے حامل ہو کر اس اندیشے سے آزاد ہوں گے کہ کبھی اس مقام کو زوال بھی آسکتا ہے۔ وہ باغوں اور چشموں میں مسرتوں کے جھولے جھولیں گے۔ اور سب سے بڑی بات یہ ہوگی کہ وہ تصور سے بڑھ کر عیش و آرام پا کر بھی جواب دہی کے احساس سے بالکل فارغ ہوں گے۔ انھیں خوبصورت رعنا جسم دیا جائے گا جس کے لیے کسی بیماری کا اندیشہ نہیں ہوگا۔ جنت میں لباس وہ پہننے کو ملے گا جس کی چمک دمک اور جس کی خوبصورتی اور رعنائی تصور سے بھی بالا ہوگی۔ کہنے کو وہ سندس اور استبرق پہنیں گے جو دو ریشمی کپڑے ہیں لیکن حقیقت میں دنیا کے ان کپڑوں کو آخرت کے کپڑوں سے کوئی نسبت نہ ہوگی۔ سندس عربی زبان میں باریک ریشمی کپڑے کو کہتے ہیں اور استبرق فارسی لفظ ستبر کا معرب ہے۔ یہ دبیز ریشمی کپڑے کے لیے بولا جاتا ہے۔ سب سے حیران کن بات یہ ہوگی کہ اس قدر فارغ البالی اور عیش و آرام کی زندگی میں اہل جنت کی جب مجلسیں جمیں گی تو اس طرح خوشی اور مسرت سے ایک دوسرے کے سامنے بیٹھیں گے کہ کسی کے دل میں کسی دوسرے کے لیے شکایت کی کوئی بات نہ ہوگی جبکہ ہم اہل منصب اور اہل دولت کو دیکھتے ہیں کہ وہ تمام تر فارغ البالی کے باوجود جب بھی ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھتے ہیں تو ہمیشہ حسد کی آگ ایک دوسرے کیخلاف بھڑکتی رہتی ہے۔ اور آمنے سامنے بیٹھ کر بھی دلوں کی دوریاں کبھی ختم نہیں ہوتیں۔
Ayahs 44:54–55کَذٰلِکَ قف وَزَوَّجْنٰـھُمْ بِحُوْرٍعِیْنٍ ۔ یَدْعُوْنَ فِیْھَا بِکُلِّ فَاکِھَۃٍ اٰمِنِیْنَ ۔ (الدخان : 54، 55)
(یہ ہوگی اللہ سے ڈرنے والوں کی شان، اور ہم ان سے بیاہ دیں گے آہوچشم حوریں۔ وہ اس میں طلب کریں گے ہر قسم کے میوے نہایت اطمینان سے۔ )
اہلِ جنت کی مسرتوں کی تکمیل
اہلِ جنت پر عنایات کی یہ بارش دیکھ کر کسی کو تعجب نہیں ہونا چاہیے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں جس طرح ہر قسم کی تکلیفوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بڑے بڑے مصائب کو استقامت کی ڈھال پر لینا پڑتا ہے انسانی ہمت دم توڑنے لگتی ہے، لیکن اللہ تعالیٰ پر بھروسہ ایک مومن کی گردن کو خم نہیں ہونے دیتا۔ اللہ تعالیٰ ان میں سے ایک ایک تکلیف کو جنت کی نعمتوں میں تولے گا۔ انسان نے اپنی ہمت کے مطابق اس کی راہ کا حق ادا کیا ہے لیکن اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم کے مطابق اس کا اجر اور صلہ عطا فرمائے گا۔ اس لیے ایک ہی لفظ کَذٰلِکَمیں ان تمام باتوں کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ جو ہمارے ہوجاتے ہیں اور ہمارے لیے سب کچھ جھیلتے ہیں ہم ان کو اسی طرح نوازا کرتے ہیں۔ اور پھر اپنی عنایات میں افزونی کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ہم جانتے ہیں کہ مرد اور عورت میں صنف ثانی کے لیے جو خلاء رکھا گیا ہے جب تک اسے پُر نہ کیا جائے انسانی مسرت کی کبھی تکمیل نہیں ہوتی۔ اس لیے ہم اہل جنت کو دوسری نعمتوں کے ساتھ ساتھ اس مسرت سے بھی شادکام کریں گے اور ان کے نکاح میں آہوچشم حوریں دے دیں گے تاکہ ان کی مسرتوں اور خوشیوں کی تکمیل ہوسکے۔
حور جمع ہے حوراء کی۔ عربی زبان میں گوری عورت کو کہتے ہیں۔ اور عین جمع ہے عیناء کی۔ یہ لفظ بڑی بڑی آنکھوں والی عورت کے لیے بولا جاتا ہے۔ عربی ادب میں بڑی اور موٹی آنکھ کے لیے ہمیشہ آہو کی مثال دی جاتی ہے۔ اس لیے ہمارے اکثر اہل علم نے عین کا ترجمہ آہو چشم یا غزال چشم کیا ہے۔
جنت میں ہر قسم کے میووں کی اس حد تک بہتات ہوگی کہ اہل جنت کے دل میں جس میوے اور پھل کا تصور آئے گا وہ بےساختہ اپنے خدام سے اسے طلب کریں گے۔ انھیں کبھی یہ خیال پریشان نہیں کرے گا کہ شاید جو میوہ یا پھل میں طلب کررہا ہوں اس کی کمی ہو۔ وہ اس بات سے آگاہ ہوں گے کہ اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں کسی چیز کی کمی نہیں۔ یہاں کے پھل نہ کسی موسم کے پابند ہیں اور نہ وہ قلت و کثرت سے آشنا ہیں۔ اور نہ اس عیش و آرام سے محرومی کا خدشہ ہوگا جو انھیں جنت میں حاصل ہے۔
Ayahs 44:56–57لاَ یَذُوْقُوْنَ فِیْھَا الْمَوْتَ اِلاَّالْمَوْتَۃَ الْاُوْلٰی ج وَوَقٰـھُمْ عَذَابَ الْجَحِیْمِ ۔ فَضْلاً مِّنْ رَّبِّکَ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْعَظِیْمُ ۔ (الدخان : 56، 57)
(وہ اس میں پہلی موت کے بعد پھر موت کا مزہ نہیں چکھیں گے اور اللہ نے ان کو جہنم کے عذاب سے بچایا۔ آپ کے رب کے خاص فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔ )
اہلِ جنت کی زندگی ابدی ہے
جنت کی نعمتوں میں ایک بہت بڑی نعمت یہ ہے کہ وہاں کا عیش، عیشِ دوام ہے۔ وہاں کی زندگی ہمیشہ کی زندگی ہے۔ دنیا میں جو ایک دفعہ موت آچکی، اب اہل جنت دوبارہ موت کا مزہ نہیں چکھیں گے۔ بڑی سے بڑی خوشی اگر اس اندیشے کا شکار ہوجائے کہ نہ جانے اس خوشی کا انجام کیا ہونے والا ہے تو یہ خوشی بھی انسان کو حقیقی خوشی نہیں دے سکتی۔ اہل جنت اس طرح کے ہر کھٹکے سے محفوظ اور مامون ہوں گے۔ البتہ انھیں اس بات کی ہمیشہ فکر رہی کہ ایمان و عمل کی ساری محنتوں کے باوجود کیا ہم اللہ تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرپائیں گے، جس کا لازمی نتیجہ یہ ہوگا کہ ہم جہنم کے عذاب سے بچ جائیں گے۔ چناچہ آخرت میں جیسے ہی یہ اعلان ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے فلاں فلاں لوگوں کو جہنم کے عذاب سے بچا لیا ہے اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا جائے گا کہ ان کے ایمان و عمل کی محنت اپنی جگہ، اللہ تعالیٰ اس کا نہایت قدردان ہے۔ لیکن جنت اتنی بڑی نعمت ہے کہ وہ اس کے فضل کے بغیر نہیں مل سکتی۔ اس لیے خاص طور پر فرمایا کہ اہل جنت موت کے کھٹکے سے تو بےنیاز ہوگئے لیکن جہنم سے انھیں ان کے رب نے بچایا۔ اور یہ اس کا خاص فضل ہے۔ جس کو یہ فضل نصیب ہوجاتا ہے اسے درحقیقت حقیقی کامیابی اور بڑی کامیابی ملتی ہے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر ارشاد فرمایا کہ عمل کرو اور اپنی حدِاسطاعت تک زیادہ سے زیادہ ٹھیک کام کرنے کی کوشش کرو۔ مگر یہ جان لو کہ کسی شخص کو بھی اس کا عمل جنت میں داخل نہیں کرے گا بجز اس کے کہ اللہ تعالیٰ اس کو اپنے فضل سے ڈھانپ لے۔ اس لیے ہر مومن کے لیے یہ بات ازبس ضروری ہے کہ وہ مقدور بھر اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرے اور آنحضرت ﷺ کی سنت کو حرزجان بنائے۔ لیکن ہمیشہ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے توفیق مانگتا رہے۔ اور جنت کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل کی دعا کرتا رہے۔ کیونکہ اس کا فضل ہی جنت کی ضمانت ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا فضل اسے ہی شامل حال ہوگا جو ایمان و عمل کا سرمایہ لے کر آئے گا۔
Ayahs 44:58–59فَاِنَّمَا یَسَّرْنٰـہُ بِلِسَانِکَ لَعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُوْنَ ۔ فَارْتَقِبْ اِنَّہُمْ مُّرْتَقِبُوْنَ ۔ (الدخان : 58، 59)
(پس ہم نے اس کتاب کو آپ کی زبان میں سہل بنادیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ تو آپ بھی انتظار کریں، یہ بھی منتظر ہیں۔ )
قرآن کریم کا عربی زبان میں نزول اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے
قرآن کریم کا عام طور پر اسلوب یہ ہے کہ وہ جس مضمون سے سورة کا آغاز کرتا ہے، سورة کے اختتام پر اسی مضمون کو Sum off کرتا ہے۔ یہاں بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ اس سورة کا آغاز قرآن کریم کی اہمیت و افادیت سے ہوا تھا۔ اور یہ بات واضح کی گئی تھی کہ انسانوں کی دنیوی اور اخروی کامیابی کا دارومدار اس قرآن کریم پر ایمان لانے میں ہے۔ یہی وہ ضابطہ ٔ حیات ہے جو انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو ٹھیک نہج پر چلنے کی ضمانت دیتا ہے۔ درمیان میں ضمنی مباحث چھڑتے رہے، اب آخر میں پھر اسی قرآن کریم کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ ہم نے قرآن کریم سے استفادہ کے لیے ان تمام چیزوں کا سامان کردیا ہے اور تمام ضرورتیں بہم پہنچا دی ہیں جن سے قرآن کریم کی نصیحت سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ اگرچہ تیسیر کا معنی آسان اور سہل بنانا ہے، لیکن درحقیقت اس کا مفہوم صرف آسان کرنا نہیں بلکہ زندگی کی رہنمائی کے لیے آسان کرنا ہے۔ اور وہ اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ قرآن کریم جس انقلاب کی دعوت بن کر آیا ہے اس کی تعلیم و تذکیر کے مقصد کے لیے تمام ضروری لوازم سے اسے آراستہ کیا جائے۔ توحید کے ایک ایک پہلو کو واضح کردیا جائے۔ اللہ تعالیٰ کی صفت حاکمیت کو اس طرح کھول دیا جائے کہ تحلیل و تحریم کی ہر مشکل آسان ہوجائے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول کی حیثیت کو واضح کرتے ہوئے اس کی اطاعت، محبت اور عملی رہنمائی کی کسی جہت کو تشنہ نہ چھوڑا جائے۔ آیات قرآنی میں محکمات اور متشابہات کی مشکل ترین بحث کو بھی آسان کردیا جائے۔ غرضیکہ کہ قرآن کریم کی تعلیم و تذکیر کا کوئی گوشہ ایسا نہ رہے جس میں انسان الجھ کے رہ جائے۔ لیکن ان سب چیزوں کی اولین ضرورت وہ زبان ہے جس زبان میں قرآن کریم نازل ہوا ہے۔ قرآن کریم کے اولین مخاطبوں کے لیے اس کتاب کے قریب الفہم ہونے کا دارومدار اس زبان کے متداول ہونے پر ہے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ ہم نے اس کتاب کی تیسیر اس طرح کی ہے اسے آپ کی زبان میں نازل کیا ہے۔ کیونکہ آپ قریش کی زبان کے سب سے اعلیٰ نمائندہ ہیں۔ قریش نے اگر اسلام کو قبول کرلیا تو وہ قرآن کریم کی تعلیمات کے سب سے بڑے منادومبلغ ہوں گے۔ اس لیے ہم نے ان کی زبان میں اسے نازل کرکے اسے تذکر اور تذکیر کے لیے آسان کردیا ہے۔ اب بھی اگر یہ لوگ اس پر ایمان نہ لائیں تو پھر انھیں اس انجام کے لیے تیار رہنا چاہیے جو اس طرح کے سرکش لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے مقدر ہے۔ آپ بھی انتظار کیجیے کہ ان کی اس روش اور آپ کی کاوشوں کا نتیجہ کیا نکلتا ہے۔ اور وہ بھی انتظار کررہے ہیں، انھیں بھی اپنا انتظار جاری رکھنا چاہیے۔ آخر حالات نے واضح کردیا ہے کہ وہ برخودغلط قسم کے لوگ جو اسلام کو قابل اعتناء نہیں سمجھتے تھے، انھیں ہاتھ باندھ کر آنحضرت ﷺ سے معافی طلب کرنا پڑی۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کے عفو و درگزر نے انھیں اسلام کی آغوش میں لے لیا اور سارا جزیرہ عرب فتح مکہ کے بعد اسلام کے دامن میں آگیا۔