Ayahs 55:37–38فَاِذَا انْشَقَّتِ السَّمَآئُ فَـکَانَتْ وَرْدَۃً کَالدِّھَانِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 37، 38)
(اور یاد رکھو اس وقت کو جب آسمان پھٹے گا اور کھال کی طرح سرخ ہوجائے گا۔ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
روزِقیامت کا منظر
دِہَانْ کے معنی کھال کے ہیں۔ اور سرخی کی تشبیہ کے لیے کھال زیادہ موزوں ہے۔ اور قرآن کریم کی سورة التکویر میں فرمایا گیا ہے کہ وَاِذَالسَّمَائُ کُشِطَتْ جب آسمان کی کھال کھینچ لی جائے گی۔ اس سے بھی یہ معلوم ہوتا ہے کہ کھال کھینچ لینے کے بعد جس طرح جسم کا گوشت سرخ دکھائی دیتا ہے اسی طرح آسمان بھی سرخ دکھائی دے گا۔ اور پیش نظر آیت کریمہ میں اسی سرخی کو کھال سے تشبیہ دی گئی ہے۔ یہ روزقیامت کا ذکر ہے۔ آسمان کے پھٹنے سے مراد بندش افلاک کا کھل جانا اور عالم بالا کے نظم کا درہم برہم ہوجانا ہے۔ اور اس صورتحال کو کھال کی سرخی سے اس لیے تشبیہ دی گئی ہے کیونکہ جو شخص بھی اس وقت آسمان کی طرف دیکھے گا اسے یوں معلوم ہوگا جیسے سارے عالم بالا پر ایک آگ سی لگی ہوئی ہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ آج تم قیامت کا انکار کررہے ہو، لیکن اس وقت تم کیا کرو گے جب آسمان شق ہوجائے گا اور یہ آسمان سرخ کھال کی طرح نظر آئے گا۔ تو اس وقت اپنے رب کی کن کن شانوں اور قدرتوں کا انکار کرو گے۔
Ayahs 55:39–42فَیَوْمَئِذٍ لاَّ یُسْئَلُ عَنْ ذَنْبِہٖٓ اِنْسٌ وَّلاَجَآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ یُعْرَفُ الْمُجْرِمُوْنَ بِسِیْمٰـھُمْ فَیُؤْخَذُ بِالنَّوَاصِیْ وَالْاَقْدَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 39 تا 42)
(پس اس روز کسی انسان اور کسی جن سے اس کے گناہ کی بابت پوچھا نہیں جائے گا۔ تو اے جن و انس ! تم اپنے رب کے کن کن احسانات کا انکار کرو گے۔ مجرم اپنی علامتوں سے پہچان لیے جائیں گے، اور انھیں پیشانی کے بال اور پائوں سے پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا۔ پس اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
منکرین کا جرم چہروں سے عیاں ہوگا
تم اولاً تو وقوع قیامت ہی کے منکر ہو، لیکن جو لوگ مفروضے کی حد تک قیامت کو تسلیم کرتے ہیں انھیں بھی یہ اطمینان ہے کہ وہاں ہمارے جرائم کی کسے خبر ہوگی اور زندگی بھر کے جرائم کون شمار کرسکتا ہے۔ انھیں تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ اس دن کسی انسان اور کسی جن سے ان کے جرائم اور ان کے گناہوں کے بارے میں پوچھا نہیں جائے گا۔ بعض مفسرین کا خیال ہے کہ ان سے اگر پوچھا جائے گا تو گناہ کے محرکات کے بارے میں سوال ہوگا، ورنہ قیامت کی ہولناکی اور اس کی ہیبت کی وجہ سے ہر مجرم کا اترا ہوا چہرہ اور پتھرائی ہوئی آنکھیں اس کے جرائم کے ثبوت کے لیے کافی ہوں گی۔
آج جو اس نے اس ساری صورتحال کو باقی رکھا ہے اور آج اگر مجرم جرائم کی دنیا سے نکلنا چاہیں تو کسی وقت بھی ان کی توبہ قبول ہوسکتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وہ احسانات ہیں کہ اگر آج ان سے پوچھا جائے تو یہ ان احسانات کو جھٹلانے پر قادر نہیں۔ تو ترجیع کی آیت میں اسی کی طرف اشارہ فرمایا گیا ہے۔
تیسری آیت میں اس بات کی وضاحت فرمائی گئی ہے کہ مجرمین سے ان کے جرائم کے بارے میں سوال کیوں نہیں کیا جائے گا۔ اس کا سبب یہ ہے کہ جرائم ان کے چہروں پر لکھے ہوں گے۔ اس کا ایک مطلب تو یہ ہے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے۔ اور دوسرا مطلب یہ ہے کہ مجرم لوگوں کے چہرے اپنے جرائم کی وجہ سے ایسے سیاہ ہوں گے کہ وہ مجرم ہونے کی حیثیت سے پہچانے جائیں گے۔ اور نیک لوگوں کے چہرے ان کی نیکیوں کی وجہ سے روشن ہوں گے۔ اور پھر ان مجرموں کو ان کی پیشانیوں کے بالوں اور ان کے قدموں سے پکڑ کر انھیں گھسیٹ کر جہنم میں پھینک دیا جائے گا۔ یہ ان کے پکڑے جانے کی تصویر کھینچی گئی ہے اس سے یہ دکھانا مقصود ہے کہ آج یہ لوگ استکبار کا شکار اور کسی اچھی بات سننے کے روادار نہیں۔ لیکن قیامت کے روز ذلت سے انھیں گھسیٹتے ہوئے جہنم میں پھینکا جائے گا اور یہی ان کی اصل حیثیت ہوگی۔
Ayahs 55:43–45ھٰذِہٖ جَھَنَّمُ الَّتِیْ یُـکَذِّبُ بِھَا الْمُجْرِمُوْنَ ۔ یَطُوْفُوْنَ بَیْنَھَا وَبَیْنَ حَمِیْمٍ اٰن۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 43 تا 45)
(یہ ہے وہ جہنم جس کی مجرم تکذیب کرتے رہے تھے۔ وہ اس کے اور اس کے کھولتے ہوئے پانی کے درمیان گردش کرتے رہیں گے۔ اے جن و انس ! تم اپنے رب کی کن کن قدرتوں کو جھٹلائو گے۔ )
منکرینِ قیامت کو تنبیہ
مجرمین کو جہنم میں پھینکنے کے ذکر کے بعد ارشاد فرمایا کہ یہ وہ جہنم ہے دنیا میں مجرم جس کا انکار کرتے رہے اور اس کی خبر کو جھوٹ بتلاتے رہے ہیں، لیکن آج جب اسی جہنم میں انھیں ڈالا جائے گا تو تب انھیں یقین آجائے گا کہ جہنم کی خبر غلط نہ تھی۔ پھر اس جہنم کے عذاب کی شدت کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ دوزخ کی آگ جس ان کو جھلسے گی تو وہ پانی کی تلاش میں بھاگیں گے تو انھیں اچانک پانی دکھائی دے گا، جب وہ پیاس بجھانے کے لیے اس کی طرف لپکیں گے تو وہاں انھیں ایسے پانی سے سابقہ پڑے گا جو گرمی اور جوش کے آخری نقطہ تک پہنچا ہوا ہوگا۔ اس کھولتے ہوئے پانی سے جب انتڑیاں جل اٹھیں گی تو پھر وہ جہنم کی طرف بھاگیں گے لیکن جب جہنم کے عذاب کی شدت سے پیاس بھڑکے گی تو وہ کھولتے ہوئے پانی کی طرف دوڑیں گے۔ بس اسی گردش میں ان کے شب و روز گزریں گے۔ نہ ادھر چین ہوگا اور نہ ادھر چین ہوگا۔
” اٰنٍ “ یہ اس پانی کی صفت کے لیے آتا ہے جس کی گرمی اپنے آخری نقطہ پر پہنچی ہو۔ قرآن کریم میں سورة الغاشیۃ میں اسی معنی میں اسے استعمال کیا گیا ہے۔ ارشاد فرمایا تَصْلٰی نَارًا حَامِیَۃً ۔ تُسْقٰی مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ ” وہ بھڑکتی آگ میں داخل ہوں گے اور جب پانی مانگیں گے تو ان کو آخری درجے میں گرم چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔ “
تیسری آیت ترجیع کی آیت ہے جس کا مفہوم واضح ہے۔ یہ ترجیع کی آیات بار بار اس لیے آئی ہیں تاکہ جو لوگ بڑی ڈھٹائی سے آخرت اور عذاب کا انکار کررہے ہیں انھیں بار بار تنبیہ کی جائے اور کبھی نعمتوں اور کبھی قدرتوں کا ذکر فرما کر انھیں ان کے غلط طرزعمل پر توجہ دلائی جائے۔
Ayahs 55:46–47وَلِمَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ جَنَّتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 46، 47)
(اور اس شخص کے لیے جو اپنے رب کے حضور پیش ہونے سے ڈرتا رہا دو باغ ہیں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والوں کا انجام
گزشتہ رکوع کا آغاز بھی اسی حقیقت کے بیان سے ہوا تھا کہ زمین پر بسنے والی ہر مخلوق فنا ہونے والی ہے اور باقی رہنے والی ذات صرف اللہ تعالیٰ کی ہے۔ مقصود اس سے یہ تھا کہ لوگ اپنی موت اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کے تصور سے بہرہ ور ہو کر زندگی کے طرزعمل کو درست کرنے کی کوشش کریں۔ اس رکوع کے آغاز میں بھی اسی حقیقت کو دوسرے پہلو سے نمایاں کیا گیا کہ آخرت کا انکار کرنے والے اپنے تئیں کیسے ہی استکبار کا شکار ہوں اور اپنے بارے میں جیسی چاہیں غلط فہمیاں پال لیں اور اس کے حصار میں رہنے کی کوشش کریں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ آخرت کائنات کے وجود کی توجیہ اور جن و انس کی اخلاقی زندگی کا ایسا تقاضا ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ چناچہ جس شخص نے بھی دنیا میں اس حقیقت کو پا لیا اور اس نے شتر بےمہار بن کر زندگی گزارنے کی بجائے انسانیت اور عبدیت کے دائرے میں زندگی گزاری، اس نے اپنے مقصد وجود کو سمجھا اور اس بات کا یقین پیدا کرلیا کہ ایک نہ ایک روز مجھے اپنے رب کے حضور پیش ہونا اور اپنے اعمال کا حساب دینا ہے۔ تو اس سے خودبخود دل سے یہ بات ابھرتی ہے کہ اعمال کے جواب دہی میں کامیابی اسی صورت میں ہوگی جب زندگی اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اور اس کے احکام کی تعمیل میں گزری ہوگی۔ پھر خودبخود پائوں ان راستوں کی طرف نہیں بڑھتے جو اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی طرف جاتے ہیں۔ ہاتھ اس طرف دراز نہیں ہوتے جس سے اللہ تعالیٰ نے روکا ہے۔ اور نگاہ کبھی آوارہ نہیں ہوتی کہ وہ اپنی جواب دہی کے احساس کو بھول جائے۔ ایسا ہی شخص ہے جو قیامت کے دن نوازا جائے گا۔ اسی لیے دوسری جگہ قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا اَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّہٖ وَنَہَی النَّفْسَ عَنِ الْہَوٰی، فَاِنَّ الْجَنَّۃَ ہِیَ الْمَاوٰی ” جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا اور ہَوائے نفس کی پیروی سے اپنے آپ کو روکا تو جنت اس کا ٹھکانہ ہے۔ “ پیش نظر آیت میں یہی فرمایا گیا ہے کہ ایسا شخص جو اپنے رب کے حضور پیشی سے ڈرتا رہا تو قیامت کے دن اس کے لیے دو باغ ہوں گے۔ یعنی ایک باغ تو ہر اس جنتی کو ملے گا جسے اللہ تعالیٰ نے جنت میں جانے کا استحقاق بخشا۔ لیکن یہاں جن لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے معلوم ہوتا ہے یہ مقربینِ بارگاہ ہیں، جنھوں نے صرف اللہ تعالیٰ کی رضا کے مطابق اعمال ہی انجام نہیں دیئے بلکہ نامساعد حالات میں اعلائے کلمۃ الحق کے لیے بڑی سے بڑی قربانی بھی دی۔ ان کے لیے دو باغ ہوں گے۔ ان کی کیفیت اور تفصیل کیا ہوگی یہ عالم غیب کی باتیں ہیں جن کے بارے میں آج کچھ نہیں کہا جاسکتا۔
اس کے بعد آیت ترجیع ہے اور اس میں اٰ لَآئِ کا لفظ نعمتوں یا قدرتوں کے معنی میں آخر سورة تک استعمال ہوا ہے۔ اس میں بھی خطاب ان ہی لوگوں کو ہے جو آخرت کا انکار کرتے تھے اور تمسخر اڑاتے ہوئے یہ بھی کہتے تھے کہ یہ جو غریبوں کا طبقہ اور فتوفقیر مسلمانوں کا گروہ جنت کے شوق میں خواہشاتِ نفس کی پیروی سے گریز کررہا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار رہتا ہے اسے گمان یہ ہے کہ جنت کی نعمتیں اللہ تعالیٰ نے اسی کے لیے پیدا فرمائی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات نے جنھیں دنیا میں سرافراز کیا ہے وہی آخرت میں بھی سرفراز ہوں گے۔ اور یہ لوگ نعمتوں کو یہاں بھی ترستے رہے، وہاں بھی ترستے رہیں گے۔ ان سے بار بار یہ بات کہیں جارہی ہے کہ تم آج جو چاہو سمجھو، لیکن حقیقت میں جنت کی نعمتیں ان ہی لوگوں کو ملیں گی جنھیں آج یہ نہایت حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ ان کے دماغوں سے اس خناس کو نکالنے کے لیے بار بار اس آیت کو لایا گیا ہے تاکہ مسلمانوں کو عزت دی جائے اور یہ نام نہاد سربلند لوگ اپنے انجام کو دیکھ سکیں۔
Ayahs 55:48–49ذَوَاتَـآ اَفْنَانٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 48، 49)
(نہایت ہری بھری ڈالیوں والے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
جنت کے درختوں کی شادابی
یعنی وہ دو باغ جو ان اہل جنت کو ملیں گے ان باغوں کا ہر درخت زرخیزی اور شادابی اور برگ و بار کی کثرت سے گراں بار ہوگا۔ حقیقت یہ ہے کہ باغ کی خوبصورتی اور رعنائی کا دارومدار صرف اس بات پر ہوتا ہے کہ درختوں کی چھائوں کتنی گھنی ہے۔ ہر درخت کی شاخیں کیسی خوش رنگ اور سرسبز سبزی و شادابی کی امین ہیں۔ چناچہ ان باغوں کے درخت ایسی ہی خوبصورتیوں سے مالامال ہوں گے۔
اگلی آیت ترجیع کی آیت ہے اس میں ان نعمتوں کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ہم ایسی نعمتیں جب اپنے نیک بندوں کو دیں گے تو تم کس طرح ان کی تکذیب کرو گے اور کس کس نعمت کو جھٹلائو گے۔
Ayahs 55:50–51فِیْہِمَا عَیْنٰنِ تَجْرِیٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 50، 51)
(ان دونوں باغوں میں دو چشمے جاری ہوں گے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
جنت میں بہتے ہوئے چشمے
اہلِ جنت کو جو باغات دیئے جائیں گے ان کی سیرابی کے لیے الگ الگ دو چشمے بھی رواں دواں ہوں گے۔ کیونکہ پانی ہی کسی بھی باغ کی سرسبزی و شادابی کی ضمانت ہوتا ہے۔ ان باغوں کی بھی سرسبزی کے لیے اس ضمانت کو فراہم کیا جائے گا۔ آگے آیت ترجیع ہے جو اپنے مفہوم میں واضح ہے۔
Ayahs 55:52–53فِیْہِمَا مِنْ کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوْجٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 52، 53)
(ان باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں ہوں گی۔ پس تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ )
مختلف قسموں کے پھل
یعنی ان باغوں میں ایک ہی قسم کے پھل نہیں ہوں گے جیسے دنیا میں ہر باغ میں ہوتے ہیں بلکہ دونوں میں الگ الگ قسموں کے پھل ہوں گے۔ ان باغوں کے پھلوں کی بھی شکلیں مختلف ہوں گی اور ان کے پھلوں کا لطف و لذت ایک دوسرے سے الگ الگ ہوگا۔ تنوع اس قدر ہوگا کہ نہ آنکھیں اس سے سیراب ہوں گی اور نہ کام و دہن کی لذت ختم ہونے میں آئے گی۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جو بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:54–55مُتَّـکِئِیْنَ عَلٰی فُرُشٍ م بَطَـآئِنُھَا مِنْ اِسْتَبْرَقٍ ط وَجَنَا الْجَنَّـتَـیْنِ دَانٍ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 54، 55)
(وہ ایسے فرشوں پر ٹیک لگا کر بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے اور دونوں باغوں کے پھل ان کے سروں پر لٹک رہے ہوں گے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اہلِ جنت کی نشست اور آرام گاہ
اہلِ جنت ایسے تختوں پر ٹیک لگائے بیٹھے ہوں گے جن پر بچھے ہوئے فرشوں کے استر موٹے اور دبیز ریشم کے ہوں گے۔ اور اس سے اشارہ اس طرف ہے کہ جن بچھے ہوئے فرشوں کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے ان کے ابرے کا اندازہ کون کرسکتا ہے۔ اور پھلدار درختوں کی ٹہنیاں اپنے پھلوں کے ساتھ اس قدر جھکی ہوئی ہوں گی کہ وہ بالکل سروں پر لٹک رہے ہوں گے تاکہ توڑنے میں کوئی زحمت نہ اٹھانی پڑے۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جو اپنے مفہوم میں بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:56–59فِیْھِنَّ قٰصِرٰتُ الطَّرْفِ لا لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَـآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ کَاَنَّھُنَّ الْیَاقُوْتُ وَالْمَرْجَانُ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 56 تا 59)
(ان میں شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی جن کو ان سے پہلے کسی انسان یا جن نے ہاتھ نہیں لگایا ہوگا۔ تم اپنے رب کے کن کن احسانات کو جھٹلائو گے۔ وہ حوریں ایسی ہوں گی گویا یاقوت اور مونگے ہوں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اہلِ جنت کے حرم کی شان
انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ ہزاروں نعمتوں کے باوجود بیوی کی عدم موجودگی میں اپنی شخصیت میں خلاء محسوس کرتا ہے۔ اور اس کی خوشیاں بھی ناتمام رہتی ہیں۔ چناچہ اسی فطرت کے لحاظ سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ جنت کا عیش تو عیش دوام ہوگا، اس کی خوشیاں بھی مکمل اور پائیدار ہوں گی۔ ایسی جنتوں میں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ اہل جنت کو حوروں کی صورت میں بیویاں نہ دی جائیں۔ لیکن وہ بیویاں ایسی ہوں گی جو شرم و حیا والی، عفت مآب اور شرمیلی نگاہوں والی ہوں گی۔ کیونکہ ایک عورت کو جو چیز جنت نگاہ بناتی ہے وہ اس کا حسن بھی ہے اور اس سے بڑھ کر اس کا شرمیلا پن بھی۔ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ شرمیلا پن اس کے حسن کا بھی محافظ ہے اور اس کے اخلاق کا بھی۔ کیونکہ جس عورت میں شرم و حیا کا فقدان ہے وہ ہر جائی تو ہوسکتی ہے، وفادار نہیں ہوسکتی۔ اور اس کی جگہ اپنے رفیقِ حیات کا دل نہیں بلکہ باہر کی دلچسپیاں ہیں۔ اس لیے جنت کی بیویوں اور حوروں میں لاجواب حسن و جمال کے ساتھ ساتھ عفت مآبی، شرم و حیا اور اس کا شرمیلا پن ارشاد فرمایا گیا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس حسن کو آزادانہ نگاہیں خراج ادا کریں یا وہ حسن جو دوسروں کی نگاہوں سے قبولیت کی سند چاہتا ہو، اس میں سب کچھ ہوسکتا ہے پاکیزہ جمالی نہیں ہوسکتی۔ جگر نے بالکل ٹھیک کہا :
رنگ آہی نہیں سکتا پاکیزہ جمالی کا
بےباک نگاہوں کے روندے ہوئے چہرے پر
دوسری بات اس آیت میں یہ فرمائی گئی ہے کہ جنت کی ان حوروں کو اس سے پہلے نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا اور نہ کسی جن نے ہاتھ لگایا ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ کنواری اور باکرہ ہوں گی۔ اس سلسلے میں یہ بات ذہن میں رہنی چاہیے کہ حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کی زندگی میں خواہ کوئی عورت کنواری مری ہو یا کسی کی بیوی کی حیثیت سے، جوان مری ہو یا بوڑھی ہوکر، آخرت میں جب یہ سب نیک خواتین جنت میں جائیں گی تو جوان اور کنواری بنادی جائیں گی۔ وہاں ان میں سے جس خاتون کو بھی کسی نیک مرد کی رفیقہ ٔ حیات بنایا جائے گا وہ جنت میں اپنے اس شوہر سے پہلے کسی سے تعلق رکھنے والی نہ ہوگی۔
اور دوسری بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ جنت میں صرف نیک انسان ہی نہیں جائیں گے بلکہ نیک جن بھی جائیں گے۔ اور وہاں جس طرح انسان مردوں کے لیے انسان عورتیں ہوں گی، اسی طرح جن مردوں کے لیے جن عورتیں بھی ہوں گی۔ دونوں کی رفاقت کے لیے ان ہی کے ہم جنس جوڑے ہوں گے۔ رہی یہ بات کہ جنات کی جنت الگ ہوگی یا انسانوں کے قریب اس کی حقیقت اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن اور انسان دونوں جنسوں کی عورتیں حیادار اور اچھوتی ہوں گی۔ اس کے بعد ترجیع کی آیت ہے اور اس کا موقع و محل واضح ہے۔
اس کے بعد کی آیت میں ان ہی جنتی عورتوں کے حسن کی تعریف میں فرمایا گیا ہے کہ وہ ایسی ہیں جیسے یاقوت اور مرجان۔ ان دونوں کا ذکر ان کے چہروں کی رعنائی، رنگت کی صفائی اور خوبصورتی کی انتہا کے حوالے سے بھی ہے۔ اور اس بات کے لیے بھی کہ ان کا حسن ایسا ہی محفوظ اور مکنون ہے جسے ہیرے اور موتی محفوظ اور چھپا کے رکھے جاتے ہیں۔ اور اس کے بعد ترجیع کی آیت ہے جس کا مفہوم بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:60–61ھَلْ جَزَآئُ الْاِحْسَانِ اِلاَّ الْاِحْسَانُ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 60، 61)
(نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔ پھر اے جن و انس ! تم اپنے رب کے کن کن احسانوں کو جھٹلائو گے۔ )
جزاء و سزا کے حق میں عقل و فطرت کی گواہی
اس آیت کریمہ میں ایک بات تو یہ فرمائی گئی ہے کہ دنیوی زندگی اپنے اندر ایک ایسا حسن رکھتی ہے جس میں ہر ایک کے لیے اپیل موجود ہے۔ اور پھر خواہشاتِ نفس اپنے اندر ایسی اکساہٹ رکھتی ہیں کہ جس سے بچ نکلنا آسان نہیں ہوتا۔ اس کے باوجود جو شخص نہ دنیا کے خوبصورتیوں اور آسانیوں کی طرف توجہ دیتا ہے اور نہ خواہشاتِ نفس اسے اپنا گرویدہ بنانے میں کامیاب ہوتی ہیں، محض اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی رضا عزیز ہے اور وہ اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کے خوف سے کبھی اپنا دامن دنیا کی آلودگیوں سے تر نہیں ہونے دیتا۔ تو کیا اس کی ان نیکیوں کا اسے صلہ نہیں ملنا چاہیے، کیا اس کی قربانیوں کا کوئی بدلہ نہیں ہونا چاہیے۔ اگر ایسا ہو تو پھر خیر و شر کی کیا حقیقت باقی رہے گی۔ اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی سربلندی کا کیا تصور باقی رہے گا۔ جس دنیا میں خیر کا صلہ نہ ہو اور شر کی سزا نہ ہو اس دنیا کے مالک کے بارے میں کیا تصور قائم کیا جاسکتا ہے کہ وہ عادل اور رحیم ہے یا شر کو سپورٹ کرنے والا یا دنیا کے معاملات سے بےنیاز ہے۔ اور اگر وہ واقعی خیر کی سربلندی چاہتا ہے اور برائی سے اسے نفرت ہے اور اس کے باوجود وہ برائی کرنے والے کو سزا نہیں دیتا تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ نہ قادر و عادل ہے اور نہ قاہر و جابر۔ وہ ایک کمزور خدا ہے جس نے کائنات کو پیدا تو کردیا لیکن اس کے بعد یہاں خیر کو غلبہ دینے اور شر کو ناکام کرنے سے عاجز رہ گیا۔ ظاہر ہے اللہ تعالیٰ کے بارے میں ایسے ایسے تصورات انتہائی واہیات اور عقل سے گرے ہوئے ہیں۔ عقل کا فتویٰ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ عادل بھی ہے اور رحیم و کریم بھی۔ اس کے عدل کا تقاضا ہے کہ وہ احسان کا صلہ احسان سے دے۔ اور جن لوگوں نے ہر طرح کے حالات میں نیکی کا دامن تھامے رکھا ان کو انعامات سے نوازے۔ اور جن لوگوں نے اس کے برعکس طرزعمل اختیار کیا انھیں سزا دے۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جس کا مفہوم واضح ہے۔
Ayahs 55:62–63وَمِنْ دُوْنِہِمَا جَنَّتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 62، 63)
(ان دو باغوں کے سوا اور بھی دو باغ ہوں گے۔ تو تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ )
اصحابُ الیمین کی جنت
دُوْنِہِمَا اس کا ایک معنی تو ہے ان دونوں کے علاوہ۔ اور دوسرا معنی ہے ان دونوں سے فروتر۔ معنی کے اسی فرق کی وجہ سے اس آیت کے مفہوم کے تعین میں دشواری ہورہی ہے، لیکن جب ہم سورة الواقعۃ کو دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو دو گروہوں میں تقسیم فرمایا ہے۔ ایک گروہ ہے السابقون کا۔ اور دوسرا گروہ ہے جنھیں اصحابُ الیمین اور اصحابُ المیمنۃ کہا گیا ہے۔ ایسا معلوم ہوا ہے کہ اس سے پہلے جن نعمتوں کا ذکر ہوا ہے اور ان ہی نعمتوں میں دو باغوں کا ذکر بھی کیا گیا ہے یہ سب نعمتیں سابقون کو دی جائیں گی جو مقربینِ بارگاہِ الٰہی میں سب سے بالاقامت ہیں اور اب جن باغات اور نعمتوں کا ذکر شروع ہورہا ہے ان سے اصحابُ الیمین کو نوازا جائے گا۔ اصحابُ الیمین اہل جنت میں سے ہونے کے باوجود مقام و مرتبہ میں سابقون کے بعد ہیں۔ اس لیے ان کی نعمتیں بھی نسبتاً ہزار رفعتوں کے باوجود دوسرے درجے کی ہوں گی۔ چناچہ یہاں جن دو باغوں کا ذکر ہے یہ پہلے دونوں باغوں سے کسی حد تک فروتر ہوں گے۔ حضرت ابوموسیٰ اشعری ( رض) کی روایت بھی اس کی تائید کرتی ہے۔ ان کے صاحبزادے ابوبکر اپنے والد ماجد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ دو جنتیں سابقین یا مقربین کے لیے ہوں گی، جن کے برتن اور آرائش کی ہر چیز سونے کی ہوگی۔ اور دو جنتیں تابعین یا اصحابُ الیمین کے لیے ہوں گی، جن کی ہر چیز چاندی کی ہوگی۔ (فتح الباری، کتاب التفسیر، تفسیر سورة الرحمن) اس کے بعد آیت ترجیع کا مفہوم واضح ہے۔
Ayahs 55:64–65مُدْھَآمَّتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 64، 65)
(گھنے سرسبز و شاداب باغ۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
گزشتہ آیت میں جن باغوں کا ذکر ہے ان کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ وہ انتہائی گھنے اور سرسبز ہوں گے۔ حتیٰ کہ ان کی سرسبزی سیاہی مائل ہوچکی ہوگی۔ مُدْھَآمّۃٌایسی گھنی سرسبزی کو کہتے ہیں جو انتہائی شادابی کے بعد سیاہی مائل ہوگئی ہو۔ اور کسی بھی شاداب باغ کا سب سے خوبصورت رنگ یہی ہوتا ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جو موقع و محل کے اعتبار سے بالکل واضح ہے۔
Ayahs 55:66–67فِیْھِمَا عَیْنٰنِ نَضَّاخَتٰنِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 66، 67)
(ان میں دو چشمے ہوں گے ابلتے ہوے۔ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کو جھٹلائو گے۔ )
اس سے پہلے گزشتہ آیات میں عَیْنٰنِ کی صفت تجریان گزر چکی ہے۔ معلوم ہوتا ہے وہاں میدانی چشموں کا ذکر ہے اور میدان میں چشمے عام طور پر بہتے ہیں، لیکن یہاں پہاڑی چشموں کا ذکر معلوم ہوتا ہے۔ کیونکہ نضخ کے معنی جوش مارنے اور ابلنے کے ہیں۔ اور پہاڑی چشمے عام طور پر جوش کے ساتھ ابلتے ہیں اور اس کے بعد آیت ترجع ہے جس کا مفہوم واضح ہے۔
Ayahs 55:68–69فِیْھِمَا فَاکِھَۃٌ وَّنَخْلٌ وَّرُمَّانٌ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 68، 69)
(ان میں پھل کھجور اور انار ہوں گے۔ تم اپنے رب کی کن کن نعمتوں کا انکار کرو گے۔ )
فَاکِھَۃٌ پھلوں کو بھی کہتے ہیں اور میووں کو بھی۔ اس لیے کہا جاسکتا ہے کہ پہلے میووں کا ذکر فرمایا، اس کے بعد کھجور اور انار کا بطور پھل کے ذکر کیا۔ اور اگر فَاکِھَۃٌ کا ترجمہ پھل کیا جائے تو پھر اس کا مطلب یہ ہے کہ عام کے بعد خاص کے طور پر کھجور اور انار کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ اس سے پہلے آیات میں مِنْ کُلِّ فَاکِھَۃٍ زَوْجٰنِ ارشاد فرمایا گیا ہے۔ وہ سابقون کے لیے تھا اور یہ اصحابُ الیمین کے لیے ہے۔ اور ان دونوں میں فرق واضح ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے جس کے مفہوم میں کوئی الجھن نہیں۔
Ayahs 55:70–75فِیْھِنَّ خَیْرٰتٌ حِسَانٌ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ حُوْرٌ مَّقْصُوْرٰتٌ فِی الْخِیَامِ ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ لَمْ یَطْمِثْھُنَّ اِنْسٌ قَبْلَھُمْ وَلاَ جَآنٌّ۔ فَبِاَیِّ اٰ لَآئِ رَبِّـکُمَا تُـکَذِّبٰنِ ۔ (الجن : 70 تا 75)
(ان میں خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں ہوں گی۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ حوریں خیموں میں رہنے والیاں۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامت کو جھٹلائو گے۔ ان سے پہلے ان کو نہ کسی انسان نے چھوا ہوگا، نہ کسی جن نے۔ تم اپنے رب کے کن کن انعامات کو جھٹلائو گے۔ )
اصحابُ الیمین کو بھی جو بیویاں ملیں گی ان کے بھی دو وصف نمایاں ہوں گے۔ ایک یہ کہ وہ پاکیزہ سیرت ہوں گی اور دوسرا یہ کہ وہ پاکیزہ صورت ہوں گی۔ سیرت کا ذکر صورت سے پہلے فرمایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ سیرت دراصل صورت کی محافظ ہے۔ اس کے بعد آیت ترجیع ہے۔ پھر فرمایا ایسی حوریں ہوں گی جو خیموں میں ٹھہرائی جائیں گی۔ خیموں کی رہائش اہل عرب کی پسندیدہ رہائش رہی ہے۔ ان کے ذوق کا لحاظ کرتے ہوئے یہاں خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔ دورِجاہلیت کا لٹریچر پڑھ کر دیکھیں تو معلوم ہوتا ہے کہ امرائے عرب کے خیمے اور شامیانے ان کے شاندار محلوں کے لیے بھی قابل رشک ہوتے تھے۔ اور یہاں تو جنت کے خیموں کا ذکر ہے جن کی خوبصورتی کا آج تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔
ہم محض استفادے کے لیے تفہیم القرآن کا ایک اقتباس دے رہے ہیں کہ اسے بھی ایک نظر دیکھ لیا جائے۔
اغلب یہ ہے کہ اہل جنت کی بیویاں ان کے ساتھ ان کے قصروں میں رہیں گی اور ان کی سیرگاہوں میں جگہ جگہ خیمے لگے ہوں گے جن میں حوریں ان کے لیے لطف و لذت کا سامان فراہم کریں گیں ہمارے اس قیاس کی بنا یہ ہے کہ پہلے خوب سیرت اور خوبصورت بیویوں کا ذکر کیا جا چکا ہے اس کے بعد اب حوروں کا ذکر الگ کرنے کے معنی یہ ہیں کہ یہ ان بیویوں سے مختلف قسم کی خواتین ہوں گی۔ اس قیاس کو مزید تقویت اس حدیث سے حاصل ہوتی ہے جو حضرت ام سلمہ سے مروی ہے۔ وہ فرماتی ہیں کہ ” میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا، یارسول اللہ ﷺ ، دنیا کی عورتیں بہتر ہیں یا حوریں ؟ حضور ﷺ نے جواب دیا، دنیا کی عورتوں کو حوروں پر وہی فضیلت حاصل ہے جو ابرے کو استر پر ہوتی ہے۔ میں نے پوچھا کس بنا پر ؟ فرمایا اس لیے کہ ان عورتوں نے نمازیں پڑھی ہیں، روزے رکھے ہیں اور عبادتیں کی ہیں۔ “ (طبرانی) ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اہل جنت کی بیویاں تو وہ خواتین ہوں گی جو دنیا میں ایمان لائیں اور اعمال صالحہ کرتی ہوئی دنیا سے رخصت ہوئیں۔ یہ اپنے ایمان و حُسنِ عمل کے نتیجے میں داخل جنت ہوں گی اور بذات خود جنت کی نعمتوں کی مستحق ہوں گی۔ یہ اپنی مرضی اور پسند کے مطابق یا تو اپنے سابق شوہروں کی بیویاں بنیں گی اگر وہ بھی جنتی ہوں یا پھر اللہ تعالیٰ کسی دوسرے جنتی سے ان کو بیاہ دے گا جبکہ وہ دونوں ایک دوسرے کی رفاقت پسند کریں۔ رہیں حوریں، تو وہ اپنے کسی حُسنِ عمل کے نتیجے میں خود اپنے استحقاق کی بنا پر جنتی نہیں بنیں گی بلکہ اللہ تعالیٰ جنت کی دوسری نعمتوں کی طرح انھیں بھی اہل جنت کے لیے ایک نعمت کے طور پر جواں اور حسین و جمیل عورتوں کی شکل دے کر جنتیوں کو عطا کردے گا تاکہ وہ ان کی صحبت سے لطف اندوز ہوں۔ لیکن بہرحال یہ جن و پری کی قسم کی مخلوق نہ ہوں گی، کیونکہ انسان کبھی صحبت ناجنس سے مانوس نہیں ہوسکتا۔ اس لیے اغلب یہ ہے کہ یہ وہ معصوم لڑکیاں ہوں گی جو نابالغی کی حالت میں فوت ہوگئیں اور ان کے والدین جنت کے مستحق نہ ہوئے کہ وہ ان کی ذُرِّیت کی حیثیت سے جنت میں ان کے ساتھ رکھی جائیں۔ (تفہیم القرآن)
اس کے بعد آیت ترجیع ہے۔
اس کے بعد ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اصحابُ الیمین کو جو بیویاں عطا کرے گا انھیں نہ کسی انسان اور کسی جن نے ہاتھ تک نہیں لگایا ہوگا۔ اس کی تشریح پہلے ہوچکی ہے۔ اور اس کے بعد آیت ترجیع ہے جس کا مفہوم واضح ہے۔