88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsمعارف القرآن

Ayah 88:1

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

کچھ پہنچی تجھ کو بات اس چھپا لینے والی کی

خلاصہ تفسیر آپ کو اس محیط عام واقعہ کی کچھ خبر پہنچی ہے (مراد اس واقعہ سے قیامت ہے کہ تمام عالم کو اس کا اثر محیط ہوگا اور مقصود اس استفہام سے تشویق ہے جس سے کلام کے سننے کا اہتمام پیدا ہو، آگے بصورت جواب اس خبر کی تفصیل ہے یعنی) بہت سے چہرے اس روز ذلیل اور مصیبت جھلتے خستہ (اور درماندہ) ہوں گے (اور) آتش سوزاں میں داخل ہوں گے (اور) کھولتے ہوئے چشمے سے پانی پلائے جاویں گے (اور) ان کو بجز ایک خاردار جھاڑ کے اور کوئی کھانا نصیب نہ ہوگا جو نہ (تو کھانے والوں کو) فربہ کرے گا اور نہ (ان کی) بھوک کو دفع کر دے گا (یعنی انہ اس میں غذا بننے کی صلاحیت ہے نہ بھوک رفع کرنے کی، اور مصیبت جھیلنے سے مراد حشر میں پریشان پھرنا اور دوزخ میں سلاسل اور اغلال کو لادنا، دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اس کے اثر سے خستگی ظاہر ہے۔ اور کھولتا ہوا چشمہ وہی جس کو دوسری آیتوں میں حمیم فرمایا ہے اور اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں اس کا بھی چشمہ ہوگا، اور یہ فرمانا کہ اس کا طعام بجز ضریع کے اور نہ ہوگا اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی لذیذ کھانا نہیں ہوگا، ضریع ہی کی طرح زقوم یا غسلین کا اسکے کھانے میں شامل ہونا اسکے منافع نہیں، اور چہروں سے مراد اصحاب چہرہ ہیں یہ تو دوزخیوں کا حال ہوا، آگے اہل جنگ کا حال ہے یعنی) بہت سے چہرے اس روز بارونق (اور) اپنے نیک کاموں کی بدولت خوش ہوں گے (اور) بہشت بریں میں ہوں گے جن میں کوئی لغوبات نہ سنیں گے (اور) اس (بہشت) میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے (اور) اس (بہشت) میں اونچے اونچے تخت (بچھے) ہیں اور رکھے ہوئے آنجورے (موجود) ہیں (یعنی یہ سامان اسکے سامنے ہی موجود ہوگا تاکہ جب پانی کو جی چاہیں آرام کرلیں، ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا بھی نہ پڑے یہ تفصیل ہوئی جزا کی اور ان مضامین کو سن کر جو بعضے لوگ قیامت کا نکار کرتے ہیں جس میں یہ سب واقعات ہوں گے تو ان کی غلطی ہے کیونکہ) کیا وہ لوگ اونٹ کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح (عجیب طور پر) پیدا کیا گیا (کہ ہیت اور خاصیت دونوں بہ نسبت دوسرے جانوروں کے اسمیں عجیب ہیں) اور آسمان کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح بلند کیا گیا ہے اور پہاڑوں کو (نہیں دیکھتے) کہ کس طرح کھڑے کئے گئے اور زمین کو (نہیں دیکھتے) کس طرح بچھائی گئی ہے (یعنی ان چیزوں کو دیکھ کر قدرت الہیہ پر استدلال نہیں کرتے تاکہ اس کا بعث یعنی قیامت پر قادر ہونا سمجھ لیتے اور تخصیص ان چار چیزوں کی اسلئے ہی کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے رہتے تھے اس وقت انکے سامنے اونٹ ہوتے تھے اور اوپر آسمان اور نیچے زمین اور اطراف میں پہاڑ اسلئے ان علامات میں غور کرنے کیلئے ارشاد فرمایا گیا اور جب یہ لوگ باوجود قیام دلائل کے غور نہیں کرتے تو آپ بھی ان کی فکر میں زیادہ نہ پڑیئے بلکہ صرف) نصیحت کردیا کیجئے (کیونکہ) آپ تو بس صرف نصیحت کرنیوالے ہیں (اور) آپ ان پر مسلط نہیں ہیں (جو زیادہ فکر میں پڑیں) ہاں مگر جو روگردانی اور کفر کرے گا تو خدا اس کو (آخرت میں) بڑی سزا دے گا (کیونکہ) ہمارے ہی پاس ان کا آنا ہوگا پھر ہمارا ہی کام ان سے حساب لینا ہے (آپ زیادہ غم میں نہ پڑیئے)
Ayahs 88:2–3

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

کتنے منہ اس دن ذلیل ہونے والے ہیں

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

محنت کرنے والے تھکے ہوئے

معارف و مسائل وجوہ یومذ خاشعة عاملة ناصبة قیامت میں دو فریق مومن و کافر الگ الگ ہوجائینگے انکے چہرے الگ الگ پہچانے جائیں گے۔ ان کے چہرے الگ الگ پہچانے جائیں گے۔ اس آیت میں کافروں کے چہروں کا ایک حال یہ بتلایا ہے کہ وہ خاشعہ ہوں گے، خشوع کے معنے جھکنے اور ذلیل ہونے کے ہیں۔ نماز میں خشوع کا یہی مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ کے سامنے مجھکے اور ذلت و پستی کے آثار اپن وجود پر طاری کرے۔ جن لوگوں نے دنیا میں اللہ تعالیٰ کے سامنے خشوع و تذلل اختیار نہیں کیا اس کی سزا ان کو قیامت میں یہ ملے گی کہ وہاں ان کے چہروں پر ذلت اور رسوائی کے آثار نمایاں ہوں گے۔ دوسرا اور تیسرا حال ان کے چہروں کا یہ بیان فرمایا کہ عاملہ، ناصبہ ہوں گے، عاملہ کے لفظی سمعنے عمل اور محنت کرنے والے کے ہیں۔ محاورات میں عامل اور عاملہ اس شخص کے لئے بولا جاتا ہے جو مسلسل عمل اور محنت سے تھکا ماندہ چور ہوگیا ہو اور ناصبہ نصب سے مشتق ہے اس کے معنے بھی تھکنے اور تعب و مشقت میں پڑجانے کے ہیں۔ کفار و مجرمین کے یہ دو حال کہ عمل اور محنت سے تھکے درماندہ ہوں گے ظاہر یہ ہے کہ یہ حال ان کی دنیا کا ہے کیونکہ آخرت میں تو کوئی عمل اور محنت نہیں، اسی لئے قرطبی وغیرہ مفسرین نے اس کا یہ مفہوم قرار دیا ہے کہ پہلا حال یعنی چہروں پر ذلت و رسوائی یہ تو آخرت میں ہوگا اور عاملہ، ناصبہ کے دونوں حال ان لوگوں کے دنیا ہی میں ہوتے ہیں کیونکہ بہت سے کفار فجار مشرکانہ عبادت اور باطل طریقوں میں ماجہدہ و ریاضت دنیا میں کرتے رہتے ہیں۔ ہندوؤں کے جوگی، نصاریٰ کے راہب بہت سے ایسے بھی ہیں جو اخلاص کے ساتھ اللہ تعالیٰ ہی کی رضا جوئی کے لئے دنیا میں عبادت و ریاضت کرتے ہیں اور اس میں محنت شاقہ برداشت کرتے ہیں مگر وہ عبادت مشرکانہ اور باطل طریقہ پر ہونے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی اجر وثواب نہیں رکھتی تو ان لوگوں کے چہرے دنیا میں بھی عاملہ ناصبہ رہے اور آخرت میں ان پر ذلت و رسوائی کی سیاہی چھائی ہوگی۔ حضرت حسن بصری ؒ نے روایت کیا ہے کہ حضرت فاروق اعظم جب ملک شام میں تشریف لے گئے تو ایک نصرانی راہب آپ کے پاس آیا جو بوڑھا تھا اور اپنے مذہب کی عبادت و ریاضت اور مجاہدہ و محنت میں لگا ہوا تھا۔ محنت سے اس کا چہرہ بگڑا ہوا، بدن خشک لباس خستہ و بدہیبت تھا، جب فاروق اعظم نے اس کو دیکھ اتو آپ رو پڑے لوگوں نے رونے کا سبب پوچھا تو فاروق اعظم نے فرمایا کہ مجھے بوڑھے کے حال پر رحم آیا کہ اس بیچارے نے ایک مقصد کے لئے بڑی محنت و جانفشانی کی مگر وہ اس مقصد یعنی رضائے الٰہی کو نہیں پاسکا اور اس ضر حضرت عمر نے یہ آیت تلاوت فرمائی وجوہ یومئذ خاشعة، عاملہة ناصبتة (قرطبی)
Ayahs 88:4–5

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

گریں گے دہکتی ہوئی آگ میں

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

پانی ملے گا ایک چشمے کھولتے ہوئے کا

ناراً حامیہ، حامیہ کے لفظیمعنے گرم کے ہیں اور آگ کا گرم ہونا اس کا طبعی حال ہے پھر اس کی صفت خاصہ بیان کرنا یہ بتلانے کے لئے ہے کہ اس آگ کی گرمی دنیا کی آگ کی طرح کسی وقت کم یا ختم ہونے والی نہیں بلکہ یہ حامیہ دائماً ہے۔
Ayah 88:6

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

نہیں ان کے پاس کھانا مگر جھاڑ کانٹوں والا

لیس لھم طعام الا من ضریع یعنی اہل جہنم کو کھانے کے لئے ضریع کے سوا کچھ نہ ملے گا۔ ضریع دنیا میں ایک خاص قسم کی خار دار گھاس ہے جو زمین پر پھیلتی ہے کوئی جانور اس کے پاس نہیں جاتا بدبو دار زہریلی کانٹوں والی ہے (کذافسرہ عکرمہ و مجاہد، قرطبی) جہنم میں گھاس درخت کیسے۔ یہاں یہ شبہ نہ کیا جائے گا کہ گھاس درخت تو آگ سے جل جانے الی چیزیں ہیں جہنم میں یہ کیسے رہیں گی کیونکہ جس خالق ومالک نے ان کو دنیا میں پانی اور ہوا سے پالا ہے اس کو یہ بھی قدرت ہے کہ جہنم میں ان درختوں کی غذا آگ ہی بنا دے وہ اسی سے پھلیں پھولیں۔ ایک شبہ کا جواب۔ قرآن میں اہل جہنم کی غذا کے بارے میں مختلف چیزوں کا ذکر آیا ہے۔ یہاں ضریع ان کی غذا بتلائی ہے۔ دوسری جگہ زقوم اور تیسری جگہ غسلین، تو اس آیت میں جو حصر کیساتھ بیان کیا گیا ہے کہ اہل جہنم کو کوئی غذا بجز ضریع کے نہ دی جائے گی، یہ حصر بمقابلہ اس غذا کے ہے جو کھانے کے لائق خوشگوار جزء بدن بننے والی ہو اور ضریع بطور مثال کے لایا گیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اہل جہنم کو کوئی کھانے کے لائق غذا نہیں ملے گی بلکہ ضریع جیسی تکلیف وہ مضر چیزیں دی جائیں گی اس لئے ضریع میں حصر مقصود نہیں بلکہ زقوم اور غسلین بھی ضریع میں شامل ہیں اور قرطبی نے فرمایا کہ ہوسکتا ہے کہ جہنم کے مختلف درکات طبقات میں ان کی مختلف غذائیں ہوں کہیں ضریع کہیں زقوم کہیں غسلین۔
Ayahs 88:7–10

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

نہ موٹا کرے اور نہ کام آئے بھوک میں

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

کتنے منہ اس دن تروتازہ ہیں

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنی کمائی سے راضی

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

اونچے باغ میں

لایسمن ولایغنی من جوع آیت سابقہ میں جو اہل جہنم کی غذاضریع بتلائی گئی ہے بعض کفار مکہ نے جب یہ آیت سنی تو کہنے لگے کہ ہمارے اونٹ تو ضریع کھا کر خوب فربہ ہوجاتے ہیں ان کے جواب میں فرمایا کہ جہنم کے ضریع کو دنیا کے ضریع پر قیاس نہ کرو۔ وہاں کے ضریع سے نہ فربہی پیدا ہوگی اور نہ بھوک سے نجات ملے گی۔
Ayahs 88:11–13

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

نہیں سنتے اس میں بکواس

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں ایک چشمہ ہے بہتا

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

اس میں تخت ہیں اونچے بچھے ہوئے

لاتسمع فیھا لاغیة، یعنی جنت میں کوئی ایسا کلام ایسی بات اہل جنت کے کان میں نہ پڑیگی جو لغو و بیہودہ اور دلخراش ہو۔ اس میں کلمات کفر یہ باطلہ بھی آگئے اور گالی گلوچ، افتراء و بہتوان الزام لگانا اور ایسے سب کلام آگئے جن کو سن کر انسان کو ایذا پہنچتی ہے۔ دوسری جگہ قرآن کریم نے اسی کو اس طرح بیان فرمایا ہے کہ لایسمعون فیھا لغواً ولا تاثیماً یعنی اہل جنت جنت میں کوئی لغوبات یا الزام لگانے کی بات نہ سنیں گے۔ اس کے علاوہ بھی کئی جگہ یہ مضمون قرآن کریم میں مذکور ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ الزام تراشی اور بےتکی بےڈھنگی باتیں بڑی ایذا کی چیز ہے اسی لئے قرآن کریم نے اہل جنت کے حالات میں اہتمام سے اس کو بیان فرمایا کہ اہل جنت کے کانوں میں کبھی کوئی ایسا کلمہ نہیں پڑیگا جس سے ان کا دل برا اور میلا ہو۔
Ayahs 88:14–16

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور آنجورے سامنے مچنے ہوئے

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور غالیچے برابر بچھے ہوئے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور مخمل کے نہالچے جگہ جگہ پھیلے ہوئے

بعض آداب معاشرت واکواب موضوعة اکواب، کو ب کی جمع ہے، پانی پینے کے برتن کو کہا جاتا ہے جیسے آبغورے، گلاس وغیرہ اس کی صفت میں لفظ موضوعہ یعنی اپنی مقررہ جگہ پر پانی کے قریب رکھے ہوئے ہوں گے۔ یہ فرما کر آداب معاشرت کے ایک اہم باب کی تلقین فرمائی گئی ہے کہ پانی پینے کے برتن پانی کے قریب مقررہ جگہ پر رہنے چاہئیں وہاں سے ادھر ادھر ہوجائیں اور پانی پینے کے وقت تلاش کرنا پڑے یہ ایذاو تکلیف کی چیز ہے اس لئے ہر شخص کو اس کا اہتمام چاہئے کہ ایسی استعمالی چیزیں جو سب گھر والوں کے کام میں آتی ہے جیسے لوٹے، گلاس، تولیہ وغیرہ ان کی جگہ مقرر رہنی چاہئے اور استعمال کرنے کے بعد اس کو وہیں رکھنا چاہئے تاکہ دوسروں کو تکلیف نہ پہنچے۔ یہ اشارہ لفظ موضوعہ سے اس لئے نکلا کہ حق تعالیٰ نے اہل جنت کی راحت و آسائش کے لئے اس کے ذکر کا اہتمام فرمایا کہ ان کے پانی پینے کے برتن پانی کے قریب رکھے ہوئے ملیں گے۔
Ayahs 88:17–26

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

بھلا کیا نظر نہیں کرتے اونٹوں پر کہ کیسے بنائے ہیں

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان پر کہ کیسا اس کو بلند کیا ہے

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں پر کہ کیسے کھڑے کردیئے ہیں

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین پر کہ کیسی صاف بچھائی ہے

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

سو تو سمجھائے جا تیرا کام تو یہی سمجھانا ہے

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

تو نہیں ان پر داروغہ

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

مگر جس نے منہ موڑا اور منکر ہو گیا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو عذاب کرے گا اس پر اللہ وہ بڑا عذاب

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بیشک ہمارے پاس ہے ان کو پھر آنا

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر بیشک ہمارا ذمہ ہے ان سے حساب لینا۔

افلاینظرون الی الابل کیف خلقت، آلایتہ قیامت کے احوال اور اس میں مومن و کافر کی جزاء و سزا کا بیان فرمانے کے بعد ان جاہل معاندین کی ہدایت کی طرف توجہ فرمائی جو اپنی بےوقوفی سے قیامت کا انکار اس بناء پر کرتے ہیں کہ انہیں مرنے اور مٹی ہوجانے کے بعد دوبارہ زندہ ہونا بہت بعید بلکہ محال نظر آتا ہے ان کی ہدایت کے لئے حق جل شانہ نے اپنی قدتر کی چند نشانیوں میں غور کرنے کا ان آیتوں میں ارشاد فرمایا ہے اور اللہ کی قدرت کی نشانیاں تو آسمان و زمین میں بیشمار ہیں، یہاں ان میں سے ایسی چار چزیوں کا ذکر فرمایا جو عرب کے بادیہ نشین لوگوں کے مناسب حال ہیں کہ وہ اونٹوں پر سوار ہو کر بڑے بڑے سفر طے کرتے ہیں اس وقت ان کے سب سے زیادہ قریب اونٹ ہوتا ہے اوپر آسمان اور نیچے زمین اور دائیں بائیں اور آگے پیچھے پہاڑوں کا سلسلہ ہوتا ہے انیں چاروں چیزوں میں ان کو غور کرنے کا حکم دیا گیا کہ دوسری آیات قدرت کو بھی چھوڑو انہیں چار چیزوں میں غور کرو تو حق تعالیٰ کی ہر چیز پر قدرت کاملہ کا مشاہدہ ہوجائے گا۔ اور جانوروں میں اونٹ کی کچھ ایسی خصوصیات بھی ہیں جو خاص طور سے غور کرنے والے کے لئے حق تعالیٰ کی حکمت وقدرت کا آئینہ بن سکتی ہیں۔ اول تو عرب میں سب سے زیادہ بڑا جانور اپنے ڈیل ڈول کے اعتبار سے اونٹ ہی ہے، ہاتھی وہاں ہوتا نہیں دوسرے حق تعالیٰ نے اس عظیم الحبثہ جانور کو ایسا بنادیا ہے کہ عرب کے بدو اور غریب مفلس آدمی بھی اس اتنے بڑے جانور کے پالنے رکھنے میں کوئی مشکل محسوس نہ کریں کیونکہ اس کو چھوڑ دیجئے تو یہ اپنا پیٹ خود بھر لیگا اونچے درختوں کے پتے توڑنے کی زحمت بھی آپ کو نہیں کرنا پڑتی یہ خود درختوں کی شاخیں کھا کر گزارہ کرلیتا ہے۔ ہاتھی اور دوسرے جانوروں کی سی اس کی خوراک نہیں جو بڑی گراں پڑتی ہے۔ عرب کے جنگلوں میں پانی ایک بہت ہی کمیاب چیز ہے، ہر جگہ ہر وقت نہیں ملتا۔ قدرت نے اس کے پیٹ میں ایک ریزرو ٹینکی ایسی لگا دی ہے کہ سات آٹھ روز کا پانی پی کر یہ اس ٹنکی میں محفوظ کرلیتا ہے اور تدریجی رفتار سے وہ اس کی پانی کی ضرورت کو پورا کردیتا ہے۔ اتنے اونچے جانور پر سوار ہونے کے لئے سیڑھی لگانا پڑتی مگر قدرت نے اس کے پاؤں کو تین تہہ میں تقسیم کردیا یعنی ہر پاؤں میں دو گھٹنے بنا دیئے کہ وہ طے کر کے بیٹھ جاتا ہے تو اس پر چڑھنا اور اترنا آسان ہوجاتا ہے۔ محنت کش اتنا ہے کہ سب جانوروں سے زیادہ بوجھ اٹھا لیتا ہے۔ عرب کے میدانوں میں دن کا سفر دھوپ کی وجہ سے سخت مشکل ہے قدرت نے اس جانور کو رات بھر چلنے کا عادی بنادیا ہے۔ مسکین طبع ایسا ہے کہ ایک لڑکی بچی اس کی مہاپکڑ کر جہاں چاہے لیجائے اس کے علاوہ اور بہت سی خصوصیات ہیں جو انسان کو حق تعالیٰ کی قدرت و حکمت بالغہ کا سبق دیتی ہیں۔ آخر سورت میں رسول اللہ ﷺ کی تسلی کے لئے فرمایا کہ آپ کو ہم نے اس پر مسلط نہیں کیا کہ سب کو مومن ہی بنادیں لست علیھم بمصیطر بلکہ آپ کا کام تبلیغ کرنے اور نصیحت کرنے کا ہے وہ کر کے آپ بےفکر ہوجائیں، ان کا حساب کتاب اور جزا و سزا سب ہمارا کام ہے۔ تمت سورة الغاشیہ بحمداللہ لیلتہ یوم الاثنین 19 شعبان 1391 ھ