Ayahs 68:35–36اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۔ مَالَـکُمْ وقفۃ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ (القلم : 35، 36)
(کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کے برابر کردیں گے۔ تمہیں کیا ہوگیا ہے، تم کیسے حکم لگاتے ہو۔ )
اچھوں اور بروں میں فرق عقل اور اخلاق کا تقاضا ہے
متکبرین اور منکرین کے لیے عذاب اور متقین کے لیے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے معمور جنتیں، پیش نظر آیت کریمہ میں اس پر عقلی دلیل بیان فرمائی گئی ہے۔ انسانی دنیا میں ہر جگہ اس بات کو تسلیم کیا جاتا ہے کہ اگر چند لوگ کسی منصب اور کسی ڈیوٹی پر فائز کیے جاتے ہیں ان میں کچھ لوگ وہ ہوتے ہیں جو اپنے فرائض کو باحسن طریق پورا کرتے ہیں اور کچھ ایسے ہوتے ہیں جو کام چوری کرتے یا جس ادارے سے تنخواہ لیتے ہیں اس کی اصل حیثیت کو تسلیم کرنے سے انکار بھی کرتے ہیں اور جب بھی کبھی ادارے پر نازک وقت آتا ہے تو اس کی بقا اور تحفظ کے لیے محنت کرنے اور جان لڑانے سے گریز کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا میں کوئی ایسا ادارہ ہے جو ان دونوں طرح کے لوگوں کو برابر سمجھتا ہو، ان کی ایک جیسی عزت افزائی کی جاتی ہو، ایک جیسی مراعات دی جاتی ہوں، دونوں کو سزا دی جاتی ہو یا دونوں کو انعام دیا جاتا ہو۔ یقینا کہیں ایسا نہیں ہوتا۔ جو ادارے کے وفادار اور خدمت گزار ہیں ان کے کام کی قدر کی جاتی ہے، انھیں مراعات دی جاتی ہیں اور انھیں انعام کا مستحق سمجھا جاتا ہے۔ اور جو ادارے کے دشمن، غدار، کام چور اور صرف تنخواہ سے غرض رکھنے والے ہیں انھیں نہ صرف انعام کا مستحق نہیں سمجھا جاتا بلکہ انھیں سزا دی جاتی ہے۔
اسی طرح ایک شخص اپنی خواہشات کی تکمیل یا اپنی ذات کی سربلندی کی ہوس میں اندھا ہو کر دوسروں پر ظلم کرتا، حق تلفیاں کرتا اور بعض دفعہ جان لینے سے بھی گریز نہیں کرتا۔ اور ایک دوسرا آدمی ہے جو ہر وقت اللہ تعالیٰ سے ڈر کر حقوق کی پاسداری کرتا ہے، لوگوں سے احسان و مروت سے پیش آتا ہے اور مقاصد کی سربلندی کے لیے جس خدمت اور قربانی کی ضرورت ہوتی ہے وہ کبھی اس سے دریغ نہیں کرتا۔ تو کیا ان دونوں کو عقل، علم اور اخلاق کی نگاہ میں برابر سمجھا جائے گا اور اگر ایسا ہے تو سوال یہ ہے کہ پھر نیکی کا تصور کیا ہوگا۔ برائی بری کیوں سمجھی جائے گی، ظلم سے کوئی بچنے کی کیوں کوشش کرے گا، مظلومیت مدد کے قابل کیوں ہوگی، قاتل اور مقتول میں کیا کوئی فرق باقی رہ جائے گا، کیا حرمت جان، حرمت مال اور حرمت آبرو کا کوئی تصور کسی سطح پر بھی باقی رہ جائے گا۔ اگر یہ سب باتیں ان دونوں کو برابر سمجھنے کا نتیجہ ہیں تو کیا انسانی زندگی کی بقا اور انسان اور حیوان میں فرق باقی رکھنے کے لیے کیا اس بات کو تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ ہے کہ فرمانبردار، قانون کے پابند، اخلاق کے پیکر اور جرائم پیشہ لوگوں کو برابر نہ سمجھا جائے۔ یہی انسانیت کا سرمایہ ہے اور یہ وہ تعلیم ہے جو ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے نبیوں نے دی ہے۔
اب سوال یہ ہے کہ اگر مسلم اور مجرم برابر نہیں اور اچھائی اور برائی یکساں نہیں اور ظلم اور عدل ایک ترازو میں برابر نہیں رکھے جاسکتے، تو پھر اس بات کا ہمارے پاس کیا جواب ہے کہ لوگ قتل ہوتے ہیں لیکن قاتل پکڑے نہیں جاتے یا پکڑے جاتے ہیں تو رشوت یا سفارش کے زور سے چھوٹ جاتے ہیں۔ طاقتور کمزور کو دبا کے رکھتا ہے اور اس کا ہاتھ پکڑنے والا کوئی نہیں، نیکی کمزور ہونے کی وجہ سے منہ چھپائے پھرتی ہے اور بدی سربازار رقص کر رہی ہے۔ اچھی باتیں کتابوں میں پڑھی جاتی ہیں لیکن ایوانِ حکومت میں برائی کا دوردورہ ہے۔ اور کسی کے پاس ایسی کوئی طاقت نہیں جو ہر سطح پر اس صورتحال کو بدل سکے۔ قرآن کریم اس کا ایک ہی جواب دیتا ہے کہ جب تک لوگوں کے دلوں میں قیامت کا عقیدہ راسخ نہیں کیا جائے گا اور لوگ اس پر یقین نہیں کریں گے کہ ہمارا ہر عمل محفوظ کیا جارہا ہے۔ ایک دن ایسا آنے والا ہے جب ایک ایک عمل کی جوابدہی کرنا پڑے گی۔ وہاں طاقتور بھی پکڑے جائیں گے اور قاتل بھی نہ چھپ سکیں گے اور نہ چھوٹ سکیں گے۔ اس وقت تک انسانی معاملات اور انسانی زندگی کی اصلاح کی کوئی صورت نہیں۔ یہی وہ بات ہے جو اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی گئی ہے۔
اور دوسری آیت میں اس بات کے ساتھ ساتھ ایک اور بات کی طرف اشارہ بھی کیا گیا ہے۔ مشرکینِ عرب کا عقیدہ یہ تھا کہ جو لوگ دنیا میں خوشحال، معزز اور بڑی حیثیت کے مالک ہیں وہی آخرت میں بھی معزز ہوں گے۔ کیونکہ دنیا میں ان کا عزت پانا اور دولت و حشمت سے بہرہ ور ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی نظروں میں مقبول ہیں۔ ورنہ اللہ تعالیٰ ان کو یہ سب کچھ عطا نہ کرتا۔ تو جو لوگ یہاں مقبول ہیں یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ قیامت کے دن ان کو مردود ٹھہرایا جائے اور جو لوگ آج نان شبینہ کے محتاج اور جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں یہ قیامت کے روز بھی اسی طرح نادار اور قلاش ہوں گے۔ اس کی تردید کرتے ہوئے اشارہ فرمایا گیا ہے کہ ہم تمہاری عقل پر یہ فیصلہ چھوڑتے ہیں کہ کیا عقل ایک مجرم اور قانون کے پابند اور اس کے فرمانبردار کو برابر قرار دیتی ہے۔ کیا عقل کی نگاہ میں ظالم اور مظلوم یکساں ہیں۔ کیا عقل یہی سمجھتی ہے کہ اچھائی اور برائی میں کوئی فرق نہیں۔ یقینا عقل ایسا نہیں سمجھتی۔ وہ ان دونوں کی یکسانی کو تسلیم نہیں کرتی۔ وہ برائی سے نفرت کرتی اور نیکی کو فروغ دیتی ہے۔ اگر امرواقعہ یہ ہے تو پھر تم کیسے سمجھتے ہو کہ تم نے دنیا میں اپنی دنیوی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھایا، اسے ظلم کا ذریعہ بنایا، شب و روز عیش و عشرت میں گزارے اور عفت و عصمت کے نہ جانے کتنے فانوس گل کیے۔ اور تمہارے مقابلے میں نبی کریم ﷺ پر ایمان لانے والے جو کردار کی عظمت اور اخلاق کی دلآویزی رکھتے ہیں۔ تم اپنی آنکھوں سے دیکھتے ہو کہ وہ پیٹ سے بھوکے بھی ہوں تو صبر کی تصویر ہوتے ہیں۔ دولت ان کے قدموں میں ڈھیر کردی جائے، تب بھی وہ اس کی ہوس میں مبتلا نہیں ہوتے، تو آخر تمہیں اور انھیں قیامت کے دن برابر کیسے سمجھ لیا جائے۔ افسوس ہے تم پر تم کس طرح کے فیصلے کرتے ہو۔
Ayahs 68:37–38اَمْ لَـکُمْ کِتٰبٌ فِیْہِ تَدْرُسُوْنَ ۔ اِنَّ لَـکُمْ فِیْہِ لَمَا تَخَیَّرُوْنَ ۔ (القلم : 37، 38)
(کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے جس میں تم یہ پڑھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے وہی کچھ ہے جو تم اپنے لیے پسند کرو گے۔ )
ایک مغالطے کی تردید
گزشتہ آیت کی تشریح میں، میں نے عرض کیا ہے کہ مشرکینِ عرب بالعموم اور قریش بالخصوص یہ سمجھتے تھے کہ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے منظورِنظر ہیں، اس لیے اس نے ہمیں دنیا میں عزت و سیادت عطا کی ہے، تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن بھی ہمیں نعمتوں سے نوازے گا اور یہ بات وہ اس مفروضے پر کہتے تھے کہ اولاً تو قیامت آئے گی ہی نہیں اور اگر آہی گئی تو ہمیں اس کی کیا فکر ہے ہم چونکہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ قرب کا رشتہ رکھتے ہیں تو وہ یقینا ہمیں وہاں بھی نوازے گا۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا جارہا ہے کہ کیا تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کوئی کتاب، کوئی صحیفہ موجود ہے جسے پڑھ کر تم اس طرح کی باتیں کرتے ہو کہ قیامت کے دن تمہاری ساری آرزوئیں پوری ہوں گی۔ تم اگر خود اپنی عقل سے بھی پوچھو جیسے کہ اس سے پہلے کی آیت میں فرمایا گیا ہے تو عقل بھی کبھی اسے تسلیم نہیں کرے گی کہ قیامت کا دن جبکہ جزاء و سزا کا دن ہے اور وہاں حُسنِ عمل پر جزاء ملے گی اور بدکرداری پر سزا ملے گی، تو تم نے اس کے لیے محض عزت و وجاہت کو معیار بنا لیا ہے تو آخر یہ بات تم نے کس کتاب میں پڑھی ہے جو خاص طور پر تم پر اللہ تعالیٰ نے نازل کی ہے۔ اور اگر واقعی کوئی ایسی چیز تمہارے پاس ہے تو اسے پیش کرو۔ لیکن کوئی ایسی چیز ہوتی تو وہ پیش کرتے۔ اس لیے جواب میں خاموشی کے سوا اور کچھ نہ تھا۔
Ayah 68:39اَمْ لَـکُمْ اَیْمَانٌ عَلَیْنَا بِالِغَـۃٌ اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ لا اِنَّ لَـکُمْ لَمَا تَحْکُمُوْنَ ۔ (القلم : 39)
(یا تمہارے لیے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد و پیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم فیصلہ کرو گے۔ )
اگر تمہارے پاس کوئی کتاب نہیں تو پھر یہ ہوسکتا ہے کہ کوئی عہدوپیمان اللہ تعالیٰ نے تم سے ایسا کر رکھا ہو جو قیامت تک باقی رہنے والا ہے کہ تم جو چاہو گے ہم تمہارے ساتھ وہی معاملہ کریں گے تو پھر وہ عہد و پیمان پیش کرو۔ ظاہر ہے کہ ایسی کوئی چیز ان کے پاس نہ تھی جسے وہ پیش کرسکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آخرت کی فوزوفلاح کے جو وعدے قوموں سے کیے ہیں وہ ایمان اور عمل صالح اور اس عہد کی پابندی کے ساتھ مشروط ہیں جو اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے واسطے سے لوگوں سے لیے ہیں۔ غیرمشروط طور پر اللہ تعالیٰ نے قیامت کے دن کسی کی بخشش یا سرفرازی کا کوئی وعدہ نہیں فرمایا۔ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) جنھیں ابوالانبیاء کہا جاتا ہے، یہودیت، مسیحیت اور اسلام تینوں میں ان کا بڑا احترام ہے۔ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی قربانی کے بعد اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ فرمایا : اِنِّیْ جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ اِمَاماً ” کہ میں آپ کو لوگوں کا امام بنانے والا ہوں۔ “ یعنی اس وقت کی دنیا کی دینی امامت و قیادت آپ کے سپرد کی جارہی ہے۔ تو آپ نے پوچھا کہ کیا یہ منصب میری اولاد کو بھی ملے گا، تو جواب میں فرمایا گیا کہ ” میرا یہ عہد ان کو شامل نہیں ہے جو آپ کی اولاد میں سے میرے عہد کو توڑ کر اپنی جانوں پر ظلم ڈھانے والے بن جائیں گے۔ “ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ جب بھی کوئی عہد کیا ہے تو اس کی بنیاد ایمان و عمل کو بنایا۔ ظالم اسی کو کہتے ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کی توحید پر اور آخرت پر عمل کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرا تا ہو۔ اور آخرت سے انکار کے باعث بےعملی یا بدعملی کی زندگی گزارتا ہو اور احکامِ شریعت کی پروا نہ کرتا ہو۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ جس خیال خام میں قریش مبتلا تھے اسی فریب کا شکار یہود بھی تھے۔ وہ بھی اپنے آپ کو اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور اس کے چہیتے قرار دیتے تھے۔ اور اسی لیے اپنے آپ کو ہر مسئولیت سے بالاتر سمجھتے تھے۔
Ayahs 68:40–41سَلْہُمْ اَیُّـھُمْ بِذٰلِکَ زَعِیْمٌ۔ اَمْ لَھُمْ شُرَکَـآئُ ج فَلْیَاْ تُوْا بِشُرَکَـآئِہِمْ اِنْ کَانُوْا صٰدِقِیْنَ ۔ (القلم : 40، 41)
(ان سے پوچھئے، ان میں سے کون اس کا ضامن بنتا ہے۔ کیا ان کے کچھ شرکاء ہیں تو وہ لائیں اپنے شریکوں کو، اگر وہ سچے ہیں۔ )
گزشتہ آیت میں پوچھا گیا تھا کہ کیا انھوں نے اللہ تعالیٰ سے کوئی عہد و پیمان لے رکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان کی مرضی کے مطابق ان سے سلوک کرے گا اور قیامت (اگر آگئی) تو وہاں بھی یہ لوگ نوازے جائیں گے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ آپ ﷺ ان سے یہ پوچھئے کہ تم جو عہدوپیمان وغیرہ کی باتیں کرتے ہو، کیا کوئی اس کا ضامن بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے نبوت اور فلاح کا غیرمشروط ابدی پروانہ جاری کر رکھا ہے اور اگر کوئی ایسا ضامن نہیں ہے تو شاید ان لوگوں کا گمان یہ ہے کہ جن قوتوں کو ہم نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے وہ یقینا ان پر اللہ تعالیٰ کو ہاتھ نہیں ڈالنے دیں گے۔ یہ دنیا میں جو کچھ بھی کرتے رہیں ان شریکوں کی انھیں پناہ حاصل ہے، وہ کبھی بھی اللہ تعالیٰ کا عتاب ان پر برسنے نہیں دیں گے۔ فرمایا جارہا ہے کہ اگر کچھ ایسے شرکاء ہیں اور تم اپنے دعوے میں واقعی سچے ہو تو پھر انھیں پیش کرو۔ لیکن یہ عجیب بات ہے کہ قریش بت پرستی میں مبتلا تھے۔ فرشتوں کی بھی پوجا کرتے تھے۔ جنات سے بھی استمداد کرتے تھے اور ان کے نام پر چڑھاوے چڑھاتے تھے۔ باایں ہمہ وہ اللہ تعالیٰ کے مقابلے میں اپنے تحفظ کے لیے کبھی ان کا نام نہیں لیتے تھے۔ کیونکہ قرآن کریم نے مسلسل تنقید سے ان کے اس مشرکانہ کاروبار کی بےحقیقتی مبرہن کردی تھی اور آج اسی کا اثر ہے کہ ہندو جیسی مشرک قوم بھی کبھی اسے تسلیم نہیں کرتی اور وہ اپنے مشرکانہ رویئے پر تاویلات کے عجیب و غریب پردے تان کر اور جھول ڈال کر رکھتی ہے اور عجیب و غریب فلسفے اس نے ایجاد کر رکھے ہیں۔
Ayahs 68:42–43یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ وَّ یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ فِلاَ یَسْتَطِیْعُوْنَ ۔ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُہُمْ ذِلَّـۃٌ ط وَقَدْ کَانُوْا یُدْعَوْنَ اِلَی السُّجُوْدِ وَھُمْ سٰلِمُوْنَ ۔ (القلم : 42، 43)
(جس دن پنڈلی کھولی جائے گی (سخت وقت آپڑے گا) اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی اور یہ سجدے کے لیے اس وقت بھی بلائے جاتے تھے جب وہ صحیح سالم تھے۔ )
قیامت کے روز مشرکین کی رسوائی
آج مشرکینِ مکہ بالخصوص اشرافِ قریش بتوں کے سامنے جھکتے اور مختلف قوتوں کے سامنے جنھیں ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کا شریک بنا رکھا ہے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔ لیکن جب صرف اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کے لیے آنحضرت ﷺ دعوت دیتے ہیں تو یہ اکڑ جاتے اور تکبر کا اظہار کرتے ہیں اور زعم ان کا یہ ہے کہ ہم یہاں دنیا میں جس طرح معزز اور دولت و ثروت کے مالک ہیں یہی عزت اور یہی ثروت ہمیں قیامت کے دن بھی حاصل ہوگی کیونکہ ہماری خوشحالی اس بات کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خوش ہے اور ہم اس کے پسندیدہ لوگ ہیں۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ اپنے پسندیدہ لوگوں کو قیامت کے دن ذلیل کرے۔ چناچہ ان کی ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ ان لوگوں کو اندازہ نہیں کہ قیامت کا دن کیسا ہولناک دن ہوگا۔ اس میں عزت اور سربلندی ان لوگوں کو ملے گی جو دنیا میں اس کی بندگی کرتے اور اس کے دین کی سربلندی کے لیے لڑتے رہے۔ اور جن لوگوں نے دنیا میں اس کے سامنے جھکنے سے انکار کیا اور اللہ تعالیٰ کے دین کے معاملے میں تکبر کا رویہ اختیار کیا ان کو سب کے سامنے رسوا کرنے کے لیے حکم دیا جائے گا کہ سب لوگ اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوں۔ چناچہ جو لوگ دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سربسجود ہوتے تھے وہ تو نہایت نیازمندی سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھک جائیں گے اور یہ جھکنا اس بات کی علامت ہوگی کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ کے مقبول لوگ ہیں، لیکن یہ لوگ جو آج اپنے بارے میں کیسی کیسی غلط فہمیوں میں مبتلا ہیں اس روز اللہ تعالیٰ کے حکم کے مطابق اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ کرنا چاہیں گے لیکن ان کی کمریں جھکنے سے انکار کردیں گی اور اکڑ کر تختہ ہوجائیں گی۔ اس صورتحال کی وجہ سے شرمندگی اور ندامت سے ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی اور ان کے چہروں پر ذلت چھا چکی ہوگی اور پکارنے والا پکارے گا کہ تمہاری یہ ذلت کا سامان اس لیے ہوا ہے کہ جب تمہیں دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہونے کے لیے بلایا جاتا تھا اور تم سجدہ کے لیے بالکل صحیح سالم تھے تو تم سجدہ کرنے سے انکار کرتے تھے۔ آج سب لوگ تمہاری اس رسوائی کو دیکھ رہے ہیں کہ آج جبکہ کائنات کی ہر چیز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکی ہوئی بخشش کی طالب ہے لیکن تم ایسے بدنصیب ہو کہ اس کے سامنے جھکنے سے بھی محروم کردیئے گئے ہو۔
کشفِ ساق کا مفہوم
یَوْمَ یُکْشَفُ عَنْ سَاقٍ ” بعض قدیم مفسرین نے اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے کہ جس دن ساق کی تجلی فرمائی جائے گی اور سجدہ کی طرف لوگوں کو بلایا جائے گا اور ان کا استدلال شیخین کی حدیث سے ہے جس میں ذکر کیا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے میدان میں اپنی ساق ظاہر فرمائے گا۔ ساق، پنڈلی کو کہتے ہیں۔ یہ کوئی خاص صفت ہے جس کو کسی مناسبت سے ساق فرمایا گیا ہے لیکن ایسے مفہومات متشابہات کہلاتے ہیں جس کی توجیہ انسانی علم سے ماورا ہے۔ لیکن متعدد آئمہ تفسیر سے ایک اور تفسیر منقول ہے جو موقع کلام سے گہری مناسبت رکھتی ہے۔ ان آئمہ تفسیر میں حضرت عکرمہ ( رض) بھی شامل ہیں، وہ ابن عباس ( رض) سے روایت کرتے ہیں ھویوم القیمۃ یوم کرب وشدۃ ” یعنی وہ قیامت کا دن ہے جو انتہائی تکلیف اور شدت کا دن ہے۔ “ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت بھی یہی کہتی ہے کہ یہ الفاظ محاورے کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ عربی محاورے کے مطابق ” سخت وقت آپڑنے کو کشف ساق سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ “ شعرائے جاہلیت کے کلام سے بھی ہمیں اس کی تائید ملتی ہے۔ میں صرف ایک مثال پر اکتفا کرتا ہوں۔
اخوالحرب ان عَضَّتْ بہ الحرب عَضَّھا
وان شَمَّرت عن ساقھا الحرب شَمَّرا
ممدوح جنگ کا مرد میدان ہے، اگر جنگ اس پر حملہ آور ہوتی ہے تو وہ بھی اس سے نبردآزما ہوتا ہے، اور اگر گھمسان کا رن پڑتا ہے تو وہ اس میں بےخطر کود پڑتا ہے اس شعر میں گھمان کے رن کے لیے شمرت عن ساقھا الحرب کا محاورہ استعمال کیا گیا ہے۔
کشفِ ساق کا تیسرا مفہوم جو حضرت ابن عباس ( رض) اور ربیع بن انس ( رض) سے نقل کیا جاتا ہے، اس میں کشف ساق سے مراد حقائق پر سے پردہ اٹھانا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قیامت کا دن، ایسا دن ہوگا جس روز تمام حقیقتیں بےنقاب ہوجائیں گی اور لوگوں کے اعمال ان کی نیتوں سمیت کھل کر سامنے آجائیں گے۔ وہ لوگ جنھوں نے اپنی برائیوں پر نیکیوں کا پردہ ڈال رکھا تھا ان کی ایک ایک بات ظاہر ہوجائے گی۔ چناچہ اسی کشف حقائق کے ضمن میں وہ لوگ جو اپنے تئیں بہت معزز سمجھتے تھے اور اسی حوالے سے قیامت میں بھی عزت ملنے کی امید رکھتے تھے، ان کی بھی اصل حقیقت کو ظاہر کرنے کے لیے انھیں سجدے کا حکم دیا جائے گا اور پھر ان کی محرومی کا منظر دنیا دیکھے گی۔
Ayahs 68:44–45فَذَرْنِیْ وَمَنْ یُّـکَذِّبُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ ط سَنَسْتَدْرِجُھُمْ مِّنْ حَیْثُ لاَ یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاُمْلِیْ لَھُمْ ط اِنَّ کَیْدِیْ مَتِیْنٌ۔ (القلم : 44، 45)
(پس اے نبی ! اس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیجیے، ہم ان کو آہستہ آہستہ لارہے ہیں، وہاں سے جہاں سے وہ نہیں جانتے۔ میں ان کی رسی دراز کر رہا ہوں بیشک میری تدبیر نہایت محکم ہوتی ہے۔ )
منکرین کو دھمکی اور استدراج کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں آنحضرت ﷺ اور قرآن کریم کے جھٹلانے والوں کو دھمکی بھی ہے اور آنحضرت ﷺ کو تسلی بھی۔ گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ جب انھیں ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو کہتے ہیں کہ یہ اگلوں کے افسانے ہیں، یعنی قصے کہانیاں ہیں، ان کی کیا اہمیت ہے۔ اور اس طرح وہ اللہ تعالیٰ کی کتاب کو مذاق میں اڑا دیتے تھے۔ ان کے اس رویئے اور اللہ تعالیٰ کی کتاب پر پھبتیوں کی وجہ سے یقینا آنحضرت ﷺ کو بےحد تکلیف پہنچتی تھی، لیکن وہ لوگ چونکہ طاقتور تھے، اسلام نے ابھی قوت نہیں پکڑی تھی، دعوت کا عمل دھیرے دھیرے آگے بڑھ رہا تھا، اس لیے انھیں اس طرز عمل سے روکا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ ایسی بےبسی میں قلبی اذیت میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی قوت کی طرف اور آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں کی بےبسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان بدتمیزوں کا معاملہ درحقیقت آپ کے ساتھ نہیں ہمارے ساتھ ہے۔ ان سے آپ کو نہیں، ہمیں نمٹنا ہے۔ ان کی قوت آپ کے لیے تکلیف دہ ہوسکتی ہے، ہمارے لیے نہیں۔ اس لیے آپ ہر طرح سے دل میں اطمینان رکھئے یہ لوگ آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکیں گے اور خود اپنے برے انجام سے بچ نہیں سکیں گے۔ رہی یہ بات کہ بظاہر حالات ان کا کچھ بگاڑا نہیں جاسکتا، لیکن وہ مسلمانوں کو ہر طرح اذیت دینے پر قادر ہیں۔ اس کے بارے میں فرمایا کہ یہ لوگ ہمارے استدراج کی گرفت میں ہیں۔ استدراج، بیخبر ی میں کسی کو تباہی کی طرف لے جانے کو کہتے ہیں۔ یعنی کوئی شخص آہستہ آہستہ اپنی تباہی کی طرف بڑھ رہا ہو، لیکن سمجھ یہ رہا ہو کہ میں اپنی کامیابی کا راستہ طے کررہا ہوں۔ چناچہ دوسری آیت میں اس استدراج سے ہلکا سا پردہ اٹھایا گیا ہے کہ اشرافِ قریش جس قدر اسلام اور مسلمانوں کیخلاف سازشیں کرتے اور طاقت استعمال کررہے ہیں، ہم ویسے ویسے ان کو ڈھیل دیتے جارہے ہیں۔ وہ اس ڈھیل کو اپنی کامیابی کی علامت سمجھتے ہیں حالانکہ ہم ان کی رسی دراز کر رہے ہیں۔ لیکن اس رسی دراز کرنے میں یہ اندیشہ ہرگز نہیں کہ وہ ہماری گرفت سے نکل جائیں گے کیونکہ ہماری تدبیر نہایت محکم ہے، اس سے کوئی بچ نکلنے پر قادر نہیں۔ استدراج کی مختلف صورتیں ہمیں قرآن کریم میں نظر آتی ہیں۔ ان میں سے ایک صورت یہ ہے کہ ایک دشمن حق اور ظالم کو بجائے سزا دینے کے، نعمتوں سے نوازا جاتا ہے۔ صحت، مال، اولاد اور دنیوی کامیابیاں دی جاتی ہیں۔ جن سے دھوکہ کھا کر وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ جو کچھ کررہا ہے ٹھیک کررہا ہے اور اس غلط فہمی میں وہ حق دشمنی اور ظلم و طغیان میں غرق ہوتا چلا جاتا ہے۔ لیکن یہی ڈھیل اس کے لیے ہلاکت کا سامان بن جاتی ہے۔ جس طرح مچھلی کے شکار کے لیے کانٹے میں گوشت کا ٹکڑا لگا کر شکاری دریا میں پھینکتا ہے، مچھلی اسے اپنی خوراک سمجھ کر آگے بڑھ کر اسے کھانے کی کوشش کرتی ہے اور شکاری ڈور کو ڈھیلا چھوڑ دیتا ہے، وہ خوش ہوتی ہے کہ میری دعوت کا انتظام کیا گیا ہے اور شکاری انتظار میں ہے کہ کانٹا اس کے حلق میں اتر جائے تو پھر میں رسی کھینچوں۔ اسی کو استدراج کہتے ہیں۔ شاعر نے ٹھیک منظرکشی کی :
مچھلی نے ڈھیل پائی ہے، لقمے پہ شاد ہے
صیاد مطمئن ہے کہ کانٹا نگل گئی
Ayah 68:46اَمْ تَسْئَلُھُمْ اَجْرًا فَھُمْ مِّنْ مَّغْرَمٍ مُّثْـقَلُوْنَ ۔ (القلم : 46)
(کیا آپ ان سے کوئی معاوضہ طلب کررہے ہیں کہ وہ اس چٹّی کے بوجھ تلے دبے جارہے ہیں۔ )
مخالفین کی بےحسی پر اظہارِتعجب
جس شخص کے دل میں احساس کی کوئی رمق بھی باقی ہو وہ جب یہ دیکھتا ہے کہ کوئی شخص نہایت غمگساری اور ہمدردی کے ساتھ مجھے خاص بات کی طرف دعوت دے رہا ہے اور میری زندگی کے چلن پر وہ نہایت محکم اور معقول تنقید کررہا ہے جس کا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔ اور وہ شب و روز اس کام میں مصروف ہے اور اس کا مجھ سے یا دوسرے لوگوں سے کسی معاوضے کا طلبگار نہیں تو وہ کبھی نہ کبھی ضرور سوچتا ہے کہ آخر اس شخص کی جان ماری و سخت کوشی اور ہمدردی اور غمگساری کی کوئی حقیقت تو ہوگی۔ جب وہ مجھ سے کچھ نہیں چاہتا اور خون جگر پی پی کر میری اصلاح کی فکر میں ہے تو مجھے کبھی تو اس کی بات پر غور کرنا چاہیے۔ لیکن قریش پر اس رویئے کا کوئی اثر نہیں ہورہا اور وہ سوچنے کی زحمت اٹھانے کے لیے بھی تیار نہیں تھے۔ قرآن کریم اظہارِ تعجب کرتے ہوئے کہتا ہے کہ تم آخر کس مٹی کے بنے ہوئے ہو۔ کسی جانور سے بھی اتنی ہمدردی کی جائے تو وہ بھی مانوس ہونے لگتا ہے۔ لیکن تمہارے اندر کسی بات کا کوئی اثر نہیں۔ ہمارے پیغمبر کی بےغرضی بھی تمہیں اپنی طرف متوجہ نہیں کرسکی تو اس پر تعجب اور دکھ کا اظہار ہی کیا جاسکتا ہے۔ یہ یاد رہے کہ آیت میں خطاب اگرچہ آنحضرت ﷺ سے ہے، لیکن روئے سخن مخالفین کی طرف ہے۔
Ayah 68:47اَمْ عِنْدَھُمُ الْغَیْبُ فَھُمْ یَکْتُبُوْنَ ۔ (القلم : 47)
(کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے، پس وہ اس کو لکھ رہے ہیں۔ )
گزشتہ مضمون کا تسلسل
اس آیت میں بھی خطاب آنحضرت ﷺ سے ہے لیکن اصل مخاطب مخالفین ہی ہیں۔ ان کی بےپروائی اور بےنیازی پر اظہارِ تعجب کرتے ہوئے فرمایا جارہا ہے کہ کیا ان کے پاس علم غیب ہے جس کو وہ لکھ رہے ہیں کہ قیامت میں اعلیٰ مدارج انھیں کے لیے ہیں اور نبی کریم ﷺ جو کچھ فرما رہے ہیں، ان کے اس علم کے مطابق بالکل غلط ہے۔ نہ وہ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں اور نہ وہ حقائق صحیح ہیں جنھیں وہ بیان کررہے ہیں۔ اور اگر ان کے پاس علم غیب نہیں (اور فی الواقع نہیں) تو پھر زندگی کے حقائق سے آنکھیں بند کرلینا بلکہ نہایت ڈھٹائی سے آنحضرت ﷺ کی دعوت کو رد کردینا اپنے لیے ابدی ہلاکت کا سامان کرنے کے سوا اور کیا ہے۔ سورة النجم میں یہی بات جس طرح ارشاد فرمائی گئی ہے اس سے پورا مفہوم واضح ہوجاتا ہے۔
اَعِنْدَہٗ عِلْمُ الْغَیْبِ فَھُوَ یَرٰی 5 اَمْ لَمْ یُنَـبَّـاْ بِمَا فِیْ صُحُفِ مُوْسٰی 5 لا وَاِبْرٰھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰیٓ 5 لا اَلاَّ تَزِرُ وَازِرَۃٌ وِّزْرَ اُخْرٰی 5 لا
ٍ ( علیہ السلام) کیا اس کے پاس علم غیب ہے پس وہ دیکھ رہا ہے (آخرت میں اپنے مدارج کو) ؟ کیا موسیٰ کے صحیفوں میں جو بات بتائی گئی ہے اس کی خبر اس کو نہیں ملی ؟ اور اس ابراہیم کی تعلیمات میں بھی جس نے اپنے رب کے ہر حکم کو پورا کیا ؟ کہ کوئی جان بھی کسی بھی دوسری جان کا بوجھ اٹھانے والی نہیں بنے گی۔
Ayah 68:48فَاصْبِرْ لِحُکْمِ رَبِّکَ وَلاَ تَـکُنْ کَصَاحِبِ الْحُوْتِ م اِذْنَادٰی وَھُوَ مَکْظُوْمٌ۔ (القلم : 48)
(پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کیجیے اور مچھلی والے کی طرح نہ ہوجائیے جب انھوں نے اپنے رب کو پکارا اور وہ غم سے گھٹے ہوئے تھے۔ )
آنحضرت ﷺ کو دعوت پر جمے رہنے کی تلقین
مشرکینِ مکہ کی روز بروز بڑھتی ہوئی اذیت رسانیوں سے یقینا مسلمان متأثر ہوتے تھے اور بعض دفعہ جب تکلیفیں ناقابلِ برداشت ہونے لگتیں تو آنحضرت ﷺ سے التجا کرتے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ وہ ان پر عذاب نازل کرے۔ ممکن ہے کبھی نبی کریم ﷺ کے قلب مبارک میں بھی یہ خیال پیدا ہوتا ہے تو اس پر آنحضرت ﷺ کو ضبط، برداشت اور استقامت کی نصیحت فرمائی جارہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے دین کی دعوت کے سلسلے میں جو کچھ آپ ﷺ کے ساتھ پیش آرہا ہے، یہ اس راہ کی لازمی سنتیں ہیں، قوموں نے ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے رسولوں کے ساتھ ایسا ہی رویہ اختیار کیا ہے۔ اور آپ ﷺ کے پیش نظر تو سب رسولوں سے زیادہ کٹھن ذمہ داری ہے کیونکہ آپ ﷺ کے بعد کوئی رسول نہیں آئے گا جو آپ ﷺ کے چھوڑے ہوئے کام کو مکمل کرسکے تو اس لیے آپ ﷺ میں کسی طرح کی بھی جلد بازی پیدا نہیں ہونی چاہیے۔ اس راستے کے آخری چراغ آپ ﷺ ہیں، اس لیے آپ ﷺ کو ہر صورت جلنا ہے اور روشنی دینی ہے۔ رہی یہ بات کہ ان لوگوں پر عذاب کیوں نہیں آرہا، تو اس کی حکمت کو ہم جانتے ہیں۔ انھیں کب تک مہلت دینی ہے اور کب تک ان کی آزمائش جاری رہنی چاہیے، یہ سب باتیں ہماری حکمت سے متعلق ہیں۔ ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ آپ ﷺ کی دعوت کے حتمی نتائج ظاہر ہونے لگیں اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے اسلام کی فتح و نصرت اور مخالفین کی شکست کا فیصلہ ہوجائے۔ اس لیے ابھی آپ ﷺ کو ان مصائب پر صبر کرنا ہے۔ آپ ﷺ حضرت یونس (علیہ السلام) کی طرح نہ کریں کہ انھوں نے لوگوں کے مطالبے سے تنگ آکر عذاب کی دعا کردی اور ان کی طرف سے دعوت کی ناقدری کو دیکھتے ہوئے مرکزِ دعوت کو چھوڑ کر اللہ تعالیٰ کے اذن کا انتظار کیے بغیر چلے گئے۔ اور اسی کے نتیجے میں ان کو وہ آزمائش پیش آئی جس کا ذکر سورة یونس اور سورة الانبیاء میں گزر چکا ہے۔ حضرت یونس (علیہ السلام) کو صاحب الحوت (مچھلی والا) نہایت پیار سے فرمایا گیا ہے اور اس لیے بھی کہ آپ ( علیہ السلام) کو مچھلی نے نگل لیا تھا اور آپ ( علیہ السلام) اس امتحان میں مبتلا کردیئے گئے تھے۔ تب آپ ( علیہ السلام) کو اندازہ ہوا کہ میں نے اپنے مقام دعوت کو چھوڑ کر جلد بازی سے کام لیا ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کے اذن کا انتظار کرنا چاہیے تھا۔ چناچہ نہایت شدید قسم کے غم سے گھٹے ہوئے انھوں نے مچھلی کے پیٹ کے اندر سے اپنے رب سے فریاد کی اور وہ زندہ جاوید الفاظ ان کی زبان سے نکلے جو آیت کریمہ کے نام سے معروف ہیں۔
Ayah 68:49لَوْلَآ اَنْ تَدٰرَکَـہٗ نِعْمَۃٌ مِّنْ رَّبِّہٖ لَـنُبِذَ بِالْعَرَآئِ وَھُوَ مَذْمُوْمٌ۔ (القلم : 49)
(اگر ان کے رب کی مہربانی ان کے شامل حال نہ ہوتی تو وہ مذمت کیے ہوئے چٹیل میدان ہی میں پڑے رہتے۔ )
نعمت سے مراد اللہ تعالیٰ کا وہ فضل اور اس کی مہربانی ہے جو حضرت یونس (علیہ السلام) کو نصیب ہوئی کہ جب انھوں نے مچھلی کے پیٹ میں اللہ تعالیٰ کو پکارا، اپنی فروگزاشت کا اعتراف کیا اور اس پر اللہ تعالیٰ سے استغفار کیا، تو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف ان کی توبہ قبول فرمائی بلکہ فریضہ رسالت پر ازسرنو مامور فرمایا۔ اس آیت کریمہ میں فرمایا گیا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل و احسان نہ ہوتا تو جس طرح ریت پر مچھلی نے ان کو ڈالا تھا اسی پر نہایت مذموم حالت میں پڑے رہ جاتے اور کوئی ان کا پرسانِ حال نہ ہوتا، لیکن اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے غیرمعمولی حالات پیدا فرمائے۔ جب وہ مچھلی کے پیٹ سے باہر پھینکے گئے تو سانس کی آمدورفت کے سوا ان کے اندر کوئی طاقت نہ تھی۔ دھوپ سے بچنے کی ان میں سکت نہ تھی۔ کس طرح ان پر سایہ کیا گیا، کس طرح ان کی خوراک کا انتظام کیا گیا، کس طرح خاص پودے کا رس ان کے منہ میں نچوڑا گیا اور غیرمعمولی طریقے سے ان کو چند دنوں میں صحت دے دی گئی۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عنایات تھیں جو محض اس کے فضل سے ان کو حاصل ہوئیں۔
Ayah 68:50فَاجْتَبٰـہُ رَبُّـہٗ فَجَعَلَہٗ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ ۔ (القلم : 50)
(پس ان کے رب نے ان کو برگزیدہ کیا اور صالح بندوں میں شامل کرلیا۔ )
حضرت یونس (علیہ السلام) کے مقام کی وضاحت
حضرت یونس (علیہ السلام) اور ان کے مقام و مرتبہ کے بارے میں ہر طرح کی غلط فہمی کو دور کرتے ہوئے فرمایا کہ اگرچہ شدت تأثر سے مغلوب ہو کر آپ ( علیہ السلام) سے ایک فروگزاشت ہوگئی، لیکن فوراً ہی توبہ سے انھوں نے اس کی اصلاح کرلی۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے نہ صرف توبہ قبول فرمائی بلکہ انھیں برگزیدہ فرمایا اور اس مقام و مرتبہ پر فائز کردیا جو انبیائے کرام میں صالحین کا مقام ہے۔ صالح کا لفظ قرآن کریم نے عام نیک بندوں کے لیے بھی استعمال کیا ہے اور ان انبیائے کرام کے لیے بھی جنھیں اللہ تعالیٰ نے خصوصی مراتب سے نوازا ہے۔
Ayahs 68:51–52وَاِنْ یَّکَادُالَّذِیْنَ کَفَرُوْا لَـیُزْلِقُوْنَـکَ بِاَبْصَارِھِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّکْرَ وَیَقُوْلُوْنَ اِنَّـہٗ لَمَجْنُوْنٌ۔ وَمَا ھُوَ اِلاَّ ذِکْرٌ لِّلْعٰلَمِیْنَ ۔ (القلم : 51، 52)
(اور جب کافر لوگ کلام نصیحت ( قرآن کریم) سنتے ہیں تو اس طرح آپ کو دیکھتے ہیں گویا اپنی نگاہوں کے زور سے آپ کے قدم اکھاڑ دیں گے اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے۔ حالانکہ یہ تو سارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے۔ )
لَیـُزْلِقُوْنَکَ … ازلاق سے مشتق ہے جس کے معنی لغزش دینے اور گرا دینے کے ہیں۔ (راغب)
کفار کی طرف سے نفسیاتی حربہ
یہ ایسے ہی ہے جیسے ہم اردو میں کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے اسے ایسی نظروں سے دیکھا جیسے اس کو کھاجائے گا۔ مطلب یہ ہے کہ اشرافِ قریش جن طریقوں سے نبی کریم ﷺ کی دعوت و تبلیغ کو روکنے کی کوشش کررہے تھے ان میں بعض طریقوں کا تعلق نفسیاتی دبائو سے بھی تھا۔ یہ بھی نفسیاتی دبائو کا ایک ذریعہ تھا کہ جب نبی کریم ﷺ ان کے سامنے قرآن کریم پڑھتے، ظاہر ہے کہ اسلامی دعوت کا اصل منبع اور سرمایہ یہی تھا اور آنحضرت ﷺ جب بھی کسی کو دعوت دیتے تھے، قرآن کریم ہی کا کوئی حصہ پڑھ کر سناتے تھے اور بعض دفعہ قریش کے اجتماع میں بھی آپ ﷺ نے قرآن کریم پڑھ کر سنایا اور اس طرح انھیں اسلام کی دعوت دی۔ ایسے موقعوں پر قریش کے متمردین اور سرکش لوگ آپ ﷺ کے رودررو کھڑے ہو کر تیز نگاہوں سے آپ ﷺ کو گھورتے۔ یہ دراصل اس بات کی طرف اشارہ ہوتا کہ ہمیں جب بھی موقع ملا، ہم تمہیں زندہ نہیں چھوڑیں گے۔ اور جب آنحضرت ﷺ ان کی ان دھمکیوں اور وحشیانہ حرکتوں کا نوٹس لیے بغیر اپنی دعوت کو جاری رکھتے تو وہ زچ ہو کر یہ کہتے کہ یہ شخص یقینا کوئی دیوانہ ہے۔ ورنہ کوئی عقلمند آدمی اس طرح خطرات سے بےنیاز نہیں ہوتا۔ چناچہ پروردگار نے آنحضرت ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا کہ آپ ﷺ کو دیوانہ کہنے والے خود دیوانہ ہیں۔ یہ قرآن کریم کسی دیوانے کی بڑ نہیں بلکہ سارے جہاں والوں کے لیے نصیحت ہے۔ اور پیچھے یہ بات گزر چکی ہے کہ اس شان اور مرتبے کی کتاب جس کی مثال جن و اِنس مل کر بھی لانے پر قادر نہیں، کیا کسی دیوانے کی بڑ ہوسکتی ہے ؟ انگریزوں میں کوئی شیکسپیئر کا کلام پڑھ کر اور اردو خاں طبقے میں کوئی کلام اقبال دیکھ کر شیکسپیئر یا اقبال کو دیوانہ کہے حالانکہ ان کے کلام کی نظیر لانا ممکن ہے کیونکہ وہ انسانی کلام ہے، تو دنیا کا کوئی شخص دیوانہ کہنے والے کی تائید تو کیا کرے گا البتہ اس کی دماغی صحت کے بارے میں تشویش کا اظہار ضرور کرے گا۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں ایسی یا وہ گوئی کرنے والے کے بارے میں تو اس سے بھی سخت الفاظ کہے جانے چاہئیں۔