76. Surah Al-Insaan
الانسانMan · 31 ayahsروح القرآن
اِنَّ هٰذِهٖ تَذْكِرَةٌ١ۚ فَمَنْ شَآءَ اتَّخَذَ اِلٰى رَبِّهٖ سَبِیْلًا Open ayah 76:29 in the Quran reader
یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے
اِنَّ ھٰذِہٖ تَذْکِرَۃٌ ج فَمَنْ شَآئَ اتَّخَذَ اِلٰی رَبِّہٖ سَبِیْلاً ۔ (الدہر : 29)
(یہ ایک نصیحت ہے، تو جو چاہے اپنے رب کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ )
بےنیازی کا اظہار
قریش اور اہل مکہ کو دلائل سے سمجھانے، تنبیہات کرنے اور اتمامِ حجت کے بعد نہایت بےنیازی سے فرمایا جارہا ہے کہ یہ ایک نصیحت ہے جو محض انسانوں کی بھلائی کے لیے کی جارہی ہے۔ اس میں نہ اللہ تعالیٰ کا کوئی نفع ہے اور نہ اس کے رسول ﷺ کی کوئی ذاتی غرض اس میں مضمر ہے۔ جس کا جی چاہے اسے قبول کرکے اپنے رب کی راہ اختیار کرے اور اپنی دنیا و عقبیٰ کو سنوار لے۔ اور جس کا جی چاہے اس سے اعراض کرکے اپنی عاقبت برباد کرلے۔
وَ مَا تَشَآءُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ كَانَ عَلِیْمًا حَكِیْمًاۗۖ Open ayah 76:30 in the Quran reader
اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقینا اللہ تعالیٰ بڑا علیم و حکیم ہے
یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّ لَهُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۠ Open ayah 76:31 in the Quran reader
اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے
وَمَا تَشَآئُ وْنَ اِلَّآ اَنْ یَّشَآئَ اللّٰہُ ط اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلِیْمًا حَکِیْمًا۔ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآئُ فِیْ رَحْمَتِہٖ ط وَالظّٰلِمِیْنَ اَعَدَّلَہُمْ عَذَابًا اَلِیْمًا۔ (الدہر : 30، 31)
(اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے، یقینا اللہ تعالیٰ بڑا علیم و حکیم ہے۔ اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ )
توفیق کے لیے اللہ تعالیٰ کی سنت
اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کو کتاب نصیحت و ہدایت بنایا اور نبی کریم ﷺ کو ہادی بنا کر بھیجا اور اس ہدایت کو قبول کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل اور شعور بخشا اس کی فطرت کو فجور اور تقویٰ کا الہام کیا۔ اور نفس لوامہ سے کسی حد تک اس کی مدد فرمائی۔ باایں ہمہ انسان کی ہدایت کو اپنی سنت اور قانون کا پابند ٹھہرایا۔ وہ یہ کہ کسی شخص کا نصیحت حاصل کرنا سراسر اس کی اپنی مشیت پر ہی موقوف نہیں ہے بلکہ اس کو نصیحت اس وقت نصیب ہوتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ کی مشیت یہ ہو کہ وہ اسے نصیحت حاصل کرنے کی توفیق بخشے۔ دوسرے لفظوں میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ بندے کا کوئی فعل بھی تنہا بندے کی اپنی مشیت سے ظہور میں نہیں آتا بلکہ ہر فعل اسی وقت پایہ تکمیل کو پہنچتا ہے جب اللہ تعالیٰ کی مشیت بندے کی مشیت سے مل جائے۔ اور اللہ تعالیٰ کی مشیت بندے کی مشیت سے اس وقت ملتی ہے جب وہ اپنے سمع و بصر سے کام لے اور خیر و شر اور حق و باطل کے درمیان امتیاز کی اس صلاحیت کی قدر کرے جو اس نے اس کے اندر ودیعت فرمائی ہے اور برابر اللہ تعالیٰ سے توفیق کی التجا کرتا رہے۔ مگر جو شخص اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ ان صلاحیتوں سے کام لینے کی بجائے حُبِ دنیا کا اسیر ہو کر عیش و عشرت کو ہی اپنا مقصد زندگی بنا لے اور کسی کلمہ نصیحت کو سننے کا روادار نہ ہو، ایسا شخص اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اس کی ہدایت سے محروم رہتا ہے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جن کے لیے اللہ تعالیٰ نے جہنم تیار کر رکھی ہے اور ان کا یہ انجام صرف اس وجہ سے ہوگا کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ صلاحیتوں سے کام لینے کی بجائے ناشکری کا راستہ اختیار کرکے اپنے اوپر ظلم کیا اور بجائے اپنے آپ کو رحمت کا مستحق بنانے کے جہنم کا مستحق بنا لیا۔ اللہ تعالیٰ چونکہ بندوں کے حالات سے بخوبی واقف ہے اس لیے وہ اپنے علم و حکمت کی بنیاد پر بندوں کے بارے میں فیصلے فرماتا ہے اور ایسے لوگ ہمیشہ محرومی کے فیصلے کی زد میں آجاتے ہیں۔