Ayah 67:19اَوَلَمْ یَرَوْا اِلَی الطَّیْرِفَوْقَھُمْ صٰٓفّٰتٍ وَّیَقْبِضْنَ م ط مَا یُمْسِکُھُنَّ اِلاَّ الرَّحْمٰنُ ط اِنَّـہٗ بِکُلِّ شَیْ ئٍ م بَصِیْرٌ۔ (الملک : 19)
(کیا انھوں نے اپنے اوپر پرندوں کو نہیں دیکھا وہ پروں کو پھیلائے اڑتے ہیں اور ان کو سمیٹ بھی لیتے ہیں، رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انھیں تھامے ہوئے ہو، بیشک وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔ )
مخلوق کی بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے استشہاد
اللہ تعالیٰ کی بےپناہ قدرت اور اس کے سامنے ہر مخلوق کی بےبسی ایک مثال کے ذریعے واضح فرمائی جارہی ہے۔ قرآن کریم اپنے پڑھنے اور سننے والوں سے مخاطب ہو کر کہہ رہا ہے کہ کیا لوگ اپنے اوپر پرندوں کو ہوا میں اڑتا ہوا نہیں دیکھتے کہ وہ نہایت اطمینان سے فضاء میں کبھی ادھر، کبھی ادھر اٹھکیلیاں کرتے پھرتے ہیں حالانکہ ان کا جسم ہوا سے بھاری ہے۔ اپنے وزن کی وجہ سے انھیں زمین پر گِر جانا چاہیے۔ زمین کی کشش ثقل ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتی ہے اور یہ چھوٹے بڑے جانور اس قانونِ کشش سے آزاد نہیں ہیں اور کوئی اور قوت فضاء میں ان کو تھامنے والی نہیں ہے۔ باایں ہمہ جب تک ایسی تیز ہوا نہ چلے جو پرندے کی قوت مدافعت پر غالب آجائے یا پرندہ بیمار نہ ہوجائے یا ژالہ باری پرندوں کو زخمی نہ کردے، اس وقت تک پرندہ اپنی مرضی کیخلاف زمین پر گرنے نہیں پاتا۔ سوال یہ ہے کہ فضاء میں اسے کس نے تھام رکھا ہے، وہ کون ذات ہے جس نے پرندے کو وہ ساخت عطا فرمائی ہے جس سے وہ اڑنے کے قابل ہوا، وہ کون ہے جس نے ہر پرندے کو اڑنے کا طریقہ سکھایا اور پھر وہ کون ذات ہے جس سے ہوا کو ان قوانین کا پابند کیا جس کی بدولت ہوا سے زیادہ بھاری جسم رکھنے والی چیزوں کو اس میں اڑنا ممکن ہوا ؟ ان سب باتوں کا جواب ایک ہی ہے کہ وہ ذات، اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔ اس نے صرف پرندوں کو ہی نہیں بلکہ ہمارے سروں کے اوپر تنی ہوئی ہر چیز کو تھام رکھا ہے۔ آسمان بغیر ستون کے کھڑا ہے، وہ ہمارے سروں پر گِر کیوں نہیں جاتا ؟ صرف اس لیے کہ اسے اللہ تعالیٰ کی قدرت نے تھام رکھا ہے۔ فضائے لامتناہی کے کواکب و نجوم اور اس کے ثوابت اور سیارے اللہ تعالیٰ کے سوا کس نے تھام رکھے ہیں۔ ان میں سے کوئی ایک بھی اگر گِر جائے تو پورے کُرّہ ارض کو تہہ وبالا کر کے رکھ دے۔ یہ صورتحال ہمیں یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ انسان سمیت تمام مخلوقات کتنی بےبس ہیں اور اللہ تعالیٰ کی ذات کس قدر عظیم قدرتوں کی مالک ہے۔
آیت کے آخر میں فرمایا کہ پرندوں کی مثال سے کہیں یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ اللہ تعالیٰ صرف پر ندوں کو فضاء میں سنبھالے ہوئے ہے اور باقی مخلوقات اپنے بل بوتے پر اپنے فرائض ادا کررہی ہیں۔ فرمایا، ایسا نہیں۔ اس خدائے رحمن کی یہ رحمت ہے کہ وہ ہر چیز کی دیکھ بھال کر رہی ہے۔ درختوں کے پتوں سے لے کر آسمان کے کواکب و نجوم تک ہر چیز اسی کے سہارے اپنی جگہ پر قائم ہے۔ اگر کسی چیز کا کوئی ایک پیچ بھی ذرا سا ڈھیلا پڑجائے تو نہ جانے تباہی کہاں کہاں تک پھیل جائے۔
Ayah 67:20اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ ھُوَ جُنْدٌ لَّـکُمْ یَنْصُرُکُمْ مِّنْ دُوْنِ الرَّحْمٰنِ ط اِنِ الْـکٰفِرُوْنَ اِلاَّ فِیْ غُرُوْرٍ ۔ (الملک : 20)
(بتائو، تمہارے پاس وہ کون سی فوج ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مدد کرسکتی ہے، یہ کافر بالکل دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔ )
کفار کی خودفریبی پر تنبیہ
نبی کریم ﷺ جب قریش مکہ کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے اور قیامت میں جوابدہی سے ڈراتے تھے تو یہ فکرمند ہونے کی بجائے مذاق اڑاتے تھے، حتیٰ کہ ان کی جرأت یہاں تک بڑھی کہ جب بھی ان کا آنحضرت ﷺ سے سامنا ہوتا تو وہ آپ ﷺ سے عذاب کا مطالبہ کرتے یا قیامت کے جلد وقوع پذیر ہونے پر اصرار کرتے۔ اس آیت کر یمہ میں ان سے کہا جارہا ہے کہ تم جس بےباکی سے عذاب کا مطالبہ کرتے ہو ذرا یہ تو بتائو کہ تمہارے پاس وہ کون سا لشکر ہے جس سے تم اللہ تعالیٰ کے عذاب کا مقابلہ کرو گے۔ اگر پروردگار نے تمہاری تباہی کا فیصلہ کرلیا تو کیا تم زمین کو پھٹنے یا ہچکولے کھانے سے روک سکتے ہو یا اوپر سے اگر پتھروں کی بارش شروع ہوگئی تو تمہارے پاس کون سی ایسی پناہ گاہ ہے جس میں تم اپنے آپ کو بچا سکو گے۔ تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ کی جب گرفت آتی ہے تو قلعوں میں چھپ کر بیٹھے ہوئے لوگ بھی اس سے بچ نہیں سکتے۔ جن لوگوں کو یہ گمان ہوتا ہے کہ ہمارے دفاعی حصار ناقابلِ تسخیر ہیں، ان کے حصار بھی مکڑی کے جالے ثابت ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ کافر بہت بڑے فریب میں مبتلا ہیں۔ وہ عذاب کی دھمکی کو محض ایک مذاق سمجھتے ہیں اور اسے تسلیم کرنے کے لیے اپنی آنکھوں کے سامنے اس کا وقوع ضروری سمجھتے ہیں حالانکہ معمولی عقل کا آدمی بھی سمجھتا ہے کہ عذاب کے نازل ہوجانے کے بعد اسے تسلیم کرنے سے کیا فائدہ ہوگا۔
Ayah 67:21اَمَّنْ ھٰذَا الَّذِیْ یَرْزُقُـکُمْ اِنْ اَمْسَکَ رِزْقَـہٗ ج بَلْ لَّجُّوْا فِیْ عُتُوٍّوَّنُفُوْرٍ ۔ (الملک : 21)
(بتائو وہ کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے، اگر رحمن اپنا رزق روک لے، دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق بیزاری پر اڑ گئے ہیں۔ )
اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کے مقابلہ میں قریش کی ہٹ دھرمی
قریشِ مکہ اور دیگر منکرین سے سوال کیا جارہا ہے کہ تم جو اللہ تعالیٰ کے دین کی بات سننے کے روادار نہیں ہو اور اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کی دشمنی پر اس لیے تلے ہوئے ہو کہ وہ تمہیں اللہ تعالیٰ کے دین کی طرف بلاتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے دین سے تمہاری یہ سرکشی اور بےنیازی کا سبب اس کے سوا اور کچھ نہیں کہ تمہیں اللہ تعالیٰ نے خوشحالی عطا فرمائی ہے۔ اس کے گھر کی برکتوں سے تمہارے تجارتی راستے کھلے ہیں۔ عرب کے تمام قبائل راستے مخدوش ہونے کی وجہ سے جن تجارتی منڈیوں تک نہیں پہنچ سکتے، تم صرف اس لیے پہنچ جاتے ہو کہ تم اللہ تعالیٰ کے گھر کے متولی اور خدمت گزار ہو۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ تم اللہ تعالیٰ کی اس نعمت کا شکر بجالاتے اور زیادہ سے زیادہ اللہ تعالیٰ کے دین کی علمبرداری کرتے۔ لیکن تم نے تو اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کی ناشکری کرتے ہوئے اس کے پیغمبر کی دشمنی اور اس کے دین کی مخالفت پر کمر باندھ رکھی ہے۔ تمہارا کیا خیال ہے کہ جس پروردگار نے تمہیں رزق کے وسائل عطا فرمائے ہیں اگر وہ چاہے تو رزق کے ان سوتوں کو خشک نہیں کرسکتا۔ تمہاری زندگی کے بیشتر معاملات کا دارومدار نزول باراں پر ہے۔ اگر وہ اس کا نزول روک دے تو تم قحط کا شکار ہوجاؤ۔ اسی طرح تمہارے باقی وسائل کے راستوں میں رکاوٹیں کھڑی کردے یا تم پر جنگ کے بادل مسلط کردے، تو بتائو تم اللہ تعالیٰ کا کیا بگاڑ سکتے ہو اور اپنی زندگی کی بقاء کا کیا سروسامان کرسکتے ہو۔ تمہاری احتیاج اور تمہاری بےبسی تمہاری آنکھوں کے سامنے ہے۔ لیکن ان میں سے کوئی بات بھی تمہیں حق کی طرف لانے کی بجائے حق سے دور کیوں لے جارہی ہے۔ تم اپنی بےبسی اور اللہ تعالیٰ کی عنایات کو دیکھتے ہوئے بھی نہ جانے کیوں اس کا دین اختیار کرنے اور اس کے فرمانبردار بندے بننے کے لیے تیار نہیں ہو۔ پھر خود ہی پروردگار نے اس کا سبب بیان فرمایا، کہ بات دراصل یہ ہے کہ تمہارے اندر ایک سرکشی پیدا ہوگئی ہے اور حق بیزاری تمہارا رویہ بن گیا ہے اور سچائی اور دین کی ہر بات سے تمہیں کد اور ضد ہوگئی ہے۔ تو جس قوم کو یہ بیماریاں لاحق ہوجائیں انھیں کوئی بات سمجھانا ممکن نہیں ہوتا۔ بات اسے سمجھائی جاسکتی ہے جو سوچنے اور سمجھنے کی صلاحیت سے بہرہ ور ہو، لیکن جہاں ضد اور ہٹ دھرمی پیدا ہوجائے وہاں بات سمجھانا تو اپنا سر پھوڑنے کے سوا اور کچھ نہیں۔
Ayah 67:22اَفَمَنْ یَّمْشِیْ مُکِبَّا عَلٰی وَجْھِہٖٓ اَھْدٰٓی اَمَّنْ یَّمْشِیْ سَوِیًّا عَلٰی صِرَاطٍ مُّسْتَقِیْمٍ ۔ (الملک : 22)
(بھلا وہ شخص جو اوندھے منہ چل رہا ہے، وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یا وہ شخص جو سیدھا ایک سیدھی راہ پر چل رہا ہے۔ )
انسان کے بگاڑ کے اصل اسباب
کفار ِمکہ جو آنحضرت ﷺ کی دلآویز شخصیت، آپ ﷺ کے پیغام کی فصاحت و بلاغت اور آپ ﷺ کی عظمت کردار کے باوجود بھی آپ ﷺ کی دعوت قبول کرنے کے لیے تیار نہیں۔ تو اس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ ان کے اندر ضد اور ہٹ دھرمی پائی جاتی ہے۔ اور دوسری وجہ پیش نظر آیت کریمہ میں بیان فرمائی گئی ہے کہ ان کا رویہ اور ان کا طرزعمل دو باتوں کی غمازی کرتا ہے اور یہی درحقیقت ان کی دو بیماریاں ہیں۔ ایک تو یہ کہ وہ زندگی کے معاملات میں جن کا تعلق بالخصوص اخلاق اور اجتماعی زندگی سے ہے ایک خاص روش رکھتے ہیں اور وہ روش یہ ہے کہ ان معاملات میں وہ غوروفکر، تجربے، عقل و شعور اور صاحب الرائے لوگوں کی رہنمائی لینے کی بجائے جو طریقہ انھیں اپنے آبائواجداد اور اپنے ماحول سے ملا ہے اندھوں کی طرح سر جھکائے اسی پر چلنا صحت و صداقت کا تقاضا سمجھتے ہیں۔ عقل بیشک ان باتوں کو قبول نہ کرے، اخلاق بیشک اس کی مخالفت کریں، لیکن وقت کا چلن اگر اس کی تائید کرتا ہے تو وہ نہ عقل کی بات سنتے ہیں اور نہ اخلاق کی۔ وہ اپنے رسم و رواج کو سب سے بڑی دلیل سمجھتے ہیں اور زندگی کے بارے میں ان کے تصورات ایک جگہ جامد ہوچکے ہیں اور دوسری وجہ یہ ہے کہ ہوس کی حکمرانی اور اسبابِ دنیا کی محبت نے انھیں ایسا اندھا کیا ہے کہ اب ان کا چلن کتے کے چلن کے مشابہ ہو کر رہ گیا ہے۔ جس طرح کتا زمین پر چلتا ہوا زمین کو سونگھتا ہوا چلتا ہے کہ شاید کہیں سے بوئے طعام آجائے اور میں اسے کھود کر نکال لوں، ممکن ہے کہیں ہڈی چھپی ہوئی ہو۔ خواہش کا غلام بھی خواہشوں کی تکمیل میں سر جھکائے اپنی خواہشوں کے پیچھے چلتا رہتا ہے۔ ایسا شخص ظاہر ہے کہ کبھی راہ ہدایت نہیں پاسکتا۔ ہدایت کی راہ اس کو ملتی ہے جو سیدھی راہ پر سر اٹھا کر داہنے بائیں اور آگے پیچھے کا جائزہ لیتا ہوا چلتا ہے۔ وہ عقل کی بات بھی سنتا ہے اور نصیحت کی بات بھی۔ وہ خواہشوں کو مقاصدِ زندگی میں تبدیل ہونے نہیں دیتا۔ وہ اپنی حیثیت کا تعین کرنے کے بعد بندگی کی شاہراہ پر بندگی ہی کے تقاضوں کو بروئے کار لاتے ہوئے سیدھا سفر کرتا ہے۔ اس طرح اپنی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ انسانی اور حیوانی زندگی میں یہی بنیادی فرق ہے۔ انسان کو اللہ تعالیٰ نے مستوی القامت پیدا فرمایا ہے۔ جانوروں کی طرح زمین کی طرف جھکا ہوا پیدا نہیں کیا گیا۔ یہ سر اٹھا کر اور دائیں بائیں دیکھ کر چلتا ہے۔ اور جانور صرف خواہشِ طعام میں سر جھکا کے چلتا رہتا ہے کیونکہ اس کی زندگی کا سفر معدے سے شروع ہو کر معدے پر ختم ہوتا ہے، یہی اس کا مطاف ہے۔ لیکن انسان کو اللہ تعالیٰ نے بندہ شکم نہیں، اپنا بندہ بنایا ہے۔ اس لیے اس کی زندگی کی تگ و تاز کا میدان بڑا وسیع ہے۔
Ayah 67:23قُلْ ھُوَالَّذِیْ اَنْشَاکُمْ وَجَعَلَ لَکُمُ السَّمْعَ وَالْاَبْصَارَ وَالْاَفْئِدَۃَ ط قَلِیْلاً مَّا تَشْکُرُوْنَ ۔ (الملک : 23)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا اور تمہارے لیے کان، آنکھیں اور دل بنائے، تم بہت کم شکر ادا کرتے ہو۔ )
اپنے من میں ڈوب کر فیصلہ کرنا سیکھئے
اس سے پہلی آیت میں گمراہ اور ہدایت سے محروم شخص کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ وہ شخص ہے جو اوندھے منہ سر جھکائے جامد تقلید کے بندھنوں میں گرفتار خواہشات کا اسیر اور دنیا کے چلن کا پرستار بن کر سر جھکائے چلتا رہتا ہے اور کبھی غور و فکر نہیں کرتا کہ میرا طرزعمل صحیح ہے یا غلط۔ اسے ملامت کرتے ہوئے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں انسان بنایا تھا، لیکن تم نے حیوانوں کی روش اختیار کی۔ تمہارا کام یہ نہیں تھا کہ جو گمراہی دنیا میں پھیلی ہوئی ہو اس کے پیچھے آنکھیں بند کرکے چل پڑو۔ اور کچھ نہ سوچو کہ جس راہ پر تم جارہے ہو وہ صحیح ہے یا غلط۔ اللہ تعالیٰ نے تمہیں یہ کان سننے کے لیے دیئے تھے اور آنکھیں دیکھنے کے لیے اور دل و دماغ سوچنے سمجھنے کے لیے۔ لیکن تم زمانے کی روش میں ایسے مبتلا ہوئے کہ نہ تم نے سر اٹھا کے دیکھا کہ میں جس راستے پر چل رہا ہوں وہ صحیح ہے یا نہیں اور میرے گردوپیش میں جو نشانیاں پھیلی ہوئی ہیں وہ کس بات کی شہادت دے رہی ہیں۔ اور نہ تم نے کبھی کسی ہمدرد کی بات سننے کی زحمت گوارا کی۔ اور جو غلط سلط باتیں تمہارے دماغ میں پہلے سے بیٹھی ہوئی تھیں انھیں پر اڑے رہے۔ اور نہ تم نے اپنے دل و دماغ سے کبھی سوچنے سمجھنے کا کام لیا بلکہ تم اس طریقے کی پیروی میں لگے رہے جو دنیا میں کبھی کسی نے جاری کردیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے علم و عقل اور سماعت و بینائی کی یہ نعمتیں تمہیں حق شناسی کے لیے عطا کی تھیں، لیکن تم نے حق شناسی کی بجائے ناشکری کا رویہ اختیار کرلیا۔ خود ہی اپنی اس روش پر غور کرو کہ تمہیں کیا بنایا گیا تھا اور تم کیا بن چکے ہو۔
Ayah 67:24قُلْ ھُوَالَّذِیْ ذَرَاَکُمْ فِی الْاَرْضِ وَاِلَیْہِ تُحْشَرُوْنَ ۔ (الملک : 24)
(کہہ دیجیے کہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا ہے اور اسی کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔ )
آخرت میں جواب دہی پر ایک عقلی دلیل
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے نہایت اعجاز کے ساتھ بعض حقائق کی طرف اشارے فرمائے اور ایک وسیع مضمون کو چند لفظوں میں سمیٹ دیا ہے۔ الفاظ پر غور کرنے سے ایک تمثیل ذہن میں آتی ہے کہ جس طرح ایک کاشتکار زمین میں کاشت کرتا ہے، وقت پر اس کی آبیاری کرتا ہے، چرند و پرند سے اس کی حفاظت کرتا ہے، کھاد کی ضرورت ہو تو کھاد مہیا کرتا ہے۔ تو ہر شخص دیکھنے والا یہ سمجھ لیتا ہے کہ جب یہ فصل تیار ہوجائے گی تو اس کا کاشت کرنے والا اسے کاٹے گا، اس کے دانے اور بھس کو الگ الگ کرے گا اور اس کے کھتے میں جمع کرکے بھس کو جلا دے گا۔ تو کوئی شخص ایسا سمجھنے والے کی تغلیط نہیں کرتا بلکہ ہر شخص تائید کرتا ہے کہ یقینا ایسا ہی ہوگا۔ لیکن حیرانی کی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین پر انسانوں کی فصل کاشت کی ہے۔ کوئی کسان اپنی فصل کی اتنی دیکھ بھال نہیں کرتا جس قدر پروردگار زمین پر پھیلی ہوئی اپنی فصل کی دیکھ بھال کرتا ہے۔ بچہ ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو وہ نگرانی بھی کرتا ہے اور اسے غذا بھی بہم پہنچاتا ہے۔ بچہ پیدا ہوتا ہے تو عہد بعہد اور حسب ضرورت اس کے لیے امکانات پیدا کرتا ہے اور سامانِ تربیت بہم پہنچاتا اور افزائش کرتا ہے۔ ساری زندگی اللہ تعالیٰ کی نگاہ ربوبیت انسان کی نگرانی کرتی اور اس کے لیے ضرورتیں مہیا کرتی ہے۔ جس طرح کاشتکار کے بارے میں یہ نہیں کہا جاسکتا کہ اس قدر محنت اٹھانے اور فصل کو پروان چڑھانے کے بعد اسے یونہی چھوڑ دے گا اور وہ فصل ایک دن تباہ ہوجائے گی۔ اسی طرح انسانوں کے بارے میں یہ کیسے گمان کیا جاسکتا ہے کہ انسانوں کے قافلے یونہی دنیا میں آتے رہیں گے، اپنا سفر ختم کرکے موت کا شکار ہوتے رہیں گے، حتیٰ کہ ایک روز دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ ایسے کار عبث اور بیکار شغل کا تصور ہم ایک کسان سے تو نہیں کرسکتے تو اللہ تعالیٰ سے کیسے کرسکتے ہیں۔ اس سے خودبخود یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جس نے یہ فصل پروان چڑھائی ہے وہی ایک دن اس کو سمیٹے گا اور اکٹھا کرے گا۔ اس کے دانوں کو بھس سے جدا کرے گا اور اس کے کھتے میں جمع کرکے بھس کو جلا دے گا۔ اور چونکہ انسانوں کو عقل و شعور دے کر تکلیفِ شرعی کا بھی پابند کیا گیا ہے۔ اس لیے اسے جزاء و سزا سے گزارا جائے گا۔
Ayahs 67:25–26وَیَقُوْلُوْنَ مَتٰی ھٰذَا الْوَعْدُ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ قُلْ اِنَّمَا الْعِلْمُ عِنْدَاللّٰہِ ص وَاِنَّمَآ اَنَا نذَیْرٌمُّبِیْنٌ۔ (الملک : 25، 26)
(اور وہ کہتے ہیں یہ وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچے ہو۔ کہہ دیجیے اس کا علم تو اللہ ہی کے پاس ہے، میں تو بس ایک کھلا ہوا ڈرانے والا ہوں۔ )
قریش کا لغو معارضہ اور اس کا جواب
گزشتہ آیت کریمہ میں وقوع قیامت پر عقلی اور واقعاتی دلیل ذکر فرمائی گئی ہے۔ قرآن کریم نے اور بھی متعدد مواقع پر مختلف حوالوں سے قیامت کے آنے پر دلائل قائم کیے ہیں لیکن منکرینِ قیامت نے ان دلیلوں کے جواب میں یا تو ہٹ دھرمی کا ثبوت دیا یا وقوع قیامت کو مستبعد از عقل قرار دے کر اس کا مذاق اڑایا ہے۔ لیکن پیش نظر آیت کریمہ سے معلوم ہوتا ہے کہ دلائل کے سامنے بےبس ہو کر ان کی آخری بات یہ تھی کہ اگر قیامت کا آنا واقعی حقیقت ہے اور تم اس دعوے میں سچے ہو تو پھر بتائو وہ قیامت کب آئے گی۔ بظاہر اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بات کہنے والے شاید یہ کہنا چاہتے ہوں کہ اگر آپ ہمیں یہ بتادیں کہ قیامت کے آنے کا وقت فلاں ہے تو ہم اس کو تسلیم کرلیں گے اور آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے۔ لیکن حقیقت میں ایسا نہیں۔ انھوں نے درحقیقت انکارِ قیامت کے لیے ایک راستہ نکالا تھا۔ انھیں معلوم تھا کہ غیبی حقیقتوں کے بارے میں کبھی متعین وقت نہیں بتایا جاتا۔ کیونکہ اگر متعین وقت بتادیا جائے تو انسانوں کی آزمائش ختم ہوجاتی ہے اور وہ حکمت بھی بیکار ہوجاتی ہے جو ایمان بالغیب میں رکھی گئی ہے۔ ان کے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ اولاً تو یہ وقت بتایا ہی نہیں جائے گا تو ہمیں انکار کرنے کا ایک جواز مل جائے گا۔ اور اگر وقت بتادیا گیا تو ہم کہیں گے کہ ٹھیک ہے اگر اس وقت پر قیامت آگئی تو ہمیں اسے مان لیں گے لیکن آج تو اس کا یقین نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ضرور آئے گی۔ غور کیجیے ایسی صورتحال میں امرواقعہ میں کیا فرق پیدا ہوسکتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک لغو معارضہ ہے جس میں کوئی معقولیت نہیں۔ اس لیے کہ دنیا میں کتنی ایسی صداقتیں ہیں جن کے وقوع کی تاریخ اور وقت کے بارے میں ہم کچھ نہیں جانتے۔ لیکن اس صداقت کے بارے میں ہم ہمیشہ بوقت ضرورت آگاہی دیتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہم کسی شخص کے بارے میں یہ نہیں بتاسکتے کہ وہ کب مرے گا، کیونکہ موت کے وقت کا علم اللہ تعالیٰ نے کسی کو نہیں دیا۔ لیکن کسی شخص کی غیرمحتاط زندگی اور اس کے نامناسب رویئے کو دیکھ کر ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ تمہیں کچھ احتیاط کرنی چاہیے اور اپنے رویئے کے بارے میں غور کرنا چاہیے کیونکہ ایک دن بہرحال تمہیں بھی موت آئے گی۔ اس کے جواب میں کوئی سمجھدار آدمی یہ نہیں کہتا کہ میں تمہاری بات کو تب تسلیم کروں گا جب یہ بتائو کہ مجھے موت کب آئے گی۔ کیونکہ اگر یہ بات بتا بھی دی جائے اور واقعی اس روز موت آجائے تو اسے اس کا کیا فائدہ پہنچے گا۔ اس لیے دوسری آیت کریمہ میں فرمایا گیا کہ موت کے وقت کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ میں تو تمہیں صاف صاف خبردار کرنے کے لیے آیا ہوں تاکہ تم اس کے لیے تیاری کرسکو۔ اور مزید یہ کہ قیامت کے آنے پر ایمان لانا چونکہ نفس ایمان کا حصہ ہے، اس لیے اگر یہ بتادیا جائے کہ فلاں روز قیامت آرہی ہے تو پھر اس پر ایمان لانا کوئی امتحان نہیں رہے گا کیونکہ کوئی چیز جب غیب سے شہود کی صورت اختیار کرلیتی ہے تو پھر اس کا ماننا یا نہ ماننا برابر ہوتا ہے۔
Ayah 67:27فَلَمَّا رَاَوْہُ زُلْفَـۃً سِٓیْئَتْ وُجُوْہُ الَّذِیْنَ کَـفَرُوْا وَقِیْلَ ھٰذَا الَّذِیْ کُنْـتُمْ بِہٖ تَدَّعُوْنَ ۔ (الملک : 27)
(پس جب اس کو دیکھیں گے قریب آتے تو ان لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنھوں نے انکار کیا اور ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کا تم تقاضا کرتے تھے۔ )
قیامت کے روز مخالفت کا انجام
جو لوگ منہ پھاڑ پھاڑ کر آنحضرت ﷺ سے عذاب کو دکھانے کا مطالبہ کرتے تھے یا مذاق اڑاتے ہوئے کہتے تھے کہ اگر قیامت آنے والی ہے تو وہ آ کیوں نہیں جاتی، آخر وہ کہاں رک گئی ہے۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ جب اس عذاب یا روزقیامت کو قریب آتا دیکھیں گے، عذاب نظر آئے گا کہ سروں پر پہنچ گیا ہے۔ یعنی زمین پھٹ رہی ہے یا سر پر مہیب گھٹا چھا گئی ہے یا سمندر بےقابو ہوگیا ہے یا آگ برسنے لگی ہے تو یہ لوگ جو بڑھ بڑھ کر مطالبہ کررہے ہیں ان کے چہرے بگڑ جائیں گے اور ان کی کیفیت ایسی ہوگی جیسے پھانسی کے تختے کی طرف کھینچے جانے والے مجرم کی ہوتی ہے۔ اس وقت ان کی ساری شیخیاں ہوا ہوجائیں گی۔ ان سب کی سٹی گم ہوجائے گی، چیخنا چلانا شروع کردیں گے۔ تب ان سے کہا جائے گا کہ اب واویلا کیوں مچا رہے ہو اور یہ تمہاری ہَوائیاں کیوں اڑنے لگی ہیں۔ یہ تو وہی چیز ہے جس کا تم مطالبہ کررہے تھے۔ یہ تمہاری منہ مانگی مراد ہے، اب اس کا مزہ چکھو۔
Ayah 67:28قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَھْلَـکَنِیَ اللّٰہُ وَمَنْ مَّعِیَ اَوْرَحِمَنَاا فَمَنْ یُّجِیْرُالْـکٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ ۔ (الملک : 28)
(ان سے پوچھئے کہ بتائو کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم فرمائے، کافروں کو دردناک عذاب سے کون بچائے گا۔ )
حقیقت پسندی کی دعوت
نبی کریم ﷺ نے جب مکہ معظمہ میں دعوت کا آغاز فرمایا اور آہستہ آہستہ اس کے اثرات پھیلنے لگے تو قریش کے بعض گھرانوں میں بعض لوگ مسلمان ہوگئے، کہیں بیٹا مسلمان ہوگیا، کہیں بیٹی، کہیں بھائی، کہیں چچا، کہیں ماموں، کہیں کوئی کہیں کوئی۔ تو گھر گھر میں اسلام کا چرچا ہونے کے باعث، اسلام اور آنحضرت ﷺ کی مخالفت میں بھی اضافہ ہوگیا۔ جب لوگوں نے دیکھا کہ مخالفت سے اس دعوت کے اثرات ختم ہونے کی بجائے مزید بڑھ رہے ہیں تو پھر انھوں نے نبی کریم ﷺ کیخلاف تعویز گنڈے اور ٹونے ٹوٹکے شروع کیے۔ آپ ﷺ کیخلاف بددعائیں ہونے لگیں حتیٰ کہ آپ ﷺ کے قتل کے منصوبے باندھے جانے لگے اور ساتھ ہی ساتھ عوام کو اسلامی اثرات سے بچانے کے لیے اشرافِ قریش نے یہ کہنا شروع کردیا کہ تم اس دعوت کے اثرات سے پریشان نہ ہو یہ عذاب وغیرہ کی دھمکی محض ایک شخص کی خطابت اور شاعری ہے۔ بہت جلد یہ شخص حوادث کی نذر ہوجائے گا۔ اس کی یہ سب باتیں ہوا میں اڑ جائیں گی۔ یہ ہمیں عذاب سے ڈراتا ہے حالانکہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہ اور اس کے ساتھی گردش روزگار سے بچ نہیں سکیں گے۔ قرآن کریم نے مختلف مواقع پر اس مضمون کو بیان فرمایا۔ سورة الطور میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔
اَمْ یَـقُوُلُوْنَ شَاعِرٌ نَتَرَبَّصُ بِہٖ رَیْبَ الْمَنُوْنِ ۔ قُلْ تَرَبَّصُوْا فَاِنِّی مَعَکُمْ مِنَ الْمُتَرَبِّصِیْنَ ۔
” کیا یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک شاعر ہے اور ہم اس کے لیے گردش روزگار کا انتظار کررہے ہیں۔ کہہ دیجیے ! تم انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرنے والوں میں سے ہوں۔ “
حق و باطل کی کشمکش میں اہل حق کا کردار
یعنی تم اپنے گمان کے مطابق ہمارے لیے گردش روزگار کے منتظر ہو اور ہم تمہارے لیے عذاب کے منتظر ہیں۔ لیکن تقدیری معاملات میں اللہ تعالیٰ کے نبی کبھی جھگڑا نہیں کرتے۔ اس لیے آنحضرت ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ ﷺ ان سے کہئے کہ تم ہمیں بددعائیں دو یا گردش روزگار کا انتظار کرو، لیکن ہم جانتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ قادرِ مطلق ہے وہ جو چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اس نے مجھے یا میرے ساتھیوں کو اگر ہلاک کرنے کا فیصلہ کرلیا تو وہ اس پر قادر ہے یا وہ ہم پر رحم فرمانا چاہتا ہے تو وہ اس کا بھی حق رکھتا ہے۔ لیکن تمہارے سوچنے کی یہ باتیں نہیں کہ ہم ہلاک ہوتے ہیں یا نہیں۔ اس لیے کہ ہماری ہلاکت سے تمہارا کوئی کام متعلق نہیں۔ تمہارے سوچنے کی بات تو یہ ہے کہ تم اپنے بارے میں سوچو۔ کہ جس عذاب سے ہم تمہیں ڈرا رہے ہیں اگر وہ عذاب آگیا اور تم نے اپنا رویہ نہ بدلا تو عذاب ضرور آئے گا تو پھر تم بتائو کہ تمہیں اس عذاب سے یا اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب سے کون بچانے والا ہے۔
Ayah 67:29قُلْ ھُوَالرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِہٖ وَعَلَیْہِ تَوَکَّلْنَا ج فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ ھُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ ۔ (الملک : 29)
(اے پیغمبر کہہ دیجیے ! وہ رحمن ہے ہم نے اس کو مانا اور اس پر بھروسہ کیا، عنقریب تم جان لو گے کون کھلی ہوئی گمراہی میں ہے۔ )
گزشتہ مضمون کی مزید وضاحت
کفارِ قریش چونکہ آنحضرت ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کے بارے میں خطرناک عزائم بھی رکھتے تھے اور تباہ کن امیدیں بھی۔ اور اسی سے لوگوں کو تسلیاں بھی دیتے تھے۔ آنحضرت ﷺ کو اس آیت کریمہ میں حکم دیا گیا ہے کہ ان سے کہہ دیجیے کہ جس ذات پر ہم ایمان لائے ہیں وہ رحمن اور رحیم و کریم ہے۔ اور ہر معاملے میں ہمارا اسی پر بھروسہ ہے۔ ہم اپنے تئیں نہ امیدیں باندھتے ہیں نہ وساوس کا شکار ہوتے ہیں۔ ہمیں بھروسہ ہے تو صرف اپنے پروردگار کی رحمت پر۔ وہ اپنے بندوں پر ہمیشہ رحم فرماتا ہے اور یقینا ہم پر بھی رحم فرمائے گا۔ تم ہمارے بارے میں جو کچھ بھی کہتے ہو ہم اس میں کوئی جھگڑا نہیں کریں گے۔ ہم اپنے ایمان کے تقاضوں کو بروئے کار لائیں گے اور ہر طرح کے حالات میں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ کریں گے۔ وہ وقت دور نہیں جب تمہیں خود اندازہ ہوجائے گا کہ کھلی ہوئی گمراہی میں تم تھے یا ہم۔
Ayah 67:30قُلْ اَرَئَ یْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُکُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْ تِیْکُمْ بِمَآئٍ مَّعِیْنٍ ۔ (الملک : 30)
(اے پیغمبر ان سے پوچھئے ! کہ بتائو اگر تمہارا پانی نیچے اتر جائے تو تمہارے پاس کون ہے جو صاف اور شفاف پانی لائے۔ )
کفار کو تنبیہ
سورة کی آخری آیت میں کفار کو پھر تنبیہ فرمائی ہے اور ایک طرح سے عذاب کی دھمکی دی ہے کہ انسان کی سب سے بنیادی ضرورت ہوا کے بعد پانی ہے جس کے بغیر زندگی بسر نہیں ہوسکتی۔ لیکن یہ ایسی نعمت ہے جس کو حاصل کرنے کے لیے بظاہر انسان کنوئیں کھودتا ہے یا اور مختلف طریقوں سے اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ لیکن اسے یہ یاد نہیں رہتا کہ یہ اس کی ذاتی جاگیر نہیں، صرف اللہ تعالیٰ کا عطیہ ہے کہ اس نے پانی برسایا اور اس پانی کو برف کی شکل میں پہاڑوں کی چوٹیوں پر جما دیا کہ سڑنے اور خراب ہونے سے محفوظ رہے۔ پھر اس برف کو آہستہ آہستہ پگھلا کر پہاڑوں کی عروق کے ذریعے زمین کے اندر اتار دیا اور بغیر کسی پائپ لائن کے پوری زمین میں اس کا ایسا جال پھیلا دیا کہ جہاں چاہو زمین کھود کر پانی نکال لو۔ مگر یہ پانی جو اس نے زمین کی اوپر کی سطح پر رکھ دیا ہے جس کو چند فٹ یا چند گز زمین کھود کر نکالا جاسکتا ہے۔ لیکن اگر وہ اس پانی کو نیچے کی سطح پر اتار دے جہاں تک تمہاری رسائی ممکن نہ ہو تو پھر کون سی طاقت ہے جو انسان کو پانی جیسی نعمت عطا کرسکے۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ کئی علاقے ایسے ہیں جہاں پانی کی سطح اتنی نیچی ہے کہ وہاں کنوئیں تو درکنار ٹیوب ویل سے بھی پانی حاصل کرنا ایک کارعظیم ہے۔
پانی کے نیچے اتر جانے کی ایک اور صورت بھی ممکن ہے کہ بارش نہ ہونے یا کم ہونے کے سبب سے نہروں، چشموں اور ندیوں کا پانی کم ہو کر گدلا ہوجائے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہاں دونوں ہی مفہوم لینے کی گنجائش ہے۔
کفار چونکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کو بہت دور کی بات سمجھتے تھے اس لیے ان کو ایک ایسی مثال سے ڈرایا گیا ہے جس کا وقوع ان کے بہت قریب ہے یعنی وہ پانی جو ان کی انتہائی اہم ضرورت ہے اور جسے وہ کنوئوں اور چشموں سے حاصل کرتے ہیں اور یہ دونوں وسائل نزولِ باراں کے محتاج رہتے ہیں کیونکہ اگر بارش نہ برسے تو چشمے بھی خشک ہوجاتے ہیں اور کنوئیں بھی۔ اور اللہ تعالیٰ کے لیے کنوئوں اور چشموں کا خشک کردینا اور بارشوں کا روک دینا یہ کوئی مشکل بات نہیں۔ بارش کے نہ ہونے سے پانی کی سطح پر نیچی ہوجائے گی اور اگر کہیں پانی ہے بھی تو وہ بھی گدلا ہوجائے گا۔ اور یہ وہ خطرہ ہے جو اہل عرب کے لیے غیرمتوقع نہ تھا۔ اس لیے ایک ایسی چیز سے جو انھیں کسی وقت بھی پیش آسکتی تھی، انھیں توجہ دلائی گئی ہے کہ اس اللہ سے ڈرو جس کے قبضے میں تمہاری زندگی اور اس کے تمام وسائل ہیں۔
کاش ! آج دنیا اس آیت کریمہ کو پیش نظر رکھے کیونکہ آنے والے چند سالوں میں دنیا کو جو سب سے بڑا خطرہ پیش آنے والا ہے وہ پانی کی کمیابی ہے۔ پانی کی سطح آہستہ آہستہ نیچی ہوتی جارہی ہے اور ہمارے ملک کے لیے یہ خطرہ زیادہ دور نہیں، اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے حفظ وامان میں رکھے، آمین۔