80. Surah Abasa
عبسHe frowned · 42 ayahsروح القرآن
وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌۙ Open ayah 80:38 in the Quran reader
کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے
ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌۚ Open ayah 80:39 in the Quran reader
ہشاش بشاش، خوش و خرم
وَ وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْهَا غَبَرَةٌۙ Open ayah 80:40 in the Quran reader
اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی
تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌؕ Open ayah 80:41 in the Quran reader
اور کلونس چھائی ہوگی
اُولٰٓئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ۠ Open ayah 80:42 in the Quran reader
یہ کافر و فاجر لوگ ہوں گے
وُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ مُّسْفِرَۃٌ۔ ضَاحِکَۃٌ مُّسْتَبْشِرَۃٌ۔ وَوُجُوْہٌ یَّوْمَئِذٍ عَلَیْھَا غَبَرَۃٌ۔ تَرْھَقُھَا قَتَرَہٌ۔ اُوْلٰٓئِکَ ھُمُ الْـکَفَرَۃُ الْفَجَرَۃُ ۔ (عبس : 38 تا 42)
(کچھ چہرے اس دن روشن ہوں گے۔ ہشاش بشاش، خوش و خرم۔ اور کچھ چہروں پر اس دن خاک اڑ رہی ہوگی۔ اور کلونس چھائی ہوگی۔ یہ کافر و فاجر لوگ ہوں گے۔ )
مُسْفِرَۃٌ … روشن اور تابناک۔ یہ اَسْفَرَالصُّبْحُ کے محاورے سے ماخوذ ہے۔ ضَاحِکَۃٌ مسکرانے والے چہرے، کیونکہ یہ وُجُوْہٌ کی صفت ہے۔
مُسْتَبْشِرَۃٌ … ہشاش بشاش۔
قیامت کے روز کافر اور مومن الگ الگ کردیئے جائیں گے۔ قرآن کریم میں ارشاد ہے وَامْتَازُوا الْیَوْمُ اَیُّھَاالْمُجْرِمُوْنَ ” اے مجرمو ! آج الگ ہوجاؤ۔ “ اس طرح سے فرمانبردار اور نافرمان جدا جدا کردیئے جائیں گے۔ اور ان میں سے ہر شخص اپنے چہرے سے پہچانا جائے گا کہ وہ مومن ہے یا کافر، اطاعت گزار ہے یا نافرمان، باغی ہے یا وفادار۔ ممکن ہے علامت کے طور پر ان کے چہروں کی یہ کیفیت بنادی جائے۔ لیکن اس بات کا بھی امکان ہے کہ ان میں سے ہر شخص جب اپنے انجام کو سامنے دیکھے گا کیونکہ جنت قریب کردی جائے گی اور مومن اسے دیکھیں گے۔ اور جہنم دھاڑ رہی ہوگی، اور کافر اسے دیکھ بھی رہے ہوں گے اور سن بھی رہے ہوں گے۔ اس منظر کو دیکھ کر چہروں پر علامتوں کا ظاہر ہونا فطری بات ہے۔ مومن جنت کو دیکھ کر شاداں اور فرحاں، ہشاش بشاش مسکراتے ہوئے اور دمکتے ہوئے چہروں والے ہوں گے۔ اور کافروں کو جیسے ہی اللہ تعالیٰ کے عتاب کا سامنا ہوگا اور وہ جہنم کی صورت میں اپنے انجام کو دیکھیں گے تو ان کے چہروں پر سیاہی چھا جائے گی۔ ان کے رنگ غبار میں اٹ جائیں گے۔ اس طرح سے یہ معاملہ کھل جائے گا کہ مومن اور کافر میں کیا فرق ہے۔ آج تو کافر مومنوں کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کی تنگدستی اور بدحالی پر پھبتیاں کستے ہیں اور غرہ یہ ہے کہ ہم یہاں جس طرح خوشحال اور عزت و وقار کے حامل ہیں قیامت کے دن بھی ہمیں اسی طرح نوازا جائے گا۔ اور یہ غریب لوگ آج بھی چیتھڑوں میں لپٹے ہوئے اور پیٹ پر پتھر باندھے پھرتے ہیں قیامت کے روز بھی ان کا یہی حال ہوگا۔ اس لیے کچھ چہروں کی آب و تاب اور کچھ چہروں کی رو سیاہی کا منظر دکھا کر واضح کردیا جائے گا کہ اصل حقیقت کیا ہے۔ اور مزید واضح کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ اگر پہچان نہیں سکے تو ہم واضح کیے دیتے ہیں کہ یہ جن سیاہ چہروں کو دیکھ رہے ہو یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بڑے بڑے کافر اور فاجر تھے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے منکر، اس کی نعمتوں کا کفران کرنے والے اور اس کے باغی و نافرمان تھے۔ تو یہ دونوں لفظ ان کی پہچان بھی ہیں اور ان کی فردقراردادِجرم کا اظہار بھی۔