89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

آنے والی فجر (کے رب ) کی قسم

آنے والی فجر کے رب کی قسم 1 ؎ آنے والے مضمون کو مؤکد کرنے کے لے بطور شہادت فجر کو پیش کیا گیا ہے کہ فجر کو لانے والا کون ہے ؟ وہی ہے جو مدبر کائنات ہے اور وحدہٗ لا شریک لہ ہے ۔ کون ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ اس فجر کو نہ لائے تو وہ اس کے لانے کا ذمہ لے لے اور اگر وہ رات کو ہمیشہ کے لیے رات ہی رات کر دے تو کوئی ہے کہ دن کو لانے پر قادر ہو۔ اگر نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اللہ تعالیٰ کی حدود میں مداخلت کہاں تک جائز اور درست ہوئی ؟ فجر کیا ہے ؟ سب کو معلوم ہے کہ وہ وقت ہے جب رات کا پردہ پھٹ جاتا ہے اور دن کے آنے کی اطلاع مل جاتی ہے کہ بس اب دن آیا کہ آیا بلکہ اسلام کے عروف کا دن سورج کے طلوع ہونے سے نہیں بلکہ فجر کے طلوع ہونے سے شروع ہوجاتا ہے ۔ اگر فقط اس بات پر غور و فکر کیا جائے کہ اسلام نے فجر طلوع ہونے سے دن کو کیوں شروع کیا ہے تو اس میں اتنی اتنی بڑی حکمتیں پنہاں نکلیں گی کہ غور کرنے والے دنگ رہ جائیں گے۔ غور کرو کہ بعض علاقے ایسے ہیں کہ وہاں سورج ایک مدت تک بالکل دکھائی ہی نہیں دیتا لیکن وہاں بھی اتنا معلوم ہوجاتا ہے کہ فجر طلوع ہوگئی ہے یعنی سورج اگرچہ نظر نہ آئے لیکن اس کی روشنی جس طرح پو پھٹتی ہے اس طرح کی پھٹ جاتی ہے خواہ اس کی مقدار بھی عام دن یا رات سے بہت مختلف ہو گویا 24 گھنٹے کا وقت معلوم ہوجاتا ہے تب ہی تو دنیا کے باقی سارے کام وہاں ہوتے چلے جا رہے ہیں مثلاً پیدائش کا مسئلہ ہے کہ وہاں بھی جاری وساری ہے اور انہی دنوں کے مطابق ہے جو دن ہمارے ہاں دن کہلاتے ہیں یعنی 24 گھنٹے کا ایک دن شمار کیا جاتا ہے اس میں رات کتنی ہے اور دن کتنا ہے ؟ اس کی بحث کی ضرورت ہی نہیں رہتی ۔ اسلام میں رات کے آنے سے دن شروع ہوجاتا ہے اور پھر رات کے آنے تک جاری رہتا ہے اور اس کے اندروہی 24 گھنٹے پورے ہوتے ہیں ۔ اس حساب سے ہرچیز کی تخلیق ہوئی جس میں خود انسان بھی شامل ہے اور دوسرے بہت سے کام بھی اسی حساب سے ہوتے ہیں اور اگر حساب فجر کے طلوع ہونے سے نہ ہوتا تو اس میں بہت سے مغالطے لگنے کے امکانات تھے لیکن فجر سے دن کو شمار کر کے ان سب کا علاج کردیا۔ اس فج سے کونسی فجر مراد ہے ؟ اس میں بہت سے اقوال درج کیے گئے ہیں اور پھر کسی نے کوئی فجر اور کسی نے کوئی فجر بتائی ہے لیکن ہم نے ہر فجر مراد لے کر ان سب کی طرف سے آنکھیں بند کرلی ہیں کہ آنے والی فجر اس سے مراد لی جاسکتی ہے۔
Ayah 89:2

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں (کے رب ) کی قسم

اور دس راتوں کے رب کی قسم 2 ؎ ہر زبان میں کچھ چیزیں مشترک چلتی ہیں جو ہر قوم میں اور ہر علاقہ میں ایک ہی طرح سے بولی جاتی ہیں ۔ شہادت اور گواہی کے لے بات کو مؤکد بنانے کے لیے سات کے عدد اور دس کے عدد کو بہت اہمیت حاصل ہے ۔ سات بار کہنے سے ستر بار ، سات سو بار کہنے میں صرف تاکید مراد ہوتی ہے۔ اسی طرح دس بار سو بار اور ہزار بار کو بھی ایک جیسی اہمیت حاصل ہے اس سے سات سے ستر اور ستر سے سات سو اور اسی طرح دس بار سو بار اور ہزار بار کہنے سے مراد گن گن کر کہنا مراد نہیں ہوتا اور نہ ہی سات ، ستر اور سات سو بار دس ، سو اور ہزار کو عدد کے لحاظ سے کوئی اہمیت حاصل ہے۔ اس لیے ہمارے خیال میں ان راتوں سے کوئی مخصوص راتیں مراد ہوتی تو اس تخصیص کی طرف کسی نہ کس طرح کا کوئی اشارہ ضرور کردیا جاتا جب اس کی طرف کوئی اشارہ نہیں کیا گیا تو اس کا مطلب صاف اور واضح ہے کہ اس سے مراد کوئی مخصوص دس راتیں نہیں بلکہ عام طور پر جیسے تاکید کے لیے ، بات کو پختہ کرنے کے لیے سات ، ستر اور سات سو کا عدد بولا جاتا ہے اسی طرح دس ، سو اور ہزار کا عدد بھی بولا جاتا ہے اور اسی نہج پر دس راتوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ علاوہ ازیں اس کو کوئی خاص اہمیت حاصل نہیں ہے اور اگر کوئی اہمیت حاصل ہوتی تو یقینا اس کی وضاحت ہوتی کیونکہ قرآن کریم ایک واضح اور صاف بیان ہے نہ کہ مبہم اور غیر واضح کلام ہے اور اگر صرف دس کا نام لینے سے کوئی بات مخصوص ہوتی تو اس میں اس طرح کا اختلاف آخر کیوں ہوتا اور مفسرین نے جب بیسیوں راتوں کا ذکر کیا ہے۔ تیتر کی بولی کی طرح اپنی اپنی مرضی کے ساتھ محض ٹامک ٹویوں سے کام لاں گیا اور قرآن کریم کو پرندوں کی زبان بنا کر رکھ دیا ہے اس کی آخر ضرورت کیا تھی کہ ایک صاحب نے ایک کہانی گھڑی اور اس کو تحریر کردیا تو دوسروں نے دوسری کہانی گھڑی اور کچھ اور کہہ دیا اور اس طرح ہوتے ہوتے آج بیسیوں سے بھی متجاوز باتیں کہی جانے لگیں لیکن کسی بات کے کہنے میں سوائے اس کے کہ اس کی نسبت کسی گزشتہ بزرگ کے ساتھ منسلک کردی گئی ہے اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور کسی ایک قول کو صحیح اور باقی سارے اقوال کو غلط قرار دینے میں کوئی واضح حقیقت سامنے نہیں آتی۔ جو کچھ بیان کیا گیا ہے سب کا سب محض تفنن طبع ہے اور اس بات کو بڑی بنانے کے شوق میں کہا گیا ہے ورنہ ان باتوں کا تعلق دین اسلام کے ساتھ کسی بھی طرح جوڑا جاسکتا ہے اور بیان کرنے والے کچھ منچلوں نے بھی عجیب عجیب توجیہات بیان کردی ہیں جن کو دیکھ کر ، پڑھ کر ایک بار آدمی بھی ہنس کر رہ جاتا ہے کہ بیان کرنے والے یہ صاحب قرآن کریم بیان کر رہے ہیں یا طوطامینا کی کہانی پڑھ رہے ہیں اور جن لغویات سے قرآن کریم نے لوگوں کو منع فرمایا ہے کیا انہی لغویات سے خود کام لینے لگ گیا ہے ۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ رہازبان کا مسئلہ تو زبان کے لحاظ سے جو بولی عام طور پر بولی جاتی ہے اس پر کوئی بحث نہیں ہو سکتی کیونکہ زبان کے لحاظ سے کسی زبان کا عام بولا جانا اور اسی زبان میں قرآن کریم کا بات کرنا سمجھ میں آتا ہے کیونکہ قرآن کریم ہم انسانوں ہی کی زبان میں نازل ہوا ہے اور جس طرح ہم ایک دوسرے سے بولتے ہیں اسی طرح قرآن کریم نے عام انسانوں کو مخاطب کر کے بات کی ہے کوئی خاص انداز اس کے لیے نہیں اپنایا گیا اور نہ ہی اپنایا جاسکتا تھا۔
Ayah 89:3

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

جفت اور طاق راتوں (کے رب ) کی قسم

جفت اور طاقت دونوں کے رب کی قسم 3 ؎ گزشتہ دنوں بیانات کی طرح جفت اور طاقت میں بڑے بڑے رموز اور بہت اقوال بیان کیے گئے ہیں حالانکہ اس میں بھی نہ تو کوئی رمز ہے اور نہ ہی کوئی خاص پیچیدگی پائی جاتی ہے ہر وہ وعدہ جو پورا پورا تقسیم ہوجاتا ہے وہ جفت ہے اور وہ عدد جو پورا پوراتقسیم نہیں ہوتا وہ طاق ہے اور یہ دونوں طرح کے اعداد بھی عام بول چال میں آتے ہیں ۔ ایک ، تین ، پانچ ، سات ، نو ، گیارہ اور تیرہ اسی طرح دو ، چار ، چھ ، آٹھ ، دس ، بارہ ، چودہ اور سولہ وہ عدد ہیں جو عام طور پر محاورات ، ضرب المثال اور عام گفتگو میں بولے جاتے ہیں اور ان میں کئی طرح کی نسبتیں قائم کی گئی ہیں کچھ کو لوگ نحس اور کچھ کو سعد خیال کرتے ہیں اور اسی طرح زبان میں بھی وہ عام طور پر بول چال میں آتے ہیں ۔ ہر شفع میں ایک داخل کرنے سے وتر اور ہر وتر سے ایک نکال لینے سے شفع ہوجاتا ہے اس لیے ان اعداد میں کوئی خاص بات ایسی نہیں جس وجہ سے ان کو مخصوص اعداد کردیا جائے بلکہ جس طرح بول چال میں کبھی شفع بولے جاتے ہیں اور کبھی وتر بولتے ہیں اور کبھی کبھی وتر اور جفت کو ملا کر بھی بولا جاتا ہے اسی طرح اس جگہ جفت اور طاق کا عدد بطور شہادت پیش کیا گیا ہے۔
Ayah 89:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات (کے رب ) کی جب وہ گزرنے لگے

رات کے رب کی قسم جب وہ گزرنے لگے 4 ؎ رات کا آنا بھی نشانات ِ الٰہی میں سے ہے اور رات کا جانا بھی نشانات میں سے ہے اور اس سے مراد بھی کوئی خاص رات نہیں ہے بلکمہ ہر رات مراد ہے کیونکہ ہر رات کا آنا اور ہر رات کا جانا نشانات میں سے ایک نشانی ہے اور وہ خاص قانون کی پابندی کے ساتھ آتی ہے اور خاص پابندی کے ساتھ جاتی ہے جب رات جانے لگتی ہے تو دن کے نمودار ہونے کا وقت آجاتا ہے اور یہ ساری چیزیں جن کا اوپر ذکر کیا گیا ہے جس نظم و نسق اور باقاعدگی کے ساتھ رونما ہوتی ہیں وہ اس بات کی شہادت دیتی ہیں کہ یہ اندھی ، بہری فطرت کی کارستانی نہیں ہے بلکہ ایک قادر ، حکیم اور علیم ذات کا ارادہ ان کو معرض وجود میں لا رہا ہے پھر جس کی قدرت کا یہ عالم ہو اس کے لے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا قطعاً مشکل نہیں ہے جب اللہ تعالیٰ کا ہر فعل حکیمانہ ہے تو پھر اس نے انسان کو اتنی قوتوں سے بہرہ ور کرنے کے بعد اس کو ایسے ہی چھوڑ دیا کہ اس کو پوچھا تک بھی نہیں کہ اس نے اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی قوتوں اور نعمتوں کو کس طرح استعمال کیا ہے تو یہ بات بھی اس کی حکمت کے سراسر منافی ہے کہ جس انسان نے اس کی دی قوتوں کو صحیح استعمال کیا ، اس کی مخلوق کو ان سے فائدہ پہنچایا ، نیکی اور اخلاقی حسنہ کی آبیاری کی ان کو تو کوئی اجر نہ ملے اور جنہوں نے ان نعمتوں پر نا شکری کی ، اللہ تعالیٰ کی مخلوق کی تباہی و بربادی کے لیے انہیں استعمال کیا اور فس و فجور کی داغ بیل ان کو ان کے کرتوتوں کی کوئی سزا نہ دی جائے تو ایسا ممکن نہیں ہے بلکہ لازم ہے کہ جو سزا کے مستحق ہیں ان کو سزا ملے اور جو اجر کے مستحق ہیں ان کو اجر ملے۔ اس مقصد کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک دن مقرر کیا ہے اور ان دس کو قیامت اور آخرت کا نام دیا گیا ہے اور اس کے تسلیم کرنے کے بیان کے لیے ان کو شہادت کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا عقلمندوں کے لیے ان (کے رب ) کی قسم ایک بڑی قسم ہے (یا نہیں ؟ )

کیا عقل مندوں کے لیے ان چیزوں کے رب کی قسم ایک بڑی قسم ہے یا نہیں ؟ 5 ؎ ( حجر) ممنوع ۔ عقل ۔ اصل میں جس مکان کا احاطہ پتھروں سے بنایا جائے وہ ( حجر ) کہلاتا ہے اس لیے ثمود کی آبادیاں چونکہ پتھروں کو تراش کر بنائی گئی تھیں ( حجر) کہلائیں ۔ جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ ( کذب اصحب الحجر المرسلین) (15 : 80) ” حجر والوں نے رسولوں کو جھٹلایا “ 9؁ھ میں نبی کریم ﷺ تبوک جاتے ہوئے اس شہر سے گزرے تھے۔ دولت عثمانیہ کے زمانہ میں حجاز ریلوے سٹیشن تھا اور چونکہ پتھروں کے احاطہ سے مقصود حفاظت اور روک تھا ہوتی ہے اور عقل بھی انسان کی حفاظت کرتی ہے اور اس کو روکتی ہے اس لیے اس کو بھی (حجر) کہا جاتا ہے جیسا کہ زیر نظر آیت میں کہا گیا ہے اور اس وجہ سے وہ چیز جس سے روکا اور منع کیا جائے ( حجر) کہلاتی ہے جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ : ( ھذہ انعام وخرت حجر) ( الانعام : 138) ’ ’ یہ مویشی اور کھیتی روکی ہوئی ہے “ ( ذی حجر) صاحب عقل لوگ ۔ ملب یہ ہے کہ گزشتہ باتوں میں جس طرح شہادتوں سے بیان کو مؤکد کیا گیا ہے اس میں صاحب عقل لوگوں کے لیے ایک بہت بڑی شہادت موجود ہے تو ان چیزوں کے پروردگار یعنی اللہ تعالیٰ کو ان شہاتوں پر گواہ بنایا گیا ہے۔ تب بات کی گئی ہے یعنی اتنی مؤکد کر کے بات کی گئی ہے اس لیے یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے جیسا کہ تم سمجھتے ہو۔
Ayah 89:6

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا تو نے نہیں دیکھا (یا سنا) کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا ؟

کیا تو نے نہیں سنا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا 6 ؎ عاد ایک قوم تھی جس کا زمانہ تقریباً دو ہزار سال قبل از مسیح مانا جاتا ہے۔ قرآن کریم نے ان کی نشاندہی کرتے ہوئے ( من بعد قوم نوح) کہا ہے یعنی یہ قوم ہر حال میں نوح (علیہ السلام) سے بعد کی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ شام کی دوبارہ آبادی کے بعد امم ساعیہ کی ترقی عاد ہی سے شروع ہوتی ہے ۔ عاد کا مرکزی مقام ارض احقاف ہے یہ حضرموت کے شمال میں اس طرح واقع ہے کہ اس کے مشرق میں عمان ہے اور شمال میں ربع الخال مگر اس وقت یہاں ریت کے ٹیلوں کے سوا کچھ بھی نہیں اور بعض کے نزدیک ان کی آبادی حضر موت میں تھی جو عراق تک پھیلی ہوئی تھی ۔ عاد کی طرف سیدنا ہود ؓ کو مبعوث کیا گیا ۔ ہود ؓ نے اپنی قوم کو اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی عبادت کی طرف دعوت دی اور لوگوں پر ظلم وجور کرنے سے منع فرمایا مگر عاد نے ان کی ایک نہ مانی اور ان کو سختی کے ساتھ جھٹلایا اور غرور وتکبر کے انداز میں کہنے لگے : ( من اشد منا قوۃ) آج دنیا میں ہم سے زیادہ شوکت و جبروت کا کون مالک ہے ؟ مگر سیدنا ہود (علیہ السلام) مسلسل انکی اصلاح میں لگے رہے۔ وہ اپنی قوم کو عذاب الٰہی سے ڈراتے اور غرور و سرکشی کے نتائج بتا کر قوم نوح کے واقعات یاد دلاتے لیکن قوم پر ان کی باتوں کا ذرا بھر بھی اثر نہ ہوتا ۔ عاد میں ایمان لانے والے تو چند ہی آدمی تھے باقی تمام سرکش اور متمرد انسانوں کا گروہ تھا ان کو حضرت ہود (علیہ السلام) کی یہ نصائح سخت شاق گزری تھیں اور وہ یہ بھی نہیں برداشت کرسکتے تھے کہ ان کے خیالات ، ان کے عقائد و اعمال فرض ان کے کسی ارادہ میں بھی کوئی شخص حائل ہو اور انکے لیے ناصح و مشفق بنے اس لے اب انہوں نے یہ روش اختیار کی کہ ہود (علیہ السلام) کا مذاق اڑایا ۔ ان کو بیوقوف گردانا اور ان کی معصومانہ حقانیتوں اور صداقتوں کے تمام یقینی دلائل و براہن کو جھٹلانا شروع کردیا اور انجام کار اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو عذاب دینے کا پروگرام بنا لای اور اس کی ترتیب اس طرح دیا کہ پہلے ان لوگوں کو خشک سالی کی شکل اختیار کی ۔ عاد سخت گھبرائے لیکن ہود (علیہ السلام) کی بات ماننے کی بجائے مخالفت میں اور سخت ہوگئے بلکہ ان کا بغض وعناد و بالا ہوگیا تب ہولناک عذاب نے ان کو آگھیرا اور آٹھ دن اور سات راتیں پیہم تیز و تند ہوا کے طوفان اٹھے اور ان کو اور ان کی آبادی کو تہہ وبالا کر کے رکھ دیا ۔ ان کا تفصیلی ذکر ہم نے عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم سورة الاعراف کی آیت 65 تا 76 ، جلد چہارم سورة یونس کی آیت 74 ، سورة ہود کی آیت 50 سے 60 تک سورة ابراہیم کی آیت 4 جلد ششم سورة النمل کی آیت 72 ، سورة الشعراء کی آیت 123 تا 139 میں کردیا ہے۔
Ayah 89:7

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

(عاد) اِرم سے جو بڑے بڑے ستونوں والے تھے

عاد ارم جو بہت بڑے بڑے ستونوں والے تھے 7 ؎ کہا گیا ہے کہ ارم عاد اول قوم کے دادا کا نام تھا اس لیے ان کو عاد ارم کہا جاتا ہے اور ان کے ایک خاص شہر کا نام بھی ارم تھا جو غالباً اس ارم نام کے آدمی نے بسایا تھا جو عاد اولیٰ کا دادا تھا۔ ( ذات العماد) ان کو کئی ایک معنوں کے لحاظ سے کہا گیا ہے۔ (1) وہ قدو قامت میں بہت لمبے تھے اور بہت قوی ہیکل لوگ تھے۔ (2) عماد ستون کو کہتے ہیں گویا قدو قامت میں وہ ستونوں کی طرح تھے۔ (3) اپنی حکومت اور فتوحات کی نشانیاں ستونوں کے رنگ میں بنایا کرتے تھے جیسے ہندوستان کے راجہ اور بادشاہ ” لات “ بنایا کرتے تھے ، جیسے اشوک کی لات ۔ فیروز شاہ کی لات (4) بہت بلند عمارتیں بنایا کرتے تھے اس لیے ان کو ( ذات العماد) بھی کہا گیا ہے اور علاوہ ازیں بھی بہت کچھ کہا گیا ہے۔
Ayah 89:8

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

جن کا مثل (اس) ملک میں کوئی پیدا نہ کیا گیا تھا

جن کی مثل اس وقت کوئی نہ پیدا کیا گیا تھا 8 ؎ جس زمانہ میں یہ قوم تھی اس زمانہ میں ان ہی کا طوطی بولتا تھا اور ان کے برابر کی کوئی دوسری قوم اس وقت موجود نہ تھی ۔ قوم کے زمانہ کی بات اور قوم عاد ہی کے برابر کی بات کی جا رہی ہے مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے جو ترقی اس زمانہ میں کی اور جس طرح ڈنکا ان لوگوں کا اس زمانہ میں بجا یہ حال کسی دوسری قوم کو اس وقت میسر نہ آیا ۔ عاد قوم بہت قوی ہیکل تھی اور ان کی جسمانی حالت بھی اس وقت کی قوموں میں مثالی تھی پھر ان کی عمارات کا معاملہ بھی بڑا عجیب تھا کہ بہت اونچی اونچی عمارات بناتے تھے بلکہ اس زمانہ میں اس فن نے اتنی ترقی کی کہ ان لوگوں کا تو امتیازی نشان قائم ہوگیا اور اس طرح ان کے بعد بھی ہر زمانہ میں کسی نہ کسی قوم نے کسی نہ کسی شعبہ میں اتنی ترقی کی اس شعبہ میں اس زمانہ میں ان کا کوئی توڑنہ کرسکا ۔ جس زمانہ میں آ گرہ کے اندر تاج محل بنا تھا اور اس میں جو کام بچی کاری کا ہوا تھا آج تک اس کی مثل شاید ہی کوئی کام ہوا ہوگا ۔ تاج محل کے ایک دروازہ پر سورة الفجر اس پچی کاری کے فن میں لکھی گئی اور اسوقت یہ کام محض زیر نظر آیت کی وجہ سے کیا گیا لیکن اس کا صحیح مصداق وہ ٹھہرے کیونکہ اس زمانہ میں تاج محل کی طرح کی عمارت حسن اور نزاکت میں اس وقت شہروں اور ملکوں میں بھی نظر نہیں آتی تھی۔
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ (کیا ہوا) جو وادیوں میں پتھر تراشا کرتے تھے

اور پھر ثمود کے ساتھ کیا ہوا جو وادیوں میں پتھر تراشا کرتے تھے 9 ؎ ثمود کہاں آباد تھے اور کس خطہ میں پھیلے ہوئے تھے ؟ اس کے متعلق یہ طے شدہ امر ہے کہ ان کی آبادیاں حجر میں تھیں۔ حجاز اور شام کے درمیان وادی ٔ قریٰ تک جو میدان پایا جاتا ہے یہ سب ان کا مقام سکونت تھا اور اس علاقہ کو آج کل ” فج ناقۃ “ کے نام سے بھی موسوم کیا جاتا ہے۔ ثمود کی بستیوں کے کھنڈرات اور آثار آج تک موجود ہیں اور اس زمانہ میں بھی بعض مصری آثار قدیمہ کے ماہرین نے ان کو اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔ ان کا بیاں ہے کہ وہ ایک مکان میں داخل ہوئے جو شاہی حویلی کہلاتی تھی ۔ اس میں متعدد کمرے ہیں اور حویی۔ کے ساتھ ایک بہت بڑا حوض ہے اور یہ پورا مکان پہاڑ کاٹ کاٹ کر بنایا گیا ہے ۔ حجر کا یہ مقام جو حجر ثمود کہلاتا ہے شہر مدین سے جنوب مشرق میں اس طرح واقعہ ہے کہ خلیج عقبہ اس کے سامنے پڑتی ہے اور جس طرح عاد کو ( عاد ارم) کہا گیا ہے اسی طرح ان کی ہلاکت کے بعد ان کو بھی ( ثمود ارم ) یا عاد ثانیہ کہا جاتا ہے۔ یہ قوم جیسا کہ پیچھے اشارہ کردیا گیا ہے پتھر کاٹ کاٹ کر مکانات بنانے کے فن میں بہت ماہر تھی اور ثمود سے پہلے اس فن کا کچھ پتہ نہیں چلتا ۔ ان کے آثار سینکڑوں سالوں سے چلے آ رہے ہیں اور ان کے مکانات ابھی تک وہاں موجود ہیں ۔ قرآن کریم نے ان کو عاد کا خلیفہ قرار دیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ جو قوم ہود (علیہ السلام) کی مخالفت میں ہلاک کی گئی اس قوم کا یہ لقب تھے لیکن بعد میں ہوتے ہوتے یہ لوگ بھی دوسری قوموں کی طرح بگڑ گئے اور پھر ان کی اصلاح کے لیے اللہ تعالیٰ نے صالح (علیہ السلام) کو بھیجا اور صالح (علیہ السلام) کی مخالفت میں اس قوم کو ہلاک کیا گیا ، جو طریقہ پیچھے سے چلا آ رہا تھا۔ ثمود کا ذکر پیچھے نہایت تفصیل کے ساتھ بہت سے مقامات پر گزر چکا ہے ، تفصیل کے لیے عروۃ الوثقیٰ ، جلد سورم سورة الاعراف کی آیت 72 ، 78 ، جلد چہام سورة التوبہ کی آیت 70 ، سورة ہود کی آیت 61 ، سورة ابراہیم کی آیت 9 ، جلد پنجم سورة الاسراء کی آیت 59 ، جلد ششم سورة الفرقان کی آیت 38 ، سورة الشعراء کی آیت 141 ، سورة النمل کی آیت 45 ، جلد ہفتم سورة العنکبوت کی آیت 38 ، سورة ص کی آیت 13 ، سورة المؤمن کی آیت 31 ، جلد ہشتم سورة الذاریات کی آیت 43 کی تفسیر ملاحظہ کریں۔
Ayah 89:10

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون میخوں والے کے ساتھ (کیا ہوا)

فرعون میخوں والے کے ساتھ کیا ہوا 10 ؎ ( فرعون) اصل میں یہ لفظ فارا ۔ اوہ تھا ۔ مصری زبان میں فارا کے معنی محل اور اوہ کے معنی اونچے پہاڑ کے ہیں فارا اوہ محل کبیر عالی اس سے مراد شاہ مصر کی ذات ہوتی تھی جیسے خلافت عثمانیہ کے زمانہ میں باب عالی سے مرادخلیفہ کی ذات ہوتی تھی ۔ یہی لفظ بعد میں فرعون ہوگیا۔ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں فرعون کا نام ایونس تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جس فرعون نے پرورش کیا تھا اس کا نام رعمیس دوم یا رعمیس تھا۔ یونانی اس کو سو ستر بھی کہتے تھے اور عبرانی فرعون التسخیر رعمسیس کے بیٹے نفقاح کے زمانہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی اور اس سے مقابلہ ہوا اور 1491؁ء قبل مسیح میں غرق ہوا۔ فرعون اگرچہ مصر کا فرمانروا تھا لیکن بنی اسرائیل کے ساتھ اہل عرب کا میل جول تھا۔ انہوں نے اس کے مظالم اور پھر اس کی غرقابی کے قصے بھی بار ہا سنے تھے اس لیے فرعون کا ذکر ان کے نزدیک اجنبی کا ذکر نہ تھا۔ فرعون کی اس جگہ ( ذی الاوتاد) کہا گیا ہے۔ ( اوتادوتد) کی جمع ہے۔ لوہے کی میخوں کو بھی کہتے ہیں اور لکڑی کی کیلوں کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے ہمراہ ہوتا تھا نیز اس کی وجوہ اور بھی مفسرین نے لکھی ہے کہ اس کو ( ذی الاوتاد) کیوں کہا گیا ہے ۔ اس کی وضاحت ہم عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہفتم میں سورة ص کی آیت 12 میں کر آئے ہیں وہاں سے ملاحظہ کرلیں۔
Ayah 89:11

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

جنہوں نے اپنے ملک میں سخت فساد بپا کر رکھا تھا

جنہوں نے اپنے ملک میں سخت فساد بپا کر رکھا تھا 11۔ تین گروہوں کا ذکر اوپر کیا گیا ہے : عاد ، ثمود اور فرعون کا اور ان تینوں ہی نے اپنے اپنے زمانہ میں سخت فساد مچارکھا تھا اور جن جن علاقوں میں یہ لوگ رہتے تھے ان علاقوں میں انہوں نے سر کشی اختیار کی اور ظلم و ستم کی حد کردی ۔ کسی کی آبرو ، کی جان ، کس کی جائیداد محفوظ نہ رہی تھی ۔ جس طرح چاہتے تھے زیردستوں پر ظلم و ستم کرتے اور ان کو لوٹتے ، ان کی عصمتوں کو تاراج کردیتے اور ان کے خون کے دریابہا دیتے اور اس بےحس ظلم کی وجہ یہ تھی کہ انہیں روز حساب کا کوئی خوف نہ تھا۔ جب ان کے مظالم کی حد ہوگئی ، ان کے انبیاء ان کی اصلاح سے مایوس ہوگئے اور ان کے راہ راست پر آنے کی کوئی امید نہ رہی تو عذاب الٰہی کا کوڑا اس زور سے ان پر برسا کہ ان کی خاک تک اڑا کر رکھ دی گئی ، ان کی عظمتوں کا نام و نشان باقی نہ رہا ۔ ان کی داستان عبرت سنانے کے لیے ان کے قصور و محلات کے شکستہ کھنڈرات باقی رہ گئے۔ ان تینوں قوموں کی داستانیں آپ نے قرآن کریم میں کتنی بارپڑھیں اور ان کی مختلف صورتیں جو بیان کی گئی ہیں ان کو بھی آپ نے کئی بار ملاحظہ کیا لیکن اس وقت کے فرعون جن کے ناموں سے بھی آپ واقف ہیں اور ان کے مظالم سے بھی آپ لوگ واقف ہیں اور اس طرح قوم عاد کے مشرفین اور قوم ثمود کے وڈیروں کی طرح کے مترفین اور و ڈیرے آج بھی موجود ہیں لیکن انہوں نے ظلم و ستم کے نئے نئے طریقے نکال لیے ہیں ۔ ان کے مظالم صرف انبیاء کرام (علیہ السلام) اور ان کے ماننے والوں کے خلاف تھے لیکن آج کل کے فرعونوں ، عادیوں اور ثمودیوں کے مظالم پوری قوم کے غریبوں اور مسکینوں کے خلاف ہیں اور وہ اس رنگ میں ظلم ڈھا رہے ہیں کہ ان کے مظالم کا کوئی نام بھی نہیں لے سکتا لیکن ان کے نتائج سے پوری قوم کی قوم متاثر ہو رہی ہے جس کا نتیجہ یہ ہے کہ امیر طبقہ امیر سے امیر ہوتا چلا جا رہا ہے اور غریب طبقہ کو دو وقت کی روٹی اور رہنے کے لیے سادہ سا مکان تک میسر نہیں ہے اور آئے دنوں ان مشکلات میں اضافہ ہوا چلا جارہا ہے۔ حالات آپ کے سامنے ہیں حالانکہ ان حالات کو درست کرنے کے لیے اور لوگوں کی تفہیم کے لیے قرآن کریم کی جو آیات بار بار دہرائی جا رہی ہیں اور لوگوں کو بتایا جا رہا ہے کہ تم بھی قیامت کا انکار کرتے ہو اس لیے تم اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتے ان گزری ہوئی قوموں کی تباہی بتایا جارہا ہے کہ تم بھی قیامت کا انکار کرتے ہو اس لیے تم اپنی باغیانہ روش سے باز نہیں آتے ان گزری ہوئی قوموں کی تباہی میں تمہارے لیے عبرت کے صدہا سامان ہیں اگر تم پھر بھی اپنی اصلاح نہیں کرتے تو اس طرح کے انجام کے لیے تم بھی تیار ہو جائو۔
Ayah 89:12

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

اور فساد میں وہ (مزید) بڑھتے ہی جاتے تھے

اور فساد میں وہ مزید بڑھتے ہی جاتے تھے 12 ؎ بد اعتدال اپنی بد اعتدالیوں میں بڑھتے ہی جاتے ہیں کبھی بھی کسی کا دل نہیں بھرا کہ ہم نے بہت کچھ کرلیا ہے اب تو سنبھل جائیں اور بد اعتدالیوں سے باز آجائیں لیکن ان کی بداعتدالوں کے رکنے کا وہی وقت ہوتا ہے جب ان کو پکڑ لیا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ہاں یہ طے شدہ بات ہے کہ جب اس کی طرف سے پکڑآ جاتی ہے تو پھر اس کو مہلت نہیں ملتی ہے۔ افراد کا معاملہ الگ ہے اور قوم کا معاملہ بالکل اس سے مختلف ہے لیکن جو نبی اعظم و آخر ﷺ کی امت کا وقت آیا تو آپ ﷺ کی پوری قوم کی پکڑ کا نام قیامت رکھا گیا اور اس سے پہلے چھوٹے چھوٹے عذابوں میں قوم کو مبتلا کر کے جھنجوڑے جانے کا اصول طے کیا گا اور اسی اصول کا اعلان قرآن کریم کی سورة السجدہ میں کیا گیا ، تفصیل کے لے عروۃ الوثقیٰ ، جلد ہفتم میں سورة السجدہ کی آیت 21 کی تفسیر دیکھیں ۔ زیر نظر آیت میں گزشتہ قوموں کی ہلاکت کا اصول بتایا گیا ہے کہ ہم نے ان قوموں کو اس وقت ہلاک کیا جب انہوں نے خوب اودھم مچایا اور فساد میں بڑھتے بڑھتے ساری حدود کو وہ پھلانگ گئے۔
Ayah 89:13

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

پھر تیرے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا

پھر ترے رب نے ان پر عذاب کو کوڑا برسایا 13 ؎ ( صب) کا اصل مادہ ص ب ب ہے اور ( صب) کے معنی ہیں اس نے بہایا ۔ اس نے اوپر سے ڈالا صب سے ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ( سوط) چمڑے کا کوڑا سواط اور سیاط جمع سوط کے معنی اصل میں کسی شے کے باہم خلط ملط ہونے کے ہیں ۔ کوڑے کو سوط اس لیے کہتے ہیں کہ اس کے تسمے آپس میں بٹے ہوئے ہوتے ہیں ۔ ( کشاف ج اول ص 48 مصر) اور ابن ورید کا بیان ہے کہ جب کوڑے لگائے جاتے ہیں تو کوڑا چونکہ گوشت کو خون سے خلط ملط کردیتا ہے اس لیے اس کا نام سوط ہوا ۔ ( مفردات ِ راغب) ظالموں کے ظلم کی ساری داستان کھول کر رکھ دی اور اس کا نتیجہ بھی واضح کردیا اور یہ کوڑا اس رنگ کا ہوتا ہے جس رنگ کی اللہ تعالیٰ کی لاٹھی ہوتی ہے جس کے متعلق عام محاورہ ہے کہ ” خدا کی لاٹھی میں آواز نہیں “ اس طرح جب کسی قوم پر عذاب الٰہی کا کوڑا برستا ہے تو اس کی آواز نہیں آتی اگرچہ اس قوم کی تباہی و بربادی میں کسی طرح کا کوئی شک و شبہ نہیں رہتا اور اس کی کیفیت آنے والی آیت نے واضح کردی ہے۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بلاشبہ تیرا رب (ایسے نافرمانوں کی) تاک میں ہے

بلا شبہ تیرا رب ایسے نافرمانوں کی تاک میں ہے 14 ؎ ( المرصاد) ظرف مکان مفرد۔ مراصد جمع گھات لگانے کی جگہ یعنی جس طرح گھات لگا کر کسی مخفی مقام پر بیٹھنے والے سے ادھر سے گزرنے والا دشمن بچ نہیں سکتا اور گھات لگانے والے سے دشمن مخفی نہیں رہ سکتا اسی طرح در پردہ اللہ رب کریم بھی بندوں کے تمام اعمال سے با خبر ہے ، اس سے بچ کر ، چھپ کر کوئی شخص راہ زندگی طے نہیں کرسکتا ۔ گھات لگانے کے چار اجزاء ہیں ، گھات لگانے کا مقام دشمن سے مخفی ہو ، دشمن کی وہ گزر گار ہو ، وہاں بیٹھنے والے کو دشمن کے احوال کی اطلاع ہوجائے اور اس کی گرفت سے بچ نہ کرسکے۔ یہ چاروں باتیں اس جگہ بھی مراد ہیں ۔ بندوں کو معلوم نہیں کہ اللہ تعالیٰ کے علم کا کیا ذریعہ ہے اور وہ کس طرح ہمارے احوال کو دیکھ رہا ہے اور کہاں سے دیکھ رہا ہے اور راہ زندگی سب کو طے کرنی ہے۔ سب ہی اس راستے سے گزر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کو ان کے تمام احوال و اقوال کا کامل علم ہے اور اس کی گرفت سے کوئی بچ نہیں سکتا ۔ رصد کے اصل معنی ہے گھات لگانے کے لیے تیار ہوجانا ۔ باب نصر رصد صفت کا صیغہ بھی ہے کبھی اس کا معنی فاعل ہوتا ہے کبھی مفعول ۔ ایک فرد ہو یا کثیر افراد ، ایک جماعت ہو یا کثیر جماعتیں سب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے ۔ رصد کے بعد مفعول بغیر لام کے نہیں آتا رصد لہٗ کہا جاتا ہے۔ ہاں ! اگر رصد کو متعدی بنایا جائے تو باب افعال سے ارصدتہ لہٗ کہا جائے گا ۔ اول کا ترجمہ ہے اس کو تاکا ٗ اس کی گھات لگائی۔ دوسرے کا ترجمہ ہے میں نے اس کی گھات لگانے کے لیے کسی کو مقرر کردیا ، کسی کو گھاتی بنا دیا۔ مرصد اور مرصادًامبالغہ کا صیغہ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اے پیغمبر اسلام ! آپ ﷺ اپنا کام کرتے جائیں ، آپ ﷺ کے مخالفین اور قیامت کے منکرین کو آپ ﷺ کا رب گھات لگائے ہوئے ہے اور ان کی تاک میں ہے لیکن چونکہ اس نے اپنے قانون کے مطابق ان کو ڈھیل دے رکھی ہے اور جب تک ان کی مہلت پوری نہیں ہوجاتی اس وقت تک وہ ان کو نہیں چھیڑے گا اور جونہی ان کی مہلت پوری ہوگئی فوراً ان کو پکڑ لیا جائے گا اور پھر وہ نہیں چھوڑے گا ۔
Ayah 89:15

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

پھر انسان کہ جب اس کا رب اس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اس کی عزت کرتا ہے اور اس پر نعمت نازل کرتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے میری عزت کی

پھر انسان کی جب اس کا رب آزمائش کرتا ہے تو اس کارویہ کیا ہوتا ہے 15 ؎ اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ دنیا میں انسان کی آزمائش کئی طریقوں سے کی جاتی ہے کسی کا رزق تنگ کر کے اور کسی کو خوشحال بنا کر ۔ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کسی کو حکومت ، اقتدار ، عزت ، مال و دولت اور اسی طرح دنیا کے مال و متاع وافر طور پر دیئے جاتے ہیں تو وہ ان کے نشہ میں ایسا مخمور ہوجاتا ہے کہ کسی کی نصیحت اور وعظ کی طرف کان لگانا بھی پسند نہیں کرتا اور غریب کی کوئی بات اس کی نگاہوں میں کوئی حقیقت نہیں رکھتی ۔ دنیا کا مال و متاع اس کے اندر یہ ذہنیت پیدا کردیتا ہے کہ وہ یہ سمجھنے لگتا ہے یا کم از کم ایسا ظاہر کرنے لگتا ہے کہ وہ جو کچھ کرتا ہے اللہ بھی اس سے راضی اور خوش ہے تب ہی تو اس نے اتنے انعامات اس کو دے رکھے ہیں کہ وہ جدھر قدم اٹھاتا ہے ، حکومت اور دولت قربان ہوتی چل آتی ہے اور اس کے دل میں یہ بات جم جاتی ہے کہ میں اللہ کے ہاں بہت ہی عزت و اکرام کا مستحق ٹھہرا ہوں اور وہ ان کا موں کا چھوڑ کر اپنی اصلاح کے لیے کبھی تیار نہیں ہوتا بلکہ وہ ایسا چھوٹ ہوجاتا ہے کہ اس نظریہ پر مطمئن ہو کر وہ پھولا نہیں سماتا اور کسی معاملہ میں وہ کسی کی رائے کا پابند نہیں ہونا چاہتا ۔ وہ جو کچھ کرتا ہے محض اپنے نفس کی پیروی میں کرتا ہے اور اس کو اللہ حکم سمجھتا ہے۔
Ayah 89:16

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب (اللہ) اسے آزمائش میں ڈالتا ہے ، اس کے رزق کو تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رب نے مجھے ذلیل (و خوار) کر دیا

انسان کے رزق کو تنگ کر کے اس کی آزمائش کرنا 16 ؎ انسان کی ایک حالت وہ تھی جس کا اوپر ذکر کیا گیا اور دوسری حالت یہ ہوتی ہے کہ کبھی اس کا رزق تنگ کر کے اس کی آزمائش کی جاتی ہے تو اللہ کے نیک بندے ہر حال میں اللہ پر راضی رہتے ہیں اور ان پر اس بات کا قطعاً کوئی اثر نہیں پڑتا ہے اگر ان کو فروانی ملتی ہے تو اللہ کے شکر گزار بندے بنتے ہیں اور اگر حالت دوسری پیش آجاتی ہے تو بھی وہ صبر و شکر سے اس کی رضا پر راضی رہتے ہیں لیکن اس جگہ ان لوگوں کا ذکر جن کو دولت ملتی ہے تو وہ ہر طرح کی بد اعتدالیاں کرتے ہیں اور پھر کرتے ہی چلے جاتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ ہماری بد اعتدالیاں بھی ہمارے رب کو بہت پسند ہیں تب ہی تو وہ ہم کو دیئے جاتا ہے اگر ہماری یہ حالت اس کو پسند نہ ہوتی تو ہم کو رزق کو فروانی وہ کیوں دیتا جب کہ وہ رازق ہے لیکن اگر اس کی حالت اس کی برعکس ہوجائے اور اس کا رزق تنگ ہوجائے تو وہ فوراً جزع فزع کرنے لگتا ہے اور کہنے لگتا ہے کہ میرے رب نے تو مجھے ذلیل و خوار کردیا ۔ اللہ میاں کے پاس بھی بس اتنی ہی دولت ہے کہ کبھی ادھر سے ادھر اور کبھی ادھر سے ادھرلوٹا تا رہتا ہے اور اب ہماری اہانت کے دن آ چکے ہیں ( اھانن) اس نے میری اہانت کی ، اس نے مجھے ذلیل کیا اھان اھانۃ سے ہے جس کے معنی ذلیل کرنے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ن وقایہ میں ضمیر واحد متکلم محذوف ہے جس کو ن کی زیر ظاہر کر رہی ہے۔
Ayah 89:17

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، بلکہ (قصور تمہارا ہے کہ) تم یتیم کی عزت نہیں کرتے تھے

ہرگز نہیں بلکہ تم وہ لوگ ہو کہ یتیم کی تم عزت نہیں کرتے 17 ؎ گزشتہ دو آیتوں میں یہ فرمایا گیا تھا کہ نادانو ! کس طرح کی باتیں کرتے ہو خوب سن لو اور یاد رکھو کہ دولت اس کے فضل کی نشانی نہیں ہے اور افلاس اللہ تعالیٰ کے کسی کو حقیر سمجھنے کی نشانی نہیں تم اس غلط فہمی میں کیسے مبتلا ہوگئے ہو یہ تو میری طرف سے انسانوں کی آزمائش ہے کبھی اس طریقہ سے اور کبھی اس طریقہ سے ۔ ہاں ! تم ذرا اپنا تجزیہ کر کے دیکھو کہ تمہاری مادہ پرستانہ ذہنیت نے تم کو یتیم پر رحمت و شفقت کے جذبے سے کس طرح محروم کردیا ہے کہ تم لوگ یتیموں کے سر پر شفقت کا ہاتھ بھی نہیں رکھتے بلکہ ان کی نحوست کی علامت سمجھتے ہو اور ان کے سائے سے بھی دور بھاگتے ہو حالانکہ اپنی اپنی قوم کے قریبی یتیموں سے بھی آنکھیں پھیر لیتے ہو۔ ( الیتیم) صیغہ صفت منصوب معرفہ واحد الیتامی جمع وہ نابالغ بچہ جس کا باپ مر گیا ہو ۔ یتیم کے ساتھ کیا سلوک کرنا چاہیے ؟ اگر اس کی وضاحت قرآن کریم سے چاہتے ہو تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 83 ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 36 ، یتیم کی خیر خواہی کا ذکر دیکھنا چاہیں تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 220 کی تفسیر دیکھیں۔ یتیم کے کھانے میں اس کی مدد کرنا کیا ہے ؟ جلد ہذا میں سورة الدھر کی آیت 8 ، 9 کی تفسیر دیکھیں ۔ یتیموں کے مال کی حفاظت کرنا اور اس کو مصرف میں نہ لانے کی ممانعت کے متعلق وضاحت چاہیں تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 34 اور آیت 5 جو لوگ یتیموں کے مال کو ظلم سے کھاتے ہیں ان کا عروۃ الوثقیٰ ، جلد دوم سورة النساء کی آیت 10 ، یتیم کے مال کا حکم دیکھنا چاہیں تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد سوم سورة الانعام کی آیت 152 کو دیکھیں ۔ یتیم لڑکیوں سے نکاح کے متعلق بیان دیکھنا چاہیں تو سورة النساء کی آیت 3 ملاحظہ کریں ۔ نیز سورة النساء کی آیت 27 کی تفسیر میں دیکھیں صدقات مال غنیمت میں یتیموں کے حصہ کے بارے میں دیکھنا چاہیں تو جلد اول سورة البقرہ کی آیت 215 ، جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 41 ، جلد ششم سورة الحشر کی آیت 7 کی تفسیر دیکھیں ۔ اس سلسلہ میں دو تین ارشادات رسول اللہ ﷺ کے بھی ملاحظہ فرمائیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : (1) ( خیر بیت فی المسلمین بیت فیہ یتیم بحسن الیہ و شربیت المسلمین بیت فیہ یتیم یساء الیہ) (ابن ماجہ) ” مسلمانوں میں سب سے بہتر وہ گھر ہے جس میں یتیم ہو اور گھر والے اس کے ساتھ نیک سلوک کرتے ہوں اور مسلمانوں کے گھروں میں سب سے برا اور بد تر وہ گھر ہے جس میں ییمو ہو اور گھر والے اس کے ساتھ برائی سے پیش آتے ہوں “۔ (2) ( من احسن الی یتیمۃ او یتیم عندہ کنت افاوھو فی الجنۃ کھاتین و قرن بین اصبعیۃ ) (احمد و ترمذی) ” جو شخص اس یتیم لڑکی یا یتیم لڑکے کے ساتھ اچھا سلوک کرے گا جو اس کی نگرانی میں رہیں اور وہ دونوں جنت میں ان دو انگلیوں جیسے پاس ہوں گے اور آپ ﷺ نے وسطی اور سبابہ دونوں انگلیوں کو ملا کر لوگوں کو دکھایا “۔ (3) ( من مسح راس یتیم لم یمسحہ الا اللہ کان لہ بکل شعرۃ قمر علیھا یدیہ حسنات) (ترمذی) ” جو شخص یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا مندی کے سوا وہ کسی دوسری غرض سے ہاتھ نہیں پھیرتا تو اسے ہر بال کے عوض میں نیکیاں ملتی ہیں “۔ (4) ( ان رجلا شکیٰ ال النبی ﷺ قسوۃ قلبہ قال امسح راس الیتیم واطعم المسکین) ( مسند امام احمد) ” ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے اپنی سخت دلی کی شکایت کی تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ شفقت و مہربانی سے یتیم کے سر پر ہاتھ پھیرتا رہ اور محتاج کو کھانا کھلاتا رہ “۔
Ayah 89:18

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ ہی تم مساکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے تھے

اور نہ تم مساکین کو کھاناکھلانے کی ترغیب دیتے ہو 18 ؎ یتیموں ، مسکینوں اور محتاجوں کو کھانا کھلانے کا حکم اگر قرآن کریم میں دیکھناچا ہیں تو عروۃ الوثقیٰ ، جلد اول سورة البقرہ کی آیت 177 کی تفسیر دیکھیں اور اسی طرح سورة البقرہ کی آیت 273 کی تفسیر ملاحظہ کریں ۔ ان کا حق مال غنیمت اور مال فے میں بھی مقرر ہے جلد چہارم سورة الانفال کی آیت 41 کی تفسیر دیکھیں پھر جلد نہم سورة الحشر کی آیت 7 ، قربانی کے گوشت میں بھی ان کا حصہ مقرر ہے جلد ششم سورة الحج کی آیت 28 ، 36 میں مساکین کو کھانا کھلانے کی تاکید کی گئی ہے۔ جلد اول سورة البقرہ کی آیت 184 ، جلد سوم سورة المائدہ 89 ، جلد نہم سورة المجادلہ کی آیت 4 ، سورة الدھر کی آیت 8 ، سورة الفجر کی آیت ہذا اور سورة الماعون کی آیت 7 کی تفسیر کو دیکھیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے بھی غرباء و مساکین کو دینے کی بہت تاکید فرمائی ۔ (1) ( فان اللہ قد فرض علیھم خمس صلوات فی الیوم واللیلۃ فاز اھم اطاعوا الذلک فاعلمھم ان اللہ قدفرض علیھم صدقۃ توخذ من اغنیاء ھم فترد علی فقرائھم) ( صحیح بخاری و صحیح مسلم) ” اللہ تعالیٰ نے ان پر دن رات میں پانچ نمازیں فرض کی ہیں اگر وہ اسے بھی تسلیم کرلیں تو پھر انہیں یہ بات معلوم کرانی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکوٰۃ فرض کی ہے جو ان کے مالداروں سے لے کر ان کے فقراء میں دی جائے گی “۔ (2) (لیس المسکین الذی یطوف علی الناس و تردہ اللقمۃ واللقمتان والتمرۃ والتمرتان ولکن المسکین الذی لا یجد غنی یغنیہ ولا یفطن بہ فیتصدق علیہ ولا یقوم فیسال الناس (بخاری و مسلم) ” مسکین وہ نہیں ہے جو لوگوں میں گھومتا پھرتا رہے اور ایک ایک لقمہ اور دو دو لقمے یا ایک ایک اور دو دو کھجوریں مانگتا پھرے بلکہ اصل مسکین وہ ہے جو اس قدر مال نہ پائے جو اسے بےنیاز کر دے اور کسی کو اس کی اس حالت کی خبر تھی نہ ہو ۔ خبر ہو تو لوگ اسے خیرات بھی دیں اور نہ وہ لوگوں سے مانگنے کھڑا ہو “۔ (3) ( قال رسول اللہ ﷺ شر الطعام طعام الولیمۃ یدعیٰ لھا الاغنیاء ویترک الفقراء ون ترک الدعوۃ فقد عصی اللہ ورسولہ) (صحیح مسلم و صحیح بخاری) ” رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ سب کھانوں میں برا کھانا اس ولیمہ کا ہے جس کے کھانے کے لیے دولت مند تو بلائے جائیں اور محتاج و مسکین چھوڑ دیئے جائیں اور جس شخص نے دعوۃ کو قبول کرنے سے انکار کیا اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی فرمانی کی “۔ مطلب یہ ہے کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ ان کی بستی میں ، ان کے محلے میں بلکہ ان کے پڑوس میں کئی لوگ فاقہ کشی کر رہے ہوتے ہیں لیکن یہ اپنی رنگ رلیوں میں مصروف رہتے ہیں ۔ انہیں کبھی ان مسکینوں کی تکلیف کا احساس بھی نہیں ہوتا نہ وہ خود ان کی طرف دست تعاون دراز کرتے ہیں ، نہ دیگر خوشحال لوگوں کو اس کی ترغیب دیتے ہیں ۔ انسان کا دل ہمدردی کے جذبات سے خالی ہوجائے تو اس کی سنگدلی کی یہی کیفیت ہوتی ہے اور اس سے ان کو روکنے کے لیے یہ آیات کریمات نازل ہوئی ہیں۔
Ayah 89:19

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور تم (وہ ہو کہ) میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے تھے

اور تم میراث کا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو 19 ؎ مال کی محبت تمہارے دلوں میں اس طرح گھر کرگئی ہے کہ تم حلال و حرام کی تمیز بھی نہیں کرتے اور حق و ناحق بھی نہیں دیکھتے جس طرح بن پڑے بس اس کو ہڑپ کرنے کی کوشش کرتے ہو اور دونوں ہاتھوں سے سمیٹنے میں مصروف رہتے ہو اگر تم میں سے کوئی مر جاتا ہے تو اس کی پوری میراث کو کھا جانے کی تدبیریں کرتے ہو نہ اس کی کمزور اولاد کو کچھ دینے کے لیے تیار ہوتے ہو اور نہ اس کے بوڑھے والدین کا اس میں کچھ حق مانتے اور تسلیم کرتے ہو ۔ مشرکین مکہ کے ہاں رواج تھا کہ جب کوئی آدمی مر جاتا تو اس کی نرینہ اولاد میں سے وہ جو جنگجو ہوتا اور طاقتور ہوتا وہ سارے مال پر قبضہ جما لیتا اور اس کی دوسری کمزور اولاد کو اور بیوی کو کچھ بھی اس میں سے نہ دیتا اور وہ یہ سمجھتے تھے کہ گویا مرنے والے کے گھر کا اب وہ بڑا لڑکا حقدارہو گیا جو مال وہ چھوڑ گیا وہ اس کا اور جو ذمہ داریاں اس نے چھوڑ ہیں وہ ان کو پورا کرے گا اور اس کے ساتھ دوسرے اس مال میں شریک نہیں ہوں گے۔
Ayah 89:20

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور تم مال سے بہت ہی زیادہ محبت کرتے تھے

اور تم مال سے بہت زیادہ محبت کرنے والے ہو 20 ؎ دولت کے جمع کرنے سے تم کو اتنی محبت ہے کہ تمہاری حرص ہے کہ وہ ختم ہونے ہی کو نہیں آتی ۔ تم چاہتے ہو کہ جتنا مال ہے یہ ہمارے پاس جمع ہوجائے گویا مال گن گن کر رکھنے کی تم کو عادت پڑی ہے کہ تم پہلے رکھی ہوئی دولت میں جب حرام و حلال اکٹھا کر کے رکھنا چاہتے ہو تو پہلی کو بھی اس کے ساتھ ملا کر شمار کرنا شروع کردیتے ہو اور اس دولت کا تم کو اتنا نشہ ہے کہ صرف گن گن کر رکھنے اور اس کو زیادہ سے زیادہ بنانے کے چکر میں نہ تو خود استعمال کرتے ہو اور نہ ہی کسی دوسرے کو استعمال کرتے دیکھنا چاہتے ہو ۔ تمہاری زندگی گزر جاتی ہے کہ گرمیاں سردیوں میں کپڑے استعمال کرنے کی حرص میں گزار دیتے ہو اور سردیاں آتی ہیں تو آگ تاپتے ہوئے گزار دیتے ہو اور اس طرح آج کل رتے تم نے ساری عمریں گزار دی ہیں لیکن مال جمع کرنے کی محبت تمہاری ساری زندگی سرد نہیں پڑی۔ تم وہ لوگ ہو جب کہیں سے کوئی چیز آتی دیکھتے ہو تو سب سے پہلے وہاں پہنچتے ہو اور رو رو کر اور عاجزی وزاری کرکے مانگتے ہو لیکن جب مال تمہارے پاس جمع ہوجاتا ہے اور تم اپنی آنکھوں کے سامنے غریبوں کو تکلیف میں مبتلا دیکھ کر بھی تمہارا دل کبھی نہیں پسیجتا کہ کسی غریب کی ضرورت ہی پوری کردیں کیونکہ اس وقت سب سے زیادہ غریب تو تم خود ہوتے ہو۔
Ayah 89:21

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہرگز نہیں ، (ذرا غور کرو) جب زمین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا جائے گا

ہرگز نہیں جب زمین کو ریزہ ریزہ کردیا جائے گا 21 ؎ (دکت) وہ توڑ دی جائے گی ، وہ ریزہ ریزہ کردی جائے گی د ک سے ماضی مجہول کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ( دکا) ریزہ ریزہ کرنا ، ڈھا کر برابر کردینا ، کوٹ کر ہموار کرنا (دک) یدک کا مصدر ہے اصل میں ( دک) نرم اور ہموار زمین کو کہتے ہیں اور چونکہ نرم اور ہموار زمین ریزہ ریزہ ہوتی ہے اس لیے اسی مناسبت سے اس کے مصدر کے معنی مقرر ہوئے۔ مطلب یہ ہے کہ وہ دن یقینا آنے والا ہے کہ یہ زمین ریزہ ریزہ کر کے رکھ دی جائے گی اور اس کے نشیب و فراز ختم کردیئے جائیں گے اور اس کو کف دست کی طرح صاف اور ستھرا کردیا جائیگا۔
Ayah 89:22

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تیرا رب تجلی فرمائے گا اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے

تیرا رب تجلی فرمائے گا اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے 22 ؎ ہم نے اس تفسیر میں جگہ جگہ اس بات کی وضاحت کی ہے کہ یہ قرآن کریم ہماری زبان میں نازل ہوا ہے اور جس طرح یہ ایک دوسرے کا ذکر کرتے ہیں اس طرح اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ذکر کیا جاتا ہے اور یہ بات الگ سمجھا دی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ کی نہ کوئی ضد ہے اور نہ اس کا کوئی ند ہے اور نہ اس کی مثال کسی کے ساتھ دی جاسکتی ہے کیونکہ وہ کسی کی مثل نہیں ہے اور نہ ہی کوئی اس کی مثل ہے لہٰذا جب بھی اللہ تعالیٰ کا ذکر اس طرح کیا جائے گا تو اس سے خود بخود یہ سمجھ لینا چاہیے کہ اس سے مراد محض تفہیم ہے نہ کہ حقیقت دراصل جو چیز نہ دکھائی دے اور نہ ہی وہ دکھائی جاسکتی ہو ، جو نہ اول ہو اور نہ آخر ، نہ ظاہر ہو اور نہ باطن تو اسکے متعلق تفہیم کرانے کا کیا طریقہ ممکن ہے ؟ جواب یہی ہے کہ اس کو جس طرح بھی بیان کرو گے محض تفہیم کے لیے کرو گے اس کی کوئی اصلیت اور حقیقت نہیں ہوگی ۔ اس لیے جو اس جگہ ارشاد فرمایا کہ جب آپ کا رب جلوہ افروز ہوگا یا تیرا رب آئے تو اس کا مطلب یہ نہ سمجھا جائے کہ فی الواقع وہ اس سے پہلے کہیں گیا ہوا تھا اور اب آیا ہے یا آئے گا بلکہ اس کا مفہوم اس وقت بھی یہ سمجھا جائے گا کہ یہ بات محض انسانی تفہیم کے لیے کہی گئی ہے اور اگر بات اس طرح نہ کہی جائے تو انسان کی آنکھوں پر پردہ آجاتا ہے اور اس کی سمجھ میں کوئی بات نہیں آتی لہٰذا اس کو سمجھانے کے لیے یہ استعارات و اشارات ہیں جو محض گفتگو کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ وہ وقت آئے گا کہ تیرا رب آئے گا اور فرشتے صفیں باندھے کھڑے ہوں گے جو نہایت ادب و احترام سے کھڑے ہوں گے۔
Ayah 89:23

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اس دن دوزخ حاضر کی جائے گی (اور) اس دن انسان پچھتائے گا لیکن اب پچھتائے کیا ہوت ؟

اس روز دوزخ بھی حاضر کی جائے گی اور انسان پچھتائے گا 23 ؎ گزشتہ آیات میں جو کچھ بیان کیا گیا ہے وہ صرف زمانہ ٔ جاہلیت ہی کے ساتھ خاص نہ تھا آج بھی اکثر لوگ جن کو اسلام کے بتائے ہوئے نظریات و عقائد پر پورا یقین نہیں ہے وہ سب کے سب اس جگہ ہی سرگرداں ہیں اس لیے ان کے سامنے اسی طرح بیان کرنا چاہیے کہ ان کے کانوں کی کھڑکیاں دی جائیں اور ان کو باور کرادیا جائے کہ جب قیامت بپا ہوگی تو یہ سارا نظام عالم درہم برہم کردیا جائے گا اس وقت ان غافل انسانوں کی غفلت کے پردے ہٹیں گے اور ان کو معلوم ہوگا کہ اللہ تعالیٰ کے رسول نے جو بتایا تھا وہی حق تھا ، جو قرآن کریم نے دعوت دی ہے اس میں ان کی اصلاح مضمر تھی لیکن اس روز ان کا اس طرح سمجھنا ان کے کچھ کام نہیں آئے گا اور انہیں اپنے کیے کی ہر حال میں سزا بھگتنا ہوگی اور سزا دینے کے لیے تم ہی کو کہیں نہیں لے جایا جائے گا بلکہ دوزخ کو تمہارے بالکل قریب آیا جائے گا اور تم کو یکبارگی دھڑام سے اس میں گرا دیا جائے گا اور آج کا وہ دن ہے کہ سب کچھ ان کے سامنے کھل کر آجائے گا ( یتذکر) واحد مذکر غائب مضارع فذکر مصدر نصحتا پکڑتا ہے ( الذکری) نصیحت کرنا ۔ ذکر کرنا یا پند و مؤعظت ، کثرت ذکر کے لیے ( ذکری ) بولا جاتا ہے اور یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے ۔ مطلب یہ ہے کہ اب نصیحت کا وقت تو نکل گیا اس لیے ان کی سمجھ میں تو آجائے گا کہ ہم ساری زندگی غلطی کرتے رہے لیکن اس سمجھ آنے کا ان کو کچھ فائدہ نہیں ہوگا اس لیے ان کو اپنے کیے کی سزا بھگتنا ہوگی۔
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

وہ کہے گا کاش ! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا

وہ کہے گا کاش میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا ؟ 24 ؎ قیامت کے روزانسان جس طرح کف افسوس ملے گا اس کا ذکر کیا جا رہا ہے کہ وہ پچھتائے گا اور کہے گا کہ کاش میں نے آج کے دن کے لیے اور اس نے ختم ہونے والی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجا ہوتا اور کاش ! آج میں تہی دست نہ ہوتا ۔ اس آیت نے صاف کردیا کہ مرنے والے کے مرنے کے بعد جو اسکے لواحقین رسومات دنیوی ادا کرتے ہیں ان کا آخت کے ساتھ دو کا بھی واسطہ نہیں اور نہ ہی مرنے والے کو کچھ اس کا اجر ملے گا اگر اس طرح کے قرآن کریم پڑھانے اور کلمہ طیبہ کے ورد کرانے اور ایسی تسبیح خوانی کرانے اور ملائوں کے پیٹ بھرنے سے کچھ ملتا ہوتا تو قرآن کریم مرنے والوں کا ذکر اس طرح بالکل نہ کرتا جب کہ ہمارے ہاں ہر مرنے والے کے لواحقین کچھ نہ کچھ ضرور پیچھے بھیجتے ہیں تو اگر وہ درخواست کرتا تو یہی کرنا کہ کاش میرے لواحقین میرے لیے زیادہ اجر وثواب اکٹھا کر کے بھیجے تاکہ اس جگہ وہ مرلے کام آتا لیکن قرآن کریم الحمد کی بسم اللہ سے لے کر ( والناس) تک پڑھ جائو کسی ایک جگہ بھی اس نے اس طرح ذکر نہیں کیا کہ مرنے والے کو یہ حسرت ہوگی کہ کاش میرے لواحقین میرے بعد زیادہ سے زیادہ میرے لیے کچھ بھیجنے کا اہتمام کرتے ۔ لیکن قرآن کریم نے کسی ایک جگہ ” بھول “ کر بھی اس کی طرف اشارہ تک نہیں کیا ۔ لاریب اس کی کوئی حقیقت ہی نہیں ہے یہ محض ملائوں نے اپنے پیٹ کے لیے سارا ڈھونگ رچایا ہے اور کھانے پینے کے حرام طریقے گھڑ لیے ہیں ان کے ساتھ ثواب کا لاحقہ اور سابقہ لگا دیا ہے تاکہ لوگ لالچ میں آ کر کچھ دیتے رہیں اور ہمارا کام چلتا رہے۔ قرآن کریم کے ان الفاظ پر خود براہ راست غور کریں اور ایک ایک لفظ کو بھی پڑھیں اور ترجمہ کر کے اس کے مفہوم کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ( یقول) وہ کہے گا ( یلیتنی) کاش کہ میں نے ( قدمت) کچھ تو آگے بھیجا ہوتا ( لحیاتی) اس زندگی کے لیے اور آج میں تہی دست نہ ہوتا اگر اس کے لواحقین کا بھیجا ہوا اس کو ملتا تو وہ خالی ہاتھ تو آخر نہ ہوتا اور اس کو اتنا افسوس نہ ہوتا اور دوسری جگہ جو اس نے اپیل کی ہے کہ اے میرے اللہ ! مجھے ایک بار دنیا میں بھیج دے کہ میں اپنے لیے کچھ تو نیک عمل کرلوں جیسا کہ ارشاد الٰہی ہے کہ قیامت کے روز کچھ لوگ اس طرح اپیل کریں گے : (ربنا اخرجنا منھا فان عدنا فانا ظالمون) (المؤمنون : 107) ” اے ہمارے پروردگار ! اب ہمیں اس حالت سے نکاح دے اگر ہم پھر ایسی گمراہی میں پڑیں تو بلا شبہ نافرمان ہوئے “ ۔ ان کو جو جواب دیا جائے گا اس کی وضاحت اس مقام سے دیکھ لیں اور یہ وضاحت عروۃ الوثقیٰ ، جلد ششم میں سورة المؤمنون کی آیت 108 ، 109 میں مل جائے گی۔
Ayah 89:25

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پس اس دن اللہ کے برابر نہ کوئی عذاب دینے والا عذاب دے گا

بس اس دن اللہ تعالیٰ کے برابر نہ کوئی عذاب دینے والا عذاب دے گا 25 ؎ فرمایا اس روز ان لوگوں کی اپیلوں سے کچھ ان کا فائدہ نہیں ہوگا بلکہ آج کا دن وہ دن ہے کہ ان کو عذاب میں مبتلا کردیا جائے گا اور یہ عذاب وہی عذاب ہوگا جو انہوں نے دنیا میں اپنے لیے خود کمایا ہوگا نہ کہ ان کے ذمہ خواہ مخواہ لگا دیا جائے گا لیکن وہ عذاب دنیا کے عذابوں کی طرح نہیں ہوگا بلکہ وہ اتنا زبردست عذاب ہوگا کہ دنیا میں ایسے عذاب کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا اور نہ ہی اس دن کے عذاب جیسا دنیا کا عذاب ہو سکتا ہے کیونکہ وہ پورا پورا اس کے اعمال کا نتیجہ ہوگا اور اس کے کیے ہوئے اعمال کے نتیجہ میں اس کو آہنی زنجیروں میں جکڑ کر رکھ دیا جائے گا جس کو نہ تو وہ توڑ سکے گا اور نہ ہی اتار کر پھینک سکے گا کیونکہ یہ معاملہ اس کے بس کا معاملہ نہیں ہوگا اور نہ ہی اس کے اختیا کی بات ہوگی۔
Ayah 89:26

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ اس کی گرفت جیسی کوئی اور گرفت کرے گا

اور نہ ہی اس کی گرفت جیسی اور کوئی گرفت کرے گا 26 ؎ مطلب یہ ہے کہ اس روز جس طرح اللہ تعالیٰ ایسے انسانوں کو جکڑے گا اس طرح دنیا میں اور نہ آخرت میں کوئی دوسرا پکڑ سکتا ہے اور پکڑے گا کیونکہ اللہ تعالیٰ کی گرفت اس طرح کی گرفت نہیں ہوتی جس طرح ہم ایک دوسرے کو جکڑنے کی کوشش کرتے ہیں بلکہ وہ ایسا جکڑنا ہے کہ جس کو جکڑا گیا ہے وہ ایک ذرا بھر بھی ادھر ادھر نہیں چل سکے گا اور اس طرح جم جائے گا کیونکہ دنیا میں اس کو ارادہ دیا گیا تھا اور وہ ارادہ کے تحت اپنی کوشش میں جائز و ناجائز طریقہ سے کوشش کرتا ہے اور کرسکتا ہے لیکن قیامت کے روز اس سے ارادہ اور اختیار چھین لیا جائے گا اور اس کی زبان پر مہر لگا دی جائے گی اور اس کے اعضاء کو اس کے خلاف گواہی کے لیے کھڑا کردیا جائے گا اور اس کے ہاتھ ، پائوں ، اس کی آنکھیں اور کان سب اس پر گواہی دیں گے۔ ذرا غور کرو کہ اس طرح کی پکڑ کوئی دوسرا پکڑ سکتا ہے اور یہ بھی کہ جب خود اللہ تعالیٰ اسکی توفیق فرما رہا ہے کہ اس کو اس طرح باندھ دیا جائے گا جس طرح کوئی دوسرا نہیں باندھ سکتا۔
Ayah 89:27

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے وہ نفس جس نے اطمینان حاصل کر لیا

اے وہ نفس جس نے اطمینان حاصل کر لیا ہے 27 ؎ ( المطمئنۃ) اسم فاعل واحد مؤنث مرفوع ، معرفہ۔ سکون پانے والا ۔ مجاہد نے کہا اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر مکمل یقین رکھنے والا اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کی پابندی کرنے والا ۔ حسن بصری نے کہا ایمان اور یقین رکھنے والا ۔ عطیہ نے کہا اللہ تعالیٰ کے حکم پر راضی ، کلبی نے کہا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ۔ بعض نے کہا اللہ تعالیٰ کی یاد سے سکون پانے والا ۔ ( معالم التنزیل) منکرین قیامت کے حسرت ناک اور افسوس ناک انجام کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کا ذکر کرنا چاہا جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر راضی رہنے والے تھے اور تنگی و خوش حالی دونوں حالتوں میں انہوں نے اپنے مالک حقیقی ہی کو اپنا پروردگار سمجھا تھا اور اس کے سوا کسی دوسرے کی طرف ان کی کبھی کسی حال میں بھی نظر نہیں اٹھی تھی ۔ وہ راضی برضائے الٰہی تھے اور ہر صورت حال میں انہوں نے اللہ مالک حققی کا دروازہ نہیں چھوڑا تھا اور کسی دوسرے کی طرف انہوں نے کبھی آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔ نفس مطمئنہ کی وضاحت میں بہت کچھ تحریر کیا گیا ہے اور اس میں بہت مبالغہ آرائی کی گئی ہے ۔ صوفیاء کے ہاں نفس مطمئنہ کی وضاحت دو طرح سے ہے اور رندوں اور فقیروں کے ہاں اور وضاحت ہے۔ طریقت والے کچھ کہتے ہیں تو معرفت والے کچھ طرح بیان کرتے ہیں ۔ علماء کرام اور مفسرین عظام (رح) نے اپنی اپنی مرضی کے مطابق اس کی وضاحت کی ہے اور یہ سب اختلاف مذاق کے باعث ہیں ہم نے جو اوپر وضاحت عرض کی ہے اس میں سب کی رعایت رکھی گئی ہے۔ صرف مبالغہ سے پرہیز کی گئی ہے۔ ( النفس) نفس اسم مفرد معرفہ منصوب جان مراد شخص ۔ نفس کے معنی جان کے ہیں لیکن اس سے مراد کبھی متنفس یعنی شخص کبھی جی یعنی دل کبھی نفس امارہ کبھی نفس لوامہ ۔ کبھی نفس مطمئنہ اور کبھی قوت ممیزہ ہوتی ہے مگر نفس کا عمومی بیشتر استعما ال شخص ہی کے لیے کیا گای ہے لیکن ان معانی کے علاوہ بھی قرآن کریم نے دوسرے معانی کے لیے اس لفظ کا استعمال کیا ہے مثلاً ( من افنکم ازوجا ً ) میں انفس سے مراد جنس اور نوع ہے اور ( قسلموا علی انفسکم) میں مراد وہی بھائی بند اور ( لا املک الا نفسی) میں نفس سے مراد ہے ذات اور شخصیت اور ( یحذر کم اللہ نفسہ) میں نفس سے مراد ہے ذات یعنی عذاب الٰہی کی طرف اشارہ ہے اور نفس مطمئنہ سے مراد اس جگہ جان ہے جس کی دوسری جگہ روح بھی کہا گیا ہے۔