57. Surah Al-Hadid

الحديدThe Iron · 29 ayahsروح القرآن

Ayah 57:18

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَ الْمُصَّدِّقٰتِ وَ اَقْرَضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَهُمْ وَ لَهُمْ اَجْرٌ كَرِیْمٌ Open ayah 57:18 in the Quran reader

بیشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، ان کا دیا ہوا ان کے لیے بڑھایا جائے گا، اور ان کے لیے بہترین اجر ہے

اِنَّ الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِ وَاَقْرَضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعَفُ لَھُمْ وَلَھُمْ اَجْرٌ کَرِیْمٌ۔ (الحدید : 18) (بےشک صدقہ دینے والے مرد اور صدقہ دینے والی عورتیں اور وہ لوگ جنھوں نے اللہ کو قرض حسن دیا ہے، ان کا دیا ہوا ان کے لیے بڑھایا جائے گا، اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔ ) انفاق فی سبیل اللہ کرنے والے اجرِعظیم کے مستحق ہیں پیشِ نظر آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا جارہا ہے جو نفاق کے مرض سے بھی محفوظ ہیں اور جن کا ایمان ہر طرح کے شک و ارتیاب کی کمزوری سے بھی پاک ہے۔ وہ صرف راہ حق میں جان لڑانے پر اکتفا نہیں کرتے بلکہ وہ اپنے مال کو بھی اللہ تعالیٰ کی امانت سمجھ کر جب بھی موقع آتا ہے اللہ تعالیٰ کے راستے میں بےدریغ خرچ کرنے میں تأمل نہیں کرتے۔ اس کے لیے دو لفظ استعمال کیے گئے ہیں ایک الْمُصَّدِّقِیْنَ وَالْمُصَّدِّقٰتِاور دوسرا اَقْرَضُوْاپہلا لفظ فاعل ہے اور دوسرا لفظ فعل کی صورت میں ہے۔ فاعل یا صفت دوام اور استمرار پر دلالت کرتے ہیں۔ اور فعل وقوع فعل پر۔ یہاں مراد یہ ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی راہ میں دو طرح سے انفاق کرتے ہیں۔ ایک تو ان کا انفاق وہ ہے جس کا مطالبہ ہر ذی استطاعت مسلمان سے عام حالات میں ہوتا ہے۔ یعنی ہر شخص پر جو زکوٰۃ دینے کی استطاعت رکھتا ہے زکوٰۃ دینے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ جو فطرانہ دے سکتا ہے اس سے فطرانے کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔ اسی طرح جو دوسرے مالی حقوق کسی شخص پر عائد ہوتے ہیں تو ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دلائی جاتی ہے۔ یہ وہ انفاق ہے جو وقتی نہیں بلکہ دائمی ہے۔ جب تک زندگی اور استطاعت باقی ہے یہ مطالبات بھی باقی ہیں۔ اور دوسرا انفاق وہ ہے جو ہنگامی طور پر ناگہانی ضرورت کے تحت کسی مسلمان سے کیا جاتا ہے۔ اس کی ضرورت چونکہ کبھی کبھی پیش آتی ہے اس لیے اس کو فعل سے ذکر فرمایا کہ جب بھی اس کا مطالبہ کیا جائے گا اس کی ادائیگی لازمی ہے۔ پیشِ نظر آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ جو لوگ حقیقی ایمان سے بہرہ ور ہیں ان کا حال یہ ہے کہ وہ صدقاتِ واجبہ ادا کرنے میں ایک چشمے کی مانند ہیں۔ جیسے چشمہ ہمیشہ ابلتا ہے یہ بھی ہمیشہ ابلتے رہتے ہیں۔ جس طرح چاند سے چاندنی، سورج سے روشنی اور برف سے ٹھنڈک الگ نہیں کی جاسکتی، اسی طرح ان لوگوں سے اس جوہر کو چھینا نہیں جاسکتا۔ پھر اللہ تعالیٰ کے راستے میں اس دادودہش کو صدقہ سے تعبیر فرمایا۔ صدقہ اسلام کی اصطلاح میں اس عطیے کو کہتے ہیں جو سچے دل اور خالص نیت کے ساتھ محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے دیا جائے جس میں کوئی ریاکاری نہ ہو، کسی پر احسان نہ جتایا جائے۔ وہ عطیہ جس میں خالص جذبہ نہ ہو اسی صدقہ نہیں کہا جاسکتا۔ یہاں یہ لفظ لا کر اس طرح توجہ دلانا مقصود ہے کہ یہ لوگ خالص اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے لیے خالص جذبے کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے راستے میں ہمیشہ انفاق کرنے والے ہوتے ہیں۔ اور اگر کبھی کسی ہنگامی ضرورت کے لیے ان سے مطالبہ کیا جاتا ہے تو یہ کبھی اپنے دیگر عطیات کا حوالہ دے کر ہاتھ روکنے والے نہیں ہوتے بلکہ اس میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں۔ اور پھر اس جذبے میں مرد اور عورت کی کوئی تقسیم نہیں۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دے رکھی ہے چاہے مرد ہو یا عورت وہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں بڑھ چڑھ کر خرچ کرنے والے لوگ ہیں۔ اور ہنگامی ضرورت کے تحت جو کچھ دیا جاتا ہے اسے یہاں اللہ تعالیٰ نے قرض سے تعبیر فرمایا ہے جس سے یہ تأثر دینا مقصود ہے کہ ایسے عطئے کو اللہ تعالیٰ اپنے ذمے قرض سمجھتا ہے اور جس طرح قرض کی واپسی لازمی ہوتی ہے اسی طرح اللہ تعالیٰ اس عطئے کو نہ صرف دینے والے کو واپس کرتا ہے بلکہ اس میں مسلسل اضافہ کرتا چلا جاتا ہے۔ اور اضافے کی کوئی انتہا نہیں۔ دینے والے نے اخلاص کی جتنی بڑی مقدار اس میں صرف کی ہوگی، اتنا ہی اس میں اضافہ فرمایا جائے گا۔ اور پھر اسی پر اکتفا نہیں بلکہ اپنی طرف سے پروردگار مزید بھی عطا فرمائے گا جسے اجرِکریم فرمایا گیا ہے۔ اور اجر کریم وہ چیز ہے جسے کسی پیمانے سے ناپا نہیں جاسکتا۔ اور دنیا میں کسی طرح بھی اس کی حدود کا تعین ممکن نہیں۔
Ayah 57:19

وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖۤ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ١ۖۗ وَ الشُّهَدَآءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ لَهُمْ اَجْرُهُمْ وَ نُوْرُهُمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِنَاۤ اُولٰٓئِكَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ۠ Open ayah 57:19 in the Quran reader

اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیقوں اور شہداء کے زمرے میں ہوں گے، ان کے لیے ان کا اجر بھی ہے اور ان کا نور بھی، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ جہنم والے ہیں

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖٓ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الصِّدِّیْقُوْنَ صلے ق وَالشُّھَدَٓائُ عِنْدَ رَبِّہِمْ ط لَھُمْ اَجْرُھُمْ وَنُوْرُھُمْ ط وَالَّذِیْنَ کَفَرُوْا وَکَذَّبُوْا بِاٰیٰـتِـنَـآ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَحِیْمِ ۔ (الحدید : 19) (اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں وہی لوگ اپنے رب کے نزدیک صدیقوں اور شہداء کے زمرے میں ہوں گے، ان کے لیے ان کا اجر بھی ہے اور ان کا نور بھی، اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا وہی لوگ جہنم والے ہیں۔ ) ایمانِ کامل کے مدارج اس آیت میں ایمان سے مراد ایمانِ کامل ہے۔ جس طرح گزشتہ آیت کریمہ میں ان کی زندگی کے ایک پہلو کی جھلک دکھائی گئی ہے، اسی طرح یہاں بھی ان کی زندگی کے بعض دوسرے پہلوئوں کی منظرکشی کی گئی ہے۔ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر اس طرح کا ایمان رکھتے ہیں جیسے ایمان لانے کا حق ہے۔ اس لیے ان کے ایمان میں کسی نفاق یا کسی کمزوری کے شائبہ کا تو سوال ہی نہیں، ان کا ایمان تو اس درجے کا ہے جو صدیقوں اور شہیدوں کا ایمان ہے۔ صدیق صدق کا مبالغہ ہے۔ صدق محض سچے اور مطابقِ حقیقت قول کو نہیں کہتے بلکہ اس کا اطلاق اس قول پر ہوتا ہے جو بجائے خود بھی سچا ہو اور جس کا قائل بھی سچے دل سے اس حقیقت کو مانتا ہو۔ اگر ایک شخص سچی بات کہتا ہے لیکن خود اس کا ضمیر اس پر مطمئن نہیں تو اسے صادق نہیں کہا جاسکتا۔ کیونکہ صدق کے لیے ضروری ہے کہ قول کی مطابقت حقیقت کے ساتھ بھی ہو اور قائل کے ضمیر کے ساتھ بھی۔ لیکن جب یہ صدق آزمائش کے ہر موقع پر پورا اترے اور اپنی بات کی ہر قیمت ادا کرنے کو تیار ہو اور بڑے سے بڑا پریشر بھی اس قول کو بدلنے سے عاجز رہے۔ وہ اپنی سچائی کی قیمت ادا کرتے ہوئے جان تو دے سکتا ہو لیکن اپنی بات کو کبھی بدل نہ سکتا ہو، ایسے شخص کو صدیق کہا جاتا ہے کیونکہ اس کی ذات راست بازی کی اعلیٰ مثال ہوتی ہے۔ اسی طرح شہید اس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی صداقت کی قیمت ادا کرتا ہوا جان دے دے۔ لوگ کوشش کریں اور اسے ڈرائیں کہ اگر تم نے اپنی بات واپس نہ لی تو تمہیں جان سے مار دیا جائے گا۔ تو وہ اپنی بات کو سچا ثابت کرنے کے لیے جان دینے پر تیارہوجائے لیکن بات کو ہاتھ سے نہ دے۔ اس شخص کا جان دے دینا یہ اس کی صداقت کی سب سے بڑی دلیل ہے۔ کیونکہ کسی شخص کے لیے بھی جان سے بڑھ کر کوئی شے عزیز نہیں۔ جب وہ اپنی عزیز ترین چیز کو کسی صداقت کے لیے قربان کرتا ہے تو اس سے بڑھ کر دلیل اور کیا ہوسکتی ہے۔ تو جو لوگ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کو دنیا اور آخرت کی سب سے بڑی صداقت سمجھ کر قبول کرتے ہیں تو وہ اس دین کے صدیق بھی ہیں اور شہید بھی۔ اللہ تعالیٰ ان کو دنیا اور آخرت میں اس کا اجر عطاء فرمائے گا۔ اور ساتھ ہی ساتھ انھیں وہ نور بھی عطا ہوگا جو جنت میں جانے کے لیے ان کے راستے میں روشنی کا سامان کرے گا۔ اسی طرح جن لوگوں نے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تکذیب کی اور اس کے دین کو جھٹلایا۔ تو جس طرح صدیق اور شہید سب سے بڑے انعام کے مستحق ہیں، یہ سب سے بڑی سزا کے مستحق ہوں گے اور جہنم سے بڑھ کر اور سزا کیا ہوسکتی ہے۔ اس لیے انھیں جہنم والے قرار دیا گیا ہے۔
Ayah 57:20

اِعْلَمُوْۤا اَنَّمَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَهْوٌ وَّ زِیْنَةٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیْنَكُمْ وَ تَكَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَ الْاَوْلَادِ١ؕ كَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهٗ ثُمَّ یَهِیْجُ فَتَرٰىهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَكُوْنُ حُطَامًا١ؕ وَ فِی الْاٰخِرَةِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ١ۙ وَّ مَغْفِرَةٌ مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانٌ١ؕ وَ مَا الْحَیٰوةُ الدُّنْیَاۤ اِلَّا مَتَاعُ الْغُرُوْرِ Open ayah 57:20 in the Quran reader

خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور زیب وزینت اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولا میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے، اس کی مثال اس بارش جیسی ہے ہے جس سے پیدا ہونے والی فصل کاشتکار کے دل کو موہ لے، پھر وہ پک جائے، تو تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے، پھر و بھس بن کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے، اور آخرت میں ایک عذاب شدید بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی، اور دنیوی زندگی تو بس دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں

اِعْلَمُوْٓا اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّلَھْوٌ وَّزِیْنَۃٌ وَّتَفَاخُرٌ م بَیْنَکُمْ وَتَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلاَدِ ط کَمَثَلِ غَیْثٍ اَعْجَبَ الْـکُفَّارَ نَبَاتُـہٗ ثُمَّ یَھِیْجُ فَتَرٰ ہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَـکُوْنُ خُطَامًا ط وَفِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیْدٌ لا وَّمُغْفِرَۃٌ مِّنَ اللّٰہِ وَرِضْوَانٌ ط وَمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْـیَـآ اِلاَّ مَتَاعُ الْغُرُوْرِ ۔ (الحدید : 20) (خوب جان لو کہ دنیا کی زندگی اس کے ٹسوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور زیب وزینت اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولا میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے، اس کی مثال اس بارش جیسی ہے جس سے پیدا ہونے والی فصل کاشتکار کے دل کو موہ لے، پھر وہ پک جائے، تو تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوجاتی ہے، پھر و بھس بن کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے، اور آخرت میں ایک عذاب شدید بھی ہے اور اللہ کی طرف سے مغفرت اور خوشنودی بھی، اور دنیوی زندگی تو بس دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ ) ایک اہم حقیقت کی رہنمائی پیشِ نظر آیت کریمہ میں ایک ایسی گرہ کو کھولا گیا ہے اور ایک ایسے عقدے کی نقاب کشائی کی گئی ہے جس کی وجہ سے انسانی زندگی میں بیشمار گرہیں پڑچکی ہیں۔ یہ حق و باطل کی کشمکش اور کفر و ایمان کا جھگڑا اور کامیابی و ناکامی کے معیارات کا فرق اس کا سبب اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسانوں نے اس بات کا فیصلہ بہت کم کیا ہے کہ انسان کی منزل دنیا ہے یا آخرت۔ جن لوگوں نے اپنی منزل دنیا کو سمجھا ہے ان کی مساعی کا ہدف بالکل دوسرا ہے۔ اور جنھوں نے اپنی منزل آخرت کو بنایا ہے ان کی زندگی کا رنگ و روپ بالکل الگ ہے۔ جو لوگ اپنی منزل آخرت کو سمجھتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اس کے دین پر ایمان رکھتے ہیں اور ان کی ساری زندگی آخرت کو بنانے اور اسی کو مقصد بنا کر اس کے حصول میں صرف ہوجاتی ہے۔ وہ دنیا اور دنیوی زندگی کو محض ضرورت کا درجہ دیتے ہیں، اسے مقصد قرار دینے کی غلطی کبھی نہیں کرتے۔ لیکن جو لوگ دنیا کو اپنی منزل بنا لیتے ہیں ان کے نزدیک آخرت ایک موہوم تصور کے سوا کچھ نہیں۔ اس لیے قرآن کریم نے یہاں اس بنیادی سوال کو اٹھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اس بات کو اچھی طرح سمجھ لو کہ حیات دنیا جس کو تم اپنی منزل بنا چکے ہو اس کی ہر چیز عارضی اور وقتی ہے۔ تم اگر غور کرو گے تو دیکھو گے کہ دنیوی زندگی میں ایک آدمی کے بیشتر معمولات لہولعب پر مشتمل ہیں۔ وہ تفریح کو زندگی سمجھتا ہے۔ اور اگر تفریح میسر نہیں تو ایسی زندگی کو بےنمک اور بےکیف سمجھ کر ایک بوجھ سمجھنے لگتا ہے۔ وہ ایک ایسی کھیل کو پسند کرتا ہے جس میں کئی دن صرف ہوجائیں اور جس کی وجہ سے زندگی کے تلخ حقائق نظرانداز ہوجائیں، کاروباری زندگی ٹھپ ہو کر رہ جائے، تعلیم کے معیارات بدل کر رہ جائیں، لیکن وہ یہ سارے نقصانات گوارا کرلیتا ہے لیکن کئی روزہ کھیل کو چھوڑنے پر آمادہ نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ ایک قدم آگے بڑھتا ہے تو بہت سے قیمتی لمحات کو سنیما ہائوسز میں اور کلبوں کی نذر کرنے میں بھی تأمل نہیں کرتا۔ اور جب یہی دنیوی زندگی کی محبت دلوں میں اتر جاتی ہے تو پھر زندگی کی ضروریات، ضروریات تک محدود نہیں رہتیں بلکہ زندگی کا بیشتر حصہ اسی کے حصول میں صرف ہوجاتا ہے۔ اس پر قیمتی رشتے قربان کردیئے جاتے ہیں، والدین کا رشتہ اپنا احترام کھو دیتا ہے، میاں بیوی کا بنیادی تعلق خیانت کا شکار ہو کر پاکیزگی سے محروم ہوجاتا ہے، بچے زندگی کا سرمایہ ہونے کے باوجود ماں باپ کو صرف اپنی کامیابیوں کا ذریعہ سمجھتے ہیں اور جب وہ اس منزل کو پالیتے ہیں تو پھر یہ تعلق اپنی نزاکتیں کھو دیتا ہے۔ اس لیے نہایت اہتمام کے ساتھ اور زور دے کر اس پر توجہ دلاتے ہوئے فرمایا کہ تمہاری حیات دنیا لہو ولب، زیب وزینت، کثرتِ مال پر فخر اور دنیوی مناصب پر اترانے کے سوا اور کیا ہے۔ ایک زمانے تک انسان اولاد کی کثرت پر بھی فخر کرتا تھا لیکن اب نہیں کرتا۔ سرمایہ دارانہ زندگی انسان کی منزل بن کر رہ گئی تھی۔ اب اس کیخلاف سرمایہ دارانہ ملکوں میں ہنگامے زوروں پر ہیں۔ اور دنیا کا بہت بڑا حصہ سوشلزم کے نام پر اس سے بغاوت کرچکا ہے۔ جبکہ حقیقت اس کے سوا کچھ نہیں جس کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ جیسے ایک بارش ہوتی ہے اس سے پیداوار لہلہانے لگتی ہے تو کاشتکار اس کو دیکھ کر نہ جانے کیسے کیسے ارمان پالتا اور کیسی موہوم زندگی کا تصور باندھنے لگتا ہے تو پھر وہ اچانک دیکھتا ہے کہ وہی فصل زرد پڑنے لگتی ہے اور پھر خشک ہو کر ریزہ ریزہ ہوجاتی ہے۔ دنیوی زندگی کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہے۔ ایک شخص جو شب و روز محنت کرکے مال و دولت کا خزانہ جمع کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے اور اپنے لیے مالی سلطنت پیدا کرنے میں کامیاب ہوجاتا ہے لیکن موت کا ایک جھونکا اس سارے طلسم کو توڑ کر رکھ دیتا ہے۔ لیکن اس کے برعکس آخرت فنا ہونے والی نہیں ابدی زندگی کا نام ہے وہاں آدمی کو یا ہمیشہ کی کامیابیاں یا ہمیشہ کی ناکامیاں میسر آئیں گی۔ ایک طرف جنت ہے جس کی نعمتوں کو زوال نہیں اور دوسری طرف جہنم ہے جس کے عذاب کا کوئی مداوا نہیں۔ یہ دونوں طرح کی زندگی کے تصورات سامنے رکھ کر انسانوں کے سامنے یہ سوال رکھ دیا گیا ہے کہ کیا تم اللہ تعالیٰ سے اپنے برے اعمال کی بخشش چاہتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کے طالب ہو۔ یا دنیوی زندگی اختیار کرکے ہمیشہ کے عذاب میں گرفتار ہونا چاہتے ہو جبکہ آخرت ایک حقیقت ہے اور دنیوی زندگی متاع غرور کے سوا کچھ نہیں۔ یہ چند روزہ زندگی آخرت کی زندگی کی تیاری کے لیے دی گئی تھی لیکن ہم نے اسی کو مقصد بنا کر اس کے حصول میں ایسے اندھے ہوئے کہ آخرت کی زندگی ہماری نگاہوں سے اوجھل ہوگئی۔
Ayah 57:21

سَابِقُوْۤا اِلٰى مَغْفِرَةٍ مِّنْ رَّبِّكُمْ وَ جَنَّةٍ عَرْضُهَا كَعَرْضِ السَّمَآءِ وَ الْاَرْضِ١ۙ اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰهِ وَ رُسُلِهٖ١ؕ ذٰلِكَ فَضْلُ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ Open ayah 57:21 in the Quran reader

مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور ایک ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے

سَابِقُوْٓا اِلٰی مَغْفِرَۃٍ مِّنْ رَّبِّکُمْ وَجَنَّۃٍ عَرْضُھَا کَعَرْضِ السَّمَـآئِ وَالْاَرْضِلا اُعِدَّتْ لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا بِاللّٰہِ وَرُسُلِہٖ ط ذٰلِکَ فَضْلُ اللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (الحدید : 21) (مسابقت کرو اپنے رب کی مغفرت اور ایک ایسی جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، وہ تیار کی گئی ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔ ) اصل میدانِ مسابقت گزشتہ آیت کریمہ میں فرمایا کہ اہل کفر کی بھاگ دوڑ اور ان کا تکاثر و تفاخر تو بس اس دنیا کی عارضی وفانی مطلوبات و مرغوبات کی راہ میں ہے۔ وہ اس سے آگے جانے کا حوصلہ نہیں رکھتے اور اسی کو اپنی منزل سمجھتے ہیں۔ لیکن اہل ایمان کا نصب العین اپنے رب کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ وہ دنیا کو ایک تنگنائے سمجھتے ہیں۔ ان کی اولوالعزمی اور ان کی پرواز کی قوت انھیں دنیا تک محدود نہیں رکھتی بلکہ وہ اپنی منزل آخرت کو سمجھتے ہیں۔ دنیا کو اس کا ذریعہ بناتے ہیں اور اس کو بہتر سے بہتر استعمال کرکے آخرت کو حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور اس راہ میں وہ ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اسی کو یہاں مسابقت کا نام دیا گیا ہے۔ وہ دنیا کی لذتوں سے شادکام ہوتے ہیں لیکن اس حد تک جس کا تصورآخرت اجازت دیتا ہے۔ وہ دنیوی خوشیوں کو اپنے لیے حلال سمجھتے ہیں بشرطیکہ آخرت کا تصور اس سے گدلانے نہ پائے۔ اس لیے یہاں اسی تصور کی ترغیب دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ تمہیں بھی اگر مسابقت کرنی ہے تو اس آخرت کے حصول کے لیے کرو جس کا پھل جنت ہے۔ اور پھر جنت کا شوق دلانے کے لیے فرمایا کہ جنت کی وسعتوں کا عالم یہ ہے کہ آسمان و زمین کی وسعتیں اس میں گم ہوجائیں۔ یہاں لفظ اگرچہ عرض کا بولا گیا ہے جس کا معنی چوڑائی ہوتا ہے لیکن یہاں مراد اس سے وسعت ہے۔ اس جنت کا حصول اور اس کے لیے مغفرت کا حصول مومن کا اصل گول اور ہدف ہے۔ دنیا کو ضرورت کی حد تک حاصل کرنے کی اجازت دی گئی ہے لیکن اس کے لیے مسابقت کی اجازت نہیں دی گئی۔ بلکہ طلب دنیا میں مسابقت اسے آنحضرت ﷺ نے ہماری تباہی کا پیش خیمہ قرار دیا۔ ارشاد فرمایا لا اخشی علیکم الفقر ولـکنی اخشی ان تبسط علیکم الدنیا کما بسطت علی من کان قبلـکم فتنافسوھا کماتنافسوھا فتھلککم کما اہلـکتھم ” میں تم پر غربت سے نہیں ڈرتا، لیکن میں اس بات سے ڈرتا ہوں کہ دنیا تم پر کھول دی جائے گی، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر کھولی گئی اور پھر تم اس کے حصول میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے میں لگ جاؤ گے، پھر وہ تمہیں اسی طرح ہلاک کردے گی جیسے اس نے ان لوگوں کو ہلاک کیا جو تم سے پہلے تھے۔ آخر میں فرمایا یہ جنت ان لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولوں پر حقیقی ایمان رکھتے ہوں۔ کیونکہ برائے نام ایمان تو کسی اجروثواب کا مستحق نہیں۔ اور حقیقی ایمان سے ہی ایک مومن پر ساری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان ذمہ داریوں سے عہدہ برآہ ہونا ہی ایمان کا اصل تقاضا ہے۔ تو جس شخص نے بھی ان تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھا اور اپنی زندگی ان کے مطابق گزاری یہ جنت ایسے لوگوں کے لیے تیار کی گئی ہے۔ اور پھر ایسا بھی نہیں کہ اس کی تیاری کوئی بہت دور کی چیز ہوگی بلکہ یوں سمجھئے کہ جیسے ہی آدمی اپنے امتحان سے نکلا تو جنت اس کے لیے بےنقاب ہوجائے گی۔ رہا جنتوں کی وسعتوں کا بےپایاں ہونا، تو یہ بات ہمارے لیے تو تعجب خیز ہوسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے نہیں، وہ تو بڑا فضل والا ہے۔ اس کے فضل و کرم کی کوئی انتہا نہیں۔ وہ جسے چاہے جتنا بھی بخش دے اس کے پاس کسی چیز کی کمی نہیں۔
Ayahs 57:22–23

مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَا١ؕ اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ Open ayah 57:22 in the Quran reader

اور تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچتی نہ زمینی پیداوار میں اور نہ تمہارے اپنے نفوس میں، مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود دیں، لکھی ہوئی ہے، یہ اللہ پر بہت آسان ہے

لِّكَیْلَا تَاْسَوْا عَلٰى مَا فَاتَكُمْ وَ لَا تَفْرَحُوْا بِمَاۤ اٰتٰىكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِۙ Open ayah 57:23 in the Quran reader

(یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو چیز جاتی رہے اس پر غم نہ کرو، اور جو کچھ تمہیں اللہ عطا فرمائے اس پر مت اترائو، اور اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اکڑنے والے اور فخر کرنے والے ہوں

مَا اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِی الْاَرْضِ وَلاَ فِیْٓ اَنْفُسِکُمْ اِلاَّ فِیْ کِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَھَا ط اِنَّ ذٰلِکَ عَلَی اللّٰہِ یَسِیْرٌ۔ لِّـکَیْلاَ تَاسَوْا عَلٰی مَافَاتَـکُمْ وَلاَ تَفْرَحُوْا بِمَآ اٰ تٰـکُمْ ط وَاللّٰہُ لاَ یُحِبُّ کُلَّ مُخْتَالٍ فَخُوْرِ نِ ۔ (الحدید : 22، 23) (اور تمہیں کوئی مصیبت نہیں پہنچتی نہ زمینی پیداوار میں اور نہ تمہارے اپنے نفوس میں، مگر یہ کہ وہ ایک کتاب میں اس سے پہلے کہ ہم اس کو وجود دیں، لکھی ہوئی ہے، یہ اللہ پر بہت آسان ہے۔ (یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو چیز جاتی رہے اس پر غم نہ کرو، اور جو کچھ تمہیں اللہ عطا فرمائے اس پر مت اترائو، اور اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اکڑنے والے اور فخر کرنے والے ہوں۔ ) ایک اور اہم ہدایت گزشتہ آیات میں دنیوی زندگی، مال و دولت اور پیش آنے والے مسائل کے حوالے سے ایسی ہدایات دی گئی ہیں جن سے ایک مومن اور کافر میں تصورات اور اعمال کے اعتبار سے فرق واضح ہوجاتا ہے۔ اور ہدایات کو قبول کرنے سے مومن کے ایمان کو جلا ملتی ہے اور انکار کی صورت میں ایک کافر اور منافق اسلام کے بنیادی تصورات سے اور دور ہٹ جاتا ہے۔ دنیا کو ضرورت بتانے کے بعد آخرت کو مقصد قرار دیا گیا ہے۔ اور جہاد و انفاق کو ایمان کی علامت قرار دے کر ایک مومن کے لیے مطلوب و مرغوب بنادیا گیا ہے۔ اور پھر ایک مومن کے لیے اجر وثواب کے طور پر جو انعامات مقرر کیے گئے ہیں ان کی نوید سنائی گئی اور کافر اور منافق کو سخت ترین عذاب سے متنبہ کیا گیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا جارہا ہے کہ ایک مومن جب دنیا، مال و دولت اور انفاق و جہاد کے بارے میں اسلامی تصورات کو قبول کرلیتا ہے تو اسے اس بات کا احساس ہونا چاہیے اور یہ خیال بھی اس کے دماغ کی زینت بن جانا چاہیے کہ حق و باطل کی کشمکش اور عام معمول کی زندگی میں بھی ایک مومن کو مشکلات پیش آتی ہیں اور جن مصائب سے انھیں واسطہ پڑتا ہے وہ مشکلات اور وہ مصائب اپنے آپ پیش آنے والے نہیں ہوتے۔ بلکہ ہر بات کا فیصلہ پہلے سے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوچکا ہے۔ اور انسانی زندگی کے وجود میں آنے سے پہلے انھیں ایک کتاب یعنی لوح محفوظ میں لکھا جا چکا ہے۔ ہمارے لیے اس بات کا جاننا فی الواقع مشکل ہے کہ جو چیز ابھی وجود میں نہیں آئی اس کا کسی کتاب میں لکھے جانے کا کیا معنی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے لیے ایسا کرنا نہایت آسان ہے کیونکہ لوح محفوظ علم الٰہی کی تعبیر ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کا علم زمانوں میں مقید نہیں۔ وہ ماضی، حال اور مستقبل کی تمام حدود وقیود سے مبرا ہے۔ وہ اس وقت بھی ان چیزوں سے واقف تھا جب وہ چیزیں کسی کے تصور میں بھی نہ آئی تھیں اور وہ تب بھی واقف ہوگا جب وہ خواب و خیال ہوچکی ہوں گی۔ لیکن اصحابِ ایمان کو اس حقیقت سے بہرہ ور کرنا اس لیے ضروری ہے کہ تاکہ جب اللہ تعالیٰ کی راہ میں انھیں کوئی مصیبت پیش آئے اور یا وہ اسلامی زندگی گزارتے ہوئے کسی مشکل میں گرفتار ہوجائیں تو کبھی اس سے دل آزردہ نہ ہوں، کبھی شکست خوردہ نہ ہوں، کبھی اس سے ہمت نہ ہارنے پائیں۔ کیونکہ انھیں اس بات کا اطمینان ہونا چاہیے کہ اس بات کا فیصلہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے پہلے سے ہوچکا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ کو یہی منظور تھا کہ میرے ساتھ ایسا ہو۔ تو پھر اگر مجھے ہرحال میں اس کی خوشنودی پیش نظر ہے تو میں اس سے دل گرفتگی کیوں محسوس کروں۔ اور اسی طرح اگر اسے زندگی کے معمولات یا حق و باطل کی کشمکش میں کوئی کامیابی نصیب ہو یا کوئی بڑی منفعت ہاتھ آئے تو اسے کبھی اس پر اترانا اور فخر نہیں کرنا چاہیے۔ کیونکہ جس طرح مصیبت اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اسی طرح سے مسرت و شادمانی اور فلاح و کامیابی بھی تو اسی کی جانب سے ہے۔ اللہ تعالیٰ کسی ایک میں مبتلا کرکے اصل میں مومن کا امتحان لیتا ہے جو اس کی تربیت کے لیے لازمی ہے۔ آج اگر مسلمان مدینہ طیبہ میں ناگفتہ بہ حالات کا شکار ہیں اور آئے دن کسی نہ کسی ابتلاء سے دوچار ہورہے ہیں اور دشمن نے ان کا مالی مقاطعہ کر رکھا ہے اور ان کی زندگی دشوار تر ہوگئی ہے تو انھیں کسی طرح بھی اس سے آزردہ اور دل گرفتہ نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے یہاں پہلے سے طے پاچکی ہیں کہ مسلمانوں کی تربیت کے لیے ان مراحل سے گزرنا ضروری ہے۔ اسی طرح اگر آئندہ چل کر مسلمانوں کو کامیابیاں ملنے والی ہیں اور عسر کے بعد یسر کی زندگی شروع ہونے والے ہے جیسا کہ خلافتِ راشدہ میں ہوا تو تب بھی انھیں کسی کمزوری کا شکار نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی کامیابی اللہ تعالیٰ کے علم کے بغیر کسی مومن کو نصیب نہیں ہوتی۔ ہر بات کا پہلے سے فیصلہ ہوچکا تھا اور اسی کے مطابق وقوع پذیر ہوا تو پھر آخر مسلمان یہ کیوں سوچیں کہ یہ کامیابیاں چونکہ ہماری کوششوں کی مرہونِ منت ہیں تو ہمیں اس پر فخر کرنے اور اترانے کا بجاطور پر حق ہے۔ یہ بات ایک مسلمان کو ہرگز زیب نہیں دیتی۔ مصائب پر صبر، نفع اور کامیابی پر شکر یہ ایک مومن کی سیرت و کردار کے دو پہلو ہیں جس میں ذرا سی کمزوری اس کی ایمانی زندگی کے لیے نقصان دہ ہے۔ چونکہ ہر طرح کی بڑائی اور ہر طرح کی عظمت اللہ تعالیٰ کو زیب دیتی ہے اس لیے جو شخص بھی اکڑنے اور فخر کرنے لگتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں۔ صاحب ایمان لوگوں کی شکل میں تو اللہ تعالیٰ ایک ایسی جماعت تیار کررہا ہے جو انسانوں کے لیے نمونے کی جماعت ہوگی۔ ظاہر ہے ان لوگوں میں اس طرح کی کسی بات کا تصور بھی ناقابلِ قبول ہے۔
Ayah 57:24

اِ۟لَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَ یَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ١ؕ وَ مَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰهَ هُوَ الْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ Open ayah 57:24 in the Quran reader

خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کا مشورہ دیتے ہیں، اور جو اعراض کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اللہ بےنیاز و ستودہ صفات ہے

الَّذِیْنَ یَبْخَلُوْنَ وَیَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ ط وَمَنْ یَّتَوَلَّ فَاِنَّ اللّٰہَ ھُوَالْغَنِیُّ الْحَمِیْدُ ۔ (الحدید : 24) (جو خود بخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بخل کا مشورہ دیتے ہیں، اور جو اعراض کرتے ہیں وہ یاد رکھیں کہ اللہ بےنیاز و ستودہ صفات ہے۔ ) مال و دولت پر اترانے والوں کو تنبیہ خود پسند، اترانے والے اور فخر کرنے والے وہ لوگ نہیں ہوتے جن کے اعمال واطوار کا نقشہ گزشتہ آیات میں دیا گیا ہے۔ اور جن کی خصوصی حیثیت کے حوالے سے انھیں خصوصی ہدایات سے نوازا گیا ہے بلکہ یہ بیماریاں ان لوگوں میں پیدا ہوتی ہیں جو مال و دولت کو اپنی محنت کا ثمرہ اور اپنی کوششوں کا حاصل سمجھتے ہیں۔ چناچہ جب بھی اللہ تعالیٰ کی راہ میں انھیں خرچ کرنے کی دعوت دی جاتی ہے تو مال و دولت کے بارے میں غلط تصور رکھنے کی وجہ سے انھیں اس بات کا اندیشہ پیدا ہوجاتا ہے کہ اگر ہم نے اس طرح ہاتھ کھول دیئے تو خزانے بھی ختم ہوسکتے ہیں۔ ہمارے پاس جو کچھ ہے وہ ایک نہ ایک دن ختم ہوسکتا ہے، اسے بچانے کی صرف ایک ہی صورت ہے کہ ہاتھ روک کے رکھو اور بخل سے کام لو۔ اور اپنی بخالت پر پردہ ڈالنے کے لیے ان کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوسروں کو بھی بخل کرنے کا مشورہ دیں۔ امر کا معنی جس طرح حکم دینا ہوتا ہے اسی طرح مشورہ دینا بھی ہوتا ہے۔ اور مشورہ یہاں اکسانے کے مفہوم میں بھی ہوسکتا ہے کہ وہ دوسروں کو اکساتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے دین اور ملت کی راہ میں اگر تم اسی طرح خرچ کرتے رہو گے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جب کبھی تمہیں کوئی ناگہانی صورت پیش آگئی تو پھر تم مشکل میں گرفتار ہوجاؤ گے۔ اور اس وقت کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہوگا۔ بچایا ہوا سرمایہ ہی کام آتا ہے اس لیے اپنے سرمائے کو بچائو۔ آخر میں نہایت تہدید آمیز الفاظ میں اظہارِبیزاری کرتے ہوئے فرمایا کہ جو شخص ان کلماتِ نصیحت کے بعد بھی اللہ تعالیٰ اور اس کے دین کے لیے خلوص، فرمانبرداری اور ایثار و قربانی کا طریقہ اختیار نہیں کرتا تو اسے معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کو اس کی کچھ پرواہ نہیں۔ وہ ایسے ہر شخص سے بےنیاز ہے۔ وہ انفاق کی دعوت اس لیے نہیں دے رہا کہ وہ کسی کا محتاج ہے اور اس کے خزانوں میں کوئی کمی ہے۔ بلکہ اس نے انفاق کا حکم اس لیے دیا ہے تاکہ اپنے بندوں کے مال و دولت میں اضافہ کرے اور ان کے لیے ابدی نفع کمانے کی ایک راہ کھولے۔ وہ اپنی ذات میں ہر ایک سے بےنیاز ہے۔ اس کی کوئی حاجت لوگوں کے انفاق و ایثار پر رکی ہوئی نہیں۔ اور وہ حمید ہے یعنی ستودہ صفات ہے۔ اس کے ہاں اچھی صفات رکھنے والے لوگ ہی مقبول ہوسکتے ہیں۔ ان صفات سے محروم لوگ اس کے لازوال خزانوں سے بھی ہمیشہ محروم رہیں گے۔
Ayah 57:25

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَ اَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتٰبَ وَ الْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ١ۚ وَ اَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْهِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّ مَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَ لِیَعْلَمَ اللّٰهُ مَنْ یَّنْصُرُهٗ وَ رُسُلَهٗ بِالْغَیْبِ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۠ Open ayah 57:25 in the Quran reader

ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فوائد ہیں، یہ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کو ممیز کردے جو اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں، بیشک اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے

لَقَدْ اَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَیِّنٰتِ وَاَنْزَلْنَا مَعَھُمُ الْـکِتٰبَ وَالْمِیْزَانَ لِیَقُوْمَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ج وَاَنْزَلْنَا الْحَدِیْدَ فِیْہِ بَاْسٌ شَدِیْدٌ وَّمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِیَعْلَمَ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ وَرُسُلَـہٗ بِالْغَیْبِ طاِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔ (الحدید : 25) (ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ عدل پر قائم ہوں، اور لوہا اتارا جس میں بڑی قوت ہے اور لوگوں کے لیے فوائد ہیں، یہ اس لیے کیا گیا تاکہ وہ ان لوگوں کو ممیز کردے جو اس کو دیکھے بغیر اس کی اور اس کے رسولوں کی مدد کرتے ہیں، بیشک اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ ) رسولوں کی بعثت کا مقصد اللہ تعالیٰ کے رسول انسانوں میں جس سیرت و کردار کی تعمیر کے لیے تشریف لاتے ہیں اس کی بنیادی صفات کو گزشتہ آیات کریمہ میں بیان فرمایا گیا ہے۔ اب پیش نظر آیت کریمہ میں یہ بیان کیا جارہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے نبی اور رسول انسانوں میں جن صفات کو ابھار رہے ہیں اور یہ خاص صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو کیا ان کی طبع زاد ہوتی ہیں۔ اور پھر لوگوں میں ایسی صفات کا پیدا کرنا ہی ان کے پیش نظر ہوتا ہے یا حقیقت میں کوئی اور مقصد ہے جسے حاصل کرنے کے لیے یہ خاص جماعت تیار کی جاتی ہے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں رسولوں کے اصل مقصد کو بیان فرمایا گیا ہے اور اس کے لیے جن ذرائع سے وہ کام لیتے ہیں ان کی بھی خبر دی گئی ہے۔ ارشاد فرمایا گیا کہ ہم اپنے رسولوں کو بنیادی عقائد کی تعلیم و تفہیم کے لیے واضح دلائل کے ساتھ مسلح کرکے بھیجتے ہیں۔ اولاً تو ان کی ذات ہی اپنی دعوت اور اپنے موقف کی سب سے بڑی دلیل ہوتی ہے اور پھر وہ آیات آفاق وانفس سے اپنے دعوے کو ثابت کرنے میں کمال رکھتے ہیں۔ اور پھر جو بات بھی کہتے ہیں نہایت واضح انداز میں کہتے ہیں ان میں کوئی ہیچ پیچ نہیں ہوتا۔ اور یہ باتیں صرف خیالی باتیں نہیں ہوتی اور خطابیات کا ایسا مجموعہ بھی نہیں ہوتا جو ہوا میں تحلیل ہو کے رہ جائے بلکہ انھیں ہدایات کے مجموعے کو ایک کتاب کی شکل میں نازل کیا جاتا ہے جس میں عقائد کی تعلیم بھی ہوتی ہے اور احکام کی تفصیل بھی، آداب کی وضاحت بھی اور انفرادی زندگی کی تطہیر کے لیے اللہ تعالیٰ کے رسول کی تعلیم بھی، اجتماعی زندگی میں معاملات کی اصلاح کے لیے عدالتی قانون بھی اور حکومت اور سیاست کی درستی کے لیے آئینی ہدایات بھی، عائلی زندگی کی تعمیر اور درستی کے لیے شخصی قوانین بھی اور معاشرت اور معیشت کی نہج کو درست رکھنے کے لیے بنیادی تعلیمات بھی۔ غرضیکہ انفرادی اور اجتماعی زندگی کا کوئی شعبہ نہیں جس کے بارے میں قرآن کریم نے آئینی، قانونی، تہذیبی اور تمدنی اصلاحات نہ کی ہوں۔ اور پھر مزید طرہ یہ کہ اس پورے نظام میں ایک ایسی حیرت انگیز مناسبت رکھی گئی ہے فرد اور اجتماع میں ایسی پیوستگی پیدا کی گئی ہے، اخلاق اور قانون میں ایسا مضبوط تعلق جوڑا گیا ہے اور تحریک اور تعلیم کو ایسا ہم رنگ کیا گیا ہے اور اس طرح سے انفرادی اور اجتماعی زندگی، شخصی اور قومی زندگی، ملکی اور بین الاقوامی زندگی میں ایسا توازن پیدا کیا گیا ہے جس میں ہم قدم قدم پر اپنے پاس ایک ایسی میزان دیکھتے ہیں جس سے ہم پوری طرح اپنی زندگی کے تمام شعبوں کو ہم وزن، ہم ذوق اور ہم آہنگ کرسکتے ہیں۔ یہ اجمال ہے اس تعلیم کا جو اللہ تعالیٰ کے رسولوں پر نازل کی جاتی ہے اور مقصود ان کا یہ ہوتا ہے کہ لوگوں میں انصاف اور عدل قائم ہو۔ افراد آپس میں ہم آہنگی محسوس کریں، گھر حقوق و فرائض کے اعتبار سے توازن کا مجموعہ ہو۔ معاشرت مضبوط بندھنوں میں جکڑی ہوئی ہو اور انفرادی اور اجتماعی زندگی میں گہرا ارتباط پایا جاتا ہو۔ اور ہماری عدالتی حکمرانی اس کے لیے نگہبانی اور رہنمائی کا فرض انجام دے رہی ہو۔ لیکن یہ ایک فطری بات ہے کہ انسانی طبیعیں یکساں نہیں ہوتیں۔ بہتر سے بہتر تعلیم ہر طبیعت کے لیے قابل قبول نہیں ہوتی۔ اور بہتر سے بہتر علاج ہر شخص کے لیے نسخہ ٔ شفاء نہیں ہوتا۔ بہت سے مفسد عناصر اس میں دراڑیں پیدا کرنے بلکہ اس نظام کو ناکام کرنے کی کوششیں جاری رکھتے ہیں اور بسا اوقات بیرونی قوتیں حسد و بغض یا دشمنی کے باعث اس چشمہ ٔ صافی کو گدلا کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔ اگر یہ نظام صرف کلماتِ نصیحت پر مشتمل ہوتا یا اس کی حیثیت صرف ایک اسکیم کی ہوتی تو پھر ایسے مفسد عناصر اور ان دشمن قوتوں سے نبردآزما ہونے اور ان کے برے اثرات کو روکنے کا ہمارے پاس کوئی ذریعہ نہ ہوتا۔ اس لیے پروردگار نے ارشاد فرمایا کہ ہم نے لوہا نازل کیا۔ یہ اس کی منفعت، اس کے اہتمام اور اس کی اہمیت کی طرف اشارہ ہے۔ مقصود اس سے ایک ایسا نظام ہے جس میں دفاعی قوت بھی ہو اور جس میں مفسد عناصر کو دبانے کے لیے طاقت بھی ہو۔ یعنی ایسا ایک مضبوط نظام نافذ کیا جائے کہ جس کی عدالتیں مفسد عناصر کو سزا دینے پر قادر ہوں۔ ایک ایسا سیاسی نظام ہو جو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ پیدا کرنے والوں کے لیے موثر رکاوٹ کی حیثیت رکھتا ہو۔ اور ایک ایسی عادلانہ حکومت ہو جو پورے توازن کے ساتھ تمام طبقاتِ زندگی میں نظم و ضبط قائم کرنے پر قادر ہو۔ اور ساتھ ہی ساتھ تعمیراتی اور تمدنی امور بھی سرانجام دیئے جانے میں کوئی تساہل نہ ہو۔ یہ تمام امور سرانجام دینے اور مسلمانوں میں ایک غالب نظام قائم کرنے اور اسلامی تعلیمات کے فروغ اور حفاظت کے وسائل فراہم کرنے میں اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں۔ وہ اگر چاہے تو ان میں سے ہر کام اپنی قدرت سے چشم زدن میں کرسکتا ہے۔ لیکن ان تمام امور کا صاحب ایمان لوگوں کو مکلف بنا کر وہ امتحان کرنا چاہتا ہے کہ ان میں سے کون ہے جو اللہ تعالیٰ کے دین کے غلبے کے لیے کوشش کرتا ہے۔ اور اس کو دیکھے بغیر اس کے احکام پر جان دیتا اور اس کی عزت و حرمت کے لیے اپنے آپ کو قربان کردیتا ہے۔ بنابریں مسلمانوں کو اس بات کا پابند کیا گیا کہ ان تمام ذمہ داریوں کو نبھانا آپ کی ذمہ داری ہے۔ اسی میں تمہاری زندگی ہے اور اسی میں تمہاری عزت و حرمت کی پاسداری ہے۔
Ayah 57:26

وَ لَقَدْ اَرْسَلْنَا نُوْحًا وَّ اِبْرٰهِیْمَ وَ جَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِهِمَا النُّبُوَّةَ وَ الْكِتٰبَ فَمِنْهُمْ مُّهْتَدٍ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:26 in the Quran reader

ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، پس ان کی اولاد میں سے کچھ تو ہدایت پانے والے بنے اور بہت سے فاسق ہوگئے

وَلَقَدْ اَرْسَلْنَآ نُوْحًا وَّ اِبْرٰھِیْمَ وَجَعَلْنَا فِیْ ذُرِّیَّتِھِمَا النُّبُوَّۃَ وَالْـکِتٰبَ فَمِنْھُمْ مُّھْتَدٍ ج وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (الحدید : 26) (ہم نے نوح اور ابراہیم کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی، پس ان کی اولاد میں سے کچھ تو ہدایت پانے والے بنے اور بہت سے فاسق ہوگئے۔ ) تاریخ انبیاء سے ایک تأثر انبیائے کرام کی بعثت کا مقصد وحید بیان کرنے کے بعد انبیائے کرام کی تاریخ کے حوالے سے یہ بتایا جارہا ہے کہ انبیائے کرام کی اولاد نے اس مقصد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ حالانکہ تمام انبیائے کرام کا مقصد عدل و قسط قائم کرنا تھا، لیکن ان کی اولاد میں سے تھوڑے لوگ ایسے نکلے جنھوں نے ہدایت کا راستہ اختیار کیا، ورنہ بیشتر لوگوں نے نافرمانی ہی کو اپنا طریقہ بنایا۔ یا تو ان پیغمبروں کو ماننے سے انکار کردیا اور یا پھر ایمان لائے تو اپنی بدعت پسندیوں کے باعث اس نصب العین سے منحرف ہو کر نافرمان بن گئے۔ ان میں نام صرف دو انبیائے کرام کا لیا گیا ہے ایک حضرت نوح (علیہ السلام) اور دوسرا حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ حضرت نوح (علیہ السلام) کی حیثیت آدم ثانی کی ہے۔ اور حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بنی اسرائیل اور بنی اسماعیل کے جدِ امجد ہیں۔ ان دونوں سلسلوں میں جو انبیائے کرام تشریف لائے وہ ان کے مورث اعلیٰ ہیں۔ اس لحاظ سے ان دو بزرگوں کے ذکر سے نبوت کے تمام سلسلوں کا ذکر ہوگیا۔
Ayah 57:27

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰۤى اٰثَارِهِمْ بِرُسُلِنَا وَ قَفَّیْنَا بِعِیْسَى ابْنِ مَرْیَمَ وَ اٰتَیْنٰهُ الْاِنْجِیْلَ١ۙ۬ وَ جَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْهُ رَاْفَةً وَّ رَحْمَةً١ؕ وَ رَهْبَانِیَّةَ اِ۟بْتَدَعُوْهَا مَا كَتَبْنٰهَا عَلَیْهِمْ اِلَّا ابْتِغَآءَ رِضْوَانِ اللّٰهِ فَمَا رَعَوْهَا حَقَّ رِعَایَتِهَا١ۚ فَاٰتَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْهُمْ اَجْرَهُمْ١ۚ وَ كَثِیْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ Open ayah 57:27 in the Quran reader

پھر ان ہی کے نقش قدم پر پے در پے ہم نے اپنے رسول بھیجے اور ان ہی کے نقش قدم پر ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا کی، اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے اس کی پیروی کی رافت و رحمت رکھ دی، اور رہبانیت انھوں نے خود ایجاد کی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب، پھر انھوں نے اس کی پابندی نہیں کی جیسا اس کی پابندی کا حق تھا، پس ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے ان کا اجر عطا فرمایا، اور زیادہ ان میں سے نافرمان نکلے

ثُمَّ قَفَّیْنَا عَلٰٓی اٰثَارِھِمْ بِرُسُلِنَا وَقَفَّیْنَا بِعِیْسَی ابْنِ مَرْیَمَ وَاٰتَیْنٰـہُ الْاِنْجِیْلَ 5 لا وَجَعَلْنَا فِیْ قُلُوْبِ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْہُ رَاْفَۃً وَّ رَحْمَۃً ط وَرَھْبَانِیَّۃَ نِ ابْتَدَعُوْھَا مَاکَتَبْنٰـھَا عَلَیْھِمْ اِلاَّ ابْتِغَـآئَ رِضْوَانِ اللّٰہِ فَمَا رَعَوْھَا حَقَّ رِعَایَتِھَا فَاٰ تَیْنَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مِنْھُمْ اَجْرَھُمْ ج وَکَثِیْرٌ مِّنْھُمْ فٰسِقُوْنَ ۔ (الحدید : 27) (پھر ان ہی کے نقش قدم پر پے در پے ہم نے اپنے رسول بھیجے اور ان ہی کے نقش قدم پر ہم نے عیسیٰ ابن مریم کو بھیجا اور اسے انجیل عطا کی، اور ہم نے ان لوگوں کے دلوں میں جنھوں نے اس کی پیروی کی رافت و رحمت رکھ دی، اور رہبانیت انھوں نے خود ایجاد کی، ہم نے اسے ان پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب، پھر انھوں نے اس کی پابندی نہیں کی جیسا اس کی پابندی کا حق تھا، پس ہم نے ان لوگوں کو جو ان میں سے ایمان لائے ان کا اجر عطا فرمایا، اور زیادہ ان میں سے نافرمان نکلے۔ ) چند حقائق کا بیان اور چند غلط فہمیوں کا ازالہ اس آیت کریمہ میں چند حقائق ارشاد فرمائے گئے جس سے بعض غلط فہمیاں دور ہوجاتی ہیں۔ پہلی حقیقت یہ بیان فرمائی گئی ہے کہ ہم نے حضرت نوح اور حضرت ابراہیم (علیہما السلام) کی اولاد میں سے جو رسول بھیجے وہ اسی مقصد کو لے کر آئے جس کا ہم نے گزشتہ آیت میں ذکر کیا ہے۔ ان ہی کے نقش قدم پر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) بھی تشریف لائے۔ وہ بھی بنی اسرائیل میں سے تھے۔ اور ان کے پیش نظر وہی ایک مقصد تھا جو اس سے پہلے رسولوں کے پیش نظر رہا۔ اور اسی کی رہنمائی کے لیے ہم نے ان کو انجیل عطا کی۔ البتہ یہ ضرور ہے کہ یہود جس طرح تورات کی تعلیم کو نظرانداز کرنے کے نتیجے میں قساوتِ قلبی کا شکار ہوئے اور انھوں نے تاریخ کے مختلف ادوار میں جابجا اس کا ثبوت بھی فراہم کیا۔ اور پھر ان کے رویئے اور ان کی تعلیمات میں بھی اس کا اثر اس حد تک گہرا ہوا کہ وہ دین کی حقیقی روح سے بیگانہ ہوگئے۔ ان کے پاس الفاظ کا انبار تو رہا لیکن روحانیت جاتی رہی۔ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی قساوتِ قلبی کے پیش نظر اپنے ماننے والوں میں رافت و رحمت کی تبلیغ کی۔ رافت دل کی اس نرمی کو کہتے ہیں جو کسی کو تکلیف و مصیبت میں دیکھ کر ایک شخص کے دل میں پیدا ہوتی ہے۔ اور رحمت سے مراد وہ جذبہ ہے جو مظلوم مقہور آدمی کی مدد پر اکساتا ہے۔ لیکن مقصود اس رافت و رحمت سے دلوں کو نرم کرنا، قساوتِ قلبی کو ختم کرنا اور اس کی جگہ ہمدردی و خیرخواہی کے جذبے کو پیدا کرنا تھا۔ اور یہ بات کوئی نئی نہ تھی ہر پیغمبر نے اسی کی تعلیم دی۔ اور خود آنحضرت ﷺ اسی کا پیکر تھے۔ اور مسلمانوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے یہی بات ارشاد فرمائی تھی کہ اہل ایمان باہمی ہمدردی اور دردمندی میں اس طرح ہیں جس طرح ایک جسم کے اعضاء باہم دگر ہوتے ہیں۔ لیکن بعد کے مبتدعین نے اس میں اضافہ کرتے ہوئے اسے رہبانیت تک پہنچا دیا۔ اور پھر رہبانیت عیسائیت کی پہچان بن گئی۔ رہبانیت اصطلاحی طور پر ترک دنیا کو کہتے ہیں۔ یعنی اگر کوئی شخص کسی خوف میں مبتلا ہو کر چاہے وہ کسی ظلم کا ہو یا اپنے نفس کے فتنوں کا تارک الدنیا بن جاتا ہے۔ اور دنیوی زندگی سے بھاگ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں پناہ لے لیتا ہے تو ایسے شخص کو راہب کہتے ہیں۔ اس بات کا حکم پروردگار نے عیسائیوں کو نہیں دیا تھا۔ انھوں نے اس رہبانیت کو خود اختیار کیا اور ایک بدعت کے طور پر دین میں اسے داخل کردیا۔ حالانکہ انھیں جس بات کا حکم دیا گیا تھا وہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کا حصول ہے اور یہ بات بھی تمام انبیائے کرام کے دین کا مقصد رہی ہے۔ پھر اس پر مزید ستم یہ ہوا کہ انھوں نے رہبانیت کے لیے جو حدودوقیود مقرر کیے تھے اس کی پابندی اور پاسداری نہ کرسکے۔ بعد میں رہبانیت نے جو شکل اختیار کی جسے ترک دنیا کا نام دیا گیا وہ ابتدائی صدیوں میں نہ تھی۔ بدعت چونکہ ایک جگہ نہیں رکتی وہ مختلف شکلیں اختیار کرتی چلی جاتی ہے، یہاں بھی یہی حادثہ پیش آیا۔ نبی کریم ﷺ نے اس کی مزید توضیح فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا لارہبانیۃ فی الاسلام ” اسلام میں کوئی رہبانیت نہیں۔ “ اور ایک حدیث میں ارشاد فرمایا کہ اس امت کی رہبانیت جہاد فی سبیل اللہ ہے۔ بلکہ اس رہبانیت سے بچانے کے لیے آنحضرت ﷺ نے تاکید کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اپنے اوپر سختی نہ کرو کہ اللہ تم پر سختی کرے، ایک گروہ نے یہی تشدد اختیار کیا تھا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اسے سخت پکڑا، دیکھ لو ان کے بقایا راہب خانوں اور کلیسوں میں موجود ہیں۔ “ (ابودائود) یہ دیکھنے کے لیے کہ رہبانیت نے کیا شکل اختیار کی۔ اور جس رہبانیت کو ابتدائی طور پر اختیار کیا گیا تھا اس میں کیسے کچھ اضافے ہوئے اور پھر رفتہ رفتہ اس نے کیسی مکروہ شکل اختیار کرلی، اس کے لیے مسیحی رہبانیت کی تاریخ کا مطالعہ کرنا ضروری ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہم نے انھیں ان کا پورا اجر دیا۔ ذکر چونکہ اس آیت کریمہ میں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے نام لیوائوں کا ہے اس لیے یہ قرینہ ہے اس بات پر کہ یہاں ایمان لانے والوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے تھے اور پھر اپنے ایمان پر ہر طرح کے حالات میں ثابت قدم رہے۔ یہاں اٰمَنُوْا اپنے کامل معنی میں استعمال ہوا ہے۔ یعنی انھوں نے اپنے ایمان میں حالات کے دبائو کے تحت کوئی کمی بیشی نہیں ہونے دی۔ معلوم ہوتا ہے کہ اس سے مراد حضرت مسیح (علیہ السلام) کے سچے خلیفہ حضرت شمعون اور ان کے نقش قدم پر چلنے والے نصاریٰ ہیں۔ اور یہی وہ لوگ ہیں کہ جب اسلام کی دعوت بلند ہوئی تو ان ہی کے نام لیوائوں اور ان کے راستے پر چلنے والوں نے نہایت خوشدلی کے ساتھ اسلام کی دعوت کا خیرمقدم کیا۔ ان کے علاوہ باقی لوگوں میں سے بیشتر لوگوں نے تثلیث اور رہبانیت کی بدعتیں ایجاد کرکے دین مسیح کا حلیہ بگاڑا۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو سینٹ پال کے پیروکار بنے۔ ان ہی کو اس آیت کریمہ میں فاسق بتایا گیا ہے۔ کیونکہ یہ لوگ ضال بھی تھے اور مضل بھی۔
Ayahs 57:28–29

یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰهَ وَ اٰمِنُوْا بِرَسُوْلِهٖ یُؤْتِكُمْ كِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِهٖ وَ یَجْعَلْ لَّكُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِهٖ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌۚۙ Open ayah 57:28 in the Quran reader

اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہوں، اللہ سے ڈرو، اور اس کے رسول (محمد ﷺ پر ایمان لائو، اللہ تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے دے گا اور تمہیں وہ نور عطا کرے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہاری مغفرت فرمائے گا، اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے

لِّئَلَّا یَعْلَمَ اَهْلُ الْكِتٰبِ اَلَّا یَقْدِرُوْنَ عَلٰى شَیْءٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰهِ وَ اَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِ اللّٰهِ یُؤْتِیْهِ مَنْ یَّشَآءُ١ؕ وَ اللّٰهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِیْمِ۠ Open ayah 57:29 in the Quran reader

تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں سے کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے

یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُوا اللّٰہَ وَاٰمِنُوْا بِرَسُوْلِہٖ یُؤْتِکُمْ کِفْلَیْنِ مِنْ رَّحْمَتِہٖ وَیَجْعَلْ لَّـکُمْ نُوْرًا تَمْشُوْنَ بِہٖ وَیَغْفِرْلَـکُمْ ط وَاللّٰہُ غَفُوْرٌرَّحِیْمٌ۔ لِّئَلاَّ یَعْلَمَ اَھْلُ الْکِتٰبِ اَلاَّ یَقْدِرُوْنَ عَلٰی شَیْ ئٍ مِّنْ فَضْلِ اللّٰہِ وَاَنَّ الْفَضْلَ بِیَدِاللّٰہِ یُؤْتِیْہِ مَنْ یَّشَآئُ ط وَاللّٰہُ ذُوالْفَضْلِ الْعَظِیْمِ ۔ (الحدید : 28، 29) (اے وہ لوگو ! جو ایمان لائے ہوں، اللہ سے ڈرو، اور اس کے رسول (محمد ﷺ پر ایمان لائو، اللہ تمہیں اپنی رحمت میں سے دو حصے دے گا اور تمہیں وہ نور عطا کرے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، اور تمہاری مغفرت فرمائے گا، اللہ تعالیٰ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔ تاکہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل میں سے کسی چیز پر اختیار نہیں رکھتے، اور یہ کہ اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، وہ جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔ ) مخلص نصاریٰ کو دعوت ایمان اس آیت کریمہ میں خطاب ان ہی نصاریٰ سے ہے جن کا اوپر والی آیت کے آخر میں ذکر فرمایا گیا ہے۔ جب گزشتہ آیت میں ان کے ذکر کی تقریب پیدا ہوئی تو پیش نظر آیت کریمہ میں انھیں آنحضرت ﷺ پر ایمان لانے کی دعوت دی گئی۔ معلوم ہوتا ہے کہ ان میں دو طرح کے لوگ تھے جن کے اندر کسی نہ کسی حد تک ایمان پایا جاتا تھا۔ ایک وہ لوگ تھے کہ جو حضرت شمعون کے پوری طرح پیروکار تھے اور وہ جانتے تھے کہ تورات و انجیل میں نبی کریم ﷺ کی صفات بیان کی گئی ہیں اور ہمیں ان کی پاسداری اور اس پیغمبر پر ایمان لانے کا حکم دیا گیا ہے۔ سورة المائدہ میں نصاریٰ کے جس گروہ کا ذکر ہے وہ یہی گروہ ہے۔ وہاں ارشاد فرمایا گیا ہے : لَتَجِدَنَّ اَشَدَّالنَّاسِ عَدَاوَۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الْیَھُوْدَ وَالَّذِیْنَ اَشْرَکُوْا ج وَلَتَجِدَنَّ اَقْرَبَھُمْ مَّوْدَّۃً لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوا الَّذِیْنَ قَالُوْٓا اِنَّا نَصٰرٰی ط ذَالِکَ بِاَنَّ مِنْھُمْ قِسِّیْسِیْنَ وَرُھْبَانًا وَّاَنَّھُمْ لاَ یَسْتَکْبِرُوْنَ 5 وَاِذَا سَمِعُوْا مَـآ اُنْزِلَ اِلَی الرَّسُوْلِ تَرٰٓی اَعْیُنَھُمْ تَفِیْضُ مِنَ الدَّمْعِ مِمَّا عَوْفُوْا مِنَ الْحَقِّ ج یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَـآ اٰمَنَّا فَاکْتُبْنَا مَعَ الشّٰھِدِیْنَ ۔ (المائدۃ 5: 82۔ 83) ” تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین قریش کو پائو گے اور اہل ایمان کی دوستی میں سب سے زیادہ قریب ان لوگوں کو پائو گے جو کہتے ہیں کہ ہم نصاریٰ ہیں، یہ بات اس وجہ سے ہے کہ ان کے اندر علماء اور راہب موجود ہیں اور یہ لوگ استکبار میں مبتلا نہیں ہیں، یہ لوگ جب اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو اس حق کو پہچان لینے کے سبب سے جو اس کے اندر موجود ہے ان کی آنکھیں آنسوئوں سے لبریز ہوجاتی ہیں، وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے رب ! ہم ایمان لائے، تو ہمیں آخری رسول کی گواہی دینے والوں میں لکھ۔ “ اور ان میں دوسرا گروہ وہ تھا جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں یقین رکھتا تھا کہ یہ وہی نبی اُمِّی ہیں جن کی پیشگوئی انجیل میں کی گئی ہے۔ لیکن وہ لوگ جو اسلام کے بدترین مخالف تھے یہ ان کی مخالفت سے گھبرا کر کھل کر اپنے یقین کا اظہار نہیں کرتے تھے۔ اور اندیشہ رکھتے تھے کہ اگر ہم نے اس صحیح بات کا اظہار شروع کردیا تو یہ لوگ ہمارے مخالف ہوجائیں گے۔ ان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ایمان سے پہلے تقویٰ کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور اللہ تعالیٰ کے آخری رسول محمد ﷺ پر ایمان لائو۔ اور اگر تم اللہ تعالیٰ کی بجائے بندوں سے ڈرتے رہے اور اللہ تعالیٰ کا خوف نظرانداز کردیا تو تمہیں خوب معلوم ہے کہ اس کا انجام کیا ہوگا۔ چناچہ ان دونوں گروہوں میں ایمان لانے والوں سے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر تم نبی آخرالزماں پر ایمان لائو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی رحمت سے دہرا اجر عطا فرمائے گا۔ ایک تو اس بات پر کہ تم نے اس حق کی گواہی دی جو حضرت مسیح (علیہ السلام) اور ان سے پہلے آنے والے انبیاء پر نازل ہوا تھا۔ اور اب تم نے اس حق کی گواہی دی ہے جسے لے کر نبی آخرالزماں ﷺ تشریف لائے ہیں اور دونوں میں تم نے کسی تفریق و تخرب کا ارتکاب نہیں کیا۔ بنابریں تم اللہ تعالیٰ کی رحمت کے دو حصوں کے مستحق ہوگئے ہو۔ لیکن قرآن کریم کی سورة سبا کی آیت 37 سے معلوم ہوتا ہے کہ مومنین صالحین کے لیے بھی دوگنا اجر ہے۔ تو ان دونوں باتوں میں کوئی تضاد نہیں۔ کیونکہ آنحضرت ﷺ کی امت اس لیے دہرے اجر کی حقدار ہے کہ انھوں نے اس حق کی بھی گواہی دی جو سابق انبیائے کرام پر نازل ہوا اور اس حق پر بھی ایمان لائے جو نبی کریم ﷺ پر نازل ہوا۔ مزید یہ فرمایا کہ اگر تم نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لائو گے اور پھر اپنے اس ایمان پر ثابت قدم رہو گے تو اللہ تعالیٰ تمہیں ایک ایسا نور عطا فرمائے گا جو آخرت کے اندھیرے میں تمہارے لیے روشنی کا سامان ہوگا۔ تم بھی اس روشنی میں چلو گے اور اس راستے پر چلنے والے بھی اس سے کسب نور کریں گے۔ یہ وہی بشارت ہے جس کا ذکر اسی سورة کی آیت 12 میں گزر چکا ہے۔ دوسری آیت کریمہ کے پہلے لفظ میں لاَ زائدہ ہے۔ یہ لِیْعلم کے معنی میں ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ آیت میں جو احکام اور بشارتیں بیان کی گئی ہیں وہ اس لیے ہیں تاکہ اہل کتاب جان لیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے فضل پر اجارہ نہیں رکھتے، اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے جسے چاہتا ہے نوازتا ہے۔ وہ اس وقت اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کے مستحق تھے جب وہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کا حق ادا کیا۔ اب وہ اسی صورت میں اللہ تعالیٰ کے فضل کے مستحق ہوسکتے ہیں کہ وہ نبی آخرالزماں ﷺ پر ایمان لائیں۔ اور اگر وہ ایسا نہ کریں تو وہ ہمیشہ کے لیے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے محروم کردیئے جائیں گے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کی عنایات اور رحمتیں اللہ تعالیٰ ہی کے قبضے میں ہیں۔ اس میں کوئی شخص دخل اندازی کی جرأت نہیں کرسکتا۔