Ayah 47:10اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَیَنْظُرُوْا کَیْفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ ط دَمَّرَاللّٰہُ عَلَیْہِمْ ز وَلِلْـکٰفِرِیْنَ اَمْثَالُھَا۔ (محمد : 10)
(کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں کہ دیکھتے کہ کیا ہوا انجام ان لوگوں کا جو ان سے پہلے گزرے ہیں، اللہ تعالیٰ نے انھیں پامال کردیا اور کافروں کے لیے ان ہی کی مثالیں ہیں۔ )
تاریخ سے استدلال
پیشِ نظر آیت کریمہ میں تاریخ سے استدلال بھی ہے اور مشرکین کی کو رچشمی اور فکری کوتاہی پر تعریض بھی ہے۔ عاد وثمود اور قوم لوط ان ہی کرتوتوں کے باعث اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں جو کرتوت اس وقت قریش کے ہیں۔ انھوں نے بھی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی تکذیب کی، اللہ تعالیٰ کے دین کا مذاق اڑایا، حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کو ختم کرنے کے منصوبے باندھنے لگے تو اللہ تعالیٰ کے عذاب نے ان کی تمام تدبیروں کو انھیں پر الٹ ڈیا۔ اور ایسا عذاب ان پر نازل کیا جس نے انھیں پامال کرکے رکھ دیا۔ سوال یہ ہے کہ یہ بستیاں جو ان قوموں کی زندگی میں طاقتور حکومتوں کا مسکن تھیں۔ آخر آج ویرانوں میں تبدیل کیوں ہوگئی ہیں۔ قریش اپنے تجارتی اسفار میں ان ویرانوں سے گزرتے ہیں تو انھیں کبھی یہ توفیق نہیں ہوئی کہ وہ اس بات پر غور کرسکیں کہ آخر یہ قومیں اس انجام تک کیوں پہنچیں کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اس طرح اکھاڑا اور پچھاڑا کہ آج ان کا نشان موجود نہیں۔ لیکن ان کی تاریخ عبرت کے طور پر زندہ ہے۔ اور عجیب بات یہ ہے کہ قرآن کریم قریش کی جس کو رچشمی پر انھیں تعریض کررہا ہے کیا آج کے روشنیِ علم و ہنر کے زمانے میں وہ رویہ بدل گیا ہے، یقینا نہیں۔ ہمارے اپنے ملک میں موہنجوداڑو جیسی بستیاں ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئی ہیں۔ لیکن ہم نے انھیں اپنی تحقیق کا موضوع بنا رکھا ہے۔ وہاں پکنک منانے کے لیے جایا جاتا ہے، لوگ انھیں تاریخی آثار سمجھ کر گھومنے پھرنے کے لیے جاتے ہیں۔ لیکن اس کی توفیق شاید ہی کسی کو ملتی ہو کہ آخر یہ سرزمین اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار کیوں ہوئی۔ لیکن ہمیں اس بستی کو دیکھ کر کلچر نکالنے کی فکر تو رہتی ہے، عبرت کے حصول کی توفیق کبھی نہیں ہو۔ ٹھیک کہا شاعر نے :
عبرت کی اک چھٹانک برآمد نہ ہو سکی
کلچر نکل پڑا ہے منوں کے حساب سے
آخر میں فرمایا گیا ہے کہ کافروں کے سامنے تو ان ہی معذب قوموں اور بستیوں کی مثالیں ہیں ان کے رویئے پر اللہ تعالیٰ کے عذاب کے نازل ہونے کے اسباب ہیں۔ جس طرح کے طرزعمل سے وہ بستیاں اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوئیں، کیا قریش کا وہی طرزعمل انھیں ان کے انجام سے بچا لے گا۔ یہ بھی اسی عذاب سے دوچار ہوں گے جس عذاب نے ان کی کمر توڑی ہے۔
Ayah 47:11ذٰلِکَ بِاَنَّ اللّٰہَ مَوْلَی الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَاَنَّ الْـکٰفِرِیْنَ لاَ مَوْلٰی لَھُمْ ۔ (محمد : 11)
(یہ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ایمان لانے والوں کا کارساز ہے، اور کافروں کا کارساز کوئی نہیں۔ )
کفار کا کوئی کارساز نہیں
اصحابِ سیر نے جنگ احد کے حالات لکھتے ہوئے یہ روایت بھی نقل کی ہے کہ آنحضرت ﷺ جب زخمی ہو کر چند صحابہ کے ساتھ ایک گھاٹی میں رکے ہوئے تھے اس وقت ابوسفیان نے پہاڑ کے قریب آکر نعرہ لگایا لَنَاعُزّٰیٰ وَلاَ عُزّٰیٰ لَـکُمْ ” یعنی ہمارے پاس عزیٰ ہے اور تمہارا کوئی عزیٰ نہیں۔ آنحضرت ﷺ نے صحابہ سے فرمایا : اسے جواب دو ، اَللّٰہُ مَوْلاَ نَا وَلاَ مَوْلیٰ لَـکُمْ ” ہمارا کارساز اللہ ہے اور تمہارا کوئی کارساز نہیں۔ “
گزشتہ آیات میں جو کچھ کہا گیا ہے، یہ اس کا خلاصہ ہے۔ اور مسلمانوں کو دین کو ترجیح بنانے، اللہ تعالیٰ پر بےپناہ اعتماد اور توکل کرنے اور انتہائی ناسازگار حالات میں بھی اس کے دین کی سربلندی کے لیے اٹھ کھڑے ہونے کی جو تعلیم دی گئی ہے اس کا حاصل صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا مولیٰ ہے یعنی وہی ہمارا آقا ہے، ہم کسی اور کو آقا نہیں مانتے۔ وہی ہمیں قانون دینے والا ہے، ہم کسی اور کو قانون سازی کا حق نہیں دیتے۔ وہی ہمارا حامی و ناصر ہے، ہمیں کسی اور کی نصرت کی پروا نہیں۔ وہی ہمارا کارساز ہے اس لیے ہم کسی اور کو اپنی تقدیر کا مالک نہیں سمجھتے۔ یہ تصورات ہمارا حقیقی سرمایہ ہیں۔ اور مسلمانوں کو ان ہی تصورات اور ان ہی عقائد نے سربلند کیا اور قوت فراہم کی۔ آج مسلمان قرون اولیٰ کی نسبت ہزار گنا بہتر وسائل رکھتے ہیں اور افرادی قوت کہیں کی کہیں پہنچ گئی ہے۔ لیکن اہل دنیا کے سامنے کمزوری کا شکار اور ذلت کی علامت اس لیے بنے ہوے ہیں کہ ان کے پاس یہ تصورات جس نے ان کو قوت فراہم کی تھی نہیں رہے۔ اس لیے وہ ہر آستانے پر سر جھکانے اور ہر طاقتور ملک کے سامنے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہیں۔ وَاِلَی اللّٰہِ الْمُشْتَـکیٰ ۔
سروری زیبا فقط اس ذات بےہمتا کو ہے
حکمراں ہے اک وہی باقی بتان آذری
__________
بتوں سے تجھ کو امیدیں، خدا سے ناامیدی
مجھے بتا تو سہی اور کافری کیا ہے
Ayah 47:12اِنَّ اللّٰہَ یُدْخِلُ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَاالْاَنْھٰرُ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا یَتَمَتَّعُوْنَ وَیَاکُلُوْنَ کَمَا تَاْکُلُ الْاَنْعَامُ وَالنَّارُ مَثْوًی لَّہُمْ ۔ (محمد : 12)
(بےشک اللہ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھوں نے نیک عمل کیے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور جن لوگوں نے کفر کیا وہ فائدہ اٹھا رہے ہیں اور کھا رہے ہیں جس طرح چوپائے کھاتے ہیں اور دوزخ ان کا ٹھکانہ ہے۔ )
ایک اشتباہ کا ازالہ
حق و باطل کی کشمکش میں دو ہی گروہ ہیں جن میں سے ایک اہل حق کا گروہ ہے اور دوسرا اہل باطل کا۔ اہل حق خیر کے نمائندہ اور اللہ تعالیٰ کے دین کو اللہ تعالیٰ کی زمین پر قائم کرنے والے ہیں۔ اور اہل باطل خواہشات کے پیروکار، شیطان کے نمائندہ اور شر کی قوتوں کو توانا کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے گزشتہ آیات میں صراحت کے ساتھ اس بات کو واضح فرمایا ہے کہ اہل حق یعنی اللہ تعالیٰ پر ایمان لانے والے اور اس کے احکام کے مطابق اعمالِ صالحہ بجا لانے والے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مستحق ہیں۔ دنیا میں اہل باطل کے مقابلے میں انھیں مصائب برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ اور یہ وقتی طور پر وہ آزمائش ہے جس سے اہل حق کی تربیت بھی ہوتی ہے اور ان کا برسرحق ہونا آزمایا بھی جاتا ہے۔ اور جب وہ اس کٹھالی سے کندن بن کر نکلتے ہیں تو اللہ تعالیٰ کی نصرت اور تائید رفتہ رفتہ ان کو دنیا میں بھی غالب اور سربلند کردیتی ہے۔ لیکن جہاں تک آخرت کا تعلق ہے ایک مومن کے لیے وہی حقیقی زندگی ہے اور اس کی نگاہ ہمیشہ اسی کے ثمرات پر رہتی ہے۔ دنیا کی زندگی اگر مصائب اور تکالیف میں بھی گزرے تو ایک نہ ایک دن اسے ختم ہوجانا ہے لیکن آخرت کی زندگی ایک ابدی زندگی ہے جس کی نعمتیں حقیقی نعمتیں ہیں اور جہاں کا اجروثواب حقیقی قدروقیمت رکھتا ہے۔ وہ صرف ان لوگوں کا حصہ ہے جو ایمان سے بہرہ مند اور عمل صالح کا پیکر ہیں۔ اس پر ایک دنیادار کے ذہن میں جو سوال پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ دنیا میں تو ہم کفار کو مزے لوٹتے ہوئے دیکھتے ہیں وہ نہایت پر تکلف زندگی گزارتے ہیں، آسودہ حالی ان کا مقدر بنی رہتی ہے اور گھر میں ان کے دولت کی ریل پیل ہوتی ہے۔ کسی نعمت کی ان کے یہاں قلت نہیں ہوتی۔ لیکن ان کے مقابلے میں اہل حق ہمیشہ بدحالی کا شکار رہتے ہیں۔ اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ آخرت میں ان کو بیش بہا نعمتیں ملیں گی لیکن اگر دنیا میں سوائے دکھوں کے ان کو کچھ نہ ملا تو محض آخرت کے وعدے تو ان کے زخموں کے لیے مرہم ثابت نہیں ہوسکتے۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا ہے کہ جہاں تک پیٹ بھر کے کھانے کا تعلق ہے اور عیش اڑانے کا سوال ہے اس میں تو حیوان بھی بہت خوش نصیب واقع ہوئے ہیں۔ وہ زندگی میں خوب مزہ اٹھاتے ہیں اور ان کے کھانے پینے میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ پورا پورا کھیت اجاڑ کر ان کا پیٹ نہیں بھرتا۔ ہر جگہ منہ مارتے پھرتے ہیں۔ تو اس کا نام حیوانیت تو ہے، انسانیت نہیں۔ حیوان کو اللہ تعالیٰ نے کھانے پینے کو تو خوب بخشا ہے لیکن اسے عقل اور شعور کی دولت سے محروم رکھا ہے۔ اسے اس بات کا کبھی احساس بھی نہیں ہوتا کہ میں جو نعمتیں کھا رہا ہوں کبھی میں اس بات پر غور کروں کہ ان نعمتوں کا پیدا کرنے والا کون ہے، میرے لیے یہ خوان نعمت کس نے بچھایا ہے، قدم قدم پر میری ضروریات کی کفالت کون کررہا ہے، یقینا مجھ پر اس کے کچھ حقوق بھی ہوں گے، کیا میں نے کبھی ان حقوق کی ادائیگی کی فکر کی ہے۔ یہ وہ سوچ اور وہ احساس ہے جو انسان کو حیوان سے الگ کرتا ہے۔ اگر محض دنیا کے مزے اڑانا اور ہر وقت تن پروری کی فکر میں لگے رہنا ہی زندگی ہوتی اور یہی زندگی کا مقصد ہوتا تو اس کے لیے تو حیوان ہی کافی تھے، انسان کو پیدا کرنے کی کیا ضرورت تھی۔ انسان کو تو اس لیے پیدا کیا گیا اور اسے شعور بھی بخشا گیا اور اس احساس سے اسے گراں بار بھی کیا گیا کہ تم جو کچھ کھاتے پیتے ہو اگر تمہارے کھانے پینے نے تم سے پوچھ لیا کہ مجھے جس کی خدمت اور جس کی خاطر پیدا کیا گیا تھا میں نے تو اپنے مخدوم کو پہچان لیا اور میں نے اپنا سب کچھ اس کے سپرد کردیا۔ وہ مجھے پیسے، پکائے، بھونے، تلے، جو چاہے میرے ساتھ سلوک کرے میں نے اس کے لیے کبھی آزردگی کا اظہار نہیں کیا کیونکہ مجھے اسی مقصد کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ لیکن اگر میرے مخدوم سے پوچھ لیا جائے کہ تجھے بھی تو آخر کسی کے لیے پیدا کیا گیا ہوگا، تجھ پر بھی تو کسی کے حقوق ہوں گے، تو تم نے ان حقوق کی ادائیگی کے لیے کیا کیا ہے۔ یہی وہ فرق ہے جس کی طرف توجہ دلانے کے لیے فرمایا گیا ہے کہ کافر ہمیشہ چوپایوں کی طرح کھاتے پیتے اور عیش اڑاتے ہیں۔ لیکن وہ یہ بات بھول جاتے ہیں کہ وہ چوپائے یا حیوان نہیں بلکہ انسان ہیں۔ چونکہ انھیں کبھی اس بات کی طرف دھیان نہیں آتا۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دنیا میں ان کو کھانے پینے اور عیش اڑانے کی مہلت دی گئی ہے لیکن ان کا ٹھکانہ جہنم ہوگا۔ کیونکہ انھوں نے اس مہلت عمل سے فائدہ اٹھا کر آخرت کی تیاری نہیں کی۔ اس لیے آخرت میں سزا کے طور پر انھیں جہنم کی نذر کردیا جائے گا۔
Ayah 47:13وَکَاَیِّنْ مِّنْ قَرْیَۃٍ ھِیَ اَشَدُّ قُوَّۃً مِّنْ قَرْیَتِکَ الَّتِیْٓ اَخْرَجَتْکَ ج اَھْلَـکْنٰـھُمْ فَلاَ نَاصِرَلَھُمْ ۔ (محمد : 13)
(اور کتنی ہی بستیاں ہیں جو آپ کی اس بستی سے بہت زیادہ طاقتور تھیں جس نے آپ کو نکالا ہے، ہم نے ان بستیوں کو ہلاک کردیا کہ کوئی ان کو بچانے والا نہ تھا۔ )
قریش کے غرور پر چوٹ
قریش کو جس طرح اپنی دولت و رفاہیت پر ناز تھا، اسی طرح انھیں اپنی طاقت و قوت کا بھی بڑا گھمنڈ تھا۔ وہ یہ سمجھتے تھے کہ ہمارے قریب قریب ہماری ٹکر کی کوئی طاقت نہیں۔ اور جب انھوں نے نبی کریم ﷺ اور مسلمانوں کے لیے ایسے حالات پیدا کردیئے کہ مسلمانوں کو اور آپ کو مکہ سے ہجرت کرنا پڑی تو انھیں اپنی طاقت کا مزید غرور اور تکبر پیدا ہوگیا اور وہ یہ سمجھنے لگے کہ ہم اس قدر طاقتور ہیں کہ جس کو چاہیں مکہ میں رہنے دیں اور جسے چاہیں مکہ سے نکال باہر کریں۔ اور طاقت کے اسی نشے نے انھیں اس حد تک برخودغلط بنادیا کہ وہ نہ قیامت کے تصور کو خاطر میں لاتے تھے اور نہ انھیں اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ڈر لگتا تھا۔ چناچہ انھیں حقیقت کا آئینہ دکھانے کے لیے تاریخ سے استشہاد کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ ان سے پہلے کتنی ایسی بستیاں گزریں ہیں جو اہل مکہ سے ہر لحاظ سے بہت طاقتور تھیں۔ وہ ایک مستحکم حکومت رکھتی تھیں، ان کے پاس منظم فوجیں تھیں، اسلحہ ٔ جنگ کی کمی نہ تھی، دولت و رفاہیت بھی ان کے گھر کی لونڈی تھی، باایں ہمہ تکذیبِ رُسل کے نتیجے میں جب اللہ تعالیٰ کا عذاب ان پر ٹوٹا تو اس نے انھیں جڑ سے اکھاڑ کے رکھ دیا۔ کوئی ایک شخص بھی زندہ نہ رہ سکا اور جن قوتوں پر انھیں بڑا بھروسہ تھا کوئی قوت ان کی مدد کو نہ پہنچ سکی۔ قریش ان قوموں کو خوب جاتے ہیں، ان کی طاقت سے بھی آگاہ ہیں۔ تو پھر انھیں سوچنا چاہیے کہ اگر ان سے زیادہ طاقتور قومیں اللہ تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو نہ بچا سکیں تو یہ کس طرح اپنے آپ کو بچائیں گی۔
Ayah 47:14اَفَمَنْ کَانَ عَلٰی بَیِّنَۃٍ مِّنْ رَّبِّـہٖ کَمَنْ زُیِّنَ لَـہٗ سُوْٓئُ عَمَلِہٖ وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَٓائَ ھُمْ ۔ (محمد : 14)
(کیا وہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک روشن دلیل پر ہیں ان لوگوں کی طرح ہوسکتے ہیں جن کی بدعملی ان کے لیے مزین کردی گئی ہے اور انھوں نے اپنی خواہشات کی پیروی کی ہے۔ )
اہلِ حق اور اہل باطل کے فکری اور عملی تضاد کی وضاحت
پیشِ نظر آیت کریمہ میں اہل حق اور اہل باطل کے فکری اور عملی تضاد کو واضح فرمایا ہے۔ اور اس تضاد کو نمایاں کرنے کے لیے استفہامیہ انداز اختیار فرمایا ہے۔ عام انسانی عقل اور انسانی شعور کو خطاب کرتے ہوئے فیصلہ ان پر چھوڑا گیا ہے کہ کچھ لوگ ایسے ہیں جنھیں اہل حق کہا جاتا ہے ان کی سوچ اور ان کے عمل پر ایک روشن دلیل کا پہرہ ہے۔ انھوں نے محض رواروی میں اپنے ذہنی رویئے کی تعمیر نہیں کی اور نہ اپنا عملی سانچا استوار کیا بلکہ ان کی رہنما ایک ایسی مضبوط اور روشن دلیل ہے جس سے انکار کرنا کسی صاحب عقل کے لیے ممکن نہیں۔ وہ دلیل یہ ہے کہ ان کے پاس اللہ تعالیٰ کا ایک رسول انسانی اصلاح کا ایک نسخہ کیمیا لے کر آیا اور جس کے بارے میں نہایت حتمی انداز میں یہ بات فرمائی کہ جو شخص بھی اسے اختیار کرے گا وہ تمام انسانی کمزوریوں سے بچ کر مکارمِ اخلاق کا نمونہ بن جائے گا۔ اس کے دل و دماغ پر اللہ تعالیٰ کی کبریائی کی حکومت ہوگی، اس کی تنہائیاں بھی اللہ تعالیٰ کے حاضر و ناظر ہونے کے تصور سے ہر طرح کے گناہ سے محفوظ ہوجائیں گے۔ اور وہ دلیل خود اللہ تعالیٰ کا رسول ہے کیونکہ وہ اپنی قوم میں چالیس سال گزار چکا ہے۔ اس کا ایک ایک دن قوم کی نگاہوں کے سامنے گزرا ہے۔ اس کے قریب رہنے والے لوگ اس کی زندگی سے پوری طرح آگاہ ہیں اور وہ یہ شہادت دیتے ہیں کہ ہم نے کبھی اس ذات عزیز کو جھوٹ بولتے نہیں سنا۔ اس نے کبھی غلط بیانی سے کام نہیں لیا۔ اس کے سیرت و کردار میں کوئی عیب ہم نے کبھی نہیں دیکھا جبکہ اس کی قوم کا ایک ایک فرد بداعمالیوں اور بداطواریوں میں پوری طرح مبتلا ہے۔ لیکن وہ ان کے درمیان رہتے ہوئے بھی اس طرح زندگی گزارتا رہا ہے جیسے پتھروں کے ڈھیر میں کوئی ہیرا چمکتا ہے۔ تو ایسا شخص جب اللہ تعالیٰ کا دین پیش کرتے ہوئے نہایت مستحکم انداز میں اس کے سچا ہونے کی شہادت دیتا ہے تو کوئی عقلمند آدمی اس کے قبول کرنے سے انکار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ جس شخص نے کبھی کسی انسان کے بارے میں جھوٹ نہیں بولا وہ اللہ تعالیٰ کے حوالے سے کیسے جھوٹ بول سکتا ہے۔ اسی طرح وہ جس کتاب کو قوم کے سامنے پیش کررہا ہے اور اس کے دعویٰ یہ ہے کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی جانب سے مجھ پر نازل ہوئی ہے۔ اس کتاب کی ایک ایک آیت فصاحت و بلاغت کا معجزانہ نمونہ ہے۔ اس کا ایک ایک لفظ ہر طرح کی کمزوری سے پاک اور اس کا ایک ایک جملہ حُسنِ ترکیب کا شاہکار ہے۔ اس میں پیش کیا جانے والا نظام زندگی ہر طرح کی پیچیدگی سے مبرا اور انسانی وسائل کے حل کے لیے نہایت دوررس اثرات کا حامل اور مرورزمانہ کے ہر طرح کے تأثر سے پاک ہے اور جو لوگ اللہ تعالیٰ کے اس رسول کی تربیت میں داخل ہوتے ہیں اس پر ایمان لاتے اور یقین کی دولت سے بہرہ ور ہوتے ہیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہ ایمان و عمل کی ایسے بلندیوں پر فائز ہوجاتے ہیں اور مکارمِ اخلاق کی ان خوبیوں کا پیکر بن جاتے ہیں جن کا تصور بھی اس ماحول میں کرنا ناممکن تھا۔ یہ وہ روشن دلیل ہے جس سے صاحب ایمان لوگ پوری طرح بہرہ ور اور مزین ہیں۔ لیکن دوسری طرف اہل باطل کا حال یہ ہے کہ ان کے پاس اپنے عقائد، اپنے خیالات، اپنے اعمال اور اپنے اخلاق کی کوئی دلیل نہیں۔ ان کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں کہ آپ نے جو کچھ فکری اور عملی طور پر اختیار کر رکھا ہے اس کی سند آپ کے پاس کیا ہے۔ اور آپ نے آج تک جو انسان تیار کیے ہیں ان میں انسانیت کی کون سی خوبی پائی جاتی ہے۔ ان کے پاس اگر کوئی چیز ہے تو وہ ہَوائے نفس ہے، خواہشات ہیں، سفلی جذبات ہیں۔ بس ان کی پوری زندگی اسی سے عبارت ہے اور وہ شب و روز ایسی ہی چیزوں کی پیروی کرتے ہیں۔ اس سے ہر شخص اندازہ لگا سکتا ہے کہ ان دونوں گروہوں میں فکری اور عملی تضاد کی کیفیت کیا ہے۔
Ayah 47:15مَثَلُ الْجَنَّۃِ الَّتِیْ وُعِدَالْمُتَّـقُوْنَ ط فِیْھَآ اَنْھٰـرٌمِّنْ مَّـآئٍ غَیْرِ اٰسِنٍ ج وَاَنْھٰـرٌ مِّنْ لَّبَنٍ لَّمْ یَتَغَیَّرْ طَعْمُہٗ ج وَاَنْھٰرٌ مِّنْ خَمْرٍلَّذَّۃٍ لِّلشّٰرِبِیْنَ 5 ج وَاَنْھٰـرٌ مِّنْ عَسَلٍ مُّصَفًّی ط وَلَھُمْ فِیْھَا مِنْ کُلِّ الثَّمَرٰتِ وَمَغْفِرَۃٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ ط کَمَنْ ھُوَ خَالِدٌ فِی النَّارِ وَسُقُوْا مَـآئً حَمِیْمًا فَقَطَّعَ اَمْعَـآئَ ھُمْ ۔ (محمد : 15)
(اس جنت کی مثال جس کا وعدہ اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے کیا گیا ہے، یہ ہے کہ اس میں نہریں ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی، اور نہریں ہوں گی دودھ کی، جس کے مزے میں ذرا بھی تغیر نہ ہوا ہوگا، اور نہریں ہوں گی شراب کی جو پینے والوں کے لیے انتہائی لذیذ ہوں گی، اور نہریں ہوں گی صاف شفاف شہد کی، اور اس میں ان کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے، اور ان کے رب کی طرف سے مغفرت بھی، کیا یہ لوگ جن کو یہ نعمتیں ملیں گی ان لوگوں کی مانند ہوسکتے ہیں جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنھیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں کاٹ دے گا۔ )
اہلِ حق اور اہل باطل کے انجام میں فرق
گزشتہ آیات سے یہ تو معلوم ہوگیا کہ اہل حق اور اہل باطل اپنی سوچ، اپنے ذوق، اپنے عمل اور اپنی پسند و ناپسند میں یکسر ایک دوسرے سے مختلف ہوں گے۔ اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں ان کا مقام بھی الگ الگ ہو اور اس کے نظام جزا و سزا میں دونوں الگ الگ حیثیتوں کے مالک ہوں۔ جن لوگوں نے تقویٰ کی زندگی گزاری یعنی اپنے دل و دماغ اور اپنی عملی اور انفعالی قوتوں میں ہر لحاظ سے اللہ تعالیٰ کی ہدایت کی پیروی کی۔ زندگی کے ہر مرحلے میں احکامِ شریعت کو اختیار کیا۔ ہر طرح کے حالات میں اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت کو رہنما بنایا۔ ایسے لوگوں کے لیے اللہ تعالیٰ نے جنت کا وعدہ کر رکھا ہے جس کی حقیقت تو قیامت کے دن ہی کھلے گی کہ وہ جنت کیسی ہے۔ لیکن اس کی تمثیل بیان فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس میں صاف ستھرے اور نتھرے ہوئے پانی کی نہریں ہوں گی جس کی بو، مزے اور رنگ میں کسی طرح کا تغیر پیدا نہیں ہوا ہوگا۔ کیونکہ دنیا میں دریائوں اور نہروں کا پانی عموماً گدلا ہوتا ہے۔ زمین کا سفر کرتے ہوئے ریت اور مٹی اور نباتات کسی صورت میں نہ جانے کیسے کیسی چیزیں اس میں شامل ہوجاتی ہیں۔ اسی طرح چشموں سے ابلتا ہوا پانی بھی نہ جانے کہاں کہاں سے گزر کے آتا ہے۔ برف کی صورت میں کیسا پانی جمتا ہے جو پگھل کر چشموں کی صورت میں رواں ہوجاتا ہے۔ وہ یقینا دریائی پانی سے بہت صاف ہوتا ہے۔ لیکن اس کے اندر بھی وہ صفائی یقینا نہیں ہوسکتی جو جنت میں نکلنے والی نہر کے پانی کی ہوگی۔ ایسے پانی کو غیرآسن قرار دیا گیا ہے، یعنی وہ خالص صاف ستھرا پانی ہوگا جس میں کسی قسم کی آمیزش نہ ہوگی۔ اسی طرح وہاں دودھ کی نہریں رواں دواں ہوں گی جن کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ وہ جانوروں کے تھنوں سے نکلا ہوا دودھ نہ ہوگا۔ کیونکہ تھنوں سے نکلنے والا دودھ اگرچہ گوبر اور خون کے درمیان سے اللہ تعالیٰ نکال کے لاتا ہے جو بالکل سفید اور نہایت صاف ستھرا ہر طرح کی آلودگی سے پاک ہوتا ہے لیکن پھر بھی اس میں ایک ہلکی سی بساند ہوتی ہے۔ جنت میں پایا جانے والا دودھ اس طرح کی ہر بساند سے پاک ہوگا۔ اور وہ لطف و لذت میں بھی یقینا دنیا میں پائے جانے والے دودھ سے بہت مختلف ہوگا۔ مزید فرمایا گیا کہ وہاں شراب کی نہریں بہیں گی، لیکن وہ شراب رنگ اور مزے اور بو میں دنیوی شراب سے بالکل مختلف ہوگی۔ اس میں دنیا کی شراب کی طرح نہ کڑواہٹ ہوگی اور نہ سیاہی۔ اور نہ اس کے پینے کے بعد خمار آئے گا۔ نہ وہ عقل پر غلبہ پائے گی۔ وہ اپنے پینے والوں کے لیے صرف لذیذ ہی نہیں بلکہ سراپا لذت ہوگی۔ اس کو صرف لذت کے لیے پینے والے پینا پسند کریں گے۔ اس کے پینے سے جس طرح لطف و لذت میں اضافہ ہوگا اسی طرح اس کا خمار اترنے سے جس طرح جسم لوٹتا ہے جنت کی شراب ان تمام کمزوریوں سے پاک ہوگی۔ مزید فرمایا کہ اس میں صاف ستھرے شہد کی نہریں رواں ہوں گی۔ دنیا میں جو شہد ملتا ہے اس کی تعریف جتنی بھی کی جائے کم ہے، لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس میں کسی نہ کسی حد تک مکھیوں کے اثرات ہوتے ہیں۔ وہ ان کے غل و غش سے پاک نہیں ہوتا۔ اس میں کہیں مری ہوئی مکھیوں کی ٹانگیں نکلتی ہیں اور کبھی موم اور چھتے کے ٹکڑے برآمد ہوتے ہیں۔ لیکن جنت کی نہروں میں بہنے والا شہد ہر طرح کی آلودگی اور مکھیوں کے اثرات سے یکسر پاک ہوگا۔ کوئی اس پر مگس کی قے ہونے کی پھبتی چست نہ کرسکے گا۔ مزید فرمایا کہ اہل جنت کو اس میں ہر طرح کے پھل ملیں گے جس میں نہ موسم کی قید ہوگی نہ کسی علاقے کی پابندی۔ اہل جنت جس پھل کی بھی خواہش کریں گے وہ ان کے سامنے پیش کردیا جائے گا۔ آخر میں ایک ایسی نعمت کا ذکر فرمایا گیا ہے جو جنت کی ان تمام بیش بہا نعمتوں سے زیادہ قیمتی ہے۔ وہ ہے اللہ تعالیٰ کی مغفرت اور خوشنودی۔ کیونکہ یہ وہ نعمت ہے جس کے ملنے کے بعد باقی تمام نعمتوں کا جواز پیدا ہوتا ہے، بلکہ جنت اسی نعمت کا ثمر ہے۔ اور ایک مومن درحقیقت اسی نعمت کو حاصل کرنے کے لیے جیتا اور مرتا ہے۔ اور زندگی میں جتنی قربانیاں دیتا ہے اس کے پیش نظر صرف اسی نعمت کا حصول ہوتا ہے۔ محض جنت کا حصول ایک مومن کے اہداف میں کبھی شامل نہیں رہا۔ یہ محض اللہ تعالیٰ کا کرم ہے کہ وہ جب کسی کی مغفرت فرماتا ہے تو اسے جنت بھی عطا فرماتا ہے۔
ایک تو یہ لوگ ہیں جنھیں متقی کہا گیا ہے اور جو اپنے رب کے یہاں جنت میں وہ نعمتیں پائیں گے جن کا یہاں ذکر کیا گیا ہے۔ لیکن ان کے بالمقابل وہ لوگ ہیں جو اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان نہ لائے، جنھوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہونے والی ہدایات کو ناپسندیدگی کی نگاہ سے دیکھتے رہے بلکہ انھوں نے ہر ممکن طریقے سے اس کا راستہ روکنے کی کوشش کی۔ یہ وہ لوگ ہیں جو ہمیشہ جہنم میں رہیں گے۔ اور ایسا پانی انھیں پینے کو دیا جائے گا جو انتہائی گرم ہونے کی وجہ سے ان کی آنتوں کو جلا دے گا۔ سوال یہ ہے کہ کیا یہ دونوں طرح کے لوگ آپس میں یکساں ہوسکتے ہیں۔ اور اگر نہیں ہوسکتے تو پھر یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ قیامت کا آنا یقینی ہے ورنہ عدل کے تقاضے ادھورے رہ جائیں گے۔
Ayah 47:16وَمِنْھُمْ مَّنْ یَّسْتَمِعُ اِلَیْکَ ج حَتّٰیٓ اِذَا خَرَجُوْا مِنْ عِنْدِکَ قَالُوْا لِلَّذِیْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ مَاذَا قَالَ اٰنِفًا قف اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ طَبَعَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِہِمْ وَاتَّبَعُوْٓا اَھْوَآئَ ھُمْ ۔ (محمد : 16)
(اور ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر آپ کی بات سنتے ہیں، لیکن جب آپ کے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنھیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی انھوں نے کیا کہا تھا، یہی لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے، اور انھوں نے اپنی خواہشوں کی پیروی کی ہے۔ )
منافقین کا طرزعمل اور اس کا انجام
ابھی تک تو مسلمانوں کے مقابل اہل باطل کے اس گروہ کا تذکرہ تھا جو کھلم کھلا اور علانیہ طور پر مسلمانوں کا مخالف اور دشمن تھا۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں کفار ہی کے دوسرے گروہ کا ذکر فرمایا جارہا ہے جنھیں منافقین کہنا چاہیے۔ جو لوگ علانیہ کافر تھے وہ تو آنحضرت ﷺ کے قریب بھی پھٹکنا پسند نہیں کرتے تھے اور نبی کریم ﷺ اپنے اوپر نازل ہونے والی جس ہدایت کا ذکر فرماتے وہ اسے کراہت کی نظر سے دیکھتے تھے۔ لیکن یہ ان ہی میں سے ایک ایسا گروہ تھا جنھوں نے نفاق کا لبادہ اوڑھا ہوا تھا۔ ان سے بطورخاص اس لیے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو خبردار کیا جارہا ہے کہ جس دشمن سے آپ کا ہر میدان میں مقابلہ ہے صرف اسی پر نظر نہ رہے بلکہ وہ لوگ جو آپ کی مجلسوں میں آتے ہیں لیکن درحقیقت کفار ہی کے آدمی ہیں، ان پر بھی نظر رہنی بہت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ لوگ بعض دفعہ علانیہ کافروں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتے ہیں۔ یہ بعض دفعہ اپنی چرب زبانی سے اپنے اخلاص کا یقین دلانے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن درپردہ دشمنوں سے سازباز رکھتے اور مسلمانوں کی اطلاعات ان تک پہنچانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے کسی نہ کسی طریقے سے مسلمانوں کی یکسوئی یا ان کی شیرازہ بندی کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔ ان کی شناخت کے طور پر یہ فرمایا گیا کہ ان کا حال یہ ہے کہ وہ آپ کی مجلس میں صرف بیٹھتے ہی نہیں بلکہ نہایت توجہ سے کان لگا کر آپ کی بات کو سنتے ہیں اور دیکھنے والا یہ سمجھتا ہے کہ یہ آپ کی باتوں سے بہت زیادہ اثر قبول کررہے ہیں۔ لیکن جب آپ کی مجلس سے باہر نکلتے ہیں تو وہ صحابہ کرام جو اپنے علم و دانش میں مسلمانوں میں اہم مقام کے حامل ہیں ان سے پوچھتے ہیں کہ ابھی آنحضرت ﷺ نے کیا فرمایا تھا۔ ہم نے بڑی توجہ سے سنا اور سمجھنے کی پوری کوشش کی لیکن ہم اسے گرفت میں نہیں لاسکے۔ اس طرح سے وہ اپنی منافقت پر پردہ ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں اور مسلمانوں کو یہ تأثر دینا چاہتے ہیں کہ تم جو ہر بات پر سرتسلیم خم کردیتے ہو جبکہ آنحضرت ﷺ کی باتیں گہرے غور و فکر کی متقاضی ہوتی ہیں۔ اس طرح سے ان کے دلوں میں بےاطمینانی بھی پیدا کرتے ہیں اور اپنے لیے ایک عذر بھی تلاش کرلیتے ہیں۔ پروردگار نے ان کے رویئے پر تبصرہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی باتوں میں کوئی الجھائو نہیں ہوتا۔ اور اللہ تعالیٰ کا جو کلام آپ پر اترتا ہے اس کی وضاحت میں بھی وہ کوئی کمی باقی نہیں رہنے دیتے۔ اس لیے مسلمانوں کا اس پر سرتسلیم خم کرنا ان کے اخلاص اور ایمان کی دلیل ہے۔ رہے یہ لوگ تو ان کی یہ حالت اس لیے نہیں کہ وہ باتیں ان کی سمجھ میں نہیں آتیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انھیں سماع قبول سے محروم کردیا ہے، ان کے دلوں پر مہر کردی ہے اور جو طرز عمل یہ اپنے لیے پسند کرچکے ہیں اسے ان کے لیے مزین کردیا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ یہ صرف اپنی خواہشات کے پیرو بن کر رہ گئے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ان کا انجام بھی وہی ہوگا جو ہمیشہ ایسے لوگوں کا ہوتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی وحی کے نور سے محروم رہتے ہیں اور اپنی خواہشات کی پیروی میں اپنی دنیا و عقبیٰ تباہ کرلیتے ہیں۔
Ayah 47:17وَالَّذِیْنَ اھْتَدَوْا زَادَھُمْ ھُدًی وَّاٰتٰـہُمْ تَقْوٰ ہُمْ ۔ (محمد : 17)
(اور وہ لوگ جنھوں نے ہدایت پائی اللہ نے ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا اور انھیں ان کے حصے کا تقویٰ عطا فرمایا۔ )
ہدایت یافتہ لوگوں کا انجام
منافقین کی روش کے برعکس وہ مخلص اور سادہ مسلمان جنھوں نے ہدایت کی راہ پائی یعنی انھوں نے اس بات کا فیصلہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ہمارا ہادی بنا کے بھیجا ہے اور قرآن کریم کتاب ہدایت بن کر آیا ہے۔ ہمارا کام صرف یہ ہے کہ ہم ہدایت کے ان سرچشموں سے فائدہ اٹھائیں۔ اور اپنی گہری سے گہری وابستگی ان سے قائم رکھیں اور جو رہنمائی وہاں سے ملے اسے حرز جان بنالیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ جن لوگوں نے یہ طرزعمل اختیار کیا ہم نے اپنی سنت کے مطابق ان کی ہدایت میں اضافہ کردیا ہے۔ جس طرح منافقین کے طرزعمل نے انھیں اس راستے پر ڈالا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی۔ اس کے برعکس مخلص مسلمانوں نے جب ہر معاملے میں اللہ تعالیٰ کے رسول کی مکمل پیروی کی تو ہم نے ان کی ہدایت میں اور زیادہ پختگی پیدا کردی۔ ان کی نگاہوں کو بصیرت عطا کی اور ان کے دلوں کو نوربصیرت سے روشن فرمایا۔ اور ان کے دلوں کو ایسا مضبوط کردیا کہ مخالفین کی بڑی سے بڑی مخالفت اور حالات کی انتہا درجہ ناموافقت ان کے دل کے اطمینان اور یقین کو ہلانے سے عاجز رہ گئی۔ ان کے اس کامل ایمان اور یقین کا نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی استعداد اور طلب کے مطابق انھیں تقویٰ اور پرہیزگاری سے بہرہ مند فرمایا۔ انھیں صرف طہارتِ فکر ہی عطا نہیں کی بلکہ عمل کی پاکیزگی بھی بخشی اور دل کا میلان نیکی کی طرف اس قدر بڑھا دیا کہ نیکی انھیں اپنے دل کا تقاضا معلوم ہونے لگی۔ اور تمام شرعی احکام ان کی طبیعت کی صدا بن گئے۔
Ayah 47:18فَھَل یَنْظُرُوْنَ اِلاَّ السَّاعَۃَ اَنْ تَاْتِیَھُمْ بَغْتَۃً ج فَقَدْ جَآئَ اَشْرَا طُھَا ج فَاَنّٰی لَھُمْ اِذَا جَآئَ تْھُمْ ذِکْرٰہُمْ ۔ (محمد : 18)
(تو کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے، اس کی علامتیں تو ظاہر ہوچکی ہیں، جب وہ خود ہی آجائے گی تو ان کے لیے نصیحت حاصل کرنے کا موقع کہاں باقی رہے گا۔ )
پیغمبر کی کاوشوں سے فائدہ نہ اٹھانے والے قیامت کے منتظر ہیں
جہاں تک اللہ تعالیٰ کے دین کی وضاحت و صراحت کا تعلق ہے آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری اور قرآن کے نزول کے بعد اس میں کوئی کمی نہیں رہی۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ایک ایسی شخصیت ہیں جو ان کے لیے اجنبی نہیں۔ ان کے سامنے انھوں نے زندگی کا معتدبہ حصہ گزارا ہے۔ ان کے سیرت و کردار کی بلندی سب کے نزدیک مسلم ہے، ان کی بےعیب زندگی کا سب کو اعتراف ہے اور پھر انھوں نے اللہ تعالیٰ کے دین کو سمجھانے اور دلوں میں اتارنے کے لیے جس قدر جان کھپائی ہے اور ہمدردی اور خیرخواہی کی جس طرح انتہا کردی ہے ایک ایک شخص اس سے آگاہ ہے۔ اور آپ پر اترنے والی کتاب وہ کسی غیرزبان میں نہیں بلکہ اسی عربی زبان میں ہے جسے قریش بولتے اور سمجھتے ہیں۔ اس کی فصاحت و بلاغت اور اس کا معجزانہ اندازِ بیان اور اس کا حیرت انگیز ججاتلا پیغام ان کے لیے ایک ایسی حقیقت ہے جس کا انکار ان کے بس میں نہیں۔ لیکن اس کے باوجود اگر یہ لوگ آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور ان میں سے ایک گروہ کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں آپ کی باتیں سمجھ ہی نہیں آتیں تو اس کا ایک ہی مطلب ہے کہ یہ لوگ کسی ہدایت اور رہنمائی کے طالب نہیں بلکہ صرف قیامت کے منتظر ہیں جبکہ قیامت مہلت عمل کو ختم کرنے کے لیے آئے گی، ہدایت دینے کے لیے نہیں۔ اور پھر قیامت بھی کوئی ایسا الجھا ہوا معاملہ نہیں بلکہ اس کی بعض علامتیں تو ان کے سامنے آبھی چکی ہیں ان ہی میں سے ایک اہم علامت نبی کریم ﷺ کا تشریف لانا ہے۔ حدیث کی معتبر کتابوں نے اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی انگشت شہادت اور بیچ کی انگلی کھڑی کرکے فرمایا بُعِثْتُ اَنَا وَالسَّاعَۃُ کَھَاتَیْنِ ” میری بعثت اور قیامت ان دو انگلیوں کی طرح ہیں، یعنی جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی اور انگلی نہیں ہے، اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور نبی بھی مبعوث ہونے والا نہیں ہے میرے بعد اب بس قیامت ہی آنے والی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بعثت کے بعد قیامت بہت دور نہیں اور بالخصوص قیامت چونکہ ایک ایسا دن ہے جس میں دنیا میں کیے ہوئے اعمال کا انسانوں سے حساب لیا جانا ہے گویا کہ وہ دن دارالجزاء ہے اور دنیا دارالعمل ہے۔ اس دارالعمل کے لیے جس رہنمائی کی ضرورت ہے آنحضرت ﷺ کی ذات گرامی اس کی آخری کڑی ہیں، اس کے بعد صرف قیامت ہی کو آنا ہے کسی اور نبی یا رسول کی بعثت نہیں ہوگی۔ تو جسے ہدایت حاصل کرنا ہے اور قیامت کی جوابدہی کے لیے تیاری کرنی ہے اس کے لیے ناگزیر ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے آخری رسول پر ایمان لائے۔ اور ان تمام ہدایات کو قبول کرے جو حضور لے کے آئے ہیں۔ لیکن اگر وہ قیامت کا اس لیے منتظر ہے کہ اس کا آنا اللہ تعالیٰ کے رسول کی حقانیت کو ثابت کردے گا تو اس حماقت اور سادگی کا تو کوئی جواب نہیں کیونکہ قیامت کے آنے کے بعد نصیحت قبول کرنے کا موقع کہاں ہوگا۔ ہر چیز تباہ ہوجائے گی اور انسانوں کو میدانِ حشر میں جواب دہی کے لیے اکٹھا کرلیا جائے گا۔ اب انھیں یقین ہوجائے گا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول جو کچھ کہتے تھے وہ بالکل صحیح تھا اور قیامت حقیقت تھی۔ لیکن اب ایمان کا کیا فائدہ ہوگا۔ یہ تو ایسا ہی ہے :
کی مرے قتل کے بعد اس نے جفا سے توبہ
ہائے اس زود پشیماں کا پشیماں ہونا
Ayah 47:19فَاعْلَمْ اَنَّہٗ لَآ اِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ وَاسْتَغْفِرْ لِذَنْبِکَ وَلِلْمُؤْمِنِیْنَ وَالْمُؤْمِنٰتِ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مُتَقَلَّبَکُمْ وَمَثْوٰ کُمْ ۔ (محمد : 19)
(پس اے پیغمبر ! خوب جان لیجیے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، اور معافی مانگتے رہئے اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی، اور اللہ جانتا ہے تمہاری سرگرمیوں کو بھی اور تمہارے ٹھکانے کو بھی۔ )
حاصل بحث اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو تسلی
کفار اور منافقین پر تبلیغ و دعوت کا حق ادا کردینے کے بعد اللہ تعالیٰ اپنے عظیم پیغمبر کو حکم دے رہا ہے کہ آپ اس بات کو خوب جان لیجیے اور پیغمبر کا جان لینا چونکہ لوگوں تک پہنچانے کی تمہید ہوتا ہے اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ آپ لوگوں پر بھی یہ بات واضح کردیجیے کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اللہ تعالیٰ کی الوہیت، اس کی حاکمیت اور اس کی غیرمعمولی صفات کا استحضار ایک مومن کا اصل سرمایہ ہے۔ یہی اس کا مبتداء ہے اور یہی منتہا ہے۔ اسی پر ایمان، اسی کی غیرمشروط اطاعت، اسی کی مخلصانہ بندگی، انسان کا اصل جوہر ہے۔ اسی کا نام تقویٰ ہے اور اسی کو اخلاص کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ سے اسی وابستگی اور تعلق میں اگر کوئی کمزوری پیدا ہوتی ہے تو اسی کو ذنب اور گناہ کہا جاتا ہے۔ اس لیے ایک مومن کو اصل فکر اس بات کی رہتی ہے کہ میرا اللہ تعالیٰ سے جو تعلق ہے اس میں کوئی کمی نہیں آنی چاہیے چاہے اس کا تعلق حقوق اللہ سے ہو یا چاہے حقوق العباد سے ہو، ہرحال میں ایک مومن اللہ تعالیٰ کے احکام کا پابند اور اس کے سامنے جواب دہی کے لیے مسٔول ہے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول چونکہ معصوم ہوتے ہیں ان سے کبھی بھی اس گناہ کا صدور نہیں ہوتا جو شریعت کے کسی حکم کو توڑنے سے وجود میں آتا ہے۔ البتہ ان سے اجتہادی لغزش کا ہونا ممکن ہے۔ اور یہ لغزش اگر غیرنبی سے ہو تو وہ نہ گناہ کہلاتی ہے نہ اس پر مواخذہ ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ اس پر اجروثواب ملتا ہے۔ لیکن یہی لغزش اگر اللہ تعالیٰ کے نبی سے ہو تو قرآن کریم اسے گناہ کے لفظ سے یاد کرتا ہے حالانکہ شرعی طور پر اسے گناہ نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے رسول کے مرتبہ و مقام کی بلندی کی وجہ سے اسے اس لفظ سے یاد کیا گیا ہے۔ مثلاً جنگ تبوک میں منافقین نے آنحضرت ﷺ کے سامنے جھوٹے سچے عذر پیش کرکے جنگ میں حاضری سے اجازت چاہی، تو آپ نے انھیں اجازت دے دی۔ لیکن قرآن کریم نے اسے گناہ قرار دیا ہے اور ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو معاف کرے آپ نے ان کو اجازت کیوں دی۔ حالانکہ ان کو اجازت دینے یا نہ دینے کا کوئی تعلق اسلامی احکام سے نہیں، محض آنحضرت ﷺ کے اجتہاد سے ہے۔ لیکن پروردگار نے تدبیر کی اس غلطی پر بھی توجہ دلائی۔ اسی طرح کی اور بہت سی مثالیں قرآن کریم میں موجود ہیں اس لیے ذنب کے لفظ سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ شاید اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف بھی اس گناہ کی نسبت کی جارہی ہے جو قابل مواخذہ ہوتا ہے۔ اور دوسری بات یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا رسول صرف اپنی ذات کا نہیں بلکہ اپنے اوپر ایمان لانے والوں کی ذمہ داری بھی رکھتا ہے۔ اس لیے وہ صرف اپنے لیے استغفار نہیں کرتا بلکہ مومن مردوں اور مومن عورتوں کے لیے بھی استغفار کرتا ہے۔ اور بعض دفعہ ان کی غلطیوں کو بھی استغفار کے حوالے سے اللہ تعالیٰ کے رسول کی طرف منسوب کردیا جاتا ہے۔ علاوہ ازیں ایک اور بڑی اہم بات یہ ہے کہ اس آیت کریمہ میں یہ بتانا مقصود ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں میں جو مزاج اور شعور پیدا کرنا چاہتا ہے وہ یہ ہے کہ بندہ اپنے رب کی بندگی اور عبادت بجا لانے میں اور اس کے دین کی خاطر جان لڑانے میں خواہ اپنی حد تک کتنی ہی کوشش کرتا رہا ہو اس کے دل میں کبھی یہ خیال نہیں آنا چاہیے کہ میں نے اپنا فرض ادا کردیا اور جو کچھ مجھے کرنا چاہیے تھا میں اس سے عہدہ برا ہوچکا ہوں۔ بلکہ اس کے دل میں ہمیشہ اس کی خلش تازہ رہنی چاہیے کہ میں نے جو کچھ کیا میرے مالک کا حق اس سے کہیں زیادہ ہے۔ اور پھر یہ بات بھی کہ میں نے اپنے تئیں اخلاصِ عمل کا سرمایہ بارگاہِ الٰہی میں پیش کرنے کی کتنی بھی پاکیزہ کوشش کی ہو وہ کبھی اس قابل نہیں ہوسکتی کہ اس میں کبھی نہ کبھی کوئی آمیزش نہ ہوئی ہو اور یا اسے بارگاہِ الٰہی کے قابل سمجھ لیا جائے۔ اس لیے میری عافیت اسی میں ہے کہ میں ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حضور معافی مانگتا رہوں۔ اور آنحضرت ﷺ چونکہ ہر لحاظ سے مسلمانوں کے لیے ایک نمونہ ہیں اس معاملے میں بھی انھوں نے جو نقوش چھوڑے ہیں وہ مسلمانوں کے لیے ہمیشہ مشعل راہ بنے رہیں گے۔ آپ کا ارشاد ہے کہ میں ہر روز سو بار اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہوں اور ازواجِ مطہرات کی یہ شہادت ہے کہ جیسے جیسے آنحضرت ﷺ عمر کے آخری حصے کی طرف بڑھتے گئے، ویسے ویسے آپ کی تسبیح و استغفار میں اضافہ ہوتا گیا۔
آخر میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کی سرگرمیوں اور آپ کے ٹھکانے کو بھی جانتا ہے۔ اس میں ایک طرح سے آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کو حفاظت کی ضمانت دی گئی ہے کہ آپ کے حالات کتنے بھی نامساعد سہی آپ کو اطمینان رکھنا چاہیے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی نگاہوں میں ہیں۔ آپ کا کوئی کام اور کہیں آپ کا آنا جانا اور کہیں آپ کا ٹھہرنا اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں۔ اس لیے اللہ تعالیٰ ہمیشہ آپ کی دشمنوں سے حفاظت کرے گا۔ اور اسلامی انقلاب کو ایسا زخم نہیں لگنے دے گا جو اس کے سفر کو کھوٹا کرسکے۔
Ayah 47:20وَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ اٰمنُوْا لَوْلاَ نُزِّلَتْ سُوْرَۃٌ ج فَاِذَآ اُنْزِلَتْ سُوْرَۃٌ مُّحْکَمَۃٌ وَّذُکِرَ فِیْھَا الْقِتَالُ لا رَاَیْتَ الَّذِیْنَ فِیْ قُلُوْبِہِمْ مَّرَضٌ یَّنْظُرُوْنَ اِلَیْکَ نَظَرَالْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ ط فَاَوْلٰی لَھُمْ ۔ (محمد : 20)
(اور کہتے تھے وہ لوگ جو ایمان لائے کہ کیوں نہیں نازل کی جاتی کوئی سورة (دربابِ قتال) اور جب اتار دی گئی ایک محکم سورة جس میں لڑائی کا ذکر کیا گیا، تو آپ نے دیکھا ان لوگوں کو جن کے دلوں میں روگ ہے کہ وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے وہ شخص دیکھتا ہے جس پر موت کی غشی طاری ہو، پس ان کے حال پر افسوس ہے۔ )
جہاد سے متعلق منافقین کا طرزعمل
مسلمانوں کے مدینہ منورہ ہجرت کر جانے کے بعد عام خیال یہ تھا کہ اب مسلمانوں کو اطمینان سے اپنے دین پر عمل کرنے کا موقع ملے گا۔ وہ اپنی مرضی کے مطابق اپنے فیصلے کریں گے اور مدینہ کی چھوٹی سے بستی جو ایک ریاست کی شکل اختیار کرتی جارہی تھی اس کے مسائل سے عہدہ برآ ہونے کی کوشش کریں گے، لیکن اہل مکہ نے انھیں یہاں بھی آرام سے رہنے کا موقع نہ دیا۔ وہ انھیں مرتد قرار دے کر اپنے دین میں واپس لے جانے کی فکر میں تھے کہ مسلمانوں کی ہجرت نے ان کے ارادوں پر پانی پھیر دیا اور وہ یہ سمجھے کہ ہمارا شکار ہمارے ہاتھوں سے نکل گیا، اس لیے وہ انھیں بھگوڑے قرار دے کر ہر ممکن طریقے سے انھیں زچ کردینا چاہتے تھے۔ لیکن مسلمانوں نے اللہ تعالیٰ کے لیے جینے اور مرنے کا عہد کر رکھا تھا اور انھیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کے سامنے اپنے اعمال کی جواب دہی کا احساس رہتا تھا اس لیے وہ کسی قیمت پر بھی اہل مکہ کے سامنے جھکنے کو تیار نہ تھے۔ چناچہ اہل مکہ کی بڑھتی ہوئی جارحیت کو دیکھ کر پہلے تو ان کے دل میں یہ خیال مچلنے لگا اور پھر زبانوں پر دبے دبے لہجے میں آنحضرت ﷺ کی خدمت میں مؤدبانہ سوال کی صورت اختیار کر گیا کہ ہم پر اللہ تعالیٰ کوئی ایسی سورة یعنی کوئی ایسا حکم نازل کیوں نہیں فرماتے جس میں ہمیں جہاد کا حکم دیا گیا ہو، تاکہ ان ظالموں سے ہم دو دو ہاتھ کرکے دیکھ لیں۔ مخلص مسلمانوں کی یہ گزارش تو ایک پس منظر رکھتی تھی اور اس کے اندر ان کے زخم بولتے ہوئے سنائی دیتے تھے، لیکن وہ لوگ جو صرف دعویٰ ایمان رکھتے اور حقیقی ایمان سے تہی دامن تھے، اور جنھیں منافقین کہا جاتا تھا۔ وہ بڑھ چڑھ کر اپنی فدائیت اور سرفروشی کا اظہار کرتے ہوئے اس گزارش کو بار بار دہراتے۔ یہی صورتحال جاری تھی کہ اللہ تعالیٰ نے قتال کا حکم نازل فرما دیا۔ جس میں پہلے اجازت دی گئی اور پھر حکم دیا گیا۔ تو اب منافقین کے لیے ایک امتحان سر پر آپہنچا۔ اب تک انھوں نے محض اپنی زبان آوری سے اپنی سرفروشی کا ثبوت بہم پہنچایا تھا۔ لیکن جہاد کے حکم کے بعد اب سوال یہ تھا کہ اگر وہ اپنے دعوے میں سچے ہیں تو انھیں آگے بڑھ کر میدانِ جنگ میں اس کا ثبوت دینا ہوگا۔ اب انھوں نے تصور میں دیکھا کہ جنگ کا میدان گرم ہوچکا ہے، حق و باطل کی کشمکش جنگ کی صورت اختیار کرگئی ہے۔ اہل حق اور اہل باطل کے گروہ آپس میں متصادم ہوگئے ہیں، تلواریں چلنے لگی ہیں، خون بہہ رہا ہے، جسم کے اعضا کٹ کٹ کر گر رہے ہیں، کندھوں سے گردنوں کا بوجھ اتر رہا ہے۔ انھیں محسوس ہوا کہ یہ تلواریں اور شمشیریں ہماری طرف بڑھ رہی ہیں تو ان کی ایسی کیفیت ہوگئی جیسے کسی کی سکرات الموت کے طاری ہونے پر ہوتی ہے۔ وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے آنحضرت ﷺ کو دیکھنے لگے۔ سورة النساء میں اللہ تعالیٰ نے ان کی اس کیفیت کی تصویر کھینچتے ہوئے فرمایا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے کہ ” تم نے ان لوگوں کو دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روک کے رکھو اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔ “ اب جو انھیں لڑائی کا حکم دے دیا گیا تو ان میں سے ایک گروہ کا حال یہ ہے کہ انسانوں سے اس طرح ڈر رہے ہیں جیسے خدا سے ڈرنا چاہیے بلکہ کچھ اس سے بھی زیادہ۔ کہتے ہیں ” اے ہمارے رب ! یہ لڑائی کا حکم ہمیں کیوں دے دیا، ، ہمیں ابھی کچھ اور مہلت کیوں نہ دی ؟ “ یعنی انھیں اس اسلام پر چلنے میں کوئی اعتراض نہ تھا جس میں تکلیف نہ اٹھانی پڑے، کوئی قربانی نہ دینی پڑے اور جان و تن کے لیے کوئی آزمائش سر نہ اٹھائے۔ لیکن جب انھوں نے دیکھا کہ یہاں تو جان بھی دینی پڑے گی، تو اب وہ پریشان ہوگئے۔ پروردگار نے ان کی اس حالت کے حوالے سے فرمایا : کہ افسوس ہے ان کے لیے۔ اولیٰ کا ایک معنی افسوس کیا جاتا ہے۔ اور دوسرا معنی کے اعتبار سے وَیْلکا ہم معنی ہے۔ یہ لعنت اور اظہارِنفرت کا کلمہ ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی پھٹکار ہو ان پر کہ انھوں نے ایمان کو بھی خالی زبان کا اقرار سمجھ رکھا تھا حالانکہ :
یہ قدم قدم بلائیں، یہ سواد کوئے جاناں
وہ یہیں سے لوٹ جائے جسے زندگی ہو پیاری
یہ شہادت گہِ الفت میں قدم رکھنا ہے
لوگ آساں سمجھتے ہیں مسلماں ہونا
Ayah 47:21طَاعَۃٌ وَّقَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ قف فَاِذَا عَزَمَ الْاَمْرُ قف فَلَوْصَدَقُوا اللّٰہَ لَـکَانَ خَیْرًا لَّھُمْ ۔ (محمد : 21)
(منافقین کی عام روش) حکم ماننا ہے اور بھلی بات کہنا، پس جب معاملہ کا قطعی فیصلہ ہوگیا تو اگر وہ اللہ سے راست باز ثابت ہوتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ )
منافقین کی روش اور ایمان کا تقاضا
طَاعَۃٌ کا مطلب ہے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی پیروی کرنا۔ اور قَوْلٌ مَّعْرُوْفٌ کا معنی ہے بھلی بات کہنا۔ اس کے دو مطلب ہوسکتے ہیں، ایک تو یہ کہ ہر معاملے میں ایسی بات کہنا جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے احکام کی اطاعت کے حق میں ہو اور مسلمانوں کے معاملے میں ان کی بھلائی کی بات کرنا۔ اور دوسرا مطلب ہے سمعنا واطعنا کہنا۔ اسے قول معروف اس لیے کہا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی ہر بات یا ہر حکم کے جواب میں مسلمان ہمیشہ یہی جملہ کہتے تھے اور یہ ان کی روایت بن گئی تھی۔ پورے جملے کا مفہوم یہ ہے کہ منافقین کی عام روش ہمیشہ یہ رہی ہے کہ وہ ہر معاملے میں اطاعت کا رویہ اپنائے رکھتے تھے۔ اور جب بھی آنحضرت ﷺ کسی بات کا حکم دیتے یا اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی حکم نازل ہوتا تو وہ سمعنا و اطعناکہہ کر سمع و اطاعت کا اظہار کرتے۔ بعض اہل علم نے اس کا مطلب یہ سمجھا ہے کہ مسلمانوں کی اس کے سوا اور کوئی روش ہونی ہی نہیں چاہیے کہ وہ ہر حکم کی اطاعت کریں اور ہر بات پر سمع و اطاعت کا اظہار کریں۔ اور منافقین بھی اگر ایمان کا دعویٰ رکھتے ہیں تو ان کے ایمان کا تقاضا بھی یہ ہے کہ وہ یہی رویہ اختیار کریں۔ لیکن اس کا تعلق عام زندگی سے ہے۔ اس میں چاہے منافقین قول و عمل میں فاصلہ رکھیں اور دل اور زبان ہم آہنگ نہ ہوں جب بھی کوئی شخص ان کے ایمان پر شبہ کا اظہار نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اگر وہ بھی مسلمانوں کی طرح نمازیں پڑھیں، روزے رکھیں اور باقی احکام کی تعمیل کریں تو خوامخواہ کوئی شخص ان کے ایمان میں شبہ کیوں کرے گا۔ لیکن اگر ایسا ہو کہ کسی بات کا قطعی حکم دے دیا جائے مثلاً قتال کو لازم کردیا جائے اور حکم دے دیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں کفار سے لڑنے کے لیے نکلو، تو اب محض اطاعت اور محض قول معروف کا اظہار کافی نہیں ہوگا بلکہ ایمان کے ثبوت کے لیے ضروری ہوگا کہ جس بات کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے اپنے عمل اور اپنی قربانی سے اس کا سچا ہونا ثابت کریں۔ منافقین اگر جہاد کا حکم آجانے کے بعد ایسا کرتے تو ان کے لیے بہتر ہوتا۔ لیکن انھوں نے ایسا نہیں کیا بلکہ جہاد و قتال کا حکم آجانے کے بعد ان کی ایسی حالت ہوگئی کہ وہ موت کو اپنے سر پر دیکھنے لگے۔ اور انھوں نے بزدلی کی راہ پر چلنا پسند کیا۔
Ayah 47:22فَھَلْ عَسَیْتُمْ اِنْ تَوَلَّیْتُمْ اَنْ تُفْسِدُوْا فِی الْاَرْضِ وَتُقَطِّعُوْٓا اَرْحَامَکُمْ ۔ (محمد : 22)
(پس تم سے یہ بھی توقع ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھرگئے تو زمین میں فساد برپا کرو اور اپنے رحمی رشتوں کو کاٹ ڈالو۔ )
منافقین کا رویہ دورجاہلیت کا غماز ہے
اس سے پہلے غیب کے صیغے میں بات ہورہی تھی، اب براہ راست منافقین سے خطاب فرمایا جارہا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ قتال کا حکم آجانے کے بعد منافقین کی سرگرمیاں بڑھ گئی تھیں، وہ مسلمانوں کو لڑائی کے نتیجے میں مدینے کی چھوٹی سی بستی کی تباہی سے ڈرا رہے تھے اور یہ کہہ کر ان کے دلوں میں خدشات پیدا کررہے تھے کہ ہم تو یہ سمجھے تھے کہ اسلام باہمی رواداری اور تحمل کا پیغام لے کر آیا ہے۔ اور صدیوں کے ایک دوسرے کے دشمن اسلام کی وجہ سے ایک دوسرے کے قریب آنے لگے ہیں۔ لیکن اب جب کہ اسلام اور غیراسلام کے حوالے سے لڑائی چھڑے گی تو لڑائی کا عنوان ضرور بدلے گا لیکن لڑائی کے نتائج تو وہی ہوں گے جو ہمیشہ لڑائیوں کے ہوا کرتے ہیں۔ ان کی ان سرگرمیوں کو دیکھتے ہوئے پروردگار نے براہ راست ان سے خطاب کرنا ضروری سمجھا اور ارشاد فرمایا کہ ایک طرف تو اسلام کا پیغام ہے جس کے نتیجے میں تمام تعصبات ختم ہوتے جارہے ہیں اور انسانوں کی اپنی پیدا کردہ تقسی میں سمٹ رہی ہیں۔ اب انسان صرف ایک ہی تقسیم کے حوالے سے پہچانے جائیں گے اور وہ ہے حق اور باطل، اور اسلام اور کفر۔ اس میں اہل حق کو توحیدِالٰہ کے حوالے سے ایک آستانہ ملے گا اور باقی سب آستانے اٹھا دیئے جائیں گے۔ اور ایک باپ کی اولاد ہونے کے حوالے سے سب انسانوں کو ایک مرکز، ایک حیثیت اور ایک شناخت ملے گی اور باقی تمام شناختیں اور تمام گروہ بندیاں اور تمام طبقات ختم ہو کر رہ جائیں گے۔ لیکن اگر تم نے اسلام کے پیغام کو قبول نہ کیا یا اس کے بارے میں تم نے مخلصانہ رویہ اختیار نہ کیا تو اس سے تمہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچے گا البتہ نقصان ضرور ہوگا۔ وہ یہ کہ اسلام نے جس فساد، بدامنی اور ابتری کو ختم کیا ہے تم زمین کو پھر اس فساد سے بھر دو گے۔ اور اس نے جس طرح صلہ رحمی پر زور دیا ہے اور قرابتوں کی پاسداری سکھائی ہے تم پھر قطع رحمی کرتے ہوئے محبت و مؤدت اور قربتوں کے تمام رشتے کاٹ ڈالو گے۔
بعض اہل علم نے اِنْ تَوَلَّیْتُمْ کا ترجمہ اگر تم کو حکومت مل جائے سے کیا ہے۔ اس ترجمے سے بھی اصل صورتحال میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ اگر تمہاری سیرت و کردار کا حال یہ ہے کہ جس دین پر ایمان لانے کا تم نے اقرار کیا تھا اس کے لیے تمہارے اندر کوئی اخلاص اور کوئی وفاداری نہیں ہے اور اس کی خاطر کوئی قربانی دینے کے لیے تم تیار نہیں ہو تو اس اخلاقی حالت کے ساتھ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں اقتدار عطا کردے اور دنیا کے معاملات کی باگیں تمہارے ہاتھ میں آجائیں تو پھر تم سے ظلم و فساد اور برادرکشی کے سوا اور کس چیز کی توقع کی جاسکتی ہے۔ کیونکہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کیے ہوئے عہدوپیمان میں خیانت سے نہیں ڈرتا وہ انسانوں کے حقوق تلف کرنے اور چھیننے سے گریز کیوں کرے گا۔
Ayah 47:23اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ لَعَنَھُمُ اللّٰہُ فَاَصَمَّھُمْ وَاَعْمٰٓی اَبْصَارَھُمْ ۔ (محمد : 23)
(یہی لوگ ہیں جن پر اللہ تعالیٰ نے لعنت کی، پس ان کے کانوں کو بہرہ اور ان کی آنکھوں کو اندھا کردیا۔ )
نفاق پر اللہ تعالیٰ کی سزا
اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیت سے فائدہ نہیں اٹھاتا بلکہ اسے بیکار کرکے رکھ دیتا ہے اللہ تعالیٰ اس صلاحیت کو واپس لے لیتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی طور پر بہت سی صلاحیتوں سے نوازا ہے لیکن جو شخص انھیں استعمال سے ترقی دیتا ہے تو وہ بڑھتی ہیں اور جو انھیں استعمال سے روکے رکھتا ہے وہ مفلوج ہوجاتی ہیں۔ ہاتھ کو اگر باندھ کے رکھا جائے تو کچھ دنوں بعد وہ حرکت کرنے سے محروم ہوجائے گا۔ یہی حال باقی جسم کا بھی ہے۔ یہ اس کا قانونِ تکوین ہے۔ لیکن قانونِ تشریح کا پیراہن الگ ہونے کے باوجود حقیقت کے اعتبار سے ایک ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو کان سننے کے لیے اور آنکھیں دیکھنے کے لیے دی ہیں۔ اور کانوں کے مسموعات اور آنکھوں کے مشاہدات سے نتائج اخذ کرنے کے لیے عقل عطا کی ہے۔ جو شخص ان سمعی اور بصری آلات سے کام ہی نہیں لیتا اور اگر لیتا ہے تو عقل اس سے نتائج اخذ نہیں کرتی تو آہستہ آہستہ کان سماع قبول سے اور آنکھیں بصیرت سے محروم ہوجاتی ہیں۔ چناچہ ان منافقین کے ساتھ بھی ایسا ہی ہوا۔ انھوں نے جب آنحضرت ﷺ کی نصیحتوں کو سننے سے انکار کردیا اور اللہ تعالیٰ کی نشانیوں اور آنحضرت ﷺ کے طرزعمل کو دیکھنے سے پہلو تہی کی۔ یعنی ان دونوں سمع و بصر کے آلات کو حقیقت جاننے کے لیے استعمال نہ کیا بلکہ دنیوی مفادات اور نفسانی امراض اور باہمی مصالح کو ہمیشہ ترجیح دی، تو اللہ تعالیٰ کا قانون حرکت میں آیا۔ اس نے انھیں بہرہ بھی کردیا اور اندھا بھی۔ یعنی ان کے کان حق نیوشی کی صلاحیت سے اور ان کی آنکھیں بصیرت سے محروم ہوگئیں۔
Ayah 47:24اَفَلاَ یَتَدَبَّرُوْنَ الْقُرْاٰنَ اَمْ عَلٰی قُلُوْبٍ اَقْفَالُھَا۔ (محمد : 24)
(کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں۔ )
جہاد و قتال سے پہلوتہی قرآن میں عدم تدبر کا نتیجہ ہے
یہ منافقین جو جہاد و قتال سے جی چراتے ہیں اور اسلام کی عظمت اور کلمہ حق کی سربلندی ان کے دلوں میں نہیں اترتی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں غور نہیں کرتے۔ کیونکہ اگر یہ قرآن کریم غور سے پڑھتے تو انھیں معلوم ہوجاتا کہ اللہ تعالیٰ نے جہاد اور قتال کا حکم دیا ہے اور اسی میں اسلام کی عظمت رکھی ہے۔ اور مسلمانوں کی دنیوی اور اخروی سرافرازی کا راز بھی اللہ تعالیٰ کے راستے میں مر مٹنا ہے۔ اسی کے نتیجے میں مسلمانوں کے باہمی معاملات صحیح نہج پر چلتے اور ان کے باہمی تعلقات صحیح رخ پر استوار ہوتے ہیں۔ البتہ یہ ممکن ہے کہ یہ لوگ قرآن کریم میں غور کرتے ہوں لیکن ان کے احکام، اس کی حکمتیں، اس کی دلآویزی، اس کی اہمیت اور افادیت ان کے دل میں نہ اترتی ہو۔ یعنی جن باتوں کو دماغ قبول کرتا ہے ان کے دل ان باتوں کو قبول نہیں کرتے۔ عقل بعض حقائق کو تسلیم کرتی ہے لیکن وہ حقائق دلوں میں نہیں اترتے۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ان کے دلوں پر قفل چڑھے ہوئے ہیں۔ یعنی ایسی باتیں، ایسے خیالات، ایسے تصورات اور ایسے جذبات ان کے دلوں میں جگہ بنا چکے ہیں جنھوں نے دلوں کو بالکل بند کردیا ہے۔ جس طرح تالا کسی چیز یا کسی مکان کو بند کردیتا ہے اور اس میں کوئی داخل نہیں ہوسکتا، اسی طرح قرآن کریم جو کچھ کہتا ہے دلوں پر قفل چڑھ جانے کی وجہ سے وہ دلوں میں نہیں اترتا۔