Ayah 70:34وَالَّذِیْنَ ھُمْ عَلٰی صَلاَ تِھِمْ یُحَافِظُوْنَ ۔ (المعارج : 34)
( اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں۔ )
آٹھویں صفت نماز کی محافظت
اس آیت کریمہ میں اہل ایمان کی ایک اور صفت کو بیان کیا گیا ہے۔ وہ یہ ہے کہ وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔ ان صفات کا ذکر نماز ہی سے شروع ہوا تھا اور نماز ہی پر ختم کیا جارہا ہے۔ البتہ ! فرق یہ ہے کہ پہلے نماز کی روح یعنی نماز کے اندر خشوع کا ذکر کیا گیا تھا اور اب نماز کی محافظت یعنی اس کی دیکھ بھال اور اس کے اہتمام کا ذکر کیا جارہا ہے۔ یہاں نماز کو اگرچہ واحد لایا گیا ہے لیکن اس سے جنس صلوٰۃ مراد ہے جس کا اطلاق واحد جمع دونوں پر ہوتا ہے۔ نماز جہاں بھی ہو اور جب بھی ہو اگر اس میں خشوع نہیں تو وہ روح سے خالی نماز ہے۔ جس سے نماز کی صورت تو وجود میں آسکتی ہے نماز کی حقیقت نہیں اور صرف کسی چیز کی صورت حقیقت کے بغیر دیر تک باقی نہیں رہا کرتی۔ اور یہ صورت سے حقیقت کا سفر تب ممکن ہوتا ہے جب صورت اور سیرت دونوں کی محافظت کی جائے کیونکہ یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے لازم وملزوم ہیں۔ جیسے جیسے صورت بہتر ہوتی جاتی ہے ویسے ویسے حقیقت کی طرف دھیان بڑھتا جاتا ہے اور جیسے جیسے حقیقت کی طرف دھیان بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے صورت کے اہتمام میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ اس لیے اصل اہتمام اور توجہ سب سے پہلے صورت پر ہوتی ہے جس کے اندر سے حقیقت وجود میں آتی ہے۔ اس لیے اہل ایمان کی یہ صفت بیان کی گئی کہ وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں یعنی اس کے ایک ایک پہلو کی نگہداشت کرتے ہیں۔ وہ اوقاتِ نماز، آدابِ نماز، اور ارکان و اجزائِ نماز، غرض نماز سے تعلق رکھنے والی ہر چیز کی پوری طرح نگہداشت کرتے ہیں۔ نماز کی تیاری کے لیے صاف کپڑوں کا اہتمام کرتے ہیں۔ جسم کی پاکیزگی کا خیال کرتے ہیں۔ وضو، سنن اور مستحبات اور آداب کے اہتمام کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ نماز کبھی وقت ٹال کر نہیں پڑھتے۔ جب تک ایک رکن کی ادائیگی نہیں ہوجاتی دوسرے رکن کی طرف انتقال نہیں کرتے۔ یعنی تعدیلِ ارکان کا اہتمام رکھتے ہیں۔ نماز میں جو کچھ پڑھتے ہیں اس کے ایک ایک لفظ پر غور کرتے ہیں۔ اس کے معنی اور مفہوم پر توجہ دیتے اور اپنے دل میں اسے اتارنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حتی الامکان نماز جماعت کے ساتھ ادا کرتے ہیں۔ وقت سے پہلے مسجد میں پہنچتے ہیں اور نہایت اطمینان سے نماز ادا کرنے کے بعد مسجد سے نکلتے ہیں۔ دل ان کا مسجد میں اٹکا رہتا ہے۔ جب تک نماز میں رہتے ہیں یقین رکھتے ہیں کہ وہ اللہ کے سامنے ہیں۔ ان کے دل پگھلتے اور آنکھوں سے آنسو برستے ہیں۔ اس طرح سے خشوع کی طرف ان کا سفر جاری رہتا ہے اور یہ سب کچھ وہ اس لیے کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں کہ نماز باغ جنت کا پودا ہے اس کی طرف سے ذرا سی غفلت اور ناقدری اس کے بےثمر ہونے کا باعث بن سکتی ہے۔ اگر اسے پورے اہتمام سے قائم رکھا گیا تو دین کا ایک ایک ستون باقی رہے گا اور اگر اس کی طرف سے لاپرواہی برتی گئی تو دین کی عمارت کو کسی وقت بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔ آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے :
اَلصَّلٰوۃُ عِمَادُ الدِّیْنِ مَنْ اَقَامَھَا فَقَدْ اَقَامَ الدِّیْنِ وَمَنْ ھََدَمَھَا فَقَدْ ھَدَ مَ الدِّیْنِ ۔
” نماز دین کا ستون ہے جس نے اسے قائم رکھا اس نے دین کو قائم رکھا اور جس نے اسے گرا دیا اس نے دین کو ڈھا دیا “۔
Ayah 70:35اُوْلٰٓئِکَ فِیْ جَنّٰتٍ مُّکْرَمُوْنَ ۔ (المعارج : 35)
(یہی لوگ جنتوں میں عزت کے ساتھ رہنے والے ہوں گے۔ )
مذکورہ اوصاف کے حاملین کا انعام
یہ لوگ جو مذکورہ اوصاف کے حامل ہوں گے، اس قابل ہیں کہ انھیں جنتوں میں نہایت عزت و احترام سے رکھا جائے۔ اس سے مراد وہ تمام لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ پر ایمان لاچکے تھے اور ان میں سے ہر ایک ان ہی صفات کا پیکر تھا۔ البتہ ان میں سے ہر ایک غربت کی تصویر بھی تھا۔ کیونکہ اولاً تو نبوت کی روایت کے مطابق ہر نبی پر وہ لوگ ایمان لانے میں پہل کرتے ہیں جو اس دور کے ستائے ہوئے اور مفلوک الحال لوگ ہوتے ہیں۔ انھیں جب معاشرے کے مظالم سے نکلنے کا ایک راستہ نظر آتا ہے اور اپنی محرومیوں کی تلافی کی ایک صورت نظر آتی ہے، تو وہ آگے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کا دین قبول کرلیتے ہیں۔ چناچہ یہی حال صحابہ کرام ( رض) کا بھی تھا۔ ان میں بڑی تعداد ایسے ہی غریب لوگوں کی تھی۔ ثانیاً وہ لوگ جو ایمان لانے سے پہلے خوشحال اور بڑے کاروباری لوگ تھے۔ اسلام قبول کرنے سے نہ ان کی تجارت باقی رہی اور نہ پہلی سی خوشحالی۔ جو کچھ پاس تھا وہ غلاموں کو آزاد کرانے اور غریبوں کی مدد کرنے پر خرچ ہوگیا۔ اور اہل شہر کی بہیمانہ مخالفت سے ہر طرح کا کاروبار تباہ ہو کر رہ گیا، تو وہ بھی غریب ہو کر رہ گئے۔ چناچہ قریش جب ان لوگوں کو دیکھتے تو مذاق اڑاتے، کہ یہ لوگ اپنے آپ کو جنت کا وارث اور خلافتِ ارضی کا مستحق سمجھتے ہیں۔ اور حال یہ ہے کہ نہ پیٹ بھرنے کو نان جویں میسر ہیں اور نہ تن پوشی کا مناسب لباس۔ جوتیاں چٹخاتے پھرتے ہیں، لیکن دعوے بہت بلند ہیں۔ ان کے مقابلے میں ہم لوگ دنیا میں بھی آسودہ حال اور مدارجِ عالیہ پر فائز ہیں۔ یقینا قیامت میں بھی ہمیں ایسے ہی انعامات سے نوازا جائے گا اور جنت کے وارث بھی ہم ہی ٹھہریں گے۔ ان پر تعریض کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ جنت کوئی وراثت میں ملنے والی چیز نہیں، یہ تو اللہ تعالیٰ کی رضا اور ہر صاحب ایمان کے کردار و اعمال کا نتیجہ ہے۔ جو لوگ یہ کردار اپنائیں گے انھیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے جنت ملے گی، خواہ وہ امیر ہو یا غریب۔ اور جو اس کردار سے محروم رہیں گے وہ جنت کی کبھی بو بھی نہ سونگھ سکیں گے۔ قیامت میں سب کو ایک سوال کا سامنا کرنا پڑے گا اور اسی کے مناسب جواب پر جنت اور جہنم کا دارومدار ہوگا۔ وہ سوال یہ ہے کہ :
یہ گھڑی محشر کی ہے، تو عرصہ محشر میں ہے
پیش کر غافل عمل، کوئی اگر دفتر میں ہے
Ayahs 70:36–37فَمَالِ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا قِبَلَکَ مُھْطِعِیْنَ ۔ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ عِزِیْنَ ۔ (المعارج : 36، 37)
(تو ان کافروں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ آپ کی طرف دوڑے چلے آرہے ہیں۔ دہنے اور بائیں سے گروہ در گروہ۔ )
مشکل الفاظ :۔ مُھْطِعِیْنَ … ا ہطاع مصدر ہے، اس کے معنی ہیں کسی طرف تیزی سے بڑھنا اور لپکنا۔
عِزِیْنَ … عِزَۃٌ کی جمع ہے، اس کے معنی گروہ کے ہیں۔
قرآن کی دعوت اور تلاوت کے وقت کفار کا طرزعمل
نبی کریم ﷺ جب لوگوں کے سامنے قرآن کی دعوت پیش کرتے اور پیغمبرانہ لب و لہجہ میں قرآن پاک کی تلاوت کرتے تو چونکہ اس کلام کی تاثیر اور تسخیر بےپناہ تھی تو قریش کے وہ لوگ جو اس دعوت کو روکنے میں زیادہ حساس اور فعال تھے وہ آنحضرت ﷺ کی طرف دوڑ پڑتے اور اس طرح ہجوم کرتے گویا آپ ﷺ پر حملہ کردیں گے۔ مقصود ان کا یہ ہوتا کہ آپ ﷺ قرآن کریم سنانا بند کردیں۔ تاکہ لوگ قرآن پاک کے اثر سے محفوظ رہیں۔ شاید یہ اسی صورتحال کی ترجمانی ہے جس کا ذکر ایک اور جگہ کیا گیا ہے وَقَالَ اللَّذِیْنَ کَفَرُوْا لاَ تَسْمَعُوْا لِھٰذَا الْقُرْاٰنِ وَالْغَوْفِیْہِ لَعَلَّـکُمْ تَغْلِبُوْن ” کافروں نے کہا اس قرآن کو نہ سنو اور اس کی تلاوت کے دوران شور مچائو شاید تم غالب رہو۔ “
دوسرا مطلب اس آیت کا یہ ہوسکتا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب قرآن پاک کی یہ آیات پڑھ کر سناتے جن میں مسلمانوں کو جنت کا مکین اور وارث قرار دیا گیا ہے اور کافروں کو جہنم کے بدترین عذاب کا سزاوار ٹھہرایا گیا ہے تو کافروں کے تن بدن میں آگ لگ جاتی۔ ان کے لیے یہ بات نہایت ناگوار، توہین آمیز اور تکلیف دہ تھی کہ یہ نادار اور مفلوک الحال مسلمان تو جنت میں جائیں اور تمام عزتوں اور عظمتوں کے وارث اور مورث ساداتِ قریش دوزخ کے ایندھن بنیں۔ اس غصہ میں وہ ٹولیاں بنا بنا کر آنحضرت ﷺ کی تردید اور توہین کے لیے دہنے بائیں سے آپ ﷺ کی طرف تیزی سے بڑھتے۔ پیش نظر آیتوں میں اس صورتحال کی تصویرکشی کی گئی ہے اور مغروروں کے مغلوب الغضب ہونے پر اظہارِ تعجب کیا گیا ہے کہ ذرا ان احمقوں کا حال دیکھو کہ انھوں نے اپنے تئیں کچھ باتیں فرض کر رکھی ہیں اور جب ان حماقتوں کے مقابلے میں حقائق کا اظہار کیا جاتا ہے تو ان کے لیے ناقابلِ برداشت ہوجاتا ہے۔ یہ اپنی دولت و ثروت کو یہ سمجھتے ہیں کہ جنت بھی اسی کے زور سے حاصل کی جاسکتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس سے بڑھ کر حماقت کی بات اور کیا ہوسکتی ہے۔
Ayahs 70:38–39اَیَطْمَعُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّدْخَلَ جَنَّـۃَ نَعِیْمٍ ۔ کَلاَّ ط اِنَّا خَلَقْنٰـھُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ ۔ (المعارج : 38، 39)
(کیا ان میں سے ہر ایک یہ توقع رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنت میں داخل کردیا جائے گا۔ ہرگز نہیں، ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اسے یہ خود جانتے ہیں۔ )
کفار کی اس حماقت پر تنقید
کافروں کی اس حماقت اور غلط فہمی کا ذکر قرآن کریم نے کئی جگہ کیا ہے۔ اور اس پر حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ جو کچھ یہ اپنے پاس رکھتے ہیں اس سے دنیا کی چیزیں تو خریدی جاسکتی ہیں لیکن جنت کے لیے تو ایمان و عمل چاہیے اور ایسا کردار چاہیے جس میں اللہ تعالیٰ کی رضا شامل ہو۔ اور ایسی زندگی چاہیے جس کا ہر لمحہ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے احساس سے گراں بار رہا ہو۔ لیکن ان کی حماقت کا کیا کہنا کہ جس پروردگار کی جنت میں جانے کا دعویٰ ہے اس کے رسول، اس کی نازل کردہ کتاب اور اس کے احکام ماننے سے انکار ہے۔ اور اس زندگی سے کوئی سروکار نہیں جو اسلام پیدا کرنا چاہتا ہے تو پھر ان کا جنت سے کیا تعلق۔ یہی بات سورة القلم میں بھی ایسے ہی لوگوں کی تردید میں فرمائی گئی۔ اَفَنَجْعَلُ الْمُسْلِمِیْنَ کَالْمُجْرِمِیْنَ ۔ مَالَـکُمْ کَیْفَ تَحْکُمُوْنَ ۔ ” کیا ہم فرمانبرداروں کو مجرموں کی طرح بنادیں گے، تمہیں کیا ہوگیا ہے تم کیسے فیصلے کرتے ہو۔ “ یعنی جو مقام مسلمانوں کا ہے اگر وہی مجرموں کو بھی دے دیا جائے تو پھر مجرم اور مسلم میں کیا فرق رہ جائے گا۔ یعنی چور اور سعد برابر ہوجائیں گے، اچھائی اور برائی کی تمیز مٹ جائے گی۔
کفار کی نوعی حقیقت سے استدلال
کَلاَّ ططاِنَّا خَلَقْنٰـھُمْ مِّمَّا یَعْلَمُوْنَ ” ہرگز نہیں، ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اسے یہ خود جانتے ہیں۔ “ سابقہ آیت کے مضمون کو مزید سہل بناتے ہوئے فرمایا کہ ان متکبرین کو یہ بات سمجھنے میں دشواری نہیں ہونی چاہیے کہ کسی بھی اعزاز کے لیے دو باتیں دیکھی جاتی ہیں۔ ایک تو یہ بات کہ جس کو یہ اعزاز دیا جانے والا ہے اس کی اصل کیا ہے یعنی اصل اور حقیقت کو اس کی بنیاد بنایا جائے۔ اور دوسری یہ بات کہ اس کی صلاحیت اور قابلیت کیا ہے۔ جنت ایک بہت بڑا اعزاز ہے۔ اگر یہ اصل اور حقیقت کی بنیاد پر دیا جائے تو پھر تو تمام مخلوقات کی اصل مادہ ہے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اس اصل سے جو جو فرع بھی پھوٹی ہے اسے جنت میں داخل کردیا جائے۔ تو نتیجہ اس کا یہ نکلے گا کہ کتنی ناپاک مخلوقات بھی جنت میں پہنچ جائیں گی۔
اور اگر اس سے صرف انسان مراد لیے جائیں تو پھر اس کی اصل پانی، کیچڑ، مٹی اور زمین کے بعض دیگر اجزاء ہیں۔ تو پھر اس میں قریش کی کیا خصوصیت ہے۔ مجرد خلقت کے اعتبار سے تمام انسان برابر ہیں۔ تو پھر مسلمانوں کی غربت کی وجہ سے ان کے جنت میں جانے پر انھیں اعتراض کیوں ہے۔ اور دوسری چیز کسی اعزاز کی بنیاد بننے کے لیے صلاحیت اور قابلیت ہے۔ اور وہ ظاہر ہے شرافتِ حسب و نسب کا غرور نہیں بلکہ ایمان، اخلاق اور کردار کی عظمت ہے۔ اور وہ چونکہ مسلمانوں کو حاصل ہے اس حوالے سے صرف وہی ہیں جنھیں جنت میں جانے کا حق پہنچتا ہے۔
اور انسان کی اجزائے خلقت کے اعتبار سے جو حیثیت ہے سورة النجم میں اسے مزید واضح فرمایا گیا ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ناپاک سے ناپاک حیوانات بھی اجزائے خلقت کے اعتبار سے اس کے مساوی ہیں۔ سورة النجم آیت 53 میں ارشاد ہے۔
ھُوَ اَعْلَمُ بِکُمْ اِذْ اَنْشَاَ کُمْ مِّنَ الْاَرْضِ وَاِذْ اَنْتُمْ اَجِنَّـۃٌ فِیْ بُطُوْنِ اُمَّھٰتِکُمْ ج فَلاَ تَزَکُّوْٓا اَنْفُسَکُمْ ج ھُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰی۔
” وہ تم کو خوب جانتا ہے جبکہ اس نے زمین سے تم کو پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی مائوں کے پیٹوں میں بشکل جنین رہے تو اپنے آپ کو پاکیزہ نہ ٹھہرائو، وہ ان لوگوں کو خوب جانتا ہے جنھوں نے پرہیزگاری اختیار کی۔ “
اسے آسان زبان میں ایک تمثیل کی شکل میں یوں بیان کیا جاسکتا ہے کہ ایک متمول اور متکبر آدمی کا راہ چلتے ہوئے ایک درویش اور فقیر آدمی سے کندھا ٹکرا گیا تو متکبر آدمی نے خشمگیں نگاہوں سے اس فقیر کو دیکھا اور کہا کہ تم جانتے نہیں ہو کہ میں کون ہوں ؟ وہ فقیر بھی ایسا ستم ظریف تھا کہ اس نے ترکی بہ ترکی جواب دیتے ہوئے کہا کہ ہاں، جناب میں آپ کو خوب جانتا ہوں، آپ کی تخلیق پانی کے گندے قطرے سے ہوئی، پھر ماں کے پیٹ میں گندہ خون آپ کی غذا بنا رہا، پھر آپ گندگیوں میں لپٹے ہوئے باہر تشریف لائے، بچپن آپ کا ایسے گزرا کہ کبھی پیشاب میں پڑے ہیں اور کبھی گندگی میں لتھڑے ہوئے اور اب بھی آپ کا حال یہ ہے کہ آپ پاکیزہ، طیب اور خوشبودار نعمتوں سے محظوظ ہوتے ہیں لیکن زیادہ وقت نہیں گزرتا کہ وہی خوشبودار نعمتیں آپ کے پیٹ سے بدبودار ہو کے باہر نکلتی ہیں یعنی جو چیز آپ کے اندر چلی جاتی ہے وہ بگڑ جاتی اور سڑاند ماردینے لگتی ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب آپ قبر کی نذر کردیئے جائیں گے اور وہاں ایک مختصر عرصے کے بعد آپ کے جسم سے بدبو کے بھبھوکے اٹھیں گے اور آپ کا جسم کیڑوں کی غذا بن جائے گا۔ یہ ہے آپ کی حیثیت، آپ کی ابتداء اور آپ کا انجام۔ اس کے علاوہ اگر آپ کچھ ہیں تو فرمایئے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان کی حقیقت اس سے مختلف نہیں۔ اگر وہ اپنی خلقت پر غور کرے تو اسے کبھی یہ غلط فہمی لاحق نہ ہو کہ وہ اپنی اس حیثیت کے باوجود اللہ تعالیٰ کی گرفت سے باہر نکل سکتا ہے اور اللہ تعالیٰ اسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر نہیں۔
Ayahs 70:40–41فَـلَآ اُقْسِمُ بِرَبِّ الْمَشٰرِقِ وَالْمَغٰرِبِ اِنَّا لَقٰدِرُوْنَ ۔ عَلٰٓی اَنْ نُّبَدِّلَ خَیْرًا مِّنْھُمْ لا وَمَا نَحْنُ بِمَسْبُوْقِیْنَ ۔ (المعارج : 40، 41)
(پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے رب کی، بیشک ہم قادر ہیں۔ اس بات پر کہ ان کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور ہم اس سے عاجز رہنے والے نہیں ہیں۔ )
مشارق و مغارب کی قسم اور مفہوم
اس سے پہلے ” لا “ کی وضاحت گزشتہ سورة میں گزر چکی ہے اور وہیں ہم قسم اور جوابِ قسم کا مفہوم بھی بیان کرچکے ہیں۔ یہاں بھی ” لا “ حرف زائد کے طور پر نہیں آیا بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ جو بات تم کہہ رہے ہو وہ صحیح نہیں۔ بلکہ حقیقت وہ ہے جو ہم آگے بیان کرنے والے ہیں۔ اس آیت میں پروردگار نے مشرقوں اور مغربوں کا رب کہہ کر درحقیقت اپنی ذات کی قسم کھائی ہے۔ قرآن کریم میں مشرق اور مغرب کا لفظ واحد، تثنیہ اور جمع تینوں صورتوں میں آیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ مشرق اور مغرب معنوی اعتبار سے ایک بھی ہیں، دو اور تین بھی۔ اور قرآن کریم نے تینوں طرح سے اسے استعمال کیا ہے۔ مثلاً کہیں فرمایا رب المشرق والمغرب، اس کا مطلب یہ ہے کہ شمال اور جنوب کے مقابلے میں ایک جہت مشرق ہے اور دوسری جہت مغرب۔ یہاں یہ دونوں جہتیں مراد ہیں۔ اور کہیں فرمایا رب المشرقین و رب المغربین یہاں دو مشرقوں اور دو مغربوں کا ذکر فرمایا گیا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جب زمین کے ایک نصف کُرّے پر سورج غروب ہوتا ہے تو دوسرے پر طلوع ہوتا ہے تو اس لحاظ سے زمین کے ایک کُرّے کا مشرق اور مغرب اور ہے اور دوسرے کُرّے کا مشرق اور مغرب اور۔ البتہ عربی زبان میں بعض دفعہ مثنیٰ کسی شے کے دونوں اطراف کی طرف اشارہ کے لیے بھی آتا ہے۔ جس طرح سورة الکھف میں بین الصدفین آیا ہے۔
بعض دفعہ قرآن کریم میں پیش نظر آیت کریمہ کی طرح رب المشارق والمغارب کے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سال کے دوران میں سورج ہر روز ایک نئے زاویئے سے طلوع اور نئے زاویئے پر غروب ہوتا ہے۔ نیز زمین کے مختلف حصوں میں سورج الگ الگ اوقات میں پے در پے طلوع اور غروب ہوتا چلا جاتا ہے۔ ان اعتبارات سے مشرق اور مغرب ایک نہیں ہے بلکہ بہت سے ہیں۔ البتہ بعض اوقات جمع محض کسی شے کی وسعت اطراف کو ظاہر کرنے کے لیے آتی ہے۔ بہرحال اس لفظ کے استعمال کے یہ مختلف محل اور مختلف وجوہ ہیں۔ لیکن یہاں مراد صرف یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام مشرقوں اور مغربوں کا مالک ہے۔ اس لحاظ سے ساری زمین اس کے قبضہ قدرت میں ہے۔ اس غیرمحدود قدرت کی مالک ذات سے بچ نکلنا اور اس کی قدرت کے بارے میں شک و شبہ کا اظہار کرنا یا اس کو محدود سمجھنا حماقت اور نارسائیِ فکر کے سوا کچھ نہیں۔ اس کی قدرت کی بےپناہی کا عالم ہم ہر روز اپنی آنکھوں سے مشاہدہ بھی کرتے ہیں کہ سورج، چاند اور کروڑوں اربوں کواکب و نجوم اس کے حکم سے طلوع اور غروب ہوتے ہیں اور کسی کو آج تک اس کے حکم سے سرتابی کی مجال نہیں ہوئی۔ تو کیا ایسی قادر وقیوم ذات کے لیے یہ مشکل ہے کہ وہ مخلوقات کو مرکھپ جانے کے بعد ازسرنو زندہ کردے۔ بلکہ اس آیت کریمہ میں پروردگار نے فرمایا کہ ہم تو اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہیں مٹا دیں اور تمہاری جگہ تم سے بہتر مخلوق لائیں جو اللہ تعالیٰ کے دین کی ماننے والی ہو۔ جمہور نے اس آیت کا یہی مطلب لیا ہے اور اس کے صحیح ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں۔ البتہ الفاظ میں گنجائش اس مفہوم کی بھی ہے کہ یہ کہا جائے کہ ہم اس بات پر بھی قادر ہیں کہ تمہیں دوبارہ اس صورت سے بہتر صورت میں پیدا کردیں۔ دونوں مفہوموں کا انجام ایک ہی ہے کہ جو ہمہ مقتدر ذات تمہیں مٹا کر نئی مخلوق کو پیدا کرنے یا تمہیں بہتر شکل میں پیدا کرنے پر قادر ہے وہ تمہارے مرنے کے بعد دوبارہ اٹھانے پر بھی قاد رہے۔
Ayah 70:42فَذَرْھُمْ یَخُوْضُوْا وَیَلْعَبُوْا حَتّٰی یُلٰـقُوْا یَوْمَہُمُ الَّذِیْ یُوْعَدُوْنَ ۔ (المعارج : 42)
(پس ان کو چھوڑ دو ، یہ اپنی بےہودہ باتوں اور کھیل میں لگے رہیں یہاں تک کہ اپنے اس دن کو پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے (جس کی ان کو دھمکی دی جارہی ہے) ۔ )
ہٹ دھرمی کا کوئی علاج نہیں
اس آیت کریمہ میں نبی کریم ﷺ کو تسلی دیتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اگر نہایت سہل لیکن محکم دلائل کو سن کر بھی قیامت پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ یہ ایک بات طے کرچکے ہیں اس کیخلاف کسی بات کو بھی سنجیدگی سے سننے اور ماننے کے لیے آمادہ نہیں، تو ایسے ہٹ دھرم لوگوں سے سر کھپانا سر پھوڑنے کے سوا کچھ نہیں۔ آپ انھیں ان کے حال پر چھوڑ دیجیے۔ یہ جن فضول باتوں اور کھیل کود میں لگے ہوئے ہیں، لگے رہیں۔ یہاں تک کہ اپنی یا وہ گوئیوں اور غیرسنجیدہ حرکتوں سے اس دن کو پہنچ جائیں جن کا ہر پیغمبر کے ذریعے ان سے وعدہ کیا گیا ہے اور اس دن سے انھیں ڈرایا گیا۔ لیکن یہ ایسے کج بحث اور ضدی واقع ہوئے ہیں کہ ان کی بےنیازی اور لاپرواہی میں کوئی فرق واقع نہیں ہوتا۔
Ayahs 70:43–44یَوْمَ یَخْرُجُوْنَ مِنَ الْاَجْدَاثِ سِرَاعًا کَاَنَّھُمْ اِلٰی نُصُبٍ یُّوْفِضُوْنَ ۔ خَاشِعَۃً اَبْصَارُھُمْ تَرْھَقُھُمْ ذِلَّـۃٌ ط ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ۔ (المعارج : 43، 44)
(جس دن یہ اپنی قبروں سے نکلیں گے سرعت کے ساتھ، گویا کہ وہ اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہیں۔ ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی، ذلت ان پر چھا رہی ہوگی، وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔ )
نُصُب کا مفہوم
نُصُبٍ … نصیب کی جمع ہے، اس کے معنی میں مفسرین نے اختلاف کیا ہے۔ بعض نے اس سے بتوں کے استھان مراد لیے ہیں۔ اس صورت میں آیت کا مفہوم یہ ہوگا کہ آج تو ان کا حال یہ ہے کہ یہ قیامت کے تصور سے بھی گریزاں ہیں اور محکم سے محکم دلیل بھی انھیں متوجہ کرنے پر قادر نہیں۔ البتہ ان کی قلبی وابستگیاں بتوں اور ان کے استھانوں سے ہیں۔ یہ جب ایسی جگہوں پر جاتے ہیں تو لپکتے ہوئے اور دل کی آمادگی کے ساتھ تیزی سے قدم بڑھاتے ہیں۔ لیکن قیامت کے دن ان کی یہ تمام وابستگیاں دھری رہ جائیں گی۔ جیسے ہی صور پھونکا جائے گا تو یہ قبروں سے تیزی سے نکل کر میدانِ حشر کی طرف دوڑتے ہوئے بڑھیں گے۔ سورة طٰہٰ میں اسی مضمون کو بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا گیا ہے یومیذیتبعون الداعی لاعوج لہ ” جس دن وہ داعی کی پکار کی پیروی بغیر کسی کجی کے کریں گے۔ “ یعنی جس طرح تیر سیدھا اپنے متعین ہدف کی طرف جاتا ہے اسی طرح یہ داعی کی طرف لپکیں گے۔
بعض دیگر اہل علم نے نصیب کے معنی نشان اور علم کے کیے ہیں جو دوڑ وغیرہ کے مقابلہ کے لیے نشان کے طور پر گاڑ دیئے جاتے ہیں۔ حضرت ابن عباس ( رض) ، مجاہد ( رض) اور ضحاک ( رض) یہی معنی مراد لیتے ہیں۔ ابوالعالیہ اور یحییٰ بن کثیر بھی قریب قریب یہی مفہوم مراد لیتے ہیں۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آج تو یہ متمردین اور متکبرین اللہ تعالیٰ کے داعی سے اکڑتے اور اس کی بتائی ہوئی راہ سے منحرف ہو کر دوسری راہوں پر چل رہے ہیں لیکن وہ دن بھی آنے والا ہے جب صور پھونکنے والا صور پھونکے گا اور یہ قبروں سے نکل کر اس طرح تیزی سے میدانِ حشر کی طرف لپکیں گے گویا کہ وہ دوڑ کے معین نشانوں کی طرف بھاگ رہے ہیں۔
آج جبکہ اللہ تعالیٰ کے رسول کے سامنے ان کی گردنیں تنی ہوئی رہتی ہیں اور تکبر اور تمرد کا اظہار کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ پر جھپٹنے کے لیے آگے بڑھتے ہیں لیکن اس دن ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی۔ بجائے آنکھیں چار کرنے کے آنکھیں اٹھانے کی ہمت بھی نہیں کرسکیں گے اور ان کے چہروں پر ندامت اور حسرت سے ذلت چھائی ہوئی ہوگی۔
ذٰلِکَ الْیَوْمُ الَّذِیْ کَانُوْا یُوْعَدُوْنَ ” پروردگار فرماتے ہیں یہ ہے وہ دن جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا تھا یا جس کی انھیں دھمکی دی جاتی تھی۔ اور آج اس دن کے آتے ہی ان کے سارے کس بل نکل چکے ہیں اور ندامت سے ان کی نگاہی جھکی ہوئی اور ذلت چہروں پر برس رہی ہے۔ لیکن اب بعداز وقت پچھتائے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
یاد کیجیے اس سورة کا آغاز قیامت کے عذاب کے ذکر سے ہوا تھا اور اختتام بھی اسی کے ذکر پر ہورہا ہے۔ اس سے اندازہ کیجیے کہ قرآن کریم میں کس حد تک غیرمعمولی ربط پایا جاتا ہے۔