47. Surah Muhammad

محمدMuhammad · 38 ayahsروح القرآن

Ayah 47:25

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدَى١ۙ الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَهُمْ١ؕ وَ اَمْلٰى لَهُمْ Open ayah 47:25 in the Quran reader

بیشک جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد پیٹھ پیچھے پلٹ گئے، شیطان نے ان کو فریب دے رکھا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کر رکھا ہے

اِنَّ الَّذِیْنَ ارْتَدُّوْا عَلٰٓی اَدْبَارِھِمْ مِّنْ م بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمُ الْھُدَی لا الشَّیْطٰنُ سَوَّلَ لَھُمْ ط وَاَمْلٰی لَھُمْ ۔ (محمد : 25) (بےشک جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد پیٹھ پیچھے پلٹ گئے، شیطان نے ان کو فریب دے رکھا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کر رکھا ہے۔ ) منافقین کی اصل گمراہی اس آیت کریمہ میں منافقین کی اصل گمراہی کو واضح فرمایا گیا اور اسے صحیح تعبیر دی گئی ہے اور ان کی اس گمراہی میں پڑنے کی جو وجہ ہے اسے بھی کھولا گیا ہے۔ ہم ان دونوں باتوں کو ایک ترتیب سے بیان کرتے ہیں۔ اِرْتَدُّوْا کے لفظ سے یہ غلط فہمی ہوسکتی ہے کہ منافقین کی روش کو ارتداد قرار دیا گیا ہے۔ یعنی وہ لوگ نفاق اختیار کرکے درحقیقت ارتداد اختیار کرچکے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہہ لیجیے کہ وہ مرتد ہوگئے ہیں۔ تو گویا نفاق اور ارتداد دونوں ہم معنی لفظ ہیں، حقیقت میں ایسا نہیں۔ ارتداد ایک اصطلاح ہے جس کے اختیار کرنے والے کو آنحضرت ﷺ نے قتل کرنے کا حکم دیا ہے۔ یعنی اسلامی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ایسے شخص کو زندگی کی سہولتوں سے محروم کردے۔ لیکن یہاں ارتداد اصطلاحی معنی میں نہیں بلکہ لغوی معنی میں ہے۔ یعنی ان منافقین کا حال یہ ہے کہ یہ ایمان کے تقاضوں کو تو کبھی بروئے کار نہیں لاسکے اور ان کے دلوں میں ایمان کی مٹھاس کبھی نہیں اتری۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہدایت کے پوری طرح واضح ہوجانے کے بعد ان کا ذہنی میلان اسلام کی طرف بڑھ گیا۔ یا یوں کہنا چاہیے کہ وہ دماغی طور پر اسلام کے قریب آگئے اور اسلامی حقائق سے متعلق ان کے دماغ نے یکسوئی اختیار کرلی۔ لیکن اسلام کے دل میں نہ اترنے کی وجہ سے وہ اپنے اندر وہ چیز پیدا نہ کرسکے جو قربانی و ایثار کی ضامن بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان پر قتال نازل کیا تو چونکہ انھیں زندگی اور زندگی کے لوازم اسلام سے زیادہ عزیز تھے تو وہ اسلام سے پہلے کی نسبت دور ہوگئے۔ اب انھوں نے اپنے تحفظ اور بقاء کے لیے وہ رویہ اختیار کیا جس نے انھیں اسلام سے بالکل بیگانہ کرکے رکھ دیا۔ دوسری بات جو اس آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے وہ یہ ہے کہ منافقین کی اس روش کو پیدا کرنے میں دو اسباب نے کام کیا ہے۔ ایک تو یہ کہ شیطان نے ان کو فریب دیا اور ان کی منافقانہ روش کو اس طرح خوبصورت بنا کر ان کے سامنے پیش کیا کہ انھیں منافقت میں ہی عافیت نظر آئی۔ اور قتال و جہاد میں انھیں نہ صرف اپنی تباہی بلکہ دوسروں کی تباہی کی بھی بھنک سنائی دینے لگی۔ اور دوسرا سبب یہ ہے کہ شیطان نے انھیں جھوٹی توقعات کا ایک ایسا خوبصورت نقشہ دکھایا جو ان کے پائوں کی زنجیر بن گیا اور انھوں نے محسوس کیا کہ ہمارا یہ رویہ ایک نہ ایک دن ہمارے لیے کامیابیوں کی نوید ثابت ہوگا۔
Ayah 47:26

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ كَرِهُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰهُ سَنُطِیْعُكُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ١ۖۚ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اِسْرَارَهُمْ Open ayah 47:26 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ چیز کو برا جانا، کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔ اور اللہ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے

ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ کَرِھُوْا مَا نَزَّلَ اللّٰہُ سَنُطِیْعُکُمْ فِیْ بَعْضِ الْاَمْرِ صلے ج وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اِسْرَارَھُمْ ۔ (محمد : 26) (یہ اس وجہ سے ہوا کہ انھوں نے ان لوگوں سے جنھوں نے اللہ کی نازل کردہ چیز کو برا جانا، کہا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔ اور اللہ ان کی خفیہ باتوں کو خوب جانتا ہے۔ ) منافقین کی محرومی کا سبب گزشتہ آیت کریمہ سے یہ معلوم ہوا کہ یہ لوگ شیطان کے پھندے میں پھنسے ہوئے لوگ ہیں اور اس نے اپنی چالوں سے انھیں اپنا اسیر بنا رکھا ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بتایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کبھی کسی ایسے شخص کو جو ایمان کی طرف بڑھنا چاہتا ہو شیطان کے پھندے میں گرفتار نہیں ہونے دیتا۔ تو پھر کیا وجہ ہے کہ یہ لوگ شیطان کے اسیر ہو کر رہ گئے۔ اس کی وجہ بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ چیز یعنی قرآن کریم سے نفرت کا اظہار کیا اور کبھی اسے سننا بھی گوارا نہ کیا اور آنحضرت ﷺ جن پر وہ عظیم کتاب اتاری گئی ہے کو ہمیشہ ہدف تنقید بنایا اور آپ پر اتہامات کی بارش کی گئی۔ لیکن ان منافقین کا حال یہ ہے کہ یہ ایسے ہی لوگوں سے جو اسلام کے بدترین دشمن ہیں سازباز رکھتے ہیں اور انھیں اطمینان دلاتے ہیں کہ بعض معاملات میں ہم آپ ہی کا ساتھ دیں گے۔ ہرچند کے ہم مسلمانوں میں شامل ہوگئے ہیں اور لوگ ہمیں مسلمان ہی سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم آپ لوگوں سے روابط توڑ چکے ہیں۔ ہمارا اصل رشتہ تو آپ سے ہی ہے۔ جب بھی کوئی مشکل وقت آیا تو آپ دیکھیں گے کہ ہم آپ کا ساتھ دیں گے۔ اور اس معاملے میں ہم کسی کی پرواہ نہیں کریں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگ اندر ہی اندر دشمنانِ دین یعنی قریش اور یہود سے خفیہ رابطہ رکھتے تھے۔ اور ادھر مسلمانوں کو اس فریب میں مبتلا کر رکھا تھا کہ ہم تو ہرحال میں آپ کے ساتھ ہیں، ہمارا دکھ سکھ، ہمارا مرنا جینا اسلام کے لیے ہے اور آپ کے لیے ہے۔ اور مسلمان ان کی جھوٹی قسموں کی وجہ سے ان پر اعتماد کیے ہوئے تھے۔ اس لیے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ تم اپنی چرب زبانی اور دھوکہ دہی سے مسلمانوں کو تو فریب دے سکتے ہو لیکن یاد رکھو اللہ تعالیٰ تمہاری تمام خفیہ باتوں کو جانتا ہے۔ تمہیں یہ غلط فہمی ہے کہ تم اس طرح سے اپنی رازداریوں پر پردہ ڈال سکو گے اور وقت آنے پر اپنے مفادات کا تحفظ کرسکو گے جبکہ اللہ تعالیٰ تمہاری ہر بات کو جاننے والا ہے۔
Ayah 47:27

فَكَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْهُمُ الْمَلٰٓئِكَةُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْهَهُمْ وَ اَدْبَارَهُمْ Open ayah 47:27 in the Quran reader

پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کے مونہوں پر اور ان کی پشتوں پر مارتے ہوئے ان کی روحیں قبض کریں گے

فَـکَیْفَ اِذَا تَوَفَّتْھُمُ الْمَلٰٓئِکَۃُ یَضْرِبُوْنَ وُجُوْھَھُمْ وَاَدْبَارَھُمْ ۔ (محمد : 27) (پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے ان کے مونہوں پر اور ان کی پشتوں پر مارتے ہوئے ان کی روحیں قبض کریں گے۔ ) منافقین کا انجام موت کے وقت یعنی تم اپنے طرز عمل سے دنیا میں تو شاید اپنے مفادات کا تحفظ کرسکو اور کفر و اسلام کی جنگ کے خطرات سے اپنے آپ کو بچائے رکھو، لیکن آخرت میں تم اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچ کر کہاں جاؤ گے۔ حتیٰ کہ موت کے وقت جب فرشتے تمہاری جان لینے کے لیے آئیں گے تو تمہارے نفاق کی وجہ سے تمہارے مونہوں پر اور تمہاری پشتوں پر ضربیں لگائیں گے۔ اور تمہیں اس طرح مارتے پیٹتے اور ذلیل کرتے ہوئے لے جائیں گے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ موت کے وقت ہی میں کفار اور منافقین کو عذاب شروع ہوجاتا ہے۔ البتہ یہ بات ضرور ہے کہ جو عذاب انھیں قیامت میں ان کے مقدمے کا فیصلہ ہونے کے بعد ہوگا وہ اس عذاب سے بہت بڑا اور بہت مختلف ہوگا۔
Ayah 47:28

ذٰلِكَ بِاَنَّهُمُ اتَّبَعُوْا مَاۤ اَسْخَطَ اللّٰهَ وَ كَرِهُوْا رِضْوَانَهٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَهُمْ۠ Open ayah 47:28 in the Quran reader

یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی تھی اور اللہ کی خوشنودی سے نفرت کی، پس اللہ نے ان کے اعمال ڈھا دیئے

ذٰلِکَ بِاَنَّھُمُ اتَّبَعُوْا مَـآ اَسْخَطَ اللّٰہَ وَکَرِھُوْارِضْوَانَـہٗ فَاَحْبَطَ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 28) (یہ اس وجہ سے ہوگا کہ انھوں نے اس چیز کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والی تھی اور اللہ کی خوشنودی سے نفرت کی، پس اللہ نے ان کے اعمال ڈھا دیئے۔ ) اس سخت سزا کی وجہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ سخت گیر سزا ہے جو ان کی جانیں نکالنے سے شروع ہوجائے گی۔ اس کا سبب یہ ہے کہ انھوں نے ہر اس چیز کی پیروی کی جو اللہ تعالیٰ کو غصہ دلانے والی تھی۔ اور جس چیز سے اللہ تعالیٰ کی خوشنودی مل سکتی تھی اس سے انھوں نے نفرت کا اظہار کیا۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ انھوں نے جو اعمال بظاہر نیکی سمجھ کے انجام دیئے تھے مثلاً نمازیں پڑھیں، روزے رکھے، کسی کے ساتھ بھلائی کی یا کچھ رفاہی کام کیے، اللہ تعالیٰ سب کو حرف غلط کی طرح مٹا دے گا۔ کیونکہ انھوں نے کبھی بھی اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش نہیں کی بلکہ یہ سارے کام بھی شہرت کی ہوس یا اپنی ساکھ کو بچانے کے لیے انجام دیئے۔
Ayah 47:29

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِهِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰهُ اَضْغَانَهُمْ Open ayah 47:29 in the Quran reader

کیا گمان کر رکھا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو کبھی بےنقاب نہیں کرے گا

اَمْ حَسِبَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ اَنْ لَّنْ یُّخْرِجَ اللّٰہُ اَضْغَانَھُمْ ۔ (محمد : 29) (کیا گمان کر رکھا ہے ان لوگوں نے جن کے دلوں میں بیماری ہے کہ اللہ ان کے کینوں کو کبھی بےنقاب نہیں کرے گا۔ ) منافقین کا کینہ کھل جائے گا آیتِ کریمہ میں مرض کا لفظ استعمال ہوا ہے جو نفاق کے معنی میں قرآن کریم میں جابجا استعمال ہوا ہے۔ لیکن قرآن کریم سے نفاق کی جو علامتیں معلوم ہوتی ہیں ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جو لوگ دل سے اسلام کے بارے میں اخلاص نہیں رکھتے وہ اسلام اور مسلمانوں سے بغض اور کینہ بھی رکھتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم نے اس بات کا خاص طور پر ذکر کیا ہے قَدْبَدَتِ الْبَغْضَائُ مِنْ اَفْوَاھِھِمْ وَمَا تُخْفِیْ صُدُوْرُہُمْ اَکْبَرُ ” بغض ان کے منہ سے ظاہر ہورہا ہے اور جس چیز کو ان کے سینے چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے کہیں بڑھ کر ہے۔ ظاہر ہے اس کو کینے کے سوا اور کیا کہا جاسکتا ہے۔ اس لیے آیت کریمہ کے آخر میں اضغان کا ذکر ہے جو ضغن کی جمع ہے اور ضغن کینے کو کہتے ہیں۔ ان لفظوں کی وضاحت کے بعد آیت کا مفہوم جو واضح ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے ان کے نفاق کو کینے اور بغض نے اور زیادہ شدید کردیا ہے۔ اب حال یہ ہے کہ اسلام جیسے جیسے آگے بڑھ رہا ہے ویسے ویسے ان کے کینے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ لیکن نفاق کی وجہ سے ان کی خواہش یہ ہے کہ ان کے کینے پر پردہ پڑا رہے۔ مسلمان اسی طرح فریب میں مبتلا رہیں اور منافقین کے نفاق کا انھیں اندازہ نہ ہوسکے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ منافقین نے اگر یہ گمان کر رکھا ہے کہ ہم ان کے کینوں سے کبھی پردہ نہیں اٹھائیں گے تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔ ان کے کینوں سے عنقریب پردہ اٹھنے والا ہے۔ اولًا تو قتال کی فرضیت ہی ان کی حقیقت کے اظہار کے لیے کافی ہے اور مزید آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ ان کو رسوا کرنے اور بھی اسباب پیدا فرمائے گا۔
Ayah 47:30

وَ لَوْ نَشَآءُ لَاَرَیْنٰكَهُمْ فَلَعَرَفْتَهُمْ بِسِیْمٰىهُمْ١ؕ وَ لَتَعْرِفَنَّهُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:30 in the Quran reader

اور اگر ہم چاہتے تو انھیں آپ کو آنکھوں سے دکھا دیتے، تو آپ انھیں ان کے چہروں سے پہچان لیتے، پس ان کی بات کے ڈھب سے تو آپ ان کو پہچان ہی لیں گے، اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے

وَلَوْنَشَآئُ لَاَرَیْنٰـکَھُمْ فَلَعَرَفْتَھُمْ بِسِیْمٰہُمْ ط وَلَتَعْرِفَنَّھُمْ فِیْ لَحْنِ الْقَوْلِ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ اَعْمَالَـکُمْ ۔ (محمد : 30) (اور اگر ہم چاہتے تو انھیں آپ کو آنکھوں سے دکھا دیتے، تو آپ انھیں ان کے چہروں سے پہچان لیتے، پس ان کی بات کے ڈھب سے تو آپ ان کو پہچان ہی لیں گے، اللہ تمہارے اعمال کو خوب جانتا ہے۔ ) منافقین کو تنبیہ منافقین کے نفاق کا اصل سبب ہی یہ تھا کہ ان کی اصل ہمدردیاں کفار کے ساتھ تھیں اور وہ اسلام کے بارے میں یکسو نہ تھے، لیکن اپنے طرزعمل سے مسلمانوں کو دھوکے میں رکھنے کی کوشش کرتے تھے۔ اور اپنے دل کے بغض کو کسی ایسے شخص کے سامنے ظاہر نہیں ہونے دیتے تھے جس پر انھیں پورا اعتماد نہ ہوتا۔ اور اس طرح وہ یہ سمجھتے تھے کہ ان کے دل کی حالت کا کسی کو کیا اندازہ ہوسکتا ہے۔ اور رہے ان کے کفار سے روابط تو وہ بھی اس قدر خفیہ ہیں کہ مسلمانوں کو ان کی بھنک بھی نہیں پڑ سکتی۔ ان کی اس روش پر تنقید کرتے ہوئے بلکہ انھیں تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ منافقین کو یہ اندازہ ہی نہیں ہے کہ ان کا معاملہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے ساتھ ہے، عام لوگوں سے نہیں۔ وہ عام لوگوں سے تو یقینا اپنی حالت اور اپنے خفیہ روابط کو چھپا سکتے ہیں، لیکن اللہ تعالیٰ سے تو کوئی چیز مخفی نہیں اور مزید یہ کہ اللہ تعالیٰ اس بات پر قدرت رکھتا ہے کہ وہ اپنے رسول کو ان کی شکلیں دکھا دے کہ آنحضرت ﷺ ان کی شکلیں دیکھ کر ہی ان کو پہچان لیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ چونکہ کسی بھی شخص کی عام رسوائی کو پسند نہیں فرماتا اور مزید یہ بات بھی کہ اس نے دلوں کا معاملہ اپنے ساتھ مخصوص رکھا ہے، لوگوں کے ساتھ ظاہری اعمال ہی سے روابط استوار ہوتے یا ٹوٹتے ہیں اس لیے وہ ان کی شکلیں اپنے رسول کو نہیں دکھاتا۔ لیکن اس کی قدرت سے یہ بات بعید نہیں کہ وہ جب چاہے ایسا کر گزرے۔ البتہ اس نے اپنے رسول کو ایسی ذہانت و فطانت اور چہرہ شناسی کی صلاحیت عطا فرمائی ہے کہ وہ باتوں کے انداز سے کسی آدمی کے بارے میں بھی صحیح رائے قائم کرسکتے ہیں۔ لَحَنْ عربی زبان میں اس کیفیت کو کہتے ہیں کہ بات کرنے والا جو بات کرے اس کا اصل مفہوم اپنے دل میں چھپائے رکھے، دوسروں کو اس کے دور کے مفہوم کی طرف مائل کردے۔ اسی کو عام طور پر توریہ بھی کہا جاتا ہے۔ منافقین اس فن میں بڑے مشاق تھے کہ وہ بات ایسے ہیرپھیر سے کرتے کہ کفار اور مسلمانوں دونوں کو بیک وقت دھوکہ دینے کی کوشش کرتے۔ مسلمان اس کا کچھ اور مطلب سمجھتے اور کفار اس کا کوئی اور مطلب لیتے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کو یہ صلاحیت عطا فرمائی گئی کہ آپ اس طرح کی پہلودار باتوں کا صحیح مفہوم سمجھنے پر قدرت رکھتے تھے۔ اور جب منافقین آکر اس طرح دھوکہ دینے کی کوشش کرتے تو آپ سمجھ جاتے کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ آیتِ کریمہ میں لَوْ کا استعمال ہوا ہے۔ اور لَوْ کا کسی فعل پر داخل ہونا اس بات کی علامت ہوتا ہے کہ یہ فعل ابھی وقوع پذیر نہیں ہوا۔ تو اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک آنحضرت ﷺ کو منافقین کی شکلیں دکھائی نہیں گئی تھیں۔ البتہ ان کی علامتوں سے آپ انھیں پہچانتے تھے۔ لیکن بعض احادیث سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ آگے چل کر آنحضرت ﷺ کو فرداً فرداً منافقین کا علم دے دیا گیا۔ چناچہ ایک حدیث میں ذکر کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک خطبہ ٔ جمعہ میں کئی منافقین کے نام لے کر ان کو مجلس سے اٹھا دیا۔ بعض روایات میں ان کی تعداد 35 تک بیان کی گئی ہے۔ آیت کے آخر میں منافقین سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ تمہاری شکلیں بیشک آنحضرت ﷺ کو نہیں دکھائی گئیں لیکن اس میں تو کوئی شبہ نہیں کہ اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال سے باخبر ہے۔ اس لیے قیامت کے دن تمہارے اعمال ہی کے حوالے سے تم سے بازپرس ہوگی۔ اور کوئی تعجب کی بات نہیں کہ آگے چل کر آنحضرت ﷺ کو تمہارے اعمال کی خبر دے دی جائے اور پھر دنیا ہی میں تمہارے اعمال کے حوالے سے تم سے بازپرس کی جائے۔
Ayah 47:31

وَ لَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتّٰى نَعْلَمَ الْمُجٰهِدِیْنَ مِنْكُمْ وَ الصّٰبِرِیْنَ١ۙ وَ نَبْلُوَاۡ اَخْبَارَكُمْ Open ayah 47:31 in the Quran reader

ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے تاکہ ہم ممیز کردیں تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو، اور تمہارے حالات کی جانچ کریں

وَلَنَبْلُوَنَّـکُمْ حَتّٰی نَعْلَمَ الْمُجٰھِدِیْنَ مِنْـکُمْ وَالصّٰبِرِیْنَ لا وَنَبْلُوَاْ اَخْبَارَکُمْ ۔ (محمد : 31) (ہم ضرور تمہیں آزمائیں گے تاکہ ہم ممیز کردیں تم میں سے مجاہدین کو اور صبر کرنے والوں کو، اور تمہارے حالات کی جانچ کریں۔ ) آزمائش کی کسوٹی گزشتہ آیت کریمہ میں ہم نے پڑھا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا عام طریقہ بڑے سے بڑے جرم کو بھی افشا نہ کرنا ہے تاکہ ہر شخص کا معاملہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ رہے جو دلوں کے بھیدوں کا جاننے والا ہے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ اس کی ایک اور سنت بھی ہے جو پیش نظر آیت کریمہ میں بیان کی گئی ہے کہ ہم کسی منافق کے چہرے پر تو یہ لکھنا پسند نہیں کرتے کہ یہ شخص منافق ہے لیکن یہ طریقہ ہمارا ضرور ہے کہ ہم سب کو آزمائش میں ڈالتے ہیں۔ اور نرم و گرم حالات میں مبتلا کرکے لوگوں کے سامنے یہ بات واضح کردیتے ہیں کہ اس شخص کے اخلاص کا عالم کیا ہے۔ یہ جو کچھ زبان سے کہتا ہے وہ کیا صرف زبان کی عیاشی ہے یا اس کی کوئی حقیقت بھی ہے۔ چناچہ جب ایسے سخت حالات سے واسطہ پڑتا ہے مثلاً جہاد و قتال کے مراحل پیش آتے ہیں تو سب پر یہ بات کھل جاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی خاطر اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لیے کون اللہ تعالیٰ کے راستے میں جان دیتا ہے اور اس راہ میں آنے والی مشکلات میں کون صبر کرتا ہے۔ اور کون ایسا ہے کہ جو ان مشکلات سے گھبرا کر عافیت کا راستہ اختیار کرتا ہے۔ ظاہر ہے کہ حق و باطل کی کشمکش میں جو آدمی کھل کر اسلام کی علمبرداری نہیں کرتا بلکہ وہ اس راہ میں پیش آنے والی مشکلات کا سامنا کرنے سے جی چراتا ہے تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ شخص مومن اور مجاہد نہیں بلکہ منافق ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ منافقین کے حالات بھی منصہ شہود پر آجاتے ہیں اور ان کی زندگی کی روش خود بولنے لگتی ہیں کہ ہمارا تعلق مخلص مسلمانوں سے نہیں۔ کیونکہ جب ان کے حالات کی جانچ ہوتی ہے تو ان کے روابط بھی سامنے آتے ہیں۔ ان کی آپس کی نشستوں کا بھی بھید کھلتا ہے۔ مسلمانوں کے ساتھ ان کے معاملات کی حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ کی یہ سنت کھرے اور کھوٹے کے درمیان لکیر کھینچ دیتی ہے۔ مجاہدین الگ ہوجاتے ہیں اور منافقین الگ ہو کر رہ جاتے ہیں۔ اور ہر دیکھنے والی نگاہ بڑی آسانی سے اندازہ کرسکتی ہے کہ قافلہ حق کے شرکاء کون ہیں اور ان میں زبردستی گھسنے والے اور محض مفادات سے رشتہ رکھنے والے کون ہیں۔
Ayah 47:32

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ وَ شَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْۢ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَهُمُ الْهُدٰى١ۙ لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰهَ شَیْئًا١ؕ وَ سَیُحْبِطُ اَعْمَالَهُمْ Open ayah 47:32 in the Quran reader

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی، بعد اس کے کہ ہدایت واضح ہوچکی تھی، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اللہ ان کے سارے اعمال کو غارت کردے گا

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَشَآقُّوا الرَّسُوْلَ مِنْ م بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمُ الْھُدٰی لا لَنْ یَّضُرُّوا اللّٰہَ شَیْئًا ط وَسَیُحْبِطُ اَعْمَالَھُمْ ۔ (محمد : 32) (جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ تعالیٰ کی راہ سے روکا اور رسول کی مخالفت کی، بعد اس کے کہ ہدایت واضح ہوچکی تھی، وہ اللہ کو ہرگز کوئی نقصان نہیں پہنچا سکیں گے، اور اللہ ان کے سارے اعمال کو غارت کردے گا۔ ) کفار اور منافقین کو تنبیہ اس آیت کریمہ میں بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جس مضمون سے سورة کا آغاز ہوا تھا اس کا اعادہ فرمایا گیا ہے۔ لیکن حقیقت میں یہ کفار اور منافقین کو سخت تنبیہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف سے ہدایت پوری طرح واضح کیے جانے کے بعد قریش اور مدینے کے منافقین نے جس طرح کفر کی روش کو قائم رکھا اور ہر ممکن طریقے سے لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے دین سے روکا اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی مخالفت کی اور ان کے پیش نظر یہ ہے کہ وہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کے نور کو بجھا دیں گے جبکہ اللہ تعالیٰ اپنے اس نور کی روشنی کو اس قدر عام کردینا چاہتا ہے کہ کل کو کوئی شخص یہ نہ کہہ سکے کہ میں اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت سے محروم رہا۔ انھیں اچھی طرح معلوم ہونا چاہیے کہ وہ اس طرح سے اللہ تعالیٰ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے یعنی اللہ تعالیٰ کے دین کا راستہ روکنے میں کامیاب نہیں ہوں گے۔ اور رہی ان کی وہ تدبیریں جو انھوں نے آج تک اللہ تعالیٰ کے دین کو ناکام کرنے کے سلسلے میں کی ہیں اور اسلام کے اثرات کو زیادہ سے زیادہ محدود کردینے کے لیے کی ہیں وہ اپنی آنکھوں سے دیکھیں گے کہ اللہ تعالیٰ ان کا ضائع کردے گا اور ان کی ہر تدبیر کو ناکام کردے گا۔ اور بعض اہل علم نے اس کا یہ مطلب بھی لیا ہے کہ جن کاموں کو انھوں نے اپنے نزدیک نیک سمجھ کر کیا یا انھوں نے کوئی اور بھلائی کے کام کیے اللہ تعالیٰ ان سب کو ضائع کردے گا۔ آخرت میں انھیں ان کاموں پر کوئی اجروثواب نہیں ملے گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے یہاں وہ اعمال قابل قبول ٹھہرتے ہیں جو اس کی عائد کردہ شرائط کے مطابق کیے جائیں۔ لیکن اگر اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کو تسلیم کیے بغیر اپنی مرضی اور اپنی چاہت سے کوئی نیک کام بھی کیا جائے تو اسے اللہ تعالیٰ یہاں بار نہیں ملتا بلکہ وہ کام کرنے والے کے منہ پردے مارا جاتا ہے۔ جیسے ابن جدعان کے بارے میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ( رض) نے آنحضرت ﷺ سے پوچھا کہ اس شخص نے بہت سے بھلائی کے کام کیے تھے تو کیا ان کاموں کی وجہ سے اللہ تعالیٰ اس کی بخشش فرما دیں گے۔ تو آپ نے فرمایا، نہیں۔ کیونکہ اس نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ یا اللہ مجھے بخش دے۔ یعنی اس نے اللہ تعالیٰ کی اتھارٹی کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔ وہ یہ نہیں سمجھتا تھا کہ کسی کام کے اچھا یا برا ہونے کا دارومدار اللہ تعالیٰ کی خوشنودی پر ہے۔ جائز اور ناجائز، حلال اور حرام حتیٰ کہ حسن و قبح کے امتیاز کا بھی فیصلہ اللہ تعالیٰ کی جانب سے ہوتا ہے، انسان کو اس معاملے میں اپنی مرضی کرنے کا اختیار نہیں۔
Ayah 47:33

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْۤا اَطِیْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَ لَا تُبْطِلُوْۤا اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:33 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَطِیْعُوا اللّٰہَ وَاَطِیْعُوا الرَّسُوْلَ وَلاَ تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَـکُمْ ۔ (محمد : 33) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو تم اللہ کی اطاعت کرو اور اللہ کے رسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو رائیگاں نہ کرو۔ ) اعمالِ صالحہ کے لیے کچھ دوسرے اعمالِ صالحہ شرط ہیں گزشتہ آیت کریمہ میں حبط اعمال کا ذکر ہے، اس سے مراد دراصل وہ اعمال ہیں جو کافر کفر کی حالت میں کرتا ہے یا وہ اعمال ہیں جو اسلام کی حالت میں کیے گئے ہیں لیکن ارتداد نے ان اعمال پر پانی پھیر دیا۔ ایسے تمام اعمال کفر یا ارتداد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے قانون کے مطابق ضائع ہوجاتے ہیں۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں وَلاَ تُبْطِلُوْٓا اَعْمَالَـکُمْارشاد فرمایا گیا ہے۔ اس کا مفہوم بہت عام ہے جو حبط اعمال پر بھی صادق آتا ہے، لیکن جو اس کی اصل حقیقت ہے وہ یہ ہے کہ بعض اعمالِ صالحہ کے لیے کچھ دوسرے اعمالِ صالحہ شرط ہیں۔ تو جس شخص نے اس شرط کو ضائع کردیا تو اس کا یہ عمل صالح بھی ضائع ہوگیا جو اس شرط کے ساتھ مشروط تھا۔ مثلاً ہر عمل صالح کے قبول ہونے کی شرط یہ ہے کہ وہ خالص اللہ تعالیٰ کے لیے ہو۔ ریا و سُمعہ اس میں نہ ہو۔ یعنی محض لوگوں کے دکھانے یا سنانے کے لیے یہ عمل نہ کیا گیا ہو۔ قرآن کریم نے ہر عمل کے لیے اخلاص کو شرط ٹھہرایا ہے اور صدقات کے بارے میں واضح ارشاد فرمایا کہ اپنے صدقات کو احسان جتلا کر یا غریب کو ایذا دے کر باطل نہ کرو۔ اس آیت کریمہ میں زور دے کر جو بات فرمائی گئی ہے وہ یہ ہے کہ مسلمانو ! تمہارے ایمان کا تقاضا یہ ہے کہ تم ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو۔ اور اس اطاعت میں کوئی ایسی کمزوری پیدا نہیں ہونی چاہیے جو اس اطاعت کو فاسد کردے۔ تمہارا کوئی عمل اخلاص سے خالی نہ ہو اور حق و باطل کے معرکے میں تمہارے دل میں کبھی موت کا خوف راہ نہ بنانے پائے۔ اور کبھی اللہ تعالیٰ پر توکل اور بھروسے میں کمی نہ آنے پائے۔ جس طرح تمہارے صدقات کو من و اذیٰ باطل کردیتے ہیں، اسی طرح غیر اللہ کا خوف اور غیر اللہ سے امید باندھنا اخلاص کے لیے تباہ کن ہے۔ حق و باطل کی کشمکش میں ایسی اطاعت کی ضرورت ہے جو ایسے ہر طرح کے خرخشے سے پاک ہو۔
Ayah 47:34

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ صَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰهِ ثُمَّ مَاتُوْا وَ هُمْ كُفَّارٌ فَلَنْ یَّغْفِرَ اللّٰهُ لَهُمْ Open ayah 47:34 in the Quran reader

بیشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا پھر وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے، اللہ ہرگز ان کو معاف نہیں فرمائے گا

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَصَدُّوْا عَنْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ثُمَّ مَا تُوْا وَھُمْ کُفَّارٌ فَلَنْ یَغْفِرَاللّٰہُ لَھُمْ ۔ (محمد : 34) (بےشک جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کے راستے سے روکا پھر وہ مرگئے اس حال میں کہ وہ کافر تھے، اللہ ہرگز ان کو معاف نہیں فرمائے گا۔ ) کمزور ایمان والے جو ابھی تک غیرمسلموں سے امیدیں رکھے ہوئے تھے ان کے لیے فیصلہ کن بات ارشاد فرمائی گئی ہے کہ جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو ماننے سے انکار کیا، اس کے دین کی تکذیب کی اور لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے سے روکا اور اسی حالت میں وہ دنیا سے چل بسے اللہ تعالیٰ ان کو ہرگز نہیں بخشے گا اور ان کے کفر کو معاف نہیں فرمائے گا۔ تو جن لوگوں کے مقدر میں جہنم کا عذاب لکھ دیا گیا اور کبھی بھی انھیں اللہ تعالیٰ کی بخشش نصیب ہونے والی نہیں، تو جو لوگ ایسے کفار سے راہ و رسم رکھتے اور امیدیں باندھتے ہیں انھیں اچھی طرح یہ بات سمجھ لینی چاہیے کہ ان کا انجام بھی ان سے مختلف نہیں ہوگا۔ اس لیے ان لوگوں کو اپنے بارے میں کوئی فیصلہ کرنے سے پہلے اس صورتحال کو سامنے رکھنا چاہیے۔
Ayah 47:35

فَلَا تَهِنُوْا وَ تَدْعُوْۤا اِلَى السَّلْمِ١ۖۗ وَ اَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ١ۖۗ وَ اللّٰهُ مَعَكُمْ وَ لَنْ یَّتِرَكُمْ اَعْمَالَكُمْ Open ayah 47:35 in the Quran reader

پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی دعوت نہ دو ، اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال میں وہ ہرگز کمی نہیں کرے گا

فلاَ تَھِنُوْا وَتَدْعُوْٓا اِلَی السَّلْمِ صلے ق وَاَنْتُمُ الْاَعْلَوْنَ صلے ق وَاللّٰہُ مَعَکُمْ وَلَنْ یَّتِرَکُمْ اَعْمَالَـکُمْ ۔ (محمد : 35) (پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی دعوت نہ دو ، اور تم ہی غالب رہو گے اور اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال میں وہ ہرگز کمی نہیں کرے گا۔ ) مسلمانوں کی سربلندی کی لازمی شرائط حق و باطل کی کشمکش میں اہل مکہ، ان کے زیراثر قبائل اور یہود کے باہمی گٹھ جوڑ اور اسلام دشمنی میں اشتراک کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہوگئے تھے جو مسلمانوں کے لیے بہت بڑی آزمائش کی حیثیت رکھتے تھے۔ حالات کی سنگینی نے منافقین میں نفاق کے مرض کو اور شدید کردیا تھا۔ وہ یہ سمجھنے لگے تھے کہ اس کشمکش کو لڑائی کی صورت اختیار کرتے اب زیادہ دیر نہیں لگے گی۔ اگر ایسا ہوگیا تو مدینے کے لوگوں کا باہمی ربط و ضبط تباہ ہو کر رہ جائے گا اور اسلام جسے اہل مدینہ اپنے لیے بہت بڑی رحمت سمجھتے تھے اور جس کے آنے کے بعد اوس و خزرج کے قبائل باہم شیروشکر ہوگئے تھے ان میں بھی دراڑیں پڑنے لگیں گی۔ اس لیے عافیت اس میں ہے کہ اس شیرازے کو درہم برہم نہ ہونے دیا جائے اور رواداری اور سازگاری کی فضا کو زیادہ سے زیادہ بروئے کار لانے کی کوشش کی جائے۔ اس طرح مخلص مسلمانوں کے دلوں میں منافقین حالات کے نشیب و فراز کے حوالے سے ایک بےاطمینانی پیدا کرنے کی کوشش کررہے تھے۔ اور ساتھ ہی ساتھ مسلمانوں میں ایسے کمزور لوگ بھی تھے جو اپنے مالی معاملات کے نقصان کو محسوس کرتے ہوئے اور حالات کو بےقابو ہوتے ہوئے دیکھ کر یہ سوچنے لگے تھے کہ باہمی رواداری اور صلح کی فضا پیدا کرنے کی کوشش ازبس ضرروی ہے۔ اس پوری صورتحال کو سامنے رکھتے ہوئے اس آیت کریمہ میں مجموعی طور پر چند ہدایات دی جارہی ہیں جو حق و باطل کی کشمکش میں مسلمانوں کی کامیابی کے لیے انتہائی ضروری ہیں۔ سب سے پہلی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ کمزور اور بودے نہ بنو۔ لاَ تَھِنُوْاوھن سے ہے۔ لغوی طور پر جس کا معنی کمزوری ہے، لیکن اصطلاحی طور پر اس سے مراد وہ ہے جس کی وضاحت آنحضرت ﷺ کی حدیث سے ملتی ہے۔ جس کا مفہوم یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک دفعہ ارشاد فرمایا کہ مسلمانو، اس وقت تمہاری کیا حالت ہوگی جب دنیا تم پر اس طرح چڑھ دوڑے گی جیسے دسترخوان پر بھوکے حملہ آور ہوتے ہیں۔ دسترخوان چونکہ اپنی مدافعت نہیں کرسکتا اس لیے حملہ آور لوگ اس پر چنی گئی ہر نعمت کو بےحیل و حجت اٹھا کر نگل جاتے ہیں۔ صحابہ نے پریشان ہو کر پوچھا یارسول اللہ کیا اس وقت ہماری تعداد بہت تھوڑی ہوگی۔ ان کے سامنے اپنی تاریخ تھی کہ جب ہم 313 ہوگئے تو ہم نے اہل مکہ کی منتخب فوج کا بھرکس نکال دیا۔ اور جب ہماری تعداد دس ہزار تک پہنچی تو مکہ جو عرب بھر کا مرکزاعصاب تھا ہمارے سامنے سرنگوں ہوگیا اور جب ہم تعداد میں تیس ہزار تک پہنچے تو ہم نے اپنے ملک کی دوردراز سرحد پر قیصر کو چیلنج کردیا اور اسے آگے بڑھنے کی ہمت نہ ہوسکی، تو کیا ہماری تعداد اس سے بھی کم ہوگی کہ دنیا ہمیں تر نوالہ سمجھ کر ہم پر چڑھ دوڑے گی۔ آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری تعداد تو ریت کے ذروں کی طرح ہوگی، لیکن تمہارے اندر وھن پیدا ہوجائے گا۔ صحابہ نے پوچھا وھن کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا وھن دو بیماریوں کا مرکب ہے۔ ایک ہے حُبِ دنیا، اور دوسرا ہے موت سے نفرت۔ تمہیں دنیا کی محبت دنیا کے ساتھ اس قدر وابستہ کردے گی کہ تم دنیا کو چھوڑنا گوارا نہیں کرو گے۔ اور موت سے تمہیں اس لیے ڈر لگے گا کہ اس سے تمہاری دنیا کی دلچسپیاں ختم ہوجائیں گی اور عیش و نشاط کی وہ محفل سمٹ جائے گی جو تمہاری زندگیوں کا حاصل بن چکی ہوگی۔ تو جب کوئی شخص یا کوئی قوم صرف حصول دنیا کے لیے جیتی ہے اور موت سے اسے ڈر لگتا ہے تو وہ تکالیف اور آزمائشوں کا سامنا کبھی نہیں کرسکتی۔ تاریخ میں ہمیشہ ان لوگوں نے اپنی جگہ بنائی ہے جنھوں نے موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی ہے اور موت سے کھیلنا سیکھا ہے۔ سچ کہا اکبر نے : جو دیکھی ہسٹری تو دل کو پھر کامل یقیں آیا جسے مرنا نہیں آیا اسے جینا نہیں آیا اس لیے ارشاد فرمایا کہ تم اپنے اندر وھن نہ پیدا ہونے دینا۔ دنیا کو ایک ضرورت سمجھنا، اسے مقصدزندگی میں تبدیل نہ ہونے دینا۔ اور دنیا میں رہ کر آخرت کی تیاری کرنا اور دنیا کو دارالعمل سمجھنا اور اس طرح زندگی گزارنا جس سے آخرت میں جواب دہی آسان ہوجائے۔ اور دوسرا حکم یہ دیا کہ دشمن کو صلح کی دعوت نہ دینا۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ کسی حال میں بھی تم دشمن سے سمجھوتہ نہ کرنا اور کبھی اسے صلح کی دعوت نہ دینا کیونکہ قرآن کریم سے ہمیں اس کی اجازت معلوم ہوتی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَہَا ” اگر کفار صلح کی طرف مائل ہوں تو آپ بھی مائل ہوجائیے۔ “ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں جس صلح سے روکا گیا ہے وہ، وہ صلح ہے جس سے اپنی کمزوری کا اظہار ہوتا ہو۔ یعنی مسلمانوں کے لیے ضروری ہے کہ پہلے اپنی طاقت کا لوہا منوائیں، دشمن محسوس کرے کہ ہمیں جن مسلمانوں سے واسطہ ہے وہ کمزور نہیں کہ ہم انھیں نگل جائیں بلکہ وہ لوہے کے چنے ہیں جنھیں چبایا نہیں جاسکتا۔ اس لیے وہ خود محسوس کرے کہ مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ سمجھوتہ اور صلح کی کوئی شکل پیدا کی جائے۔ اگر ایسا ہو اور مسلمان بھی اسے اپنی مصلحت کے مطابق سمجھیں تو صلح کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ لیکن اگر مسلمانوں کی طرف سے صلح کی بات چیت سے دشمن دلیر ہوتا ہو اور اس کے سامنے اس کے اپنے مقاصد ہوں جنھیں وہ مسلمانوں کی کمزوری سے فائدہ اٹھا کر حاصل کرنے کی فکر میں ہو تو پھر مسلمانوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ نہ تو ایسی کسی کمزوری کا اظہار نہ کریں اور نہ صلح کی سلسلہ جنبانی کریں۔ اگر مسلمانوں نے ان ہدایات پر عمل کیا کہ انھوں نے نہ اپنے اندر وھن پیدا ہونے دیا اور نہ اللہ تعالیٰ کے ڈر کی بجائے کسی اور کا خوف دلوں میں اترنے دیا۔ تو پھر اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ مسلمانو ! تمہیں سربلند رہو گے۔ تمہیں ایک ایسا مقام نصیب ہوگا کہ کفر تم سے کبھی کوئی ایسا کام نہیں لے سکے گا جو اسلامی مصالح کے خلاف ہو۔ اور جہاں تک خطرات اور دشمن کے بےپناہ وسائل کا تعلق ہے اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں، اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے۔ کائنات کی سب سے بڑی قوت کا نام خداوندِذوالجلال ہے۔ مخلوق میں سے بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کی طاقت کے سامنے کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔ جب اللہ تعالیٰ تمہارے ساتھ ہے تو پھر بڑی سے بڑی قوت بھی تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ تمہیں اس کے لیے جدوجہد اور ایثار و قربانی کی سنت کو زندہ کرنا پڑے گا۔ لیکن یہ یاد رکھو کہ اس راہ میں تم جو کچھ بھی کر گزروگے اللہ تعالیٰ تمہارے اعمال میں کبھی کمی نہیں کرے گا۔ یعنی تمہارے ہر عمل کا اجر وثواب اس کی اصل حیثیت سے بڑھا کر دے گا۔ انسان کا بہتر سے بہتر عمل بھی اس قابل نہیں ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بارقبول حاصل کرسکے۔ اس لیے کہ انسان ہزار کوشش کے باوجود بھی ہر طرح کی لغزشوں سے پاک نہیں ہوتا۔ لیکن اس کے باوجود حق و باطل کی کشمکش میں جو شخص بھی بڑھ چڑھ کر ایثار و قربانی اور استقامت کا حق ادا کرے گا اللہ تعالیٰ اس کا زیادہ سے زیادہ اجروثواب عطا فرمائے گا۔
Ayah 47:36

اِنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ١ؕ وَ اِنْ تُؤْمِنُوْا وَ تَتَّقُوْا یُؤْتِكُمْ اُجُوْرَكُمْ وَ لَا یَسْئَلْكُمْ اَمْوَالَكُمْ Open ayah 47:36 in the Quran reader

یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان کا حق ادا کرو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا، اور تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا

اِنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ ط وَاِنْ تُؤْمِنُوْا وَتَتَّقُوْا یُؤْتِکُمْ اُجُوْرَکُمْ وَلاَ یَسْئَلْـکُمْ اَمْوَالَـکُمْ ۔ (محمد : 36) (یہ دنیا کی زندگی ایک کھیل اور تماشا ہے اور اگر تم ایمان کا حق ادا کرو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا، اور تمہارے مال تم سے نہیں مانگے گا۔ ) حیاتِ دنیا کی آخرت کے مقابلے میں حقیقت سابقہ آیت کریمہ میں جس سرفروشی، وفاشعاری اور ایثار و قربانی کا حکم دیا گیا ہے اس کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ حیات دنیا ہے کیونکہ دنیا کی زندگی میں کبھی اپنے ذاتی مفادات، ہَوائے نفس پر مبنی ارمان اور مختلف حوالوں سے بننے والی خواہشات عناں گیر ہوتی ہیں اور کبھی اہل و عیال کی محبت اور مال و دولت کی ہوس انسان کا دامن پکڑتی ہے۔ اور ان ہی چیزوں میں الجھ کر انسان وہ زندگی اختیار نہیں کرپاتا جس کا ایک مومن کو حکم دیا گیا ہے۔ اس لیے پیش نظر آیت کریمہ میں اس حیات دنیا کا صحیح تعارف کرایا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ اس دنیا کے مال و متاع کی قدر و قیمت اس کے سوا کچھ نہیں کہ اس سے آدمی کی وقتی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور یا بعض خواہشات اور ارمان بروئے کار آتے ہیں جو سراسر ایک وقتی چیز ہے اور ایک محدود وقت کا عمل ہے جبکہ ایک مومن کے سامنے اس کی آخرت کا حصول ہے جو ابدی زندگی ہے اور جس کی ہر نعمت لافانی ہے۔ تو جس طرح آدمی زندگی کے حقیقی مقاصد کو لہو ولعب پر قربان نہیں کرسکتا۔ اسی طرح آخرت کی زندگی کے مقابلے میں دنیوی زندگی کی حیثیت لہو ولعب جیسی ہے تو اس پر آخرت کو قربان کیسے کیا جاسکتا ہے۔ لیکن اس کا لہو ولعب ہونا اس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتا جب تک آدمی کو آخرت کا یقین پیدا نہیں ہوتا۔ اور وہ ان حقائق پر ایمان نہیں لاتا جن سے انسان کے خیالات اور تصورات میں تبدیلی آتی ہے۔ اور پھر وہ زندگی کی اس روش کو اختیار نہیں کرتا جس میں دل کا میلان برائی کی بجائے نیکی کی طرف اور دنیا کی بجائے آخرت کی طرف ہوجاتا ہے جسے اصطلاحی زبان میں تقویٰ کہا جاتا ہے۔ اس وقت تک اس کے لیے یہ باتیں بےمعنی ہیں۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ایمان و یقین کا صحیح حق ادا کرو اور زندگی کو تقویٰ کی زندگی بنا لو یعنی جس میں ہر قدم اللہ تعالیٰ کے خوف سے گراں بار ہو اور ہر فیصلہ اللہ تعالیٰ کی شریعت کے حوالے سے معرض وجود میں آئے۔ تو پھر یقین جانو کہ تم اس راہ میں جو بھی عمل کرو گے اور جتنا مال بھی خرچ کرو گے وہ خسارے کا سودا نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل کا بھرپور صلہ دے گا۔ اور تمہیں صرف اجروثواب سے ہی نہیں نوازے گا بلکہ تمہیں اجور عطا فرمائے گا جو اجر کی جمع ہے۔ یعنی ایک تو ہے زندگی کے مجموعی اعمال کا صلہ اور ایک یہ ہے کہ ہر عمل کا الگ الگ صلہ دیا جائے اور بیشمار صلے اور اجر عطا کیے جائیں۔ دنیا میں ظاہر ہے کہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے کہ وہ کمیت اور کیفیت میں کہاں تک پہنچ جائیں گے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے مال نہیں مانگے گا۔ اس کا ظاہری مفہوم یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مسلمانوں سے کبھی بھی ان کے اموال کا مطالبہ نہیں کرتا اور نہ کرے گا حالانکہ قرآن کریم میں زکوٰۃ و صدقات کے احکام اور اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے کے بیشمار مواقع کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اور پھر اس کے بعد دوسری آیت میں انفاق فی سبیل اللہ کی تاکید آرہی ہے۔ اس لیے بظاہر ان دونوں میں تعارض معلوم ہوتا ہے۔ اہل علم نے دو طرح سے اس کا جواب دیا ہے۔ ایک جواب تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے اموال اپنی ذات کے لیے نہیں مانگتا بلکہ وہ تمہاری بھلائی کے لیے مانگتا ہے تاکہ ایک تو تمہیں اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی تربیت ملے اور تعلق باللہ میں مضبوطی آئے۔ اور دوسرا اس لیے کہ تم جو کچھ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرو، اللہ تعالیٰ آخرت میں اس کا بیش از بیش اجر عطا فرمائے اور دوسرا جواب اس کا یہ دیا گیا ہے کہ لاَ یَسْئَلْـکُمْ سے مراد پورا مال طلب کرنا ہے۔ اور اگلی آیت میں فَیُحْفِکُمْ اس کا قرینہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ تم سے تمہارے سارے مال کا مطالبہ نہیں کرتا بلکہ تمہارے مال کا ایک بڑا محدود حصہ طلب کرتا ہے اور اسے بھی تمہاری منفعت کے لیے خرچ کرنے کا حکم دیتا ہے۔
Ayah 47:37

اِنْ یَّسْئَلْكُمُوْهَا فَیُحْفِكُمْ تَبْخَلُوْا وَ یُخْرِجْ اَضْغَانَكُمْ Open ayah 47:37 in the Quran reader

اور اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگے اور سمیٹ کر مانگے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کینوں کو ظاہر کردے گا

اِنْ یَّسْئَلْـکُمُوْھَا فَیُحْفِکُمْ تَبْخَلُوْا وَیُخْرِجْ اَضْغَانَـکُمْ ۔ (محمد : 37) (اور اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگے اور سمیٹ کر مانگے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کینوں کو ظاہر کردے گا۔ ) آیت کا صحیح مفہوم فَیُحْفِکُمْ احفاء سے مشتق ہے۔ اس کا معنی مبالغہ اور کسی کام میں آخر تک پہنچ جانا ہے یا کسی شے کا الحاح و اصرار کے ساتھ مطالبہ کرنا بھی ہے۔ اس لحاظ سے آیت کریمہ کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر وہ تم سے تمہارے مال مانگے اور نہایت مبالغے کے ساتھ اور الحاح و اصرار کے ساتھ پورے کا پورا مال طلب کرے تو اس کا نتیجہ یقینا یہ ہوگا کہ تم دینے میں بخل کرو گے۔ بعض اہل علم کا خیال یہ ہے کہ اس کے مخاطب منافقین ہیں اس لحاظ سے آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ اگر اللہ تعالیٰ تم سے کل مال کا مطالبہ کرتا ہے تو تم جو نفاق کی وجہ سے خوش دلی کے ساتھ معمولی مال بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں دینے کے لیے تیار نہیں ہوتے، البتہ زکوٰۃ چونکہ مال کا ایک بہت محدود حصہ ہے اس کو کسی نہ کسی طرح بےدلی کے ساتھ تم ادا کردیتے ہو اور اپنے دل کی کیفیت کو تم مسلمانوں کے سامنے آشکارا نہیں ہونے دیتے۔ تو اس طرح سے تمہارے دلوں کے احساسات پر پردہ پڑا رہتا ہے لیکن اگر سارے مال کا تم سے مطالبہ کیا جاتا تو یقینا یہ بھانڈا پھوٹ جاتا اور تمہارے حسد و کینہ پر جو پردہ پڑا ہوا تھا اس کا پول کھل جاتا۔ بعض دیگر اہل علم کا خیال یہ ہے کہ خطاب عام مسلمانوں سے ہے جن کے اخلاص میں کوئی شبہ نہیں لیکن ابھی تک ایثار و قربانی کا جذبہ اس حد تک نہیں پہنچا کہ وہ خوش دلی سے سارے کا سارا مال اللہ تعالیٰ کی راہ میں دے دیں۔ اس لیے جب ان لوگوں کو اس کا حکم دیا جاتا تو یقینا وہ لوگ بخل کرتے اور ان کی طبیعتوں میں ناگواری پیدا ہوتی اور ادائیگی کے وقت یہ ناگواری ظاہر ہوئے بغیر نہ رہتی۔ ان کے نزدیک جس طرح ضغن کا معنی حسد اور کینہ ہے۔ اسی طرح اس کا معنی طبعی ناگواری بھی ہے جو بعض دفعہ ٹال مٹول کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے اور بعض دفعہ انکار کی صورت میں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اس ابتلاء میں نہیں ڈالا بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان پر جو مالی فرائض عائد کیے ہیں اولاً تو وہ خود مسلمانوں کے فائدے کے لیے ہیں ثانیاً ان کی مقدار اتنی کم ہے کہ ان کی ادائیگی کسی طرح بارخاطر نہیں ہوتی۔ مثلاً زکوٰۃ میں مال کا چالیسواں حصہ اور زمین کی پیداوار میں دسواں یا بیسواں حصہ اور سو بکریوں میں سے ایک بکری علیٰ ہذا القیاس۔
Ayah 47:38

هٰۤاَنْتُمْ هٰۤؤُلَآءِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ۚ فَمِنْكُمْ مَّنْ یَّبْخَلُ١ۚ وَ مَنْ یَّبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِهٖ١ؕ وَ اللّٰهُ الْغَنِیُّ وَ اَنْتُمُ الْفُقَرَآءُ١ۚ وَ اِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَكُمْ١ۙ ثُمَّ لَا یَكُوْنُوْۤا اَمْثَالَكُمْ۠ Open ayah 47:38 in the Quran reader

آگاہ ! تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اور تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کررہے ہیں اور جو کوئی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اللہ تو غنی ہے تم ہی اس کے محتاج ہو، اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے

ھٰٓاَنْتُمْ ھٰٓؤُلَآئِ تُدْعَوْنَ لِتُنْفِقُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ج فَمِنْـکُمْ مَّنْ یَّـبْخَلُ ج وَمَنْ یَّـبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ ط وَاللّٰہُ الْغَنِیُّ وَاَنْتُمُ الْفُقَرَآئُ ج وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ لا ثُمَّ لاَ یَکُوْنُوْٓا اَمْثَالَـکُمْ ۔ (محمد : 38) (آگاہ ! تم وہ لوگ ہو کہ تمہیں دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو اور تم میں ایسے لوگ بھی ہیں جو بخل کررہے ہیں اور جو کوئی بخل کرتا ہے وہ اپنے آپ ہی سے بخل کرتا ہے، اللہ تو غنی ہے تم ہی اس کے محتاج ہو، اگر تم روگردانی کرو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ ) بخیلوں کو دھمکی اس آیت کریمہ میں بھی معلوم ہوتا ہے کہ کمزور مسلمانوں سے خطاب ہے اور اس میں تعجب نہیں ہونا چاہیے کیونکہ ایمان لاتے ہی کوئی شخص ایمان کے اعلیٰ مدارج پر فائز نہیں ہوجاتا۔ ایمان لانے سے پوری زندگی میں تبدیلی لانا پڑتی ہے۔ عمر بھر کے جمے ہوئے خیالات کو دل سے نکالنا، اذواق و احساسات کو یکسر بدلنا اور بالکل نئے اعمال و اخلاق کا اپنے آپ کو خوگر بنانا زندگی کا مشکل ترین کام ہے۔ اسے اختیار کرتے ہوئے کس قدر محنت کرنا پڑتی ہے، کیسی کچھ قربانی دینا پڑتی ہے اور کتنا وقت صرف ہوتا ہے اس بات کو وہی شخص جان سکتا ہے جو کبھی ان مراحل سے گزرا ہو۔ صحابہ کرام نے اگرچہ تیزی سے یہ سب مراحل طے کیے لیکن ابتداء میں یقینا ان میں ایسے لوگ رہے ہوں گے جن میں کچھ نہ کچھ کمزوریاں تھیں۔ بجائے اس کے کہ اس سے منافقین مراد لیے جائیں بہتر ہے کہ ایسے ہی لوگ اس سے مراد لیے جائیں کیونکہ منافقین جو سرے سے ایمان کی بنیادی باتوں میں یکسو نہیں ہوسکے ان سے ایثار و قربانی کا اتنا بڑا مطالبہ عجیب سی بات معلوم ہوتی ہے۔ اس لیے اس عاجز کے خیال میں ان آیات کے مخاطب کمزور مسلمان ہیں جو آگے چل کر اعلیٰ سے اعلیٰ مدارج کو حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے۔ ان سے فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے مال کے ایک بڑے محدود حصے کا مطالبہ کیا ہے اور اسے اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے کی تمہیں دعوت دی ہے۔ لیکن کس قدر تعجب کی بات ہے تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس محدود حصے کو بھی خرچ کرنے میں بخل کرتے ہیں۔ حالانکہ وہ بخل اگر کریں گے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔ ایک تو اس لیے کہ وہ آخرت میں اس کے عظیم اجروثواب سے محروم رہ جائیں گے اور دوسرا اس لیے کہ اس وقت مسلمانوں کو جہادوقتال کا مرحلہ درپیش ہے اور کوئی لڑائی بھی مالی مصارف کے بغیر تو نہیں لڑی جاسکتی۔ اس لیے جب جہادوقتال کے لیے مالی مطالبہ کیا جائے تو اس میں بخل کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ ایک ایسی قومی خودکشی ہے کہ کوئی زندہ قوم اس کی متحمل نہیں ہوسکتی۔ اگر اللہ تعالیٰ نہ کرے کوئی ناگوار صورتحال پیش آجائے تو اندازہ نہیں کیا جاسکتا کہ اس کے نتایج کتنے ہولناک ہوں گے۔ اس لیے تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم ایسے مواقع پر روگردانی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تو غنی ہے محتاج تو تم ہو اس لیے اللہ تعالیٰ تمہارے مال و دولت کو نہیں خود تمہارے وجود کی قبولیت سے انکار کردے گا اور تمہاری جگہ ایک ایسی قوم کو اٹھائے گا جو تم جیسی نہیں ہوگی۔ اور ان میں وہ کمزوریاں نہیں ہوں گی جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ تمہیں اس عظیم نعمت سے محروم کردے گا۔ حضرت ابوہریرہ ( رض) سے روایت ہے کہ جب رسول اللہ ﷺ نے اس آیت کی تلاوت صحابہ کرام کے سامنے فرمائی تو صحابہ کرام نے عرض کیا، یارسول اللہ ﷺ وہ ایسی کون سی قوم ہے کہ اگر ہم خدانخواستہ احکامِ دین سے روگردانی کرنے لگیں تو وہ ہمارے بدلے میں لائی جائے گی۔ اور پھر وہ ہماری طرح احکام سے روگردانی نہیں کرے گی۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت سلمان ( رض) فارسی کی ران پر ہاتھ مار کر فرمایا کہ یہ اور اس کی قوم۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب عرب اپنے ذمہ داریوں سے پہلوتہی کریں گے تو اللہ تعالیٰ اہل عجم کو توفیق دے گا۔ اقبال نے اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا : ہے عیاں یورش تاتار کے افسانے سے پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے