Ayah 87:11 ؎ (سبح) تو تسبیح کر ۔ تو پاکیزگی بیان کر ، تو عبادت کر ۔ تسبیح سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ( سبح) کا لفظ قرآن کریم میں 13 بار ذکر کیا گیا ہے مثلاً سورة آل عمران کی آیت 41 ، سورة الحجر کی آیت 98 ، سورة طہٰ کی آیت 130 ، سورة الفرقان کی آیت 58 ، سورة غافر کی آیت 55 ، سورة ق کی آیت 39 ، سورة الطور کی آیت 48 ، سورة الواقعہ کی آیت 74 ، 96 ، سورة الحاقہ کی آیت 52 ، سورة الاعلیٰ کی آیت اول ، سورة النصر کی آیت 3 میں۔ نبی اعظم و آخر ﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! اپنے لیے پروردگار کی پاکیزگی بیان کرو اور پاکیزگی بیان کرنے کے متعل ہم قبل ازیں بیان کرچکے ہیں کہ لوگوں نے جو عیوب اللہ رب کریم کی طرف منسوب کیے ہیں خواہ انہوں نے ناسمجھی کی بنا پر اور خواہ غیروں نے تعصب کی بنا پر ۔ اللہ تعالیٰ کی پاکیزگی بیان کرنا اور ان عیوب کو دور کرنا اللہ تعالیٰ کی تسبیح بیان کرنا ہے کہ وہ ہر عیب سے پاک ہے اور ہر ایک چیز پر قدرت رکھنے والا ہے اور ہر ایک طرح کے اختیارات اسی کے پاس ہیں اور فرمایا گیا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! آپ ﷺ کا رب بہت ہی بلند اور سب سے برتر ہے ۔ کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ کی تسبیح کا سب سے اعلیٰ اور ارفع طریقہ جو زبان اور عمل دونوں سے ادا کیا جاتا ہے وہ نماز ہے کہ اس میں اور اد صلوٰۃ بھی ہیں اور حرکات و سکنات نماز بھی پھر صلوٰۃ کا قیام ایک بہت بڑا عمل ہے جس سے پورے معاشرہ کی اصلاح ہو سکتی ہے اگر صلوٰۃ کو سمجھ کر ادا کیا جائے اور اس کے سارے تقاضے پورے کیے جائیں ۔ زبان سے اللہ تعالیٰ کے ذکر کی بھی بہت فضیلت بیان کی گئی ہے اور جو طریقہ تسبیح ہم نے اوپر بیان کیا ہے اس کا مقام بھی بہت اونچا ہے۔ اس سورت کی اس پہلی آیت ہی میں کہنے اور سننے والوں کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ اس کا جواب اس طرح زبان سے بھی دیں کہ ” سبحان ربی الاعلیٰ “ کے الفاظ زبان سے ادا کریں ، کیونکہ اس آیت میں تسبیح بیان کرنے کا حکم دیا گیا ہے اور حکم کے بجا لانے کا فوری طریقہ یہی ہے کہ قاری اور سامع دونوں سبحان ربی الاعلیٰ کے الفاظ زبان سے ادا کریں۔
Ayah 87:2جس نے ہرچیز کو پیدا کیا اور پھر درست بھی کیا
2 ؎ وہ اللہ جس نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا اس زمین کو بھی اور آسمانوں کو بھی اور جو کچھ آسمانوں اور زمین کے درمیان ان فضائوں میں ہے سب کا خالق وہی اللہ رب ذوالجلال والاکرام ہے اور زمین کے اندر جو کچھ پیدا کیا گیا ہے اور زمین کے نیچے جو کچھ پیدا کیا گیا ہے ، آسمانوں کو پیدا کرنے والا اور آسمانوں سے اوپر جو کچھ ہے سب کا خالق اللہ ہے اور پھر اسنے اس ساری کائنات کی مخلوق کو پیدا کر کے چھوڑ نہیں دیا کہ وہ چاہے جدھر ٹھوکریں کھائیں کھاتے رہیں بلکہ ہر طرح کی قوتیں پیدا کر کے ان کو بالکل درست بھی کیا اور ان کو طاقت بہم پہنچانے کے لیے ہر ایک چیز کا غذائی انتظام بھی اس نے کردیا ہے اور برابر جو جس کی خوراک ہے اس کو مہیا کی جا رہی ہے۔ جو گوشت خور ہیں ان کو گوشت مل رہا ہے اور جو سبزی خور ہیں ان کو سبزی دی جا رہی ہیں اور کسی کو اللہ تعالیٰ کی پرورش پر کسی طرح کا کوئی اعتراض نہیں ہے کہ فلاں مخلوق کو پیدا کرکے اس کی پرورش کو ادھورا چھوڑ دیا گیا ہے۔ ہرگز نہیں بلکہ وہ ہر ایک کو اس کی ضرورت کی چیزیں برابر فراہم کررہا ہے اور کرتا رہے گا ۔ ( سوی) اس نے پورا پورا بنایا اور اس نے برابر کیا ۔ تسویۃ سے جس کے معنی کسی چیز کے بلندی یا پستی میں برابر بنانے کے ہیں ۔ ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اس نے پیدا کیا وہ بےہنگم نہیں پیدا کیا ، جہاں سلیقہ اور نظم کا نام و نشان نہ ہو ، ہر تخلیق میں نظم و نسق ، ترتیب و یکسانیت کار فرما ہے ، ہر نوع کے کروڑہا افراد ہیں پھر کسی کی وضع و ترتیب میں آپ کو کوئی فرق نہیں نظر آئے گا اور نہ ہی آپ کسی مخلوق کے حجم ، وزن ، نقش و نگار اور ان کے کام کاج کے بارے میں کسی طرح کا کوئی نقص نکال سکیں گے۔ اس کاریگر نے ایسی کاریگری کی ہے کہ جو اس نے بنا دیا ہے اس سے زیادہ اچھا ، زیادہ بہتر ، زیادہ منافع اور زیادہ درست ممکن ہی نہ تھا ۔ جو جسم جس کو عطا کیا وہ ایسا عطا کیا کہ اس سے بہتر اور انسب جسم اس کو عطا نہیں کیا جاسکتا جس کو جو عطا کیا عین حکمت کے مطابق عطا کیا اگر گدھے کو سینگ نہیں دیئے تو کوئی شخص یہ ثابت نہیں کرسکتا کہ اگر گدھے کے سر پر سینگ ہوتے تو زیادہ اچھا اور زیادہ درست ہوتا ۔
Ayah 87:3وہ اللہ جس نے اندازہ ٹھہرایا اور اسے ہدایت دی
3 ؎ ( قدر) واحد مذکر غائب ماضی معروف تقدیر مصدر باب تفعیل۔ سوچ کر غور کر کے اندازہ کیا ۔ رزق بخشا ۔ روزی تنگ کی ۔ اگر مفعول دوم پر علی یا لام ہو جیسے قدرہٗ علیہ ولہٗ تو معنی ہوں گے کسی چیز کو کسی شخص کے لیے اندازہ کرنے کے بعد مقرر کردیا اور حکم دے دیا کہ فلاں چیز فلاں کو مل جائے ۔ رفتار کی مقدار مقرر کردی ۔ بناوٹ اور تخلیق کو درست کیا ۔ ( محلی) یا اس کو مقررہ قوتیں عطا فرمائیں۔ ( راغب) اس کو مصلحت کے مطابق ٹھیک بنایا۔ (کشاف) شکل و صورت ، حجم ، مقدار اور ہرچیز کا اندازہ مقرر کردیا۔ ( جمل) مصلحت کے موافق ہرچیز عطا فرمائی پھر فطری طور پر تعلیم کے ذریعہ سے نجات کا راستہ بتایا ۔ ( راغب) ( ھدی) واحد مذکر غائب ماضی معروف ہدایت یاب کیا ۔ راستہ بتا دیا ۔ ہدایت یافتہ بنایا ۔ طیع حوائج اور انکے حصول کے طریقے بتا دیئے۔ مقررہ بھلائی برائی کے حصول کے فطری راستے بتا دیئے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ایک چیز کو پیدا کیا تو اس کے پیدا کرنے کا مقصد بھی متعین کردیا اور اس کی افادیت کا دائرہ بھی مقرر کردیا ، جن فرائض کی انجام دہی کے لیے ان کو پیدا کیا ان کی وضاحت بھی فرما دی اور جس جس مقصد کے لیے ان کو استعمال کیا جاتا ہے سب کا اندازہ کردیا اور مختصر یہ کہ جملہ کلیات و جزئیات اور کو ائف قبل از وقت طے کردیئے ۔ کائنات میں جو کچھ ہے اس سے کام لینے کے طریقہ بھی انسان کو سمجھائے اور ایسی عقل و فکر عطا کی کہ اگر انسان اس کو استعمال کرنا شروع کر دے اور پھر کرتا ہی چلا جائے تو وہ اسی عقل و فکر کے ذریعہ ستاروں پر کمندیں ڈالنے کے قابل بن جائے اور یہ جہاں کیا ہے نئے نئے جہانوں کی دریافت کرے اگر اس آیت کے ساتھ سورة طہٰ کی آیت 50 کو ملا کر دیکھا جائے اور ان دونوں کا مفہوم واضح کیا جائے تو دنیا کی کوئی ایسی ایجاد نہیں رہتی جو اس آیت کے اندر نہ آگئی ہو اور پھر وہی نہیں جو اس وقت تک ایجادات ہوگئیں بلکمہ وہ بھی جو ابھی قیامت تک ہونے والی ہیں سب اس کے ضمن میں بیان ہوتی چلی جائیں۔ ہم نے بار بار یہ بات عرض کی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کے اندر صلاحیتیں ودیعت کی ہیں کہ وہ من حیث الانسان جس چیز کے لیے کوشش کرے گا اس کو حاصل کرلے گا ۔ اگر آپ ایک ہزار آدمی کو مختلف پیشے ، مختلف طریقے اور مختلف کام سکھا دیں تو اس سے یہ نہ سمجھیں کہ جو کام کسی نے سیکھا ہے بس وہی کام وہ سیکھ سکتا تھا ، نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ اس ہزار مختلف کاموں میں سے جس پر بھی اس کو لگا دیا جاتا وہ سیکھ سکتا تھا اگرچہ بعض کو جلد اور بعض کو بدیر کیونکہ صلاحیتیں اس میں ہر طرح کی موجود تھیں پھر جس صلاحیت کو اس نے اجاگر کیا وہ ہوگئی اور جس کو اجاگر نہیں کیا ، وہ نہیں ہوئی ۔ ہاں ! جس صلاحیت کو اجاگر کرنا چاہا اگر اس میں ماحول بھی اس کا ساز گار ہوا تو اس کو کہتے ہیں کہ سونے پر سہاگہ ہوگیا۔ والدین کی طرف سے کچھ صلاحیتوں کا ودیعت ہونا یا انسان کا طبعی میلان کی طرف ہونے کو بھی عمل دخل ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا لیکن یہ سب باتیں ضمنی معاونت میں آتی ہیں اصل صلاحیت میں نہیں۔
Ayah 87:4وہ اللہ جس نے زمین سے چارہ اگایا
4 ؎ ( المرعی) ظرف مکان ۔ چراگاہ۔ جانوروں اور انسانوں کی خوراک یعنی گھاس ، غلہ جات اور پھل وغیرہ ۔ اصل میں رعی کے معنی ہیں جاندار کی حفاظت کرنا اور اس کو باقی رکھنا ۔ حفاظت کی تین صورتیں ہیں۔ (1) خوراک کے ذریعہ سے (2) دشمنوں کو دفع کر کے ختم کرنا یا ان کے شر سے بچانا یعنی نگرانی کرنا (3) مناسب انتظام کر کے اچھی سیاست کر کے حق دار کو اس کا حق دے کر ہرچیز اس کو مناسب لحاظ کر کے سب کچھ بہم پہنچانا ۔ پھر انہیں چیزوں کا لحاظ رکھتے ہوئے راعی چرواہے کو کہتے ہیں اور حاکم و بادشاہ کو بھی اور اسی طرح ہر نگران کو بھی اور اس جگہ صرف یہ ایک لفظ ( مرعی) بول کر جو کچھ اس کائنات میں اللہ رب کریم نے پیدا کیا ہے اس کی پیدائش کے بعد اس کے سارے بندوست جو اس کی زندگی کے لیے ضروری تھے ان کی طرف اشارہ کردیا جن پر کسی بھی چیز کی زندگی کا انحصار ہے اسکو اس کے لیے آسان اور عام کردیا ہے۔ اس پر جتنا غور کرتے جائو گے اتنی ہی حقیت نکھر کر سامنے آتی جائے گی۔
Ayah 87:5پھر اس کو سیاہ کوڑا کرکٹ بنادیا
5 ؎ ( غشاء) سیلاب کا کوڑا کرکٹ اور جھاگ ۔ سوکھے سڑے ، گلے ہوئے پتے مراد ہیں بےسود ، بےفائدہ اور ناکارہ چیز مراد ہے۔ (احوی) کا لا سیاہ مائل بہ سبزی یا ماء بہ سیاہی حوۃ سے مآخوذ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اس چارہ میں سے جو جانور استعمال کرلیتے ہیں باقی کو دیکھتے ہی دیکھتے وہ سیاہ بھوسی کی طرح کردیتا ہے اور وہ کوڑا کرکٹ بن جاتا ہے جس کو لوگ اکٹھا کر کے آگ لگا کر جلا دیتے ہیں اور اس طرح ماحول کو صاف اور ستھرا بنا لیتے ہیں اگر اس کوڑے کرکٹ کے ڈھیر اکٹھے ہونے شروع ہوجائیں تو زمین پر جگہ ہی باقی نہ رہے۔ یہ قدرت خداوندی ہے کہ ایک فصل کے تیار ہونے تک دوسری کا کسی نہ کسی طرح خاتمہ ہوچکا ہوتا ہے اور اس زمین میں یہ صلاحیت رکھ دی ہے کہ جو چیز اس پر پڑی رہ جاتی ہے اس کو دیکھتے ہی دیکھتے یہ زمین میں تبدیل کردیتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جہاں اس نے انسان و حیوان کے لیے ان کی خوراک کا بندوبست کیا ہے وہاں اس کے کیے ہوئے بندوبست میں سے جو چیزیں بچ جاتی ہیں ان کو ختم کرنے اور زمین کا جزو بنانے کے لیے اس نے زمین میں یہ صلاحیت پیدا کردی ہے کہ وہ نااکرہ چیزوں کو کھا جاتی ہے اور اس سے آنے والی فصل کی خوراک تیار ہوجاتی ہے گویا یہ بھی اس کاریگروں میں سے ایک کاریگری ہے کہ زائد اور ناکارہ چیز کو سنبھالنے کا ایسا بندوست اس نے بنایا ہے کہ دیکھتے ہی دیکھتے وہ یکے بعد دیگرے ایسی تبدیلیاں کرتا ہے کہ جو بنتا ہے انسان کے لیے مفید ہی بنتا ہے اور وہ ناکارہ چیزیں بھی انسان کے لیے کار آمد بن کر رہ جاتی ہیں ۔ یہاں تک کہ یہ گندگی کے ڈھیر بن انسان کے لیے ایک نہایت کار آمد چیز بن گئے ہیں اگر ان چیزوں پر غور و فکر کیا جائے تو انسان مجبور ہوجاتا ہے کہ بےساختہ کہہ دے سبحان اللہ وبحمدہ سبحان اللہ العظیم ۔
Ayah 87:6عنقریب ہم آپ ﷺ کو پڑھا دیں گے پھر آپ ﷺ کبھی نہ بھولیں گے
6 ؎ نبی اعظم و آخر ﷺ کو مخاطب کر کے پہلے ان ساری چیزوں کی طرف توجہ دلائی اور کیا کچھ سکھا دیا ، سمجھا دیا اور پھر ان باتوں سے استدلال کر کے آپ ﷺ کو کہا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ بےفکر رہیں جس اللہ نے انسان کے فائدہ کے لیے اتنے اتنے بڑے کام کیے ہیں اور اتنا کچھ بنایا اور تیار کیا ہے اسی اللہ نے آپ ﷺ کے اندر یہ صلاحیت پیدا کردی ہے یا ودیعت کردی ہے کہ آپ ﷺ کو جو چیز پڑھائی جائے گی اس کو آپ ﷺ ہرگز نہیں بھولیں گے اور یہ چیز اللہ نے آپ ﷺ کے اندر وافر پیدا کردی ہے جو دوسرے انسانوں کے مقابلہ میں آپ ﷺ کے اندر بہت زیادہ ہے کہ آپ ﷺ بغیر محنت و مشقت ان باتوں کو یاد رکھیں گے جو لوگ بہت محنت و مشقت کرنے کے بعد یاد رکھ سکتے ہیں بلکہ یاد کرنے کے باوجود پھر بھول جاتے ہیں ۔ یہ وہ زندہ وجاوید معجزہ ہے جو نبی اعظم و آخر ﷺ کو عطا کیا گیا کہ آپ ﷺ نے کسی سے لکھنا اور پڑھنا نہیں سیکھا لیکن اس کے باوجود ساری انسانیت کے معلم ٹھہرے اور آپ ﷺ کو لکھنا بھی آتا تھا اور پڑھنا بھی ۔ ہمارے مفسرین نے پڑھانا تو تسلیم کیا ہے لیکن لکھنے اور پڑھنے۔ کی نفی کی ہے لیکن چونکہ اسکی وضاحت ہم پیچھے عروۃ الوثقیٰ جلد ہفتم میں سورة العنکبوت کی آیت 48 ، جلد ہشتم سورة الشوریٰ کی آیت 52 میں کرچکے ہیں لہٰذا وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 87:7سوائے اس کے جو اللہ چاہے بلا شبہ وہ ہر ظاہر و مخفی کو جانتا ہے
7 ؎ (الا ماشاء اللہ) کہہ کر نہ بھولنے میں استثناء کردی کیونکہ بھولنا خاصہ ٔ انسانیت ہے اور کسی انسان کو اس کی خصوصیات سے الگ نہیں کیا جاسکتا پھر ایک چیز کو بھول جانا ایسا ہے کہ وہ دماغ سے ایسی نکل جائے کہ دوبارہ یاد کرنے سے بھی یاد نہ آئے اور بعض بھولنا بالکل وقتی ہوتا ہے کہ انسان بھول جاتا ہے اور پھر اس کو یاد دلانے یاد بھی آجاتا ہے اور کبھی خود بخودہی بات یاد آجاتی ہے جو پہلے ذہن سے اتر چکی ہوتی ہے۔ اوپر جس چیز کے نہ بھولنے کی ذمہ داری لی گئی ہے وہ اس میں سے ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے پڑھانے سے تعبیر کیا ہے اور وہ فقط قرآن کریم ہے اور اس میں دو طرح کی ذمہ داریاں اللہ تعالیٰ نے لی ہیں ایک قرآن کریم کے پڑھانے کی اور دوسری اس کے یاد رکھوانے کی ۔ زیر نظر آیت میں دونوں کا اکٹھا ذکر کردیا ہے کہ فلا تنسی آپ ﷺ اسے نہ بھولیں گے۔ مطلب واضح ہے کہ وہ کلام جو ہم آپ ﷺ کو پڑھائیں گے اور آپ ﷺ اس کلام میں سے کچھ نہیں بھولیں گے۔ مگر وہاں وہ بھول جو انسان کا خاصہ ہے اس میں سے کسی چیز کے بھول جانے اور کسی چیز کے ذہن سے اتر جانے میں کوئی قباحت نہیں ہے کیونکہ آپ ﷺ نبی اور رسول ہونے کے باوجود انسان بھی تھے جس طرح نبی و رسول ہونے کے باوجود کسی کے بیٹے کسی کے باپ اور کسی کے خاوند بھی تے پھر وہ ذمہ داریاں جو نبوت و رسالت کی ذمہ داریاں کہلاتی ہیں وہ اور چیز ہیں اور وہ جو رشتہ داریوں کے باعث عائد ہوتی ہیں وہ اور چیزیں اور سب کا اپنا اپنا مقام ہے ۔ اس لیے سب کو ایک ہی طرح پر نہیں رکھا جاسکتا ۔ آپ تاریخ و سیر کی کتابوں کا مطالعہ کر جائیں لیکن آپ کسی ایک جگہ بھی اس طرح کا بھول ثابت نہیں کرسکتے جو فی نفسہٖ قرآن کریم کے ضمن میں آتی ہو خواہ وہ اس اعلان سے پہلے اترا ہوا ہو اور خواہ اس کے بعد نازل ہوا ہو ۔ لیکن اس کے باوجود جب آپ ﷺ پر وحی نازل ہوتی تو آپ ﷺ سب سے پہلے یہی کام کرتے کہ اس کے لکھوانے کا بندوست فرماتے اور پھر کوئی دوسرا کام کرتے اور یہ آپ ﷺ کو فرض کی ذمہ داری کا احساس تھا جس میں آپ ﷺ نے ذرا بھر بھی کوتاہی نہ کی اور اس سے قوم کو بہت بڑا درس ملتا ہے بشرطیکہ کوئی شخص اس سے درس لینے والا ہو۔
Ayah 87:8اور ہم آپ ﷺ کے لیے سہولت کا سامان مہیا کریں گے
8 ؎ نبی اعظم وآخر ﷺ کو بطور پیش گوئی بتایا جا رہا ہے کہ اس وقت حالات آپ ﷺ کے لیے اور آپ ﷺ کے ساتھیوں ؓ کے لیے نہایت تکلیف دہ ہیں ہم کو معلوم ہے کیونکہ کوئی چیز بھی ہم سے پوشیدہ نہیں ہے اور یہ قانون الٰہی ہے کہ جہاں عسر ہے وہاں یسر کا بھی ہوگا ، جہاں یسر ہے وہاں عسر بھی ۔ ہمیشہ حالات ایک جیسے نہیں رہتے ، آپ ﷺ بےفکر رہیں ہم آپ ﷺ کے لیے آسانیوں کا وقت قریب لا رہے ہیں اور وہ وقت دور نہیں جب عسر کی بجائے آپ ﷺ حالت یسر میں ہوں گے اور یہ وقت آپ ﷺ کو یاد بھی نہیں رہے گا ۔ زمانہ جانتا ہے کہ یہ پیش گوئی حرف بہ حرف پوری ہوئی اور آپ ﷺ نے اپنی زندگی میں حالت بسر کو بھی دیکھا۔ دوسری جگہ اس کی وضاحت اس طرح ارشاد فرمائی کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! ہم نے لازم کردیا ہے کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر آنے والا دن جانے والے دن سے بہتر ہوگا اور یہ اتنا بڑا انعام ہے کہ کسی شخص کی زندگی کا ہر آنے والا دن جانے والے دن سے بہتر ہو اور اس طرح ہوتے ہوتے آسانی ہی آسانی ہوتی جائے اور مشکلات مشکلات نہ رہیں بلکہ آسانیوں میں تبدیل ہوجائیں ۔ اللہ تعالیٰ سے دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ ایسا ہی کرے کہ ہر آنے والا دن جانے والے دن سے آسان ہوتا کہ بعد میں آنے والا دن زیادہ آسان ہوجائے۔ ویسے بھی اگر غور کرو گے تو معلوم ہوجائے گا کہ اسلام کا بتایا ہوا راستہ بالکل آسان ہے کیونکہ اس کے قوانین فطرت انسانی کے عین مطابق ہیں اور اس کی صلاحیتوں کی نشو ونما میں بڑے معاون ثابت ہوتے ہیں لیکن اگر کوئی ہر قدم اسلام کے خلاف اٹھائے اور اسلام کے خلاف ہی زندگی میں آسانی سمجھنے لگے تو اس کے لیے دنیا کی منزل چاہے آسان ہوجائے لیکن اس کی آخرت برباد ہوجائے تو یہ سودا بہت ہی خسارے کا سودا ہے لیکن اگر کوئی خسارہ ہی اٹھانا پسند کرے تو کیا خسارہ اس کے لیے خسارہ نہیں رہے گا ؟ کیوں نہیں خسارہ ہر حال میں خسارہ ہی رہے گا وہ کسی حال میں بھی نفع نہیں ہو سکتا ۔
Ayah 87:9پس آپ ﷺ نصیحت کرتے رہیے جہاں تک نصیحت کارگر ہو
9 ؎ (ذکر) تو یاد دلا۔ تو سمجھا تو نصیحت کر تذکیر سے امر کا صیغہ واحد مذکر حاضر ۔ ( ذکری) نصیحت کرنا ۔ ذکر کرنا ۔ یا دپند و موعظت ذکر یذکر کا مصدر ہے کثرت ذکر کے لیے ( ذکری) بولا جاتا ہے اور یہ ذکر سے زیادہ بلیغ ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ کا کام نصیحت کرنا ہے آپ ﷺ نصیحت کرتے رہے۔ نصیحت میں دو خوبیاں ہیں ایک نصیحت بذاتہٖ خوبی کی بات ہے اور دوسرا یہ کہ اگر کوئی نصیحت حاصل نہیں کرتا تو بھی نصیحت نصیحت کرنے والے کے حق میں مؤثر ثابت ہوتی ہے اس کو آپ یوں سمجھیں کہ آپ کسی شخص کو ایک ہزار روپے دینا چاہتے ہیں کہ وہ چاہے تو لے لے لیکن لینے والا انکار کردیتا ہے اس نے انکار کیا تو آپ کا اس سے کوئی نقصان ہوا ؟ ہرگز نہیں ، آپ اس میں اپنی بےعزتی محسوس نہ کریں تو آپ کو اس سے کچھ نقصان نہیں ہوا جتنا نقصان ہوا وہ تو نہ لینے والے کا ہوا لیکن اس میں اکثر غلطی یہی ہوتی ہے کہ دینے والا اپنی انسلٹ (Insult) سمجھ لتا ہے اور اس سے نتیجہ خراب ہوجاتا ہے اگر روپیہ دینے والا ذرا مزید کھلے ذہن سے سوچ لے اور اس میں اپنی کوئی انسلٹ (Insult) نہ سمجھے تو کچھ نہیں ہوتا بلکہ اس طرح دینے والے کا اجر بھی محفوظ رہتا ہے بشرطیکہ اس نے جو دینا چاہا تھا اس میں اللہ تعالیٰ کی رضا اس کو مطلوب تھی ۔ بعینہٖ یہ نصیحت کرنے والے کا حال ہے کہ اگر اس کو دی ہوئی نصیحت کوئی قبول کرتا ہے تو بھی اس کے لیی مفید ہے اور اگر کوئی قبول نہیں کرتا تو بھی اس کے لیے مفید ہے یعنی نصیحت کرنے والے کے حق میں وہ مفید ہی ہے کیونکہ اس نے اپنا فرض ادا کردیا اگر دوسرے نے فائدہ نہیں پایا تو یہ اس کی بدقسمتی کا معاملہ ہے نصیحت کرنے والے کا کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی اس کا اپنانقصان سمجھنا چاہیے۔
Ayah 87:10عنقریب وہ شخص نصیحت حاصل کرے گا جو ڈرنے والا
10 ؎ فرمایا نصیحت کرنے والے کی نصیحت سے وہی فائدہ حاصل کرتا ہے جس کے دل میں اللہ کا خوف موجود ہے اور روز جزاء کا ڈر اپنے دل میں رکھتا ہے کیونکہ وہ تو خود اس تلاش میں ہے کہ کوئی اس کو نصیحت کرنے والا ملے جو اس کو نصیحت کرے اور وہ اس کی نصیحت سے فائدہ حاصل کرے اور سنت اللہ یہی ہے کہ جو تلاش کرتا ہے وہ حاصل کرلیتا ہے اور جو تلاش نہیں کرتا اور نہ جستجو کرتا ہے اس کو کچھ بھی میسر نہیں ہوتا ۔ آپ کے دروازے کے سامنے نہر بہہ رہی ہے لیکن آپ اس میں اترنا نہیں چاہتے بلکہ اوپر سے گزرتے ہیں اور ساری عمر گزرتے رہتے ہیں تو آپ کا میل دور ہوگا ؟ لیکن جس کے دروازے پر یہ نہر نہیں ہے اور وہ دور سے چل کر آتا ہے اور اس میں اتر جاتا ہے اور اپنے جسم کو خوب مل مل کر اس کے پانی سے صاف کرتا ہے تو میل بہر حال اسی کا اترے گا جو نہر کے قریب گیا اور اس سے اپنا میل دور کرنے کی سعی و کوشش کی ہے خواہ دور کا ہے یا قریب کا اور اس کا میل کبھی دور نہیں ہوگا جو اس نہر سے دور رہنا چاہتا ہے اور اس کے اوپر سے گزر جاتا ہے ۔ اس لیے اس آیت میں ایک اصولی بات فرما دی کہ نصیحت وہی حاصل کرے گا جو نصیحت حاصل کرنے کی خود بھی کوشش کرے گا جو خود کوشش نہیں کرے گا نصیحت بزور اس کو پکڑ نہیں لے گی کہ تم کدھر جا رہے ہو میں تو ادھر ہوں ممکن ہے کہ برائی اس طرح کسی کو پکڑے لیکن نیکی نے آج تک کسی کو اس طرح پکڑ کر مجبور نہیں کیا ۔
Ayah 87:11اس سے دور رہے گا وہی جو بد نصیب ہوگا
11 ؎ نصیحت کے قریب آنے کے لیے کون تیار نہیں ہیں ؟ فرمایا وہی جو بد بخت ہے اور نیکی سے دور رہنے میں وہ بھلائی سمجھتا ہے اور وہ اس کے قریب بھی نہیں بھٹکتا اور اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کا آخرت پر ایمان نہیں ہے اور وہ نہیں سمجھتا کہ میں جو کچھ کر رہا ہوں کل مجھے اس کے متعلق پوچھا بھی جائے گا کہ تم نے برائی کو کیوں نہیں چھوڑا اور نیکی کے قریب کیوں نہیں آئے اس کے ذہن و دماغ میں ایک ہی بات ہے کہ جو کچھ ہے ثواب ہے یا عذاب بس یہی دنیا ہے اور آخرت و اخرت کچھ نہیں ہے دراصل یہی بات اس کی شقاوت اور بد بختی کی علامت ہے کہ اس نے کبھی بھول کر بھی نیکی اور برائی میں امتیاز نہیں کیا بلکہ وہ ایسا چھوٹ ہے کہ اس کے نزدیک نیکی اور برائی کا کوئی وجود ہی نہیں ہے بلکہ ہر وہ نیکی ہے جو وہ کرے اور کرسکے اور ہر وہ برائی ہے جس کو وہ نہ کرے یا نہ کرسکے ۔ خصوصاً وہ لوگ جو اس دنیا میں بڑے لوگ کہلاتے ہیں ان سب کا یہی حال ہے کیونکہ نہ تو ان کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا ڈر ہے اور نہ روز جزا کا کوئی خوف ہے وہ زیادہ سے زیادہ چاہتے ہیں تو یہی چاہتے ہیں کہ اس دنیا میں وہ اس ٹھاٹھ باٹھ سے رہیں کہ ان کے مقابلہ کا کوئی دوسرا نہ ہوا اگر وہ کچھ نیکی کے کام میں حصہ لیں گے تو وہ بھی محض اس لیے کہ اس طرح ان کے نام کو شہرت حاصل ہو اور وہ نیکی کو نیکی سمجھ کر کبھی بھی کرنے کے لیے تیار نہیں ہوں گے۔ فرمایا ایسا کیوں ہے ؟ اس لیے کہ شقاوت ان کا مقدر بن چکی ہے اگر آپ ان کی نیکی کی دعوت دیں گے تو وہ کبھی کان نہیں دھریں گے بلکہ یہ سمجھیں گے کہ آپ کون ہوتے ہیں ان کو اس طرح کی دعوت دینے والے اور یہ سمجھنے والے کہ آپ کا مقام نیکی میں ان سے آگے بڑھ چکا ہے۔
Ayah 87:12جو بالآخر بڑی آگ میں جھونک دیا جائے گا
12 ؎ فرمایا بالآخر ان لوگوں کا انجام آگ ہے اور آگ بھی معمولی آگ نہیں بلکہ بہت بڑ آگ میں ان کو جھونک دیا جائے گا ۔ قبل ازیں اس کی وضاحت گزر چکی ہے کہ جس طرح جنت میں جنتیوں کے لیے درجات ہیں اسی طرح دوزخ میں دوزخیوں کے لیے بھی درکات بتائے گئے ہیں اور درجات اوپر کو چلتے ہیں اور جنتی کا جوں جوں بڑاد رجہ ہوگا وہ اوپر کو بڑھے گا اور دوزخیوں کے جوں جوں درکات بڑھیں گے وہ نیچے سے نیچے کو چلیں گے اور جوں جوں آگ کا عذاب بڑھے گا وہ نیچے سے نیچے اترتے چلے جائیں گے اور آگ کا عذاب بڑے سے بڑا ہوتا چلا جائے گا ۔ ( النار الکبریٰ ) کیا ہے ؟ تو اس کا واضح اور درست جواب یہی ہے کہ وہ ( ال عذاب الاکبر) ہے جس کا ذکر آئندہ آنے والی سورت میں کیا گیا ہے۔
Ayah 87:13پھر وہاں نہ مرے گا نہ جئے گا
13 ؎ ہم قبل ازیں بہت دفعہ یہ بات عرض کرچکے ہیں کہ قرآن کریم اللہ کی کتاب ہے ، اللہ تعالیٰ کا کلام ہے بالکل صحیح ہے لیکن یہ ہم انسانوں کی زبان میں ہے اس لیے اس کی زبان بالکل اسی طرح پر ہے جس طرح ہم اپنی روزمرہ زندگی میں اپنی زبان کو استعمال کرتے ہیں۔ ایک حالت حالت ِ موت ہے اور ایک حالت حالت ِ زندگی لیکن ہم اپنی زبان میں چونکہ یہ بھی استعمال کرتے ہیں کہ فلاں کی کچھ بات نہ پوچھو وہ تو نہ زندوں میں ہے اور نہ مردوں میں اور اس سے ہماری مراد بیکار زندگی ہے جب انسان دوسروں پر بوجھ بن کر رہ جائے اور ان کے کام تو وہ آ نہ سکے بلکہ وہ زندوں پر ایک طرح کا بوجھ بن جائے خود نہ کھانے کا رہے نہ پینے کا ، نہ چلنے کا اور نہ پھرنے کا تو اس کی زندگی دراصل کوئی زندگی نہیں رہتی اور اپنے پرائے سب اس سے بیزار ہوجاتے ہیں خواہ رذیل عمر کی وجہ سے اس کی حالت ایسی ہوجائے اور خواہ کوئی ایسی بیماری الگ جائے کہ وہ زندوں پر ایک طرح کا بار ہوجائے تو اس زندگی کو کوئی شخص بھی حقیقت میں زندگی نہیں سمجھے گا بلکہ موت کو اس زندگی پر ترجیح دے گا ۔ اسی طرح کی زندگی دوزخیوں کی ہوگی کہ وہ زندہ ہونے کو تو زندہ ہے لیکن چاہتا ہے کہ مر جائے لیکن اس کے باوجود وہ مردہ بھی نہیں ہے اور نہ ہی اس کو مردہ کہا جاسکتا ہے اس لیے اس زندگی سے اللہ کی پناہ کیونکہ یہ زندگی کوئی زندگی نہیں ہے پھر دوزخیوں کی زندگی پر غور کرو کہ وہ زندگی کیسی زندگی ہوگی اس لیے اس کے متعلق قرآن کریم نے ہی ارشاد فرمایا ہے کہ وہ زندگی ایسی زندگی ہوگی کہ زندگی والا موت کو اس پر ترجیح دے گا ۔
Ayah 87:14بلا شبہ با مراد ہوا جس نے اپنے آپ کو پاک کر لیا
14 ؎ (اقلح) وہ جیت گیا ، وہ مراد کو پہنچ افلاح سے جس کے معنی کامیابی اور مقصد روی کے ہیں ماضی کا صیغہ واحد مذکر غائب ۔ فلاح کی دو قسمیں ہیں دنیوی اور اخروی ۔ فلاح دنیوی ان کامیابیوں کا حصول ہے جن سے دنیوی زندگی سنور جائے یعنی مال و دولت ، صحت و عزت اور اخروی فلاح چار چیزوں میں ہے : (1) بقا بلا فنا (2) غنابلا فقر (3) عزت بغیر ذلت (4) علم بغیر جہالت اور اگر ان کی وضاحت کی جائے تو پھر مضمون زیادہ بڑھ جائے گا ۔ آپ ان سب اشارات کو ایک دوبارہ پڑھ کر دیکھیں خود بخود اصلاح کی طرف رہنمائی ہوگی اور معلوم ہوجائے گا کہ فلاح کیا ہے ؟ مختصر یہ کہ اخروی فلاح تزکیہ نفس ہی سے ممکن ہے اگرچہ تزکیہ کا عمل مختلف چیزوں پر ظاہر میں تو مختلف شکلوں میں نمایاں ہوگا مادی چیزوں پر یہ عمل کسی اور شکل میں نمایاں ہوگا اور معنوی چیزوں پر کسی اور صورت میں لیکن یہ فرق محض ایک ظاہری فرق ہوگا حقیقت کے اعتبار سے یہ کوئی فرق نہیں ہوگا لفظ کے اندر صاف ستھرا بنانے نشو ونما دینے اور پروان چڑھانے کی جو روح ہے وہ کسی کے عمل میں ہر جگہ نمایاں رہے گی۔ اس بات کو مثال سے ہم اس طرح سمجھ سکتے ہیں کہ تزکیہ کا عمل زمین کے ایک ٹکڑے پر بھی کیا جاسکتا ہے اور ایک انسان کے نفس پر بھی کیا جاسکتا ہے اگرچہ ان دونوں چیزوں پر اس عمل کی صورت ظاہر میں مختلف ہوگی اس لیے کہ میدان عمل الگ الگ ہیں لیکن حقیقت اور مقصد کے لحاظ سے دونوں عملوں میں کوئی خاص فرق نہیں ہوگا زمین کا تزکیہ یہ ہوگا کہ اس کو پہلے جھاڑ جھنکار سے پاک کیا جائے اور اس کی ناہمواریوں کو ہموار کیا جائے اور پھر اس پر ہل چلا کر اس کو نرم بنایا جائے پھر کھاد اور پانی دے کر اس کو اس قابل بھی بنایا جائے کہ وہ اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق کسی صالح بیج کی نشو ونما دے سکے اور اس سے پھل اور پھول حاصل ہو سکیں۔
اور اس کے مقابلہ میں نفس کا تزکیہ یہ ہوگا کہ اس کے اندر جو غلط افکار و نظریات جڑ پکڑ گئے ہیں ان کی جڑیں اکھاڑی جائیں ۔ جاہلی عادات و اخلاق نے اس کے اندر جو کجیاں اور ناہمواریاں پیدا کر رکھی ہیں ان کو درست اور ہموار کیا جائے۔ تقلیدوں اور رسموں کی پرستش نے اس کو بےحسی اور جمود کے جو روگ لگا رکھے ہیں ان کو دور کیا جائے اور ذاتی اور نفسانی لذتوں کی چاٹ نے اس پر جو پست ہمتی اور بزدلی طاری کر کھی ہے اس کا علاج کیا جائے تاکہ اس کی آنکھیں کھل سکیں ۔ اس کا دماغ سوچ سکے اس کی ہمت ابھر سکے ، اس کی عادتیں سنور سکیں اور وہ اپنی فطری صلاحیتوں کے مطابق اپنی ذہنی ، اخلاقی اور روحانی ترقی کے اس بلند مرتبہ تک پہنچ سکے جس مرتبہ تک پہنچنے کی اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر قابلیت رکھی ہے۔
Ayah 87:15اور اپنے رب کا نام لیا اور نماز پڑھتا رہا
15 ؎ اپنے پروردگار کے نام کو یاد کرنے کی ترکیب شروع سورت میں بتا دی گئی ہے کہ اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو اعلیٰ ہے۔ بدقسمتی ہے ہمارے ہاں اللہ کے ذکر کی تسبیح کا مفہوم بڑا عجیب سمجھ لیا گیا کہ موتیوں کی مالا بنائی گئی جس میں ایک سو ایک ، ایک ہزار ایک دانے تک موتی لگائے گئے اور پھر اس مالا کو لے کر صاحب بیٹھ گئے اور اللہ کے نام کا ورد شروع کردیا خواہ اس کے ذاتی نام اللہ کا اور خواہ اس کے صفاتی ناموں میں سے کسی ایک یا دو ناموں کا اور اس طرح موتی گراتے گئے اور ساتھ ساتھ اللہ اللہ یا یا حی ویا قیوم کرتے گئے اور پھر اس طرح کرتے کرتے کبھی ہزار دانہ کی تسبیح پر ایک سو بار ایسا کر کے ایک لاکھ بار اللہ کا ذاتی نام یا کوئی صفاتی نام پڑھ دیا اور پھر مردوں کی بخشش کے لیے اس ذکر کو مختص کردیا اور سمجھے کہ بس مردہ کی بخشش ہوگئی اور پھر جس مرنے والے کے لیے سوا لاکھ کا ورد اکٹھا کرلیا اس کو سمجھا کہ وہ تو بہت خوش قسمت تھا کہ اس کی اولاد نے اتنے سو قرآن ختم کروائے اور اتنے لاکھ اللہ کا اسم اس کے لیے پڑھوا دیا اور اس عمل کے جواز کے لیے اس آیت کو اور اس طرح کی دوسری آیات کو پڑھ کر سنادیا کہ دیکھو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے کہ اللہ کے نام کا ذکر کر ۔ سبحان اللہ ! آیت کیا تھی اور اس کو کیا بنا دیا اور اللہ کے نام کے ذکر کا کیا مطلب تھا اور اس پر کس طرح ہاتھ صاف کردیا ، حالانکہ حقیقت تو یہ سمجھائی گئی تھی کہ تیرے رب کے نام کی تسبیح یہ ہے کہ تو اپنے پیدائش کے مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اس کی عطا کردہ ہدایت پر عمل کرتا رہے تاکہ روز بروز تیرا قدم پاکیزگی کی طرف بڑھتا رہے اور جیسے جیسے تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کی پاکیزگی اور کمال کا اظہار اپنے اقوال و اعمال سے کرتا چلا جاتا ہے ویسے ویسے اللہ رب کریم بھی جو تیرا رب ہے تجھے پاکیزگی اور کمال عطا کرتا چلا جاتا ہے گویا رب ذوالجلال والا کرام کی تسبیح کا نتیجہ انسان کا اپنا تزکیہ ہے اور اللہ تعالیٰ کی صفت اعلیٰ کے ساتھ تسبیح انسان کو تزکیہ کے ساتھ علومرتبت تک پہنچا دیتی ہے ۔ چونکہ انسان کمزور ہے اسے اپنے مقصد پیدائش کے حصول کے لیے اس بات کی ضرورت ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے مدد طلب کرے اور اس کے لیے نماز کی ضرورت ہے کہ وہ اپنے رب کریم کے حضور جھکے اور سجدہ میں کرے ، دعائیں کرے اور ساتھ ساتھ صراط مستقیم پر چلنے اور قائم رہنے کی طلب بھی کرتا رہے اور اس مقصد کو نماز کے سوا کوء دوسری چیز پورا نہیں کرسکتی ۔ زیر نظر آیت نے بھی اسی کی طرف رہنمائی کی ہے اگر اللہ تعالیٰ کسی صاحب کو اس طرح کی تسبح کرنے کی توفیق عطا فرما دے اور وہ ان بناوٹی مالائوں کا پیچھا چھوڑ کر سچے دل کے ساتھ ذکر اللہ کی طرف راغب ہوجائے ، اللہ تعالیٰ توفیق عطا فرما دے۔
Ayah 87:16بلکہ تم دنیا ہی کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو
16 ؎ ( توئثرون) کا اصل مادہ ا ث ر ہے۔ تم اختیار کرتے ہو ۔ تم پسند کرتے ہو ۔ تم ترجیح دیتے ہو۔ ایثار سے مضارع کا صیغہ جمع مذکر حاضر ۔ زیر نظر آیت میں انسان کی اصل بیماری کا ذکر کردیا گیا جہاں سے وہ مارکھا جاتا ہے ۔ فرمایا انسان کی ساری شقاوت اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بےپروائی کی اصل وجہ دنیا اور آخرت کی خواہشات کو مقدم کرنا ہے حالانکہ ہر ایک عقل مند سمجھتا ہے کہ دنیا کا ہر ایک عیش اور راحت محدود اور فانی ہے پس اس فانی اور محدود چیز کو آخرت کی خاطر چھوڑنا جو دائمی اور ہمیشگی سے بہت ہی بہتر ہے اور جو شخص اپنی زندگی میں دنیاوی زندگی پر آخرت کو ترجیح دے دے اور اس دنیائے دوں کو چھوڑ کر یعنی اس کی طرف زیادہ توجہ نہ دیتے ہوئے اپنی آخرت کی فکر کرے وہ لاریب اس دنیا میں کامیاب ہوگا اور آخرت بھی اس کی سنور جائے گی۔
Ayah 87:17اور آخرت بہتر اور باقی رہنے والی ہے
17 ؎ دنیا کی زندگی عارضی زندگی ہے اور آخرت کی زندگی ابدی اور ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی ہے پھر چند روززندگی کے لیے اتنی دوڑ دھوپ اور ابدی زندگی کے لیے اتنی بےفکری کہ اس کی طرف دھیان تک نہیں دیا گیا تو یہ عقل کی بات نہیں بلکہ سراسر بےعقلی اور بیوقوفی کی بات ہے۔ جس شخص نے اتنا بھی خیال نہیں کیا اور آخرت کی طرف سے ایسا بےفکر اور غافل رہا بلکہ آخرت کو تسلیم کرنے سے بھی انکار کیا اور وہ بالکل دنیا ہی کا ہو کر رہ گیا اس کا کیا ہوگا یہی کہ دنیوی زندگی جب ختم ہو جائیگی تو دنیاوی نعمتیں بھی ختم ہوجائیں گی اور خالی ہاتھ یہاں سے رخصت ہوجائے گا آخرت کے لیے عمل بھی اس کے پاس نہیں ہوگا پھر جس دن کا وہ سختی سے انکار کرتا تھا اس روز جب اس کو زندہ کر کے میدان حشر میں لایا جائے گا تو اس کی حالت دیدنی ہوگی کہ اوسان خطا ہوں گے اور زبان گنگ ہوگی اور حیران و سراسیمہ ہوگا اور اس وقت دنیا کی وہ یادیں جن میں اس کو آخرت کی طرف دعوت دی جات تھی سب کی سب تازہ ہوجائیں گی ۔ پھر روئے گا ، چیخے گا اور منتیں سماجتیں کرے گا کہ اللہ ایک بار دینا میں واپس بھیج دے تاکہ میں اچھے اعمال کروں لیکن اس کی ایک نہیں سنی جائے گی اور جو کچھ اس کو جواب ملے گا اس کا ذکر عروۃ الوثقیٰ ، جلد ششم میں سورة المومنون کی آیت 93 تا 116 میں ہم تفصیل سے بیان کرچکے ہیں وہاں سے ملاحظہ فرما لیں۔
Ayah 87:18اور بلا شبہ یہ سب کچھ اگلے صحیفوں میں بھی لکھا ہوا ہے
18 ؎ تزکیہ نفس کے لے جو کچھ بیان ہوا وہ بھی اور آخرت کے متعلق جو کچھ بیان کیا گیا وہ بھی دنیا کی بےثباتی کے لیے جو کچھ بیان کیا گیا وہ بھی اور آخرت کی نعمتوں کے متعلق جو بیان کیا گیا وہ سب کچھ بھی گزشتہ صحیفوں میں موجود ہے جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی کتاب تورات اور عیسیٰ (علیہ السلام) کو دی گئی انجیل اور دوسرے آسمانی صحائف میں بھی جیسے ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف بھی قیامت کے متعلق اور دوسرے سارے موضوعات کے متعلق واضح طور پر بیان موجود ہے اور پھر جس طرح گزشتہ قوموں نے ان سارے حقائق کو جھٹلایا ہے اور اپی من مانیاں کی ہیں بالکل اسی طرح آج قوم مسلم بھی جھٹلا رہی ہے اور اپنی من مانیوں میں مصروف ہے۔ نہ تو پہلے صحائف کی ان کے ماننے والوں نے کوئی پرواہ کی تھی اور نہ ہی آج یہ لوگ یعنی مسلمان اس معاملہ میں اپنے آسمانی صحیفہ قرآن کریم کی کوئی پرواہ کر رہے ہیں ۔ دعویٰ کے لحاظ سے وہ بھی مانتے اور تسلیم کرتے تھے اور یہ بھی مانتے اور تسلیم کرتے ہیں ، عملی طور پر انہوں نے بھی اپنے اپنے صحائف کو پشت کے پیچھے پھینک دیا تھا اور آج قوم مسلم نے بھی قرآن کریم کو اسی طرح پشت کے پیچھے پھینک دیا ہے اگرچہ ظاہری طور پر قرآن کریم کی طرف پشت کرنا سمجھتے ہیں ۔ اس وقت جب قرآن کریم نازل ہو رہا تھا جو کردار یہود و نصاریٰ کا تھا وہی حال آج ہمارا ہے بلکہ اس سے بھی گیا گزرا ہے اور اس وقت اس طرح کا حال بنانے والے مذہبی رہنماہی تھے اور آج بھی مذہبی رہنما ہی ہیں اگر اس حالت کا اندازہ لگانا ہو تو عیسیٰ (علیہ السلام) کے بیانات کا مطالعہ کریں ۔ عیسیٰ (علیہ السلام) کہتے ہیں کہ :
” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ آسمان کی بادشاہی لوگوں پر بند کرے ہو کیونکہ نہ تو آپ داخل ہوتے ہو اور نہ داخل ہونے والوں کو داخل ہونے دیتے ہو۔ “ ( متی 23 : 13)
” اے ریا کار فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ تم بیوائوں کے گھروں کو وبا بیٹھتے ہو اور دکھاوے کے لیے نماز کو طول دیتے ہو ، تمہیں زیادہ سزا نہیں ہوگی “۔ ( متی 23 : 14)
” اے ریا فقیہو اور فریسیو تم پر افسوس ! کہ ایک مرید کرنے کے لیے تری اور خشکی کا دورہ کرتے ہو اور جب وہ مرید ہو چکتا ہے تو اسے اپنے سے دونا جہنم کا فرزند بنا دیتے ہو “۔ ( متی : 23 : 15)
” اے اندھے راہ بتانے والو ! تم پر افسوس جو تم کہتے ہو کہ اگر کوئی مقدس کی قسم کھائے تو کچھ بات نہیں لیکن اگر مقدس کے سونے کی قسم کھانے تو اس کا پابند ہوگا “۔ (متی 23 : 16)
” اے احمقوا اور اندھو ! کون سا بڑا ہے سونا یا مقدس جس نے سونے کو مقدس کیا ہے “۔ ( متی 23 : 17)
” اے ریا کار فریسیو اور فقیہو تم افسوس ! کہ تم سفیدی پھری ہوئی قبروں کی مانند ہو جو اوپر سے تو خوبصورت دکھائی دیتی ہیں مگر اندر سے مردوں کی ہڈیوں اور ہر طرح کی نجاست سے بھری ہوئی ہیں اس طرح تم بھی ظاہر میں تو راست باز دکھائی دیتے ہو مگر باطن میں ریا کاری اور بےدینی سے بھرے ہوئے ہو “۔ ( متی 23 : 28)
Ayah 87:19ابراہیم اور موسیٰ (علیہ السلام) کے صحیفوں میں
19 ؎ موسیٰ (علیہ السلام) پر جو صحائف اترے وہ تورات کی شکل میں موجود ہیں لیکن ابراہیم (علیہ السلام) پر جو صحائف نازل ہوئے ان کا علیحدہ کچھ پتہ نہیں چلتا ہاں تو رات ابراہیم (علیہ السلام) سے ایک عرصہ بعد نازل ہوئی ہے اس میں ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کی تعلیم ذکر کردی گئی ہو تو یہ دوسری بات ہے جیسے قرآن کریم میں تورات اور انجیل کا بہت سا حصہ آچکا ہے اگرچہ تصحیف شدہ تورات اور اناجیل کا کچھ حصہ ایسا بھی ہے جو ان اصل کتابوں میں بھی موجود ہے اگرچہ ان کے ماننے والوں نے اس میں بہت تحریف کردی ہے ۔ سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) کے صحائف کا ذکر اس جگہ قرآن کریم میں دوسری بار آیا ہے ۔ ایک دفعہ اس سے قبل سورة النجم کی آیت 26 تا 28 میں بھی گزر چکا ہے اور اس کی وضاحت بھی ہم اسی مقام پر کر آئے ہیں۔
اسی جگہ ہم سورة الاعلیٰ کی تفسیر کو ختم کرتے ہیں ۔ ربنا اتنا منا وعدتنا علیٰ رسلک ولا تخزنا یوم القیامۃ انک لا تخلف المیعاد۔