Ayahs 74:38–41کُلُّ نَفْسٍ م بِمَا کَسَبَتْ رَھِیْنۃٌ۔ اِلَّآاَصْحٰبَ الْیَمِیْنِ ۔ فِیْ جَنّٰتٍ قف ط یَتَسَآئَ لُوْنَ ۔ عَنِ الْمُجْرِمِیْنَ ۔ (المدثر : 38 تا 41)
(ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں رہن ہے۔ مگر داہنی طرف والے۔ وہ باغوں میں ہوں گے، پوچھ گچھ کررہے ہوں گے۔ ، مجرموں کے حال کے بارے میں۔ )
اعمال پر کامیابی اور ناکامی کا دارومدار ہے
اللہ تعالیٰ کا قانون یہ ہے کہ ہر شخص کی قدر و قیمت اور اس کے اچھے برے انجام کا دارومدار اس کے اعمال پر ہے۔ بظاہر انسان اپنی شکل و صورت، اپنے رنگ و روپ، اپنے قبیلے، اپنی نسل، اپنے خاندان اور اپنے جغرافیے سے پہچانا جاتا اور مختلف مقامات سے گزارا جاتا ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے قانون میں ان چیزوں کی حیثیت شناخت کی ہے۔ حقیقی مقام کا تعلق انسان کے اعمال سے ہے۔ جس طرح ایک صحیح نظام میں انسان کی صلاحیت و قابلیت اور اس کی محنت و ریاضت اس کا مقام متعین کرتی ہے، اسی طرح آخرت میں بھی انسان کی خیروفلاح کا تعلق اس کے اعمال کے ساتھ بندھا ہوا ہے۔ وہاں نہ نام و نسب کام آئے گا نہ نسبتیں کام آئیں گی نہ کوئی اور سہارا کام آئے گا۔ اعمال کی گرفت سے صرف وہ لوگ نکل سکیں گے جو اصحاب الیمین ہوں گے۔ یعنی جن لوگوں نے دنیا میں فرض اور قرض کی ذمہ داریاں ادا کی ہوں گی وہ پہلے ہی مرحلے میں اپنے لیے آزادی محسوس کریں گے۔ انھیں جنت کے باغوں میں پہنچا دیا جائے گا۔ ان لوگوں کو اصحاب الیمین اس لیے کہا گیا ہے کہ یہ وہ خوش نصیب ہیں جو اپنے ایمان اور حُسنِ عمل کے باعث اس قابل سمجھے جائیں گے کہ ان کے نامہ اعمال ان کے دہنے ہاتھ میں دیئے جائیں۔ اس لیے انھیں دایاں بازو والے قرار دیا گیا۔ ان کی شان جنت کے باغوں میں یہ ہوگی کہ یہ لوگ آپس میں بیٹھ کر ان لوگوں کا تذکرہ کریں گے جو دنیا میں قیامت کے بارے میں ان کے ساتھ بحث کیا کرتے تھے۔ اسلام کا مذاق اڑاتے اور آخرت کے تصور کو محض ایک واہمہ کہتے۔ اور ان کی زندگی مجرموں کی زندگی تھی۔ یہ ایک دوسرے سے ان لوگوں کا نام لے لے کر کہیں گے کہ کاش معلوم ہوتا کہ آج وہ کس حال میں ہیں، کہ اچانک جنت اور جہنم کے درمیان ہزاروں میل کے فاصلے کے باوجود پردے ہٹا دیئے جائیں گے اور وہ ان لوگوں کو جہنم کے عذاب میں مبتلا دیکھیں گے۔ قرآن کریم میں سورة صافات میں اس مکالمے کا ذکر کیا ہے جس کی طرف یہاں اشارہ کیا جارہا ہے۔
فَاَقْبَلَ بَعَضُھُمْ عَلٰی بَعْضٍ یَّـتَسَآئَ لُوْنَ ۔ قَالَ قَآئِلٌ مِّنْھُمْ اِنِّیْ کَانَ لِیْ قَرِیْنٌ۔ یَّـقُوْلُ اَئِنَّـکَ لَمِنَ الْمُصَدِّقِیْنَ ۔ ئَ اِذَا مِتْنَا وَ کُنَّا تُرَابًا وَّعِظَامًائَ اِنَّا لَمَدِیْنُوْنَ ۔ قَالَ ھَلْ اَنْتُمْ مُّطَّلِعُوْنَ ۔ فَاطَّلَعَ فَرَاٰہُ فِیْ سَوَآئِ الْجَحِیْمِ ۔ (الصّٰفّٰت۔ 37: 50۔ 55)
” پس اہل جنت ایک دوسرے کی طرف سوال و جواب کرتے ہوئے متوجہ ہوں گے۔ ان میں سے ایک کہے گا، دنیا میں میرا ایک ساتھی تھا جو کہا کرتا تھا کہ کیا تم بھی قیامت کی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو ! بھلا جب ہم مر کر مٹی اور ہڈیاں بن جائیں گے تو کیا جزاء اور سزا کے لیے اٹھائے جائیں گے ! کہیں گے، بھلا جھانک کر دیکھو تو سہی ! تو وہ جھانک کر دیکھے گا تو اس مجرم کو دوزخ کے بیچ میں دیکھے گا۔ “
Ayahs 74:42–48مَاسَلَکَکُمْ فِیْ سَقَرَ ۔ قَالُوْا لَمْ نَکُ مِنَ الْمُصَلِّیْنَ ۔ وَلَمْ نَکُ نُطْعِمُ الْمِسْکِیْنَ ۔ وَکُنَّا نَخُوْضُ مَعَ الْخَآئِضِیْنَ ۔ وَکُنَّا نُکَذِّبُ بِیَوْمِ الدِّیْنِ ۔ حَتّٰیٓ اَتٰـنَا الْیَقِیْنُ ۔ فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیْنَ ۔ (المدثر : 42 تا 48)
(سوال کریں گے) تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی۔ وہ جواب دیں گے، ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہیں تھے۔ اور نہ غریبوں کو کھلاتے ہی تھے۔ اور کٹ حجتیاں کرتے تھے، کٹ حجتیاں کرنے والے کے ساتھ۔ اور ہم جزاء و سزا کے دن کو جھٹلاتے تھے۔ حتیٰ کہ آپہنچی ہم پر وہ یقینی بات۔ تو ان کو شفاعت کرنے والوں کی شفاعت کچھ نفع نہ دے گی۔ )
اہلِ جنت کا سوال اور اہل جہنم کا اعتراف
اہلِ جنت اہل جہنم میں سے اپنے جاننے والوں سے جو دنیا میں ان کے ساتھ بحث کیا کرتے تھے پوچھیں گے کہ تمہیں تو دوزخ کے وجود ہی سے انکار تھا اور اگر تم ایک مفروضے کے طور پر اسے مانتے بھی تھے تو تمہارا زعم یہ تھا کہ جس پروردگار نے تمہیں دنیا میں نعمتوں سے نوازا ہے وہی تمہیں آخرت میں بھی بہتر سے بہتر نعمتوں سے نوازے گا۔ اور اگر اس نے ہم پر ہاتھ ڈالا بھی تو ہم جن قوتوں کو اس کا شریک ٹھہراتے ہیں وہ ہمیں اس سے بچا لیں گی۔ پھر آج کیا ہوا کہ تم دوزخ میں پڑے ہوئے ہو، آخر کیا چیز تمہیں دوزخ میں لے گئی ہے۔ تو اہل دوزخ اس کے جواب میں اعتراف کریں گے کہ ہمارے اعمال ہی ہمارے یہاں آنے کا سبب ہوئے ہیں۔ ہمیں بتایا جاتا رہا کہ انسان کے انجام کا دارومدار اس کے اعمال پر ہے۔ ہر شخص اپنے اعمال کا رہین ہے، لیکن ہم نے اس کا ہمیشہ مذاق اڑایا، لیکن یہاں آکر معلوم ہوا کہ ہم جو کچھ کہتے تھے وہ غلط تھا، ہماری غلط سوچ اور ہماری بداعمالیاں ہماری سزا و رسوائی کا باعث ہوئیں۔
جرائم کا اعتراف کرتے ہوئے وہ سب سے پہلے نماز نہ پڑھنے کا اعتراف کریں گے، یعنی انھیں اس بات کا احساس ہوگا کہ جس طرح عقائد میں توحید کو سب پر تقدم حاصل ہے اسی طرح نماز کو باقی ارکان پر تقدم اور برتری حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایک شخص ایمان لاتا ہے تو سب سے پہلے جو فرض اس کی طرف متوجہ ہوتا ہے وہ فریضہ نماز ہے۔ کیونکہ نماز ہی دراصل ایمان کی عملی صورت ہے اور اللہ تعالیٰ سے عہد وفا کی ایک جامع تعبیر بھی ہے اور اس کی ایک مشق بھی۔ اس لیے ہر پیغمبر نے اپنی اپنی امت کو سب سے پہلے نماز ہی کا حکم دیا۔ اور قرآن کریم میں بتایا گیا کہ بنی اسرائیل جب گمراہ ہوئے تو ان کی گمراہی کا سب سے بڑا سبب یہ تھا۔ وہ نماز کو ضائع کر بیٹھے اور شہوات کے تابع ہوگئے۔
دوسرے جس جرم کا وہ اعتراف کریں گے وہ یہ ہوگا کہ وہ مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے۔ مقصد یہ ہے کہ جس طرح ان کا تعلق ترک نماز کی وجہ سے اپنے اللہ سے ٹوٹ چکا تھا اسی طرح عدم انفاق کی وجہ سے بندوں سے بھی اپنا تعلق توڑ چکے تھے کیونکہ نماز بندے کا اللہ تعالیٰ سے تعلق استوار کرتی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے لیے ضرورت مند بندوں پر خرچ کرنا انسانی تعلقات کی استواری کا باعث بنتا ہے۔ اور انھیں دو تعلقات کی استواری پر ہر مومن کے دین کی استواری کا انحصار ہے۔
تیسرا جرم جس کا وہ اعتراف کریں گے وہ یہ ہے کہ قیامت و جزاء و سزا کے بارے میں دوسرے لوگ جس طرح کی نکتہ چینیاں اور موشگافیاں کیا کرتے تھے، اسی طرح کی موشگافیوں میں ہم بھی لگے رہتے تھے۔ قیامت کے تصور کا مذاق اڑانا، اعمال کے جزاء و سزا کو واہمہ قرار دینا اور ایک دفعہ تمام کائنات کی تباہی اور پھر ازسرنو آبادی کا ناممکن قرار دے کر تمسخر اڑانا اور قیامت کے بارے میں قرآن کریم کی بیان کردہ بعض تفصیلات کا مذاق اڑانا جس کی مثال اسی سورة میں گزری ہے کہ جب انھیں بتایا گیا کہ جہنم پر انیس داروغے ہوں گے تو انھوں نے اس پر عجیب و غریب پھبتیاں کسیں اور وہ وہ بےپر کی اڑائیں کہ الامان و الحفیظ۔
خوض فی الحدیث کے معنی ہیں، کسی بات میں میں میکھ نکالتے نکالتے کہیں سے کہیں جا نکلنا، اور اس کو فتنہ اور حق سے انحراف کے لیے بہانہ بنا لینا۔ یہ تھا وہ جرم جس کا یہ اہل دوزخ اعتراف کریں گے۔
اور چوتھا جرم جس کا وہ اعتراف کریں گے وہ یہ ہے کہ ہم قیامت اور آخرت کے دن کو ماننے سے انکار کرتے اور اس کی تکذیب کرتے تھے۔ ہمارا یہی حال تھا کہ وہ یقینی بات آگئی جسے ہم بھولے ہوئے تھے۔ اس یقینی بات سے مراد موت بھی ہوسکتی ہے اور آخرت بھی۔ موت کو یہاں یقین سے اس لیے تعبیر کیا گیا ہے کہ موت ہی ایک ایسی چیز ہے جس کا آنا یقینی اور حتمی ہے اور کسی شخص کو اس سے انکار نہیں۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کا استحضار کسی قسمت والے کو ہوتا ہے، ورنہ جب تک زندگی سے مایوسی نہیں ہوجاتی موت کا یقین پیدا نہیں ہوتا۔ اور دوسری وجہ اسے یقین قرار دینے کی شاید یہ ہے کہ جب آدمی پر سکرات الموت طاری ہوتے ہیں تو تمام مابعدالموت حقائق آدمی پر روشن ہوجاتے ہیں اور وہ ان کے یقین پر مجبور ہوجاتا ہے۔
یہ ہیں وہ جرائم جو ان کے جہنم میں لے جانے کا سبب ہوئے۔ بعض اہل علم کا خیال ہے کہ ان جرائم سے ان کا مجموعہ مراد ہے، یعنی جس شخص میں بیک وقت یہ چاروں جرائم پائے جائیں گے وہ یقینا جہنمی ہے اور اسے شفاعت بھی کوئی فائدہ نہیں دے گی۔ البتہ جہاں تک ان میں سے ایک ایک جرم کا تعلق ہے ان میں قیامت کی تکذیب تو بجائے خود کفر ہے۔ کیونکہ اولاً تو جس کے اندر یہ جرم پایا جائے گا اس میں باقی جرائم بھی پائے جائیں گے لیکن اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ کوئی شخص ایسا بھی ہے جو نماز اور زکوٰۃ پر عامل تو ہے لیکن تکذیب بیوم الدینکا ارتکاب کرتا ہے تو نماز اور زکوٰۃ کی موجودگی بھی اسے جہنم سے نہیں بچا سکے گی۔ یہ جرم خود جہنم میں لے جانے کے لیے کافی ہے۔
بعض اہل علم کا گمان یہ ہے کہ ایک شخص اگر آخرت کو مانتا ہے لیکن نماز نہیں پڑھتا یا زکوٰۃ نہیں دیتا تو تب بھی وہ جہنم میں جائے گا۔ کیونکہ نماز اور زکوٰۃ اپنی اہمیت کے اعتبار سے ایسی عبادات ہیں کہ جن کا ترک جہنم میں جانے کا باعث بنے گا۔ صحیح احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ تارک صلوٰۃ اور تارک زکوٰۃ یقینا جہنم میں جائیں گے، لیکن رسول اللہ ﷺ کی شفاعت سے ایسے لوگ جہنم سے نجات پاجائیں گے۔ جہنم ان کے لیے ابدی سزا نہیں ہوگی۔ اور یہی صحیح نقطہ نگاہ ہے۔
فَمَا تَنْفَعُھُمْ شَفَاعَۃُ الشّٰفِعِیْنَ ۔
شفاعتِ باطلہ کی نفی
اس کے بعد فرمایا شفاعت کرنے والوں کی شفاعت ان کو نفع نہیں دے گی۔ اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ شفاعت کرنے والے ہوں گے لیکن ان کی شفاعت قبول نہیں کی جائے گی۔ اگر اس تعبیر کو قبول کرلیا جائے تو پھر ان تمام تفصیلات کو پیش نظر رکھنا چاہیے جن کا ذکر قرآن کریم میں جا بجا ہوا ہے کہ کون شفاعت کرے گا، کس کے لیے کرے گا، اپنے طور پر کرے گا یا اللہ تعالیٰ کی اجازت سے کرے گا، کون سے گناہ ہیں جو شفاعت سے بخشے جائیں گے اور کون سے گناہ ہیں جن میں شفاعت قبول نہیں کی جائے گی ؟ لیکن بہتر یہ ہے کہ یہ کہا جائے کہ یہ کلام عربیت کے اسلوب پر ہے جس کو نفی الشی بنفی لازمہ کہا جاتا ہے، یہاں اگرچہ شفاعت کرنے والوں کا ذکر کیا گیا ہے لیکن ایسے گناہوں پر چونکہ شفاعت قبول نہیں کی جاتی تو اس کا مطلب یہ ہے کہ وہاں کوئی شفاعت کرنے والا موجود نہیں ہوگا۔
Ayah 74:49فَمَا لَھُمْ عَنِ التَّذْکِرَۃِ مُعْرِضِیْنَ ۔ (المدثر : (49)
(پس ان کو کیا ہوا ہے کہ وہ نصیحت سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔ )
اعراض کرنے والوں کے حال پر تعجب
آنحضرت ﷺ کی دعوت جو آپ ﷺ قریش اور اہل مکہ کے سامنے پیش فرما رہے تھے اور وہ یاد دہانی جس کا تذکرہ بار بار ان کے سامنے کرتے تھے۔ پیش نظر آیت کریمہ میں تعجب کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ عجیب بات ہے کہ یہ لوگ نہ اس دعوت پر کان دھرتے ہیں اور نہ اس یاددہانی کو قابل توجہ سمجھتے ہیں۔ حالانکہ قرآن کریم نے ان حقائق کے اثبات کے لیے بار بار دلائل پیش کیے۔ اور آنحضرت ﷺ اپنی دلآویز شخصیت اور ہمدردی اور غمگساری سے بار بار اس کے لیے انھیں اپیل کررہے ہیں لیکن ان پر کوئی اثر نہیں ہوتا ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ محمد کریم ﷺ جیسے رسول کی بعثت اور قرآن کریم جیسی کتاب کے نزول کے بعد وہ اس دعوت کے علمبردار بن کر اٹھتے۔ اس یاددہانی سے خود بھی فائدہ اٹھاتے اور لوگوں کو بھی اس کی طرف مائل کرتے۔ لیکن کس قدر تعجب کی بات ہے وہ اس سے اعراض کرنے والے بنے ہوئے ہیں۔
Ayahs 74:50–51کَاَنَّھُمْ حُمُرٌ مُّسْتَنْفِرَۃٌ۔ فَرَّتْ مِنْ قَسْوَرَۃٍ ۔ (المدثر : 50، 51)
(گویا کہ وہ بدکے ہوئے گدھے ہوں۔ جو شیر سے ڈر کے بھاگے ہوں۔ )
گزشتہ آیت کریمہ میں کفار کے اعراض پر اظہارِ تعجب کیا گیا ہے، لیکن پیش نظر آیت کریمہ میں ایک قدم آگے بڑھ کر فرمایا کہ وہ صرف آپ ﷺ کی اور قرآن کریم کی دعوت سے اعراض ہی نہیں کرتے بلکہ ان کے اندر اس دعوت سے متعلق ایک وحشت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اس کا نام سنتے اور اس کی آواز کانوں میں پڑتے ہی بےساختہ بھاگ اٹھتے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ قرآن کریم کا کوئی بول ان کے کانوں میں پڑنے نہ پائے۔ درحقیقت انسان کی یہ کمزوری ہے کہ جب وہ کسی چیز کو اس لیے قبول کرنے پر آمادہ نہ ہو کہ وہ زندگی میں انقلاب کی داعی اور برے اخلاق کو چھوڑنے کی متقاضی ہے۔ لیکن اس کے اندر دلائل کی ایسی قوت اور حقیقت کی ایسی اپیل پائی جاتی ہو کہ انکار کرتے بھی نہ بنتی ہو۔ تو پھر انسان کی کیفیت یہ ہوتی ہے کہ وہ اسے سننا ہی گوارا نہیں کرتا۔ اس کا سامنا کرنا اس کے لیے موت سے کم نہیں ہوتا۔ وہ اس کی آواز سنتے ہی بھاگ کھڑا ہوتا ہے یا کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتا ہے۔ یہی حال ان لوگوں کا بھی تھا۔ ان کی اس وحشت زدگی کو قرآن کریم نے ایک مثال سے واضح کیا ہے کہ ان کا حاصل ایسا ہے جیسے بدکے ہوئے جنگلی گدھے جو شیر کی آواز سن کر یا کسی شکاری کی آہٹ پا کر اس بری طرح سے دوڑتے ہیں کہ دائیں بائیں اور پیچھے پلٹ کر دیکھنا بھی گوارا نہیں کرتے۔
حُمُرٌ، حِمَارٌ کی جمع ہے، گدھے کو کہتے ہیں۔
مُسْتَنْفِرَۃٌ بدکے اور ڈرے ہوئے۔
قَسْوَرَۃٍ کے معنی شیر کے بھی آتے ہیں اور تیرانداز شکاری کے بھی۔ صحابہ کرام ( رض) سے دونوں منقول ہیں۔
Ayah 74:52بَلْ یُرِیْدُ کُلُّ امْرِیٍٔ مِّنْھُمْ اَنْ یُّؤْتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ۔ (المدثر : 52)
(بلکہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیئے جائیں۔ )
اعراض کا بہانہ
گزشتہ دو آیتوں میں مخالفین کے اعراض بلکہ وحشت زدگی کو بیان کرنے کے بعد اس آیت میں فرمایا کہ انھوں نے اپنے اعراض اور وحشت پر پردہ ڈالنے کے لیے بات کو الجھانے کی کوشش کی کہ جس طرح محمد ﷺ پر قرآن کریم مختلف صحیفوں یعنی سورتوں کی شکل میں نازل ہورہا ہے، اسی طرح ہم پر بھی کھلے صحیفے نازل کیے جائیں۔ انھیں دیکھ کر ہم اندازہ کرسکیں گے کہ آنحضرت ﷺ کا دعویٰ صحیح ہے یا غلط۔ اور ایک مفہوم اس کا یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر سردار کے نام ایک کھلا خط اللہ تعالیٰ کی طرف سے آنا چاہیے جس میں یہ لکھا ہوا ہو کہ ہم نے محمد ﷺ کو اپنا رسول بنا کر بھیجا ہے اور یہ کتاب اس پر اتاری ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ بات پہلی دفعہ مشرکینِ مکہ نے نہیں کہی بلکہ اہل کتاب کے بارے میں قرآن کریم نے متعدد مواقع پر ایسی باتیں ارشاد فرمائی ہیں کہ کبھی وہ یہ کہتے کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو اپنی کھلی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں، ہم ایمان نہیں لائیں گے۔ اور کبھی کہتے کہ ایک لکھی ہوئی کتاب مجلد شکل میں پیغمبر پر اترنی چاہیے۔ اسی سے ملتی جلتی باتیں قریش نے بھی شاید اہل کتاب سے سیکھ لی تھیں۔ انھیں میں سے ایک بات یہ بھی تھی کہ وَاِذَا جَائَ تْھُمْ آ یَۃٌ قَالُوْا لَنْ نُّوْمِنَ حَتّٰی نُوْتٰی مِثْلَ مَا اُوْتِیَ رُسُلُ اللّٰہِ ط اَللّٰہُ اَعْلَمُ حَیْثُ یَجْعَلُ رِسَالَتَہٗ ” اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ہم تو اس پر اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے جب تک کہ ہمیں بھی اسی جیسی نہ ملے جیسی اللہ تعالیٰ کے رسولوں کو ملی، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ اپنی رسالت سے کس کو سرفراز کرے۔ “
Ayah 74:53کَلاَّ ط بَلْ لاَّ یَخَافُوْنَ الْاٰخِرَۃَ ۔ (المدثر : 53)
(ہرگز نہیں، بلکہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔ )
مشرکین کا اصل مرض
گزشتہ آیت کریمہ میں بتایا گیا ہے کہ انھوں نے آنحضرت ﷺ کی نبوت اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کی کتاب ماننے کے لیے شرط رکھی کہ جس طرح کی آیات اور سورتیں آنحضرت ﷺ پر نازل ہورہی ہیں جب تک ہم پر نازل نہ کی جائیں ہم اس وقت تک ایمان نہیں لائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کے ایمان نہ لانے کا اصل سبب یہ ہے کہ ان کے مطالبے کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ پیش نظر آیت کریمہ میں فرمایا کہ جو کچھ وہ مطالبہ کررہے ہیں اسے کبھی قبول نہیں کیا جائے گا۔ کیونکہ وہ ان کے انکار کی اصل علت نہیں۔ یہ تو محض ایک بہانہ ہے۔ ان کا ایک مطالبہ تسلیم کرلیا جائے تو دوسرا پیش کردیا جائے گا۔ پھر دوسرے کے بعد تیسرا۔ اور یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ان کے انکار کا سبب درحقیقت یہ ہے کہ وہ آخرت کے آنے کی امید نہیں رکھتے۔ ” یخافون “ یرجون کے معنی میں قرآن کریم میں متعددمواقع پر استعمال ہوا ہے۔ ممکن ہے یہاں بھی اسی معنی میں استعمال ہوا ہو۔ یعنی ان کے ایمان نہ لانے کا سبب صرف یہ ہے کہ وہ قیامت اور آخرت کے آنے کی امید نہیں رکھتے۔ اور اگر یخافون کو خوف کے معنی میں لیا جائے جب بھی صحیح ہے کہ وہ ایمان اس لیے نہیں لاتے کہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔ کیونکہ ان کا خیال یہ ہے کہ قیامت کے وقوع پذیر ہونے کا کوئی امکان نہیں۔ تو پھر اس سے ڈر کا کیا مطلب۔ یہ درحقیقت ان کے بگاڑ اور ایمان نہ لانے کا اصل سبب ہے۔ اسی تصور نے ان کی زندگی کو غیرسنجیدہ بنا رکھا ہے۔ وہ جزاء و سزا کے بارے میں کبھی سنجیدگی سے سوچنا گوارا نہیں کرتے۔ جس آدمی کو اس بات کا یقین ہوجائے کہ موت دنیوی زندگی کے خاتمے کا نام ہے، اس کے بعد دوسری کوئی زندگی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہی کے لیے حاضری محض ایک افسانہ ہے۔ انسان کی کامیابیاں اور ناکامیاں دنیوی زندگی سے تعلق رکھتی ہیں۔ جو یہاں کامیاب ہے، وہی کامیاب ہے۔ جو یہاں ناکام ہے، وہی حقیقت میں ناکام ہے۔ ایسے شخص کو حقوق و فرائض کے حوالے سے، نیک و بد کے تصور سے، جوابدہی کے احساس سے، اعمال کی جزاء و سزا سے کیا تعلق ہوسکتا ہے۔ وہ دنیا میں نچنت ہو کر زندگی گزارتا ہے اور اسی طرح دنیا سے چلا جانا چاہتا ہے۔ جو شخص یہ چاہتا ہے کہ انسانی زندگی میں تبدیلی آئے، انسان دوسروں کے لیے ہمدرد و غمگسار بنے، حقوق و فرائض کا احساس اس کے اندر پیدا ہو، ہر عمل سے پہلے جزاء و سزا کی فکر کرے۔ اس کے لیے لازمی ہے کہ اس کے دل و دماغ میں آخرت کا خوف اتارا جائے۔ اس کے سوا انسانی اصلاح کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ اور یہ لوگ چونکہ آخرت کے تصور کو رد کرچکے ہیں اس لیے وہ ایسے نبی اور ایسی کتاب پر کیسے ایمان لانے کی زحمت کرسکتے ہیں جو انھیں ذمہ داریوں سے گراں بار کرتی اور جزاء و سزا کے تصور سے زندگیوں میں انقلاب برپا کردیتی ہے۔
Ayahs 74:54–55کَلَّآ اِنَّـہٗ تَذْکِرَۃٌ۔ فَمَنْ شَآئَ ذَکَرَہٗ ۔ (المدثر : 54، 55)
(ہرگز نہیں، یہ تو ایک یاددہانی ہے۔ تو جس کا جی چاہے اس سے فائدہ اٹھائے۔ )
آنحضرت ﷺ کو تسلی
یہ مخالفین سے اظہارِ بےنیازی اور نبی کریم ﷺ کے لیے تسلی ہے کہ آپ ﷺ ان لوگوں کی ہرگز پرواہ نہ کریں، یہ اگر ایمان نہیں لاتے تو زیادہ درپے ہونے کی ضرورت نہیں۔ یہ تو ایک یاددہانی اور نصیحت ہے جس سے انھیں آگاہ کردیا گیا ہے۔ ان میں سے جو چاہے اس سے فائدہ اٹھائے اور سیدھی راہ اختیار کرے۔ اور اگر وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے تو خود اس کا انجام بھگتیں گے۔ آپ کا کام انھیں نصیحت کرنا اور ان کے انجام سے انھیں باخبر کرنا ہے تاکہ جب یہ اللہ تعالیٰ کے سامنے پیش ہوں تو یہ عذر نہ کرسکیں کہ ہمارے پاس کوئی منذر نہیں پہنچا۔ یہ فرض آپ ادا کرچکے، اب اس کے ردوقبول کی ذمہ داری ان پر ہے۔
Ayah 74:56وَمَا یَذْکُرُوْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط ھُوَ اَھْلُ التَّقْوٰی وَاَھْلُ الْمُغْفِرَۃِ ۔ (المدثر : 56)
(اور وہ اس سے فائدہ نہیں اٹھائیں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے، وہی ہے جس سے ڈرنا چاہیے اور وہی ہے بخشنے کے لائق۔ )
ہدایت کے معاملے میں اللہ تعالیٰ کی سنت
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی سنت کی طرف اشارہ فرمایا ہے جو ہدایت و ضلالت کے باب میں اس نے پسند فرمائی ہے۔ اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت پر موقوف نہیں، بلکہ اسے نصیحت اس وقت نصیب ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت بھی یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ اور اللہ تعالیٰ ہدایت انہی کو بخشتا ہے جو اپنے سمع و بصر اور فواد کی صلاحیتوں سے کام لیتے ہیں جو فطرت کے نور کی قدر کرتے ہیں، آفاق وانفس کی نشانیوں پر غور کرتے ہیں۔ اور ہر اس بات کو سننے اور سمجھنے کے لیے اپنے کان کھلے رکھتے ہیں جو معقول ہو۔ اگرچہ وہ ان کے نفس کی خواہشوں کے کتنے ہی خلاف ہو۔ اللہ تعالیٰ کی ہر مشیت اس کی حکمت کے تحت ہے، وہ انھیں کو ہدایت بخشتا ہے جو ہدایت کی قدر کرنے والے ہوتے ہیں۔ جو اس کی قدر نہیں کرتے، ان کو ہدایت دینا تو درکنار، اللہ تعالیٰ ان کی وہ صلاحیت بھی سلب کرلیتا ہے جو فطرت کی راہ سے ان کو حاصل ہوئی ہوتی ہیں۔
وہی اہل تقویٰ ہے اور وہی اہل مغفرت۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہی اس کا مستحق ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور اس کی نافرمانی سے بچا جائے۔ اور وہی ایسی ذات ہے جو بڑے سے بڑے مجرم گناہگار کو اس کے سب گناہ جب چاہتی ہے بخش دیتی ہے۔ یعنی اسی کو یہ بات زیب دیتی ہے کہ کسی نے خواہ اس کی کتنی ہی نافرمانیاں کیں، جس وقت بھی وہ اپنی اس روش سے باز آجائے، اللہ تعالیٰ اپنا دامن رحمت اس کے لیے کشادہ کردیتا ہے۔ اپنے بندوں کے لیے کوئی جذبہ انتقام وہ اپنے اندر نہیں رکھتا۔