Ayah 52:37اَمْ عِنْدَھُمْ خَزَآئِنُ رَبِّـکَ اَمْ ھُمُ الْمُصَیْطِرُوْنَ ۔ (الطور : 37)
(کیا آپ کے رب کے خزانے ان کے پاس ہیں یا وہ ان پر نگران بنائے گئے ہیں۔ )
قریش کے اعتقادات کے تناظر میں ان سے چند سوالات
قریشِ مکہ کے بعض اعتقادات کی وجہ سے ان سے چند سوالات کیے گئے ہیں۔ ان کا ایک اعتقاد یہ تھا کہ نبوت اور رسالت ایک عظیم منصب ہے اس کا اہل اول تو انسان نہیں ہوسکتا، کسی فرشتے کو ہونا چاہیے۔ اور اگر مان لیا جائے کہ انسانوں کی اصلاح کے لیے کسی انسان ہی کو رسول بن کر آنا چاہیے تو اسے یقینا اپنے وقت کا دولت و ثروت کے حوالے سے کوئی نمایاں ترین فرد ہونا چاہیے تاکہ لوگ اس کی عظمت اور بڑائی کے سامنے جھکیں اور ان کے احترام کی وجہ سے اس کی نبوت کو تسلیم کرلیں۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ اس دور میں نبوت دی بھی گئی تو ایک ایسے شخص کو جو یتیم پیدا ہوا اور نہایت عسرت سے زندگی گزاری۔ اور آج تک اسے ایسا مال و دولت حاصل نہیں ہوسکا جو اسے بڑے لوگوں میں شامل کرسکے۔ حالانکہ مکہ اور طائف میں ذاتی وجاہت اور دولت و ثروت کے اعتبار سے بڑے بڑے لوگ موجود تھے۔ نبوت اگر دینا ہی تھی تو ایسے کسی شخص کو ملنی چاہیے تھی۔
یہ بھی ان کا اعتقاد تھا کہ دنیا میں خوشحالی، اثرورسوخ اور دولت و ثروت اللہ تعالیٰ کی دین ہے اور یہ اسی شخص کو ملتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے پسندیدہ لوگوں میں سے ہوتا ہے۔ اور جو لوگ اس سے محروم رکھے جاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کے ناپسندیدہ لوگ ہیں۔ اس سے استدلال کرتے ہوئے وہ یہ بات کہتے ہیں کہ آج خوشحالی ان لوگوں کو میسر ہے جو مدعی نبوت کی بات سننے کے روادار نہیں۔ دولت و ثروت کے وہ مالک ہیں جنھیں یہ بھی گوارا نہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور اس پر ایمان لانے والوں کے ساتھ بیٹھیں۔ تو اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی پسندیدگی مسلمانوں کو نہیں بلکہ ان لوگوں کو حاصل ہے جو پیغمبر پر ایمان نہیں لائے۔ اور اگر قیامت آہی گئی تو وہاں بھی ان ہی لوگوں کو سرافرازی حاصل ہوگی جو آج دولت و ثروت میں کھیل رہے ہیں۔ کیونکہ یہی اللہ تعالیٰ کے مقبول بندے ہیں۔
ان دونوں باتوں کا جواب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ نبوت اللہ تعالیٰ کی رحمت ہے اور وہ اپنی رحمت کا مستحق کسے بناتا ہے یہ سراسر اس کا فیصلہ ہے۔ اور اس میں کوئی دوسرا شخص دخل نہیں دے سکتا۔ اسی طرح دولت و ثروت بھی اللہ تعالیٰ کے خزانوں سے آتی ہے اور ان خزانوں کی مالک بھی اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ جسے وہ چاہتا ہے عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے۔ مشرکینِ مکہ نے جس طرح خانہ ساز قسم کے خیالات اپنا رکھے ہیں اس کا مطلب تو یہ ہے کہ وہ اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کی رحمت کے خزانوں کا مالک سمجھتے ہیں یا ان کا گمان یہ ہے کہ ان خزانوں کی تقسیم پر وہ مامور کیے گئے۔ جسے وہ پسند کریں ان کے لیے یہ خزانے کھلتے ہیں اور جنھیں وہ ناپسند کریں نہ انھیں نبوت مل سکتی ہے نہ انھیں دولت سے بہرہ ور کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 52:38–39اَمْ لَہُمْ سُلَّمٌ یَّسْتَمِعُوْنَ فِیْہِ فَلْیَاْتِ مُسْتَمِعُھُمْ بِسُلْطٰنٍ مُّبِیْنٍ ۔ اَمْ لَـہُ الْبَنٰتُ وَلَـکُمُ الْبَنُوْنَ ۔ (الطور : 38، 39)
(کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر وہ آسمان کی باتیں سن لیتے ہیں، تو چاہیے کہ ان کا سننے والا کوئی واضح دلیل پیش کرے۔ کیا اس کے لیے بیٹیاں ہیں اور تمہارے لیے بیٹے۔ )
مخالفین کو آنحضرت ﷺ پر جو اعتراضات تھے اور قرآن کریم کے بارے میں جو کچھ ان کے تحفظات تھے گزشتہ آیات میں ان تمام باتوں کو سامنے رکھتے ہوئے دو باتیں ارشاد فرمائی گئیں کہ اگر تم قرآن کو اللہ تعالیٰ کا کلام نہیں سمجھتے اور تمہارا الزام یہ ہے کہ اسے خود محمد ﷺ نے لکھا ہے تو پھر اس کو صحیح یا غلط ثابت کرنے کا آخری ذریعہ یہی ہوسکتا ہے کہ تم خود ایک ایسی کتاب بنا کے لائو جو قرآن کریم کی ہر لحاظ سے متبادل ہو یا اس سے بہتر ہو۔ اور اس میں وہ تمام خوبیاں پائی جاتی ہوں جو قرآن کریم کی خصوصیات ہیں۔ اسی طرح تمہیں اس بات کا اقرار ہے کہ تم مخلوق ہو اور اللہ تعالیٰ تمہارا خالق ہے۔ اور ساری کائنات کو بھی اسی نے تخلیق فرمایا ہے۔ تو اس سے خودبخود یہ بات نکلتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بجاطور پر خالق ہونے کی وجہ سے اپنی مخلوق کو زندگی گزارنے کے لیے ایک آئین، قانون اور آداب کا مجموعہ دینے کا حق حاصل ہے جس کی تعمیل مخلوق پر واجب ہو اور پھر اس کے حوالے سے قیامت میں جواب دہی کا بھی اسے پابند بنایا جائے۔ قرآن کریم کے مقابلے کی کتاب نہ لا کر تم نے یہ ثابت کردیا کہ قرآن کریم واقعی اللہ تعالیٰ کا کلام ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو خالق مان کر تم نے اللہ تعالیٰ کے اس حق کو قبول کرلیا کہ وہ تمہیں شریعت دینے کا حق رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنا کلام جس پر اتارا اور جسے اپنا رسول بنا کر تمہاری رہنمائی کے لیے بھیجا اسے تو تم ماننے کے لیے تیار نہیں، بلکہ اس کی بات سننے کے بھی روادار نہیں۔ تو پھر آخر اس رہنمائی اور اس شریعت کا ذریعہ اور کون سا ہوگا۔ تم اس کے جواب میں یہ کہہ سکتے ہو کہ ہم خود عالم بالا سے ایک رابطہ رکھتے ہیں۔ ہم میں اس کی صلاحیت موجود ہے کہ ہم خود آسمانوں پر پہنچیں اور فرشتوں سے یہ معلوم کریں کہ اللہ تعالیٰ کن باتوں میں راضی ہے اور کن باتوں میں ناراض۔ اور ایسی باتیں تم واقعی معلوم کرچکے ہو اور اپنے ذریعہ علم پر تم ہر طرح سے مطمئن ہو۔ اگر یہ بات ہے تو پھر بتایا جانا چاہیے کہ وہ ذریعہ کون ہے جو عالم بالا کی خبریں سنتا ہے اور تمہیں ان سے آگاہ کرتا ہے۔ اور اس پر کوئی مضبوط سند اور دلیل ہونی چاہیے۔ اور اگر ایسی کوئی دلیل تمہارے پاس نہیں اور تم عالم بالا سے رابطے کے لیے کوئی ذریعہ بھی اپنے پاس نہیں رکھتے اور جسے اللہ تعالیٰ نے اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے تم اس کی بات سننے کے بھی روادار نہیں ہو۔ تو پھر تمہیں اس طرح کے فضول تصورات اور لایعنی عقائد سے نہیں بچایا جاسکتا جنھیں بلاسوچے سمجھے تم عقیدے کے طور پر قبول کرچکے ہو۔ جن میں سے ایک بات یہ ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں تسلیم کرتے ہو اور اپنے لیے بیٹے۔ ایسا عقیدہ قبول کرنا کسی بھی قوم کے لیے باعث ننگ وعار ہے۔ کیونکہ ایک معمولی عقل کا آدمی بھی یہ بات سمجھ سکتا ہے کہ مخلوق سے اللہ تعالیٰ کا کوئی نسبی رشتہ نہیں ہوسکتا۔ کیونکہ اولاد باپ کی ہمیشہ ہم جنس ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ خالق ہے تو اس کی اولاد بھی خالق ہوگی، مخلوق نہیں۔ اور فرشتوں کو تم بھی مخلوق مانتے ہو۔ تو پھر وہ اللہ تعالیٰ کی اولاد کیسے ہوسکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ازلی اور ابدی ہے اور مخلوق فانی ہے۔ اللہ تعالیٰ واجب الوجود اور قدیم ہے اور مخلوق حادث ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احتیاج سے پاک ہے اور مخلوق سرتاپا محتاج ہے۔ اللہ تعالیٰ متکبر ہے اور مخلوق اس کے سامنے عاجز۔ دونوں میں برابری یا نسب کا رشتہ کیسے ممکن ہے۔ اس سے بھی بڑھ کر شرم کی بات یہ ہے کہ تم نے اس کے لیے فرشتوں کو بیٹیاں بنایا جبکہ تمہارے پاس فرشتوں کے مؤنث ہونے کی کوئی سند نہیں۔ اور دوسری یہ بات کہ اگر انھیں مؤنث تسلیم کر بھی لیا جائے تو اس سے بڑی جہالت اور کیا ہوسکتی ہے کہ تم انھیں اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں تسلیم کرو اور اپنے لیے بیٹوں کو عزت کا ذریعہ سمجھو۔ اور اگر بیٹی پیدا ہوجائے تو شرم سے منہ چھپاتے پھرو۔ یعنی جو چیز تم اپنے لیے باعث ننگ و عار سمجھتے ہو اسے اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرتے ہوئے جس جسارت کی ضرورت ہے نہ جانے وہ تمہیں کہاں سے ملی ہے۔ اس کا صریح مطلب یہ ہے کہ عقیدہ و عمل کی تجویز کے لیے جس علم کی انسان کو احتیاج ہے وہ علم تمہارے پاس نہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول وہی علم لے کر تمہارے پاس آئے ہیں اور اسی علم کا سرچشمہ قرآن کریم ہے۔
Ayah 52:40اَمْ تَسْئَلُھُمْ اَجْرًا فَھُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْقَلُوْنَ ۔ (الطور : 40)
(کیا آپ ان سے کوئی عوض مانگتے ہو کہ وہ اس تاوان کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں۔ )
آپ ﷺ سے سوال کی صورت میں مخالفین کے رویئے کی مذمت
سوال بظاہر آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن روئے سخن کفار کی طرف ہے۔ آنحضرت ﷺ سے یہ پوچھا جارہا ہے کہ آپ جو انھیں اللہ تعالیٰ کا دین سکھا رہے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کی مرضیات سے آگاہ کررہے ہیں اور ان کی زندگی کی الجھی ہوئی گتھیوں کو سلجھا رہے ہیں۔ اور انھیں باطل کی تاریکیوں سے نکال کر اللہ تعالیٰ کی معرفت کی روشنی میں لارہے اور اس کے لیے آپ نے اس قدر دلسوزی، ہمدردی اور فکرمندی سے کام کیا ہے کہ اس سلسلے میں آپ کا اپنا کاروبار تباہ ہوگیا، آپ کی صحت متأثر ہوئی جارہی ہے۔ شب و روز اس کام کے سوا آپ کو کسی بات کی فکر نہیں۔ تو کیا اس پر آپ ان سے کوئی معاوضہ مانگتے ہیں اور وہ معاوضہ اتنا بڑا ہے کہ جس کے بوجھ تلے وہ دبے جارہے ہیں۔ اور اگر ایسا نہیں تو پھر آپ کے لائے ہوئے دین سے ان کی بیزاری اور آپ کی دعوت و تبلیغ سے ان کے تنفر کی وجہ کیا ہے۔ حالانکہ یہ لوگ اپنی ذات میں اُمّی ہیں جن کے پاس علم کا کوئی ذریعہ نہیں۔ اگر کوئی صاحب علم ان کو علم کی روشنی سے بہرہ ور کرنے کی کوشش کرتا ہے تو وہ ایسے ہے جیسے کوئی شخص کسی اندھے کا ہاتھ پکڑ کر اسے منزل تک پہنچانا چاہتا ہے۔ تو ان لوگوں کو تو آپ کا شکرگزار ہونا چاہیے اور علم کی اس مشعل کو اٹھا کر خود اسے گھر گھر پہنچانے کی فکر کرنی چاہیے چہ جائیکہ وہ آپ کی دشمنی پر اتر آئیں جبکہ ان ہی میں ایسے لوگ موجود ہیں جو دین کے نام پر دنیا کما رہے ہیں۔ لیکن آپ نے ان کی خیرخواہی اور ہمدردی کے لیے اپنی دنیا اجاڑ لی ہے۔ اس کے باوجود یہ آپ سے بھاگتے ہیں اور دین کے سوداگروں کے پاس جاتے ہیں۔
Ayah 52:41اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ فَہُمْ یَکْتُبُوْنَ ۔ (الطور : 41)
(کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے، پس وہ خود ہی لکھ لیتے ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کا منطقی نتیجہ
گزشتہ آیت میں جو سوال اٹھایا گیا ہے اسی کو آگے بڑھاتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ آپ ان کو زندگی کے جن حقائق کا علم دے رہے ہیں اور وہ ان سے بھاگ رہے ہیں، معلوم ہوتا ہے کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کے پاس غیب کا علم ہے جس سے وہ تمام ضروری باتیں معلوم کرکے لکھ لیتے ہیں۔ حالانکہ ایسا کوئی ذریعہ علم ان کے پاس موجود نہیں، کیونکہ انھیں یہ بات خود تسلیم ہے کہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کے بعد ان کے پاس کوئی پیغمبر نہیں آیا۔ ان کی لائی ہوئی تعلیم اہل عرب کی جہالت کی نذر ہوگئی۔ ان کا کوئی صحیفہ یا کوئی کتاب ان کے پاس موجود نہیں، ان کے اسوہ حسنہ کو یہ بالکل بھول چکے۔ اب جو کچھ ان کے پاس شریعت ہے وہ سب ان کے وضعی خیالات ہیں۔ چند رسم و رواج ہیں جنھیں انھوں نے عقائد کی شکل دے رکھی ہے۔ ان کی خواہشات اور چند اوہام ہیں جو ان کے یہاں روایت کا درجہ اختیار کرچکے ہیں۔ یہی ان کا علمی سرمایہ ہے جس کے بل بوتے پر وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت اور اس پر اترنے والی کتاب کا انکار کررہے ہیں۔
Ayah 52:42اَمْ یُرِیْدُوْنَ کَیْدًا فَالَّذِیْنَ کََفَرُوْا ھُمُ الْمَکِیْدُوْنَ ۔ (الطور : 42)
(کیا وہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں، تو جن لوگوں نے کفر کیا وہی اس چال میں گرفتار ہوں گے۔ )
مخالفین کی مخالفت کی حقیقت
سوال کے انداز میں اصل حقیقت کا انکشاف فرمایا گیا ہے کہ مخالفین کی یہ ساری دلیل بازیاں اور سخن سازیاں تو محض ظاہر کا پردہ ہیں۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی دعوت کے فروغ میں انھیں اپنی سیادت کا خاتمہ نظر آتا ہے۔ اور وہ محسوس کررہے ہیں کہ جیسے جیسے یہ دعوت پھیلتی جارہی ہے ہماری جہالت اور عصبیت سمٹتی جارہی ہے۔ ہمیں اپنی جس طاقت اور افرادی قوت پر ناز رہا ہے ہر گھر میں اس دعوت کا اثر پہنچنے کی وجہ سے اس کی دیواروں میں دراڑیں پڑتی جارہی ہیں۔ تو اب ان کا خیال یہ ہے کہ ہمیں کوئی ایسی تدبیریں کرنی چاہئیں جس سے اس دعوت کا فروغ رک جائے بلکہ دعوت دینے والی زبان گنگ ہو کر رہ جائے۔ اور لوگوں کو مختلف طریقوں سے اس دین کی دعوت اور اس کے پیش کرنے والے سے اس حد تک بدگمان کردیا جائے کہ لوگ اس دعوت اور اس کے داعی کے قریب نہ جائیں۔ چناچہ انھیں وارننگ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر یہ مخالفین ایسی کسی تدبیر کی فکر میں ہیں جس سے دعوت اور داعی کو نقصان پہنچے بلکہ یہ دعوت ختم ہو کر رہ جائے تو انھیں معلوم ہونا چاہیے کہ ایسی ہر تدبیر ان پر الٹ دی جائے گی اور وہ بری طرح نہ صرف اس میں ناکام ہوں گے بلکہ ان کی اپنی بقاء خطرے میں پڑجائے گی۔ چناچہ جب یہ تنبیہ کی گئی تو حیرانی کی بات یہ ہے کہ اس وقت مسلمانوں کے پاس کوئی طاقت نہ تھی۔ بےسروسامان لوگوں کا ایک گروہ تھا جو تنہا لادینی قوتوں سے برسرپیکار تھا۔ جس شخص نے بھی اس تنبیہ کو سنا اس نے اسے بےوقت کی راگنی سمجھا اور بےلگام عقیدت کا اظہار جانا۔ لیکن چند ہی سال بعد کفر کی بساط الٹ گئی اور قریش اپنے کروفر کے باوجود ناکام و نامراد ہو کر آنحضرت ﷺ سے عفو و درگزر کے طالب ہوئے۔ اور صرف 23 سال کے عرصے میں پورے جزیرہ عرب پر اسلام کا پرچم لہرانے لگا۔
Ayah 52:43اَمْ لَھُمْ اِلٰـہٌ غَیْرُاللّٰہِ ط سُبْحٰنَ اللّٰہِ عَمَّا یُشْرِکُوْنَ ۔ (الطور : 43)
(کیا اللہ کے سوا ان کے لیے اور کوئی معبود بھی ہے، اللہ پاک ہے ان چیزوں سے جن کو یہ شریک کرتے ہیں۔ )
مشرکین کا اپنی جہالت پر اصرار کا نتیجہ
مشرکین کی اسی جہالت کا نتیجہ ہے جو وہ دین کے مقابلے میں اختیار کرچکے ہیں کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کو اِلٰہ ماننے کے ساتھ اور بھی کئی قوتوں کو اِلٰہ تسلیم کر رکھا ہے۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی دوسرا اِلٰہ کیسے ہوسکتا ہے۔ وہ محض ان کے توہمات ہیں اور اعتقادات کی خرابی ہے کہ انھوں نے مخلوق کو خالق کا شریک بنا رکھا ہے۔ تو جو شخص اللہ تعالیٰ کی الوہیت کی دعوت لے کر اٹھا ہے اور اس کی زبان پر اسی کے دین کی دعوت اور اسی کی کتاب کی تلاوت ہے۔ اور وہ اپنا ساری توانائیاں اسی کے دین کی سربلندی کے لیے صرف کررہا ہے۔ اور جن قوتوں کو مشرکین نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے ان میں سے ایک ایک کی تریدد کررہا ہے اور شرک کے ہر تصور کو دل و دماغ سے نکالنے کی کوشش کررہا ہے۔ اس کا اعتماد صرف اللہ تعالیٰ پر ہے وہی اس کا ہتھیار ہے اور وہی اس کی منزل ہے۔ ایسے شخص کو وہ لوگ نقصان نہیں پہنچا سکتے جن کی صلاحیتیں اور جن کے دل و دماغ کی قوتیں مختلف آستانوں میں تقسیم ہوچکی ہیں۔ وہ ایک سے تعلق مضبوط کرنے اور ایک پر اعتماد کرنے کی بجائے مختلف سہارے تجویز کرچکے ہیں اور مختلف مراکزِ عقیدت و عبادت کو اپنے لیے منزل بنا چکے ہیں۔
Ayah 52:44وَاِنْ یَّرَوْا کِسْفًا مِّنَ السَّمَآئِ سَاقِطًا یَّـقُوْلُوْا سَحَابٌ مَّرْکُوْمٌ۔ (الطور : 44)
(اگر یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ تو تہ بہ تہ بادل ہیں۔ )
مخالفین کی ہٹ دھرمی پر آنحضرت ﷺ کو تسلی
مخالفین کی ہٹ دھرمیوں کے حوالے سے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا کہ مخالفین جس طرح آئے روز نئے سے نئے معجزات طلب کرکے آپ کے لیے پریشانی کا باعث بن رہے ہیں آپ اس کی پرواہ نہ کریں۔ کفار کی طرف سے معجزات کی طلب کوئی نئی بات نہیں۔ جن لوگوں کو حق کی طلب ہوتی ہے وہ بھی بعض دفعہ معجزہ دیکھنے کی خواہش کرتے ہیں لیکن ان کے مطالبے آئے روز جاری نہیں رہتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کی زندگی اپنی ذات میں خود معجزہ ہوتی ہے۔ اور ہر طرح کی مخالفت میں اس کی استقامت، انتہائی بےبسی اور بےکسی کی حالت میں اللہ تعالیٰ پر بےپناہ اعتماد اور اپنے فریضہ کی ادائیگی کے ساتھ بےپناہ لگن، ان میں سے کون سے بات ہے جو معجزات سے کم کہی جاسکتی ہے۔ باایں ہمہ مختلف وقتوں میں پیغمبر سے معجزات کا ظہور ہوتا رہا ہے لیکن جب ایک کے بعد دوسرے اور دوسرے کے بعد تیسرے معجزے کی طلب شروع ہوتی ہے اور لوگ اسے اپنے ایمان کی شرط بنا لیتے ہیں تو ایسے لوگ معجزہ دیکھ کر بھی ایمان نہیں لاتے۔ آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے اس حقیقت سے آگاہ فرمایا جارہا ہے کہ آپ ایسے لوگوں کی طلب پر کبھی اللہ تعالیٰ سے کسی معجزے کے ظہور کی دعا نہ فرمائیں۔ وہ ایسے معجزات دیکھ کر بھی اپنے کفر پر جمے رہنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تلاش کرلیں گے۔ اسی سلسلے میں فرمایا گیا ہے کہ اگر وہ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے کہ یہ تہ بہ تہ بادل ہیں جو بارش کے لیے ہماری طرف بڑھ رہے ہیں لیکن قوم ثمود کی طرح انھیں ان بادلوں کو عذاب سمجھنے کی توفیق نہیں ہوگی۔ ایسے ہٹ دھرم لوگ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کا شکار ہوتے ہیں۔
Ayahs 52:45–46فَذَرْھُمْ حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ فِیْہِ یُصْعَقُوْنَ ۔ یَوْمَ لاَ یُغْنِیْ عَنْھُمْ کَیْدُھُمْ شَیْئًا وَّلاَ ھُمْ یُنْصَرُوْنَ ۔ (الطور : 45، 46)
(پس اے نبی ! انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے، یہاں تک کہ یہ اپنے اس دن سے دوچار ہوں جس دن ان کے ہوش جاتے رہیں گے۔ جس دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی اور نہ ان کی مدد کی جائے گی۔ )
یعنی جب یہ بات کھل گئی کہ یہ درحقیقت اپنی سخن سازیوں کے پردے میں اللہ تعالیٰ کے رسول اور اس پر ایمان لانے والوں کیخلاف کوئی چال چل رہے ہیں تو اب ان کو سمجھانے بجھانے سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اب ان کو اس دن کے حوالے کردیجیے جس دن صوراسرافیل سے ان پر غشی طاری ہوجائے گی۔ یہ اشارہ اس دن کی طرف ہے جس کی ہولناکی کی تصویر سورة حج میں بدیں الفاظ کھینچی گئی ہے۔
وَتَرَی النَّاسَ سُکٰرٰی وَمَاھُمْ بِسُکٰرٰی وَلَـکِنَّ عَذَابَ اللّٰہِ شَدِیْدٌ۔
” اور تم لوگوں کو مدہوش دیکھو گے اور یہ مدہوشی شراب کی نہیں ہوگی بلکہ اللہ کا عذاب ہی بڑا سخت ہوگا۔ “
مزید فرمایا گیا ہے کہ یہ دن ایسا ہولناک ہوگا کہ چالیں چلنے والوں کی کوئی چال وہاں نہیں چل سکے گی اور اپنی تدبیروں سے کوئی کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔ اور ان کے اعوان و انصار خود ان کی مدد نہیں کرسکیں گے۔ اور جن کو دنیا میں انھوں نے شفیع سمجھ رکھا ہے وہ ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی عظیم ذات سے واسطہ پڑے گا اور وہ ایمان و عمل کے حوالے سے ان سے معاملہ کرے گی۔
Ayah 52:47وَاِنَّ لِلَّذِیْنَ ظَلَمُوْا عَذَابًا دُوْنَ ذٰلِکَ وَلٰـکِنَّّ اَکْثَرَھُمْ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ (الطور : 47)
(بےشک ان لوگوں کے لیے جنھوں نے ظلم کیا اس کے سوا بھی ایک عذاب ہے، لیکن ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔ )
عذابِ آخرت سے پہلے عذاب کا ذکر
جو کفار اپنی ہٹ دھرمیوں کے باعث عذاب آخرت کے مستحق ہوچکے ہیں انھیں عذاب آخرت تو قیامت کے دن ہوگا لیکن ان کی زندگی میں چھوٹے موٹے عذابوں کا مزہ انھیں چکھایا جاتا ہے تاکہ وہ اپنی باغیانہ روش سے باز آجائیں۔ یعنی دنیا میں وقتاً فوقتاً شخصی اور قومی مصیبتیں نازل کرکے پروردگار انھیں یاد دلاتا رہتا ہے کہ کوئی بالاتر طاقت ان کی قسمتوں کے فیصلے کررہی ہے اور کوئی اس کے فیصلوں کو بدلنے کی طاقت نہیں رکھتا۔ لیکن جو لوگ اپنی ہٹ دھرمی کے باعث اللہ تعالیٰ کے رسول کے دیئے ہوئے علم سے بیگانہ رہتے ہیں وہ کبھی ان واقعات سے سبق نہیں لیتے، بلکہ اپنے وضعی علم و دانش کے زعم میں یہ سمجھتے رہتے ہیں کہ یہ حوادث اللہ تعالیٰ کی جانب سے نہیں بلکہ یہ ویسے ہی حوادث ہیں جو دنیا میں اکثر پیش آتے رہتے ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو اپنے جہلِ مرکب کی وجہ سے خود بھی ہمیشہ گمراہ رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی گمراہ کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ نہ جانے ان کے ذہن میں یہ بات کیوں نہیں آتی کہ کائنات کے مالک کی مرضی کے بغیر یہاں کوئی حادثہ رونما نہیں ہوتا۔ زمانہ خود سے کسی چیز کو جنم نہیں دیتا۔ اور نہ حالات اتفاقات کی پیداوار ہوتے ہیں۔ اگر یہ بات سمجھ لی جائے کہ ہر چھوٹے بڑے واقعہ کے پیچھے اللہ تعالیٰ کی مشیت کام کرتی ہے تو اس سے نہ صرف اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط ہوتا ہے بلکہ آدمی کے سیرت و کردار میں خوشگوار تبدیلی آتی ہے۔ اور آدمی بہت سارے واہموں سے بچ کر مضبوط شخصیت کا مالک ہوجاتا ہے۔
Ayahs 52:48–49وَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ فَاِنَّـکَ بِاَعْیُنِنَا وَسَبِّحْ بِحَمْدِ رَبِّکَ حِیْنَ تَقُوْمُ ۔ وَمِنَ الَّیْلِ فَسَبِّحْہُ وَاِدْبَارَالنُّجُوْمِ ۔ (الطور : 48، 49)
(اے پیغمبر آپ صبر کے ساتھ اپنے رب کے فیصلے کا انتظار کیجیے، آپ ہماری نگاہوں میں ہیں، اور اپنے رب کی تسبیح کیجیے اس کی حمد کے ساتھ، جس وقت آپ اٹھتے ہیں۔ اور رات کو بھی اس کی تسبیح کیجیے اور ستاروں کے پیچھے پلٹنے کے وقت بھی۔ )
مخالفین کی مخالفت کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے پیغمبر کو نہایت دلنواز انداز میں صبر کی تلقین فرمائی ہے۔ اور ساتھ ہی یہ بھی اشارہ فرمایا ہے کہ صبر کی طاقت بھی اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے ملتی ہے۔ اور وہ طاقت حاصل کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ تسبیح وتحمید یعنی عبادت ہے۔
پھر تسبیح وتحمید کی مختلف اوقات کے حوالے سے تین ہدایات ارشاد فرمائیں جن میں پہلی ہدایت کی وضاحت میں مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے صاحب تفہیم القرآن نے اسے سمیٹتے ہوئے نہایت احسن طریق سے لکھا :
ایک مفہوم یہ ہے کہ جب بھی تم کسی مجلس سے اٹھو تو اللہ کی حمد و تسبیح کرکے اٹھو۔ نبی کریم ﷺ خود بھی اس پر عمل فرماتے تھے اور آپ نے مسلمانوں کو بھی یہ ہدایت فرمائی تھی کہ کسی مجلس سے اٹھتے وقت اللہ کی حمدوتسبیح کرلیا کریں اس سے ان تمام باتوں کا کفارہ ادا ہوجاتا ہے جو اس مجلس میں ہوئی ہوں۔ ابودائود، ترمذی، نسائی اور حاکم نے حضرت ابوہریرہ ( رض) کے واسطے سے حضور ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے کہ جو شخص کسی مجلس میں بیٹھا ہو اور اس میں خوب قیل و قال ہوئی ہو، وہ اگر اٹھنے سے پہلے یہ الفاظ کہے تو اللہ ان باتوں کو معاف کردیتا ہے جو وہاں ہوں : سبحانک اللہم وبحمدک، اشھد ان لا الٰہ الا انت، استغفرک واتوب الیک ” خداوندا، میں تیری حمد کے ساتھ تیری تسبیح کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں ہے، میں تجھ سے مغفرت چاہتا ہوں اور تیرے حضور توبہ کرتا ہوں۔ “
دوسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم نیند سے بیدار ہو کر اپنے بستر سے اٹھو تو اپنے رب کی تسبیح کے ساتھ اس کی حمد کرو۔ اس پر بھی نبی کریم ﷺ خود عمل فرماتے تھے اور اپنے اصحاب کو آپ نے یہ تعلیم دی تھی کہ نیند سے جب بیدار ہوں تو یہ الفاظ کہا کریں : لا الہ الا اللہ وحدہ لاشریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد وھو علی کل شیء قدیر، سبحان اللہ، والحمدللہ، ولا الہ الا اللہ، واللہ اکبر، ولا حول ولا قوۃ الاباللہ۔ (مسند احمد، بخاری بروایت عبادہ بن الصامت)
تیسرا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم نماز کے لیے کھڑے ہو تو اللہ کی حمدوتسبیح سے اس کا آغاز کرو۔ اسی حکم کی تعمیل میں رسول اللہ ﷺ نے یہ ہدایت فرمائی کہ نماز کی ابتدا تکبیر تحریمہ کے بعد ان الفاظ سے کی جائے : سبحانک اللہم وبحمدک و تبارک اسمک وتعالی جدک ولا الہ غیرک۔
چوتھا مفہوم اس کا یہ ہے کہ جب تم اللہ کی طرف دعوت دینے کے لیے اٹھو تو اللہ کی حمدوتسبیح سے اس کا آغاز کرو۔ یہ بھی نبی کریم ﷺ کا مستقل معمول تھا کہ آپ ہمیشہ اپنے خطبوں کا آغاز حمدوثنا سے فرمایا کرتے تھے۔
مفسر ابن جریر نے اس کا ایک اور مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ جب تم دوپہر کو قیلولہ کرکے اٹھو تو نماز پڑھو اور اس سے مراد نماز ظہر ہے۔
اور آخری آیت سے مراد مغرب اور عشاء اور تہجد کی نمازیں ہیں۔ اور تلاوتِ قرآن بھی اور اللہ تعالیٰ کا ذکر بھی۔ اور ستاروں کے پلٹنے سے مراد رات کے آخری حصہ میں ان کا غروب ہونا اور سپیدہ صبح کے نمودار ہونے پر ان کی روشنی کا ماند پڑجانا ہے، یہ نماز فجر کا وقت ہے۔ اس سے مراد نمازفجر اور اس کی تسبیحات ہیں۔