55. Surah Ar-Rahmaan
الرحمنThe Beneficent · 78 ayahsروح القرآن
مُتَّكِئِیْنَ عَلٰى رَفْرَفٍ خُضْرٍ وَّ عَبْقَرِیٍّ حِسَانٍۚ Open ayah 55:76 in the Quran reader
وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے سبز قالینوں اور نفیس اور نادر فرشوں پر
فَبِاَیِّ اٰلَآءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبٰنِ Open ayah 55:77 in the Quran reader
تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے
مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی رَفْرَفٍ خُضْرٍوَّعَبْقَرِیٍّ حِسْانٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 76، 77)
(وہ ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے سبز قالینوں اور نفیس اور نادر فرشوں پر۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
عَبْقَرِیٍّ نادر اور قیمتی چیزوں کے لیے آتا ہے اور موقع و محل کی رعایت سے اس کا اطلاق مختلف چیزوں پر ہوسکتا ہے۔ عرب جاہلیت کے افسانوں میں جنوں کے دارالسلطنت کا نام عبقر تھا جسے ہم اردو میں پرستان کہتے ہیں۔ اسی کی نسبت سے عرب کے لوگ ہر نفیس اور نادر چیز کو عبقری کہتے تھے۔ انسانوں میں جو شخص غیرمعمولی قابلیتوں کا مالک ہو، اسے عبقری سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ یہاں بھی یہ نفیس ترین اور نادر چیز کے معنی میں ہے۔ وہ اہل جنت سرسبز قالینوں پر اور نہایت نفیس اور نادر فرشوں یا چاندنیوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جس کا موقع و محل واضح ہے۔
تَبٰرَكَ اسْمُ رَبِّكَ ذِی الْجَلٰلِ وَ الْاِكْرَامِ۠ Open ayah 55:78 in the Quran reader
بڑا ہی بابرکت ہے نام تیرے عظمت والے اور سزاوارِ تکریم رب کا
تَبٰـرَکَ اسْمُ رَبِّـکَ ذِی الْجَلٰـلِ وَالْاِکْرَامِ ۔ (الجن : 78)
(بڑا ہی بابرکت ہے نام تیرے عظمت والے اور سزاوارِ تکریم رب کا۔ )
خاتمہ سورة
آخری آیت میں فرمایا کہ تیرے رب کا نام بڑی برکت والا ہے اور وہ اپنی ذات میں جلیل و کریم بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم نے اہل جنت کے لیے جتنے انعامات اور جس قدر نعمتوں کا ذکر کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کی برکت کا اظہار ہے۔ اور جہاں اس نے دین کے دشمنوں اور مخالفین کے لیے سزائوں کا ذکر کیا ہے وہ اس کی عظمت کا اظہار ہے۔ اور آیات ترجیع میں بار بار جو اس نے کفار اور مشرکین کو توجہ دلانے کا قصد فرمایا ہے یہ اس کی کرامت، اس کے شرف اور اس کی عزت کا اظہار ہے۔ ورنہ جہاں تک اس کی قدرت کا تعلق ہے کائنات چشم زدن میں صرف اس کے ایک حکم سے تباہ ہوسکتی ہے۔ لیکن اس کی کرامت اور اس کا شرف ہمیشہ انسانوں کے حال پر اس کے التفاتِ خصوصی کو متوجہ رکھتا ہے۔ اور یہی زمین پر بسنے والوں کے لیے سب سے بڑی اس کی عنایت اور رحمت ہے۔