49. Surah Al-Hujuraat

الحجراتThe Inner Apartments · 18 ayahsروح القرآن

Ayah 49:11

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْهُمْ وَ لَا نِسَآءٌ مِّنْ نِّسَآءٍ عَسٰۤى اَنْ یَّكُنَّ خَیْرًا مِّنْهُنَّ١ۚ وَ لَا تَلْمِزُوْۤا اَنْفُسَكُمْ وَ لَا تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ١ؕ بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَ الْاِیْمَانِ١ۚ وَ مَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ Open ayah 49:11 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں، آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگائو، اور نام نہ ڈالو ایک دوسرے کے چڑانے کو، ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی برا ہے، اور جو لوگ توبہ نہ کریں تو وہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں

یٰٓاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لاَ یَسْخَرْ قَوْمٌ مِّنْ قَوْمٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُوْنُوْا خَیْرًا مِّنْھُمْ وَلاَ نِسَآئٌ مِّنْ نِّسَآئٍ عَسٰٓی اَنْ یَّـکُنَّ خَیْرًا مِّنْھُنَّ ج وَلاَ تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ وَلاَ تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ط بِئْسَ الِاسْمُ الْفُسُوْقُ بَعْدَالْاِیْمَانِ ج وَمَنْ لَّمْ یَتُبْ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الظّٰلِمُوْنَ ۔ (الحجرات : 11) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو نہ مردوں کی کوئی جماعت دوسرے مردوں کا مذاق اڑائے، ممکن ہے وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں، ہوسکتا ہے وہ ان سے بہتر ہوں، آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگائو، اور نام نہ ڈالو ایک دوسرے کے چڑانے کو، ایمان کے بعد تو فسق کا نام بھی برا ہے، اور جو لوگ توبہ نہ کریں تو وہی لوگ اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے ہیں۔ ) رشتہ اخوت کو نقصان پہنچانے والی باتوں سے اجتناب کی تاکید پیشِ نظر آیت کریمہ اور اس کے بعد والی آیت میں ان برائیوں کا ذکر کیا گیا ہے جو مسلمانوں میں اخوت کے رشتے کو نقصان پہنچا سکتی ہیں۔ یہ بظاہر معمولی برائیاں دکھائی دیتی ہیں لیکن جس طرح ایک شعلہ ابتداء میں بہت معمولی دکھائی دیتا ہے لیکن جب وہ بھڑکتا اور پھیلتا ہے تو آلائو کی صورت اختیار کرجاتا ہے اور آبادیوں کو پھونک دیتا ہے۔ یہ برائیاں بھی ابتداء میں معمولی دکھائی دیتی ہیں لیکن نتائج کے اعتبار سے نہایت تباہ کن ہیں۔ کیونکہ شروع میں ان باتوں کی وجہ سے دلوں میں کدورتیں جنم لیتی ہیں جو دلآزاری کی صورت اختیار کر جاتی ہیں۔ پھر اسی سے نفرت پیدا ہوتی ہے جو افراد میں دوری پیدا کرتی ہے اور بڑھتے بڑھتے دشمنی کی صورت اختیار کر جاتی ہے۔ اور افراد گروہ کی صورت اختیار کرجائیں تو یہی دشمنیاں معاشرے کو تباہ کرکے رکھ دیتی ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ نہ مردوں کے لیے یہ بات مناسب ہے کہ وہ دوسرے مردوں کا مذاق اڑائیں اور نہ عورتوں کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ وہ دوسری عورتوں کا مذاق اڑائیں۔ کیونکہ جو شخص دوسرے کی تضحیک کرتا ہے اور مذاق اڑاتا ہے وہ درحقیقت اس کی تحقیر کرتا اور اس کی عزت نفس پر حملہ کرتا ہے۔ اور اپنے اندر کبروغرور کی بیماری کو ہوا دیتا ہے۔ اور پھر یہ مذاق اڑانا صرف زبان ہی کا عمل نہیں بلکہ کسی کی نقل اتارنا، اس کی طرف اشارے کرنا، اس کے کسی عیب یا نقص کی طرف لوگوں کو توجہ دلانا تاکہ دوسرے لوگ بھی اس پر ہنسیں۔ اور جا و بےجا اس کو مذاق کا نشانہ بنانا، یہ سب باتیں مذاق اڑانے میں شامل ہیں۔ مذاق اڑانے والا اس لیے دوسرے سے دور ہوجاتا ہے کیونکہ وہ اسے حقارت کی نظر سے دیکھتا ہے۔ اور جس کا مذاق اڑایا جارہا ہے وہ جب اپنی عزت نفس کو مجروح ہوتے ہوئے اور اپنی شہرت کو نقصان پہنچتا ہوا دیکھتا ہے تو اس کے اندر ایک نفرت کا لاوا ابلتا ہے جس سے پہلے دوری پیدا ہوتی اور پھر نفرت جنم لیتی ہے۔ اور یہ بیماری جس طرح مردوں میں ہے اسی طرح عورتوں میں بھی ہے۔ اس لیے دونوں کو متوجہ کرنے کے لیے الگ الگ خطاب فرمایا، اور الگ الگ ذکر کیا تاکہ وہ اس برائی کی شناعت کو محسوس کریں اور اس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے اس سے دور رہنے کی کوشش کریں۔ ان دونوں کا الگ الگ ذکر شاید یہ بتانے کے لیے بھی ہے کہ اسلام میں مخلوط سوسائٹی کا کوئی وجود نہیں۔ ایک دوسرے کی تضحیک عموماً بےتکلف مجلسوں میں ہوا کرتی ہے اور اسلام میں یہ گنجائش رکھی ہی نہیں گئی کہ غیرمحرم مرد اور عورتیں کسی مجلس میں جمع ہو کر آپس میں ہنسی مذاق کریں۔ اس سے اندازہ ہوسکتا ہے کہ جس طرح مذاق اڑانا اخوت کے رشتے کو نقصان پہنچاتا ہے اسی طرح مرد و عورت کی مخلوط سوسائٹی اسلامی اخوت کی بنیادوں کو ہلا دیتی ہے۔ اور اس میں وہ بنیادی نزاکتیں پامال ہوجاتی ہیں جو مردوں کو مرد بناتی ہیں اور عورتوں کو عورتیں۔ اور جس تہذیب اور جس تعلیم میں ان بنیادی قدروں کا تحفظ نہ کیا جائے وہ آخر تباہ کن ثابت ہوتی ہے۔ اقبال نے ٹھیک کہا : جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہو نازن کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت اس حکم کے آخر میں اس کی حکمت بھی بیان فرمائی گئی ہے کہ جب ایک مرد دوسرے مرد کا مذاق اڑاتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ کو دوسرے سے بہتر اور اس کو خود سے کمتر سمجھتا ہے۔ اور یہی حال عورتوں کا بھی ہے۔ لیکن انھیں کیا خبر کہ جنھیں وہ اپنے آپ سے کمتر اور فروتر سمجھ رہے ہیں، ممکن ہے وہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ان سے بہتر ہوں۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہتری کا فیصلہ حُسنِ عمل اور تقویٰ پر ہوگا، نہ کہ مال و دولت، حُسنِ صورت یا حسب و نسب پر اور تقویٰ کی حقیقت آخرت میں کھلے گی کہ کون اس سے زیادہ بہرہ ور تھا اور کون اس سے محروم۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک دن حضرت عبداللہ ابن مسعود ( رض) آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو صحابہ ان کی پتلی پتلی پنڈلیاں دیکھ کر ہنسی پر قابو نہ رکھ سکے۔ آنحضرت ﷺ کو یہ بات ناگوار گزری۔ آپ نے فرمایا کہ تم عبداللہ کی پنڈلیاں دیکھ کر ہنستے ہو، تمہیں کیا خبر کہ قیامت کے دن ان پنڈلیوں کا وزن کوہ احد سے بھی زیادہ ہوگا۔ اس آیت کریمہ میں جس دوسری برائی سے روکا گیا ہے، اس کے بارے میں ارشاد فرمایا وَلاَ تَلْمِزُوْٓا اَنْفُسَکُمْ جس کا معنی ہے کہ آپس میں ایک دوسرے پر عیب نہ لگائو تَلْمِزُوْآ لمز سے ہے جس میں عیب لگانے کے علاوہ دوسرے مفہومات بھی شامل ہیں۔ مثلاً کسی پر طعن کرنا، آنکھوں سے اشارے کرنا، کوئی طنز آمیز فقرہ چست کرنا، چوٹیں کرنا، پھبتیاں کسنا، عیب چینی کرنا یا اشاروں سے کسی کو نشانہ ٔ ملامت بنانا یہ سب مفہومات بھی اس میں داخل ہیں۔ یہ تمام چیزیں چونکہ آپس کے تعلقات کو بگاڑنے اور معاشرے میں فساد برپا کرنے کا باعث ہوتی ہیں، اس لیے ان سے روکا گیا ہے۔ جو شخص یہ حرکت کرتا ہے وہ اپنے آپ کو کبروغرور میں مبتلا کرکے ہلاک کرتا ہے، اور دوسرے شخص میں احساسِ کمتری پیدا کرتا ہے، اس کی اقدامی قوتوں کو سرد کرکے رکھ دیتا اور اس کی شخصیت کی نشو و نما روک دیتا ہے اور کبھی اس سے نفرت وعناد بھی جنم لیتے ہیں۔ یہ تمام احساسات معاشرے کے اندر زہر پھیلانے والے ہیں۔ اس کی زہرناکی کو نمایاں کرنے کے لیے اَنْفُسَکُمْ کا تفظ استعمال فرمایا ہے جس کا معنی ہے اپنا آپ۔ تو جملے کا مطلب یہ ہوگا کہ اپنے آپ کو عیب نہ لگائو۔ حالانکہ اپنے آپ کو تو عیب کوئی نہیں لگاتا اور نہ اپنے آپ پر کوئی طعن کرتا ہے۔ اس کا مطلب بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں کا آپس کا رشتہ چونکہ اخوت کا رشتہ ہے اس لیے جب کوئی مسلمان دوسرے مسلمان پر طعن کرتا ہے تو وہ درحقیقت اپنے بھائی پر طعن کرتا ہے اور اپنے بھائی پر طعن کرنا ایسا ہی ہے جیسا اپنے اوپر طعن کرنا اور اپنے ہی سینہ کو طعن وتشنیع کا نشانہ بنانا۔ اور دوسرا مطلب اس کا یہ ہے کہ جو شخص دوسروں پر عیب لگاتا اور طعن کرتا اور دوسرے کی دلآزاری کرتا ہے وہ درحقیقت دوسرے کو اس بات کا موقع دیتا ہے کہ وہ اس پر عیب لگائے اور طعن کرے۔ کیونکہ یہ انسانی فطرت ہے کہ عمل کا ردعمل ہوتا ہے۔ ایک رویہ دوسرے رویئے کو جنم دیتا ہے۔ جب ایک آدمی دوسرے پر عیب لگاتا ہے تو دوسرا بھی پلٹ کر جب بھی اس کو موقع ملے گا اس پر عیب لگائے گا۔ کیونکہ یہ تیر ایسا ہے جو صرف دوسرے کے سینے کو چھلنی نہیں کرتا بلکہ پلٹ کر بھی آتا ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے : دلوں کو زخم نہ دو حرف ناملائم سے یہ تیر وہ ہے جو لوٹ کر بھی آتا ہے مزید ایک حکم یہ دیا وَلاَ تَنَابَزُوْا بِالْاَلْقَابِ ” ایک دوسرے کو برے القاب سے یاد نہ کرو اور نام نہ ڈالو ایک دوسرے کے چڑانے کو۔ جس طرح کسی شخص کو اچھے القاب سے ملقب کرنا اس کے لیے عزت افزائی کا باعث ہوتا ہے۔ اسی طرح کسی پر برے القاب کا چسپاں کرنا اس کی انتہائی توہین و تذلیل بھی ہے۔ کیونکہ یہ القاب عام طور پر لوگوں کی زبانوں پر چڑھ جاتے ہیں اور اس کے نتیجے میں وہ شخص بری طرح اس لقب کے مفہوم کا آئینہ دار بن جاتا ہے اور کوشش کے باوجود اس کے اثرات اس کا پیچھا نہیں چھوڑتے۔ بعض دفعہ پشتوں تک اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ اس لیے اسلام نے ایسا کوئی بھی لقب کسی کو دینے سے منع فرمایا ہے۔ اور عرب جب کسی کی ہجو کرتے تھے تو وہ ایسے ہی طریقے اختیار کرتے تھے اور اس میں ان کو بہت مہارت حاصل تھی اور اسی کا نتیجہ تھا کہ کبھی وہ ایک قوم نہ بن سکے۔ ہر قبیلے کا خطیب اور شاعر اپنے قبیلے کی برتری ثابت کرنے کی کوشش کرتا اور دوسروں کو گرانے اور بچھاڑنے میں لگا رہتا۔ تو اس سے قبیلے کی بنیادیں تو مستحکم ہوتیں لیکن قومی شعور کبھی پیدا نہ ہوتا۔ اسلام نے جو عربوں پر بیشمار احسانات کیے ہیں ان ہی میں یہ احسان بھی ہے کہ انھیں قبائل کے تنگنائے سے نکالا اور قوم کا وسیع تر تصور ان کے دماغوں میں اتارا۔ اور اسی کی بدولت وہ دنیا کی ہدایت و قیادت کے اہل بنے۔ البتہ اس میں یہ بات یاد رکھنے کی ہے وہ یہ کہ بعض دفعہ کوئی لقب ظاہری صورت کے اعتبار سے تو بدنما ہوتا ہے لیکن وہ کثرت استعمال سے کسی شخصیت کی پہچان بن جاتا ہے۔ مثلاً محدثین میں الاعمش کا لفظ یا الاحدب کا لقب اگرچہ معنوی اعتبار سے یہ کوئی اچھے القاب نہیں لیکن شناخت بن جانے کے بعد آج تک ان کا استعمال ہورہا ہے۔ صحابہ کرام میں بھی ہمیں اس کی مثالیں ملتی ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے بھی محبت سے بعض دفعہ بعض صحابہ کو ایسے لقب دیئے جو معنوی اعتبار سے زیادہ مناسب نہ تھے لیکن موقع و محل کے اعتبار سے ان کے لیے باعث افتخار بن گئے جیسے ابوتراب اور ابوہریرہ۔ ایسا اگر کوئی لقب ہو تو اس کے استعمال میں کوئی حرج نہیں۔ دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ کسی کو چڑانے کے لیے کوئی لقب نہ دیا جائے۔ مثلاً کسی کو اس کے سابق مذہب کی طرف منسوب کرنا یا اس کے خاندان کی بری شہرت کے حوالے سے اسے پکارنا۔ یا اس میں کوئی جسمانی عیب پایا جاتا ہے تو اسی کو اس کا لقب بنادینا۔ تو جب اسے ایسے القاب سے پکارا جائے گا تو یقینا وہ اس سے چڑے گا جو بالآخر تعلقات کی خرابی پر منتج ہوگا۔ اور بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ کوئی ایسی خاص بات نہیں ہوتی لیکن اگر اسے تکرار کے ساتھ کہا جائے تو سننے والا چڑ جاتا ہے۔ تو یہ رویہ بھی اس ممانعت میں داخل ہے۔ عبدالمجید سالک مرحوم نے اپنی سرگزشت میں یہ واقعہ لکھا ہے کہ ایک دن جیل میں سید عطاء اللہ شاہ بخاری مرحوم نے یہ لطیفہ سنایا کہ لدھیانے کی جامع مسجد میں کوئی عالم دین اسی آیت پر تقریر کرتے ہوئے یہ کہہ رہے تھے کہ کسی کی چڑ مقرر نہیں کرنی چاہیے۔ آدمی اس سے چڑ جاتا ہے اور لڑائی ہوجاتی ہے۔ مجمع میں ایک تحصیلدار صاحب بیٹھے تھے، وہ اپنے پاس بیٹھے ہوئے صاحب سے کہنے لگے یہ مولوی صاحب کیا کہہ رہے ہیں، آخر آدمی کسی بات سے کیسے چڑ جاتا ہے، کوئی کہتا رہے اور سننے والا نہ چڑے تو کیسے لڑائی ہوجائے گی۔ دوسرے صاحب نے کہا کہ تحصیلدار صاحب یہ انسانی فطرت ہے کہ آپ بار بار کسی کو ایک ہی بات کہیں تو وہ چڑ جائے گا۔ لیکن تحصیلدار صاحب نہیں مانے۔ دوسرے صاحب نے انھیں سبق سکھانے کے لیے ان ہی پر تجربہ کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ چناچہ تقریر کے دوران ہی اس نے پوچھا کہ صاحب آپ کے یہاں شلجم کا اچار ہوگا۔ وہ کہنے لگے نہیں۔ تھوڑی دیر کے بعد اس نے پھر پوچھا، تحصیلدار صاحب نے کہا کہ میں نے کہا کہ ہمارے یہاں نہیں ہے۔ اس نے چند منٹ کے بعد پھر اپنا سوال دہرایا۔ اب آہستہ آہستہ تحصیلدار صاحب کا پارہ چڑھنے لگا۔ چھٹی ساتویں دفعہ پوچھنے پر تحصیلدار صاحب نے جوتا اٹھا لیا کہ ارے کمبخت تو نے مجھے مذاق بنا رکھا ہے۔ وہ پہلے ہی جوتا سنبھالے بیٹھے تھے وہ اٹھ کر بھاگ کھڑے ہوئے۔ ہجوم کو پھلانگتے ہوئے باہر نکل گئے اور ہر دس قدم کے بعد پلٹ کر اپنا سوال دہراتے اور تحصیلدار صاحب گالیاں دیتے ہوئے ان کے پیچھے۔ اسی طرح انھوں نے سارا بازار طے کیا۔ وہ بار بار اپنا سوال دہراتے تھے اور تحصیلدار صاحب غصے کے مارے بےقابو ہوئے جارہے تھے۔ حتیٰ کہ تمام بازار والوں کو پتہ چل گیا کہ تحصیلدار صاحب شلجم کے اچار سے بہت چڑتے ہیں۔ اگلی صبح تحصیلدار صاحب جب بازار میں کوئی گوشت اور سبزی خریدنے کے لیے آئے تو دکانداروں کو رات کا لطیفہ یاد تھا، وہ بہانے بہانے سے ایک دوسرے کی طرف منہ کرکے یہ سوال دہرانے لگے۔ تحصیلدار صاحب سمجھ گئے کہ یہ مجھے چڑایا جارہا ہے۔ چناچہ وہ غصے کے مارے گالیاں دیتے ہوئے بغیر کچھ خریدے گھر کو لوٹ گئے۔ اور یہ مصیبت اس قدر دراز ہوئی کہ انھیں اپنا تبادلہ کرا کے دوسرے شہر جانا پڑا۔ اس لیے فرمایا گیا کہ کسی کی چڑ مقرر نہ کرو، یہ ساری باتیں فسق اور گناہ کی باتیں ہیں اور گناہ کا نام لینا بھی ایک صاحب ایمان کے لیے ایمان لانے کے بعد نہایت بری بات ہے۔ مسلمانوں کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔ اور اگر پہلے وہ یہ گناہ کرچکے ہیں تو اب انھیں اس سے توبہ کرنی چاہیے۔ اور جو اس قدر وضاحت کے بعد بھی توبہ نہیں کرے گا تو وہ ظالموں میں شمار ہوگا اور اللہ تعالیٰ ظالموں کو کبھی ہدایت نہیں دیتا۔
Ayah 49:12

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا كَثِیْرًا مِّنَ الظَّنِّ١٘ اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّ لَا تَجَسَّسُوْا وَ لَا یَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا١ؕ اَیُحِبُّ اَحَدُكُمْ اَنْ یَّاْكُلَ لَحْمَ اَخِیْهِ مَیْتًا فَكَرِهْتُمُوْهُ١ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:12 in the Quran reader

اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، بہت سے گمانوں سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحیم ہے

یٰٓاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اجْتَنِبُوْا کَیِثْرًا مِّنَ الظَّنِّ ز اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ اِثْمٌ وَّلاَ تَجَسَّسُوْا وَلاَیَغْتَبْ بَّعْضُکُمْ بَعْضًا ط اَیُحِبُّ اَحَدُکُمْ اَنْ یَّاکُلَ لَحْمَ اَخِیْہِ مَیْتًا فَکَرِھْتُمُوْہُ ط وَاتَّقُوا اللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ تَوَّابٌ رَّحِیْمٌ۔ (الحجرات : 12) (اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، بہت سے گمانوں سے بچو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کرو، اور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے، کیا تم میں سے کوئی اس بات کو پسند کرے گا کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے، سو تم خود اس سے گھن کھاتے ہو، اور اللہ سے ڈرتے رہو، بیشک اللہ بڑا ہی توبہ قبول فرمانے والا اور رحیم ہے۔ ) شخصیت اور اجتماعیت کو نقصان پہنچانے والی بعض باتوں کی ممانعت اس آیت کریمہ میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض ایسی باتوں سے روکا ہے جو انسان کی شخصیت میں منفی اثرات پیدا کرتی اور مسلمانوں کی اجتماعیت کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ ان میں سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اے ایمان لانے والو ! بہت سے گمانوں سے بچو۔ اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ زیادہ تر گمان کرنے سے اجتناب کرو۔ کیونکہ زندگی میں انسان کو دوسرے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور ان کے طرزعمل سے اچھا یا برا گمان پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتا۔ اب اگر کوئی آدمی یہ عادت بنا لے کہ جس شخص سے بھی معاملہ پیش آئے یا جس شخص سے بھی ملاقات کی نوبت آئے تو بغیر کسی ثبوت کے اس کے بارے میں رائے قائم کرتے ہوئے بدگمانی سے آغاز کرے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ ایسا آدمی معاشرے میں تنہائی کا شکار ہوجائے گا۔ کیونکہ ہر شخص کے بارے میں بدگمانی بداعتمادی کو جنم دیتی ہے اور بداعتمادی دوسروں سے میل جول اور ان سے تعلقات بنانے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ اس لیے انسان کو اس بات کی تعلیم دی گئی ہے کہ وہ دوسروں سے تعلقات اور اپنے معاملات کا آغاز بدگمانی سے نہ کرے بلکہ کسی کے بارے میں بھی اس وقت تک کوئی بری رائے قائم نہ کرے جب تک اس کا ثبوت مہیا نہ ہوجائے۔ کیونکہ اگر گمان کرنے کی عادت کو کھلا چھوڑ دیا جائے گا تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ آدمی ایسی کسی بات کو بھی جس کی بہتر توجیہ ممکن ہوسکتی ہے برے انداز سے دیکھے گا اور غلط نتیجہ اخذ کرے گا۔ مثلاً اس نے کسی شخص کو دیکھا کہ وہ مسجد سے کسی دوسرے کا جوتا اٹھا رہا ہے جبکہ وہ شخص نیک شہرت کا حامل ہے تو اس کی بہتر توجیہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سمجھا جائے کہ اس شخص نے اپنا جوتا سمجھ کر دوسرے کا جوتا اٹھایا ہے۔ تو معاملہ وہیں ختم ہوجائے گا۔ لیکن اگر اس نے عادت کے مطابق اس توجیہ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تو وہ یقینا اس شخص کو جوتا چور ہی نہیں نہ جانے اور کیا کیا سمجھ بیٹھے۔ اس لیے دوسروں کے بارے میں اپنے دل کو بدگمانیوں کی پرورش گاہ بنانے سے روکا گیا ہے۔ اس لیے اسلام نے جو مزاج دیا ہے وہ یہ ہے کہ آدمی اس وقت تک دوسرے کے بارے میں نیک گمان رکھے جب تک کہ بدگمانی کا ثبوت نہ مل جائے۔ اور کوئی ایسا واقعہ سامنے نہ آجائے جس سے بدگمانی کے سوا اور کوئی چیز متحقق نہ ہوسکے۔ اور اس عادت کی شناعت کو نمایاں کرنے کے لیے ارشاد فرمایا کہ بعض گمان صریح گناہ ہوتے ہیں جو انسان کو ہلاکت میں ڈال دیتے ہیں۔ جو شوہر اپنی بیوی کے بارے میں بدگمانی کا شکار ہوجائے یا بیوی اپنے شوہر کے بارے میں منفی انداز میں سوچنے لگے تو یہ ایسا صریح گناہ ہے جس سے گھر کی بربادی کو کوئی نہیں روک سکتا۔ مزید فرمایا کہ دوسرے لوگوں کو تجسس نہ کرو، یعنی ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ لگے رہو، جس طرح اوپر کی آیت میں بدگمانی سے روکا گیا ہے اسی طرح یہاں اس تجسس سے منع کیا گیا ہے جو برے مقصد سے ہو۔ کیونکہ عام طور پر آدمی دوسروں کے حالات کی ٹوہ میں اس وقت لگتا ہے جب وہ حسد کے جذبے کا شکار ہوتا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ حریف کی زندگی کا کوئی ایسا پہلو سامنے آئے جس سے کلیجہ ٹھنڈا ہو۔ اور کبھی بغض وعناد کی شدت اس حرکت کا باعث بنتی ہے۔ اور آدمی اپنے مقابل کی ایسی بات کی تلاش میں رہتا ہے جس سے وہ دوسرے کو بدنام کرسکتا ہے۔ اور یہ ایسی خطرناک بیماری ہے جو معاشرے کو بےحد نقصان پہنچا سکتی ہے۔ اس لیے اس سے اس آیت کریمہ میں روکا گیا ہے۔ اور ایسی ہر کوشش سے آنحضرت ﷺ نے بھی منع فرمایا جس سے تجسس کے جذبے کو غذا ملتی ہے۔ اس لیے آپ نے لوگوں کے نجی خطوط پڑھنا، دو آدمیوں کی باتیں کان لگا کر سننا، ہمسایوں کے گھر میں جھانکنا اور مختلف طریقوں سے دوسروں کی خانگی زندگی یا ان کے ذاتی معاملات کی ٹٹول کرنا ناجائز قرار دیا۔ ایک حدیث میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ (اے لوگو ! جو زبان سے ایمان لے آئے ہو مگر ابھی تمہارے دلوں میں ایمان نہیں اترا، مسلمانوں کے پوشیدہ حالات کا کھوج نہ لگایا کرو، کیونکہ جو شخص مسلمانوں کے عیب ڈھونڈنے کے درپے ہوگا اللہ تعالیٰ اس کے عیوب کے درپے ہوجائے گا۔ اور اللہ تعالیٰ جس کے درپے ہوجائے اسے اس کے گھر میں رسوا کرکے چھوڑتا ہے) ۔ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ جس بات سے قرآن و سنت میں روکا گیا وہی بات آج کے دور میں پیشہ کی شکل اختیار کرگئی ہے جس کو جدید اخبارنویسی نے بہت ترقی دی ہے۔ سب سے شاطر اخبارنویس وہ سمجھا جاتا ہے جو کسی نمایاں شخصیت کی پرائیویٹ زندگی سے متعلق کوئی ایسا اسکینڈل تلاش کرنے میں کامیاب ہوجائے جس سے اس کا اخبار یا رسالہ ہاتھوں ہاتھ بکے۔ ظاہر ہے کہ ایسا تجسس اسلامی اخوت اور باہمی ہمدردی کے لیے انتہائی تباہ کن ہے۔ البتہ ایک تجسس ایسا بھی ہے جو ایک مسلمان کو دوسرے مسلمان کے بارے میں ہونا چاہیے۔ وہ یہ ہے کہ مسلمان اپنے مسلمان بھائی کے حالات سے واقف رہنے کی کوشش کرے۔ اس کی مشکلات اور ضروریات کا کھوج لگائے اور اس میں اس کا ہاتھ بٹائے۔ بہت سے سفیدپوش لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نہایت ناموافق حالات میں زندگی گزارتے ہیں لیکن کبھی اپنے دکھوں کا ذکر کرنا پسند نہیں کرتے۔ ایسے لوگوں کے حالات کو جاننے کی کوشش کرنا اس سے اسلام نے نہ صرف روکا نہیں بلکہ اس کو ایک نیکی قرار دیا۔ رہا وہ تجسس جو بعض دفعہ حکومتیں اپنی رعایا کے بارے میں کرتی ہیں تو اس کے جائز اور ناجائز ہونے کا دارومدار حکومت کے مقاصد پر ہے۔ اگر ایک اسلامی حکومت اس غرض سے رعایا کے حالات کا تجسس کرتی ہے کہ ان کے حالات سے بہرہ ور رہے اور ان کے لیے آسانیاں پیدا کرے تو یہ عین مطلوب ہے۔ اور اگر وہ ایسے لوگوں کے بارے میں تجسس کرتی ہے جن کی بعض نامناسب سرگرمیاں حکومت کے علم میں آچکی ہیں اور اس سے ملک و ملت کے مفاد کو نقصان پہنچ سکتا ہے تو اس کے جائز ہونے میں بھی کوئی شبہ نہیں۔ البتہ اگر وہ اس غرض سے جاسوسی کا ایک نظام قائم کردیتی ہے کہ اپنے سیاسی مخالفین کو تنگ کرے اور یا لوگوں کی چھپی ہوئی برائیوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر نکالے اور ان پر سزا دے تو اسلام اس کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی وہ چیز ہے جس کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا جسے ابودائود نے روایت کیا ہے کہ تم اگر لوگوں کے مخفی حالات معلوم کرنے کے درپے ہوں گے تو ان کو بگاڑ دو گے۔ یا کم از کم بگاڑ کے قریب پہنچا دو گے۔ اس آیت میں مزید یہ حکم دیا گیا ہے کہ تم میں سے کوئی ایک دوسرے کی غیبت نہ کرے۔ یعنی کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی پیٹھ پیچھے اس کے متعلق کوئی ایسی بات نہ کہے جو اسے معلوم ہو تو اسے ناگوار نہ گزرے۔ یہ تعریف وہ ہے جو خود رسول اللہ ﷺ نے فرائی ہے، ہم اس کے لیے صرف دو حدیثیں نقل کرتے ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کی روایت جسے تمام اہم کتابوں نے نقل کیا ہے جس میں حضور ﷺ نے ارشاد فرمایا غیبت یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کا ذکر اس طرح کرے جو اسے ناگوار ہو۔ عرض کیا گیا، اگر میرے بھائی میں وہ بات پائی جاتی ہو جو میں کہہ رہا ہوں تو اس صورت میں آپ کا کیا خیال ہے ؟ آپ نے فرمایا اگر اس میں وہ بات پائی جاتی ہو تو تو نے اس کی غیبت کی۔ اور اگر اس میں وہ موجود نہ ہو تو تو نے اس پر بہتان باندھا۔ اور دوسری روایت جو امام مالک نے مؤطاء میں نقل کی ہے وہ یہ ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، غیبت کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا یہ کہ تو کسی شخص کا ذکر اس طرح کرے کہ وہ سنے تو اسے ناگوار ہو۔ اس نے عرض کیا یا رسول اللہ اگرچہ میری بات حق ہو۔ آپ نے جواب دیا اگر تیری بات باطل ہو تو یہی چیز بہتان ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا کہ غیبت اس قدر برا فعل ہے کہ جو شخص اپنے کسی بھائی کی اس کی پیٹھ پیچھے برائی بیان کرتا ہے وہ گویا اس حال میں اس کا گوشت کھا رہا ہے جبکہ وہ مردہ پڑا ہوا اور اپنی مدافعت سے بالکل قاصر ہے۔ اور یہ چیز ایسی ہے کہ تم خود بھی اس سے گھن کھائو گے۔ اور جب کوئی بھی اسے پسند نہیں کرتا تو پھر غیبت کرنا کیوں گوارا کرو۔ مزید تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو، اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو یہ بات نہایت ناپسند ہے۔ البتہ اس سے توبہ کرلو گے تو اللہ تعالیٰ توبہ قبول کرنے والا اور مہربان ہے۔
Ayah 49:13

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰكُمْ مِّنْ ذَكَرٍ وَّ اُنْثٰى وَ جَعَلْنٰكُمْ شُعُوْبًا وَّ قَبَآئِلَ لِتَعَارَفُوْا١ؕ اِنَّ اَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللّٰهِ اَتْقٰىكُمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ Open ayah 49:13 in the Quran reader

اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنا دیئے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، بیشک اللہ علیم وخبیر ہے

یٰٓاَیُّھَاالنَّاسُ اِنَّا خَلَقْنٰـکُمْ مِّنْ ذَکَرٍ وَّ اُنْثٰی وَجَعَلْنٰـکُمْ شُعُوْبًا وَّقَـبَـآئِلَ لِتَعَارَفُوْاط اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَاللّٰہِ اَتْقٰـکُمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلِیْمٌ خَبِیْرٌ۔ (الحجرات : 13) (اے لوگو ! ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا، اور تمہارے خاندان اور قبیلے بنا دیئے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچانو، بیشک اللہ تعالیٰ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تم میں سب سے زیادہ پرہیزگار ہے، بیشک اللہ علیم وخبیر ہے۔ ) انسانوں میں مساوات کی ترغیب اور حقیقی بڑائی سے آگاہی گزشتہ آیات میں اصحابِ ایمان کو خطاب کرکے وہ ہدایات دی گئی تھیں جو مسلم امت کی شیرازہ بندی اور مسلم معاشرے کو خرابیوں سے محفوظ رکھنے کے لیے ضروری تھیں۔ اب اس آیت میں خطاب صرف اصحابِ ایمان سے نہیں بلکہ پوری نوع انسانی سے ہے۔ کیونکہ اس آیت کریمہ میں جس خرابی کا ذکر فرمایا گیا وہ صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں بلکہ پوری نوع انسانی کی تباہی کا باعث رہی ہے۔ اور یہی وہ خرابی ہے جس نے نوع انسانی کو کبھی ایک مرکز پر جمع ہونے کا موقع نہیں دیا۔ انسان جسے انس کا پیکر ہونا چاہیے وہ اس خرابی کی وجہ سے نفرتوں اور دوریوں کا پیکر بن کر رہ گیا۔ اور وہ خرابی یہ ہے کہ انسان انسانیت کے رشتے کو نظرانداز کرکے اپنے بنائے ہوئے گھروندوں میں اپنے آپ کو محصور کرلیتا ہے۔ یہ گھروندے کبھی نسل اور رنگ سے وجود میں آتے ہیں اور کبھی زبان، وطن اور قومیت کے تعصب سے۔ حالانکہ ان میں سے کوئی تقسیم بھی نہ عقلی ہے اور نہ اخلاقی۔ کسی شخص کا کسی نسل میں پیدا ہونا، کسی رنگ کا حامل ہونا اور ایک خاص زبان بولنے والی قوم سے وابستہ ہونا اور کسی قوم کا فرد ہونا یہ انسان کی اختیاری چیزیں نہیں۔ کسی انسان کے بس میں نہیں کہ وہ اپنی مرضی سے کسی خطے، کسی قوم، کسی زبان کے بولنے والے اور کسی رنگ کے حامل لوگوں میں پیدا ہوجائیں۔ جب یہ چیزیں غیراختیاری ہیں تو عقل کی بات یہ ہے کہ انھیں وجہ امتیاز نہ بنایا جائے۔ لیکن انسانوں نے نہ صرف اس امتیاز کو اپنے قومیت کی بنیاد بنایا بلکہ اسے عداوت، نفرت، تحقیر و تذلیل اور ظلم و ستم کا ذریعہ بھی بنایا۔ یہودیوں کا نسبی تفوق کا دعویٰ ، ہندوئوں کی اونچ نیچ کی تقسیم اور گورے رنگ والوں کا باقی تمام قوموں پر برتری کا دعویٰ یہ سب اسی خرابی کا شاخسانہ ہے۔ اور پھر اس کی بنیاد پر جو ظلم و ستم روا رکھا گیا ہے جنگ عظیم بھی اس کی شاہد ہے۔ اور آج امریکہ اور یورپ کے بعض ملکوں نے مسلمانوں کیخلاف جو ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے اور جس طرح بعض ممالک تک اجاڑ ڈالے ہیں اور ان کے وسائل پر قبضہ کرلیا گیا ہے یہ سب اسی خرابی کا اظہار ہیں۔ قرآن کریم نے اس ایک آیت میں ایک ایسا رعد آسا اعلان کرکے اس خرابی کی کمر توڑ دی ہے۔ آج اسی کے اثرات کا نتیجہ ہے کہ اگرچہ خرابی اپنی جگہ ہے لیکن اس کی ہزاروں تاویلیں کی جاتی ہیں۔ بعض ملکوں کو ویٹو کا حق بھی دیا گیا ہے لیکن برابری کے دعوے اپنی جگہ ہیں۔ اس آیت کریمہ میں سب سے پہلی بات یہ فرمائی گئی ہے کہ اے لوگو ! تم نے انسانوں میں جو تقسیم بنا رکھی ہے اس کا آخر جواز کیا ہے جبکہ انسان ایک مرد اور عورت کی اولاد ہیں۔ ان کا مادہ تولید یکساں ہے اور ان کے طریق تولید میں کوئی فرق نہیں۔ تو پھر ان میں باہمی شرف و تفوق کا سوال کہاں سے پیدا ہوگیا۔ جس طرح اللہ تعالیٰ نے لوگوں کی شکلوں، ان کے رنگوں اور ان کے قدوقامت میں فرق رکھا تاکہ لوگ ایک دوسرے کو شناخت کرسکیں۔ اسی طرح ان میں خاندانوں اور قبیلوں کی حدبندیاں قائم کیں تاکہ لوگ ایک دوسرے کو پہچان سکیں۔ یعنی یہ تقسیم جو انسان میں پھیل جانے کی وجہ سے پیدا ہوئی اور قدرت نے اس شناخت کا ذریعہ بنایا، انسانوں نے محض شیطانی جہالت کی وجہ سے اس کو تعارف کا ذریعہ بنانے کی بجائے تفاخر اور تنافر کا ذریعہ بنادیا۔ رہی یہ بات کہ آخر سارے انسان تو برابر نہیں ہوسکتے۔ انسانوں میں برتری اور کہتری بھی ایک حقیقت ہے، تو آخر اس کی بھی کوئی بنیاد ہوگی۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ یہ غیراختیاری اور اتفاقی امور ظاہر ہے اس کی بنیاد نہیں ہوسکتے۔ اس کی بنیاد صرف حُسنِ کردار، کمالات کی بلندی اور تقویٰ پر ہے۔ جو شخص جتنا اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا، برائیوں سے بچنے والا اور نیکی اور پاکیزگی کی راہ پر چلنے والا اور علم و عمل میں کمالات کا حامل ہوگا، اتنا زیادہ وہ عزت کا مستحق سمجھا جائے گا۔ چاہے اس کا تعلق کسی نسل، کسی قوم اور کسی ملک سے ہو۔ اور یہ بھی یاد رہے کہ یہ عزت اور بڑائی کا پندار ہمیشہ کبروغرور پیدا ہونے کا باعث اور دوسروں کی تحقیر کا سبب رہا ہے۔ افراد میں ہوتا ہے تو افراد اس کا نشانہ بنتے ہیں اور قوموں میں ہوتا ہے تو قومیں ظلم و ستم کا شکار ہوتی ہیں۔ لیکن برتری اور عزت کا جو معیار اس آیت کریمہ نے دیا ہے اس کے نتیجے میں جو شخص عزت والا ہے وہ عزت کو کبروغرور کا ذریعہ نہیں بناتا، بلکہ اللہ تعالیٰ کی دین سمجھتا ہے اور اگر یہ چیز قوموں میں ہے تو وہ اللہ تعالیٰ سے ڈر کر دوسروں کے لیے سایہ رحمت تو بنتی ہیں ظلم و ستم کا پیکر نہیں بنتیں۔ اس آیت کریمہ میں جس بات پر زور دیا گیا ہے آنحضرت ﷺ نے بھی اس حقیقت کو اپنے خطبات اور ارشادات میں کھول کر بیان فرمایا۔ حجۃ الوداع کے موقع پر ایام تشریق کے دوران ایک تقریر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا : یٰٓااَیُّھَاالنَّاس الا ان ربکم واحد لافضل لعربی علیٰ عجمی ولا لعجمی علی عربی ولا لاسود علی احمر ولا لاحمر علی اسود الا بالتقوی۔ ” لوگو ! خبردار رہو، تم سب کا خدا ایک ہے، کسی عرب کو کسی عجمی پر اور کسی عجمی کو کسی عرب پر اور کسی گورے کو کسی کالے پر، اور کسی کالے کو کسی گورے پر کوئی فضیلت حاصل نہیں ہے، مگر تقویٰ کے اعتبار سے۔ (بیہقی) ایک اور حدیث میں آپ کا ارشاد ہے : کلکم بنوآدم وآدم خلق من تراب ولینتھین قوم یفخرون بآبائِھم اولیکونن اھون علی اللّٰہ من الجعلان۔ ” تم سب آدم کی اولاد ہو، اور آدم مٹی سے پیدا کیے گئے تھے، لوگ اپنے آبائواجداد پر فخر کرنا چھوڑ دیں ورنہ وہ اللہ کی نگاہ میں ایک حقیر کیڑے سے زیادہ ذلیل ہوں گے۔ “
Ayah 49:14

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا١ؕ قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَ لٰكِنْ قُوْلُوْۤا اَسْلَمْنَا وَ لَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِكُمْ١ؕ وَ اِنْ تُطِیْعُوا اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ لَا یَلِتْكُمْ مِّنْ اَعْمَالِكُمْ شَیْئًا١ؕ اِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ Open ayah 49:14 in the Quran reader

اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لائے، ان سے کہئے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں، یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا ہے، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا، یقینا اللہ بہت درگزر کرنے والا اور مہربان ہے

قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا ط قُلْ لَّمْ تُؤْمِنُوْا وَلٰـکِنْ قُوْلُوْٓا اَسْلَمْنَا وَلَمَّا یَدْخُلِ الْاِیْمَانُ فِیْ قُلُوْبِکُمْ ط وَاِنْ تُطِیْعُوا اللّٰہَ وَرَسُوْلَـہٗ لاَ یَلِتْکُمْ مِّنْ اَعْمَالِکُمْ شَیْئًا ط اِنّٰ اللّٰہَ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ (الحجرات : 14) (اعراب نے کہا کہ ہم ایمان لائے، ان سے کہئے کہ تم ایمان نہیں لائے، ہاں، یوں کہو کہ ہم مطیع ہوگئے اور ابھی ایمان تمہارے دلوں کے اندر داخل نہیں ہوا ہے، اور اگر تم اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرو گے تو اللہ تمہارے اعمال میں ذرا بھی کمی نہیں کرے گا، یقینا اللہ بہت درگزر کرنے والا اور مہربان ہے۔ ) اعراب کی کوتاہی پر تنبیہ اور صحیح طرزعمل کی وضاحت اعراب سے مراد اطرافِ مدینہ کے دیہاتی لوگ ہیں۔ مدینہ میں جب اسلامی ریاست قائم ہوگئی تو انھوں نے اس نوزائیدہ ریاست کی قوت اور روزبروز ترقی کو دیکھ کر اسی میں عافیت سمجھی کہ وہ اس ریاست کی فوقیت، اقتدار اور قانون کو تسلیم کرلیں۔ چناچہ انھوں نے لڑے بھڑے بغیر اسلام قبول کرلیا۔ اور اسلامی احکام کی اطاعت کرنے لگے۔ لیکن مدینے سے فاصلے پر رہنے کی وجہ سے ان کی تربیت کا سامان نہ ہوسکا۔ اس لیے برتری کا احساس جو ان میں پہلے سے پایا جاتا تھا اور جس فطری آزادی کو وہ اپنا حق سمجھتے تھے اس کے دور ہونے میں کچھ وقت لگا۔ بعض قبائل نے تو جلدی اپنے آپ کو پوری طرح اسلام کی آغوش میں دے دیا۔ لیکن ان میں بعض قبائل ایسے تھے جو اس سورة کے نزول کے وقت تک بعض کوتاہیوں میں مبتلا تھے اور انھیں میں سے یہ کوتاہی بھی تھی کہ وہ اس بات کو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر احسان سمجھتے تھے کہ انھوں نے لڑے بھڑے بغیر اسلام قبول کرلیا ہے۔ روایات میں خاص طور پر مزینہ، جہینہ، اسلم، اشجع اور غفار وغیرہ کے نام آتے ہیں۔ خاص طور پر بنی اسد بن خزیمہ کے متعلق ابن عباس اور سعید بن جبیر کا بیان ہے کہ ایک مرتبہ خشک سالی کے زمانہ میں وہ مدینہ آئے اور مالی مدد کا مطالبہ کرتے ہوئے بار بار انھوں نے رسول اللہ ﷺ سے کہا کہ ” ہم بغیر لڑے بھڑے مسلمان ہوئے ہیں، ہم نے آپ سے اس طرح جنگ نہیں کی جس طرح فلاں اور فلاں قبیلوں نے جنگ کی ہے۔ “ اس سے ان کی مراد یہ تھی کہ آپ سے ہمارا جنگ نہ کرنا اور اسلام قبول کرلینا ایک ایسا احسان ہے جس کا ہمیں معاوضہ ملنا چاہے۔ چناچہ ان کے اسی طرح کے طرز عمل اور ان کے احساسات کی اصلاح کے لیے اس آیت کریمہ میں ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا کہ یہ اطرافِ مدینہ کے بدوی لوگ آکر یہ کہتے ہیں ہم ایمان لائے۔ آپ ان سے کہئے کہ تم ایمان نہیں لائے۔ البتہ تم یوں کہہ سکتے ہو کہ تم نے اسلام قبول کرلیا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک طرف تو تم ایمان کا دعویٰ کرتے ہو اور ساتھ ہی اسے اپنا احسان بھی سمجھتے ہو۔ حالانکہ اگر تم ایمان کے دعوے میں سچے ہو تو پھر ایمان تو اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جانے، آنحضرت ﷺ کی غیرمشروط مکمل اطاعت کرنے اور اللہ تعالیٰ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی محبت دل میں بسانے کا نام ہے۔ اس میں اس بات کا کوئی تصور بھی نہیں پیدا ہوسکتا کہ ایمان لانے والا اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر احسان رکھتا ہو۔ رہی یہ بات کہ تم نے اسلامی ریاست کی برتری تسلیم کرتے ہوئے اس کے اقتدار کی اطاعت شروع کردی ہے۔ یہ درحقیقت آنحضرت ﷺ کے احکام کی اطاعت اور اللہ تعالیٰ کے قانون کی اطاعت ہے جو تمہاری مغلوبیت کی دلیل ہے۔ لیکن اسے ایمان کا نام تو نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سمجھ لیا جائے کہ یہاں اسلام اور ایمان کو ایک دوسرے کے متضاد کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ حالانکہ ایمان اور اسلام میں انجام کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں۔ ایمان اسلام کے بغیر اور اسلام ایمان کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ البتہ یہاں اسلام لغوی معنی میں آیا ہے، جس کا معنی ظاہری اطاعت ہے۔ اس کا حقیقی معنی تو مکمل طور پر اپنے آپ کو اپنے رب کے حوالے کردینا ہے۔ لیکن یہاں یہ لفظ اس معنی میں استعمال نہیں ہوا۔ اور یہ واضح رہے کہ قرآن کریم میں مختلف مواقع پر ایمان اور اسلام کے دونوں لفظ لغوی معنی میں استعمال ہوئے ہیں۔ لیکن جہاں ان کی حقیقت بیان کرنا مقصود ہوتا ہے وہاں وہ اپنے حقیقی معنی میں آتے ہیں۔ چناچہ اسلام کو قرآن کریم نے ایک دین کے طور پر جابجا بیان کیا ہے۔ مثلاً ارشاد فرمایا : ان الدین عنداللہ الاسلام ” یقینا اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔ “ سورة المائدہ میں ارشاد فرمایا ورضیت لکم الاسلام دینا ” اور میں نے تمہارے لیے اسلام کو دین کی حیثیت سے پسند کیا ہے۔ “ تو اعراب کا اسلام صرف اسلامی اقتدار کے سامنے سر جھکا دینا تھا۔ چناچہ اسی معنی میں یہاں اس کو استعمال کیا گیا۔ لیکن ایمان کے لفظ کو حقیقی معنی میں استعمال کرتے ہوئے فرمایا کہ ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ اس نے تمہارے دلوں کے دروازے پر دستک ضرور دی ہے لیکن ابھی وہ تمہارے دلوں میں اترا نہیں۔ ورنہ تمہارے لیے ممکن نہ ہوتا کہ تمہارے دل میں کوئی امنگ اور کوئی سوچ ایمان کے تقاضوں کے خلاف پیدا ہوتی۔ اس کے بعد تنبیہ کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر تم ایمان لانے یا اسلام کی کوئی خدمت کرنے کا دعویٰ رکھتے ہو تو پھر تم اس کا احسان کیوں دھرتے ہو۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ تمہارے ہر چھوٹے بڑے عمل سے آگاہ ہے۔ اور اگر تم نے وہ عمل اخلاص سے کیا ہے تو وہ یقینا تمہیں اس کا صلہ دے گا۔ اور تمہارے کسی عمل کا صلہ دینے میں کوئی کمی نہیں کرے گا۔ اس لیے تمہیں بہرصورت اپنے اعمال پر توجہ دینی چاہیے، لاف زنی سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کا حال تو یہ ہے کہ اگر تمہارے اعمال میں کوئی کمی اور کوتاہی رہ گئی تو وہ تو اس سے درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ اسے یہ بات پسند نہیں کہ تمہارے اعمال کی قیمت کم کرنے کے لیے تمہاری کوتاہیوں کو بہانہ بنائے۔
Ayah 49:15

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَ جٰهَدُوْا بِاَمْوَالِهِمْ وَ اَنْفُسِهِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰهِ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَ Open ayah 49:15 in the Quran reader

مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہیں پڑے اور انھوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ سچے ہیں

اِنَّمَا الْمُؤْمِنُوْنَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرَسُوْلِہٖ ثُمَّ لَمْ یَرْتَابُوْا وَجٰھَدُوْا بِاَمْوَا لِہِمْ وَاَنْفُسِھِمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ ۔ (الحجرات : 15) (مومن تو بس وہی ہیں جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول پر ایمان لائے، پھر شک میں نہیں پڑے اور انھوں نے اپنے مالوں اور جانوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا، یہی لوگ سچے ہیں۔ ) ایمان کا صحیح معیار اس آیت کریمہ میں ایمان کا صحیح معیار سامنے رکھ دیا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایمان دعویٰ کرنے کی چیز نہیں، کچھ کرنے کی چیز ہے۔ سب سے پہلے اپنے دل و دماغ میں ان افکار کو اتارنا ہوگا جو جاہلیت اور شرک کے افکار کو نکال باہر کرتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ کو اس طرح ماننا ہوگا جس میں شرک کا کوئی شائبہ نہ ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہوگا کہ اس کی زندگی اسوہ حسنہ اور اس کی اطاعت غیرمشروط اطاعت اور اس کا ہر حکم اللہ تعالیٰ کا حکم سمجھا جائے۔ اور پھر اگر کبھی حالات کے نشیب و فراز میں دین کی کسی بات میں شک و شبہ لاحق ہونے لگے تو اس کا چھینٹا بھی دل و دماغ میں نہ پڑنے دے۔ اور اللہ تعالیٰ کے دین کی سربلندی کے لیے مال دینے کی ضرورت پیش آئے تو مال دے دے، اور اگر جان قربان کرنے کا موقع ہو تو جان کی قربانی سے دریغ نہ کرے۔ جن لوگوں کی فکر اور عمل اس ترازو میں ٹھیک تلتا ہو وہ لوگ ہیں جو دعویٰ ایمان میں سچے ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان کا دعویٰ تو بلند آہنگی سے کریں لیکن اس کے لیے کسی قربانی کے لیے تیار نہ ہوں تو وہ محض دکھاوے کے مجنوں ہیں، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔
Ayah 49:16

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰهَ بِدِیْنِكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ Open ayah 49:16 in the Quran reader

اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کررہے ہو حالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے

قُلْ اَتُعَلِّمُوْنَ اللّٰہَ بِدِیْنِکُمْ ط وَاللّٰہُ یَعْلَمُ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَا فی الْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْ ئٍ عَلِیْمٌ۔ (الحجرات : 16) (اے پیغمبر ! کہہ دیجیے، کیا تم اللہ کو اپنے دین سے آگاہ کررہے ہو حالانکہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ) اعراب کے طرزعمل پر گرفت چونکہ ان لوگوں کا طریقہ جیسا کہ ہم پہلے عرض کرچکے ہیں یہ تھا کہ وہ جب آنحضرت ﷺ کے پاس آتے تو بار بار اپنے ایمان کا اظہار اس طرح کرتے گویا کہ انھوں نے ایمان لاکر کوئی بہت بڑی خدمت انجام دی ہے اور اللہ تعالیٰ کے رسول پر کوئی احسان کیا ہے۔ اس کے جواب میں پروردگار آنحضرت ﷺ کو ہدایت کررہا ہے کہ آپ ان سے کہئے اگر تم اللہ تعالیٰ کی صفات کے ادراک کے بعد اس پر ایمان لائے ہو تو پھر تمہارا اپنے ایمان کا ذکر کرنا کیا معنی رکھتا ہے ؟ اس سے تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ گویا کہ تم اللہ تعالیٰ کو اپنے ایمان سے آگاہ کررہے ہو۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی صفات کے ادراک سے یہ بات تو پہلے مرحلے میں سمجھ میں آجاتی ہے کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ تعالیٰ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ کوئی چیز ظاہر ہو یا مخفی اس کے علم سے باہر نہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمہارے ایمان اور اس کی حقیقت کو بھی جانتا ہے۔ تو پھر اپنے ایمان کا اظہار اور وہ بھی تکرار کے ساتھ ایک ناشائستہ جسارت کے سوا اور کیا ہے۔
Ayah 49:17

یَمُنُّوْنَ عَلَیْكَ اَنْ اَسْلَمُوْا١ؕ قُلْ لَّا تَمُنُّوْا عَلَیَّ اِسْلَامَكُمْ١ۚ بَلِ اللّٰهُ یَمُنُّ عَلَیْكُمْ اَنْ هَدٰىكُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ Open ayah 49:17 in the Quran reader

یہ لوگ آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم دعوئے ایمان میں سچے ہو

یَمُنُّوْنَ عَلَیْکَ اَنْ اَسْلَمُوْا ط قُلْ لاَّتَمُنُّوْا عَلَّیَ اِسْلاَ مَکُمْ ج بَلِ اللّٰہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ اَنْ ھَدٰکُمْ لِلْاِیْمَانِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ (الحجرات : 17) (یہ لوگ آپ پر احسان رکھتے ہیں کہ انھوں نے اسلام قبول کرلیا، آپ ان سے کہہ دیجیے کہ اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو، بلکہ یہ اللہ کا تم پر احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی، اگر تم دعوئے ایمان میں سچے ہو۔ ) گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت ان کے ایمان کی حقیقت کو افشا کرنے کے بعد اب ان کے دعوئے اسلام کی قلعی کھولی جارہی ہے۔ کیونکہ یہ لوگ بار بار اپنے اسلام لانے کا ذکر اس طرح کرتے تھے گویا کہ انھوں نے نبی کریم ﷺ پر احسان کیا ہے، کیونکہ ان کا دعویٰ یہ تھا کہ فلاں فلاں قبیلے نے جنگ کے بعد مجبور ہو کر اسلام قبول کیا۔ لیکن ہم نے بغیر لڑے بھڑے اسلام اور اسلامی حکومت کی اطاعت کی اور اس طرح سے اسلام کی قوت و شوکت کو بڑھایا اور آپ کی عزت میں اضافہ کیا۔ اس وجہ سے آپ پر یہ لازم آتا ہے کہ آپ اس احسان کا ہمیں صلہ دیں اور دوسروں سے بڑھ کر ہمیں مراعات دیں اور ہمارا لحاظ فرمائیں۔ چناچہ ان کی اس روش پر تنبیہ کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ان سے کہئے کہ اگر تم واقعی اپنے دعوئے ایمان میں سچے ہو تو پھر تم اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ جتائو۔ کیونکہ ایمان بغیر اللہ تعالیٰ کی توفیق کے نصیب نہیں ہوتا۔ اور ایمان ابتداء ہے جس کے نتیجے میں آدمی شریعت کے سامنے سر جھکاتا اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی اطاعت کرتا ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تم نے ایمان اپنے طور پر قبول نہیں کیا بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت فرمائی۔ لیکن یہ سب باتیں اس صورت میں ہیں اگر تم اپنے ایمان اور اسلام کے دعوے میں سچے ہو۔ تو پھر تو تمہیں واقعی اللہ تعالیٰ کا شکرگزار ہونا چاہیے کہ اس نے تمہیں اس کی توفیق بخشی۔ لیکن اگر تمہارا یہ دعویٰ محض لاف زنی اور دنیاداری ہے تو پھر اس کی کوئی حقیقت نہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھو کہ ایمان چونکہ توفیقِ ایزدی کے بغیر نصیب نہیں ہوتا اس لیے اللہ تعالیٰ جب کسی شخص یا کسی قوم پر انتہائی مہربانی فرماتا ہے تو اسے ایمان کی توفیق دیتا ہے۔ اور اس کے دل کو ہر طرح کے باطل علائق سے کاٹ کر اللہ تعالیٰ کے دین سے وابستہ کردیتا ہے۔ تو ایسی صورت میں جس پر اللہ تعالیٰ کا یہ کرم ہوا ہے اس کے لیے یہ لازم ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے احسان کا استحضار پیدا کرے اور قدم قدم پر اس کا شکر بجا لائے کہ اس نے اسے اس احسان کے قابل سمجھا۔ کیونکہ وہ اتنا عظیم بادشاہ ہے کہ اس کے دربار میں حاضری کے لیے نہ جانے کتنے لوگ ہاتھ پھیلائے بیٹھے ہیں، لیکن وہ اس شخص کو حاضری کا موقع دیتا ہے جس پر وہ احسان کرنا چاہتا ہے۔ اور انتہائی بدنصیب ہے وہ شخص کہ جو اس احسان کی قدرشناسی کی بجائے یہ سمجھتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضری گویا میرا اللہ تعالیٰ پر احسان ہے۔ شیخ سعدی نے ٹھیک کہا : منت منہ کہ خدمت سلطاں ہمی کنی منت ازو شناس کہ خدمت بداشتت ” تم بادشاہ پر احسان نہ رکھو کہ تم اس کی خدمت کررہے ہو بلکہ اس کا احسان مانو کہ اس نے تمہیں خدمت کے لیے قبول کرلیا ہے۔ “
Ayah 49:18

اِنَّ اللّٰهَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ اللّٰهُ بَصِیْرٌۢ بِمَا تَعْمَلُوْنَ۠ Open ayah 49:18 in the Quran reader

بیشک اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کررہے ہو

اِنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ ط وَاللّٰہُ بَصِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الحجرات : 18) (بےشک اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے، اور اللہ دیکھ رہا ہے جو کچھ تم کررہے ہو۔ ) آخر میں فرمایا کہ پانی دراصل یہاں مر رہا ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کی صفات کا ادراک نہیں رکھتے۔ اگر تمہیں صرف اتنی بات کا استحضار ہوتا کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز کو جانتا ہے تو اس سے تمہیں یہ سمجھنے میں دشواری نہ ہوتی کہ وہ تمہارے قلبی احساسات اور تمہارے افعال و اعمال کو بھی جانتا ہے۔ تو پھر تمہیں اپنے اسلام کا دعویٰ کرنے کی ضرورت نہ ہوتی۔ تم دل میں جس طرح کے احساسات رکھتے ہو وہ اس کی نگاہوں میں ہے۔ اور تم اسلام کے اظہار کے بعد جس طرح کے اعمال بجا لارہے ہو اور جس طرح کی تمہاری وابستگیاں ہیں وہ بھی اس سے پوشیدہ نہیں۔ تو پھر فکر اپنی اصلاح کی ہونی چاہیے اپنے اسلام کے اظہار کی نہیں۔ صرف زبان سے کسی چیز کا دعویٰ کوئی معنی نہیں رکھتا جب تک کہ عمل سے اس کی تصدیق نہیں ہوتی۔ اور جب کوئی دعویٰ عمل کی صورت اختیار کرلیتا ہے تو پھر وہ دعویٰ کرنے والے کی صداقت کا خود آئینہ دار بن جاتا ہے، اظہار و اعلان کی ضرورت نہیں رہتی۔ تم بھی اگر اپنے عمل میں راستی پیدا کرو گے تو اللہ تعالیٰ اس کی قدر فرمائے گا اور تمہیں کسی طرح کے دعویٰ کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔