Ayah 59:13لَاْ اَنْتُمْ اَشَدُّ رَھْبَۃً فِیْ صُدُوْرِھِمْ مِّنَ اللّٰہِ ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّیَفْقَھُوْنَ ۔ (الحشر : 13)
(ان کے دلوں میں اللہ کے بالمقابل تمہارا خوف زیادہ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے۔ )
منافقین کے ایمان کی حقیقت
منافقین بظاہر ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں اور اپنے دلوں میں اللہ تعالیٰ کے خوف کا اظہار بھی کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے۔ جب وہ یہ دیکھتے ہیں کہ مسلمانوں میں اسلام کی وجہ سے انتہا درجے کا اتحاد ہے، وہ کفر کے مقابلے میں ایسی سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح ہیں، جس سے ٹکرانے والا اپنا سر تو پھوڑ سکتا ہے، لیکن اسے نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ان کی تمام تر وفاداریاں صرف اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ اور رسول کے اشارے پر یہ لوگ گردنیں کٹوانے کے لیے تیار ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال نے ان کے دلوں میں ایک خوف بٹھا دیا ہے کہ جو شخص بھی ان مسلمانوں سے ٹکرائے گا وہ پاش پاش ہو کر رہ جائے گا۔ اس خوف کی وجہ سے وہ یہود کا ساتھ دینے کی ہمت نہیں کریں گے۔ لیکن اس پر افسوس کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے کہ ایک شخص ایمان کا دعویٰ بھی کرتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی بجائے اللہ تعالیٰ کے بندوں سے ڈرتا ہے اور اس کے دل میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کی عقلیں بالکل جواب دے گئی ہیں بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے فہمِ صحیح کی قوت کو سلب کرلیا ہے اور ان کی فکری توانائی بالکل مفلوج ہو کر رہ گئی ہے۔
Ayah 59:14لاَ یُقَاتِلُوْنَـکُمْ جَمِیْعًا اِلاَّ فِیْ قُرًی مُّنَحَصَّنَۃٍ اَوْمِنْ وَّرَآئِ جُدُرٍ ط بَاْسُھُمْ بَیْنَھُمْ شَدِیْدٌط تَحْسَبُھُمْ جَمِیْعًا وَّقُلُوْبُہُمْ شَتّٰی ط ذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ قَوْمٌ لاَّیَعْقِلُوْنَ ۔ (الحشر : 14)
(یہ کبھی اکٹھے ہو کر آپ سے میدان میں نہیں لڑیں گے، مگر قلعہ بند بستیوں یا دیواروں کی اوٹ سے، ان کے درمیان شدید مخاصمت ہے، آپ انھیں اکٹھا گمان کرتے ہیں مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں، اس کا سبب یہ ہے کہ یہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ )
منافقین کی بزدلی
ان منافقین کی بزدلی کا عالم یہ ہے کہ آپ سے لڑنے اور میدان میں نکل کر آپ کے مقابلے کی ہمت نہیں کرسکیں گے۔ البتہ ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے بارے میں چونکہ شدید بغض پایا جاتا ہے اور ان کی دلی خواہش ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔ اس لیے اگر انھیں قلعہ بند بستیاں مل جائیں یا کوئی ایسی مضبوط اوٹ راستے میں حائل ہو جس سے وہ اپنی حفاظت کرسکیں تو پھر وہ آپ پر وار کرنے سے کبھی دریغ نہیں کریں گے۔ میدان میں نکل کر اور خطرے کو انگیخت کرکے اپنی جان پر کھیل جانا یہ ان لوگوں کا کام نہیں جن کے سامنے کوئی بلند نصب العین نہ ہو۔ وہ صرف زندگی کے لیے زندہ ہیں اور زندگی کی ضرورتیں اور خواہشات ان کے مقاصد ہوں۔ ایسے لوگ صرف اپنی ذات کے پجاری ہوتے ہیں اور اول و آخر ان کی ذات ہی ان کا مرجع رہتی ہے۔ تو ایسے لوگوں سے یہ امید رکھنا کہ وہ کبھی جان کی بازی بھی لگا سکتے ہیں یہ ناممکن ہے۔ البتہ ان کی ذات کو گزند نہ پہنچے تو پھر وہ نفرتوں کے اظہار میں کسی سے پیچھے نہیں۔ اور دوسری عجیب بات ان میں یہ ہے کہ اسلام دشمنی میں وہ سب یکجا اور یک زبان ہیں۔ اس معاملے میں ان کا اتحاد دیکھ کر گمان ہونے لگتا ہے کہ شاید ان میں وحدت فکر بھی پائی جاتی ہے، لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ مخالفتِ اسلام کے منفی مقصد کے سوا ان کے دلوں کے اندر اتحاد کا کوئی جذبہ نہیں۔ وہ دیکھنے کو ایک دوسرے کے ساتھ ہیں لیکن دل ایک دوسرے سے بیگانہ اور ایک دوسرے سے زخمی ہیں۔ اور آخر میں فرمایا گیا کہ ان کا یہ حال اس لیے ہے کہ وہ عقل سے کام نہیں لیتے۔ یعنی ان کی عقلوں پر ان کے تعصبات چھائے ہوئے ہیں۔ اسلام اور مسلمانوں کیخلاف ان کا بغض وعناد انھیں عقل سے کام لینے نہیں دیتا۔ ان ہی تعصبات اور بغض وعناد نے ان کی فکری قوتوں کو مسموم کرکے رکھ دیا ہے۔ جس طرح رنگدار عینک سے آدمی کو ہر چیز رنگین دکھائی دیتی ہے اسی طرح ان کی عقل ہر معاملے میں ان کی غلط رہنمائی کرتی ہے اور وہ صحیح عقل کو استعمال کرنے پر قادر نہیں ہیں۔
Ayah 59:15کَمَثَلِ الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِہِمْ قَرِیْبًا ذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِھِمْ وَلَہُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ۔ (الحشر : 15)
(یہ ان لوگوں کی طرح ہیں جو ان سے کچھ ہی پہلے اپنے کیے کا وبال چکھ چکے ہیں، اور ان کے لیے ایک دردناک عذاب ہے۔ )
بنو نضیر کے انجام کی مثال
منافقین جن لوگوں کو شہ دے رہے تھے ان کا جو انجام ہونے والا ہے، اس کی ایک مثال ارشاد فرمائی گئی ہے۔ یعنی ان منافقین نے اس سے پہلے بنوقینقاع کو اسی طرح ابھار کر مسلمانوں کے مقابلے میں ڈٹے رہنے کی ترغیب دی اور ان سے غلط وعدے کیے، بالآخر ان کا انجام یہ ہوا کہ وہ اپنی کثرت تعداد اور اپنے سروسامان کے باوجود مدینے سے نکلنے پر مجبور ہوگئے۔ اب یہ بالکل اسی طرح بنونضیر کو بھی شہ دے رہے ہیں کہ تم بھی ڈٹ جاؤ، ہم ہر طرح تمہاری مدد کریں گے۔ لیکن جو انجام بنو قینقاع کا ہوا، ان کا انجام بھی اس سے مختلف نہیں ہوگا۔ لیکن انھیں معلوم نہیں کہ مدینے سے اخراج تو صرف دنیا میں ان کی رسوائی ہے لیکن یہ آخری سزا نہیں اصل سزا کے طور پر اللہ تعالیٰ نے آخرت میں ان کے لیے ایک دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ وہ عذاب بنوقینقاع کے انتظار میں بھی ہے اور بنونضیر بھی اسی سے دوچار ہونے والے ہیں۔
Ayah 59:16کَمَثَلِ الشَّیْطٰنِ اِذْقَالَ لِلْاِنْسَانِ اکْفُرْ ج فَلَمَّا کَفَرَ قَالَ اِنِّیْ بَرِیْٓ ئٌ مِّنْـکَ اِنِّیْٓ اَخَافُ اللّٰہَ رَبَّ الْعٰلَمِیْنَ ۔ (الحشر : 16)
(ان شہ دینے والوں کی مثال شیطان کی سی ہے، جو انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر، اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو اس وقت وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بری ہوں، میں تو اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔ )
منافقین کی مثال شیطان سے
یہ منافقین جس طرح بنی نضیر کو شہ دے رہے تھے اور ساتھ دینے کے جھوٹے وعدے کرکے انھیں ڈٹ جانے کی ترغیب دے رہے تھے۔ اس آیت کریمہ میں ان کی مثال شیطان سے دی گئی ہے کہ ان کا رویہ وہی ہے جو انسان کی گمراہی میں شیطان کا رویہ ہوتا ہے۔ وہ پہلے انسان کو گمراہی کا راستہ دکھاتا ہے اور جب آدمی اس کے چکمے میں آکر کوئی جرم کر بیٹھتا ہے تو وہ ناصح بن کر اس کو ملامت کرتا اور اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ چناچہ آج یہ اسی طرح بنو نضیر کو جھوٹے وعدے کرکے یقین دلا رہے ہیں کہ ہم ہرحال میں تمہارا ساتھ دیں گے، تم مسلمانوں سے لڑ جاؤ۔ لیکن اگر ان وعدوں پر اعتماد کرکے وہ مسلمانوں سے بھڑ گئے تو یہ شیطان کی روایت کے مطابق دامن جھاڑ کر ان سے الگ ہوجائیں گے۔ اور اس کی تمام تر ذمہ داری بنونضیر پر ڈال دیں گے۔ چناچہ جنگ بدر میں شیطان نے ایسا ہی کیا۔ جس کا سورة الانفال میں ذکر کیا گیا ہے کہ پہلے وہ اشرافِ قریش کو بڑھاوے چڑھاوے دے کر بدر میں مسلمانوں کے مقابلے پر لے آیا۔ اور جب دونوں فوجیں آمنے سامنے ہوئیں تو وہ یہ کہتا ہوا پشت پھیر کر بھاگ نکلا اِنِّیْ بَرِیٌٔ مِّنْـکُمْ اِنِّی اَرَیٰ مَالاَ تَرَوْنَ اِنِّی اَخَافَ اللّٰہَ ” میں تم سے بری الذمہ ہوں، مجھے وہ کچھ نظر آرہا ہے جو تمہیں نظر نہیں آتا، مجھے تو اللہ سے ڈر لگتا ہے۔ “
Ayah 59:17فَکَانَ عَاقِبَتَھُمَآ اَنَّھُمَا فِی النَّارِ خَالِدَیْنِ فِیْھَا ط وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیْنَ ۔ (الحشر : 17)
(پھر دونوں کا انجام یہ ہوگا کہ وہ دونوں جہنم میں جائیں گے، اس میں ہمیشہ رہیں گے، اور ظالموں کی یہی جزاء ہے۔ )
دنیا میں جن لوگوں نے شیطان کی طرح دوسروں کو بہکایا، اور جب مشکل گھڑی آئی تو دامن جھاڑ کر وہاں سے نکل کھڑے ہوئے اور ساری ذمہ داری ان پر ڈال دی جنھیں وہ اکساتے رہے اور اپنی معاونت کا یقین دلاتے رہے۔ اور اس حرکت کے بعد انھوں نے یہ سمجھا کہ جن لوگوں کو ہم نے اکسایا وہ کیسے ہی نا گفتہ بہ انجام سے دوچار ہوئے ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں، نہ ہم پر اس کی کوئی ذمہ داری ہے۔ لیکن اکسائے جانے والے لوگ جب قیامت میں انھیں دیکھیں گے تو وہ ان ہی کو ہر لحاظ سے ذمہ دار گردانیں گے اور اللہ تعالیٰ سے فریاد کریں گے کہ انھیں ان سے بڑھ کر سزا دی جائے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں یہ فرمایا گیا ہے کہ قیامت کے دن یہ دونوں طرح کے لوگ اللہ تعالیٰ کی گرفت میں آئیں گے۔ ایک دوسرے کو ملامت کسی کے کام نہیں آئے گی، دونوں اپنے اپنے انجام پر پکڑے جائیں گے اور دونوں کو ایسی نارجہنم میں ڈالا جائے گا جہاں سے وہ کبھی نکل نہیں سکیں گے۔ اور یہ انجام ان کا اس لیے ہوگا کہ انھوں نے خود اپنے پائوں پر کلہاڑی ماری۔ بجائے عقل سلیم کو استعمال کرنے کے تعصبات میں اندھے بنے رہے اور حقائق کو عقل سے سمجھنے کی بجائے تعصبات کی نگاہوں سے دیکھا۔ تو نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ دونوں ہی تباہ ہوگئے۔ اور اللہ تعالیٰ ایسے ظالموں کو اسی طرح کا بدلہ دیا کرتا ہے۔
Ayah 59:18یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ ج وَاتَّقُواللّٰہَ ط اِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ م بِمَا تَعْمَلُوْنَ ۔ (الحشر : 18)
(اے لوگو ! جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو، اور چاہیے کہ ہر شخص یہ دیکھے کہ اس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے، اور اللہ سے ڈرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس کو جاننے والا ہے۔ )
انسان کی اصلاح سے متعلق بنیادی ہدایات
اس آیت کریمہ میں خطاب اگرچہ عام مسلمانوں سے ہے لیکن سیاق وسباق بتارہا ہے کہ روئے سخن ان منافقین کی طرف ہے جن کا ذکر اس سورة میں مسلسل چلا آرہا ہے۔ اور ویسے بھی قرآن کریم کا اسلوب یہ ہے کہ وہ جب بھی منافق مسلمانوں کے نفاق پر گرفت کرتا ہے تو ساتھ ہی ساتھ انھیں نصیحت بھی کرتا ہے تاکہ ان میں سے اگر کسی کے اندر ضمیر کی روشنی باقی ہے تو اسے اپنی اصلاح کا موقع مل سکے۔ چناچہ اس سلسلے میں سب سے پہلی جس بات کی طرف توجہ دلائی گئی ہے وہ ایک ایسی حقیقت ہے جس سے تغافل انسان کے لیے تمام خرابیوں کا سبب بنتا ہے اور جس کی یادداشت انسان کے لیے اصلاح کا پیغام بن جاتی ہے۔ وہ حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے اللہ سے ڈرتا رہے۔ یعنی اس کا استحضار رکھے اور اس یقین سے بہرہ ور رہے کہ میرا ایک خالق ومالک ہے، میں ہر وقت اس کی نگاہوں میں ہوں، میرا کوئی عمل اس کی نگاہوں سے مخفی نہیں، میرے لیے عافیت اسی میں ہے کہ میں ہر وقت اس کے سامنے جواب دہی سے لرزاں و ترساں رہوں۔ یہ وہ حقیقت الحقائق ہے جو انسان کی اصلاح کی ضامن ہے۔ اور اس کی طرف سے ذہول انسان کی تباہی کا باعث ہے۔ اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کا لازمی نتیجہ جو ہونا چاہیے اس کا ذکر فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ انسان کو ہمیشہ اپنا جائزہ لیتا رہنا چاہیے کہ میں نے اس دنیا میں رہ کر آخرت کے لیے کیا تیاری کی ہے، اور وہ کیسے اعمال ہیں جنھیں میں نے آخرت کے لیے بھیجا ہے۔ اس بات کو نہایت موثر بنانے کے لیے آخرت کو ” کل “ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ بلاشبہ آخرت سے بےنیازی و لاپرواہی کا سبب انکار ہے، لیکن جو لوگ آخرت کا انکار نہیں کرتے ان کی لاپرواہی کا سبب یہ ہے کہ وہ آخرت کو بہت دور سمجھتے ہیں۔ اور جب بھی انھیں توجہ دلائی جاتی ہے تو وہ ہمیشہ یہ کہتے ہیں کہ ابھی تو آخرت بہت دور ہے ابھی سے اپنی زندگی کو بےرنگ اور بےنمک کیسے کرلیا جائے۔ اس لیے ارشاد فرمایا کہ آخرت دور نہیں، وہ تو تمہاری زندگی میں اس قدر یقینی اور اس قدر قریب الوقوع ہے جتنا تمہاری زندگی میں کل کا دن ہے۔ یہ دنیا تمہارا آج ہے اور آخرت تمہارا کل ہے۔ جس طرح کل کے سورج کا طلوع ہونا تمہارے لیے یقینی ہے اسی طرح آخرت بھی تمہارے لیے یقینی ہے۔ اور مزید یہ بات بھی نہایت حکیمانہ طریقے سے واضح فرمائی گئی ہے کہ وہ شخص کس قدر نادان سمجھا جاتا ہے جو آج کے لطف و لذت پر سب کچھ لٹا بیٹھتا ہے اور کبھی یہ سوچنے کی زحمت گوارا نہیں کرتا کہ کل کو میں کیا کھائوں گا اور اپنی دیگر ضروریات کہاں سے پوری کروں گا۔ اسی طرح وہ شخص بھی سخت نادان ہے جو دنیا میں انہماک کی وجہ سے آخرت سے غفلت کا شکار ہے۔ اسے اس بات کی فکر تو ہے کہ میرے پاس بہتر سے بہتر ضروریاتِ زندگی کا انبار ہونا چاہیے، میرے گھر میں دولت کی ریل پیل ہونی چاہیے، لوگوں میں میرا نام ہونا چاہیے اور میرے سر پر آئے روز نئی سے نئی کلغی سجنی چاہیے۔ آنے جانے کے لیے اتنی بڑی گاڑی ہونی چاہیے جسے لوگ دیکھتے رہ جائیں۔ لیکن اس کی طوالت کو ناپ نہ سکیں۔ لیکن اسے اس بات کا کبھی ہوش نہ آئے کہ میں اپنے اس آج کے لیے تو اس قدر فکرمند ہوں لیکن میرا جو کل ہے اس کی کبھی مجھے بھول کر بھی فکر نہیں ہوئی۔ حالانکہ اس کا آنا بھی یقینی ہے اور اس کا وقوع بھی دور نہیں۔ بلکہ جیسے ہی آنکھیں بند ہوئیں آخرت سر پر آپہنچی۔ اور مزید اس میں یہ بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ تم میں سے ہر شخص کو خود اپنا محتسب ہونا چاہیے۔ وہ برابر اپنا جائزہ لیتا رہے کہ میں جس طرح زندگی گزار رہا ہوں اس کا نتیجہ کیا ہوگا۔ میرا سفر بھلائی کی طرف ہے یا برائی کی طرف، مجھ سے وجود پذیر ہونے والے اعمال کیا اللہ تعالیٰ کے یہاں میرے لیے اجروثواب کا باعث بنیں گے یا سزا و عداب کا۔ اور آخرکار میرا مقدر جنت ہوگا یا جہنم۔ جو شخص بھی اس طرح سے اپنا احتساب کرتا ہے اور پھر یہ احتساب بڑھتے بڑھتے قوم کی بیداری میں تبدیل ہوجاتا ہے تو ایسی قوم کو نہ دنیا میں کبھی ناکامی ہوتی ہے اور نہ آخرت میں اسے کوئی کھٹکا ہوگا بلکہ وہ دنیا میں بھی ایک طاقت ہے اور آخرت میں بھی اس کو پذیرائی ملے گی۔ اقبال نے ٹھیک کہا :
صورتِ شمشیر ہے دست قضا میں وہ قوم
کرتی ہے جو ہر زماں اپنے عمل کا حساب
Ayah 59:19وَلاَ تَـکُوْنُوْا کَالَّذِیْنَ نَسُوا اللّٰہَ فَاَنْسٰھُمْ اَنْفُسَھُمْ ط اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْفٰسِقُوْنَ ۔ (الحشر : 19)
(اور ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جو اللہ تعالیٰ کو بھول گئے تو اللہ نے انھیں خود اپنا نفس بھلا دیا، یہی لوگ اصلی نافرمان ہیں۔ )
تباہی سے بچائو کے لیے ہدایات
فوزوفلاح کا راستہ دکھانے کے بعد اس راستے پر چلنے سے روکا جو افراد اور اقوام کے لیے تباہی کا راستہ ہے اور وہ تباہی کہیں باہر سے نہیں انسان کے اندر سے پھوٹتی ہے اور انسان خود اس کا سروسامان کرتا ہے۔ چناچہ اس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ ہم نے تم سے پہلے اہل کتاب کو معرفتِ خداوندی جیسی حقیقت سے بہرہ ور فرمایا تھا۔ انھیں اللہ تعالیٰ کی ذات اور اللہ تعالیٰ کی صفات کا علم بخشا گیا۔ اور یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کن کاموں میں راضی ہے اور کن باتوں سے ناراض ہوتا ہے۔ اور وہ کون سی باتیں ہیں جن کے اختیار کرنے سے انسان دنیا میں ایسی زندگی گزارتا ہے جو آخرت بنانے کے کام آتی ہے۔ اور وہ کون سی باتیں ہیں جن کے اختیار کرنے سے دنیا اور آخرت دونوں تباہ ہوجاتی ہیں۔ لیکن انھوں نے اللہ تعالیٰ کو بھلا دیا۔ اور اللہ تعالیٰ کی معرفت سے محروم ہوگئے۔ نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو بھی بھول گئے۔ کیونکہ خدا فراموشی کا لازمی نتیجہ خودفراموشی ہے۔ کیونکہ انسان کے لیے سب سے بنیادی سوال یہ ہے کہ اس کی حقیقت کیا ہے۔ کیا وہ ایک خود رو پودا ہے جو اپنے آپ وجود میں آیا ہے یا اسے خالق نے حیوانوں کی طرح پیدا کرکے چھوڑ دیا ہے اور ان کی زندگی کے لیے کوئی فرائض و حقوق متعین نہیں فرمائے۔ اور ان کی زندگی کے اعمال کے حوالے سے کبھی ان سے سوال نہیں ہوگا۔ اور یا انھیں اس بات کا اختیار دیا گیا ہے کہ وہ الٰہی رہنمائی کے بغیر اپنی مرضی سے اپنی حیثیت کا جو تعین کرنا چاہیں کرلیں۔ اسی سوال کے جواب پر انسان کی تمام تر زندگی کا دارومدار ہے۔ اگر وہ اس سوال کا صحیح جواب تلاش کرلیتا ہے تو اس کی زندگی کا سفر صحیح منزل اور صحیح جہت کی طرف ہوتا ہے۔ اور اگر اس سوال میں وہ غلطی کرجاتا ہے تو اس کی زندگی کا ہر فیصلہ غلط ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی لیے پروردگار نے انسانوں کو حواس کے ساتھ ساتھ عقل سلیم سے نوازا۔ اور عقل سلیم کی رہنمائی کے لیے وحی الٰہی کا نور روشن کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبروں کو بھیجا تاکہ وہ انسان کے سامنے ایک نمونے کی زندگی پیش کریں۔ اس طرح سے اس سوال کے صحیح جواب انسان کے لیے آسان بنائے۔ چناچہ اس کی جبلت، اس کی فطرت اور اس کی عقل پر اس نکتہ کو فاش کیا کہ تم خود سے وجود میں نہیں آئے ہو بلکہ تمہارا ایک خالق ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ہے۔ اس نے تمہیں حیوانوں کی طرح پیدا نہیں کیا کہ شتر بےمہار بن کر زندگی گزارو بلکہ تمہیں اشرف المخلوقات بنایا، تمہاری زندگی کے مقاصد متعین کیے، آخرت کو تمہاری منزل بنایا اور زندگی گزارنے کے لیے تمہیں ایک ضابطہ ٔ حیات بخشا جس کے لیے اس نے اپنی کتابیں اتاریں اور اپنے پیغمبروں کو مبعوث کیا۔ جو لوگ اس حقیقت کو بھول گئے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنے آپ کو بھی بھول گئے۔ یعنی انھیں بالکل یہ خیال نہ رہا کہ ہم بندے ہیں اور ہمارا ایک مالک اور آقا ہے۔ ہمیں جس قدر یہ نعمتیں اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی ہیں وہ اس کی امانتیں ہیں، اس نے اس پر تصرف کا ہمیں اختیار بھی دیا اور طریقہ بھی سجھایا ہے اور اس طریقے سے ہم اگر ان نعمتوں پر اس کی رضامندی کے حصول کے لیے تصرف کریں گے تو ہماری زندگی کا سفر صحیح گزرے گا۔ اور ہم یہاں بھی کامیاب ہوں گے اور آخرت میں بھی ہمیں کامیابی نصیب ہوگی۔ لیکن اگر ہم نے اس میں ٹھوکر کھائی، بندگی کی بجائے سرکشی اور خودسری کا راستہ اختیار کیا اور اللہ تعالیٰ کو اپنا آقا بنانے کی بجائے کسی اور کو اپنا آقا بنا لیا یا اپنی ہَوائے نفس کی پوجا شروع کردی یا ضروریاتِ زندگی کو مقصدحیات بنا لیا اور پھر اسی کے حصول میں ساری زندگی وقف کردی۔ تو یہ وہ فسق و فجور کا راستہ ہے جو انسانیت کا نہیں بلکہ حیوانیت کا غماز ہے۔ اور اس کی ابتداء اس وقت ہوجاتی ہے جب آدمی اللہ تعالیٰ کے بارے میں غلط فیصلہ کرتا ہے اور یا اس کے بارے میں نسیان کا شکار ہوجاتا ہے۔ اسے جانتا ہے لیکن مانتا نہیں۔ یا مانتا ہے لیکن اس کے احکام پر عمل نہیں کرتا۔ یہ سب اس کی نافرمانی کے راستے ہیں جس سے اس آیت میں روکا گیا ہے۔ اور جو شخص اس راز کو پا لیتا ہے وہ دنیا میں بھی اشرف المخلوقات بن کر زندگی گزارتا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے آستانے کے سوا کسی اور آستانے پر نہیں جھکتا۔ اس کا دست سوال کسی کے سامنے نہیں پھیلتا۔ وہ اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے امیدیں نہیں باندھتا، وہ کسی قانون کو اپنی زندگی کا رہنما نہیں بناتا، وہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے سوا کسی کو اپنا آئیڈیل نہیں سمجھتا۔ اس کے نتیجے میں وہ اس کامیاب زندگی سے بہرہ ور ہوتا ہے جس سے اس کی دنیا بھی آسان ہوجاتی ہے اور آخرت میں بھی کامیابی نصیب ہوتی ہے۔ ٹھیک کہا کسی نے :
یہ کہہ کر ٹوٹ گئی میرے پائوں کی زنجیر
جو غلام اس کا ہے وہ کسی کا غلام نہیں
Ayah 59:20لاَ یَسْتَوِیْٓ اَصْحٰبُ النَّارِ وَاَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ط اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمُ الْفَـآئِزُوْنَ ۔ (الحشر : 20)
(دوزخ میں جانے والے اور جنت میں جانے والے برابر نہیں، جنت والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ )
اہلِ جنت اور اہل دوزخ یکساں نہیں
جو شخص عرفانِ ذات اور معرفتِ رب کی دولت کو پا گیا اسے وہ زندگی نصیب ہوتی ہے جو قیامت کے دن اس کے لیے جنت کا باعث بنے گی۔ کیونکہ وہ اپنے عرفان سے اپنی حقیقت کو پہچان لے گا کہ وہ ایک بندہ ہے اور معرفتِ حق سے وہ اللہ تعالیٰ کی آقائی اور کبریائی کی حقیقت کو پالے گا۔ اور اسے یقین ہوجائے گا کہ میری بندگی کی مستحق صرف وہ ذات ہے جو میری اِلٰہ ہے، جو میری خالق ومالک ہے، جس نے مجھے زندگی کی تمام نعمتیں عطا کی ہیں اور جو میری حیات و ممات پر قادر ہے۔ اس کے نتیجے میں اسے وہ زادسفر نصیب ہوگا جو اس کو جنت تک پہنچا دے گا۔ اور اس سلسلے میں مزید فرمایا کہ کوئی شخص اس کو محض فلسفے کا سوال نہ سمجھے کہ اہل جنت یا اہل دوزخ ہونے سے کیا فرق پڑتا ہے، زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ ایک اعلیٰ ہوگی اور دوسری ادنیٰ ۔ اس لیے اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اصحابِ نار اور اصحابِ جنت دونوں یکساں نہیں، دونوں میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔ ایک اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کا مرکز اور فوزوفلاح کا مقام ہے اور دوسرا ابدی نقمت و لعنت کا مرکز اور ہمیشہ کی رسوائی کی جگہ، جس میں ایک لمحے کے لیے بھی کوئی شخص رکنا گوارا نہیں کرسکتا۔ اس لیے فوزوفلاح کی جتنی صورتیں ممکن ہوسکتی ہیں وہ سب اہل جنت کے لیے ہیں۔ اور لعنت و عذاب کے جتنے تصورات بھی ہوسکتے ہیں وہ سب اہل دوزخ کے لیے ہیں۔ ظاہر ہے یہ دونوں نہ صرف یکساں نہیں بلکہ دونوں میں کوئی مناسبت نہیں۔
Ayah 59:21لَوْ اَنْزَلْنَا ھٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰی جَبَلٍ لَّرَاَیْتَہٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط وَتِلْـکَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُھَا لِلنَّاسِ لَعَلَّھُمْ یَتَفَـکَّرُوْنَ ۔ (الحشر : 21)
(اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر اتارتے تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے پست اور پاش پاش ہوجاتا، یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ سوچیں۔ )
منافقین کو زجر و تنبیہ
اس آیت کریمہ میں منافقین کے لیے زجروملامت ہے کہ جہاں تک تعلیم و تذکیر اور اتمامِ حجت کا تعلق ہے اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ آنحضرت ﷺ جیسا رسول بھیجا اور قرآن کریم جیسی کتاب نازل کی۔ جس کی عظمت کا عالم یہ ہے کہ وہ چونکہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور کلام کی عظمت وہی ہوتی ہے جو متکلم کی ہوتی ہے۔ جب اس احساس اور علم کے ساتھ اسے کسی پہاڑ پر نازل کیا جاتا کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے تو پہاڑ جیسی سخت اور بےحس چیز بھی خشیت الٰہی سے سرفگندہ اور پاش پاش ہوجاتی۔ کیونکہ مخلوقات کی کمزوری یہ ہے کہ وہ کسی بھی کلام کو اس کے متکلم کے حوالے سے محسوس کرتے اور سمجھتے ہیں۔ ایک معمولی آدمی جب کوئی سی بات بھی کرتا ہے تو اس کے معمولی ہونے کی وجہ سے کوئی اسے قدروقیمت کی نگاہ سے نہیں دیکھتا۔ لیکن وہی بات اگر کسی صاحب جبروت اور صاحب منصب کی زبان سے نکلے تو سننے والے اس کے سامنے جھک جاتے ہیں۔ اور طبیعتیں اس کے لیے نہ صرف ہموار ہوتیں بلکہ دبی چلی جاتی ہیں۔ بےجان مخلوقات کو بھی اللہ تعالیٰ کی عظمت کا احساس بخشا گیا ہے۔ اسی وجہ سے ہر چیز اس کی تسبیح کرتی ہے۔ اس احساس کے تحت اگر قرآن کریم کو پہاڑ پر نازل کیا جاتا اور اسے احساس ہوتا کہ یہ خداوندِذوالجلال کا کلام ہے جس نے مجھے بلندی اور سختی عطا کی ہے، لیکن اس کی قدرت سے کچھ بعید نہیں کہ وہ ایک آن میں مجھے اٹھا کر پھینک دے۔ تو متکلم کی حیثیت کے ادراک کی وجہ سے پہاڑ پست ہوجاتا اور پھٹ جاتا، دبتا چلا جاتا اور پاش پاش ہوجاتا۔ لیکن انسانوں کو اپنی غفلت و جحود کی وجہ سے چونکہ اللہ تعالیٰ کی عظمت کا استحضار نہیں ہوتا اس لیے قرآن کریم جیسی عظیم کتاب بھی ان کے سامنے پڑھی جاتی ہے تو وہ اس سے متأثر نہیں ہوتے۔ آخر میں فرمایا کہ ہم یہ مثالیں لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے حال پر غور کریں کہ اگر ان کے دل قرآن جیسی عظیم کتاب کو سن کر بھی پگھلتے نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے دلوں میں قدرت نے ایسی قساوت پیدا کردی ہے جس پر کوئی بڑی سے بڑی حقیقت بھی اثرانداز نہیں ہوتی۔ اندیشہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی سنت کے مطابق ایسے دلوں پر مہر نہ کردے جس طرح اس نے یہود کے دلوں پر کی ہے۔
Ayah 59:22ھُوَاللّٰہُ الَّذِیْ لَآ اِلٰـہَ اِلاَّھُوَ ج عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ ج ھُوَالرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ ۔ (الحشر : 22)
(وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، غائب و حاضر کا جاننے والا، وہ رحمن و رحیم ہے۔ )
اللہ تعالیٰ کی عظمت کو دلوں میں اتارنے کے لیے صفاتی ناموں کا ذکر
انسانوں کو یہ بتانے کے لیے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی ذات کیسی عظیم ہے جس نے ان پر قرآن اتارا ہے اس نے مسلسل اپنی صفات بیان فرمائیں تاکہ انسان کو کسی نہ کسی حد تک اللہ تعالیٰ کی ذات کا احساس اور استحضار پیدا ہو۔ جن میں سب سے پہلی بات یہ ارشاد فرمائی کہ وہ تمہارا اِلٰہ اور معبود ہے اور اس کے سوا تمہارا کوئی اور معبود نہیں۔ اس وجہ سے امید وبیم دونوں حالتوں میں تمہیں اسی سے رجوع کرنا چاہیے، اس کے سوا کوئی اس کا استحقاق نہیں رکھتا کہ اس کو معبود مانا جائے یا اس کی پرستش کی جائے یا اس کو مرجع سمجھ کر اس سے امیدیں وابستہ کی جائیں۔ اس کی شان یہ ہے کہ وہ غائب و حاضر دونوں کو جاننے والا ہے۔ یعنی جو کچھ مخلوقات سے پوشیدہ ہے وہ اسے بھی جانتا ہے، اور جو کچھ ان پر ظاہر ہے وہ اس سے بھی واقف ہے۔ اس صفت کے اندر امیدوبیم دونوں کے پہلو ہیں۔ بیم کا پہلو یہ ہے کہ انسان جو کچھ بھی کرتا ہے چاہے وہ مخفی طریقے سے کرے یا اعلانیہ وہ اللہ تعالیٰ کے علم میں ہے۔ اور جب سب کچھ اس کے علم میں ہے تو وہ لازماً ایک ایک چیز سے متعلق بازپرس کرے گا۔ پھر نہ کوئی اپنے کسی قول و فعل کو چھپا سکے گا اور نہ اس کا کوئی سفارشی اللہ تعالیٰ کے سامنے اس کے باب میں غلط بیانی کرسکے گا۔ ماضی میں جو کچھ گزر چکا، حال میں جو کچھ موجود ہے اور مستقبل میں جو کچھ ہوگا ہر چیز اس کو براہ راست معلوم ہے، وہ کسی ذریعہ علم کا محتاج نہیں۔ تو پھر کس طرح اس سے کوئی بات مخفی رکھی جاسکتی ہے۔ امید کا پہلو اس میں یہ ہے کہ جب اس کا رب اس کے ہر غائب و حاضر سے واقف ہے تو اس کو اس پر پورا بھروسہ رکھنا چاہیے، اور اپنی ہر درخواست اسی کے آگے پیش کرنی چاہیے۔
مزید فرمایا کہ وہ رحمن و رحیم بھی ہے۔
اَلرَّحْمٰنُ ، اَلرَّحِیْمُ
رحمن اور رحیم اللہ تعالیٰ کے صفاتی ناموں میں سے دونام ہیں۔ ان دونوں کا مادہ رحمت ہے۔ لیکن یہ رحمت کے دو مختلف پہلوئوں کو نمایاں کرتے ہیں۔ عربی زبان میں ’ رحمن ‘ فعلان کے وزن پر مبالغے کا صیغہ ہے اور ’ رحیم ‘ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ ہے۔ فعلان میں تین باتیں نمایاں ہیں۔
1 فعلان کا وزن صفات عارضہ کے لیے استعمال ہوتا ہے۔ جیسے پیاسے کے لیے عطشان، غضبناک کے لیے غضبان، سراسیمہ کے لیے حیران، مست کے لیے سکران، کے الفاظ استعمال ہوتے ہیں۔
2 فعلان کا وزن جوش و خروش اور ہیجان پر دلیل ہوتا ہے۔ اس طرح رحمن کا لفظ جو رحمت سے اسم مبالغہ ہے۔ اس کے معنی ہوں گے کہ رحمن وہ ذات ہے جس میں صفت رحمت پائی جاتی ہے اور اس کی رحمت میں ایک جوش اور ایک ہیجان ہے۔ یہ مخلوقات کے لیے اس طرح ابلتی ہے جیسے چشمہ ابلتا ہے۔
3 فعلان کا وزن اپنے اندر وسعت اور ہمہ گیری رکھتا ہے۔ اس لحاظ سے رحمن کے معنی ہوں گے وہ ذات جس کی رحمت سارے عالم ساری کائنات اور جو کچھ اب تک پیدا ہوا ہے اور جو کچھ آئندہ ہوگا سب پر حاوی اور شامل ہے۔ اسی وجہ سے اس اسم کو لفظ اللہ کے تقریباً برابر قرار دیا گیا ہے۔ ارشاد ہوا :
قُلِ ادْعُوا اللّٰہَ اَوِادْعُوا الرَّحْمٰنَ ط اَیًّامَّا تَدْعُوْا فَلَہُ الْاَسٓمَآئُ الْحُسْنٰی۔ (بنی اسرائیل : 110)
(اے پیغمبر ! فرمادیجیے کہ اللہ کہہ کر پکار ویا رحمان کے نام سے پکارو کسی طرح بھی پکارو اس کے سب نام بہتر ہیں ) ۔
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ کی طرح لفظ رحمان بھی پروردگار کی ذات کے ساتھ مخصوص ہے۔ کسی مخلوق کو رحمان کہنا جائز نہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی بھی ایسا نہیں ہوسکتا جس کی رحمت سے عالم کی کوئی چیز خالی نہ رہے۔ اس لیے جس طرح لفظ اللہ کی جمع اور تثنیہ نہیں آتا۔ رحمان کا بھی جمع وتثنیہ نہیں آتا کیونکہ وہ ایک ذات پاک کے ساتھ مخصوص ہے۔ دوسرے اور تیسرے کا وہاں احتمال ہی نہیں۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کفار قریش اسم اللہ سے تو واقف تھے مگر اسم رحمن سے انھیں بالکل آگاہی نہیں تھی۔ اس لیے قرآن کریم نے متعددمواقع پر اس کا ذکر فرمایا کہ کفار مکہ سے جب پوچھا جاتا کہ زمین و آسمان کا خالق کون ہے ؟ سورج اور چاند کو کس نے مسخر کیا ہے ؟ آسمان سے پانی کون اتارتا ہے ؟ زمین کو ازسر نو کون زندگی دیتا ہے ؟ یہاں تک کہ جب ان سے پوچھا جاتا کہ تمہیں کس نے پیدا کیا ؟ پھر تمہیں رزق کون دیتا ہے ؟ دعائیں کون سنتا ہے ؟ تو وہ سب کے جواب میں کہتے تھے کہ اللّٰہمگر جب ان سے کہا جاتا کہ رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے کہ رحمان کیا ہوتا ہے ؟ اسی لیے قرآن کریم نے کہا :
وَھُمْ بِذِکْرِ الرَّحْمٰنِ ھُمْ کٰفِرُوْنَ ۔ (الانبیاء : 36)
(یہی تو وہ ہیں کہ جو رحمان کے ذکر سے انکاری ہیں)
اسی لیے علماء نے لکھا ہے کہ اگر کسی کا نام عبدالرحمن ہو اسے رحمان کہہ کر بلاناجائز نہیں کیونکہ یہ نام ذات الٰہی کے ساتھ مخصوص ہے۔ مگر اس کے مقابلے میں لفظ رحیم جو اللہ تعالیٰ کے پیارے ناموں میں سے ہے وہ فعیل کے وزن پر صفت مشبہ ہے اور فعیل کا وزن دوام و استمرار، پائیداری واستواری پر دلالت کرتا ہے اور یہ وزن ایسی صفات کے لیے بولا جاتا ہے جو صفات عارضہ نہیں بلکہ صفات قائمہ ہوتی ہیں۔ مثلاً کریم کرم کرنے والا، عظیم بڑائی رکھنے والا، علیم علم رکھنے والا، حکیم حکمت رکھنے والا، دوسری یہ بات کہ اس میں رحمت کے کامل اور مکمل ہونے کا معنی پایا جاتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رحیم وہ ہوگا جس کی رحمت میں دوام اور تسلسل پایا جائے اور جس کی رحمت صفت کمال کے ساتھ متصف ہو۔ تو رحمن کے بعد رحیم کا ذکر کرنا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ پروردگار کی اپنی خلق کے لیے رحمت میں صرف جوش ہی نہیں بلکہ پائیداری اور استقلال بھی ہے۔ اس لیے اس نے یہ نہیں کیا ہے کہ اپنے رحمانیت کے جوش میں دنیا پیدا تو کر ڈالی لیکن پیدا کرکے پر اس کی خبر گیری اور نگہداشت سے غافل ہوگیا بلکہ اس کو پیدا کرنے کے بعد وہ اپنی پوری شان رحیمیت کے ساتھ اس کی پرورش اور نگہداشت بھی فرما رہا ہے۔ بندہ جب بھی اسے پکارتا ہے وہ اس کی پکار سنتا ہے اور اس کی دعائوں اور التجاؤں کو شرف قبولیت بخشتا ہے۔ پھر اس کی رحمتیں اسی چند روزہ زندگی تک محدود نہیں ہیں بلکہ جو لوگ اس کے بتائے ہوئے راستے پر چلتے رہیں گے ان پر اس کی رحمت ایک ایسی ابدی اور لازوال شان سے ہوگی جو کبھی ختم ہونے والی نہیں ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ چونکہ رحیم میں ایک دوام اور تسلسل صفت کمال کے ساتھ پایا جاتا ہے تو جس طرح اس کائنات کا ارتقاء بالآخر اسے آخرت میں داخل کردے گا اور اس کی تمام نعمتیں جنت کی آغوش میں پہنچ کر ارتقاء کی منزل کو پالیں گی اسی طرح پروردگار کے رحیم ہونے کی صفت دنیا سے آخرت کی طرف اس کی رحمت کے ارتقاء کا ایک عمل ہے جو اپنی صفت کمال کے ساتھ آخرت اور جنت میں رونما ہوگا۔ اس لیے جن علماء نے الرحیم کو آخرت کے ساتھ مخصوص کیا ہے۔ ان کا شاید یہی مفہوم ہے کہ رحمت اپنی تکمیلی شان میں وہاں جلوہ گر ہوگی۔
رحمت کیا ہے ؟
یہ تو تھا الرحمن اور الرحیم کا مفہوم اور دونوں کے معنی میں فرق۔ اب سوال یہ ہے کہ دونوں کے معنوں میں ہم نے جس صفت رحمت کا ذکر کیا ہے وہ رحمت ہے کیا ؟ اگر اس رحمت کا مفہوم یہ ہے کہ اس نے کائنات کو عدم سے وجود بخشا تو یہ بات اس کی صفت خلق کا مظہر ہے اور اگر اس کا معنی یہ ہے کہ وہ پیدا کرنے کے بعد تربیت کا سامان کررہا ہے اور ہر مخلوق کو اس کی ضرورت کے مطابق سامانِ تربیت میسر آرہا ہے اور ہر ایک کی ضرورت کو پورا کیا جارہا ہے تو یہ تو وہ چیز ہے جس کو پروردگار کی صفت ربوبیت انجام دے رہی ہے۔ مگر یہاں تو رحمت کا ذکر ہورہا ہے۔ سوال یہ ہے کہ وہ رحمت کیا ہے ؟ اس کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم اس کائنات پر تدبر کی ایک نگاہ ڈالیں۔ ہم دیکھتے ہیں کہ یہاں کائنات کے لیے صرف پرورش اور تربیت کا سامان ہی مہیا نہیں ہورہا بلکہ پرورش سے بھی زیادہ بنانے، سنوارنے اور فائدہ پہنچانے کی حقیقت کام کررہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اس کی فطرت میں بنائو ہے، اس کے بنائو میں خوبی ہے، اس کے مزاج میں اعتدال ہے، اس کے افعال میں خواص ہیں، اس کی صورت میں حسن ہے، اس کی صدائوں میں نغمہ ہے اور اس کی بو میں عطر بیزی ہے اور اس کی کوئی بات ایسی نہیں جو اس کارخانہ کی تعمیر اور درستگی کے لیے مفید نہ ہو۔ پھر یہاں پر بس نہیں اس دنیا میں مخلوقات کو اپنی زندگی اور بقاء کے لیے جن چیزوں کی ضرورت ہے صرف ایسا نہیں کہ انھیں مہیا کردیا گیا ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ دیکھتے ہیں کہ اس کارگاہِ عالم میں عناصرِ حیات میں سے ہرعنصر، اس کے مؤثرات میں سے ہر مؤثر، اس کے خواص میں سے ہر خاصہ، ایک بےپناہ فیضان کا جوش رکھتا ہے اور ہر کسی کے اندر یہ خواہش تڑپتی دکھائی دیتی ہے کہ وہ آگے بڑھ کر اپنے فیضان اور اپنی خدمت سے مخلوقات کو نوازے۔ سورج، چاند، ستارے، ہوا، بارش، دریا، سمندر، پہاڑ ان میں سے کون ہے جو مخلوقات کے لیے راحت رسانی اور آسائش دینے میں دوسرے سے پیچھے ہو۔ پھر ہم زمین کو دیکھتے ہیں تو دیکھتے ہی رہ جاتے ہیں کہ اس کی سطح پھلوں اور پھولوں سے لدی ہوئی ہے۔ اس کی تہہ میں آب شیریں کی سوتیں بہہ رہی ہیں، گہرائی میں سونا چاندی نکل رہا ہے، سائے کیلیے درخت سراٹھائے کھڑے ہیں، چلنے پھرنے کے لیے سبزے کا ایک مخملیں فرش بچھا دیا گیا ہے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک کے لیے سبزے کی چادریں بچھادی گئی ہیں۔ پھولوں میں رنگ وحسن پیدا کردیا گیا ہے۔ میدانوں کے اکتائے ہوئے لوگوں کے لیے سربفلک پہاڑ اٹھادیئے ہیں۔ ان میں آبشاریں ہیں جو سینوں کو مسرت سے بھرے دے رہی ہیں۔ اس میں قسم قسم کے درخت ہیں جن کی حسن افروزی اپنی ایک شان رکھتی ہے۔ پھر باغ وانہار ہیں، سبزیاں ہیں، پھل ہیں، قسم قسم کی بیلیں ہیں، پھر زمین کے چارپائے، فضا کے پرند، پانی کی مچھلیاں، یہ سب کیا ہے ؟ ظاہر ہے کہ یہ ساری چیزیں انسان کی ضرورت کے لیے ضروری نہیں تھیں۔ انسان کے لیے لکڑی کی ضرورت تھی، لیکن کیا ضروری تھا کہ درختوں کو چھتریاں بنادیا جاتا ؟ انسان کو غلے کی ضرورت تھی، لیکن لہلہاتی فصل کو نقرئی لباس پہنانے کی کیا ضرورت تھی ؟ پرندے گوشت کے لیے ضروری سہی، لیکن ان کی خوبصورت آوازیں، کوئل کی کو ک، مور کا ناچ، پپی ہے کی پی، چڑیوں کے چہچ ہے اور عام پرندوں کے ترانے یہ تو انسان کی ضرورت نہ تھے اور اگر آسمان کی طرف دیکھاجائے تو ہم سمجھتے ہیں کہ یہ ہم پر ایک چھت تانی گئی ہے لیکن ستاروں کا نظام اور اس کی سیروگردش، سورج کی روشنی اور اس کی بوقلمونی، چاند کی گردش اور اس کا اتار چڑھائو، فضائے آسمانی کی وسعت اور اس کی نیرنگیاں بارش کا سماں اور اس کے تغیرات، یہ سب کیا ہے ؟ یہ چیزیں یقیناانسان کی ضرورتوں میں شامل نہیں۔
ان چیزوں پر غور کریں گے تو آپ محسوس فرمائیں گے کہ یہاں ربوبیت سے زیادہ ایک اور چیز کارفرما ہے۔ یہ وہی چیز ہے جس کو قرآن صفت رحمت سے تعبیر کرتا ہے یعنی یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ خالق کائنات میں رحمت ہے اور اس کی رحمت اپنا ظہور بھی رکھتی ہے اور جس میں رحمت ہو اور جس کی رحمت ظہور بھی رکھتی ہو تو جو کچھ اس سے صادر ہوگا اس میں خوبی اور بہتری ہوگی، حسن و جمال ہی ہوگا، اعتدال وتناسب ہی ہوگا۔ اس کے سوا کچھ ہو ہی نہیں سکتا اور پھر یہ اس کی صفت رحمت کا ظہور صرف یہاں تک محدود نہیں کہ خارج میں آپ ہر طرف حسن و رعنائی دیکھ رہے ہیں بلکہ اس کی رحمت کا اصل ظہور اس بات میں ہے کہ اس نے صرف ہمیں حسن و رعنائی ہی سے نہیں نوازا بلکہ اس سے محظوظ ہونے کے لیے احساس بھی بخشا۔ اس نے روئے خوش بخشا تو نظر کو احساسِ حسن بھی بخشا۔ اس نے پھول میں خوشبو رکھی تو ہمیں قوت شامہ سے بھی نواز۔ اس نے پانی کو ٹھنڈک عطا کی تو ہمیں ٹھنڈک کی قدر کا جذبہ بھی دیا۔ اس نے پھول میں رنگ رکھا توہ میں رنگوں کی شناخت بھی بخشی، یعنی ہر چیز سے اور اس کی حقیقی قدروقیمت سے حظ اٹھانے کے لیے جس احساس کی ضرورت تھی اس احساس سے اس نے تمام مخلوقات کو بہرہ ور فرمایا۔ وہ اپنی مخلوقات کو اولاد دیتا ہے تو اولاد کی محبت بھی دیتا ہے۔ سعی و کاوش کی سرگرمیوں کے لیے جوش وجذبہ بھی عطا کرتا ہے۔ گھر دیتا ہے تو اس کے لیے حفاظت کا جوش بھی عطا فرمایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض صورتوں میں ایک آدمی کو ہم دیکھتے ہیں کہ وہ سخت گرمی میں محنت اور مزدوری کررہا ہے، چہرے سے پسینہ ٹپک رہا ہے، چلچلاتی دھوپ میں بوجھ اٹھانے پر مجبور ہے، دیکھنے والی نگاہ سمجھتی ہے کہ یہ شخص اپنی زندگی سے انتہائی ناخوش ہوگا مگر شام کو دن بھر کی مزدوری کا معاوضہ پاکر جب اپنے جھونپڑے میں بیوی اور بچوں کے جھرمٹ میں بیٹھ کر وہ مسکر امسکرا کر باتیں کرتا ہے تو تب اندازہ ہوتا ہے کہ اس کا مزدوری کرنا تو ایک ضرورت تھی لیکن ایسی خوشی کو پیدا کردینا یہ اس پروردگار کا کمال ہے جو رحمان اور رحیم ہے۔ اسی طرح آپ دیکھتے ہیں کہ بچے کی پیدائش ماں کے لیے کیسی جانکاہی اور مصیبت ہوتی ہے۔ اس کی پرورش اور نگرانی کس طرح خود فروشانہ مشقتوں کا ایک طویل سلسلہ ہے۔ تاہم یہ سارا معاملہ کچھ ایسی خواہش اور جذبے کے ساتھ وابستہ کیا گیا ہے کہ ہر عورت میں ماں بننے کی قدرتی طلب ہے اور ہر ماں پرورشِ اولاد کے لیے مجنونانہ خود فراموشی رکھتی ہے۔ وہ زندگی کا سب سے بڑا دکھ سہتی ہے اور پھر اس دکھ میں زندگی کی سب سے بڑی مسرت محسوس کرتی ہے اور جب وہ اپنی ساری راحتیں قربان کردیتی ہے، اپنی رگوں کے خون کا ایک ایک قطرہ دودھ بنا کر پلادیتی ہے، تو اس کے دل کا ایک ایک ریشہ سب سے بڑے احساسِ مسرت سے معمور ہوجاتا ہے، یہ کیا ہے ؟ یہ اس خالق کائنات کی صفت رحمت کا اظہار ہے اور پھر اگر وقت نظر سے کام لیا جائے تو اس رحمن ورحیم کے افادہ اور فیضان اور اس کی رحمت کے ظہور کی صورت کچھ انہی مظاہر پر موقوف نہیں بلکہ کارخانہ ہستی کے تمام اعمال و قوانین کا یہی حال ہے۔ مثلا دیکھئے کہ انسان ٹھوکریں کھاتا ہے، غلطیاں کرتا ہے، تو ہونا یہ چاہیے کہ غلطیوں کا خمیازہ بھگتے اور بدعملی اس کو فوراً تباہی کی طرف لے جائے لیکن ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ اس کی صفت رحمت کا ظہور اس طرح ہورہا ہے کہ یہاں بڑے سے بڑے گناہگار کو سنبھلنے کے لیے مہلت دی جارہی ہے۔ اپنی روش کو تبدیل کرنے کا موقع دیا جارہا ہے اور اس کی جزا اور سزا کا قانون فوراً حرکت میں آنے کی بجائے آہستہ آہستہ اس کے ساتھ چلتا رہتا ہے اور اس کے عفو و درگزر کا دروازہ آخر تک کھلا رہتا ہے۔ اس لیے قرآن کریم نے کہا کہ اگر پروردگار لوگوں کو ان کی زیادتیوں پر فوراً پکڑنے لگتاتو زمین پر چلنے والا کوئی زندہ نہ رہتا۔ یہ اس کی رحمت ہے جو اچھائی کرنے والے کو بھی مہلت دیتی ہے تاکہ اس کی اچھائی نشو و نما پائے اور برائی کرنے والے کو بھی مہلت دیتی ہے تاکہ وہ متنبہ اور خبردار ہو کر اصلاح و تلافی کی کوشش کرے۔
وَلَوْ یُؤَاخِذُاللّٰہُ النَّاسَ بِمَا کَسَبُوْا مَاتَرَکَ عَلٰی ظَہْرِھَا مِنْ دَآبَّۃٍ وَّلٰـکِنْ یُّؤَخِّرُھُمْ اِلٰٓی اَجَلٍ مُّسَمًّی ج فَاِذَا جَآئَ اَجَلُھُمْ فَاِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِعِبَادِہٖ بَصِیْرًا۔
اس خدائے رحمن ورحیم کی رحمت کے مظاہر بیشمار ہیں مگر انسان کی کوتاہ فکری ہے کہ وہ چونکہ شب وروز اس کی بےپایاں رحمتوں سے فائدہ اٹھارہا ہے، اس لیے اسے نہ اس کی پہچان ہوتی ہے، نہ اس کی قدروقیمت کا احساس ہوتا ہے۔ ایک لمحہ کے لیے تصور کریں کہ دنیا موجود ہے مگر حسن و رعنائی کے تمام جلووں اور احساسات سے خالی ہے۔ آسمان ہے مگر فضا کی یہ نگاہ پر ورنیلگونی نہیں ہے۔ ستارے ہیں مگر ان میں درخشندگی اور جہاں تابی کی جلوہ آرائی نہیں ہے۔ غورکیجیے ! ایسی دنیا کے ساتھ زندگی کا تصور کتنا بھیانک اور ہولناک ہوگا۔ اس سے بھی ایک قدم آگے بڑھئے، رات روز جلوہ گر ہوتی ہے مگر آنکھوں میں نیند نہیں آتی۔ صبح مسکراتی ہوئی طلوع ہوتی ہے لیکن نقاہت یا کوئی بیماری بستر سے اٹھنے نہیں دیتی۔ باہر پرندے چہچہا رہے ہیں سورج اپنی کرنوں سے کائنات کو منور کررہا ہے، لیکن آشوب چشم یا پائوں کی تکلیف باہر نکل کر محو نظارہ ہونے کی اجازت نہیں دیتی یا آدمی ان نعمتوں سے فائدہ اٹھاتا ہے، لیکن بھوک کا احساس مرجانے سے یہ نعمتیں مزا نہیں دے رہیں۔ گرمیوں میں ٹھنڈے پانی کی نعمت میسر ہے لیکن دانتوں کی تکلیف یا معدے کی سوزش پانی پینے کی متحمل نہیں ہورہی۔ باہر آزادی سے گھومنا پھرنا ایک معمول کی نعمت ہے مگر پائوں کی زنجیر باہر نکلنے کی اجازت نہیں دے رہی۔ یہ بظاہر معمولی نعمتیں ہیں لیکن اگر چھن جائیں تب آدمی کو اندازہ ہوتا ہے کہ اس کی زندگی کیسی بدمزہ ہوگئی ہے۔ یہی اس پروردگار کی رحمت ہے جس کی قدردانی سے ہماری عقول نارسا قاصر ہیں۔
مزید دیکھئے ! کبھی آپ نے غور کیا کہ اگر آپ ایک ہی طرح کے معمولات اور مصروفیات میں ایک عرصہ گزارتے ہیں تو حالات کی یہ یکسانی طبیعت کو اکتا دیتی ہے اور آپ کہیں سیر کا پروگرام بنانے لگتے ہیں۔ لیکن آپ نے کبھی اس بات پر غور نہیں کیا کہ اگر عام میدانی علاقے والوں کے لیے پہاڑی سلسلے نہ ہوتے اور پہاڑی سلسلے والوں کے لیے ہموار میدان نہ ہوتے، ریگستان والوں کے لیے دریائوں کی روانی نہ ہوتی اور دریا کے کنارے رہنے والوں کے لیے ریگستان کے ٹیلے نہ ہوتے تو آپ اس اکتاہٹ کا کیا علاج کرتے ؟ اگر اس سے بھی ایک قدم اور آگے بڑھیں تو آپ کو تعجب ہوگا کہ گھر بیٹھے قدرت نے ہمیں اس یکسانی سے بچنے کے لیے کیسی کیسی نعمتیں عطاکی ہیں۔ مثلاً اختلافِ لیل ونہار، درختوں کا سبزے کالباس پہن لینا، بےآباد اور بےرنگ زمین پر رنگ رنگ کے پھولوں کا کھل جانا، ایسے ہی بیشمار اختلافات ہیں جو پروردگارِ عالم کی صفت رحمت کا ظہور دنیا کی زیب وزینت اور ہماری تسکین و راحت کا سامان ہیں۔
گلہائے رنگ رنگ سے ہے زینت چمن
اے ذوقؔ اس جہاں کو ہے زیب اختلاف سے
اسی کی طرف پروردگار توجہ دلاتے ہوئے فرماتا ہے :
اِنَّ فِیْ خَلْقِ السَّمٰواتِ وَالْاَرْضِ وَاخْتِلَافِ الَّیْلِ وَالنَّھَارِلَاٰیٰتٍ لِّـاُولِی الْاَلْبَابِ ۔ (آلِ عمران : 190)
(بلاشبہ آسمانوں اور زمین کی پیدائش میں رات دن کے ایک کے بعد ایک آتے رہنے میں اربابِ دانش کے لیے بڑی ہی نشانیاں ہیں )
مزید فرمایا :
وَمِنْ رَّحْمَتِہٖ جَعَلَ لَکُمُ الَّیْلَ وَالنَّھَارَ لِتَسْکُنُوْا فِیْہِ وَلِتَبْتَغُوْا مِنْ فَضْلِہٖ وَلَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (القصص : 73)
(یہ اس کی رحمت کی کارسازی ہے کہ تمہارے لیے رات اور دن ٹھہرائے گئے ہیں تاکہ رات کو راحت پائو اور دن میں اس کا فضل تلاش کرو اور تاکہ تم شکر ادا کرو)
رحمت کا ایک اور پہلو
اس بحث کا ایک اور گوشہ بھی ہے جس پر توجہ دینا بےحد ضروری ہے کہ پروردگار کی رحمتوں کے مختلف مظاہر کا ہم نے تذکرہ کیا۔ تصور کیجیے ! اگر یہ جابجا اس کے ظہور کی صورتیں اور اس کے صدور کی شکلیں اپنی جگہ قائم ہوتیں اور ہر انسان اس سے بقدر ہمت استفادہ کے لیے کوشاں ہوتا اور ہر ایک اپنے آپ کو ان کا حقیقی وارث اور مالک سمجھتا اور کسی کو اس بات کا علم نہ ہوتا کہ انسانوں کا انسانوں سے کیا رشتہ ہے ؟ ان نعمتوں پر اگرچہ سب کا مساوی حق ہے مگر انسانی معیشت میں جو لوگ کسی وجہ سے پیچھے رہ گئے ان کا آگے بڑھ جانے والوں پر کیا حق ہے ؟ پھر ان میں باہمی انس اور محبت کا کوئی جذبہ نہ ہوتا، ایثار و خیرخواہی سے انسان ناواقف ہوتا۔ حقوق و فرائض سے بیخبر ، باہمی نظم و تربیت سے عاری، حکومت اور ریاست کے تصور سے نابلد، معاشرت کے اصولوں سے تہی دامن، مکارمِ اخلاق سے ناآشنا تو آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ ان ساری نعمتوں کی موجودگی کے باوجود انسانی زندگی کس قدر ہولناک ہوتی۔ اس لیے وہ ذات بابرکت جو صرف خالق ومالک ہی نہیں رحمن ورحیم بھی ہے اس کی صفت رحمت کا یہ تقاضا ہوا کہ جہاں انسانوں کو ظاہری اور باطنی نعمتوں سے نوازا گیا ہے وہاں اس کے استعمال اور اس کی حدود کا علم بھی دینا چاہیے ورنہ یہ اس صفت رحمت کی ناتمامی ہوگی۔ چناچہ اس نے انسان کو علم سے بہرہ ور کرنے کے لیے کتابیں اتاریں اور راہنمائی کے لیے رسول بھیجے اور اس راہنمائی کو اور کتابوں کے نزول کو اس نے ہدایت و رحمت سے تعبیر کیا۔ فرمایا :
وَاِنَّہٗ لَھُدًی وَّرَحْمَۃٌ لِّلْمُؤْمِنِیْنَ ۔ ( النمل : 77 )
(یہ قرآن ہدایت اور رحمت ہے مومنوں کے لیے)
اور پھر اس کی تعلیم کو دنیا بھر کے خزانوں سے بہتر و برتر فرمایا، ارشاد ہوا۔
وَرَحْمَتُ رَبِّـکَ خَیْرٌ مِّمَّا یَجْمَعُوْنَ ۔ ( الزخرف : 32 )
(تیرے رب کی رحمت یعنی (قرآن) بہتر ہے ان تمام خزانوں سے جن کو یہ لوگ جمع کرتے ہیں) ۔
اور پھر قیامت تک جو ذات مکمل راہنما آئیڈیل اور منارہ نور بن کر آئی ہے اس کے بارے میں فرمایا :
وَمَـآ اَرْسَلْنٰـکَ اِلَّا رَحْمَۃً لِّـلْعٰـلَمِیْنَ ۔ (الانبیاء : 107)
مختصر یہ کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء مبارکہ میں یہ دونوں نام خاص حیثیت کے حامل ہیں، چناچہ یہ بات اتفاقی نہیں بہت پر معنی ہے کہ قرآن مجید میں تسمیہ میں اسم ذات کے بعد اور فاتحہ میں صفت ربوبیت کے بعد ان دونوں ناموں کا ذکر کرنا اسی کا مظہر ہے۔ پروردگار سے عاجزانہ دعا ہے کہ وہ اپنے گنہگار بندوں پر اپنی رحمت کا گھنا سایہ ڈالے کیونکہ خود اس کا ارشاد ہے :
وَرَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْئٍ ط