64. Surah At-Taghaabun

التغابنMutual Disillusion · 18 ayahsروح القرآن

Ayah 64:16

فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِیْعُوْا وَ اَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ١ؕ وَ مَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ فَاُولٰٓئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ Open ayah 64:16 in the Quran reader

پس اللہ سے ڈرتے رہو جتنی تمہاری استطاعت ہے، اور سنو اور مانو، اور اس کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور جنھیں نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے

فَاتَّقُوا اللّٰہَ مَااسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوْا وَاَطِیْعُوْا وَاَنْفِقُوْا خَیْرًا لِّـاَنْفُسِکُمْ ط وَمَنْ یُّوْقَ شُحَّ نَفْسِہٖ فَاُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ ۔ (التغابن : 16) (پس اللہ سے ڈرتے رہو جتنی تمہاری استطاعت ہے، اور سنو اور مانو، اور اس کی راہ میں خرچ کرو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور جنھیں نفس کے بخل سے بچا لیا گیا تو یہی لوگ ہیں فلاح پانے والے۔ ) مال و اولاد کی آزمائش میں سرخرو ہونے کا طریقہ مال اور اولاد کی آزمائش میں سرخرو ہونے کے لیے طریقہ ارشاد فرمایا گیا ہے کہ اگر اس پر عمل کرو تو اللہ تعالیٰ اس آزمائش میں کامیابی سے گزرنے کی توفیق عطا فرمائے گا۔ وہ طریقہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرو اور اس سے اس حد تک ڈرتے رہو جتنی تم میں طاقت ہے۔ یعنی جتنا تمہارے امکان میں ہے۔ پروردگار نے سورة ا آلِ عمران میں حکم دیا یٰٓـاَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوا ا تَّقُواللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہٖ ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جس طرح اللہ سے ڈرنے کا حق ہے۔ اور سورة البقرۃ میں ارشاد فرمایا : لاَ یُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلاَّوُسْعَھَا ” اللہ کسی متنفس کو اس کی استطاعت سے زیادہ کا مکلف قرار نہیں دیتا۔ “ اور یہاں فرمایا جارہا ہے کہ جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہو۔ تینوں آیتوں میں تطبیق کے لیے مفسرین نے مختلف توجیہات کی ہیں۔ ایک توجیہ یہ ہے کہ پہلی آیت میں ہمارے سامنے وہ معیار رکھ دیا گیا ہے جس تک پہنچنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہیے۔ دوسری آیت میں نجات کے لیے ضروری پیمانے کا ذکر کردیا گیا ہے۔ اور تیسری آیت میں ہدایت کی گئی ہے کہ ہر مومن کو اپنی حد تک تقویٰ کی کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھنی چاہیے۔ جہاں تک بھی اس کے لیے ممکن ہو اسے اللہ تعالیٰ کے احکام بجالانے میں کبھی کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے۔ بعض دیگر مفسرین نے توجیہ کرتے ہوئے کہا کہ اس آیت میں درحقیقت ابرار اور مقربین کے تقویٰ میں جو فرق ہے اس کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ اس آیت میں ابرار کی حالت کو پیش نظر رکھا گیا ہے اور پہلی آیت میں مقربین کے احوال کو ملحوظ رکھا گیا ہے۔ کیونکہ وہ لوگ اپنے وجودِمجازی سے کلیۃ دستکش ہوجاتے ہیں اور یہی تقویٰ کا منتہائے کمال ہے۔ لیکن غور کیا جائے تو اس توجیہ میں بھی بنیاد استطاعت ہی کو بنایا گیا ہے۔ اور یہ کہا گیا ہے کہ ابرار اور مقربین کی استطاعت میں باہمی فرق ہوتا ہے۔ اس لیے مقربین سے جس تقویٰ کا مطالبہ کیا گیا ہے استطاعت کے فرق کی وجہ سے عام نیک لوگوں سے اس کا مطالبہ نہیں کیا گیا بلکہ وہ اپنی استطاعت اور ہمت کے مطابق اللہ تعالیٰ سے ڈریں گے اور اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت کرنے کی کوشش کریں گے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ اللہ تعالیٰ شیطان کو ان پر قابو نہیں پانے دے گا اور نہ مال و اولاد کی محبت ان پر غالب آکر انھیں راہ مستقیم سے ہٹا سکے گی۔ لیکن اس ناچیز کا گمان یہ ہے کہ ان آیات میں سب سے بہتر توجیہ وہ ہے جس کا ذکر حدیث میں فرمایا گیا۔ بیان کیا گیا ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی کہ اللہ تعالیٰ سے ایسا تقویٰ اختیار کرو جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے تو صحابہ کرام بہت پریشان ہوئے اور ان پر یہ بات بہت شاق گزری، کہ اللہ تعالیٰ کی شان اور اس کے حق کے مطابق تقویٰ کس کے بس میں ہے۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ جس سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو اس کی طاقت اور مقدور سے زیادہ تکلیف نہیں دی۔ تقویٰ بھی اپنی طاقت کے مطابق واجب ہے۔ یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور تقویٰ کی زندگی اختیار کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کردے گا تو امید کرنی چاہیے کہ اس سے اللہ تعالیٰ کا حق ادا ہوجائے گا۔ مال و اولاد کی آزمائش سے بچنے کے لیے مزید یہ ہدایت فرمائی گئی ہے کہ اللہ اور اس کے رسول کی بات سنو اور مانو۔ اور اللہ کی راہ میں جس انفاق کا حکم دیا جارہا ہے اس پر لبیک کہو۔ اس کا فائدہ یہ ہوگا کہ جب تمہارے نفس کو اللہ اور اس کے رسول کی بات سننے اور اس کی اطاعت کرنے کی عادت پڑجائے گی اور پھر یہ عادت محبت میں تبدیل ہوجائے گی تو پھر مال اور اولاد کی محبت تم پر حملہ آور نہیں ہوسکے گی۔ اسی طرح مال کی محبت کو کم کرنے کے لیے بالخصوص یہ ہدایت کی گئی کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنے کی عادت ڈالو۔ جب بھی محسوس کرو کہ دل میں مال کی محبت پیدا ہورہی ہے اور اس کو خرچ کرتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے اور جمع کرنے کی لگن لگی رہتی ہے تو اس کے ازالے کا آسان نسخہ یہ ہے کہ مال کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا شروع کردو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ یہاں خَیْرًا ” یَکُوْنُ “ مقدر کی خبر ہے۔ یعنی ایسا کرنا تمہارے نفسوں کی اصلاح کے لیے بہتر ہے۔ آیت کے آخر میں فرمایا کہ جو شخص نفس کے بخل سے بچا لیا گیا وہ کامیاب ہے۔ ” شُح “ کے معنی بخل اور حرص کے ہیں اور نفس کی طرف اس کی اضافت یہ بتانے کے لیے ہے کہ نفس انسانی جن داعیات سے مرکب ہے اس میں اس کا بھی ایک مقام ہے۔ اس لیے یہ برابر انسان کی سیرت کی تعمیر یا بگاڑ میں اپنا رول ادا کرتا رہتا ہے۔ جب تک اس کو کنٹرول نہ کیا جائے اس وقت تک مال کی محبت اپنا اثر پیدا کرنے سے باز نہیں آتی۔ اگر یہ بخل نفس پر غالب آجائے تو اس کی تباہی کا سبب بن جاتا ہے۔ لیکن اگر اس کو قابو کرلیا جائے اور اس بات کا خوگر بنا لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے اس کو ایک سکون ملے اور اس کے اندر یہ یقین کبھی کم نہ ہونے پائے کہ اللہ کے راستے میں مال خرچ کرنے سے مال کم نہیں ہوتا۔ تو پھر یہی مال انسان کی کامیابی کا راستہ بن جاتا ہے۔ اور کتنے مواقع ہیں جہاں اس مال کے خرچ کرنے سے بڑے سے بڑے مرتبے کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔
Ayahs 64:17–18

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ یَغْفِرْ لَكُمْ١ؕ وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِیْمٌۙ Open ayah 64:17 in the Quran reader

اگر تم اللہ کو قرض حسن دو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان اور بہت حلم والا ہے

عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ۠ Open ayah 64:18 in the Quran reader

جاننے والا ہے غائب و حاضر کا، سب پر غالب اور حکمت والا ہے

اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا یُّضٰعِفْہُ لَـکُمْ وَیَغْفِرْلَـکُمْ ط وَاللّٰہُ شَکُوْرٌ حَلِیْمٌ۔ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَالشَّھَادَۃِ الْعَزِیْزُالْحَکِیْمُ ۔ (التغابن : 17، 18) (اگر تم اللہ کو قرض حسن دو گے تو وہ اس کو تمہارے لیے بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان اور بہت حلم والا ہے۔ جاننے والا ہے غائب و حاضر کا، سب پر غالب اور حکمت والا ہے۔ ) قرضِ حَسن کی فضیلت اوپر کی آیت میں مال کے خرچ کرنے کا ذکر کیا گیا ہے اور یہاں اسی خرچ کی ایک شاخ جس کا مرتبہ سب سے بلند ہے اس کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ پہلی آیت میں جس انفاق کا ذکر کیا گیا ہے اس کا تعلق ہر قسم کے انفاق سے ہے۔ خواہ اس کا تعلق صدقات و زکوٰۃ سے ہو یا جہاد سے۔ لیکن اس آیت میں خاص طور پر جہاد کے لیے انفاق کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ اس لیے کہ قرآن کریم میں قرض کا لفظ عام طور پر جہاد ہی میں انفاق کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔ مثلاً سورة المزمل میں ہے : وَاَقِیْمُوالصَّلٰوۃَ وَاَتُوالزَّکَوٰۃَ وَاَقْرِضُوا اللّٰہَ قَرْضًا حَسَنًا ” اور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ کو قرض دو اچھا قرض۔ “ اس آیت میں زکوٰۃ کے بعد قرض حسن کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ ظاہر ہے اس سے مراد وہ انفاق ہے جو جہاد کے لیے ہوتا ہے اور خاص طور پر جس کے لیے اپیل کی جاتی ہے۔ مجھے اس سے انکار نہیں کہ عام انفاق کے لیے بھی ترغیب کے انداز میں اس لفظ کا استعمال قرآن کریم نے کیا ہے۔ لیکن زیادہ تر جہاد کے لیے اس کا استعمال کیا گیا ہے۔ اور یہاں وہی مراد ہے۔ یہاں قرض کو قرض حسن سے تعبیر کیا گیا ہے۔ قرضِ حسن سے مراد وہ انفاق ہے جو حلال اور طیب مال میں سے کیا جائے۔ اور خوشدلی اور دل کے انشرح کے ساتھ اور فیاضی سے دیا جائے اور اپنی ضرورت کو اس ضرورت پر قربان کردیا جائے۔ جس قرض کے اندر یہ خوبیاں ہوں گی اسے قرض حسن کہا جائے گا۔ ایسے قرض پر اللہ تعالیٰ نے یہ نوید سنائی ہے کہ وہ اسے بڑھا دے گا اور بڑھانے سے مراد صرف یہ نہیں کہ اسے دونا کردے گا بلکہ اس سے اَضَعَافًا مُّضَاعَفَۃً یعنی کئی گنا بھی ہوسکتا ہے۔ ایسا ہی قرض بیشمار اجروثواب کا باعث بھی ہوتا ہے۔ اسی سے اللہ تعالیٰ کی بخشش بھی نصیب ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ ایسے قرض کو بڑی قدردانی کے ساتھ قبول فرماتا ہے۔ یعنی چاہے دیکھنے کو وہ معمولی انفاق ہو۔ لیکن اگر اس کے پیچھے انفاقِ حسن کی روح پائی جاتی ہے، یعنی مکمل اخلاص، فدائیت اور محبت کارفرما ہے تو اللہ تعالیٰ کی نگاہ میں وہ بہت وقیع سمجھا جاتا ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ جنگ تبوک کے سلسلے میں جب حضور ﷺ نے اپیل فرمائی تو ایک شخص کھجوروں کی ایک پوٹلی لے کر آیا۔ آپ نے نہایت خوشی سے قبول کرتے ہوئے فرمایا کہ مسجد کے صحن میں لوگوں کے صدقات کا جو ڈھیر لگا ہوا ہے ان کھجوروں کو اس پر بکھیر دیا جائے۔ اس کی برکت سے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ سب کو قبول فرمائے گا۔ اس انفاق کو قرض کہنے کی شاید وجہ یہ بھی ہے کہ قرض لینے والے پر قرض کی ادائیگی لازمی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حضور جو نذرانہ پیش کیا جاتا ہے دینے والا تو اسے یہ سمجھ کے دیتا ہے کہ اگر اسے قبول کرلیا جائے تو میری لیے بہت بڑا اعزاز ہوگا۔ لیکن یہ لفظ استعمال کرکے یہ تصور دیا گیا کہ لینے والا چونکہ بہت قدردان بھی ہے اور حلیم بھی۔ اس لیے وہ نہایت فیاضانہ معاملہ کرتے ہوئے اس کو نہ صرف عزت بخشے گا اور اسے واپس کرے گا بلکہ دینے والے نے جس مقدار میں دیا ہے اس میں بہت اضافہ کرکے واپس کرے گا۔ کیونکہ اس کے لیے مال میں اضافہ کردینا کوئی مشکل نہیں۔ وہ کائنات کے خزانوں کا مالک ہے اس کے خزانے ہمیشہ بھرے رہتے ہیں، اس میں کوئی کمی نہیں آتی۔ یہ تم سے قرض لینے کا مقصد تو صرف یہ ہے تاکہ تم آخرت میں اسے 70 گنا تک وصول کرو۔ اور تمہارے لیے بیش از بیش اجروثواب کا ذریعہ بنے۔ یہود پر خدا کی لعنت، کہ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اللہ کا ہم سے قرض مانگنا شاید اس لیے ہے کہ وہ فقیر ہوگیا ہے اور ہم غنی ہیں۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ ہم فقیروں سے جو کچھ لیتا ہے وہ اسی کا دیا ہوا ہے۔ اور پھر اس کو آخرت میں بڑھا چڑھا کر ہمیں لوٹائے گا تاکہ ہمارے لیے درجات کا ذریعہ بنے۔ دوسری آیت میں فرمایا کہ وہ غائب و حاضر ہر چیز کا جاننے والا ہے، اس کے راستے میں جو قربانی بھی کی جائے گی اور دلوں میں جذبات پالے جائیں گے اس سے کچھ بھی مخفی نہیں، وہ ہر چیز کو جانتا ہے۔ اور مزید یہ کہ وہ عزیز بھی ہے، کوئی کمزور ہستی نہیں کہ تم اس کا ساتھ نہ دو تو اس کے غلبہ میں کمی آجائے گی، بلکہ اس کا ساتھ دینے والا اپنے لیے طاقت اور عظمت کا ایک حوالہ تلاش کرلیتا ہے جس سے وہ ہمیشہ عظیم ہوجاتا ہے۔ اس کا کوئی کام حکمت سے خالی نہیں۔ وہ آج جن لوگوں سے قرض لے رہا ہے اس میں بھی حکمت ہے۔ اور کل یہی لوگ اس ملک کے خزانوں کے مالک ہوں گے۔ اور اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا علم ان ہی کے ہاتھوں میں ہوگا۔ تب معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کی حکمتوں نے اگر آج کے حکمرانوں کو انفاق نہ سکھایا ہوتا اور اللہ تعالیٰ کا تقویٰ ان میں نہ پیدا کیا ہوتا تو ان کی حکومت اللہ تعالیٰ کی رحمت کا سایہ کبھی نہ بنتی۔