Ayah 88:1کیا آپ ﷺ کو دنیا پر چھا جانے والی کی بھی خبر پہنچی ہے
1 ؎ (الغاشیۃ) اسم فاعل واحد مؤنث۔ ہر طرف سے گھیر لینے والی ، عقوبت اور چھا جانے والا عذاب ۔ مراد اس سے قیامت ہے کیونکہ بلندیوں اور پستیوں میں کوئی چیز ایسی نہ رہے گی جس پر قیامت کی ہلاکت آفرینیوں کا اثر نہ ہوگا جیسا کہ اس سے پہلے کئی بار گزر چکا ہے کہ آسمانوں اور زمینوں کا پورا نقشہ بدل دیا جائے گا اور قیامت یکبارگی سب کو ڈھانپ لے گی اور اس طرح کی افراتفری پیدا ہوگی کہ کوئی کسی کو نہیں پہچانے گا اور نہ ہی کسی کا کوئی غم خوار ہوگا کہ اس کی خبر گیری کرے۔ خطاب بظاہر نبی کریم ﷺ کو معلوم ہوتا ہے کیونکہ اس طرح مخاطب کیا گیا ہے لیکن حقیقت میں مخاطب آپ ﷺ کو نہیں کیا گیا بلکہ ہر اس شخص کو خطاب ہے جو قیامت کا انکار کرنے والا ہے اور اس طرح سے ان کو پوچھنے میں حکمت یہ ہے کہ کل آنے والے میں یہ لوگ بھی ہوں گے اور قیامت کا روز بھی ہوگا پھر ان کو آج جس طرح یاددہانی کرائی جا رہی ہے یہ بعینہٖ ان کے سامنے آجائے گی اور وہ جب وہ شرمندوں ہوں گے تو اس طرح ان کی شرمندگیوں میں مزیداضافہ ہوجائے گا ۔ آج ان سے اس طرح کی بات کہی جا رہی ہے کہ شاید ان کو شرم آئے اور وہ بات کو سمجھ کر اپنی اصلاح کرلیں ۔
Ayah 88:2اس دن کتنے چہرے اترے ہوئے ہوں گے
2 ؎ دنیا میں جب انسان نے قدم رکھا اس وقت سے لے کر آج تک کتنی گروہ بندیاں بن چکی ہیں اور پھر ایک طرح کی گروہ بندیاں نہیں مذہب کے نام پر بھی ہیں ، سیاست کے نام پر بھی ، خاندانی گروہ بندیاں بھی ہیں اور پیشوں کے لحاظ سے بھی ، ملک و ملت کے نام پر بھی ، زبان اور رنگت کے نام پر بھی لیکن جس چیز کا نام قیامت ہے اس روز یہ ساری گروہ بندیاں ختم کردی جائیں گی اور ان میں سے کسی کا نام لے کر بھی ان کو نہیں بلایا جائے گا بلکہ پوری انسانیت کو تین گروہوں میں تقسیم کردیا جائے گا جیسا کہ اس کی وضاحت سورة الواقعہ میں کردی گئی ہے۔ ایک ان میں مقربین کا گروہ ہوگا جن کو ( سابقون الاولون) کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور دوسرا گروہ دائیں والوں کا ہوگا جن کا نام ( اصحاب الیمین) ہوگا اور تیسرا گروہ وہ ہوگا جو برائیاں کرنے والے ہوں گے اور ان کو ( اصحاب الشمال) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ زیر نظر آیت میں ان لوگوں کا ذکر ہے جن کو ( اصحاب الشمال) کہا گیا ہے اور اس جگہ فرمایا گیا ہے کہ ان کے چہرے اترے ہوئے ہوں گے اور دیکھنے والے محسوس کریں گے گویا یہ لوگ ہیں جو قیامت کے منکر تھے۔ اللہ تعالیٰ کے رسول ﷺ کو جھٹلانے والے اور قرآن کریم کو اللہ تعالیٰ کا کلام ماننے والے نہ تھے اور آج جب ان کو معلوم ہوجائے گا کہ ہم سے جو کچھ کہا جاتا تھا وہ بالکل حق اور سچ تھا تو ان کے چہرے اتر جائیں گے اور ڈرتے ہوں گے کہ اب ہمارے ساتھ نہ معلوم کیا ہونے والا ہے اس بات کا خوف ان کو لا حق ہوگا۔
Ayah 88:3وہ محنت کرنے والے تھے لیکن آخرت میں تھکے ہوئے ہوں گے
3 ؎ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں بہت محنت و مشقت کرتے رہے تھے لیکن ان کی ساری محنت و مشقت دنیا کی خاطر تھی اس میں آخرت کے لیے انہوں نے کچھ نہیں کیا ہوگا کیونکہ قیامت کے تو وہ منکر تھے اور اس کو مانتے ہی نہ تھے اس لیے ان لوگوں کا ذکر فرمایا جا رہا ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں عمل کر کے تھک گئے ، انہوں نے جو کچھ دین کے نام پر کیا وہ بھی بدعات تھیں جن کا نام انہوں نے یا ان کے آبائو اجداد نے یا انکے پیروں اور مرشدوں نے اور مذہبی پروہتوں نے ان کو باور کرایا ہوگا کہ یہ دین کے کام ہیں حالانکہ ان کا دین سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوگا۔ اس وقت آپ غور کریں گے تو آپ کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو اس وقت بھی کثرت سے موجود ہیں کہ دین کے نام پر انہوں نے جتنے کام اختیار کیے ہیں ان میں سے کسی ایک کا تعلق بھی اسلام کے ساتھ نہیں ہے جو لوگ غیر اللہ کی نذر و نیاز کا نظریہ رکھتے ہیں اور نیاز کے نام سے کھانے پکاتے اور تقسیم کرتے ہیں اور اس کا نام انہوں نے گیارہوں شریف ، نیاز شریف اور بھنڈار رکھا ہے لیکن کبھی کسی دربار کی نذر چڑھا رہے ہیں اور کبھی کسی دربار کی طرف بھاگ دوڑ رہے ہیں اور نہایت اہتمام سے یہ کام کرتے ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ دین کا کام کر رہے ہیں ۔ اس طرح تیسرے ، چوتھے ، ساتویں ، دسویں ، چالیسویں اور برسی کا نام ان کو دیتے ہیں اور کسی کو قل کی رسم قرار دیتے ہیں ۔ ان سارے کاموں میں بڑے اہتمام سے لگے ہیں یہ وہی ہیں جن کے متعلق اس جگہ صرف دو لفظ میں ان کی ساری تاریخ بند کردی ہے کہ یہ مشقت میں لگے رہے ہیں اور اس طرح محنت و مشقت کرتے رہے ہیں کہ یہ کام کر کے تھک گئے کیونکہ انہوں نے وقت بھی لگایا اور پیسہ بھی خرچ کا لیکن اس کا کچھ حاصل نہ ہوا کیونکہ انہوں نے جو کچھ کیا اس کا تعلق دین سے بالکل نہیں تھا۔ اس طرح انہوں نے جو محنت و مشقت کی ساری رائیگاں گئی کیونک وہ سب بیکار تھی ۔ جس گاڑی پر آدمی کو سوار ہونا تھا اس کا وقت تین بجے کا تھا لیکن وہ ٹھیک اپنے گھر سے تین بجے نکلا اور بھاگ بھاگ کر تھک گیا اور سٹیشن پر پہنچا تو پسینہ سے شرابور تھا اور سانس پھولی ہوئی تھی ، اس کی ہوائیاں اڑی ہوئی تھیں لیکن گاڑی تو اس وقت ہی چھوٹ چکی تھی جب وہ گھر سے نکلام تھا اب اس کی اس محنت کا کوئی نتیجہ ہرگز نہیں نکلے گا بلکہ اگر اب اس کو دوسری گاڑی پر جانا ہے تو بھی اس جگہ بیٹھ کر بور ہوگا اور اس کے علاوہ اس کو کچھ حاصل نہ ہوگا اور وہ ٹکٹ جو اس نے خریدی تھی وہ بھی تقریباً ضائع ہوگئی یہی حال اس بدعت کے کمانے والے کا ہے کہ جس کام کو وہ دین کے نام سے کرتا رہا اس کا دین سے کوئی تعلق نہ تھا اس لے قیامت کے روز وہ اسی طرح خالی ہاتھ ہوگا جس طرح کچھ نہ کرنے والے خالی ہاتھ ہوں گے بلکہ اس کی حالت ان سے بھی گئی گزری ہوگی اس لیے کہ ایک تو وہ بہت عمل کرنے والا تھا اور دوسرے اس کو اس وقت اس لائن میں کھڑا کرلیا جائے گا جو بدعتوں کے مرتکبین کی لگائی گئی ہوگی اور اس طرح کا دوہرا نقصان ہوگا ۔ بہر حال یہ جو ہم نے عرض کیا ہے اس کو کسی مفسر نے بیان نہیں کیا بلکہ سب نے دوزخ میں پہنچ کر عمل کرنے کا ذکر کیا ہے کہ وہ لوگ دوزخ میں کام پر لگائے گئے ہوں گے اور وہاں کام کر کے تھک چکے ہوں گے حالانکہ کتاب و سنت میں اس کو کوئی مثال نہیں ملتی کیونکہ دوزخ میں کسی انسان کا بطور سزا بھی کام کرنا ثابت نہیں ہے کیونکہ وہ دارالعمل نہیں ہے کہ اس میں عمل کا کوئی تصور ہو خواہ وہ اچھا عمل ہو یا برا ۔ پورا قرآن کریم آپ کے سامنے ہے جس طرح جنت میں کسی جنتی کو کوئی کام نہیں کرنا ہوگا اسی طرح کسی دوزخ کو بھی دوزخ میں کوئی کام نہیں کرنا ۔ ہاں ! جنت والوں کو جو انعامات دیئے جائیں گے وہ ان میں خوش ہوں گے اور اہل دوزخ کو جو کچھ کھانے کے لیے پیش کیا جائے گا وہی ان کے لیے سزا کا سماں پیدا کر دے گا جب کہ ان کو تھوہر کھانا پڑے گا اور پیپ پینا پڑے گی اور پھر کھولتا ہوا پانی ان کو پلایا جائے گا اور صرف یہی نہیں بلکہ ان کو جلتی ہوئی آگ میں پھینکا جائے گا اور پھر اس پر طرہ یہ کہ ان کے لیے موت بھی نہیں ہوگی کہ موت ہی سے اس سزا سے بچ سکنے کی ان کو کوئی امیدہو۔
Ayah 88:4ان محتیوں کی جماعت کو ایک بھڑکی ہوئی آگ میں داخل کیا جائے گا
4 ؎ ان کو اس آگ کی نذر کیوں نہ کیا جاتا جب کہ وہ دنیا میں اپنی خواہشات اور جذبات کی قید میں پڑے رہے تھے اور وہ جذبات اور خواہشات میں تو ہیں جن کو اس وقت جلتی ہوئی آگ میں بدل دیا گیا ہے کیونکہ ان کے اعمال محض ان کی خواہشات ہی تھیں وہ اعمال اسلام کے اعمال کب تھے کہ ان کا کوئی اجر اور ثواب ان کو ملتا ۔ دنیا میں ان لوگوں نے جس طرح کی ریاضت کی تھی اور مجاہدات میں دن رات مصروف رہے ہیں اور چلہ کشیاں کرتے رہے ہیں ان سے بھی ان کا مقصود دنیا کی کمائی تھا اور وہ انہوں نے خوب کمائی اور اس دھوکا بازی سے لوگوں کو خوب لوٹا اور ان مکاریوں اور فریب کاریوں سے وہ لوگوں کی نگاہوں میں پاکبازبنے رہے اور لوگ ان کو بزرگ سمجھ کر ان کو خوب پذیرائی کرتے رہے۔ انہوں نے دنیا میں کیا کیا مشقتیں کی تھیں کہ وہاں ان کو نہایت سخت عذاب میں جکڑا گیا ۔ ستر ستر ہاتھ لمبی زنجیروں میں ان کو باندھا گیا اور لوہے کے گرزان پر گردن پر دلائے گئے۔ دنیا میں انہوں نے لوگوں کو جس طرح دھوکے اور فریب میں مبتلا رکھا اس وقت وہ خود فریب خود رہ ٹھہرے۔
Ayah 88:5ان کو کھولتے ہوئے چشمہ سے پانی پلایا جائے گا
5 ؎ ( انیۃ) سخت کھولی ہوئی انتی سے جس کے معنی سخت کھولنے اور پکنے کے ہیں ۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث ۔ عین جس کے معنی چشمہ کے ہیں اردو میں مذکر استعمال ہوتا ہے اور عربی زبان میں اس کی مؤنث کے طور پر استعمال کرتے ہیں ۔ گزشتہ آیات میں کفار کی دوزخی زندگی کا ذکر کیا گیا ہے۔ فرمایا ان مخالفین و معاندین کو فرشتے زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہوں گے اور آگ میں بھنے جا رہے ہوں گے اور ان کو پیاس کی شدت ہوگی اور پینے کی پانی ملے گا ۔ وہ ایسے چشمے سے ان کو پلایا جائے گا جو گرمی کی شدت کے باعث کھول رہا ہوگا اور کھانے کے لئی ان کو جو کچھ پیش کیا جائے گا اس کا ذکر آگے آ رہا ہے غور کرو۔ گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ دنیا کی خواہشات و جذبات کو پورا کرنے کے لیے جو تگ ودو ہوتی ہے اس سے انسان کو کبھی ٹھنڈک اور طمانیت نصیب نہیں ہوسکتی اور جس چیز کو بھی وہ اپنی طمانیت اور سکینت کے لیے حاصل کرنا چاہتا ہے اور اس کو دنیا کی پیاس بجھنے کا وہ ایک ذریعہ سمجھتا ہے وہ جب ملتی ہے تو بجائے سکنیت اور ٹھنڈک کے گرم پانی کی طرح اس کی بےچینی اور کرب کو بڑھاتی ہے اور تسکین دینے کی بجائے وہ دنیا کی آگ کو اور بھڑکاتی ہے اور یہی کھولتا ہوا پانی آخرت میں اس کو پیش کیا جائے گا جسے پینے سے نہ تو پیاس بجھتی ہے اور نہ ٹھنڈک اور تسکین حاصل ہوتی ہے۔
Ayah 88:6ان کا کھانا سوائے خار دار جھاڑ کے اور کچھ نہ ہو گا
6 ؎ (ضریع) خار دار جھاڑ ۔ کانٹے ہی کانٹے۔ چناچہ صحیح بخاری میں ہے کہ ( ضریع) ایک گھاس ہے جس کو شبرق بھی کہا جاتا ہے اور یہی گھاس جب سوکھ جاتی ہے تو اہل حجاز اس کو ( ضریع) سے موسوم کرتے ہیں اور یہ ایک قسم کا زہر ہے۔ ( بدر الدین یمنی) ایک بدبودار گھاس ہے جس کو سمندر کنارے پر ڈال دیتا ہے۔ ( عمدۃ القاری) خیال رہے کہ اس جگہ سورة الغاشیہ ہی میں ( ضریع) کا لفظ آیا ہے جس کا مفہوم اوپر بیان کیا گیا ورنہ دوسری جگہ قرآن کریم میں اس کو ( شجرۃ الزقوم) (44 : 43) (من شجر من زقوم) (56 : 52) اور زقوم کو ہمارے ہاں تھوہر (Cactus) سے موسوم کیا جاتا ہے جو کانٹے دار بھی ہوتا ہے اور بہت کریہہ اور کڑواہٹ میں بھی وہ اپنا ثانی نہیں رکھتا۔ شکل و صورت خراب اور بری ، بد مزہ اور سخت کڑوا ہے اور ( ضریع) کے متعلق بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جو طعام کہ بسبب ضرامت اور خواری اور طبیعت کی بد مزگی کا پودہ (ضریع) ہے اس صورت میں وہ اشکال بھی رفع ہوجاتا ہے۔ ( تفسیر فتح العزیز سورة الغاشیہ) اگر تم ذرا غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ دنیا طلبی کی بھوک کا نقشہ ہے جو آخرت میں ظاہری طور پر محسوس ہوگی ۔ دنیا دار انسان دن رات دنیا طلبی میں لگا رہتا ہے اور جس قدر بھی دنیا حاصل کرتا ہے تو اس کے باطنی وجود کی جس نے آخرت میں ظاہر ہونا ہے کوئی نشو ونما ہوتی ہے اور نہ ہی اس کی دنیوی بھوک میں کوئی کمی ہوتی ہے جیسا کہ شیخ سعدی (رح) نے کہا ہے ؎
چشم ننگ مرد دنیا دار را یا قناعت پر کند یا خاک گور
پس جہنم کیا ہے ؟ اللہ تعالیٰ کی اپنی ہی خواہشات و جذبات کا ایک رنگ ہے یا ایک کیف ہے۔ یہ کھولتے ہوئے پانی اور کانٹے دار درخت اس دنیا طلبی کے نتائج ہیں جن سے فطرت کی پیاس اور بھوک کبھی نہیں بجھتی اور اس کی روح کو سکنیت اور ٹھنڈک کبھی نصیب نہیں ہوتی۔
Ayah 88:7جو نہ تو فربہ کرے گا اور نہ ہی بھوک کو رفع کرے گا
7 ؎ کفار کو کھانے کے لیے جو پیش کیا جائے گا وہ ( زقوم) ہے یا ( ضریع) ہے یا دونوں ہیں یا دونوں نام ایک ہی چیز کے ہیں یا ایک جیسا ہونے کے باعث ان کو کھانے میں پیش کرنے کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے ۔ فرمایا وہ کھائیں گے تو مجبوراً کھائیں گے گویا ان کو وہ سزا ً کھانا پڑے گا اور یہ بھی ہے کہ وہ بھوک ہڑتال سے مر نہیں سکیں گے اور انجام کار کچھ کھانا ہی پڑے گا حالانکہ کھانے کے جو مقصد ہوتے ہیں وہ بھی اس پورے نہیں ہوں گے کیونکہ نہ تو بھوک میں کمی آئے گی اور نہ ہی اس سے بدن موٹا اور تازہ ہوگا اور غذا کے یہ دو ہی فائدے ہوتے ہیں ایک یہ کہ وہ معدہ میں ہضم ہو کر جزو بدن بنتی ہے اور انسان کے جسم کو وہ نشو ونما دیتی ہے اور دوسرا یہ کہ معدہ بھر کر بھوک کو تسکین بخشتی ہے۔ اگر کوئی کھانا ثقیل یا ادنیٰ قسم کا ہو تو خواہ وہ ہضم ہو کر جزو بدن نہ بن سکے یا اس کے اندر اعلیٰ غذائیت نہ ہو تو کم از کم اس کا اثر اتنا تو ضرور ہوتا ہے کہ بھوک کی آگ کو تو ٹھنڈا کردیتا ہے لیکن آخرت میں کافروں کو ملنے والی غذا یہ دونوں کام نہیں کرے گی ۔ فقط ان کو بطورر سزا کھاناے پڑے گا اور کھا لینے کے بعد جو وہ کھلبلی ڈالے گی وہ اس کے سوا ہوگی اور پھر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا پانی دیا جائے گا تو وہ اس کھلبلی میں مزید اضافہ کر دے گا اور اس طرح کے کھانے اور پینے سے یہی کچھ اصل مقصود ہے۔
Ayah 88:8کتنے چہرے اس روز تر و تازہ ہوں گے
8 ؎ بد بختوں کے ذکر کے بعد اب نیک بختوں کیا ذکر کیا جا رہا ہے جو دنیا میں نیک عمل کرتے رہے ، آخرت کو انہوں نے تسلیم کیا اور اللہ کی کتاب قرآن کریم کو ابدی ہدایت کی کتاب مانا اور محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی ہیں انہوں نے کیا جو کچھ کیا اور پھر جن حالات سے بھی وہ دو چار ہوئے ان کو انہوں نے بخوشی قبول کیا اور آج بحمد اللہ قیامت کے روز وہ پاس ہوگئے ان میں ایسے بھی ہیں جن کو بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخلہ مل گیا اور وہ بھی ہیں جن کے اعمالنامے ان کے داہنے ہاتھ میں دیئے گئے جو ان کے پاس (Pass) ہوجانے کی علامت ہے۔ ان کے ناموں کے متعلق قرآن کریم نے پہلے ہی بتا دیا ہے کہ بعض تو ان میں ( سابقون الاولون) کہلائیں گے اور ان کا دوسرا نام (مقربین) بھی ہے اور بعض کو جو ان سے کچھ کم درجہ رکھتے ہوں گے ان کو ( اصحاب الیمین) کے نام سے موسوم کیا جاتا ہے۔ مثل ہے کہ کھایا منہ اور نہائے بال چھپے نہیں رہتے۔ دنیا میں جب بھی رزلٹ نکلتا ہے تو کامیاب طالب علموں کے چہرے کھل جاتے ہیں اور وہ پہچانے جاتے ہیں کہ یہ پاس ہو کر آئے ہیں اور ناکام ہونے والوں کے چہرے بھی ان کی ناکامی کی خبر دے دیتے ہیں اسی طرح دنیا میں بھی جب بھی کوئی اپنی کی ہوئی محنت کا صحیح پھل پاتا ہے تو اس کو خوش ہوتی ہے اور اسی کی خوشی اس کے چہرے سے ٹپکنے لگتی ہے حالانکہ یہ خوشی خواہ کسی طرح ہی کی کیوں نہ ہو بالکل عارضی ہوتی ہے کیونکہ یہ دن ہی گنتی کے ہیں جن کو نکلتے کوئی دیر نہیں لگتی ایک آدمی اپنی زندگی میں کتنے ہی آدمی اپنے ہاتھوں ، اپنے گھر میں بسنے والے اپنی آنکھوں کے سامنے قبر میں رکھتا ہے ۔ میری زندگی کا توتریسٹھواں سال جا رہا ہے اور میں نے اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے ہی گھر کے چھوٹے بڑے افراد میں سے 113 افراد قبرستان کی طرف جاتے دیکھے ہیں اور اب میں خود بھی جانے والا ہوں اس کے باوجود اس دنیوی زندگی کو ایک عارضی زندگی نہ سمجھا جائے تو اس سے بڑی بیوقوفی اور کیا ہوگی۔
Ayah 88:9اپنے اعمال سے وہ خوش ہوں گے
9 ؎ یہ بات ان خوش نصیبوں ہی کی کی جا رہی ہے کہ جن کے چہرے ترو تازہ ہوں گے۔ فرمایا یہ تازگی ان میں اس لیے ہوگی کہ ان کی سعی و کوشش جو انہوں نے دنیوی زندگی میں کی تھی وہ مقبول ہوگی اور آج ان کو ان کو پھل مل گیا اور یہ امر بھی اپنی جگہ محقق ہے کہ نتیجہ اگر کامیابی کا ہو اور خصوصاً ہو بھی حسب منشا تو محنت کی تکان تو نتیجہ سنتے ہی دور ہوجاتی ہے اور ان کی مسرت اور خوشی کی پھر کوئی حد ہی نہیں رہتی اور ہر طرف سے مبارکبادیاں کی جاتی ہیں اور جب ان کی زبان سے اللہ تعالیٰ کی حمد و شکر کے الفاظ نکلتے ہیں تو وہ بہت پیارے اور بھلے معلوم ہوتے ہیں اور اب ان کو کسی اچھی پوسٹ کی امید ہوتی ہے جو ان کی خوشی میں مزید اضافے کا باعث ہوتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ بھی جب کامیاب قرار پائے تو اب ماشاء اللہ جنت میں اچھا مقام حاصل کریں گے اور جنت کے فرشتے اور ان سے پہلے داخل ہونے والے ان کو مبارکبادیاں بھی پیش کریں گے۔ چناچہ ان کے جنت جانے کا ذکر آگے آ رہا ہے۔
Ayah 88:10وہ عال شان جنت میں ہوں گے
10 ؎ اچھے اعمال کرنے والے لوگ آخرت میں اچھے مقامات پر ہوں گے۔ جنت تو بہر حال جنت ہی ہے لیکن وہاں بھی مدارج درجات کا معاملہ ضرور ہوگا اس لیے ان کو جنت میں عالی مقام دیئے جانے کی وضاحت کی جا رہی ہے کہ وہ اونچے اونچے باغوں میں ہوں گے۔ باغ بھی ہوں گے۔ باغ بھی ہو اور اونچا بھی تو اس کی کیا ہی شان سمجھی جاتی ہے۔ اونچے باغ کی خوبی اور اچھائی کا ذکر مختلف مقامات پر کیا گیا ہے اور خصوصاً سورة البقرہ کی آیت 265 میں اس کی وضاحت کی گئی ہے اس لیے آپ عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول میں محولہ آیت کی تفسیر دیکھیں۔
Ayah 88:11جس میں وہ کوئی فضول بات نہ سنیں گے
11 ؎ ( لا غیۃ) اسم فاعل مفرد مؤنث لا غی اسم فاعل مذکر ، بیہودہ ، لغو ، فحش ، ناکارہ بات لغو بیہودہ ، غلط بات ، ہر بیکار چیز ۔ اس جگہ (لا غیۃ) کا موصوف محذوف ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ کلمۃ لا غیہ وہاں کوئی لغو بات ان کو سننے میں نہیں آئے گی نفسا ً لاغیۃ اور کسی بیہودہ گر سے ان کا واسطہ نہیں پڑے گا ۔ لغو کیا ہے ؟ سمجھ لنا چاہیے کہ ایک چیز نقصان دہ ہوتی ہے اور ایک چیز نفع بخش ہوتی ہے لیکن بعض چیزیں ایسی بھی ہوتی ہیں جو نہ نفع بخش ہوتی ہیں اور نہ ہی نقصان دہ اور ایسی باتوں کو لغو سے تعبیر کیا جاتا ہے جس کو آسان زبان میں بےکار اور فضول سے موسوم کرتے ہیں اس لیے مومن کی شان اس سے بہت بلند ہے کہ وہ کسی طرح کی کوئی لغو بات کرے یعنی فضول بکتا رہے اور فضول کرتا رہے اور فضول سنتا رہے۔ نہیں بلکہ مومن و مسلم کی شان یہ ہے کہ وہ جو کرے فائدہ مند ثابت ہو جو کہے وہ بھی فائدہ سے خالی نہ ہو اور جو دیکھے وہ بھی بےفائدہ نہ ہو ۔ لیکن افسوس کہ آج قوم مسلم کے پاس یہ اصول ہی نہیں رہے۔ بڑے بڑے سمجھدار اور عقل و فکر والے دیکھتے ہیں تو فضول ، کرتے ہیں تو فضول اور سنتے ہیں تو فضول اور اس سے آگے بڑھتے ہیں وہ کرتے ہیں تو نقصان دہ ، سنتے ہیں تو نقصان دہ ، اس لحاظ سے وہ قدریں ہی بدل کر رہ گئی ہیں جو اہل اسلام کے لیے مقرر تھیں۔
Ayah 88:12اس میں بہتا ہواچشمہ ہو گا
12 ؎ یہ چشمہ وہ ہے جو جنت میں رواں دواں ہے اور اس کا پانی میٹھا اور ٹھنڈا ہے اس کو دیکھنے سے دل خوش ہوتا ہے اور آنکھیں لطف اندوز ہوتی ہیں اور اس کو پینے سے دل مطمئن ہوتا ہے۔ طبیعت میں فرحت پیدا ہوتی ہے۔ دل خوش ہوتا ہے ۔ اگر غور کرو گے تو تم کو معلوم ہوجائے گا کہ یہ چشمہ وہ زندگی کا پانی ہے جو قوانین خداوندی کی شکل میں اعمال کی آبیاری کرتا رہا اور دنیا میں جو قدم اس نے اٹھایا اس سے اس کے دل میں فرحت اور ٹھنڈک پیدا ہوئی اور دل مطمئن پایا کہ جو میں نے کیا ہے وہ فضول نہیں کیا بلکہ با مقصد کیا اور جو کیا وہ نفس کی خواہش سے نہ کیا بلکہ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے کیا اور اپنے رسول محمد رسول اللہ ﷺ کی پیروی و اطاعت میں کا ۔
Ayah 88:13اس میں اونچے اونچے تخت بچھے ہوں گے
13 ؎ ( سرر) کے معنی تخت کے ہیں جو سریر کی جمع ہے۔ سریر کیا ہے ؟ امام راغب کہتے ہیں کہ وہ ہے جس پر سرور سے بیٹھا جائے کیونکہ یہ ارباب نعمت ہی کے پاس ہوتا ہے اس کی جمع اسرۃ اور سرر آتی ہے۔ تخت بھی ہوں اور بجھے ہوئے بھی ہوں اور پھر اونچی جگہ پر بھی بچھائے گئے ہوں تو کیا ہی ان کی شان ہوگی اور کتنا عزت افزائی کا نظارہ ہوگا اور کیا ہی خوش قسمت ہوں گے وہ لوگ جن کو یہ نظارہ میسر ہوگا کہ دیکھنے والے دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتے رہیں گے۔
Ayah 88:14اور آب خورے قرینے سے رکھے ہوں گے
14 ؎ ( اکواب) آب خورے ، کو زے ، پیالے یہ کو ب کی جمع ہے جس کے معنی لوٹے اور پیالے کے ہیں ۔ ( موضوعۃ) اسم مفعول واحد مونث وضع مصدر باب فتح رکھی ہوئی ۔ یعنی جنت کے چشموں پر پینے کے پیالے جو خوبصورت طریقہ کے ساتھ رکھے ہوں گے یعنی بکھرے نہیں پڑے ہوں گے بلکہ نہایت سلیقے سے رکھے ہوں گے جو اس بات کی شہادت دیں گے کہ یہ سب کچھ کسی نے سجایا ہے اور کسی کے لیے سجایا گیا ہے ۔ جس نے سجایا ہے وہ خوب سجایا ہے جو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی ذات ہے جس کے حکم سے یہ سب کچھ سجایا اور بنایا گیا ہے۔
Ayah 88:15اور غالیچے برابر برابر لگے ہوں گے
15 ؎ (نمارق) جمع ہے نمرقۃ کی جس کے معنی ہیں گائو تکیہ ، چھوٹا تکیہ ، زین اور پالان ۔ گدے اور سہارا لگانے کے لیے جو چارپائیوں اور تختوں کے اوپر پڑے ہوتے ہیں تاکہ لیٹنے والے اپنی مرضی کے ساتھ سروں کے نیچے رکھیں ، پڑھے والے اپنے بازوئوں سے سہارا لگائیں تاکہ انکے اسر اونچے رہیں اور نہایت آرام کے ساتھ بیٹھیں۔ ( مصفوفۃ) اسم فاعل واحد مؤنث مرفوع اور مجرور صف مصدر ۔ قطاروں میں نہایت سلیقہ سے رکھے ہوئے جیسے باقاعدہ کوء چیز سلیقہ سے لگا کر رکھی جاتی ہے۔
Ayah 88:16اور قالین بھی وہاں بچھے ہوں گے
16 ؎ (ذرابی) مخمل کے قالین جو نیچے فرشتوں پر بچھائے جاتے ہیں اور اگر ان کو بچھانے کے بعد ان پر مزید تخت بچھائے جائیں تو پھر کیا ہی ان کی شان ہے یہ زرب کی جمع ہے جو ایک قسم کا آراستہ کپڑا یا قالین ہے جو بچھایا جاتا ہے اور اس کے اوپر تخت بچھائے جاتے ہیں۔ (مبثوثۃ) اسم مفعول واحد مؤنث پھیلے ہوئے ، بچھے ہوئے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ کثرت سے بچھے ہوئے۔ یعنی لوگوں کو گن گن کر نہ بچھائے گئے ہوں کہ جتنے آدمی ہیں اتنے ہی تخت بچھائے جائیں بلکہ کثرت سے بچھے ہوں کہ جس کو وہ پسند کریں اس پر لیٹیں ، بیٹھیں اور تکیہ لگائیں ۔ یہ گویا انعامات ہیں جو اہل جنت کے لیے مالک الملک اور بادشاہوں کے بادشاہ کی طرف سے کیے گئے ہیں ۔ یہ چار قسم کے انعامات ہیں جن کا اس جگہ ذکر کیا گیا ہے اور یہ چاروں ان اعلیٰ اصولوں کے بالمقابل ہیں جن پر جنتی دنیا میں عامل رہے اور وہی اصل دین فطرت ہیں جن کا نام اسلام ہے اور جن کی طرف اشارہ آنے والے آیات میں دیا گیا ہے اور اگر ان کو چار قسم کے جذبات پر قابو پانے سے تعبیر کیا جائے تو بھی تعبیر کیا جاسکتا ہے اور رہی یہ بات کہ وہ چار قسم کے جذبات کیا ہیں تو ان کا ذکر اس طرح کیا جاسکتا ہے کہ وہ (1) حرص وطع ہے۔ (2) شہوت ہے۔ (3) غضب ہے (4) حسد ہے کہ اگر کوئی شخص ان پر قابو پا جائے تو وہ بھی یقینا اہل جنت میں ہوتا ہے اور جنت کا مستحق ٹھہرتا ہے۔ اگر کسی نے ان سے اپنے آپ کو بچالیا تو سمجھ لو کہ اس نے بہت کچھ پا لیا ۔
Ayah 88:17کیا یہ لوگ اونٹ پر نظر نہیں کرتے کہ وہ عجیب الخلقت پیدا کیا گیا
17 ؎ دین فطرت کو سمجھانے کے لیے کہاں سے مثال اٹھائی ہے اور کس رنگ میں اس کو پیش کیا ہے اور اس کو سمجھانے اور طریقہ اختیار کیا ہے جو بہت ہی مؤثر ہے اور پھر ایک گنوار آدمی سے لے کر ایک بڑے سے بڑے فلسفی تک سب کے سب اس سے سبق حاصل کرسکتے ہیں ۔ ذرا غور کرو کہ عرب کا ایک ریگستان ہے کہ جہاں تک نظر پڑتی ہے پھیلا ہوا ہے ایک طرف بڑے عظیم الشان خشک پہاڑوں کا سلسلہ ہے اور اس خشک اور ریتلی وادی میں ایک بدو کھڑا ہے جو اپنے اونٹ سے ابھی اترا ہے۔ وہ تمام دنیا سے منقطع ہے کوئی مخلوق چرند ، پرند انسان اور درخت اور سزہ اس کے سامنے نہیں ہے اور تن تنہا کھڑا ہے ، اس کو کیا نظر آتا ہے ایک طرف اس کا اپنا اونٹ ہے جو اس کے پاس کھڑا ہے ، اوپر نظر اٹھائے تو آسمان ہے جو اس کے سر پر اس کو نظر آتا ہے اور تیسری طرف اگر اس کو نظر آئے تو وہ پہاڑ ہیں جو اس کو ایک پہلو پر نظر آ رہے ہیں اور چوتین کی طرف وہ ریگستان ہے جو دور دور تک پھیلا ہوا ہے وہاں قرآن کریم اس کو دین فطرت سکھاتا ہے اور اس کتاب فطرت ، دین فطرت کی طرف اس کی رہنمائی کرتا ہے کہ اے انسان دین فطرت یعنی اسلام کا پہلا اصول شفقت علیٰ خلق اللہ ہے جسے اس اونٹ سے سیکھ لے وہ اس طرح کہ اس کی جفا کشی اور ایثار کو دیکھ کہ کس طرح یہ دوسروں کا بوجھ اٹھاتا ہے اور اس بوجھ کو اٹھا کر شب و روز چلتا ہے اور نہیں تھکتا ۔ وہ لوگوں کے بوجھ کو لے کر ان بیابانوں میں سے گزرتا ہے جہاں سے کسی جانور اور انسان کا گزر محال ہے جن کا یہ بوجھ اٹھاتا ہے یہ نعمتیں کھاتے ہیں اور یہ کانٹے کھا کر گزارہ کرتا ہے۔ وہ پانی پیتے ہیں لیکن یہ کئی کئی دن بلکہ کئی کئی ہفتے پانی کو دیکھتا تک نہیں اور پھر جن کا بوجھ اس نے اٹھایا ہے وہ اگر چاہیں تو اس پر چھری پھیر دیں اور اس کو اپنی خوراک بنائیں اور اس کی کو ہان سے صاف اور ستھرا پانی نکال کر پئیں تو پی سکتے ہیں کیا اس سے بڑھ کر تجھ کو کہیں جفا کشی اور ایثار کا نمونہ میسر آسکتا ہے۔ پھر کس طرح سینکڑوں اونٹ ایک رسی کے ساتھ بندھے ہوئے ایک دوسرے کے ساتھ قدم بہ قدم چلے جا رہے ہیں کیا دین کا پہلا اصول جو اللہ نے انسان کو سکھانا چاہا ہے اس اونٹ نے اس کی مثال اس کے سامنے پیش کی ہے یا نہیں ؟ اگر کی ہے تو یہ تیری رہنمائی کے لیے کافی نہیں ہے کہ بحمد اللہ انسان ہے اور وہ ایک جانور ہے اگرچہ عظیم ہے لیکن عظیم ہونے کے باوجود اس کے اوصاف بھی عظیم ہیں اور خصوصاً انسانی خدمت کے لیے وہ ایک صحرائی جہاز کا کام کرتا ہے اور اس کی فرمانبرداری کی مثال کسی دوسرے جانور سے بھی نہیں دی جاسکتی کہ بیٹھتا ہے اور انسان نہایت آرام اور سکون سے اس پر بوجھ لادتا ہے اور منوں بوجھ لاد کر خود بھی سوار ہوجاتا ہے اور صرف زبان سے ہش ہش کی آواز دیتا ہے تو وہ منع سامان کھڑا ہوجاتا ہے اور منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہوجاتا ہے۔
Ayah 88:18اور آسمان کہ وہ کس طرح بلند کیا گیا ہے
18 ؎ دین کا دوسرا نصف حصہ سمجھنے کے لیے اس آسمان کی طرف نگاہ بلند کرو اور دیکھو کہ اس کو کتنا اونچا بنایا گیا ہے اور اس کے خلا میں کیا کچھ تیرتا تم کو نظر آتا ہے اور وہ کس قدر فرمانبردار ہے کہ ہر ایک چیز کو اپنی شفقت کے سایے میں رکھ کر بالکل خاموش کھڑا ہے اگر تم بھی آسمان کی طرف بلندی چاہتے ہو تو اس زمین کی طرف مت جھک جائو بلکہ آسمان کی طرح بلند رہو لیکن خاموش کہ تم کو سفلی جذبات اور دنیوی خواہشات اپنی طرف راغب نہ کریں اور تم زمین پر بسنے کے باوجود آسمان کی طرف بلند وبالا ہو کر دار اور اخلاق کے لحاظ سے ۔ اس کی ساری بلندی کا راز بھی اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری میں ہے کہ اس نے جس خلقت میں اس کو بنایا اور ڈھالا ہے وہ اس میں تم کو نظر آ رہا ہے۔ اتنا بلند وبالا ہونے کے باوجود ایک ذرا بھر بھی وہ فرمانبرداری سے باہر نہیں آتا اور نہ ہی زمین کے مقابلہ میں اپنی بلندی پر اس کو ناز ہے کیونکہ جو کچھ ہے وہ اس کا بنانے والا ہے وہ بذاتہٖ کوئی چیز نہیں ہے۔
Ayah 88:19اور پہاڑ کہ کس طرح گاڑ دیئے گئے
19 ؎ انسان کو بتایا جا رہا ہے کہ اے انسان اگر زندگی میں تجھ کو کہیں دکھ اور مشکلات کا سامنا ہوجائے تو ان پہاڑوں کی طرح مستقل مزاج رہ کر اس کا مقابلہ کرو او مصائب اور مشکلات کی موجیں اور آندھیاں جتنا بھی چاہیں تم پر حملہ کریں لیکن تم پہاڑ کی طرح اٹل ہو جائو اور اپنے اصولوں سے ایک ذرہ بھر بھی مت سر کو ۔ مختصر یہ کہ دکھ میں صبر و استقامت کا نمونہ پہاڑ سے سیکھ لو کہ وہ کس طرح اپنی جگہ گڑے کھڑے ہیں ۔ کتنے کتنے بڑے طوفان اٹھے اور بادو باراں نے کس طرح ان کو ڈرانے کی کوشش کی اور بادل کس قدرر گرجے اور برسے لیکن ان میں ذرا بھر بھی کبھی فرق نہ پڑا بلکہ وہ پہلے سے بھی صاف و شفاف ہوگئے اور نکھر کر نظر آنے لگے۔
Ayah 88:20اور زمین کہ وہ کس طرح بچھائی گئی ہے
20 ؎ زمانہ کے حالات ہیں کہ بدلتے رہتے ہیں کبھی دکھ ہوتا ہے تو کبھی سکھ میں انسان سرشار ہوتا ہے۔ فرمایا اگر سکھ ، عیش اور دولت کی حالت پیدا ہوجائے تو زمین کی طرح بچھ جائو اور بجائے تکبر اور بخل کے آپس میں فروتنی اور انکسار ، حلم اور تواضع ، فیاضی اور وسعت زمین کی طرح پیدا ہوجائے کہ جہاں تک کوئی نظر ڈالے وہ بچھی ہوئی نظر آتی جاتی ہے جوں جوں نظر میں وسعت آئے گی اس کی وسعت مزید بڑھتی چلی جائے گی اور پھر دیکھو کہ وہ کس طرح دوست اور دشمن کے قدموں سے رات اور دن کو روندی جاتی ہے اور پامال ہوتی رہتی ہے لیکن اس کے باوجود اس کا فیض عام ہے کہ امیر ہو یا غریب ، دوست ہو یا دشمن سب کے سب اس کے سینہ پر آرام پاتے ہیں ۔ اس کے غلے ، پھل ، اجناس ، سبزیاں اور ترکاریاں ، پانی اور ہوا ہرچیز سے نفع اٹھاتے ہیں پس سکھ اور غلبہ کی حالت میں شکر کا نمونہ زمین سے سیکھ لو تمہاری فروتنی اور خاکساری ، حلم اور تواضع ، فیاضی اور بےنفسی ایسی ہی ہو جس کا نظارہ زمین میں نظر آتا ہے اس طرح قرآن کریم نے ایک بدو کو اور ایک نا خواندہ اور ان پڑھ آدمی کو سارا دین کس طرح سکھا دیا کہ اس کی بدویت اور نا خواندگی بھی درمیان میں مزاحم نہ ہوئی ۔ اس جگہ ہم نے محض اشارات دیئے ہیں اس کی مکمل تفسیر کی جائے توبیسیوں صفحات سیاہ ہوتے چلے جائیں لیکن مقصود بیان فقط تفہیم ہے بحث و تمحیت نہیں اور جب کام اشارے سے چل جائے تو وہاں گفتگو مفید نہیں ہوتی ۔ قرآن کریم کے نصائح اور محمد رسول اللہ ﷺ کی کرائی گئی تفہیم کا کا ئ ہی مقام ہے اور آپ ﷺ کو حکم دیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نصیحت کا معاملہ جاری رکیں ص اور نصیحت حاصل کرنے والوں کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہ دیکھیں کہ انہوں نے کس طرح کی نصیحت حاصل کی ہے اور وہ کس درجہ کے لوگ ہیں۔
Ayah 88:21پس نصیحت کیجئے کہ آپ ﷺ تو نصیحت کرنے والے ہیں
21 (مذکر) اسم فاعل واحد مذکر تذکیر اور تذکرۃ مصدر باب تفعیل ذ ک ر ۔ نصیحت کرنے والا ۔ زندگی کا بھولا ہوا سبق یاد دلانیوالا ۔ نیکوں کی جزا اور بروں کی سزا کا تذکرہ کرنے والا ۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ کا کام ان کو نصیحت کرنا ہے ، ان کو خواب غفلت سے جگانا ہے ، آپ ﷺ اپنا فرض ادا کرتے رہیے اس کے باوجود اگر یہ لوگ ہدایت کو قبول نہ کریں تو آپ ﷺ فکر مند نہ ہوں کیونکہ آپ ﷺ کے ذمہ کا جو کام تھا آپ ﷺ نے اس کو پورا کردیا اس سے آگے آپ ﷺ کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اب ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ نصیحت کو قبول کرتے ہیں یا نہیں تو یہ معاملہ ان کا ہے آپ ﷺ کا نہیں۔
Ayah 88:22آپ ﷺ ان پر داروغہ نہیں لگائے گئے
22 ؎ فرمایا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! ہم نے آپ ﷺ کو ان کا ذمہ دار ٹھہرایا کہ اگر یہ ایمان نہ لائیں تو آپ ﷺ سے ان کے ایمان نہ لانے کی باز پرس ہوگی۔ ( مصیطر) کا تلفظ صاد سے بھی ہے اور سین سے بھی اور معنی دونوں کے ایک ہی طرح ہیں اس لیے دونوں طرح اس کا لکھنا جائز اور صحیح ہے اس کی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہشتم سورة الطور کی آیت 37 میں کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ کریں۔
Ayah 88:23مگر جس نے پیٹھ پھیری اور انکار کیا
23 ؎ ( الا) مگر ، سوائے ۔ اس جگہ ( الا) کا لفظ خود تقاضا کرتا ہے کہ اس جگہ عبارت میں کچھ محذوف ہے جو ( الا) کے حرف سے پہلے ہے۔ اس حذف کو اگر کھول دیا جائے تو پوری بات یوں ہوگی کہ آپ ﷺ تو نصیحت کرنے والے ہیں ۔ رہے وہ لوگ جن کو آپ ﷺ کر رہے ہیں تو ان میں سے بعض ایسے ہوں گے جو نصیحت حاصل کریں گے مگر بعض ایسے بھی ہوں گے جو نصیحت پر کام دھرنے والے نہیں ہیں ” بعض ایسے بھی ہوں گے جو نصیحت قبول کریں گے “ یہ جملہ محذوف ہے اور حذف خودکلام کا تقاضا ہے اور حرف الا نے اس کی پوری وضاحت بھی کردی ہے کہ جب ایسے موجود ہیں کہ جو منہ پھیرنے والے اور کفر کرنے والے ہیں تو اس سے بات واضح ہوگئی ہے کہ جب بعض انکار کرنے والے اور منہ پھیرنے والے ہیں تو ظاہر ہے کہ بعض ایسے بھی ہیں جو ماننے والے ہیں اور تسلیم کرنے والے ہیں۔
Ayah 88:24بس اللہ تعالیٰ اس کو بہت سخت عذاب دے گا
24 ؎ اللہ تعالیٰ کے عذاب دیئے جانے کی خبر کس کے لیے ہے ؟ اس کے لیے جو دین اسلام سے منہ پھیرتا اور کفر کرتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس کو اس دن بھی ذلیل و رسوا کیا جائے گا اور آخرت بھی اس کی تباہ و بربادہو جائے گی ۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو ساری نعمتیں دیں اور عقل و فکر سے بھی نوازا اور اپنی طرف سے قرآن کریم جیسی کتاب لازوال بھی عطا فرمائی اس کے باوجود ان لوگوں نے ہٹ دھرمی سے کام لیا ان کو ان کی ہٹ دھرمی کی سزا بھی آخر دی جائے گی کیونکہ گزشتہ اقوام کے ساتھ بھی یہی کچھ ہوا کہ جب انہوں نے نہ مانا اور رسولوں کو جھٹلایا اور پھر جھٹلاتے ہی چلے گئے تو انجام کار وہ وقت بھی آیا کہ ان کو حرف غلط کی طرح مٹا دیا گیا اس طرح اس دنیا میں بھی ان کو عذاب الٰہی کی زد میں لایا گیا اور آخرت میں دوزخ کا عذاب تو اس سے بھی بڑا ہے جس میں ان کو مبتلاہونا ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے طے شدہ بات ہے۔
Ayah 88:25بلا شبہ ان کو لوٹ کر ہمارے پاس ہی آنا ہے
25 ؎ (ایابھم) کا اصل مادہ ا و ب ہے۔ ان کا لوٹنا ۔ ان کا واپس آنتا ۔ اباب اب بیو وب کا مصد ہے مضاف ہے ( ھم) ضمیر جمع مذکر غائب ۔ مضاف الیہ ۔ مطلب یہ ہے کہ اگر وہ جھٹلا رہے ہیں تو اس کا انجام کیا ہوگا ؟ فرمایا انجام وہی ہوگا جو جھٹلانے والوں کا ہوا کرتا ہے اور اس کا اس وقت پتہ چلے گا جب وہ لوٹ کر آئیں گے کیونکہ انجام کا ان کو لوٹ کر آنا کسی دوسری طرف سے نہیں ہوگا ہمارے قانون کے مطابق ہماری طرف ہوگا کیونکہ ان کو بھیجنے والے جو ہم ہیں تو ضروری ہیں کہ وہ لوٹ کر بھی ہماری ہی طرف آئیں۔
Ayah 88:26پھر بلا شبہ ہمارے ہی ذمہ ان کا حساب لینا بھی ہوگا
26 ؎ اس جگہ کونسا حساب مراد ہے ؟ فرمایا وہ عذاب وہی ہے جس کا ذکر اس سورت کے شروع میں کردیا گیا کہ آخر کار ڈھانپنے والی ان کو ڈھانپ لے گی اور یہی عذاب الٰہی ہے کیونکہ ڈھانپ لینے والی یعنی قیامت کیوں ہے ؟ اس لیے ہے کہ جس نے کسی پر کسی طرح کی زیادتی کی ہوگی اس کو اس کی گئی زیادتی کا مزہ چکھایا جائے اور اس کے کیے پورا پورا حساب ان سے لیا جائے اور جو زیادتیاں انہوں نے کی ہوں گی ان زیادتیوں کا خمیازہ ان کو بھگتنا پڑے گا اور وہ یقینا بھگتیں گے کیونکہ ہمارے ہاں عدل و انصاف ہے اور اس کا تقاضا ہے کہ جن کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے ان پر زیادتی کرنے والوں کے ساتھ اس زیادتی کا اتنا وبال ڈال دیا جائے جتنی انہوں نے زیادتی کی ہے۔ اس جگہ اللہ تعالیٰ سے حساب کے آسان ہونے کی دعا کرنا چاہیے تاکہ ہم ابھی تک زندہ رہنے والوں کی اس دنیا میں کی گئی زیادتیوں کا اس جگہ حساب مکمل ہوجائے تاکہ آئندہ کا حساب آسان ہوجائے اس لیے دعا کرنی چاہیے کہ اللھم حاسبنی حسابا ً یسیرًا۔ والحمد اللہ کیثرًا ۔ سبحوا بکرۃ واصیلا۔ سبحان اللہ و بحمد سبحان اللہ العظیم ۔