Ayahs 56:41–44وَاَصْحٰبُ الشِّمَالِ 5 لا مَـآ اَصْحٰبُ الشِّمَالِ ۔ فِیْ سَمُوْمٍ وَّحَمِیْمٍ ۔ وَّظِلٍّ مِّنْ یَّحْمُوْمٍ ۔ لاَّ بَارِدٍ وَّلاَ کَرِیْمٍ ۔ (الواقعۃ : 41 تا 44)
( اور بائیں بازو والے، اور بائیں بازو والوں کی بدنصیبی کا کیا کہنا۔ وہ لو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی۔ اور کالے دھویں کے سایہ میں ہوں گے۔ جو نہ ٹھنڈا ہوگا اور نہ آرام دہ۔ )
اصحابُ الشمال کا انجام
یہاں سے ان لوگوں کی بدنصیبی کا حال شروع ہورہا ہے جن کے اعمال نامے ان کے بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے۔ ان کی بدنصیبی کا عالم یہ ہوگا کہ انھیں لو کی لپٹ میں ڈالا جائے گا۔ جہنم کی آگ انھیں جلائے گی۔ اور جب وہ اس سے گھبرا کر پانی کی طرف بھاگیں گے تو انھیں کھولتا ہوا پانی پینے کو ملے گا۔ اور یہی بھاگ دوڑ ان کی زندگی ہوگی۔ کبھی انھیں اگر جہنم کی آگ سے نکلنے کا موقع ملے گا تو وہ عذاب کی شدت میں کمی کے لیے سایہ ڈھونڈیں گے۔ تو سیاہ دھویں کا سایہ انھیں میسر آئے گا۔ اور یہ سایہ ایسا ہوگا کہ نہ تو اس میں سائے جیسی ٹھنڈک ہوگی اور نہ کسی اور پہلو سے ان کے لیے فائدہ بخش ہوگا۔ البتہ اس میں وہ ساری اذیتیں ہوں گی جو گرم سائے میں ہوسکتی ہیں۔
Ayahs 56:45–48اِنَّہُمْ کَانُوْا قَبْلَ ذٰلِکَ مُتْرَفِیْنَ ۔ وَکَانُوْا یُصِرُّوْنَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظِیْمِ ۔ وَکَانُوْا یَقُوْلُوْنَ 5 لا اَئِذَا مِتْنَا وَکُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًا ئَ اِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ ۔ اَوَاٰبَـآؤُنَا الْاَوَّلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 45 تا 48)
(یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس سے پہلے خوشحال تھے۔ اور سب سے بڑے گناہ پر اصرار کرتے تھے۔ اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو پھر اٹھا کھڑے کیے جائیں گے۔ اور کیا ہمارے وہ باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں۔ )
اصحابُ الشمال کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر
گزشتہ آیات میں جن لوگوں کا ذکر ہوا ہے اب ان کے بڑے بڑے جرائم کا ذکر کیا جارہا ہے اور یہی وہ جرائم ہیں جن کے سبب سے وہ انجامِ بد کو پہنچے۔ ان میں سے پہلا جرم یہ ہے کہ یہ لوگ دنیا میں بڑے مالدار اور خوشحال تھے۔ ٹھاٹھ باٹھ سے زندگی گزر رہی تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان نعمتوں پر شکر کرنے کی بجائے استکبار کا رویہ اختیار کیا۔ اور اللہ تعالیٰ کے رسول کی دعوت کے جواب میں یہ کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں دنیا میں بھی رفاہیت بخشی ہے اور آخرت میں بھی ہمیں سرافراز کرے گا۔ اور جہاں تک تم مسلمانوں کا تعلق ہے تم دنیا میں بھی دھکے کھا رہے ہو اور آخرت میں بھی تمہارا مقدر محرومیاں ہوں گی۔ اور اس کے ساتھ ساتھ ان کا حال یہ تھا کہ وہ گناہ عظیم پر اصرار کرتے تھے۔ عظیم کے لفظ سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ اس سے مراد شرک ہے۔ کیونکہ قرآن کریم نے شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا ہے۔ ہزار سمجھانے کے باوجود وہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو ماننے کی بجائے شرک پر اصرار کرتے تھے۔ اور جب انھیں ان کے انجامِ بد سے ڈرایا جاتا اور آخرت یاد دلائی جاتی تو وہ مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ آخرت کو ماننے کا مطلب تو یہ ہے کہ جب ہم مرجائیں گے اور ایک عرصہ گزرنے کے بعد ہم مٹی ہوجائیں گے اور ہماری ہڈیاں تک الگ الگ ہوجائیں گی تو ہم ازسرنو زندہ کیے جائیں گے۔ بلکہ صرف ہم ہی نہیں تمہاری باتوں سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے و آبائواجداد بھی زندہ کیے جائیں گے جو مدتوں پہلے گزر چکے ہیں اور پھر وہ نہایت برہمی کے انداز میں پوچھتے کہ تم ہی کہو کہ ایسی انہونی باتیں قابل قبول ہوسکتی ہیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ تم محض لوگوں کو بیوقوف بنا رہے ہو۔
Ayahs 56:49–50قُلْ اِنَّ الْاَوَّلِیْنَ وَالْاٰخِرِیْنَ ۔ لَمَجْمُوْعُوْنَ 5 لا اِلٰی مِیْقَاتِ یَوْمٍ مَّعْلُوْمٍ ۔ (الواقعۃ : 49، 50)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! بیشک اگلے اور پچھلے۔ سب جمع کیے جائیں گے، ایک معین دن کی مقررہ مدت تک۔ )
قریش کو تنبیہ
اصحابُ الشمال کے جرائم بیان کرنے کے بعد آنحضرت ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ اپنے مخالفین سے کہئے کہ تم بھی آخرت کے عقیدے کے جواب میں اسی طرح کی فرسودہ باتیں کرتے ہو، اور بار بار یہ سوال اٹھاتے ہو کہ جب ہم بوسیدہ ہڈیوں میں تبدیل ہوچکے ہوں گے تو آخر دوبارہ ہمیں کیسے اٹھایا جائے گا۔ تمہیں خوب معلوم ہونا چاہیے کہ کہ جتنے بھی اگلے اور پچھلے ہیں سب ایک معین دن کی مقررہ میعاد تک جمع کیے جاتے رہیں گے۔ اور جب وہ میعاد آجائے گی تو جزاء و سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے۔ یعنی تم یہ سمجھتے ہو کہ جو مرجاتے ہیں وہ ختم ہوجاتے ہیں اور آہستہ آہستہ ان کی یاد تمہارے حافظوں سے محو بھی ہوجاتی ہے۔ لیکن تمہیں یہ معلوم نہیں کہ وہ ختم نہیں ہوتے، انھیں عالم برزخ میں جمع کیا جاتا ہے۔ جہاں کہیں بھی ان کے جسم کے اجزاء موجود ہوں گے مقررہ میعاد کے آنے پر سب جمع کیے جائیں گے اور انھیں انسانی جسموں میں تبدیل کرکے بولتے ہوئے انسان بنا کر محشر میں پہنچا دیا جائے گا اور وہاں وہ اپنے اعمال کی جواب دہی کریں گے۔
Ayahs 56:51–56ثُمَّ اِنَّـکُمْ اَیُّھَا الضَّآلُّوْنَ الْمُکَذِّبُوْنَ ۔ لَاٰکِلُوْنَ مِنْ شَجَرٍ مِّنْ زَقُّوْمٍ ۔ فَمَالِـُٔوْنَ مِنْھَا الْبُطُوْنَ ۔ فَشٰرِبُوْنَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمِیْمِ ۔ فَشٰرِبُوْنَ شُرْبَ الْھِیْمِ ۔ ھٰذَا نُزُلُہُمْ یَوْمَ الدِّیْنِ ۔ (الواقعۃ : 51 تا 56)
(اے گمراہو، اور جھٹلانے والو !۔ تم شجرِزقوم کی غذا کھائو گے۔ پھر اسی سے اپنے پیٹ بھرو گے۔ پھر اس پر کھولتا پانی پیو گے۔ تونس لگے ہوئے اونٹوں کی طرح۔ یہ ان کی پہلی مہمانی ہوگی جزاء کے دن کی۔ )
قریش سے مزید کہا گیا، اے گمراہو اور جھٹلانے والو ! کہ تم نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی بجائے شرک کا راستہ اختیار کیا، اور آخرت کو تم ہمیشہ جھٹلاتے رہے۔ اب تم آخرت میں پکڑے گئے ہو، اب تمہیں جہنم میں زقوم کے خاردار اور کڑوے پھلوں سے اپنا پیٹ بھرنا ہوگا۔ اور جب تمہاری پیاس بھڑکے گی تو تم کھولتا ہوا پانی پیو گے۔ اور اس طرح پیو گے جیسے تونس لگے ہوئے اونٹ پیتے ہیں۔
ھِیْمِجمع ہے اَھْیَمْ کی۔ اس اونٹ کو کہتے ہیں جس کو ھیام یعنی تونس کی بیماری لگ جائے۔ جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ وہ پانی پیتا چلا جاتا ہے، لیکن اس کی پیاس نہیں بجھتی۔
آخر میں فرمایا کہ یہ ان بدبختوں کی جہنم میں پہلی ضیافت ہوگی جو ان کے سامنے پیش کی جائے گی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی قدر نہ کی۔ اس نے جسم و جان کی رعنائیوں اور بیشمار نعمتوں سے انھیں نوازا۔ لیکن بجائے شکر ادا کرنے کے، استکبار کا رویہ اختیار کیا، اور اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کی بجائے اکڑ گئے۔ تو اب جہنم میں ان کے ساتھ وہ سلوک ہورہا ہے جو کسی ذلیل ترین انسان سے بھی نہیں ہوتا۔ لیکن اس پہلی ضیافت کے بعد کون اندازہ کرسکتا ہے کہ اس کے بعد ان کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔
Ayah 56:57نَحْنُ خَلَقْنٰـکُمْ فَلَوْلاَ تُصَدِّقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 57)
(ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے، پھر تم کیوں تصدیق نہیں کرتے ہو ؟۔ )
خطاب ان ہی منکرین سے ہے جو اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کا بھی انکار کرتے تھے اور آخرت کو بھی تسلیم نہیں کرتے تھے۔ ان کے سامنے ایک ہی دلیل رکھی گئی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں پیدا فرمایا، اگر تم اپنی خلقت پر غور کرو تو تمہیں اندازہ ہوجائے گا کہ تمہاری تخلیق میں اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی اور کا دخل نہیں، وہی واحد خالق ومالک ہے۔ اور قادرمطلق ہے کہ وہ اولین تخلیق پر بھی قادر ہے تو دوسری تخلیق پر بھی وہی قادر ہے۔ پھر اگلی آیت میں اس کی تفصیل بیان فرمائی گئی ہے۔
Ayahs 56:58–59اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تُمْنُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ تَخْلُقُوْنَـہٗٓ اَمْ نَحْنُ الْخٰلِقُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 58، 59)
(کیا تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم ٹپکا دیتے ہو۔ اس سے بچہ تم پیدا کرتے ہو یا ہم پیدا کرنے والے ہیں۔ )
انسان کی اپنی خلقت سے قیامت پر دلیل
اس میں انسان سے خود اس کی خلقت کے بارے میں سوال کیا گیا ہے۔ مقصود یہ نہیں کہ وہ جواب دے بلکہ مقصود یہ ہے کہ وہ اس پر غور کرے اور دیکھے کہ انسان کی تخلیق میں خود انسان کا کتنا حصہ ہے۔ اور پھر کیا اس میں قدم قدم پر اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا اظہار ہوتا ہے یا نہیں۔ جب ہم اس پر غور کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ انسان کا کام صرف اتنا ہے کہ وہ پانی کی ایک بوند عورت کے رحم میں ٹپکا کر الگ ہوجاتا ہے۔ اس بوند میں بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت نہیں۔ اور نہ یہ صلاحیت ہے کہ جو کچھ پیدا ہو وہ انسان ہی کا بچہ ہو۔ اور نہ اس میں کسی اور قوت کا دخل ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ ہی کی ذات ہے جو اس بوند کو تہ بہ تہ تاریکیوں کے اندر گوناگوں مراحل سے گزار کر ایک بھلے چنگے بچہ کی صورت میں عورت کے پیٹ سے باہر لاتی ہے اور پھر اس کو بچپن، بلوغ، جوانی اور بڑھاپے کے مراحل سے گزار کر نوع انسانی کا گل سرسبد بنا دیتی ہے۔ اس کی تفصیلات میں آدمی جتنا اترتا چلا جائے اتنا ہی حیرت میں ڈوبتا جاتا ہے کہ پانی کی یہ بوند پہلے ایک کیڑے کی شکل اختیار کرتی ہے جو طاقتور خوردبین کے بغیر نظر تک نہیں آسکتا۔ پھر یہ کیڑا عورت کے جسم کی تاریکیوں میں کسی وقت اس نسوانی انڈے سے جا ملتا ہے جو اسی کی طرح ایک حقیر سا خوردبینی وجود ہوتا ہے۔ پھر ان دونوں کے ملنے سے ایک چھوٹا سا زندہ خلیہ (Cell) بن جاتا ہے جو حیات انسانی کا نقطہ آغاز ہے۔ پھر اس کے بعد جو اس میں تبدیلیاں آتی ہیں اور درجہ بدرجہ جس طرح یہ خلیہ بچے کی صورت اختیار کرتا ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کا کوئی دخل نہیں۔ تو جس شخص کی نگاہوں میں خلقت انسانی کا یہ پورا سلسلہ موجود ہو وہ کبھی اس غلط فہمی میں مبتلا نہیں ہوسکتا کہ اس کی خلقت میں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی کارفرمائی بھی شامل ہے۔ اور یا اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور میں بھی یہ قدرت ہے کہ وہ ایسا حیرت انگیز کارنامہ وجود میں لاسکے۔
Ayahs 56:60–61نَحْنُ قَدَّرْنَا بَیْنَـکُمُ الْمَوْتَ وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ اَمْثَالَـکُمْ وَنُنْشِئَـکُمْ فِیْ مَالاَ تَعْلَمُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 60، 61)
(ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کی ہے، اور ہم عاجز نہیں ہیں۔ اس بات سے کہ ہم تمہاری جگہ تمہارے مانند بنادیں، اور تمہیں اس عالم میں اٹھائیں جس کو تم نہیں جانتے۔ )
اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ کا حوالہ
یعنی جس طرح ہم تمہاری صورت گری اور تمہاری تخلیق پر قادر ہیں اسی طرح ہم تمہاری موت پر بھی قادر ہیں۔ ہم نے تمہارے درمیان موت مقدر کر رکھی ہے۔ یہ بات ہم طے کرتے ہیں کہ کس کو ماں کے پیٹ ہی میں اور کسے پیدا ہوتے ہیں مرجانا ہے اور کسے کس عمر تک پہنچ کر مرنا ہے۔ نہ کوئی وقت سے پہلے مرسکتا ہے اور نہ کوئی کسی آئی ہوئی موت کو روک سکتا ہے۔ اور ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہیں ایک ایسے عالم میں اٹھا کھڑا کریں جس کے نوامیس و قوانین اس عالم سے بالکل مختلف ہوں گے اور تم انھیں بالکل نہیں جانتے۔ تمہیں اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ مرنے اور سڑگل جانے کے بعد مجرد ایک نفخہ صور سے ساری خلقت ازسرنووجود میں کیسے آجائے گی۔ اور پھر کیسے ایک ایک فرد کا حساب ہوگا۔ اور پھر جنت اور دوزخ ابدی کیسے ہوسکتی ہیں، لیکن تمہارے اس اشکال کی وجہ صرف یہ ہے کہ تم جس دنیا میں رہ رہے ہو اسی کے قوانین سے واقف ہو۔ لیکن اللہ تعالیٰ اس بات پر قادر ہے کہ وہ ایک ایسا جہان پیدا کرے جس کے نوامیس و قوانین دنیا سے بالکل الگ ہوں۔ جس طرح یہاں فنا ہر چیز کا مقدر ہے اسی طرح وہاں ہر چیز کے لیے ابدیت لازم ہوگی۔ یہاں موت کے بعد بظاہر زندگی کے آثار نظر نہیں آتے اور زندگی ختم ہوجاتی ہے۔ لیکن وہاں نئی زندگی کے بعد موت ختم ہوجائے گی۔ جہنم کی آگ کسی کو موت سے ہمکنار نہ کرسکے گی۔ دنیا میں بھی جو قوانین کارفرما ہیں یہ اللہ تعالیٰ ہی کے بنائے ہوئے ہیں اور آخرت میں جو کچھ ہوگا وہ بھی اللہ تعالیٰ ہی کا حکم ہوگا اور اسی کے فیصلے کی تعبیر ہوگی۔ لیکن آج چونکہ اس جہان کو ہم نہیں جانتے اس لیے اس پر ایمان لانے میں انسان کو دشواری پیش آرہی ہے۔ اگر وہ اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کی قدرت کاملہ کا یقین پیدا کرلے تو پھر اس کے لیے کوئی دشواری پیدا نہیں ہوسکتی۔
Ayah 56:62وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ النَّشْاَۃَ الْاُوْلٰی فَلَوْلاَ تَذَکَّرُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 62)
(اپنی پہلی پیدائش کو تم جانتے ہو، تو پھر کیوں سبق حاصل نہیں کرتے۔ )
یعنی اگر تم نے عالم آخرت کو نہیں دیکھا جس میں انسان نئی زندگی پا کر پہنچے گا تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ تم آخرت کا انکار کردو، اور اس کی تکذیب پر اصرار کرنے لگو۔ آخر تم نے دنیا کی زندگی کو تو دیکھا ہے اس سے سبق حاصل کیوں نہیں کرتے، اور وہ سبق یہ ہے کہ ہماری تخلیق اور ہماری یہ دنیا اور یہاں چلنے والے قوانین سب اللہ تعالیٰ کی حاکمیت اور اس کی قدرت کاملہ کا ظہور ہے۔ اس سے تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کو کرنے پر قادر ہے۔ لیکن اس کے بالکل برعکس یہ نتیجہ اخذ کرنا کہ چونکہ یہاں کی ہر چیز فانی اور ختم ہونے والی ہے تو ہم آخر اس دنیا کو کیسے تسلیم کرلیں جو ہمیشہ رہنے والی ہے۔ اس میں الجھن صرف اس بات سے پیدا ہوتی ہے کہ ہم دنیا کو حتمی اور دائمی سمجھتے ہیں، اور اس میں ہونے والی ہر بات کو حالات کا تقاضا جانتے ہیں۔ لیکن اگر یہ بات سمجھ میں آجائے کہ یہ کچھ ہورہا ہے سراسر اللہ تعالیٰ کی قدرت سے ہورہا ہے اور اس کی قدرت کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ جس طرح دنیا بنا سکتا ہے، اسی طرح وہ آخرت بھی بنا سکتا ہے۔ ہمیں یہاں کوئی الجھن پیش نہیں آتی تو وہاں آخر کیوں آئے گی۔ فرق صرف یہ ہے کہ اس دنیا کو ہم دیکھ رہے ہیں، وہ دنیا ہماری آنکھوں سے اوجھل اور عقل کی رسائی سے ماورا ہے۔
Ayahs 56:63–64اَفَرَئَ یْتُمْ مَّا تَحْرُثُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ تَزْرَعُوْنَـہٗٓ اَمْ نَحْنُ الزّٰرِعُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 63، 64)
(کبھی تم نے غور کیا ہے اس چیز پر جو تم بوتے ہو۔ اس کی کھیتیاں تم اگاتے ہو یا ان کے اگانے والے ہم ہیں۔ )
نظامِ ربوبیت سے استدلال
انسان کی خلقت سے استدلال کرنے کے بعد انھیں اس بات کی طرف توجہ دلائی جارہی ہے کہ جس طرح تمہارا وجود اللہ تعالیٰ کی قدرت کا شاہکار ہے اسی طرح تمہاری بقاء کا سامان جس غذا سے ہورہا ہے وہ بھی اس رب کریم کی ربوبیت کا فیضان ہے۔ اور اس میں بھی نہ اس رب کریم کے ساتھ کوئی شریک ہے اور نہ کسی اور کی قدرت میں ہے کہ وہ غذا کا سامان بہم پہنچاسکے۔ جس طرح انسان کی تخلیق میں انسان کا دخل صرف اتنا تھا کہ وہ پانی کی ایک بوند عورت کے رحم میں ٹپکا کر الگ ہوجاتا ہے۔ یہاں بھی یہی حال ہے کہ کسان کھیتی میں بیج ڈال کر الگ ہوجاتا ہے۔ نہ یہ زمین اس کی ہے جسے اس نے بیج ڈالنے کے لیے انتخاب کیا ہے۔ نہ اس زمین کو روئیدگی کی صلاحیت اس نے بخشی ہے۔ اس میں وہ مادے جن سے انسان کی غذا کا سامان بہم پہنچتا ہے انسان نے فراہم نہیں کیے۔ پھر اس بیج کی نشو و نما میں انسان کا کوئی حصہ نہیں۔ اس کاشت کو لہلہاتی کھیتیوں میں تبدیل کرنے کے لیے زمین کے اندر جس عمل اور زمین کے اوپر جس ہَوا، پانی، حرارت، برودت اور موسمی کیفیت کی ضرورت ہے ان میں سے کوئی چیز انسان کی تدبیر کا نتیجہ نہیں۔ یہ سب کچھ اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور اسی کی پروردگاری کا کرشمہ ہے۔
Ayahs 56:65–67لَوْنَشَآئُ لَجَعَلْنٰـہُ حُطَامًا فَظَلْتُمْ تَفَـکَّھُوْنَ ۔ اِنَّا لَمُغْرَمُوْنَ ۔ بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 65 تا 67)
(ہم چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کردیں، اور تم باتیں ہی بناتے رہ جاؤ۔ کہ ہم پر تو الٹی چٹی پڑگئی۔ بلکہ ہم تو بالکل ہی محروم رہے۔ )
یعنی اس معاملے میں انسان کی بےبسی کا حال تو یہ ہے کہ وہ جس بیج کو کاشت کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ ہی کی قدرت اور رحمت سے پروان چڑھتا اور کھیتی کی صورت میں لہلہانے لگتا ہے۔ اگر اسے کوئی افتاد پہنچ جائے تو انسان اس کو بچانے پر قادر نہیں۔ اسی لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اگر چاہیں تو اس کو ریزہ ریزہ کردیں۔ جس وقت تمہارا یہ حال ہو کہ تم کھیتی کے پک جانے کے بعد اب اس کے توڑنے یا کاٹنے کی فکر میں ہو اور اس کا کھلیان گھر لے جانے کا انتظام کررہے ہو کہ اچانک اللہ تعالیٰ بادِتند بھیج کر یا ژالہ باری کرکے چشم زدن میں بالکل ریزہ ریزہ کرکے رکھ دے تو تم پھر باتیں بناتے ہی رہ جاؤ۔ یعنی تمہاری کسی کی سمجھ میں نہ آئے کہ اس حادثہ کی کیا توجیہ کرے اور اپنے نقصان کا اندازہ دوسروں کو کیا بتائے۔ بلکہ تم تو سرتاپا حسرت بن کر اپنے تباہ ہوجانے کا ماتم کرنے لگو۔ کہ سال بھر کی کمائی لٹ گئی اور ہم تو بالکل ہی محروم رہ گئے۔ جو کچھ لگایا وہ بھی پلے نہ پڑا۔ اس کے بعد ہماری گزربسر کا سامان کیا ہوگا۔
Ayahs 56:68–69اَفَرَئَ یْتُمُ الْمَآئَ الَّذِیْ تَشْرَبُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ اَنْزَلْـتُمُوْہُ مِنَ الْمُزْنِ اَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 68، 69)
(کیا تم نے اس پانی کو دیکھا ہے جو تم پیتے ہو۔ کیا تم نے اس کو بادلوں سے اتارا ہے یا اس کے اتارنے والے ہم ہیں۔ )
انزالِ ماء سے استدلال
فیضانِ ربوبیت کا دوسرا ثمرہ غذائی نعمتوں کے سلسلے میں یہ پانی کی نعمت ہے جس کی احتیاج انسان کے لیے غذا سے بھی زیادہ ہے۔ اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ ذرا غور سے دیکھو یہ پانی جو تم پیتے ہو اس کو بادلوں سے تم نے اتارا ہے یا ہم اس کے اتارنے والے ہیں۔ سمندر کی کرنیں پانی کو بھاپ بنا کر اڑاتی ہیں اور پھر پانی میں ہم نے یہ خاصیت پیدا کی ہے کہ جو چیزیں اس کے اندر تحلیل ہوچکی ہوتی ہیں بھاپ انھیں ساتھ لے کر نہیں اڑتی، بلکہ ان کو سمندر میں جھٹک کر خالص پانی کے ذرات لے کر ایک خاص درجہ حرارت پر فضا میں پھیل جاتی ہے۔ پھر ہماری ہَوائیں اسے لے کر اٹھتی ہیں۔ ہماری قدرت اور حکمت سے وہ بھاپ جمع ہو کر بادل کی شکل اختیار کرتی ہے۔ ہمارے حکم سے یہ بادل ایک خاص تناسب سے تقسیم ہو کر زمین کے مختلف خطوں میں پھیلتے ہیں۔ جس خطہ زمین کو جتنے پانی کی ضرورت ہوتی ہے وہاں اتنا پانی برسایا جاتا ہے۔ اور زمین اپنی ضرورت کے مطابق اسے چوستی ہے اور باقی ندی نالوں میں پہنچ جاتا ہے۔ اور پہاڑوں پر برف کی صورت میں پانی جما دیا جاتا ہے۔ گرمیوں میں وہ پگھل پگھل کر پانی کی شکل اختیار کرکے ندی نالوں اور دریائوں پہنچ جاتا ہے اور انسانی کھیتیوں کی سیرابی کے کام آتا ہے۔
Ayah 56:70لَوْنَشَآئُ جَعَلْنٰـہُ اُجَاجًا فَلَوْلاَ تَشْکُرُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 70)
(اگر ہم چاہیں تو اس کو سخت کھاری بنا کر رکھ دیں، پھر تم شکر کیوں ادا نہیں کرتے۔ )
ہم بادلوں سے زمین پر جو پانی برساتے ہیں وہ نہایت صاف ستھرا، صحت افزاء اور میٹھا ہوتا ہے۔ حالانکہ وہ جس سمندر سے بھاپ بن کر اٹھتا ہے اس سمندر کے پانی میں نمک ہوتا ہے۔ وہ نہ پینے کے قابل ہوتا ہے اور نہ اس سے زمین کی سیرابی ہوسکتی ہے۔ اگر اللہ تعالیٰ بھاپ میں یہ خاصیت نہ رکھتا کہ وہ ساری آمیزشیں نیچے چھوڑ دے اور صرف اصل آبی اجزاء کو لے کر ہوا میں اڑے۔ تو ایسا پانی زمین پر برسنے کے بعد زمین کو زمین شور میں تبدیل کردیتا۔ نہ کسی قسم کی نباتات اگتی اور نہ انسان کی پیاس بجھنے کا انتظام ہوتا۔ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر ہم چاہتے تو اس پانی کو کھاری اور تلخ بنا دیتے۔ تو کیا انسانوں پر اتنے بڑے احسان کے بعد یہ حق عائد نہیں ہوتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے۔ اقبال نے اپنے مخصوص انداز میں اللہ تعالیٰ کے ان ہی احسانات کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ انسان کو سوچنا چاہیے کہ :
پالتا ہے بیج کو مٹی کی تاریکی میں کون
کون دریائوں کی موجوں سے اٹھاتا ہے سحاب
کون لایا کھینچ کر پچھم سے باد سازگار
خاک یہ کس کی ہے کس کا ہے یہ نور آفتاب
کس نے بھر دی موتیوں سے خوشہ گندم کی جیب
موسموں کو کس نے سکھلائی یہ خوئے انقلاب
Ayahs 56:71–73اَفَرَئَ یْتُمُ النَّارَالَّتِیْ تُوْرُوْنَ ۔ ئَ اَنْتُمْ اَنْشَاْ تُمْ شَجَرَتَھَـآ اَمْ نَحْنُ الْمُنْشِـُٔوْنَ ۔ نَحْنُ جَعَلْنٰـھَا تَذْکِرَۃً وَّمَتَاعًا لِّلْمُقْوِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 71 تا 73)
(ذرا غور تو کرو اس آگ پر جس کو تم جلاتے ہو۔ اس کے درخت کو تم نے پیدا کیا ہے یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں۔ ہم نے اس کو یاددہانی اور حاجت مندوں کے لیے سامان زیست بنایا ہے۔ )
آگ جیسی نعمت سے استدلال
غذا اور پانی جیسی نعمتوں کے احسانات کا ذکر کرنے کے بعد، اب آگ کی نعمت کا ذکر فرمایا۔ یہ بھی انسان کی غذائی ضرورتوں میں بہت اہم حیثیت رکھتی ہے۔ اس کی ضرورت تو آج کے جدید اور متمدن دور میں بھی کم نہیں ہوئی بلکہ شاید پہلے سے بڑھ گئی ہے۔ کیونکہ پہلے تو صرف ہاتھ تاپنے اور کھانا پکانے کے کام آتی تھی اور اب تو ہماری صنعت اور ایجاد کا بہت کچھ دارومدار آگ پر ہے۔ پرانے وقتوں میں جبکہ دیاسلائی ابھی ایجاد نہیں ہوئی تھی، آبادیوں میں بھی آگ کو سنبھال کر رکھا جاتا تھا اور صحرا میں سفر کرنے والوں کے لیے تو اس کا حصول بہت بڑی نعمت تھی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ایسے پتھر پیدا فرمائے جن کی رگڑ سے آگ پیدا ہوتی ہے۔ اور اس سے عجیب تر بات یہ کہ اس نے دو ایسے درخت پیدا کیے جن کی ہری بھری دو ٹہنیوں کو ایک دوسرے سے ٹکرا کر آگ بھڑکائی جاسکتی تھی۔ ان کو مرخ اور عفار کہتے ہیں۔ اسی لیے ارشاد فرمایا کہ جن درختوں سے تم آگ نکالتے ہو کیا وہ درخت تم نے پیدا کیے ہیں یا ہم نے پیدا کیے ہیں۔ ظاہر ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پیدا کیے، انسان تو کبھی اس کا تصور بھی نہیں کرسکتا تھا۔ انسان کے لیے یہ بات تعجب خیز ہے کہ جہنم کی آگ میں زقوم کا درخت کیسے پیدا ہوگیا۔ اور کتنے ملحدین ہیں جو اسے اعتراض کے طور پر پیش کرتے ہیں۔ لیکن اے کاش ! وہ کبھی یہ بھی سوچیں کہ جس پروردگار نے ایسے درخت پیدا کیے ہیں جن کی تر شاخوں کے ٹکرانے سے آگ جھڑتی ہے وہ جہنم میں درخت کیوں نہیں پیدا کرسکتا۔ زیادہ سے زیادہ یہ کہا جاسکتا ہے کہ درخت اور آگ دو متصادم چیزیں ہیں جن میں یکجائی نہیں ہوسکتی۔ لیکن اس کا ہمارے پاس کیا جواب ہے کہ یہ کائنات تو متخالف عناصر کی رزم گاہ ہے لیکن وہ آپس میں ٹکرانے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے قانونِ برتر کی اطاعت اور تعمیل میں لگے رہتے ہیں۔ آخر میں فرمایا کہ اس آگ کو ہم نے یاددہانی کا ذریعہ بنایا ہے کہ وہ روشن ہو کر انسان کو یاددلاتی رہے کہ اگر آگ نہ ہوتی تو انسان کی زندگی حیوان کی زندگی سے مختلف نہ ہوتی۔ انسان بھی حیوان کی طرح کچی غذائیں کھا کر پلتا۔ آگ نے ہمارے کھانوں کو پکایا اور ہمارے اندر شائستگی پیدا کی۔ اور پھر اس کے لیے صنعت و ایجاد کے نئے نئے دروازے کھلتے چلے گئے۔
مُقْوِیْنَ کے معنی اہل لغت نے مختلف لکھے ہیں۔ بعض اسے صحرا میں اترے ہوئے مسافروں کے معنی میں لیتے ہیں۔ بعض اس کے معنی بھوکے آدمی کے لیتے ہیں۔ ہر معنی کے لحاظ سے آگ اللہ تعالیٰ کی ایسی نعمت ہے جس نے انسانوں کے لیے بیش بہا آسانیاں پیدا کی ہیں۔ انسان اس کی افادیت کو دیکھ کر اللہ تعالیٰ کی یاد میں کھو جاتا ہے۔
Ayah 56:74فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّـکَ الْعَظِیْمِ ۔ (الواقعۃ : 74)
(پس اے نبی اپنے رب عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ )
تسبیح سے قوت حاصل کرنے کا حکم
بحث کے آخر میں نبی کریم ﷺ کو حکم دیا جارہا ہے کہ آپ مخالفین کی مخالفت اور ان کی بےہودگیوں کا اثر قبول نہ کریں۔ دلائل کی حد تک ان کے سمجھانے میں کوئی کمی نہیں رہی۔ آپ نے ہمدردی اور خیرخواہی کا آخری قطرہ تک نچوڑ ڈالا۔ اب بھی اگر یہ لوگ اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہیں آتے تو بجائے ان کے اس رویئے سے متأثر ہونے سے آپ اپنے رب کی تسبیح میں لگ جایئے۔ انھوں نے شرک کو جس طرح اپنا شعار بنا رکھا ہے اس کے نتیجے میں ان کے دلوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت نکل گئی ہے۔ اور وہ زبان سے کہیں یا نہ کہیں لیکن اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات دوسری قوتوں کی طرف منسوب کرکے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے تصور کو گہنا دیا ہے۔ آپ کا کام یہ ہے کہ آپ ایسے ہر برے تصور سے اللہ تعالیٰ کی ذات کی پاکیزگی کا اعلان کریں اور اس کی عظمت کے گن گاتے ہوئے ان کی نام نہاد عظمتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیں۔
Ayahs 56:75–77فَـلَآ اُقْسِمُ بِمَوٰ قِعِ النُّجُوْمِ ۔ وَاِنَّـہٗ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُوْنَ عَظِیْمٌ۔ اِنَّـہٗ لَقُرْاٰنٌ کَرِیْمٌ۔ (الواقعۃ : 75 تا 77)
(پس نہیں ! میں قسم کھاتا ہوں ستاروں کے مواقع کی۔ بیشک یہ ایک بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو۔ بیشک یہ ایک بلند پایہ قرآن ہے۔ )
لَآ کا محمل اور قسم کا مفہوم
لَآ فعل اُقْسِمْ کا حصہ نہیں۔ اس کی حیثیت اس سے بالکل الگ ہے۔ مخاطب کے زعم باطل کی تردید کے لیے اس طرح نفی کا لانا عربی زبان اور قرآن میں معروف ہے۔ مثلاً سورة النساء میں ارشاد فرمایا گیا ہے فَلاَ وَرَبِّکَ لاَ یُوْمِنُوْنَ حَتّٰی یُحَکِّمُوْکَ فِیْمَا شَجَرَبَیْنَھُمْ ” پس نہیں ! تیرے رب کی قسم وہ مومن نہیں ہوسکتے جب تک وہ اپنے درمیان پیدا ہونے والے اختلافات میں آپ کو حَکَم نہ بنائیں۔ “ منافقین یہ سمجھتے تھے کہ محض کلمہ پڑھ لینے سے آدمی مسلمان ہوجاتا ہے، آنحضرت ﷺ کی کامل اطاعت کی ضرورت نہیں۔ لَآ کہہ کر ان کے ان خیالاتِ باطلہ کی تردید کی گئی ہے۔ اور اس کے بعد قسم کھا کر حقیقت کا اظہار فرمایا گیا ہے۔ اسی طرح یہاں بھی لَآ کہہ کر مخالفین کے ان خیالاتِ باطلہ کی تردید کی گئی ہے جن کا اظہار وہ قرآن کریم کے بارے میں کرتے رہتے تھے۔ کبھی اسے آنحضرت ﷺ کی تصنیف قرار دیتے، کبھی القائے شیطانی کا نتیجہ ٹھہراتے۔ غرضیکہ مختلف قسم کی لایعنی باتیں کہتے رہتے تھے۔ لَآ سے ان کے ان خیالاتِ باطلہ کی تردید کی گئی ہے۔ اس کے بعد قسم کھا کر اصل حقیقت کو بیان فرمایا گیا ہے۔ ہم بارہا یہ بات پڑھ چکے ہیں کہ قرآن کریم میں قسم بالعموم دلیل یا شہادت کے طور پر لائی جاتی ہے۔ اور اس کا مقسم علیہ دعویٰ کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہاں قسم کھائی گئی ہے نجوم کے مواقع کی۔ سوال یہ ہے کہ نجوم کے مواقع سے مراد کیا ہے ؟ بعض اہل علم نے نجوم سے شہاب ثاقب مراد لیے ہیں اور مواقع ان کے نزدیک وہ ٹھکانے یا کمین گاہیں ہیں جن پر شیاطین کے تعاقب میں شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں۔ اس مفہوم کو غلط تو نہیں کہا جاسکتا، البتہ اس میں تکلف کا احساس ضرور ہوتا ہے۔ لیکن ایک دوسرا مفہوم جو اکثر اہل علم مراد لیتے ہیں اور جو ہر طرح کے تکلف سے پاک ہے وہ یہ ہے کہ نجوم سے مراد عام تارے یا سیارے ہیں۔ اور مواقع سے مراد ان کے مقامات، ان کی منزلیں اور ان کے مدار ہیں۔ اس قسم سے اس حقیقت کی طرف توجہ دلانا مقصود ہے کہ تم اگر عالم بالا میں اجرامِ فلکی کے نظام کا مشاہدہ کرو تو تمہیں محسوس ہوگا کہ یہ نظام ایسا محکم اور مضبوط ہے جسے دیکھ کر آدمی حیرت زدہ رہ جاتا ہے۔ کائنات کی بیشمار کہکشائیں ہیں اور ہر ایک کہکشاں کے اندر بےحد و حساب تارے اور سیارے ہیں۔ لیکن ان میں اس طرح کا ربط و نظم پایا جاتا ہے مجال نہیں کہ ایک دوسرے سے ان کا تصادم ہوجائے۔ بظاہر وہ بکھرے ہوئے دکھائی دیتے ہیں لیکن وہ باہمی اس قدر مربوط اور منظم ہیں کہ ایک دوسرے سے انھیں الگ نہیں کیا جاسکتا۔ بالکل اسی طرح قرآن کریم بھی کمال درجہ کا مربوط اور منظم ضابطہ حیات پیش کرتا ہے۔ اس کے متعین عقائد ہیں۔ اور اس میں دیا ہوا پورا نظام زندگی جن میں اخلاق، عبادات، تہذیب، تمدن، معیشت، معاشرت، قانون، صلح و جنگ، غرضیکہ انسانی زندگی کے تمام پہلوئوں پر مفصل ہدایات دی گئی ہیں، ان میں سے کوئی چیز بھی عقائد کی حدود سے باہر نکلنے نہیں پاتی۔ ہر ہدایت کے پس منظر میں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کی صفات کی حاکمیت دکھائی دیتی ہے۔ اس کی وضاحت و صراحت، اس کے نمونے اور نظائر کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول کی سنت دکھائی دیتی ہے۔ اور ہر ایک کی تہ میں آخرت میں اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہی کا گہرا احساس پایا جاتا ہے۔ بظاہر یہ پورا نظام متفرق آیات اور مختلف مواقع پر دیئے ہوئے خطبوں میں بیان کیا گیا ہے۔ لیکن زندگی سے اس کا رشتہ کہیں بھی کمزور ہونے میں نہیں آتا۔
دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ یہ ایک بہت بڑی قسم ہے اگر تم جانو۔ یعنی ایک بہت بڑی شہادت اور بہت بڑی دلیل ہے۔ لیکن کسی شہادت اور دلیل کی عظمت کا دارومدار مخاطب کے نزدیک بیان کردہ عظمت کے اعتراف پر ہوتا ہے۔ تو قرآن کریم کے مخالفین چونکہ قرآن کریم کو مناسب وزن دینے کے لیے تیار نہیں تھے۔ تو ان سے اس بات کا اندیشہ تھا کہ وہ اس قسم کی اہمیت کو محسوس نہیں کریں گے۔ اس لیے ان کو تنبیہ کرتے ہوئے فرمایا کہ آسمانوں کا نظام اگرچہ بہت دور سے دکھائی دیتا ہے لیکن اُمِّی معاشروں میں بھی ستاروں اور کہکشائوں کے بارے میں ہمیشہ گراں قدر معلومات موجود رہی ہیں۔ اس لیے ان سے امید کی جاسکتی تھی کہ یہ عالم بالا کے نظام کی عظمت کا اعتراف کرتے ہوں گے تو اس کو بطور شہادت پیش کرتے ہوئے قرآن کریم کی عظمت کو ان کے سامنے کھولا گیا اور ساتھ ہی تنبیہ بھی کی گئی کہ اس عظمت کے اعتراف کے لیے اس کے نظام کو جاننا پہچاننا اور غور کرنا ضروری ہے۔ البتہ اس کی عظمت کی ایسی باتیں جو عالم غیب سے تعلق رکھتی ہیں ان میں سے صرف دو کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا :
Ayahs 56:78–79فِیْ کِتٰبٍ مَّـکْنُوْنٍ ۔ لاَّیَمَسُّہٗٓ اِلاَّ الْمُطَھَّرُوْنَ ۔ (الواقعۃ : 78، 79)
(ایک محفوظ کتاب میں۔ اسے پاکیزہ لوگوں کے سوا کوئی چھو نہیں سکتا۔ )
قرآن کریم کی عظمت کا بیان
اس میں قرآن کریم کی عظمت و جلالت کا بیان بھی ہے اور مخالفین کے رویئے پر ملامت بھی۔ عظمت و جلال کا بیان ان معنوں میں ہے کہ یہ قرآن کریم ایک کتاب مکنون میں محفوظ ہے۔ اس سے مراد ہے لوح محفوظ۔ یعنی ایسا نوشتہ جو نگاہوں سے اتنا بلند اور مخلوق کے احساس سے اس قدر ماورا کہ کسی کی رسائی اس تک نہیں ہوسکتی۔ وہ لوح محفوظ جس میں اس کتاب کو محفوظ رکھا گیا ہے اس قدر پاکیزہ ہے کہ پاکیزہ فرشتوں کے سوا کوئی اسے چھو نہیں سکتا۔ اور انھیں پاکیزہ اس لیے کہا گیا ہے کہ کوئی برا خیال ان کے قریب بھی نہیں پھٹک سکتا۔ کسی برائی کی پرچھائیں بھی ان تک نہیں پہنچ سکتی۔ وہ ظاہری اور معنوی ہر طرح کی گندگیوں سے معرا ہیں۔
مخالفین کے رویئے پر ملامت اس طرح کی گئی ہے کہ جو کتاب لوح محفوظ میں رکھی گئی ہو اور جس تک فرشتوں کے سوا کسی کی رسائی نہ ہو، تم اس کے بارے میں یہ سمجھتے ہو کہ اسے شیطان نبی کریم ﷺ کریم پر القاء کرتا ہے۔ اسی لیے سورة شعراء میں ارشاد فرمایا گیا :
وَمَا تَنَزَّلَتْ بِہٖ الشِّیَاطِیْنُ ، وَمَا یَنْبَغِیْ لَھُمْ وَمَا یَسْتَطِیْعُوْنَ اِنَّہُمْ عَنِ السَّمْعِ لَمَعْزُوْلُوْنَ ۔
” اس کو لے کر شیاطین نہیں اترے ہیں، نہ یہ کلام ان کو سجتا ہے، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں، وہ تو اس کی سماعت تک سے دور رکھے گئے ہیں۔ “
مسِّ قرآن کا مفہوم
لاَ یَمَسُّہٗٓمیں ضمیر کا مرجع اگر مَکْنُوْنِکو بنایا جائے تو پھر تو بحث ہی کوئی نہیں۔ لیکن اگر اس کا مرجع قرآن کو بنایا جائے تو پھر سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس کا صحیح مفہوم کیا ہے ؟ سیاق کلام سے تو صاف معلوم ہورہا ہے کہ قرآن کریم ایسی بلند پایہ کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کے محفوظ نوشتے میں ثبت ہے، جس میں کسی مخلوق کی دراندازی کا کوئی امکان نہیں اور فرشتوں کے سوا کوئی اسے چھو نہیں سکتا۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس میں اس بات کا کوئی دخل نہیں کہ ناپاکی کی حالت میں انسان اس کو چھو سکتے ہیں یا نہیں۔ لیکن بعض لوگوں نے اس سے یہ سمجھا ہے کہ جب فرشتے اسے اس لیے چھو سکتے ہیں کہ وہ پاکیزہ ہیں اور طہارت ان کی اصل صفت ہے تو فحوائے کلام سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ دنیا میں جو لوگ اس کلام پر ایمان رکھتے ہیں انھیں بھی ناپاکی کی حالت میں اسے چھونے سے اجتناب کرنا چاہیے۔ البتہ ان لوگوں میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ آیت کریمہ میں لاَ یَمَسُّہُٓپر جو لا آیا ہے وہ نفی کے معنی میں ہے یا نہی کے معنی میں۔ اکثر اہل علم اسے نفی کا لا قرار دیتے ہیں لیکن یہ نہی کے معنی میں ہے۔ جس طرح آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد المسلم اخوالمسلم لایظلمہ ” مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، وہ اس پر ظلم نہیں کرتا۔ “ اس میں لَآ اگرچہ نفی کے لیے ہے اور اس میں یہ خبر دی گئی ہے کہ مسلمان، مسلمان پر ظلم نہیں کرتا۔ لیکن اس سے یہ حکم نکلتا ہے کہ مسلمان، مسلمان پر ظلم نہ کرے۔ اسی طرح یہاں بھی اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ کسی کو بھی ناپاکی کی حالت میں قرآن کو نہیں چھونا چاہیے۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ فحوائے کلام سے یقینا اس بات کی طرف اشارہ تو ملتا ہے۔ لیکن اس آیت سے ایک حکم استنباط کرنا اور اسے اس آیت کی تفصیل قرار دینا مناسب نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض اہل علم نے قرآن پاک کو ناپاکی کی حالت میں چھونے کا عدم جواز ثابت کرنے کے لیے اس آیت سے نہیں بلکہ احادیثِ صحیحہ سے استدلال کیا ہے۔ اور اس بارے میں ایک سے زیادہ احادیث موجود ہیں۔ اور پھر ان ہی احادیث کی بنیاد پر فقہاء نے اپنے اپنے مسالک مدون کیے ہیں اور یہی صحیح رویہ ہے۔
Ayah 56:80تَنْزِیْلٌ مِّنْ رَّبِّ الْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الواقعۃ : 80)
(یہ رب العالمین کا نازل کردہ ہے۔ )
یعنی قرآن کریم اتنی عظیم کتاب ہے کہ یہ انسانی دماغ کا نتیجہ قرار نہیں دی جاسکتی۔ مشرکینِ مکہ نے جس طرح آنحضرت ﷺ کو ایک کاہن قرار دے کر قرآن کریم کو القائے شیطانی کا نتیجہ قرار دیا، وہ نہایت گھٹیا حرکت ہے۔ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے نازل کی گئی ہے۔ اور جو شخص بھی اس کی حیثیت پر غور کرے گا اس کے لیے اس بات کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں۔