Ayah 45:18ثُمَّ جَعَلْنٰـکَ عَلٰی شَرِیْعَۃٍ مِّنَ الْاَمْرِ فَاتَّبِعْھَا وَلاَ تَتَّبِعْ اَھْوَآئَ الَّذِیْنَ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 18)
(پھر ہم نے اے نبی ! آپ کو ایک واضح شریعت پر قائم کیا ہے، پس آپ اسی کی پیروی کریں اور ان لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کریں جو علم نہیں رکھتے۔ )
آنحضرت ﷺ کی بعثت کا سبب اور آپ کو ہدایات
یہود نے جب اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی خواہشات کے تابع کرکے گروہ بندیوں کی نذر کردیا اور دین کی پیدا کردہ وحدت میں اس حد تک اختلافات کے دروازے کھول دیئے کہ لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ کے دین کی شناخت مشکل ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ نے شریعت کی صورت میں جو انھیں صراط مستقیم دکھائی تھی اسے انھوں نے اس طرح گم کردیا کہ کوئی اس کا جاننے پہچاننے والا نہ رہا۔ ہر صحیح الفکر اور سلیم الفطرت آدمی دین کے راستے پر چلنا چاہتا تھا لیکن کوئی اسے راستہ دکھانے والا نہ رہا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اے پیغمبر ! آپ کو ایک واضح شریعت دے کر بھیجا تاکہ آپ دنیا کو وہ صراط مستقیم دکھا سکیں جسے بنی اسرائیل نے گم کردیا ہے۔ اب آپ کی یہ ذمہ داری ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ پر جو شریعت نازل کی ہے اور دین کا جو واضح راستہ کھولا ہے آپ نہایت ثابت قدمی سے نہ صرف اس پر چلتے رہیں بلکہ دنیا کو بھی اس پر چلانے کی کوشش کریں۔ آپ کوئی نئی دعوت لے کر دنیا میں نہیں آئے بلکہ وہی دعوت پیش کررہے ہیں جسے ہر دور میں اولوالعزم رسولوں نے پیش کیا ہے۔ بنی اسرائیل کا یہ پر اپیگنڈا کہ ہم اپنے پاس ایک کتاب رکھتے ہیں، ہمارے اس ایک شریعت موجود ہے، اور ایک عظیم رسول کے پیروکار ہیں، انفرادی اور اجتماعی زندگی کی دینی ضرورتوں کے حوالے سے ہم ہر چیز میں خودکفیل ہیں۔ بنابریں ہمارے لیے یہ بات ناقابلِ فہم ہے کہ ان حالات میں ایک نئے رسول کی بعثت کی ضرورت ہوسکتی ہے۔ یہ درحقیقت ان کا پر اپیگنڈا اور اپنے جرائم چھپانے کی ایک کوشش تھا۔ انھوں نے جس طرح اللہ تعالیٰ کی شریعت کو بگاڑا اور جس طرح اپنی خواہشات کے پیچھے چلتے ہوئے بدعات و خرافات کو شریعت کا حصہ بنایا اور ہَوائے نفس کو مختلف لبادے پہنا کر جس طرح دین بنانے کی کوشش کی، ان میں سے کوئی ایسی بات نہیں جس سے وہ خود واقف نہ ہوں۔ اگر ان کے اندر گروہی عصبیت کی بجائے انصاف کی رتی بھی ہوتی تو وہ آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے آخری نبی پر ایمان لاتے اور ان کے لائے ہوئے دین کو متاع گم گشتہ سمجھ کر قبول کرتے۔ لیکن جس طرح اہل عرب ملت ابراہیمی کے دعویدار ہونے کے باوجود ملت ابراہیمی کی ہر بات کو گم کرچکے ہیں اور آج ان کے پاس اپنی پیدا کردہ بدعات و خرافات اور خواہشاتِ نفس کے سوا کچھ نہیں۔ یہی حال بنی اسرائیل کا بھی ہے۔ یہ دونوں گروہ اصل حقیقت کو گم کرچکے ہیں۔ اس لیے حکم دیا گیا ہے کہ آپ پر جو شریعت نازل کی گئی ہے آپ نہایت استقامت کے ساتھ اس کی پیروی کرتے رہیں۔ اور یہ لوگ جو علم شریعت سے تہی دامن ہیں کبھی بھی ان کی کسی بات کو اہمیت نہ دیں۔
Ayah 45:19اِنَّھُمْ لَنْ یُّغْنُوْا عَنْـکَ مِنَ اللّٰہِ شَیْئًا ط وَاِنَّ الظّٰلِمِیْنَ بَعْضُھُمْ اَوْلِیَـآئُ بَعْضٍ ج وَاللّٰہُ وَلِیُّ الْمُتَّقِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 19)
(بےشک یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں آپ کے کچھ بھی کام نہیں آسکتے، بیشک ظالم لوگ ایک دوسرے کے مددگار ہیں، اور اللہ اپنے ڈرنے والے بندوں کا کارساز ہے۔ )
یہود سے بےنیازی کی ہدایت
مخالفین یہود ہوں یا مشرکین وہ مخالفت میں مختلف اسالیب اختیار کریں گے۔ کبھی مرعوب کرنے کی کوشش کریں گے اور کبھی ہموار کرنے کی۔ آپ کسی حال میں بھی ان پر اعتماد نہ کیجیے۔ یہ اپنے تئیں کچھ بھی سمجھتے ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کے معاملے میں یہ آپ کی کوئی مدد نہیں کرسکتے۔ ایک تو اس لیے کہ اس کی طاقت کے مقابلے میں کسی کی طاقت کام نہیں دیتی۔ اور دوسرا اس لیے کہ یہ ہر رنگ میں آپ کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں۔ ان کا اگر کوئی مخلصانہ رشتہ ہے تو وہ آپس میں ہے یہ ظالم اور مشرک لوگ یہود ہوں یا عرب سب ایک دوسرے کے ہمدرد و غمگسار ہیں۔ لیکن مسلمانوں کے بدترین دشمن ہیں۔ لیکن آپ کو اور مسلمانوں کو اس کی پرواہ کی ضرورت نہیں کیونکہ جو لوگ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہیں اور اسی کی رضا اور خوشنودی کے لیے زندگی گزارتے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا کارساز اور دم ساز ہے۔ تو جس کا کارساز اللہ تعالیٰ ہو اسے کسی اور کی مدد کی کیا ضرورت ہے۔
Ayah 45:20ھٰذَا بَصَآئِرُلِلنَّاسِ وَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّقَوْمٍ یُّوْقِنُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 20)
(یہ لوگوں کے لیے سوجھ کی باتیں ہیں، اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو یقین کریں۔ )
قرآن کریم کی اہمیت
یہ قرآن کریم کسی گروہ کی میراث نہیں۔ یہ ایک ایسا سرمایہ علم و دانش ہے جس کی ایک ایک بات اپنے اندر حکمت کے نایاب موتی رکھتی ہے۔ اس کے پیش نظر نہ کسی خاص قوم کو اٹھانا ہے، نہ کسی خاص قوم کو گرانا۔ یہ اللہ وحدہ لاشریک کی نازل کردہ وہ کتاب ہے جو وحدت رب اور وحدت اب کی تعلیم دیتی ہے۔ اس کے پیش نظر پوری نوع انسانی کے اہداف اور مصالح ہیں۔ لوگوں کے لیے اس میں غور و فکر کا سامان ہے۔ جو شخص غور و فکر کے بعد اس کے منزل من اللہ ہونے، پھر اس کی افادیت اور اہمیت، پھر اس کی ہمہ گیری اور وسعت پذیری کو تسلیم کرلیتا ہے اور پھر رفتہ رفتہ اس کے دیئے ہوئے اخبار اور اس کی دی ہوئی بصیرت پر یقین پیدا کرلیتا ہے، اس کے لیے یہی کتاب ہدایت بھی ہے اور رحمت کا سامان بھی۔ ہدایت سے زندگی کے تمام امکانات درست ہوجاتے ہیں اور رحمت سے دنیا اور آخرت سنور جاتی ہے۔
Ayah 45:21اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ اجْتَرَحُوا السَّیِّاٰتِ اَنْ نَّجْعَلَھُمْ کَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لا سَوَآئً مَّحْیَاھُمْ وَمَمَا تُھُمْ ط سَآئَ مَایَحْکُمُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 21)
(کیا وہ لوگ جنھوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے، یہ گمان رکھتے ہیں کہ ہم انھیں ان لوگوں کی مانند کردیں گے جو ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے، برابر ہوگا ان کا جینا اور ان کا مرنا، برا ہے جو وہ فیصلہ کررہے ہیں۔ )
آخرت کے اثبات پر ایک دلیل
دنیا میں کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں خواہشِ نفس کی پیروی کے سوا اور کسی بات کا ہوش نہیں۔ ان کی زندگی کا مقصد ہر طریقے سے اپنے لیے آسانیاں پیدا کرنا، اپنے سر پر کلغی سجانا، دولت کی فراوانی کے لیے نئے نئے امکانات پیدا کرنا، عزت اور لذت کے حصول کو زندگی کا مطمح نظر بنانا اور عقل کو خواہشِ نفس کو بروئے کار لانے کے لیے استعمال کرنا اور اخلاق کی پابندیوں کو اور اچھائی اور برائی کے تصورات کو ذہنی افلاس اور رجعت پسندی کا نتیجہ سمجھنا جیسے امور ہیں جنھیں وہ زندگی کا اثاثہ سمجھتے ہیں۔ انسانوں کی یہ قسم اکثریت میں ہو تو انسانیت مرجاتی ہے۔ اقلیت میں ہو تو انسانیت بیمار رہتی ہے۔
انسانوں کی دوسری قسم وہ ہے جو زندگی کے کچھ مقاصد رکھتی ہے۔ انسانی ضروریات کو مقاصد کا نہیں ضروریات کا درجہ دیتی ہے۔ ان کے حصول کو زندگی کی آسانی کے لیے ضروری سمجھتی ہے لیکن کبھی ان پر مقاصد کو قربان نہیں کرتی۔ ان کے نزدیک انسان اور حیوان میں جہاں فرق مقصد کے شعور سے پیدا ہوتا ہے وہیں اخلاقی توانائی بھی انسان کو حیوان سے ممتاز کرتی ہے۔ یہ لوگ زندگی پیٹ کی غلامی میں بسر نہیں کرتے بلکہ مقصد کی سربلندی کے لیے قربان کرتے ہیں۔ ان میں اچھائی اور بھلائی انسانیت کا حسن ہے۔ اور بداخلاقی اور برائی انسانیت کے لیے بدنما داغ ہے۔ یہ زندگی کے دو رنگ ہیں جن سے صرف نظر نہیں کیا جاسکتا۔ جو شخص زندگی کے پہلے رنگ کو حقیقت سمجھتا ہے اس کے نزدیک زندگی محض شب و روز کی آمدوشُد کا نام ہے۔ اور وہ اسی زندگی کی خوشیوں کو آخری خوشیاں اور اسی کے غموں کو آخری غم سمجھتا ہے۔ اس کی ہر کوشش اسی زندگی کو سجانے کے لیے صرف ہوتی ہے۔ وہ موت کو زندگی کا اختتام سمجھتا ہے اس لیے اس کی سوچ اور اس کی قوت پرواز اور اس کی اقدامی قوت اور اس کی اولوالعزمی اسی دنیا کی ہمہ ہمی میں گم ہوجاتی ہے۔ لیکن جو شخص زندگی کے دوسرے رخ کو حقیقی زندگی سمجھتا ہے وہ یقینا اس بات سے صرف نظر نہیں کرسکتا کہ اگر خیر و شر کے تصور کو باقی رکھنا ہے، برائی کو کچلنا اور نیکی کو فروغ دینا ہے، خیرخواہی کو آگے بڑھانا اور بدخواہی کا خاتمہ کرنا ہے، انسان اور حیوان کی اقدار کو الگ الگ کرنا ہے اور انسان کی انسانیت کو اجاگر کرنے کی کوششوں کو بروئے کار لانا ہے تو پھر اس کے سوا کوئی چارہ کار نہیں کہ اس بات کا یقین پیدا کیا جائے کہ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب زندگی کے ہر عمل کا حساب ہوگا۔ نیکیاں بھی دیکھی جائیں گی اور برائیاں بھی شمار ہوں گی۔ ایثار و قربانی کو انعامات سے نوازا جائے گا اور خودغرضی اور ظلم کو سزائوں کی زنجیریں پہنائی جائیں گی۔ اللہ تعالیٰ کی صفت عدل کا ظہور ہوگا جہاں ہر نیک عمل اجر کا مستحق ٹھہرے گا۔ اور ہر برا عمل برائی کی پاداش میں پکڑا جائے گا۔ یہی وہ دلیل ہے جس کا اس آیت کریمہ میں ذکر فرمایا گیا کہ اگر خیر اور شر برابر نہیں۔ زندگی اور موت یکساں نہیں، خیرخواہی اور بدخواہی کے نتائج ایک جیسے نہیں۔ تو پھر یہ کس قدر برا فیصلہ ہے کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ یہ زندگی موت کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔ یہاں جس نے اچھائیاں کیں وہ اس کے صلے سے محروم رہے گا اور جس نے برائیاں کیں وہ اس زندگی میں عیش کرے گا اور جس نے نیکیاں کیں اور زندگی کے برے تقاضوں سے اپنے آپ کو بچایا وہ ہمیشہ محرومیوں کے زخم چاٹتا رہے گا۔ کیا جس شخص کو اللہ تعالیٰ نے تھوڑی سے بھی عقل دے رکھی ہے وہ کبھی اس صورتحال کو قبول کرنے کے لیے تیار ہوسکتا ہے ؟
Ayah 45:22وَخَلَقَ اللّٰہُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ بِالْحَقِّ وَلِتُجْزٰی کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ وَھُمْ لاَ یُظْلَمُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 22)
(اللہ نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اور تاکہ بدلہ دیا جائے ہر جان کو اس کے کیے کا، اور ان پر کوئی ظلم نہیں کیا جائے گا۔ )
تخلیقِ ارض و سما کا نتیجہ جزائِ اعمال ہے
اس میں کوئی شبہ نہیں کہ انسان کے تمام اعمال اس کے بنیادی تصورات کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ نیکی اسی سے ظہور میں آتی ہے جس کے دل میں نیکی کا جذبہ ہوتا ہے۔ اور برائی اسی سے سرزد ہوتی ہے جس کے دل میں برائی جڑ پکڑ چکی ہوتی ہے۔ اسی حقیقت کے پیش نذر قرآن کریم ہمیشہ بنیادی تصورات یعنی عقائد پر زور دیتا ہے۔ تاکہ ان تصورات کے دل میں رسوخ پیدا کرلینے کے بعد اخلاق و کردار کا وہ شجرِسایہ دار ضرور پیدا ہوگا جو ان تصورات کا لازمی نتیجہ ہے۔ چناچہ ان ہی تصورات میں سے سب سے اہم تصور جس نے انسانی زندگی کو سب سے زیادہ متأثر کیا ہے وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو فضول، عبث اور محض کھیل اور تفریح کے لیے پیدا نہیں کیا بلکہ ہر چیز کی ایک غایت اور ایک مقصد ہے۔ اور اپنے رسولوں اور کتابوں کے ذریعے انسان کو اس مقصد کا علم دے دیا گیا۔ چناچہ جس شخص نے اس زمین کے اوپر اور آسمان کی چھت کے نیچے اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے اختیارات اور ذرائع اور وسائل کو اس طرح استعمال کیا جس طرح اسے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔ تو وہ یقینا اس بات کا مستحق ہے کہ اس کے لیے ایک ایسا دن لایا جائے جس میں اس کے اس کارنامے کا بجاطور پر صلہ دیا جائے۔ اور جس نے اس مقصدحق سے انحراف کیا اور اللہ تعالیٰ کے دیئے ہوئے علم سے منہ موڑ کر محض خواہشِ نفس کے اتباع میں زندگی گزاری اور جس حق کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو پیدا کیا تھا اسے بگاڑ کر رکھ دیا۔ تو وہ یقینا بھی اس بات کا مستحق ہے کہ ایک دن ایسا آئے جب اس کی جسارتوں کی اسے سزا دی جائے۔ اور اگر ایسا نہ کیا جائے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ زمین و آسمان کا یہ نظام کوئی بامقصد حکیمانہ نظام نہیں بلکہ محض تفریحِ طبع کا سامان ہے جسے اللہ تعالیٰ نے اپنی دل لگی کے لیے پیدا کیا تھا۔ اندازہ کیجیے کہ یہ تصور اللہ تعالیٰ جیسے حکیم کے بارے میں کس قدر غیرمنصفانہ ہے۔ اور اس سے وہ مقصدحق بالکل الٹ کے رہ جاتا ہے جس کے لیے اس کائنات کو پیدا کیا گیا ہے۔ اور آخر میں فرمایا گیا ہے کہ جس طرح اس حکیم عادل کے عدل کا تقاضا یہ ہے کہ یہاں ہر متنفس کو اس کے اعمال کی جزاء ملے۔ اسی طرح اس کے عدل کا یہ بھی تقاضا ہے کہ یہاں کسی پر ظلم نہ کیا جائے۔ ایسا نہ ہو کہ برائی اور نیکی کو یکساں کردیا جائے۔ یا نیکی کی سزا دی جائے اور برائی کو چھوٹ دے دی جائے۔
Ayah 45:23اَفَرَئَ یْتَ مَنِ اتَّخَذَ اِلٰـھَہٗ ھَوٰ ہُ وَاَضَلَّہُ اللّٰہُ عَلٰی عِلْمٍ وَّخَتَمَ عَلٰی سَمْعِہٖ وَقَلْبِہٖ وَجَعَلَ عَلٰی بَصَرِہٖ غِشٰوَۃً ط فَمَنْ یَّھْدِیْہِ مِنْ م بَعْدِاللّٰہِ ط اَفَلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 23)
(کیا تم نے اس شخص کو دیکھا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو معبود بنا رکھا ہے اور اس کو اللہ نے علم کے باوجود گمراہ کردیا ہے اور اس کے کانوں اور اس کے دل پر مہر کردی ہے، اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے، اللہ کے بعد اور کون ہے جو اسے ہدایت دے، کیا تم لوگ نصیحت حاصل نہیں کرتے۔ )
ہوائے نفس کے اتباع کا نتیجہ
آیتِ کریمہ کے پہلے لفظ سے تعجب کا اظہار کیا جارہا ہے جس میں افسوس بھی شامل ہے مقصود اس سے اس بات پر توجہ دلانا ہے کہ آخرت سے انکار یا دین سے گمراہی صرف جہالت کی وجہ سے نہیں آتی بلکہ بعض دفعہ وہ لوگ بھی اس مرض کا شکار ہوتے ہیں جو بظاہر دنیا کے بیشتر علوم و فنون پر حاوی ہوتے ہیں یا انھیں علم و دانش کا بہت دعویٰ ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بھی کوئی شخص اسلام کے بنیادی تصورات کو قبول کرنے کی بجائے خواہشِ نفس کی پیروی کو سب کچھ سمجھ لیتا ہے اور اسی میں اس کو زندگی کی خوشیاں ملتی ہیں اور اسی میں وہ زندگی کی کامیابیوں کو دیکھتا ہے۔ تو ایسا شخص اپنے علم و دانش کے ہوتے ہوئے بھی ضلالت و گمراہی سے محفوظ نہیں رہتا۔ بلکہ اس کا علم اس کی اس آگ کے لیے ایندھن ثابت ہوتا ہے۔ وہ اس کی گمراہی اور بےراہ روی کے لیے نئے سے نئے دلائل ڈھونڈتا ہے۔ خواہشِ نفس کو اعتدال کی زنجیر پہنانے والی چیز اللہ تعالیٰ کی خشیت کے سوا اور کوئی نہیں۔ اور جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کی خشیت اور اس کے تقویٰ سے بےنیاز ہوجاتا ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کا وجود ہی اس کے لیے ایک بےمعنی چیز بن جاتی ہے اور وہ اس کی عائد کردہ حلال و حرام کی پابندیوں کو اپنی نام نہاد خوشیوں کے راستے کی رکاوٹ سمجھنے لگتا ہے تو اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آتا ہے اور اس کے علم کے باوجود اسے گمراہ کردیا جاتا ہے۔ بات کو سمجھنے، حق کو جاننے اور نصیحت کو سننے کے جتنے ذرائع ہیں سب مائوف کردیئے جاتے ہیں۔ قوت سماعت کام کرنے کے باوجود صحیح بات کو سننے سے محروم ہوجاتی ہے۔ دل میں نیکی کے خیالات پیدا ہونے کی بجائے برے خیالات پیدا ہونے لگتے ہیں بلکہ دل برائیوں کا مسکن بن جاتا ہے۔ آنکھیں جو حق کو دیکھنے کا سب سے بڑا ذریعہ ہیں ان پر پردہ ڈال دیا جاتا ہے۔ یہی وہ ذرائع ہیں جن سے انسان میں تبدیلی کی خواہش کی جاسکتی ہے۔ جب اللہ تعالیٰ انسان کو ان سے محروم کردے تو پھر کون ہے جو اس کو راہ ہدایت دکھا سکے۔ آخر میں مسلمانوں کو تنبیہ کی گئی ہے کہ تمہیں اس پر حیرت ہے کہ یہود جیسے اہل کتاب اور اہل دانش لوگ قرآن کے دشمن کیوں ہیں ؟ اور کتاب و شریعت کا مزاج سمجھتے ہوئے بھی یہ قرآن کریم کے کتاب اللہ ہونے سے انکاری کیوں ہیں ؟ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ان ہی لوگوں کو ہدایت بخشتا ہے جو اس کی ہدایت کی قدر کرتے ہیں۔ اور جو لوگ اس کی قدر نہیں کرتے ان کا علم، ان کی دانش اور ان کی ہدایت کے دعوے ان کے لیے ضلالت کا پھندا ثابت ہوتے ہیں۔
Ayah 45:24وَقَالُوْا مَاھِیَ اِلاَّ حَیَاتُنَا الدُّنْیَا نَمُوْتُ وَنَحْیَا وَمَا یُھْلِکُنَـآ اِلاَّالدَّھْرُ ج وَمَا لَہُمْ بِذٰلِکَ مِنْ عِلْمٍ ج اِنْ ھُوْ اِلاَّ یَظُنُّوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 24)
(اور وہ کہتے ہیں کہ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے یہیں ہم مرتے اور جیتے ہیں، اور ہم کو بس گردش روزگار ہلاک کرتی ہے اور ان کے پاس اس بارے میں کوئی علم نہیں، یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔ )
منکرینِ قیامت کے دلائل اور ان کی بےوقعتی
گزشتہ آیت کریمہ میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جو شخص خواہشِ نفس کو اپنی زندگی کی سب سے بڑی حقیقت بنا لیتا ہے اور اسی کے اتباع میں زندگی کے ہر معاملے کو حل کرنے کی کوشش کرتا ہے تو رفتہ رفتہ اللہ تعالیٰ اسے اس کی اس روش کی یہ سزا دیتا ہے کہ وہ صاحب علم بھی ہو تو اس کا علم اسے رہنمائی دینے کی بجائے خواہشِ نفس کا اسیر ہو کر رہ جاتا ہے۔ اور اسے اپنے خواہشات کی تکمیل کے سوا دنیا کی کسی اور بات کی اہمیت محسوس نہیں ہوتی۔ اس کی قوت مشاہدہ اور اس کی قوت سماعت اس طرح مفلوج ہو کر رہ جاتی ہے کہ نہ وہ نصیحت کی بات کو سن سکتا ہے اور نہ وہ سامنے کی بات کو دیکھ سکتا ہے۔ بالآخر اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو دنیا کی ہمہ ہمی تک محدود سمجھتا ہے۔ جس طرح صحرا کا مسافر صحرائی ریگ رواں کو بہتا ہوا دریا سمجھتا ہے اور شدید پیاس میں اس کی طرف جتنا تیز دوڑتا ہے اتنا ہی وہ موہوم دریا اس سے دور ہوتا جاتا ہے۔ حتیٰ کہ اس کی طلب میں وہ جان دے دیتا ہے۔ یہ لوگ بھی دنیا کی نیرنگیوں کو اپنی زندگی کے اہداف بنا لیتے ہیں۔ اور یہ سمجھتے ہیں کہ دنیا کی زندگی ہی اصل زندگی ہے، یہیں کی خوشیاں حقیقی خوشیاں ہیں اور یہیں کے غم اصل غم ہیں۔ جس نے یہاں خوشیوں کا سامان کرلیا اسے فلاح و کامرانی مل گئی۔ اور جس نے محرومیاں پال لیں اس کی زندگی خسران کا شکار ہوگئی۔ زندگی کے بعد دوسری زندگی کا تصور جو انسانی تصورات کو بےکراں کردیتا ہے وہ ان کے لیے ناقابلِ قبول ہے۔ اور انھوں نے نہ جانے کس حوالے سے یہ یقین کرلیا ہے کہ موت کے بعد کوئی زندگی نہیں۔ اسی طرح انھیں اس بات کا بھی یقین ہے کہ ہمیں گردش ایام کے سوا کوئی چیز ہلاک کرنے والی نہیں۔ یہ بات کہ اللہ تعالیٰ روحیں قبض کرتا ہے یا قوموں کی زندگی اور ان کی سرافرازیوں کا دارومدار ان کی ایمانی اور اخلاقی حالت سے متعلق ہے سراسر بےعقلی کی باتیں ہیں۔ جن قوموں پر بظاہر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا اور وہ تباہ کردی گئیں ان کی تباہی اخلاقی مفاسد کی وجہ سے نہیں تھی بلکہ گردش روزگار کا نتیجہ تھی۔ اسی طرح لوگوں میں جو مختلف قسم کی وبائیں اور مصیبتیں آتی ہیں تو یہ اعمال یا عقائد کے فساد کا نتیجہ نہیں بلکہ حوادثِ روزگار ہیں جن سے قوموں کو واسطہ پڑتا رہتا ہے۔ ان کے اس طرح کے فلسفے جن کے پس منظر میں جہالت کے سوا اور کچھ نہیں ان کی یقینی زندگی کے وہ اسباب ہیں جن پر ان کے خیالات اور تصورات کا دارومدار ہے۔ لیکن یہ سب باتیں محض ان کا ظن و گمان ہیں جس کے پیچھے علم کا کوئی حوالہ نہیں۔ نہ عقل اور فطرت اس کی تائید میں ہیں اور نہ آفاق وانفس کی نشانیاں ان کی باتوں کی تصدیق کرتی ہیں۔ زندگی کے بنیادی تصورات کو اگر ظن و گمان کی بنیاد پر طے کیا جانے لگے تو دنیا سے یقین کی دولت اٹھ جائے، عقل کی دنیا ویران ہوجائے اور علم کے آنگن میں خاک اڑنے لگے جبکہ حقائق کا دارومدار فطرت، عقل اور علم کے سوا کسی اور چیز پر نہیں۔
Ayah 45:25وَاِذَا تُتْلٰی عَلَیْھِمْ اٰیٰـتُنَا بَیِّنٰتٍ مَّاکَانَ حُجَّتَھُمْ اِلَّآ اَنْ قَالُوا ائْتُوْا بِاٰ بَـآئِنَـآ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 25)
(اور جب ہماری واضح آیات انھیں سنائی جاتی ہیں تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو تو ہمارے باپ دادا کو زندہ کرکے ہمارے پاس لائو۔ )
قرآن کریم کے مقابل میں ان کی واحد دلیل
یہ نام نہاد دانشور جو علم کے باوجود ضلالت و گمراہی کا شکار ہوئے ان کی علمی بےمائیگی کا عالم یہ ہے کہ وہ علم کی بنیادوں کو کھو چکے اور ظن و گمان کو زندگی کا سرمایہ جان کر یہ رویہ اپنا چکے ہیں کہ قرآن کریم کے واضح دلائل کے مقابلے میں ایسی حجت پیش کرتے ہیں جسے حجت کہنا بھی علم کی توہین ہے۔ قرآن کریم ان کے سامنے آفاق وانفس کی نشانیاں کھولتا ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے قادرمطلق ہونے کا یقین پیدا ہوتا ہے۔ اور پھر ان مختلف نشانیوں سے اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کو نمایاں کرتا ہے جس سے کائنات کی ایک ایک چیز میں اللہ تعالیٰ کی حکمتوں کی کارفرمائی دکھائی دیتی ہے۔ پھر وہ انسان کی اخلاقی زندگی سے آخرت کی ضرورت کو اجاگر کرتا ہے اور پھر اس کی تائید میں فطرت کے تقاضوں کو مبرہن کرتا ہے۔ لیکن ان سب باتوں کے جواب میں یہ نام نہاد دانشور صرف ایک حجت پیش کرتے ہیں کہ اگر تم واقعی اس بات میں سچے ہو کہ انسان ازسرنو زندہ ہوں گے اور اس موت کے بعد دوسری زندگی آئے گی، ایک محشر بپا ہوگا اور ہر شخص کو اپنے اعمال کی جواب دہی کرنا پڑے گی۔ تو پھر اس کے ثبوت کے لیے ہمارے آبائواجداد میں سے کسی ایک کو زندہ کرکے ہمارے پاس لائو، ہم اسے دیکھیں، اس سے باتیں کریں تب ہمیں یقین آجائے گا کہ واقعی دوبارہ زندگی کا بھی امکان ہے۔ لیکن اس جاہلانہ حجت کو دیکھتے ہوئے حیرت ہوتی ہے کہ یہ ایک ایسی بات ہے جس کا سرے سے قرآن کریم نے ذکر تک نہیں کیا۔ قرآن کریم میں کہیں یہ بات نہیں فرمائی گئی کہ دنیا میں متفرق طور پر وقتاً فوقتاً مردوں کو زندہ کیا جاتا رہے گا۔ بلکہ جو کچھ کہا گیا وہ یہ ہے کہ قیامت کے بعد اللہ تعالیٰ بیک وقت تمام انسانوں کو ازسرنو زندہ کرے گا۔ اور ان سب کے اعمال کا محاسبہ کرکے جزاء و سزا کا فیصلہ فرمائے گا۔ اندازہ کیجیے کہ قرآن کریم کا دعویٰ کچھ اور ہے اور اس کے دلائل آفتاب سے زیادہ روشن ہیں۔ اور جو کچھ اس کے معارضے میں کہا جارہا ہے وہ ایک ایسی بات ہے جس کا اسلامی عقائد سے کوئی تعلق نہیں، اور جس کا اثباتِ قیامت میں کوئی دخل نہیں۔
Ayah 45:26قُلِ اللّٰہُ یُحْیِیْکُمْ ثُمَّ یُمِیْتُکُمْ ثُمَّ یَجْمَعُکُمْ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰـمَۃِ لاَرَیْبَ فِیْہِ وَلٰـکِنَّ اَکْثَرَالنَّاسِ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 26)
(اے پیغمبر، کہہ دیجیے کہ اللہ ہی تمہیں زندہ کرتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہی تم کو قیامت کے دن تک جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں جمع کرے گا، لیکن اکثر لوگ نہیں جانتے۔ )
بعض غلط فہمیوں کا ازالہ
گزشتہ آیت میں مشرکینِ مکہ نے جو سوالات اٹھائے تھے پیش نظر آیت کریمہ میں ان کا جواب دیا گیا ہے۔ انھوں نے پہلی بات یہ کہی تھی کہ موت قبض روح سے نہیں ہوتی بلکہ وہ تو گردش ایام کا نتیجہ ہے۔ جس طرح ایک بیج اگتا ہے، پودا بنتا ہے، پھر مضبوط قدآور درخت کی شکل اختیار کرجاتا ہے، سایہ دیتا ہے یا اسے پھل لگتے ہیں، پھر وقت کے ساتھ ساتھ وہ کمزور ہونے لگتا ہے حتیٰ کہ ایک دن آتا ہے جب وہ مرجھا کے گر جاتا ہے۔ کسی نے اس کی روح نہیں نکالی اور کسی نے اس کی زندگی کو ختم نہیں کیا، حوادثِ روزگار اور گردش ایام نے اس کے سفر کا خاتمہ کردیا ہے۔ یہی حال انسان کا بھی ہے۔ اس کے جواب میں ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہیں غلط فہمی ہے کہ تم خودرو پودوں کی طرح وجود میں آئے ہو، تمہیں اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا اور وہی تمہیں موت دیتا ہے، زندگی اور موت کے فیصلے اسی کے ہاتھ میں ہیں، اس کے اسباب بھی وہی فراہم کرتا ہے، اور اس کے نتائج کو بھی وہی پیدا کرتا ہے۔ رہی تمہاری دوسری بات کہ یہی دنیا کی زندگی حقیقی زندگی ہے اس کے بعد کوئی زندگی نہیں، یہ بھی سراسر غلط ہے۔ اور اس پر تمہاری یہ دلیل کہ اگر دوسری زندگی ہوتی تو ہمارے آبائواجداد میں سے کسی کو تو زندہ کیا جاتا، یہ اس سے بھی زیادہ غلط ہے۔ تم میں سے ہر ایک کو موت اس کے وقت پر آتی ہے۔ ہر شخص اپنی ایک متعین عمر لے کے آتا ہے اور اس کے بعد اس کی روح قبض کرلی جاتی ہے۔ لیکن اسے بالکل فنا نہیں کیا جاتا، اسے عالم برزخ میں رکھا جاتا ہے۔ اس کے جسم اور اس کی روح کا ایک خفیف سا تعلق رہتا ہے۔ تمام لوگ اپنی اپنی باری پر موت سے ہمکنار ہو کر عالم برزخ میں جمع کیے جارہے ہیں۔ اور یہ اس وقت تک جمع کیے جاتے رہیں گے جب تک دوسری دنیا کی صبح طلوع نہیں ہوگی۔ کیونکہ آخرت محض دوسری زندگی کا نام نہیں بلکہ تمام لوگوں کو ان کے اعمال سمیت میدانِ حشر میں جمع کرنے کا نام ہے تاکہ ان کے اعمال کا حساب لیا جاسکے۔ اور بہت سے لوگ ہیں جن کے اعمال کی مدت چند سالوں میں ختم نہیں ہوتی بلکہ کبھی صدیوں تک اور کبھی صدیوں سے بھی زیادہ طویل وقت تک دراز ہوتی جاتی ہے۔ جن لوگوں نے ایسے اجتماعی کام کیے جن کے اثرات بہت سے دماغوں تک پہنچے اور دلوں میں اتر گئے۔ انھوں نے پھر اپنی باقی زندگی ان خیالات اور اثرات کے تحت گزاری، پھر ان کے اعمال کے نتیجے میں اور بہت سے ذہن تیار ہوئے۔ اس طرح سے ایک لامتناہی سلسلہ چلتا رہتا ہے۔ لیکن ان کے اعمال کا کچھ نہ کچھ حصہ ان لوگوں کے نامہ عمل میں جمع ہوتا رہتا ہے جو اس کا سبب بنے ہیں۔ کارل مارکس ایک شخص تھا جس نے کمیونزم پر کتاب لکھی۔ اس کے اثرات نے لینن، اینجلز اور سٹالن جیسے لوگ پیدا کیے۔ چین میں مائوزے تنگ نے جنم لیا۔ اسی طرح بعض دیگر ممالک میں بھی اس نظام کو نافذ ہونے کا موقع ملا۔ اس سے جو خیالات پیدا ہوئے، جو اثرات وجود میں آئے، دل و دماغ کے جو سانچے بنے، جن کے مطابق اخلاق ڈھلے، ان کی عمر کا کوئی اندازہ نہیں کیا جاسکتا۔ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جاتا ہے کہ آئندہ کب تک یہ اثرات پھیلتے جائیں گے۔ لیکن ان اعمال و اثرات کا کچھ نہ کچھ حصہ کارل مارکس کے نامہ عمل میں ضرور شامل ہوتا رہے گا۔ ایسے ہی اور بہت سے لوگ ہیں جنھوں نے تعلیمی ادارے کھولے، ہسپتال بنائے، اکیڈمیاں قائم کیں، ان کے اثرات ان کی زندگیوں تک محدود نہیں بلکہ اس وقت تک دراز ہوتے جائیں گے جب تک قیامت کا ساحل طلوع نہیں ہوتا۔ جس طرح ہم جھیل میں ایک کنکر پھینکتے ہیں تو اس سے لہریں اٹھتی ہیں اور وہ پھیلتی چلی جاتی ہیں، ان کا سلسلہ دراز ہوتا جاتا ہے اور یہ اس وقت اختتام پذیر ہوتی ہیں جب ساحل سے جا ٹکراتی ہیں۔ یہی حال انسانی اعمال کا بھی ہے۔ اس لیے اللہ تعالیٰ انسانوں کو متفرق طور پر مختلف اوقات میں زندہ نہیں کرے گا بلکہ قیامت کے دن تک انھیں جمع کرتا رہے گا۔ پھر سب کو ایک دن میدانِ حشر میں جمع کرکے حساب لے گا۔ لیکن اکثر لوگ ان حقائق سے واقف نہیں۔ وہ قیامت کا ایک ادھورا تصور رکھتے ہیں۔ اس لیے بےسوچے سمجھنے اس پر اعتراضات شروع کردیتے ہیں اور اس پر بدنصیبی یہ ہے کہ اس کی حقیقت کو سمجھنے اور جاننے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ تو ایسی بیخبر ی جس میں انسان کا اپنا ارادہ شامل ہو وہ بیخبر ی نہیں بلکہ جرم ہے جو ان کے اعمالِ بد کا حصہ بن جائے گا۔
Ayah 45:27وَلِلّٰہِ مُلْکُ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَیَوْمَ تَقُوْمُ السَّاعَۃُ یَوْمَئِذٍ یَّخْسَرُالْمُبْطِلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 27)
(آسمانوں اور زمین کی پادشاہی اللہ ہی کی ہے، اور جس دن قیامت قائم ہوگی اس دن باطل پرست خسارے میں پڑجائیں گے۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
گزشتہ مضمون ہی کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ صرف زندگی اور موت ہی اللہ تعالیٰ کے قبضے میں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تو آسمانوں اور زمینوں کا مالک ہے۔ وہی اس کائنات پر فرمانروائی کررہا ہے اور کوئی چیز اس کی قدرت سے باہر نہیں۔ ہر چیز کا وجود اس کی قدرت سے ہے اور ہر چیز کی بقاء اسی کی قدرت کی مرہونِ منت ہے۔ جو ذات اس حد تک قادرمطلق ہو اس کے بارے میں یہ بدگمانی کہ وہ ایک دفعہ تو انسان کو پیدا کرنے پر قادر تھا، دوبارہ پیدا نہیں کرسکے گا۔ یا اس کی قدرت سے یہ بات بہت بعید ہے کہ بیشمار مخلوقات جو لامحدود زمانے میں موت کا شکار ہوئیں اور پھر مرورایام کے ساتھ ان کی خاک بھی ہوا میں اڑ گئی، اب ان کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں دفن ہوئے اور کہاں انھیں موت آئی، اور زندگی میں انھوں نے کیسے اعمال کیے۔ نیکیاں کیں تو ان کی تعداد کیا تھی، برائیاں کیں تو ان کا شمار کیا تھا۔ اور ان دونوں کے اثرات سے جو حالات پیدا ہوئے وہ کیا تھے۔ ان سب چیزوں کا جاننا اللہ تعالیٰ کے کمال قدرت سے بعید ہے۔ ان تمام باتوں کے ابطال کے لیے یہ بات فرمائی گئی ہے کہ جو ذات زمین و آسمان کی مالک، فرمانروا، متصرف اور ذرے ذرے پر گرفت رکھنے والی ہے اس سے یہ کیسے بعید ہوسکتا ہے کہ وہ قیامت برپا نہ کرسکے۔ حقیقت یہ ہے کہ قیامت برپا ہوگی اور اللہ تعالیٰ کا یہ وعدہ پورا ہو کر رہے گا، لیکن انکار کرنے والے یا اس میں شک کا اظہار کرنے والے اس روز صحیح معنی میں خسارے کا شکار ہوجائیں گے۔ نہ انھیں اپنے انکار پر پچھتاوا کام دے گا، نہ انھیں غلط تصورات سہارا دیں گے، نہ ان کے وہ مزعومہ شرکاء ان کے کام آئیں گے جن پر انھوں نے زندگی بھر بھروسہ کیا۔ ایسے خسارے کی شدت کو آج کون محسوس کرسکتا ہے ؟
Ayah 45:28وَتَرٰی کُلَّ اُمَّۃٍ جَاثِیَۃً قف کُلُّ اُمَّۃٍ تُدْعٰٓی اِلٰی کِتٰبِھَا ط اَلْیَوْمَ تُجْزَوْنَ مَاکُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 28)
(اس دن آپ دیکھیں گے ہر گروہ کو سر جھکائے دوزانو بیٹھے ہوئے، ہر گروہ کو پکارا جائے گا اس کے دفترِاعمال کی طرف آج تمہیں ان اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ )
اُمَّۃٌ جَاثِیَۃٌ اسم فاعل ہے۔ سر جھکائے دوزانو بیٹھنے والے گروہ کو کہتے ہیں۔
قیامت کے منکرین کا عبرتناک انجام
قیامت کا انکار کرنے والوں کو ان کے عبرتناک انجام کا ایک منظر دکھایا گیا ہے کہ آج جو لوگ تکبر اور غرور کی وجہ سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو سننے کے روادار نہیں اور ان کی گردنیں ایسی اکڑی ہوئی ہیں جیسے ان میں سریا دیا ہوا ہو۔ لیکن قیامت کے دن ان کی گردنیں خم اور ان کے سر ان کے گھٹنوں پر جھکے ہوں گے اور نہایت عاجزی کے ساتھ غلاموں کی طرح بیٹھے اپنے بارے میں فیصلہ سننے کے منتظر ہوں گے۔ تب اللہ تعالیٰ کی طرف سے انھیں پکارا جائے گا کہ آج کا دن جزاء و سزا اور عدل کا دن ہے۔ آج کسی کے ساتھ بےانصافی نہیں ہوگی۔ رہی یہ بات کہ تم سے کیا سلوک ہونے والا ہے تو اس کے لیے تم خود اپنے دفترِعمل کو دیکھو۔ آج تمہارے ساتھ وہی سلوک ہوگا جیسے تم اپنے ساتھ اعمال لے کر آئے ہو۔ اور یہ سلوک کسی ایک کے ساتھ مخصوص نہیں بلکہ ہر امت کے ساتھ ایک ہی ضابطے کے تحت سلوک کیا جائے گا۔ یہ الگ بات ہے کہ جن کے اعمال انصاف کے ترازو میں تلنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل کے داعی ہوں گے انھیں اللہ تعالیٰ کا فضل بھی نصیب ہوگا۔ لیکن جزاء و سزا کے جو بنیادی تقاضے ہیں ان میں کسی کے ساتھ کوئی رورعایت نہیں ہوگی۔ یہاں نامہ اعمال کے لیے کتاب کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ اس لیے اس کا صحیح ترجمہ نامہ سے نہیں بلکہ دفتر سے کیا جانا چاہیے۔ کیونکہ کتاب مکتوب کے معنی میں ہے اور دفتر بھی نوشتے کو کہتے ہیں۔ اقبال نے اسی معنی میں استعمال کرتے ہوئے کہا ہے :
یہ گھڑی محشر کی ہے تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفتر میں ہے
دفترِ اعمال کی طرف توجہ دلانے کے بعد انھیں بتایا جائے گا کہ آج درحقیقت تمہیں تمہارے اعمال کا بدلہ دیا جائے گا۔ اس لیے تم خود اپنے دفترِاعمال کو دیکھو۔ وہ ایک ایسا آئینہ ہے جسے دیکھتے ہی تمہیں اپنے انجام کی صحیح تصویر نظر آئے گی۔
Ayah 45:29ھٰذَا کِتٰـبُنَا یَنْطِقُ عَلَیْکُمْ بِالْحَقِّ ط اِنَّا کُنَّا نَسْتَنْسِخُ مَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 29)
(یہ ہمارا تیار کرایا ہوا دفترِاعمال ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک گواہی دے گا، ہم لکھواتے رہے ہیں جو کچھ تم کرتے رہے ہو۔ )
دفترِاعمال کی وضاحت
یہ دفترِاعمال کی وضاحت ہے جس کی طرف قیامت کے دن ہر امت اور ہر گروہ کو توجہ دلائی جائے گی تاکہ انھیں اپنا دفترِاعمال دیکھتے ہوئے یہ گمان نہ گزرے کہ نہ جانے اس میں ہمارے اعمال صحیح درج ہوئے بھی ہیں یا نہیں۔ ہوسکتا ہے کہ لکھنے والوں سے کوئی کوتاہی ہوگئی ہو۔ یہ صرف واہمہ نہیں بلکہ ہمارا ذہین شاعر اس کا ذکر بھی کرچکا ہے جس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔
پکڑے جاتے ہیں فرشتوں کے لکھے پر ناحق
آدمی اپنا کوئی دمِ تحریر بھی تھا
اس واہمہ کو رد کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تم میں سے ہر شخص اور ہر گروہ کا دفترِاعمال ہمارا تیار کرایا ہوا ہے اور ہمارا لکھوایا ہوا ہے۔ ظاہر ہے کہ جس دفترِعمل کو فرشتے مرتب کریں اور اللہ تعالیٰ کا علم اس کی نگرانی کرے اس میں غلطی کا کیا امکان ہوسکتا ہے۔ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ کے لکھوانے سے کیا مراد ہے۔ یہ وہ چیز ہے جسے متشابہات میں شمار کیا جانا چاہیے، ہم اس کی حقیقت کو نہیں جانتے۔ ویسے بھی انسانی علم کے ارتقاء کو دیکھتے ہوئے لکھوانے کا صرف یہ تصور صحیح نہیں کہ کاغذ پر قلم سے جو لکھوایا جاتا ہے اسے لکھوانا کہتے ہیں، بلکہ لکھنے اور لکھوانے کی بہت سی دوسری صورتیں انسان نے دریافت کرلی ہیں۔ بعض دفعہ لکھا ہوا نظر نہیں آتا، لیکن کسی کیمیکل کے استعمال سے اس کی تحریر ابھر آتی ہے یا اس کو حرارت دینے سے لکھا ہوا نمایاں ہوجاتا ہے۔ اور فیکس کی ایجاد نے تو تحریر کے تصور کو اور بھی وسعت دے دی ہے۔ آگے چل کر اور کیا کیا ظہور میں آنے والا ہے اسے اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا علم تو ان سب چیزوں پر حاوی ہے۔ اس لیے کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ انسانوں کے دفترِاعمال کی حقیقت وماہیت اور ہیئت و صورت کیا ہوگی۔
Ayah 45:30فَاَمَّاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فَیُدْخِلُھُمْ رَبُّھُمْ فِیْ رَحْمَتِہٖ ط ذٰلِکَ ھُوَالْفَوْزُالْمُبِیْنُ ۔ (الجاثیۃ : 30)
(پس جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیے انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا، یہی وہ کھلی ہوئی کامیابی ہے۔ )
اہلِ ایمان کا انجام
دفترِاعمال کی گواہی کے مطابق ہر گروہ اور ہر شخص اپنے انجام کو پہنچے گا۔ ان میں سب سے پہلے اہل ایمان کے انجام کو بیان کیا گیا ہے۔ فرمایا کہ جن لوگوں نے نامساعد حالات کے باوجود ایمان قبول کیا اور پھر شریعت کے مطابق عمل صالح کی زندگی گزاری۔ انھیں ان کا رب اپنی رحمت میں داخل کرے گا۔ یعنی صرف یہی نہیں ہوگا کہ اللہ تعالیٰ ان کو عذاب سے نجات دے دے بلکہ ان کے ایمان و عمل کے نتیجے میں انھیں اللہ تعالیٰ کی رحمت بھی میسر آئے گی۔ یعنی ان کو صرف ان کے اعمال ہی کا بدلہ نہیں ملے گا بلکہ اس کے ساتھ ان کے رب کا بےپایاں فضل بھی شامل ہوگا۔ اور یہی وہ حقیقی اور کھلی ہوئی کامیابی ہے۔ جن لوگوں نے دنیا کے چند روزہ عیش کو کامیابی سمجھ رکھا ہے وہ نہایت کو تاہی فکر کا شکار ہیں۔ وہ ایک نادان بچے کی طرح کھلونے کو دنیا کی سب سے بڑی نعمت سمجھتے ہیں حالانکہ کھلونے کی کوئی حقیقت عقلمند آدمی کے سامنے نہیں ہوتی۔ وہ جانتا ہے کہ کھلونا کسی بچے کو تو بہلا سکتا ہے لیکن زندگی کے حقائق کا سامنا نہیں کرسکتا۔ کیونکہ جس آنے والی زندگی سے ہمیں واسطہ پڑنے والا ہے جو کبھی ختم ہونے والی نہیں اگر اس کا عیش نصیب ہوگیا اور وہاں کی نعمتیں میسر آگئیں تو تب تو واقعی کامیابی نصیب ہوئی۔ لیکن اگر وہاں ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تو دنیا میں کیسی بھی عیش و عشرت کی زندگی گزاری ہوگی وہ ابدی زندگی کی ناکامیوں کی تلافی نہیں کرسکتی۔
Ayah 45:31وَاَمَّا الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قف اَفَلَمْ تَـکُنْ اٰیٰـتِیْ تُتْلٰی عَلَیْکُمْ فَاسْتَـکْبَرْتُمْ وَکُنْتُمْ قَوْمًا مُّجْرِمِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 31)
(اور رہے وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا تو ان سے کہا جائے گا کہ کیا میری آیات تم کو پڑھ کر سنائی نہیں جاتی تھیں، لیکن تم نے تکبر کیا، اور تم مجرم لوگ تھے۔ )
کفار کا انجام
صاحبِ ایمان لوگوں کے انجام کے بعد کفار کا انجام بیان فرمایا گیا ہے۔ چونکہ اس سورة میں اصل بحث کفار ہی کے حوالے سے کی جارہی ہے اور بار بار ان کے اصل مرض کی نشان دہی کی جارہی ہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کو ناقابلِ اعتنا سمجھا اور اللہ تعالیٰ کے دین کو اپنی آزاد زندگی کے لیے زنجیرِپا خیال کیا۔ کیونکہ ان کا تکبر اور غرور ہی وہ اصل مرض تھا جو انھیں آنحضرت ﷺ کی دعوت کے قریب نہیں آنے دیتا تھا۔ اس لیے اس پیش نظر آیت کریمہ میں خاص طور پر کفار کے انجام کو تفصیل سے بیان کیا گیا ہے اور ان کے اصل مرض پر بھی توجہ دلائی گئی۔ چناچہ ان کے اسی کبروغرور کے حوالے سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن بھی ان سے کہا جائے گا کہ کیا یہ امرواقعہ نہیں کہ تمہیں اس دن کے حوالے سے جب ہماری آیتیں پڑھ کر سنائی جاتی تھیں تو تم نے ہمیشہ تکبر کا اظہار کرتے ہوئے ان آیتوں کو سننا گوارا نہ کیا۔ اور ہماری تذکیر و تنبیہ کے باوجود تم بدستور اپنے جرم پر اصرار کرتے رہے۔ لیکن ان سے سوال کا جواب مطلوب نہیں ہوگا کیونکہ اس سوال کا جواب تو خود ان کے دفترِاعمال سے ظاہر تھا۔ سوال کرنے سے مقصد صرف انھیں ملامت کرنا تھا تاکہ انھیں اندازہ ہوسکے کہ وہ جس انجام کو پہنچے ہیں اس کا سامان انھوں نے خود کیا تھا۔
Ayah 45:32وَاِذَا قِیْلَ اِنَّ وَعْدَاللّٰہِ حَقٌّ وَّالسَّاعَۃُ لاَرَیْبَ فِیْھَا قُلْتُمْ مَّانَدْرِیْ مَاالسَّاعَۃُ لا اِنْ نَّظُنُّ اِلاَّ ظَنًّا وَّمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْقِنِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 32)
(اور جب کہا جاتا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، اور ہم اس کا یقین کرنے والے نہیں۔ )
مخالفین کے استکبار کی تفصیل
گزشتہ آیت کریمہ میں مخالفین کے جس استکبار کا ذکر ہوا ہے یہ اسی کی تفصیل ہے۔ ان کے تکبر کا حال یہ تھا کہ جب ان سے کہا جاتا کہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ برحق ہے اور اس نے ہر رسول کے ذریعے اس کی امت کے سامنے اس وعدے کو دہرایا ہے کہ قیامت بہرحال آنے والی ہے کیونکہ اگر قیامت کے وجود سے انکار کردیا جائے تو اللہ تعالیٰ کی پوری سکیم الٹ جاتی ہے جو انسان کی تخلیق کا باعث بنی اور جس کی وجہ سے انسان کو تکلیفِ شرعی کا مکلف بنایا گیا۔ اس لیے بلاخوفِ تردید یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ قیامت آنے والی ہے تو تم نہایت رعونت اور تکبر سے یہ جواب دیتے کہ ہم نہیں جانتے کہ قیامت کیا ہے۔ البتہ مسلسل سننے کی وجہ سے ہم اس کا ایک گمان سا رکھتے ہیں جس کا گزر کبھی کبھی ہمارے دل میں ہوتا ہے۔ لیکن ہمیں اس بات کا یقین نہیں ہے کیونکہ ہم یقین ان باتوں کا رکھتے ہیں جو ہمارے مشاہدات میں آتی ہیں یا جن سے ہمیں سابقہ پڑتا ہے۔ اگر ہمارے آبائواجداد میں سے کسی کو زندہ کیا گیا ہوتا اور ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتے تو ہم دوسری زندگی کا یقین کرلیتے اور اس کے بعد قیامت کے باقی امور کا بھی ہمیں یقین آجاتا۔ لیکن جو بات آج تک ہمارے مشاہدے میں نہیں آئی تو اس کا محض گمان ہی ہوسکتا ہے، یقین تو نہیں ہوسکتا۔ اور یقین وہ قوت ہے جو انسان کے افکار و اعمال میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔ محض گمان پر تو اپنی خواہشات کو قربان نہیں کیا جاسکتا اور اپنے مفادات کو ترک نہیں کیا جاسکتا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مشرکین میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جو مطلقاً قیامت کا انکار نہیں کرتے تھے، البتہ اس کے وقوع پذیر ہونے کا یقین بھی نہیں رکھتے تھے۔ زیادہ سے زیادہ اس کے امکان کو تسلیم کرتے تھے۔ لیکن یقین نہ ہونے کے باعث جواب دہی کے تصور کو قبول کرنے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہ اگرچہ کہنے کو ایک الگ گروہ کہا جاسکتا ہے لیکن زندگی کے افکار و اعمال کے اعتبار سے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ کیونکہ آدمی جس بات کا یقین نہیں رکھتا نہ وہ بات اس کے افکار میں داخل ہوتی ہے اور نہ اس کی عملی زندگی میں تبدیلی کا باعث بنتی ہے۔
مشرکین کی فکری بےمائیگی
قرآن کریم نے مشرکین کی اس بات کو جہاں ان کے تکبر کے طور پر ذکر کیا ہے وہیں ان کی فکری بےمائیگی کو نمایاں بھی کیا ہے۔ کیونکہ جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ انسان کو صرف اس چیز کو ماننا چاہیے جو اس کے مشاہدے میں آتی ہے۔ اس کے علاوہ اسے کسی بات پر یقین نہیں کرنا چاہیے، خواہ اس پر کیسے ہی عقلی اور اخلاقی دلائل موجود ہوں۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ پھر انسان اور حیوان میں کوئی فرق نہیں۔ کیونکہ انسان کے پاس علوم کا جو سرمایہ ہے جس کے پیچھے صدیوں کی کاوشیں ہیں اس کا بیشتر حصہ عقلی اور اخلاقی اصولوں پر مبنی ہے۔ اس بات کو تسلیم کرلینے کے بعد ان تمام علوم کا انکار کرنے کے سوا چارہ کار نہیں ہوگا۔ اور انسان کی صدیوں کی کاوشیں محض قصے کہانیاں بن کر رہ جائیں گی۔ حقیقت یہ ہے کہ علوم کا معاملہ تو الگ رہا انسان کے بیشتر اعمال ظن و گمان پر مبنی ہوتے ہیں۔ اور اگر اس کا انکار کردیا جائے تو انسان کو بہت سے نقصانات سے نہیں بچایا جاسکتا۔ دریائوں پر حفاظتی بند صرف اس گمان پر باندھے جاتے ہیں کہ دریائوں کی طغیانی کسی وقت بھی انسانی آبادیوں کے لیے نقصان کا باعث بن سکتی ہے۔ مضبوط گھر اسی لیے بنائے جاتے ہیں تاکہ آفاتِ ارضی و سماوی جو سراسر ظن و گمان پر مبنی ہیں ان سے اپنے آپ کو محفوظ رکھنے کی کوشش کی جائے۔ اور جو شخص ہر کام کرنے سے پہلے یقین کو ضروری سمجھتا ہے وہ کسی خطرے کے لیے بھی پیش بندی کا تصور بھی نہیں کرسکتا۔ دشمن کی ترقی پذیر قوتیں چند سالوں میں اسے روند کے گزر جائیں گی، اسے محض یہ یقین سہارا نہیں دے سکتا کہ مجھے ان کے اس حد تک طاقتور ہوجانے کا یقین نہیں تھا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمارے بیشتر امور گمان غالب پر قائم ہیں۔ تو کس قدر تعجب کی بات ہے کہ صرف آخرت ہی کا اس لیے انکار کردیا جائے کہ اس کی ہمارے پاس کوئی یقینی اطلاع نہیں۔ حالانکہ آخرت ہی کا عقیدہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا صدیوں سے ہر اس زبان سے اعلان ہوتا چلا آیا ہے جس کے صدق و دیانت پر کبھی کسی نے انگشت نمائی نہیں کی۔ دشمن نے بھی اعتراف کیا کہ ہم اس مدعی نبوت کو چاہے نہ مانیں لیکن اس کے صدق و امانت کا ہم انکار نہیں کرسکتے۔
Ayah 45:33وَبَدَا لَھُمْ سَیِّاٰتُ مَاعَمِلُوْا وَحَاقَ بِہِمْ مَّا کَانُوْا بِہٖ یَسْتَھْزِئُ وْنَ ۔ (الجاثیۃ : 33)
(اور ظاہر ہوجائیں گی ان پر برائیاں ان اعمال کی جن کو وہ کرتے رہے، اور وہ چیز ان کو گھیر لے گی جس کا وہ مذاق اڑاتے رہے۔ )
قیامت کے روز اعمال کے حقیقی نتائج سے پردہ اٹھا دیا جائے گا
دنیا میں آدمی جو کچھ بھی کرتا ہے اس کے برے نتائج فوراً اس کے سامنے نہیں آتے اور اسی باعث وہ بہت سارے جرائم پر دلیر ہوتا جاتا ہے۔ اور جو لوگ ان برائیوں کے نتائج سے اسے آگاہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں ان کا وہ مذاق اڑاتا ہے۔ لیکن قیامت کی خصوصیات میں سے ایک خصوصیت یہ ہے کہ اس دن اعمال کے حقیقی نتائج سے پردہ اٹھا دیا جائے گا۔ آج جن چیزوں کو آدمی بےضرر سمجھتا ہے اس دن ان کا ضرر وہ اپنی آنکھوں سے دیکھے گا۔ اور اخلاقی جرائم سے وہ محظوظ ہوتا ہے اس دن اپنی آنکھوں سے دیکھے گا کہ ان کے نتائج کس قدر ہولناک ہیں۔ ان ہی میں سے وہ عذاب بھی ہے جس سے اللہ تعالیٰ کے نبی قوموں کو ڈراتے ہیں۔ اور وہ ان کا مذاق اڑاتا ہے۔ لیکن قیامت کے دن جب یہ باتیں اور یہ نتائج اسے گھیر لیں گے تو تب اسے اندازہ ہوگا کہ آج میرے پاس فرار کا کوئی راستہ نہیں۔
Ayah 45:34وَقِیْلَ الْیَوْمَ نَنْسٰکُمْ کَمَا نَسِیْتُمْ لِقَـآئَ یَوْمِکُمْ ھٰذَا وَمَاْ وٰ کُمُ النَّارُ وَمَا لَـکُمْ مِّنْ نّٰصِرِیْنَ ۔ (الجاثیۃ : 34)
(اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ آج ہم بھی تمہیں اسی طرح طاق نسیان میں رکھ دیں گے جس طرح تم نے اس دن کی ملاقات کو بھلا دیا تھا، اور تمہارا ٹھکانہ دوزخ ہے، اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں۔ )
قیامت یوم الجزا ہے
اللہ تعالیٰ کے رسول دعوت و نصیحت کے جتنے اسالیب ممکن ہیں سب کو نہایت جانفشانی اور ہمدردی کے ساتھ بروئے کار لا کر اپنی امت دعوت کو یہ سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ تمہیں بہرحال ایک دن اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہو کر اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ اور اس حقیقت سے کسی کو بھی مفر نہیں۔ آج اگر تم نے ہماری اس نصیحت پر کان نہ دھرا تو قیامت کا پچھتاوا تمہارے کسی کام نہیں آئے گا۔ لیکن رسولوں کے مخاطب ہمیشہ ان کی نصیحتوں کا مذاق اڑاتے رہے اور قیامت کو انھوں نے ایک افسانے سے زیادہ کبھی اہمیت نہ دی۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی ہر بات کے ساتھ یوں معاملہ کیا جیسے اس نے سنا ہی نہیں۔ اور قیامت کی ملاقات کو اس طرح طاق نسیان کی زینت بنایا جیسے اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ قیامت کے دن جب یہ لوگ حاضر ہوں گے تو ان سے کہہ دیا جائے گا کہ قیامت کا دن چونکہ جزاء کا دن ہے، آج ہر عمل کا بدلہ ملے گا۔ تم نے دنیا میں جس طرح قیامت جیسی حقیقت کو بھلائے رکھا اور کبھی اسے سنجیدہ بات کی حیثیت نہ دی، ہم بھی آج تمہیں اسی طرح بھلا دیں گے۔ یعنی تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے جو ایسے لوگوں کے ساتھ کیا جاتا ہے جنھیں حافظے نے کبھی قبول نہ کیا ہو۔ تم چیخو گے، شور مچائو گے، واویلا کرو گے، لیکن تمہاری سنی نہیں جائے گی۔ کیونکہ یہ تمہارے اسی عمل کا ردعمل ہوگا جو تم نے قیامت کے عقیدے کے ساتھ کیا۔ اب تمہارا ٹھکانہ ہمیشہ کے لیے جہنم ہے۔ اور جن کے بھروسے پر تم نے اپنی آخرت تباہ کی اور زندگی میں کبھی سنجیدگی اختیار نہ کی، ان میں سے کوئی تمہاری مدد کو نہیں پہنچے گا۔
Ayah 45:35ذٰلِکُمْ بِاَنَّـکُمُ اتَّخَذْتُمْ اٰیٰتِ اللّٰہِ ھُزُوًاوَّغَرَّتْـکُمُ الْحَیٰوۃُ الدُّنْـیَا ج فَالْیَوْمَ لاَ یُخْرَجُوْنَ مِنْھَا وَلاَ ھُمْ یُسْتَعْتَـبُوْنَ ۔ (الجاثیۃ : 35)
(یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی آیات کا مذاق بنا لیا تھا، اور دنیا کی زندگی نے تم کو دھوکے میں ڈال دیا تھا، پس آج نہ تو وہ اس دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان کو معذرت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ )
یہ انجام ان کے اپنے کرتوتوں کی سزا ہے
قیامت کے دن کفار جس انجام سے دوچار ہوں گے اس کا حوالہ دے کر ان سے کہا جائے گا کہ یہ مصیبت اچانک تمہارے سروں پر نازل نہیں ہوئی بلکہ یہ سب کچھ تمہارا اپنا کیا دھرا ہے۔ تمہیں آج کے دن سے آگاہ کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی آیات پڑھ کر سنائی جاتی تھیں، لیکن تم بجائے غور سے سننے اور ان میں تدبر کرنے کے ان کا مذاق اڑاتے رہے۔ اور اس طرح تمسخر کرتے ہوئے وہاں سے چل پڑتے، گویا تم نے ایک ایسی بات سنی ہے جس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اور دوسری تمہاری سب سے بری خصلت یہ تھی کہ تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ تم اپنی دولت و رفاہیت کو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت کی سند سمجھتے تھے اور بدحال مسلمانوں کا مذاق اڑاتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ اگر تمہارا رویہ اللہ تعالیٰ کے یہاں قابل قدر ہوتا تو یہ دولت و رفاہیت تمہیں ملتی۔ لیکن آج جبکہ یہ سب کچھ ہمیں میسر ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ ہم اللہ تعالیٰ کی نظر میں تم سے بدرجہا بہتر ہیں اور ہمارے عقائد و اعمال اللہ تعالیٰ کو پسند ہیں۔ تمہارے اس رویئے کا نتیجہ وہ انجام ہے جس سے تم آج دوچار ہو۔ تم اپنے آپ کو مقبولِ بارگاہِ خداوندی سمجھتے تھے۔ لیکن اس کی پاداش میں آج تمہیں جہنم سے نکلنا نصیب نہ ہوگا۔ اور نہ تمہیں اس کا موقع دیا جائے گا کہ تم اپنے رب سے معافی مانگ کر اسے راضی کرلو۔ لیکن تعجب کی بات ہے کہ یہ آخری بات انھیں حاضر کے صیغے کی بجائے غائب کے صیغوں میں کہی جائے گی۔ گویا اللہ تعالیٰ اس روز ان سے اس حد تک بیزار ہوگا کہ انھیں خطاب کرنا بھی پسند نہیں فرمائے گا۔ اس لیے جو بات دنیا میں انھیں بتانا مقصود ہے اسے منہ پھیر کر غائب کے صیغے سے کہا گیا ہے۔
Ayahs 45:36–37فَلِلّٰہِ الْحَمْدُ رَبِّ السَّمٰوٰتِ وَرَبِّ الْاَرْضِ رَبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ وَلَـہُ الْـکِبْرِیَـآئُ فِی السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ص وَھُوَالْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (الجاثیۃ : 36، 37)
(پس اللہ ہی کے لیے ہیں تمام تعریفیں، جو رب ہے آسمانوں اور زمین کا، اور سارے جہان والوں کا پروردگار۔ اور اسی کے لیے بڑائی آسمانوں اور زمین میں، اور وہی زبردست اور دانا ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی وحدانیت، اس کی صفاتِ کاملہ، اس کے بےمثال اور بینظیر ہونے کو دلائلِ انفس و آفاق سے ثابت کرنے کے بعد نتیجے کے طور پر یہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وہی ذات ہے جو سب تعریفوں کی مستحق ہے، ہر طرح کے شکروسپاس کا وہی حقدار ہے۔ اسی کی ربوبیت کا فیضان زمین و آسمان کی تمام مخلوقات کو پال رہا ہے۔ اور وہی ہے جس کے قانونِ تکوین و تشریع میں تمام مکلف اور غیرمکلف مخلوقات سربسجود ہیں۔ زمین و آسمان میں کبریائی اسی کو زیب دیتی ہے۔ ایک ایسی کائنات جس کے اور چھور کا آج تک اندازہ نہیں ہوسکا، اسی کی حکمت و دانش اسے سنبھالے ہوئے ہے اور اسی کی ہیبت و حاکمیت ساری کائنات پر چھائی ہوئی ہے۔