Ayahs 50:27–28قَالَ قَرِیْنُہٗ رَبَّنَا مَـآ اَطْغَیْتُہٗ وَلٰـکِنْ کَانَ فِیْ ضَلٰـلٍ م بَعِیْدٍ ۔ قَالَ لاَ تَخْتَصِمُوْا لَدَیَّ وَقَدْ قَدَّمْتُ اِلَیْکُمْ بِالْوَعِیْدِ ۔ (قٓ: 27، 28)
(اس کا ساتھی کہے گا اے ہمارے رب ! میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا، بلکہ یہ خود پرلے درجے کی گمراہی میں پڑا ہوا تھا۔ ارشاد ہوگا، اب میرے سامنے جھگڑا نہ کرو، میں نے پہلے ہی تمہیں اپنی وعید سے آگاہ کردیا تھا۔ )
ہر مجرم کا اپنی گمراہی کا شیطان پر الزام اور شیطان کی تردید
قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے دین سے سرکشی اختیار کرتا ہے اور بڑھتے بڑھتے بیزاری تک پہنچ جاتا ہے اور کوئی نصیحت اس پر اثر نہیں کرتی تو پروردگار اس پر ایک شیطان مسلط کردیتا ہے جو اس کا دوست بن کر اس کو ہر غلط کام کی طرف راغب کرتا ہے اور ہر برے راستے پر کھینچے لیے پھرتا ہے۔ ارشادِخداوندی ہے وَمَنْ یَّعْشُ عَنْ ذِکْرِالرَّحْمٰنُ نُقَیِضْ لَـہُ شَیْطَانًا فَہُوَلَـہُ قَرْیِنً ” اور جو شخص اللہ کے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس پر ایک شیطان مسلط کردیتے ہیں، پس وہ اس کا ساتھی بن جاتا ہے۔ “ قیامت کے دن یہی شیطان جو ہر برے آدمی کا ساتھی ہے، برے انسانوں کی طرف جہنم میں ڈالا جائے گا اور وہ شخص جسے اس کی دوستی نے تباہ کیا اور ہر آئے دن اس کو نئی سے نئی گمراہی میں مبتلا کرتا رہا، جب اس کی نظر اس پر پڑے گی تو وہ چیخ اٹھے گا کہ یا اللہ یہ وہ شخص ہے جس نے مجھے تیرے دین کی طرف آنے نہیں دیا۔ اس لیے میرے جرائم کی سزا اسے ملنی چاہیے۔ اگر یہ مجھے نہ بگاڑتا تو بہت ممکن تھا کہ میں تیرا فرماں بردار بندہ بن جاتا۔ اور آج مجھے یہ برا وقت نہ دیکھنا پڑتا۔ اس کی اس دہائی پر یہ شیطان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں عرض کرے گا کہ یا اللہ میں نے اس کو سرکش نہیں بنایا، یہ تو سرکشی اور تیری نافرمانی میں خود ہی بہت دور نکل چکا تھا۔ میں نے تو صرف یہ کیا ہے کہ اس کی سرکشی اور گمراہی کو اس کے دل میں مزین کردیا۔ اور جن برائیوں کا یہ شکار ہوچکا تھا وہ برائیاں اس کے اندر راسخ کردیں۔ آج یہ جس انجام میں مبتلا ہے اس نے خود اس کا سامان کیا۔ اس کی تباہی کا میں ذمہ دار نہیں بلکہ یہ خود اپنی تباہی کا ذمہ دار ہے۔ پروردگار اس کے جواب میں ارشاد فرمائے گا کہ میرے دربار میں یہ جھگڑا بند کرو، یہ جہنم سزا کی جگہ ہے تمہارے شور مچانے سے کچھ نہیں ہوگا۔ رہی یہ بات کہ تم اس کے بہکانے سے بہکے ہو، تو ہم تو اپنے رسولوں کی معرفت پہلے ہی یہ بات واضح کرچکے تھے کہ قیامت کے دن ہر شخص کو اس کے اعمال کی جزاء یا سزا ملے گی۔ جس نے بہکایا اس کو بہکانے کی سزا ملے گی اور جو کسی کے بہکانے سے بہک گیا تو اسے بہکنے کا خمیازہ بھگتنا ہوگا۔ کیونکہ ہم نے ان دونوں کو عقل دی اور ہدایت کے لیے دونوں کی طرف اپنے رسول بھیجے اور کتابیں نازل کیں۔ اس لیے یہاں کوئی کسی کی گمراہی کا ذمہ دار نہیں بلکہ یہاں ہر شخص اپنی بدعملی کا ذمہ دار ہے۔
Ayah 50:29مَایُبَدَّلُ الْقَوْلُ لَدَیَّ وَمَـآ اَنَا بِظَلاَّمٍ لِّلْعَبِیْدِ ۔ (قٓ: 29)
(میرے ہاں بات بدلی نہیں جاتی، اور میں بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔ )
پروردگار کی ڈانٹ اور حکم کے قطعی ہونے کا ذکر
مزید ارشاد فرمایا گیا ہے جو کسی حد تک سابقہ آیت کی وضاحت ہے کہ میں جب کسی کی سزا کا اعلان کردیتا ہوں تو میں اس کے شور مچانے سے اس کو بدلتا نہیں۔ کیونکہ میرا کوئی فیصلہ عدل اور راستی سے ہٹا ہوا نہیں۔ اور مزید یہ بات بھی کہ میں جن باتوں پر سزا دے رہا ہوں ان میں سے کوئی بات ایسی نہیں جس سے یہ مجرمین باخبر نہ ہوں۔ ان کو ہر طرح کے عمل کی جزاء اور سزا سے پہلے آگاہ کردیا گیا تھا۔ تو پھر اب ایک دوسرے پر الزام دھرنے کا نتیجہ کیا ہوگا۔ اور ساتھ ہی یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہیے کہ تمہیں جو سزا دی گئی ہے وہ تمہارے اپنے اعمال کا ثمرہ ہے، اللہ تعالیٰ نے تم پر کوئی ظلم نہیں کیا۔ کیونکہ پروردگار فرماتا ہے کہ میں اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہوں۔ یہاں لفظ اگرچہ ظالم کی بجائے ظلام آیا ہے جو اسم مبالغہ ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب مبالغہ پر نفی آتی ہے تو اس سے مقصود مبالغہ فی النفی ہوتا ہے۔ اس لیے یہاں ظلام کا معنی بہت ظلم کرنے والا نہیں بلکہ اس کا معنی ہے کہ میں اپنے بندوں پر ذرا بھی ظلم کرنے والا نہیں ہوں۔
Ayah 50:30یَوْمَ نُقُوْلُ لِجَھَنَّمَ ھَلِ امْتَـلَاْتِ وَتَقُوْلُ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍ ۔ (قٓ: 30)
(اس دن کو یاد کرو جس دن ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی اور وہ کہے گی کیا کچھ اور بھی ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کا جہنم سے سوال اور جہنم کے جواب کا مفہوم
یوں تو جہنم ایک بہت بڑا آتش کدہ ہے جسے تمام مجرمین کی سزا کے لیے بنایا گیا ہے۔ جس طرح زمین پر انسانوں کے قیام کے دورانیہ کا ہم اندازہ نہیں کرسکتے اور یہ بھی نہیں کہہ سکتے کہ قیامت کے دن محشر میں لائے جانے والوں کی تعداد کیا ہوگی جنھیں جہنم میں ڈالا جائے گا۔ اسی طرح کوئی شخص اس کا بھی اندازہ نہیں کرسکتا کہ جہنم کی وسعت کا عالم کیا ہوگا۔ لیکن اس سب کچھ کے باوجود یہ امرواقعہ ہے کہ جہنم ایک ایسی مخلوق ہے جس میں بظاہر نہ روح ہے اور نہ احساس۔ ظاہر ہے کہ ایسی مخلوق سے کوئی بات پوچھی نہیں جاسکتی، اور اگر پوچھی جائے تو وہ جواب نہیں دے سکتی۔ جیسے ہم پہاڑوں، سمندروں، دریائوں اور صحرائوں سے مکالمہ نہیں کرسکتے۔ اس بنا پر بعض لوگوں نے یہ گمان کیا ہے کہ یہ محض مجازی کلام ہے اور امر واقعہ کو الفاظ کی تعبیر دی گئی ہے جیسے ہم بعض دفعہ کسی منظر کو مکالمے کی شکل میں پیش کرتے ہیں تو وہ حقیقت نہیں سراسر مجاز ہوتا ہے۔ لیکن بعض لوگوں نے اسے حقیقت ٹھہراتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ فی الواقع اللہ تعالیٰ اور جہنم کے درمیان یہ مکالمہ ہوگا۔ حقیقت سے تو اللہ تعالیٰ ہی واقف ہے، امکان دونوں باتوں کا ہے۔ لیکن اگر کوئی شخص اسے محال قرار دے کر مجاز قرار دیتا ہے تو اس کے ذہن سے یہ بات اوجھل نہیں ہونی چاہیے کہ ممکن اور ناممکن یا محال کی بحث ہمارے لیے ہے، اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں۔ تمام جمادات و نباتات اور تمام بےروح مخلوقات جب اللہ تعالیٰ کی تسبیح کرتی ہیں اور وہ اپنی تسبیح سے واقف ہیں اور اللہ تعالیٰ ان کی تسبیح کو سنتا بھی ہے تو پھر اللہ کریم سے ان کا باتیں کرنا اللہ تعالیٰ کی قدرت سے کیسے بعید ہوسکتا ہے۔ وہ اگر قیامت کے دن اعضائے جسمانی کو نطق کی طاقت دے سکتا ہے تو جہنم سے سوال و جواب بھی کرسکتا ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ جب جہنم سے یہ پوچھا جائے گا کہ کیا تو بھر گئی ہے تو اس کا جواب دو طرح کے احتمالات رکھتا ہے۔ ایک تو یہ کہ ھَلْ مِنْ مَّزِیْدٍسے یہ مراد ہو کہ میرے اندر تو مزید کسی مجرم کے داخل کرنے کی گنجائش نہیں، میرے کنارے تو پہلے ہی مجرمین سے اچھلنے لگے ہیں اور مجرمین کی کثرت تعداد کی وجہ سے انھیں میرے اندر پوری طرح ٹھونسا گیا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ وہ نہایت غیظ و غضب کا اظہار کرتے ہوئے یہ کہے گی کہ مجھے آج ان مجرمین کو نگلنے کا موقع ملا ہے، میں ان کو اپنے اندر سمیٹنے کے بعد پوری طرح عذاب کا مزہ چکھانا چاہتی ہوں۔ اس لیے جتنے آپ چاہیں اور مجرمین کو لے آئیں، میرے یہاں کوئی تنگی نہیں۔ سیاق کلام کو دیکھتے ہوئے دوسرا معنی زیادہ قرین قیاس معلوم ہوتا ہے کہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ پوری طرح جلال میں ہوگا اور وہ پورے غیظ و غضب سے جہنم سے یہ سوال کرے گا تو اس کے جلال کا اثر جہنم پر بھی پڑے گا اور وہ بھی سرتاپا غضب بن کر جواب دے گی۔ اور اس طرح محشر کی پوری فضاء اللہ تعالیٰ کے جلال سے معمور ہوجائے گی۔ اور قرآن کریم کی بعض دیگر آیات سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ قیامت کے دن جہنم جوشِ غضب سے پھٹی پڑ رہی ہوگی۔ جوشِ غضب میں جو جواب دیا جائے گا وہ یقینا اللہ تعالیٰ کے غضب سے مطابقت رکھنے والا ہوگا۔
Ayah 50:31وَاُزْلِفَتِ الْجَنَّۃُ لِلْمُتَّقِیْنَ غَیْرَ بَعِیْدٍ ۔ (قٓ: 31)
(اور جنت متقیوں کے قریب لائی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔ )
اہلِ تقویٰ کی عزت افزائی
اہلِ جہنم کے ذکر کے بعد اب متقیوں کا انجام بیان کیا جارہا ہے۔ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جن لوگوں نے دنیا میں تقویٰ کی زندگی گزاری اور ان کے پیش نظر دنیا نہیں بلکہ ہمیشہ آخرت رہی ہے۔ اور ان کی زندگی کا ہدف سب سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کی رضا کا حصول رہا۔ تو جب یہ لوگ حشر میں لائے جائیں گے اور جب اللہ تعالیٰ کی عدالت سے یہ فیصلہ ہوجائے گا کہ فلاں شخص متقی ہے اور جنت کا استحقاق اس کے لیے ثابت ہوگیا ہے تو فوراً اس کے ساتھ اکرام کا سلوک ہوگا اسے ادا کرنے کے لیے تشریف و تکریم کے الفاظ بھی قاصر ہیں۔ دنیا میں بڑی سے بڑی عزت افزائی کسی شخص کو شاہی محل میں لے جانا ہے۔ وہ کہیں بھی ہو اسے پیدل یا کسی نہایت معزز سواری کے ذریعے اس عزت والی جگہ لے جایا جاتا ہے جو اس کی عزت افزائی کا ذریعہ سمجھی جاتی ہے۔ لیکن یہ کبھی نہیں ہوتا کہ شاہی محل یا کوئی بہت بڑی عزت کی جگہ معزز مہمان کے خیرمقدم کے طور پر خود اس کے قدموں میں پہنچ جائے۔ لیکن جنت میں ایسا ہی ہوگا۔ متقیوں کو جنت میں جانے کے لیے نہ چلنا پڑے گا اور نہ کسی سواری کی احتیاج ہوگی، بلکہ خود جنت آگے بڑھ کر ان کے قدم لے گی۔ جس طرح مظلوموں کے بارے میں کہا گیا ہے :
بترس از آہ مظلوماں کہ ہنگامِ دعا کردن
اجابت از درحق بہر استقبال می آید
اسی طرح جنت کو بھی پیشکش کے طور پر متقیوں کے سامنے لایا جائے گا۔ اور یوں معلوم ہوگا کہ جنت ان سے دور نہ تھی اور وہ ایک قدم اٹھائیں گے تو دوسرا قدم ان کا جنت میں ہوگا۔ عقل کے پرستاروں کو یہ منظر عجیب معلوم ہوگا۔ لیکن اس سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عالم آخرت میں زمان و مکان کے تصورات ہماری اس دنیا کے تصورات سے مختلف ہوں گے۔ وہاں سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ظہور ہوگا۔ اسباب اپنی روایت کھو دیں گے۔
Ayah 50:32ھٰذَا مَا تُوْعَدُوْنَ لِکُلِّ اَوَّابٍ حَفِیْظٍ ۔ (قٓ: 32)
(یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا، ہر اس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنے والا اور بہت حدودالٰہی کی حفاظت کرنے والا تھا۔ )
آیت میں فعل مضارع سے پہلے عربیت کے قاعدے کے مطابق فعل ناقص محذوف ہے۔ اصل عبارت یوں ہے مَا کُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ یعنی دنیا میں رسولوں کی معرفت اہل تقویٰ سے جس جنت کا وعدہ کیا جاتا تھا یہ وہی جنت ہے۔ جنت چونکہ مؤنث ہے اس لیے یہاں جنت سے صلہ اور انعام مراد ہے۔ اس تاویل کی رو سے ہٰذَا کا اشارہ جنت کی طرف صحیح ہے۔
تقویٰ سے پیدا ہونے والی صفات کے حاملین کا ذکر
جس طرح اس سے پہلے اہل جہنم کی دو بنیادی صفات کا ذکر کرنے سے پہلے ان صفات کا ذکر کیا گیا ہے جو ان بنیادی صفات سے خودبخود پیدا ہوتی ہیں اور پھر ان کے حاملین کے انجام کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی متقیوں کے انعام و اکرام کے ذکر کے بعد ان صفات کے حاملین کا ذکر کیا گیا ہے جو صفات تقویٰ کے نتیجے میں پیدا ہوئے بغیر نہیں رہتیں۔ اس لیے فرمایا کہ وہ لوگ جن کو اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی دولت عطا فرمائی ہے ان میں یقینا ان صفات کے حامل لوگ پیدا ہوتے ہیں جن میں سب سے پہلے وہ لوگ ہیں جنھیں اواب فرمایا گیا ہے۔ اس سے مراد ایسا شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کا راستہ چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور اس کی رضاجوئی کا راستہ اختیار کیا۔ اور ہر اس چیز سے تائب ہوگیا جو اللہ تعالیٰ کو ناپسند ہے۔ اور وہ چیز اس کی زندگی کا معمول بن گئی جو اللہ تعالیٰ کو پسند ہے۔ وہ کسی حال میں بھی ہو اس کا دل ہمیشہ اپنے اللہ کی طرف راغب رہتا ہے اور کبھی اس سے ہٹنے کا تصور بھی نہیں کرتا۔ اور دوسرے جس کردار کا ذکر فرمایا گیا ہے وہ حفیظ ہے اس سے مراد وہ شخص ہے کہ جس طرح وہ اپنے رب کی طرف ہمیشہ رجوع رکھنے والا ہے، اسی طرح اس کے حدودوقیود کی پابندی کرنے والا بھی ہے۔ یعنی اس کا دل بھی اللہ تعالیٰ کی طرف راغب رہتا ہے اور اس کا عمل بھی اللہ تعالیٰ کی شریعت کا پابند رہتا ہے۔ گویا اس کا ظاہر و باطن اللہ تعالیٰ کے نور سے منور ہے۔ وہ اس کارزارِحیات میں ایک بھرپور زندگی گزارتا ہے لیکن وہ زندگی کے ہنگاموں میں بھی نہ قلبی طور پر اللہ تعالیٰ سے بےنیاز ہوتا ہے اور نہ عملی لحاظ سے اللہ تعالیٰ کے احکام کی خلاف ورزی کرتا ہے۔
Ayah 50:33مَنْ خَشِیَ الرَّحْمٰنَ بِالْغَیْبِ وَجَآئَ بِقَلْبٍ مُّنِیْبِ نِ ۔ (قٓ: 33)
(جو بےدیکھے رحمن سے ڈرتا تھا، اور متوجہ رہنے والے دل کے ساتھ حاضر ہوا۔ )
اور تیسری صفت اس کی یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ وہ رحمن کو دیکھ نہیں سکتا اور رحمن اسے کہیں دکھائی نہیں دیتا اور نہ اپنے حواس کے ذریعے اس کو محسوس کرسکتا ہے، لیکن اس کی نافرمانی کرنے سے ڈرتا ہے۔ دوسری محسوس طاقتیں جن کی قوت و شوکت اور جن کے نافع و ضار ہونے کے شواہد اس کی آنکھوں کے سامنے ہیں۔ لیکن اگر وہ رحمن کی نافرمانی کی طرف اسے بلاتی ہیں تو وہ ان سے نہیں ڈرتا بلکہ رحمن سے ڈر کر اس کے احکام کی ہمیشہ بجاآوری کرتا ہے۔ اس کے لیے سب سے بڑا نقصان نفع و نقصان کے دوسرے حوالوں سے نہیں بلکہ رحمن کی ناراضگی ہے اور پھر عجیب بات یہ ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ وہ رحمن ہے اور وہ بڑا رحیم و کریم ہے، اس کی رحمت ہمیشہ اس کے غضب پر حاوی رہتی ہے۔ لیکن اس تصور کے باوجود اور اس کی رحمت کے بھروسے پر کبھی گناہ کے ارتکاب کی جرأت نہیں کرتا۔ وہ جانتا ہے کہ جس طرح وہ غفور و رحیم ہے اسی سے طرح اس کا عذاب، عذاب الیم بھی ہے۔ اس لیے وہ کبھی گناہ پر جری نہیں ہوتا اور رحمن کی ہیبت سے لرزاں اور ترساں رہتا ہے۔
ممکن ہے کہ رحمن سے ایک بہت بڑی حکمت کی طرف اشارہ کرنا بھی مقصود ہو۔ وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ کی صفت رحمت کا یہ لازمی تقاضا ہے کہ وہ ایک دن ایسا لائے جس میں ان لوگوں کو جزاء دی جائے جنھوں نے دنیا میں اواب اور حفیظ بن کر زندگی گزاری۔ اور ان لوگوں کو سزا دی جائے جنھوں نے کفار اور عنید بن کر اللہ تعالیٰ کی زمین کو فساد سے بھر دیا۔ اور اگر وہ ایسا نہ کرے تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ ان کو اس کے نزدیک نیکی اور بدی، ظلم اور عدل دونوں برابر ہیں۔ حالانکہ یہ بات اس کی رحمانیت کے بالکل منافی ہے۔
اور چوتھی صفت اس کی یہ ہے کہ وہ قلب منیب لے کر آیا۔ اس سے مراد وہ دل ہے جو رنج و راحت اور امید و بیم ہرحال میں اپنے رب کی طرف متوجہ رہا۔ کسی حال میں بھی کسی دوسرے سے لو لگانے کی جسارت نہیں کی، بلکہ اس کے دل نے کبھی اسے گوارا نہ کیا کہ کسی دوسرے کی پرچھائیں بھی اس پر پڑنے پائے۔
Ayahs 50:34–35ادْخُلُوْھَا بِسَلٰمٍ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُلُوْدِ ۔ لَہُمْ مَّا یَشَآئُ وْنَ فِیْھَا وَلَدَیْنَا مَزِیْدٌ۔ (قٓ: 34، 35)
(داخل ہوجاؤ اس جنت میں سلامتی کے ساتھ، یہ ہمیشگی کا دن ہے۔ وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جو وہ چاہیں گے، اور ہمارے پاس مزید بھی ہے۔ )
ان صفات کے حاملین کا اعزاز
ان صفات کے حاملین سے کہا جائے گا کہ اس جنت میں داخل ہوجاؤ سلام کے ساتھ۔ سلام کے دو معنی ہیں ایک ہے سلامتی، اور دوسرا ہے وہ اصطلاحی سلام جسے ہم آپس میں ملتے ہوئے زبان سے ادا کرتے ہیں۔ قرآن کریم نے دونوں معنوں میں اس لفظ کو استعمال کیا ہے۔ سورة حجر میں ارشاد ہے اُدْخُلُوْھَا بِسَلاَمٍ آمِنِیْنَ ” اس جنت میں داخل ہوجاؤ کامل سلامتی کے ساتھ، ہر اندیشے سے بےخوف ہوکر۔ “ یعنی نہ اس میں تمہارے لیے ماضی کا کوئی پچھتاوا ہوگا اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ ابدی راحتوں کا جو وعدہ تم سے کیا گیا تھا یہ اس کا ایفاء کیا جارہا ہے۔ اور قرآن کریم نے یہ بھی بتایا ہے کہ جب اہل جنت، جنت میں داخل ہوں گے تو فرشتے انھیں اللہ تعالیٰ کا سلام پہچائیں گے اور تہنیتی کلمات سے ان کا استقبال کیا جائے گا۔ جس دن اہل جنت، جنت میں داخل ہوں گے وہ ہمیشگی اور حیات ابدی کا آغاز ہوگا جسے کبھی زوال نہیں آئے گا۔
دوسری آیت میں فرمایا کہ اہل جنت کو جنت میں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے اور یہ ایک ایسا انعام ہے دنیا میں جس کی مثال ممکن نہیں۔ بڑے سے بڑا دولت مند اور بڑے سے بڑا بادشاہ بھی کبھی اس بات کی توقع نہیں کرسکتا کہ زندگی میں اس کی چاہتیں پوری ہوسکتی ہیں۔ وقت کا سکندر بھی محرومیاں ساتھ لے کر دنیا سے جاتا ہے۔ لیکن اہل جنت جس چیز کی بھی خواہش کریں گے وہ پوری کردی جائے گی۔ وہاں ناممکنات کا تصور ختم کردیا جائے گا۔ بلکہ ساتھ ہی فرمایا کہ اہل جنت کی چاہتیں اور خواہشیں انتہا کو پہنچ جائیں گی۔ ان سے اگر پوچھا جائے گا تو وہ مزید کسی خواہش کا اظہار نہیں کرسکیں گے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہمارے پاس اس کے علاوہ بھی بہت کچھ ہے جو انسان کے تصورات سے بھی ماورا ہے۔ دوسری جگہ شاید اسی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے فَلاَ تَعْلَمُ نَفْسٌ مَّا اُخْفِیَ لَھُمْ مِّنْ قُرَّۃِ اَعْیُنٍ ” پس کوئی نہیں جانتا کہ اس کے لیے آنکھوں کی کیا ٹھنڈک چھپا کر رکھی گئی ہے۔ “ (السجدۃ : 17)
Ayah 50:36وَکَمْ اَھْلَـکْنَا قَبْلَھُمْ مِّنْ قَرْنٍ ھُمْ اَشَدُّ مِنْھُمْ بَطَشًا فَنَقَّبُوْا فِی الْبِلاَدِ ط ھَلْ مِنْ مَّحِیْضٍ ۔ (قٓ: 36)
(ہم ان سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو قوت میں ان سے بڑھ چڑھ کر تھیں تو وہ دوسرے ملکوں میں پناہ کی تلاش میں چل کھڑی ہوئیں کہ ہے کوئی جائے پناہ۔ )
قریش کو تنبیہ
اب تاریخ کا آئینہ دکھا کر قریش کو تنبیہ کی جارہی ہے کہ وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ انھیں بڑی قوت و شوکت حاصل ہے اس لیے انھیں اپنی جگہ سے کون ہلا سکتا ہے۔ انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ان سے پہلے کتنی قومیں ایسی گزری ہیں جو قوت و طاقت میں ان سے کہیں بڑھ کر تھیں۔ وہ اپنے وسیع ملک رکھتی تھیں اور بڑی بڑی فوجیں ان کی قوت کا سروسامان تھیں۔ پھر ان کے ملکوں میں فصلیں لہلہاتیں اور مختلف قسم کے پھل پیدا ہوتے تھے۔ لیکن جب انھوں نے اللہ تعالیٰ کے رسولوں کی دعوت کو ماننے سے انکار کردیا تو آخر ان پر اللہ تعالیٰ کا عذاب آیا۔ بڑے بڑے لوگ مارے گئے، جو باقی بچ رہے وہ دوسرے ملکوں میں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھرتے رہے کہ انھیں کہیں جائے پناہ مل سکے تاکہ وہ اپنا سر چھپا سکیں۔ کیا قریش اس بات کے منتظر ہیں کہ ان پر ایسا ہی کوئی حادثہ گزرے جس میں یا تو یہ موت کا شکار ہوجائیں اور یا دوسرے ملکوں میں پناہ کی تلاش میں مارے مارے پھریں۔
نَقَّبَ فِی الْاَرْضِ کے معنی اہل لغت کے نزدیک سَارَ فِیْہَا طَلَبًا لِلْمَہْرَبِ کیے ہیں۔ یعنی وہ زمین میں کسی جائے پناہ کی تلاش میں چل کھڑے ہوئے۔ اس آیت میں بھی نَقَّبُوْا فِی الْبِلاَدِ کا یہی مفہوم ہے۔
Ayah 50:37اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَـہٗ قَلْبٌ اَوْ اَلْقَی السَّمْعَ وَھُوَ شَھِیْدٌ۔ (قٓ: 37)
(بےشک اس میں عبرت ہے اس شخص کے لیے جس کے پاس دل ہو یا جو کان لگائے متوجہ ہوکر۔ )
عبرت حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ صفات
اس آیت میں ذٰلِکَ کا اشارہ ان قوموں کی تباہی کی طرف ہے جن کا ذکر پہلی آیت میں کیا گیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان قوموں کی تاریخ سے قریش بہت حد تک واقف تھے۔ اسی لیے بجائے ان کی تاریخ بیان کرنے کے اشارہ کردیا گیا ہے کہ ان کی تاریخ میں ان لوگوں کے لیے بہت عبرت کا سامان ہے۔ یہ ان قوموں کی قوت سے واقف ہیں۔ ان کے بڑے بڑے ملکوں اور مضبوط حکومتوں کی باتیں بھی انھوں نے سن رکھی ہیں اور پھر آج ان کے کھنڈرات سے گزرتے ہوئے ان کی بےبسی کا مشاہدہ بھی ہوتا ہے۔ دیکھنے والے کے لیے اس میں بلا شبہ عبرت کا سامان ہے۔ یہ بھی چاہیں تو اس سے عبرت حاصل کرسکتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہے کہ عبرت کے حصول کے لیے اولاً تو دل بیدار ہونا چاہیے اور اگر اس میں کمی ہو تو ایسے کان ہونے چاہئیں جو سماع قبول سے بہرہ ور ہوں۔ ایسا نہ ہو کہ اولاً تو سننے والا کسی اچھی بات کی طرف کان ہی نہ دھرے اور اگر بظاہر وہ کسی کی نصیحت پر کان لگائے تو دماغ اس کا کہیں اور گھوم رہا ہو۔ وہ بجائے اس کی بات پر متوجہ ہونے کے دل اور کانوں کے فاصلوں میں الجھا رہے۔ ظاہر ہے کہ ایسا دل اسی شخص کو نصیب ہوسکتا ہے جو زندگی کے حقائق پر غور و فکر کرنے کا عادی ہو۔ جسے اپنے انجام کی فکر اور اپنے چاروں طرف پھیلی ہوئی آیات کو دیکھنے اور سمجھنے کی توفیق میسر ہو۔ یہی وہ دل ہے جسے دل بیدار کہا جاتا ہے۔ اور جس شخص میں نہ دنیوی حقائق کو دیکھنے کی تمنا اور نہ اخروی حقائق کو جاننے کی خواہش ہو وہ دل بیدار نہیں بلکہ مردہ ہے۔ ایسا دل ظاہر ہے قوموں کی تاریخ سے تو کیا فائدہ اٹھائے گا گردوپیش میں پھیلی ہوئی نشانیوں سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتا۔ اس لیے اقبال نے کہا :
دل کا نور کر خدا سے طلب
آنکھ نور دل کا دور نہیں
اور یہ بھی کہا :
دلِ بیدار پیدا کر کہ دل خوابیدہ ہے جب تک
نہ تیری ضرب ہے کاری نہ میری ضرب ہے کاری
Ayahs 50:38–40وَلَقَدْ خَلَقْنَا السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ وَمَا بَیْنَھُمَا فِیْ سِتَّۃِ اَیَّامٍ صلے ق وَّمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍ ۔ فَاصْبِرْ عَلٰی مَا یَقُوْلُوْنَ وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ قَبْلَ طُلُوْعِ الشَّمْسِ وَقَبْلَ الْغُرُوْبِ ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاَدْبَارَالسُّجُوْدِ ۔ (قٓ: 38 تا 40)
(اور ہم نے آسمانوں اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کو چھ دنوں میں پیدا کیا، اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہیں ہوئی۔ پس اے نبی ! جو کچھ یہ کہتے ہیں ان پر صبر کیجیے، اور اپنے رب کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہئے طلوعِ آفتاب اور غروب آفتاب سے پہلے۔ اور رات کے وقت پھر اس کی تسبیح کیجیے، اور سجدہ ریزیوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی۔ )
منکرین کی ایک دلیل کا جواب اور آنحضرت ﷺ کو تسلی
پیشِ نظر پہلی آیت کریمہ میں قیامت کے منکرین کی بہت بڑی دلیل کا رد بھی ہے اور نبی کریم ﷺ کے لیے تسکین و تسلی بھی ہے اور ساتھ ہی ساتھ اہل کتاب کے ایک تصور پر طنز اور تعریض بھی ہے۔ منکرینِ قیامت کا کہنا یہ تھا کہ یہ کیسے ممکن ہے کہ اتنی بڑی کائنات کو ایک دفعہ تباہ کردیا جائے اور پھر اس کی بساط دوبارہ بسائی جائے، انسانوں کو زندہ کیا جائے اور انھیں جواب دہی کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور پیش کیا جائے۔ نہ تو اس کائنات کی تباہی ممکن ہے اور اگر ایسا ہوجائے تو دوسری زندگی کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تم خود اس بات کو تسلیم کرتے ہو کہ آسمان اور زمین اور جو کچھ ان کے درمیان ہے ان تمام بیشمار مخلوقات کو ہم ہی نے پیدا کیا ہے۔ تو کیا اس تخلیق میں ہماری کسی نے مدد کی تھی یا ہم اس کی تخلیق سے عاجز آگئے تھے۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ ہم نے اس کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور ہم مختلف مواقع پر اس کی وضاحت کرچکے ہیں کہ اس سے مراد تخلیقِ کائنات کے چھ ادوار ہیں۔ البتہ ان مختلف ادوار میں تخلیقِ کائنات کی تکمیل کی مصلحتیں اور حکمتیں کیا تھیں وہ اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ البتہ اس سے ایک بات ضرور سمجھ میں آتی ہے کہ یہ کائنات ازخود وجود میں نہیں آئی اور نہ کسی کھلنڈرے کی تفریح کا نتیجہ ہے بلکہ چھ ادوار میں اس کی تخلیق اس کے اہتمام کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ بات بھی واضح کرتی ہے کہ یہ ایک بامقصد کارخانہ ہے جس میں کوئی چیز بھی بےمقصد پیدا نہیں ہوئی۔ اسی لیے اس میں خاص اہتمام ملحوظ رکھا گیا ہے۔ تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اس کے بامقصد ہونے کے باوجود ایک دن ایسا نہ آئے جب انسانوں سے یہ پوچھا جائے کہ تم نے اس مقصد کے مطابق زندگی گزاری یا نہیں۔
وَمَا مَسَّنَا مِنْ لُّغُوْبٍکا ایک مطلب تو یہ ہے کہ ہم تخلیقِ کائنات سے ایسے تھکے ہوئے اور نڈھال نہیں ہیں کہ ہم دوبارہ کائنات کی بساط نہ بچھا سکیں اور جن و انس کو ازسرنو زندگی دے کر محشر میں جواب دہی کے لیے کھڑا نہ کرسکیں، بلکہ ہماری طاقت وقدرت اسی طرح توانا اور تازہ ہے جیسے پہلے تھی۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ یہ اہل کتاب پر تعریض ہے اس لیے کہ بائیبل میں یہ افسانہ گھڑا گیا ہے کہ خدا نے چھ دنوں میں زمین و آسمان کو پیدا کیا اور ساتویں دن آرام کیا۔ (پیدائش 2: 2) اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ چھ دنوں میں کائنات کو پیدا کرتے ہوئے پروردگار تھک گیا اور ساتویں دن اس نے آرام کیا تاکہ اس کی قوت کارکردگی بحال ہوجائے۔ اندازہ کیجیے کہ وہ کیسا خدا ہے جس پر تھکاوٹ طاری ہوجاتی ہے جبکہ تھک جانا، عاجز ہوجانا، بےبس ہوجانا موت کے آثار ہیں اور مخلوق کی صفات ہیں۔ اللہ تعالیٰ اگر خالق ہے تو اس میں مخلوق کی صفات کیسے ہوسکتی ہیں۔ اب اگرچہ مسیحی پادری اس غلطی کو محسوس کرتے ہوئے اس کا ذکر کرتے ہوئے شرمانے لگے ہیں اور انھوں نے کتاب مقدس کے اردو ترجمے میں تبدیلی کرتے ہوئے آرام کیا کی بجائے فارغ ہوا لکھا ہے۔ مگر کنگز جیمز کی مستند انگریزی بائیبل میں And he rested on the seventh day کے الفاظ صاف موجود ہیں۔ اور یہی الفاظ اس ترجمے میں بھی پائے جاتے ہیں جو 1954 ء میں یہودیوں نے فلیڈلفیا سے شائع کیا ہے۔ عربی ترجمہ میں بھی ان ہی الفاظ کا لحاظ کیا گیا ہے۔ عربی ترجمہ یہ ہے فاستراح فی الیوم السابع ” اللہ نے ساتویں دن آرام کیا۔ “
دوسری آیت میں نبی کریم ﷺ کو صبر کی تلقین کی گئی ہے کہ جو کچھ مشرکینِ مکہ کہہ رہے ہیں جس طرح آپ کی تکذیب کررہے ہیں اور قیامت کا جس طرح مذاق اڑا رہے ہیں آپ اس پر دل گرفتہ نہ ہوں، آپ ان کی باتوں پر صبر کریں۔ وہ وقت دور نہیں جب حقیقت ان پر کھل جائے گی۔ اور لوگوں کی اکثریت اسے قبول کرلے گی اور ہر طرف اس دین کی بہار پھیل جائے گی۔ البتہ صبر کے لیے جس حوصلے اور توانائی کی ضرورت ہے اس کو حاصل کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے گہرے سے گہرا تعلق پیدا کریں۔ کیونکہ اس گہرے تعلق کے بغیر آدمی اہل دنیا کی باتوں پر صبر نہیں کرسکتا۔ اور مخالفتوں کے ہجوم میں ہر لحاظ سے دل کو مطمئن نہیں رکھ سکتا۔ اور یہ گہرا تعلق نماز کے ذریعے قائم ہوتا ہے۔ اس سے آدمی کو یہ طاقت حاصل ہوتی ہے کہ دعوت حق کی راہ میں خواہ اسے کیسے ہی دل شکن اور روح فرسا حالات سے سابقہ پیش آئے وہ کبھی بھی ان سے اثر قبول نہیں کرتا بلکہ پورے عزم کے ساتھ کلمہ ٔ حق بلند کرنے میں لگا رہتا ہے۔ قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ جہاں بھی حمد و تسبیح کو خاص اوقات کے ساتھ مخصوص کرتا ہے تو اس سے مراد نماز ہوتی ہے۔ یہاں بھی چند نمازوں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ طلوعِ آفتاب سے پہلے فجر کی نماز ہے اور غروب آفتاب سے پہلے ظہر اور عصر کی دو نمازیں ہیں۔ اور پھر تیسری آیت میں فرمایا کہ رات کو پھر تسبیح کرو۔ اس سے مراد مغرب اور عشاء کی نمازیں ہیں اور تہجد بھی اس میں شامل ہے۔ اور جب ان نمازوں سے فارغ ہوجاؤ تو پھر تسبیح کا حکم دیا گیا جس سے مراد بعض صحابہ کے نزدیک ذکر بعدالصلوٰۃ ہے اور بعض صحابہ کے نزدیک فرض کے بعد نفل ادا کرنا ہے۔ ذکر بعدالصلوٰۃ کی تائید میں مختلف روایات موجود ہیں جن میں صحیحین نے حضرت ابوہریرہ ( رض) کی ایک روایت نقل کی ہے کہ ایک مرتبہ غریب مہاجرین نے حاضر ہو کر عرض کیا : یارسول اللہ ﷺ مالدار لوگ تو بڑے درجے لوٹ لے گئے۔ حضور ﷺ نے فرمایا کیا ہوا ؟ انھوں نے عرض کیا وہ بھی نمازیں پڑھتے ہیں جیسے ہم پڑھتے ہیں اور روزے رکھتے ہیں جیسے ہم رکھتے ہیں مگر وہ صدقہ کرتے ہیں جو ہم نہیں کرسکتے۔ وہ غلام آزاد کرتے ہیں ہم نہیں کرسکتے۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : کیا میں تمہیں ایسی چیز بتائوں جسے اگر تم کرو تو تم دوسرے لوگوں سے بازی لے جاؤ گے بجز ان کے جو وہی عمل کریں جو تم کرو گے۔ وہ عمل یہ ہے کہ تم ہر نماز کے بعد 33، 33 مرتبہ سبحان اللہ، الحمدللہ اور اللہ اکبر کہا کرو۔ کچھ مدت کے بعد ان لوگوں نے عرض کیا کہ ہمارے مالدار بھائیوں نے بھی یہ بات سن لی اور وہ بھی وہی عمل کرنے لگے ہیں۔ اس پر آپ نے فرمایا ذلک فضل اللہ یوتیہ من یشاء۔ حدیث کی کتابوں میں ذکر بعدالصلوٰۃ کی متعدد صورتیں رسول اللہ ﷺ سے منقول ہوئی ہیں، شوق رکھنے والے ان سے استفادہ کرسکتے ہیں۔
Ayah 50:41وَاسْتَمِعْ یَوْمَ یُنَادِالْمُنَادِ مِنْ مَّکَانٍ قَرِیْبٍ ۔ (قٓ: 41)
(اور غور سے سنو جس دن منادی بہت قریب کی جگہ سے پکارے گا۔ )
قیامت کو مستحضر رکھنے کی ہدایت
تلقینِ صبر کے ساتھ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ اس دن کو جھٹلاتے ہیں آپ انھیں ان کی حالت پر چھوڑ دیجیے۔ آپ کا معمول یہ ہونا چاہیے کہ آپ برابر اس کی طرف کان لگائے رکھیں۔ کیونکہ ایک مومن کی اصل شناخت یہ ہے کہ اس کے دل و دماغ پر اس بات کا گہرا اثر رہتا ہے کہ ایک نہ ایک روز اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے اور اپنے اعمال کی جواب دہی کرنی ہے۔ خرابی اس وقت پیدا ہوتی ہے جب کوئی شخص اس تصور سے بےنیاز ہوتا ہے اور پھر آہستہ آہستہ اس سے بیگانہ ہوجاتا ہے۔ اس لیے یہاں وَاسْتَمِعْسے اسی طرف توجہ دلائی گئی ہے اور آنحضرت ﷺ سے خطاب فرما کر اس کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے۔ اور اسی تصور کو آگے بڑھاتے ہوئے یہ یقین دلایا گیا ہے کہ جس دن پکارنے والا پکارے گا، تو یوں محسوس ہوگا کہ وہ کان میں پکار رہا ہے۔ جہاں کہیں بھی کوئی شخص موت کا شکار ہوا دنیا کے کسی خطے میں ہو، زمین پر ہو یا کسی دریا یا سمندر میں یا کسی درندے کے پیٹ میں، وہیں وہ پکارنے والے کی پکار سنے گا۔ ممکن ہے اس سے مراد نفخ صور ہو۔ پورے کُرَّہِ ارض پر یہ آواز اس طرح گونجے گی کہ ہر شخص اسے اپنے کانوں کے قریب محسوس کرے گا اور سمجھے گا کہ مجھ ہی کو متوجہ کیا جارہا ہے۔
Ayah 50:42یَّوْمَ یَسْمَعُوْنَ الصَّیْحَۃَ بِالْحَقِّ ط ذٰلِکَ یَوْمُ الْخُرُوْجِ ۔ (قٓ: 42)
(جس دن وہ سنیں گے اس چیخ کو ٹھیک ٹھیک، وہ دن مردوں کے نکلنے کا دن ہوگا۔ )
یعنی جس دن لوگ یہ آواز سنیں گے تو یہ کوئی مصنوعی آواز نہیں ہوگی بلکہ یہ نفخ صور ہی کا صیحہ ہوگا۔ حق سے مراد قیامت بھی ہوسکتی ہے اور اس کا ترجمہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ ٹھیک ٹھیک اسی کی آواز ہوگی۔ یہ درحقیقت اس بات کا اعلان ہوگا کہ لوگ اب اپنی قبروں سے نکلیں اور میدانِ حشر میں پہنچیں، کیونکہ یہ دن قبروں سے نکلنے کا دن ہوگا۔
Ayah 50:43اِنَّا نَحْنُ نُحْیٖ وَنُمِیْتُ وَاِلَیْنَا الْمَصِیْرُ ۔ (قٓ: 43)
(بےشک ہم ہی زندہ کرتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں، اور ہماری ہی طرف لوٹنا ہوگا۔ )
قبروں سے خروج کی دلیل
اوپر کی آیت میں قبروں سے نکلنے کا ذکر ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر دلیل ارشاد فرمائی گئی ہے کہ سب کو ایک دن ہم قبروں سے نکالیں گے۔ کیونکہ ہماری حیثیت یہ ہے اور جسے کوئی چیلنج نہیں کرسکتا کہ ہم ہی زندگی بخشنے والے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں۔ تو اس سے خودبخود یہ بات نکلتی ہے کہ ان کو دوبارہ زندہ کرنے کا ہمیں اختیار بھی ہے اور ہم اس کی قدرت بھی رکھتے ہیں۔ زندگی ایک سفر ہے، موت جس کا اختتام نہیں، بلکہ اس مسلسل سفر میں ایک پڑائو ہے جس میں آرام کرنے کے بعد اسی زندگی کا دوسرا سفر شروع ہوجاتا ہے جس کا نام آخرت ہے۔ زندگی کی ابتداء اس سفر کی ابتداء تھی، اور آخرت اس سفر کا اختتام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہی سے اس کا آغاز تھا اور ہر مسافر کو اللہ تعالیٰ ہی کی طرف لوٹنا ہے۔ وہی ان مسافروں سے پوچھے گا کہ دنیا کی زندگی انھوں نے کیسے گزاری اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ جس طرح زندگی عطا کیے جانے میں کسی اور کا دخل نہ تھا تو اب اس سفر کے اختتام پر اسی کے حضور حاضری ہوگی جس نے زندگی عطا کی تھی۔ مشرکین نے جن شرکاء و شفاء کو ایجاد کر رکھا ہے نہ ان کی طرف کسی کی واپسی ہوگی اور نہ آخرت میں وہ ان کے کسی کام آئیں گے۔ کیونکہ نہ زندگی میں ان کا کوئی دخل تھا اور نہ موت کے کسی معاملے میں۔ تو اب آخرت میں وہ ان کا ملجا و ماویٰ کیسے ہوسکتے ہیں۔
Ayah 50:44یَوْمَ تَشَقَّقُ الْاَرْضُ عَنْھُمْ سِرَاعًا ط ذٰلِکَ حَشْرٌ عَلَیْنَا یَسِیْرٌ۔ (قٓ: 44)
(اس دن زمین ان کے اوپر سے کھل جائے گی اور وہ تیزی سے اس کے اندر سے نکلیں گے، یہ حشر ہمارے لیے بہت آسان ہے۔ )
قبروں سے نکلنے کا منظر
نفخہ ثانیہ کے بعد جب لوگوں کو اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا حکم ہوگا، تو اس کی صورت یہ ہوگی کہ زمین ان کے اوپر سے پھٹ جائے گی کیونکہ وہ موت کے بعد کسی جگہ بھی ہوں اور کسی حالت میں بھی ہوں بہرحال زمین ہی ان کا مدفن ہوگی۔ تو وہ زمین پھٹے گی اور ان کے لیے نکلنے کا راستہ کھل جائے گا۔ سِرَاعًا ضمیر مجرور سے حال ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ زمین پھٹنے کے بعد لوگ تیزی سے اپنی قبروں سے نکلیں گے۔ اور قرآن کریم نے دوسری جگہ اس کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ اس طرح قبروں سے نکلیں گے جس طرح پتنگے اور ٹڈیاں نکلتی ہیں۔ اس کے بعد آخری جملے میں کفار کے ایک مغالطے کا جواب ہے جسے وہ بار بار اشکال کی صورت میں پیش کرتے تھے ” یہ کیسے ممکن ہے کہ جب ہم مر کر خاک ہوچکے ہوں اس وقت ہمیں پھر سے زندہ کرکے اٹھا کھڑا کیا جائے، یہ واپسی تو بالکل خلاف عقل ہے۔ “ ان کے جواب میں فرمایا کہ یہ حشر یعنی ان سب کو اکٹھا کرلینا، زمین کی وسعتوں سے ان کو سمیٹ لینا اور اس کی پہنائیوں سے انھیں نکال لینا اللہ تعالیٰ کے لیے یہ بہت آسان ہے۔ کیونکہ وہ خوب جانتا ہے کہ کس شخص کی خاک کہاں پڑی ہے۔ ان بکھرے ہوئے ذرات میں زید کے ذرات کون سے ہیں اور بکر کے ذرات کون سے۔ پھر ان ذرات کو سمیٹ کر جسم کی شکل دے دینا اور اس جسم میں مرنے والے کی شخصیت کو پیدا کردینا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان بات ہے۔ یہ سب کچھ اس کے اشارے سے اس طرح آناً فاناً ہوجائے گا کہ جسے آج انسان سمجھنے سے قاصر ہے لیکن وہ اس روز اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ لے گا۔
Ayah 50:45نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَقُوْلُوْنَ وَمَآ اَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍ قف فَذَکِّرْ بِالْقُرْاٰنِ مَنْ یَّخَافُ وَعِیْدِ ۔ (قٓ: 45)
(اے پیغمبر ! ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ کہتے ہیں، ہم نے آپ کو ان پر جبار نہیں بنایا، پس آپ اس قرآن کے ذریعے سے ہر اس شخص کو نصیحت کریں جو میری بعید سے ڈرتا ہو۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی اور کفار کو دھمکی
اس میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دی گئی ہے اور ساتھ ہی ساتھ کفار کے لیے دھمکی بھی ہے۔ آنحضرت ﷺ کو خطاب کرکے فرمایا کہ یہ جو کچھ آپ کی دعوت کے سلسلے میں یا وہ گوئی کرتے اور جس طرح ہر بات میں آپ کا مذاق اڑاتے اور آپ پر الزامات کے طوفان باندھتے ہیں ان میں سے کوئی بات ہم سے مخفی نہیں ہے، ہم ان کی باتوں کو خوب جانتے ہیں۔ اور جب ہم جانتے ہیں تو اس کا منطقی نتیجہ یہ ہے کہ ایک نہ ایک دن ہم ان سے خود نبٹیں گے، آپ کو اس میں غم کھانے کی کیا ضرورت ہے، آپ صبر سے اپنا کام کرتے جائیے اور ان کا معاملہ ہم پر چھوڑیئے، ہمارے یہاں دیر ہے، اندھیر نہیں۔
اور یہ بات بھی آپ کے ذہن میں رہنی چاہیے کہ ہم نے آپ کے ذمہ یہ کام نہیں لگایا کہ آپ زبردستی ان کو مومن بنائیں۔ اور اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ سے اس کی پرسش ہوگی۔ آپ کا کام صرف تذکیر و دعوت ہے۔ ہم نے آپ پر تذکیر کے لیے ایک نہایت جامع کتاب نازل کی ہے، وہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے، آپ اسی کے ذریعے سے ان لوگوں کو نصیحت کریں، سمجھائیں بجھائیں اور عاقبت سے آگاہ کریں۔ آپ جس کو دیکھیں کہ وہ میری وعید سے ڈرتا اور میری تنبیہ پر کان دھرتا ہے اسے آپ قرآن کے ذریعے اسے نصیحت کریں۔ اور جس پر میری وعید اثر نہیں کرتی اور آپ کا انذار اس کے لیے الٹا تمسخر کا باعث بنتا ہے آپ اسے تقدیر کے حوالے کریں، وہ اپنا انجام خود دیکھ لے گا، آپ کے لیے اس میں پریشانی کی کوئی بات نہیں۔