86. Surah At-Taariq

الطارقThe Morning Star · 17 ayahsعروۃ الوثقٰی

Ayah 86:1

وَ السَّمَآءِ وَ الطَّارِقِۙ Open ayah 86:1 in the Quran reader

قسم ہے آسمان اور صبح کے ستارے (کے رب ) کی

قسم ہے آسمان اور صبح کے ستارے کے رب کی 1 ؎ (طارق) اندھیرے میں آنے والا ۔ رات میں آنے والا ۔ شب میں ظاہر ہونے والا ۔ ستارہ ثریا کا نام ہے یہ اصل میں طرق سے اسم فاعل ہے جس کے معنی اس زور سے ٹکر مارنے کے ہیں کہ اس کی آواز سنائی دے۔ اس سے مطرقۃ بمعنی ہتھوڑا اور طریق بمعنی راستہ ہیں کیونکہ چلنے والے اس کو روندتے رہتے ہیں پھر عرف لغت میں یہ راہ نورد کا نام پڑگیا اس تصور پر کہ وہ راستہ کو اپنے قدموں سے روندتا ہے اور اس معنی میں وہ اس درجہ مشتہر ہوا کہ گویا اس کی حقیت ٹھہر گیا ۔ پھر یہ لفظ شب میں آنے والے کے لیے مختص ہوا کیونکہ وہ اکثر دروازہ بند پا کر اس کو پیٹتا ہے پھر اس کے معنی کو ہر اس شے کے لیے جو رات میں ظاہر ہو وسعت دی گئی خواہ وہ کچھ بھی ہوحتیٰ کہ ان خیالی صورتوں کے لیے بھی کہ جو رات میں ظاہرہوتی ہیں اس کا استعمال کیا جانے لگا اور اس جگہ اکثر کے نزدیک رات میں ظاہر ہونے والا ستارہ ہی مراد ہے یا تو اس بنا پر کہ وہ اسم جنس ہے اور ایک معمود ستارہ کا نام ہے ( روح المعانی) گزشتہ سورت کی طرح اس سورت میں پہلی تین آیتوں میں آنے والے مضمون کو مؤکد کرنے کے لے بطور شہادت ان تین چیزوں کو پیش کیا گیا ہے اور ان تینوں میں پہلی چیز یہ ستارہ ہے جس کو ( الطارق) کہا گیا ہے چونکہ ستارے رات ہی کے وقت ظاہر ہوتے ہیں اس لیے ان کو طارق کہتے ہیں پھر ان کی چمک دمک میں سے بعض خاص ستارے خاص طرح کی چمک دمک رکھتے ہیں لہٰذا ان کو طارق کہا گیا ہے اور آسمان اور اس خاص چمک رکھنے والے ستارہ کو بطور شہادت پیش کیا گیا ہے ؎ نحن بنات الطارق نمشی علی النمارق
Ayah 86:2

وَ مَاۤ اَدْرٰىكَ مَا الطَّارِقُۙ Open ayah 86:2 in the Quran reader

اور آپ کو کیا معلوم کہ یہ صبح کا ستارہ کیا ہے ؟

آپ کو کیا معلوم کہ یہ صبح کا ستارہ کیا ہے ؟ 2 ؎ جب صبح طلوع ہونے کی ہوتی ہے اس وقت ایک ستارہ خوب چمک رہا ہوتا ہے اور دیر تک وہ دکھائی دیتا رہتا ہے اس لیے اس کو (الطارق) کہا گیا ہے۔ (وما ادراک) کا سوال ہر جگہ قرآن کریم میں اس شہادت کی عظمت کو بڑھانے کے لیے اور اس کی طرف متوجہ کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ قرآن کریم میں اس طرح کا سوال 13 جگہ اٹھایا گیا ہے اور ہر جگہ اس کا اصل مدعا یہی ہے تاکہ مخاطب لوگ اس بات کی حقیقت کو اچھی طرح سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں اور اس کو مذاق بنانے کی کوشش نہ کریں ورنہ وہ خود مذاق ہو کر رہ جائیں گے۔
Ayah 86:3

النَّجْمُ الثَّاقِبُۙ Open ayah 86:3 in the Quran reader

وہ ستارہ وہ (ہے) جو بہت چمکتا ہے

وہ ستارہ ہے جو بہت چمکتا ہے 3 ؎ (الثاقب) چمکنے والا ۔ درخشندہ ۔ جلا دینے والا ۔ ثقوب سے جس کے معنی آگ کے روشن ہونے کے ہیں ۔ اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر اور یہ بھی کہا گای ہے کہ ثقب سوراخ کو کہتے ہیں ۔ اندھیرے میں روشنی کی کرن اس طرح دکھائی دیتی ہے گویا اس نے اندھیرے کی دیوار میں سورخ کردیا ہے اس لیے وہ ستارہ جو نہایت چمکدار ہو اور جس کی تیز روشنی اندھیرے کو چیرتی ہوئی دور سے نظر آئے اسے بھی ( النجم الثاقب) کہتے ہیں کیونکہ وہ صبح کا پیغام دینے والا ہوتا ہے اس لیے اس کی بڑی شان ہوتی ہے یہی ( طارق) ہے اور یہی ( ثاقب) ہے اور یہ شہادتیں جس مقصد کے لیے پیش کی جا رہی ہیں وہ ہی مضمون ہے جس کا ذکر آنے والی آیت کر رہی ہے۔
Ayah 86:4

اِنْ كُلُّ نَفْسٍ لَّمَّا عَلَیْهَا حَافِظٌؕ Open ayah 86:4 in the Quran reader

کوئی شخص ایسا نہیں کہ اس پر (اللہ کی طرف سے) کوئی نگہبان نہ ہو

کوئی شخص ایسا نہیں کہ اس پر نگہبان مقرر نہ ہو 4 ؎ جس مضمون کو مؤکد کر کے بیان کیا گیا ہے اور جس پر شہادت و گواہی پیش کی جا رہی ہے اب اس کا ذکر کیا جا رہا ہے۔ فرمایا تم میں سے کوئی ایک شخص بھی ایسا نہیں ہے جس پر نگہبان مقرر نہ ہوں اور وہ تمہاری ہر حرکت کو نوٹ نہ کر رہے ہوں اور تم کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کر کے ایسے ہی بےلگام گھوڑے یا بےمہار اونٹ کی طرح چھوڑ دیا ہو ، نہیں اور ہرگز نہیں بلکہ تمہاری پوری پوری نگہداشت (Intensive Care) کی گئی ہے اور اس کے نظام کے تحت کی جا رہی ہے اور بلا شبہ یہ حفاظت و نگہبانی تمہاری آخری منزل یعنی موت تک کی جائے گی ۔ اس طرح تمہاری زندگی کا پورا ریکارڈ ہمارے پاس محفوظ کیا جا رہا ہے ، ایسا ہو سکتا ہے کہ تم بعض افعال کر کے بھول جائو اور وہ تمہاری یادداشت میں نہ رہیں لیکن ہم تمہاری ایک ایک حرکت کو محفوظ رکھ رہے ہیں اور پھر صرف یہی نہیں بلکہ تم کو معلوم ہوگا کہ ہر انسان اپنی زندگی میں بیسیوں بار موت کے نرغے میں آتا آتا بچ جاتا ہے کبھی کوئی بیماری اس کی زندگی کا راستہ روک کر کھڑی ہوجاتی ہے ، کبھی کوئی طوفان اور کبھی کوئی مصیبت اس طرح کی پیش آتی ہے کہ وہ نا امیدی کی حالت تک پہنچ جاتا ہے لیکن اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگہبانی کا خاص ہاتھ اس کی حفاظت کے لیے کھڑا ہوجاتا ہے اور وہ ان مراحل سے بخیر و خوبی نکل جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟ اس لیے کہ اس کو دی گئی ڈھیل ابھی پوری نہیں ہوتی اور اس ڈھیل تک اس کا پہنچانا لازم و ضروری ہوتا ہے کیونکہ فیصلہ الٰہی ایک اٹل چیز ہے اور اس میں رد و بدل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اگر انسان اللہ تعالیٰ کی حفاظت و نگرانی میں نہ ہوتا تو اس کے پیدا ہوتے ہی اس کی تکہ بوٹی کرنے والی مزاحمتیں اس کو ختم کر کے رکھ دیتیں یہ سب کچھ اللہ رب کریم کے قانون کے اندر موجود ہے لیکن افسوس کہ جب انسان کی سمجھ میں آتا ہے کہ میں کسی ایسی ناگہانی مصیبت میں نہ میں آتا آتا بال بال بچ گیا ہوں تو وہ فوراً شرک کرنے لگتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ یہ تو فلاں پیر جی کا ہاتھ تھا اور فلاں بزرگ کی مدد تھی اور فلاں بزرگ نے یہ کمال دکھایا اور اس وقت ان سارے پیروں کے پیر رب ذوالجلال والاکرام کو بالکل ہی بھول جاتا ہے۔ زیر نظر آیت میں اسکی توجہ اس طرف مبذول کرائی گئی ہے کہ یہ کام تو اللہ رب ذوالجلال والاکرام کا ہے لیکن تم نے اس کو مخلوق کے ذمہ کیسے لگا دیا ؟
Ayah 86:5

فَلْیَنْظُرِ الْاِنْسَانُ مِمَّ خُلِقَؕ Open ayah 86:5 in the Quran reader

پس انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے

بس انسان کو چاہیے کہ وہ دیکھے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ؟ 5 ؎ انسان پر جو غفلت کے پردے پڑتے ہیں ان کو ہٹانے کے لیے اس کی اپنی توجہ کی ضرورت ہے اگر وہ خود توجہ نہ کرے تو اس کی اصلاح کبھی ممکن نہیں ہے۔ اللہ کی کتاب ہو یا اللہ کا رسول یا رسول اللہ ﷺ کا کوئی نمائندہ اور انسان کے سامنے دلائل کے انبار لگا دیئے جائیں اور چاروں طرف اس کو سمجھانے والے موجود ہوں بہر حال حالات کچھ بھی ہوں سمجھ صرف اور صرف اسی وقت آتی ہے جب انسان خود توجہ سے کس بات کو سمجھنے کے لیے آمادہ ہوتا ہے اگر انسان خود آمادہ نہ ہو تو کوئی بھی اس کی سمجھ میں بات نہیں ڈال سکتا ۔ رہی یہ بات کہ انسان کو سمجھنے کے لئے جن دلائل کی ضرورت ہے وہ اس کو کہاں سے میسر آئیں ؟ تو اس کے لیے قرآن کریم نے بار بار ارشاد فرمایا ہے اور زیر نظر آیت میں بھی وہ ارشاد فرما رہا ہے کہ اس کو باہر جانے کی کوئی ضرورت نہیں اس کے اپنے جسم کے اندر بیشمار اور ان گنت دلائل موجود ہیں ۔ وہ فقط اپنی پیدائش پر غور کرلے تو ساری حقیقت اس کی آنکھوں کے سامنے آسکتی ہے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ۔ ظاہری آنکھ سے دیکھتے تو وہ کوئی چیز بھی ہے لیکن قدرت الٰہی کا کمال وہ دیکھ لے کہ اب وہ کیسا انسان ہے کہ دنیا کی ہرچیز اس کے سامنے ہیچ ہے اور وہ کوئی چیز نہیں تھا لیکن اللہ نے اس کو ایک قطرہ سے کتنا بڑا عقل و فکر اور سمجھو سوچ والا انسان بنا کر کھڑا کردیا ہے پھر یہ سب کچھ دیکھ کر بھی اس کو دوبارہ پیدا ہونے پر یقین نہ آئے تو یہ اس کی مرضی کی بات ہے یا اس کے اختیار کا سودا ۔ تخلیق انسانی پر مکمل بحث عروۃ الوثقیٰ جلد ہشتم سورة النجم کی آیت 5 اور سورة المؤمنون کی آیت 12 تا 16 میں گزر چکی ہے وہاں سے ملاحظہ فرمائیں اور آنے والے آیت بھی اشارات دے رہی ہیں اس پر بھی غور و فکر کریں۔ وہ اچھلتے ہوئے پانی ہی سے تو پیدا کیا گیا ہے 6 ؎ (دافق) کا اصل مادہ دق ہے معنی ہیں اچھلنے والا دفق سے جس کے معنی اچیا کر اور کود کر چلنے کے ہیں ۔ اسم فاعل کا صیغہ واح مذکرغائب ۔ جن خلیوں سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے ان کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اور استعارہ کے طور پر اس کو مار سے تعبیر کیا ہے اور پھر اس کے ٹپکنے کی اصلیت کو بھی ظاہر کردیا ہے کہ وہ کسی طرح ٹپک کر نکل آتا ہے اور پھر قدرت کے نشانات کے مطابق کہاں سے کہاں ہوتا ہوا کہاں پہنچ کر قرار پکڑتا ہے اور پھر ایک خاص اندازہ کے مطابق اس مستقر میں ٹھہرنے کے بعد وہاں سے اس زمین پر منتقل ہوتا ہے اور زمین کی طرف اس کی مراجعت ہوتی ہے تو اس کی کیا خوبصورت شکل و صورت ہوتی ہے کہ ہر دیکھنے والے کے منہ سے خود بخود ہی نکلنا شروع ہوجاتا ہے کہ ( فتبارک اللہ احسن الخالقین) اس کی اس طرح کی تخلیق کا ذکر پیچھے سورة ( عبس) کی آیت 17 تا 13 اور سورة الانفطار کی آیت 6 تا 9 میں کیا گیا ہے اور ہم نے بھی تفصیل وہاں نقل کردی ہے اور یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اگر انسان پوری دیانت کے ساتھ اپنی تخلیق پر غور کرے تو اس کو دوبارہ زندہ ہونے پر اور اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹ جانے پر ذرا بھر بھی شک و شبہ نہیں رہتا کیونکہ وہ غور کرے گا تو اس کی سمجھ میں آجائے گا کہ اس کی پہلی تخلیق بھی تو آخر ایک نہایت حقیر سے چیز سے ہوئی ہے اور جو رب ذوالجلال والاکرام اس کو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے اور اس کو دوبارہ آخر کیوں نہیں پیدا کرسکتا ۔
Ayah 86:6

خُلِقَ مِنْ مَّآءٍ دَافِقٍۙ Open ayah 86:6 in the Quran reader

وہ اچھلتے پانی (کی ایک بوند ہی) سے تو پیدا کیا گیا ہے

وہ اچھلتے ہوئے پانی ہی سے تو پیدا کیا گیا ہے 6 ؎ (دافق) کا اصل مادہ دق ہے معنی ہیں اچھلنے والا دفق سے جس کے معنی اچیخ کر اور کود کر چلنے کے ہیں ۔ اسم فاعل کا صیغہ واح مذکرغائب ۔ جن خلیوں سے انسان کی تخلیق ہوتی ہے ان کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے اور استعارہ کے طور پر اس کو مار سے تعبیر کیا ہے اور پھر اس کے ٹپکنے کی اصلیت کو بھی ظاہر کردیا ہے کہ وہ کسی طرح ٹپک کر نکل آتا ہے اور پھر قدرت کے نشانات کے مطابق کہاں سے کہاں ہوتا ہوا کہاں پہنچ کر قرار پکڑتا ہے اور پھر ایک خاص اندازہ کے مطابق اس مستقر میں ٹھہرنے کے بعد وہاں سے اس زمین پر منتقل ہوتا ہے اور زمین کی طرف اس کی مراجعت ہوتی ہے تو اس کی کیا خوبصورت شکل و صورت ہوتی ہے کہ ہر دیکھنے والے کے منہ سے خود بخود ہی نکلنا شروع ہوجاتا ہے کہ ( فتبارک اللہ احسن الخالقین) اس کی اس طرح کی تخلیق کا ذکر پیچھے سورة ( عبس) کی آیت 17 تا 13 اور سورة الانفطار کی آیت 6 تا 9 میں کیا گیا ہے اور ہم نے بھی تفصیل وہاں نقل کردی ہے اور یہ بات اپنی جگہ حقیقت ہے کہ اگر انسان پوری دیانت کے ساتھ اپنی تخلیق پر غور کرے تو اس کو دوبارہ زندہ ہونے پر اور اپنے مالک حقیقی کی طرف لوٹ جانے پر ذرا بھر بھی شک و شبہ نہیں رہتا کیونکہ وہ غور کرے گا تو اس کی سمجھ میں آجائے گا کہ اس کی پہلی تخلیق بھی تو آخر ایک نہایت حقیر سے چیز سے ہوئی ہے اور جو رب ذوالجلال والاکرام اس کو پہلی بار پیدا کرنے والا ہے اور اس کو دوبارہ آخر کیوں نہیں پیدا کرسکتا ۔
Ayah 86:7

یَّخْرُجُ مِنْۢ بَیْنِ الصُّلْبِ وَ التَّرَآئِبِؕ Open ayah 86:7 in the Quran reader

جو پانی [ پیٹھ اور سینہ (کی ہڈیوں) کے درمیان سے نکلتا ہے

یہ پانی پیٹھ اور سینہ کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے 7 ؎ (الصلب) صلب پیٹھ کو کہتے ہیں اور اصلاب اس کی جمع ہے اور حقیقت میں صلب کے معنی سخت کے ہیں اور باعتبار صلابت اور شدت کے ہیں ۔ پشت کو صلب کہا جاتا ہے ۔ ( راغب) ( ترائب) چھاتیاں ، مادہ اس کات رب ہے اور تربیۃ کی جمع ہے۔ اس کے معنی چھاتی کی ہڈی اور سینہ کی جھلی کے ہیں یعنی وہ جوڑ جو سینہ میں آ کر پسلیوں کا جڑتا ہے اور وہ بہت سخت ہوتا ہے اگرچہ مقام اجتماع نرم اور لوچ دار ہوتا ہے لیکن اس کا خول بہت سخت ہوتا ہے جو ہڈیوں سے پر ہوتا ہے ۔ مفسرین نے اس میں بحث کی ہے کہ ( الصلب) سے مراد باپ کی پیٹھ یا ریڑھ کی ہڈی ہے اور ( ترائب) سے مراد عورت کی چھاتیاں یعنی سینے کی ہڈی مراد ہے اور دونوں میں ایک طرح کی سختی موجود ہوتی ہے اور چونکہ تخلیق انسانی مرد اور عورت دونوں کے ملاپ سے جو ٹپک کر پانی نکلتا ہے اس سے ہوتی ہے اس لیے زیر نظر آیت میں اس کی طرف ارشارہ ہے لیکن جو لوگ علم الابدان کے ماہر اور ڈاکٹر کہلاتے ہیں ۔ اس نظریہ کی تصدیق نہیں کرتے اس لیے اس میں بہت بحث کی گئی ہے۔ انسانی تخلیق میں بہت سے پہلو ایسے ہیں جو آج تک تشنہ تشریح ہیں اگرچہ اس بات کو موجودہ سائنسدان طبقہ تسلیم نہ کرے لیکن ایک قرآن کریم کا قاری جو اس کتاب کو سچے دل سے اللہ کی کتاب سمجھتا اور جانتا ہے وہ اس معاملہ میں بہت سی باتوں کی تصدیق نہیں کرسکتا اور سائنسدان اس معاملہ یہ کہتے ہیں وہ بالکل صحیح نہیں ہے ہم اس جگہ صرف یہ کہتے ہیں کہ عنقریب ان شاء اللہ العزیز وہ وقت آنے والا ہے کہ یہ ابہام دور ہوجائے گا اور سائنس کو اپنارخ بدلنا پڑے گا اور قرآن کے نظریہ کی اس کو تصدیق کرنا پڑے گی۔ یہ بات ثابت شدہ ہے کہ جب کہیں ایسا تضاد ثابت ہوا قرآن کریم کی بات سائنس کو بہر حال تسلیم کرنا پڑی اور جس مقام پر سائنس کی پلہ بھاری رہا اس میں ہمارے علمائے کرام کی تفہیم غلط ثابت ہوئی نہ کہ قرآن کریم کا نظریہ اور اس کی بیسیویں مثالیں موجود ہیں جن کی تفصیل ہم پیچھے سے بیان کرتے چلے آ رہے ہیں اور آگے کرتے رہیں گے۔ زیر نظر آیت میں جو کچھ قرآن کریم نے بیان کیا ہے وہ لاریب حقیقت پر مبنی ہے اور اس میں بہت بڑی پختگی موجود ہے ۔ ازدواجی زندگی سے ہر وہ جوڑا جو شادی شدہ ہے اور کچھ بھی عقل و فکر رکھتا ہے اس پر یہ حقیقت خود بخود فطری طور پر واضح ہوجاتی ہے ۔ فریقین میں ہیجان فطری طور پر موجود ہے اس کا ابتدائی مرکز معلوم کرنے میں ذرابھر کوتاہی نہیں ہوتی بالکل یہ ایک واضح دلیل ہے اور پھر فطری فعل کے بعد نقاہت و کمزوری بھی ایک حقیقت ہے جس سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اس کا مرکز کیا ہے ۔ دونوں باتوں کو نگاہ میں رکھنے سے حقیقت کھل جاتی ہے اور آہستہ آہستہ سائنس میں اگر مسلم سائنسدانوں نے ہمت کی تو ان شاء اللہ اس حقیقت کی مکمل وضاحت ہوگی کسی چیز کے مرکز کو جو اہمیت حاصل ہوتی ہے اس سے کون واقف نہیں ہے اور مرکز کا ایک اپنا کردار ہوتا ہے ، مرکز متحرک نہ ہو تو باقی ساری تحریکیں بیکار ہو کر رہ جاتی ہیں اس طرح اگر مر کڑکمزور ہو تو بڑے بڑے زور آور کمزوریاں کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ اشارہ ہم نے کردیا ہے ہم نہ تو سائنسدانوں کے نظریہ کے تابع ہونا چاہتے ہیں اور نہ اس حقیقت سے دستبردار ہونا چاہتے ہیں جو ہم نے براہ راست قرآن کریم سے سمجھی ہے۔ ہاں ! اگر ( الصلب) اور ( الترائب) سے مراد کچھ اور ہے تو اللہ تعالیٰ کے کامل علم میں وہ موجود ہے اور وہ اس کو یقینا واضح فرما دے گا اور مشاہدہ اس کی تصدیق کرنے پر مجبور ہوگا۔
Ayah 86:8

اِنَّهٗ عَلٰى رَجْعِهٖ لَقَادِرٌؕ Open ayah 86:8 in the Quran reader

بلاشبہ وہ (اللہ) اس کے دوبارہ لوٹانے پر (بھی) قادر ہے

بلا شبہ وہ اس کے دوبارہ لوٹانے پر بھی قادر ہے 8 ؎ جس اللہ نے انسان کی تخلیق کے لیے یہ اسباب مہیا کیے اور اس کے لیے جتنی اس کی ضرورتیں ہیں ان کو بھی پیدا کیا اور ان کا ازالہ کے اسباب بھی بہم پہنچائے اور جو کچھ کیا سب کچھ انسان کی مانگ پر نہیں کیا بلکہ بن مانگے ان کا بندوست فرمایا اور ابھی اس کی کتنی ضرورتیں ہیں جن کا اس نے بندوست کردیا ہوا ہے لیکن انسان کو نہ تو ابھی ان ضرورتوں کا احساس ہے اور نہ ان کا ازالہ پھر جس نے یہ سب کچھ کیا کیا وہی یہ بات فرما دے کہ ہم نے تم انسانوں کو دوبارہ پیدا کرنا ہے اور تم سے اس کا حساب کتاب بھی لیتا ہے تو تم کو اس بات پر یقین نہ آئے تو تم پر تعجب نہ کیا جائے تو اور کیا کیا جائے ؟ بہر حال تم تسلیم کرو نہ کرو تم کو دوبارہ پیدا کیا جائے گا اور تم سے تمہارے اعمال کی باز پرس ہوگی اور رب ذوالجلال والاکرام ایسا کرنے پر قادر ہے اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کوئی مشکل نہیں ہے۔
Ayah 86:9

یَوْمَ تُبْلَى السَّرَآئِرُۙ Open ayah 86:9 in the Quran reader

اس دن جب پوشیدہ بھید ظاہر کیے جائیں گے

اس دن جب پوشیدہ بھید ظاہر کیے جائیں گے 9 ؎ انسان نے جو کچھ کیا ہوگا خواہ وہ رات کے اندھیروں میں کیا ہے یا دن کی روشنی میں ، اندر سے بھی اندر چھپ کر کیا ہے یا سب لوگوں کے سامنے کیا ہے ، اچھا کیا ہے یا برا کیا ہے بہر حال جو کچھ بھی کیا ہے اس کے سامنے لا کر رکھ دیا جائے گا ۔ عین ممکن ہے کہ وہ خود ایک کام کرنے کے بعد اس کو بھول گیا ہو لیکن ریکارڈ خداوندی سے وہ غائب نہیں ہوگا ۔ اس لیے کوئی بات بھی چھوٹی ہوگی یا بڑی اس سے پوشیدہ نہیں رہے گی ۔ یہاں تک کہ اس وقت نیتوں کے فساد بھی کھول کر اس کے سامنے رکھ دیئے جائیں گے۔ اس فطری مشین کے بارے میں جو کچھ یہ ہوتی ہے اور کرسکتی ہے انسانی دماغ کیا کچھ سوچتا ہے اور کیا کیا سوچ سکتا ہے اگر ان باتوں کو مشاہدہ میں لایا جائے تو عین ممکن ہے کہ وہ مشاہدہ میں آجائیں ۔ قیامت کے روز تو مواخذہ ہی ان باتوں پر ہوگا جو انسان نے کی ہوں گی ، خیالات پر کسی کا کوئی مواخذہ نہیں ہوگا البتہ دنیا میں رہتے ہوئے ایسے آلات تیار کرلے جائیں کہ اس کے دماغ کی کیفیت ان سے معلوم کرلی جائے تو عین ممکن ہے کہ ایسا ہوجائے۔ ( تبلی) وہ آزمائی جائے گی ، وہ جانچی جائے گی ، اس کا امتحان کیا جائے گا بلاء سے مضارع کا صیغہ واحد مؤنث غائب۔ ( تبلی) کے دو معنی بتائے گئے ہیں ایک تبلی تظھر یعنی اس دن تمام راز ظاہر کردیئے جائیں گے ، کوئی بات پوشیدہ نہ رہے گی اور دوسرے معنی ہیں تمتجن و نختبر یعنی ان کو پرکھا جائے گا ۔۔۔۔ اور کھوٹا کھرا الگ الگ کردیا جائے گا جن اسرا کو فاش کرنے کا ذکر کیا گیا ہے ان میں دو باتیں بھی ہیں جن کو کرنے والا جانتا تھا لیکن دوسرے لوگوں کو کوئی علم نہیں تھا اور ایسے بھی کہ جن کو کرنے والا کر کے بھول گیا اور اس کے ذہن میں بھی وہ باتیں نہ رہیں اور پھر وہ بھی جو اس کی یاد میں ہوں لیکن ان کو وہ تسلیم کرنے کے لیے تیار نہ ہو اس طرح کی ساری باتیں ان کے علم میں لائی جائیں گی اور اس طرح کے سارے راز کھول دیئے جائیں گے۔
Ayah 86:10

فَمَا لَهٗ مِنْ قُوَّةٍ وَّ لَا نَاصِرٍؕ Open ayah 86:10 in the Quran reader

پھر نہ اس کا کچھ زور چلے گا اور نہ (ہی) اس کا کوئی معاون ہو گا

پھر نہ تو اس کا کوئی زور چلے گا اور نہ ہی اس کا کوئی معاون ہو گا 10 ؎ ( مطلب یہ ہے کہ اس کا کھلا چٹھا جب اس کے سامنے رکھ دیا جائے گا اور ایک ایک بات اپنی آنکھوں کے سامنے دیکھے گا نہ تو ان سے انکار کرسکے گا اور نہ ہی اس کے پاس ایسا زور ہوگا کہ وہ اس زور کے بل بوتے پر ان نتائج کو ظاہر نہ ہونے دے جو ان اعمال کے ساتھ لازم ہیں جیسا کہ اس نے دنیا میں کیا تھا کہ اپنی برائیوں پر اپنی طاقت و قوت سے پردہ ڈال رکھا تھا اور کسی کی جرأت نہ تھی کہ اس کی برائیوں کا کوئی نام تک ہی لے اور اس طرح ان برائیوں کے نتائج بھی اس نے ساری زندگی ظاہر نہ ہونے دیئے اور اگر کسی نے بہت زور لگایا اور عدالت تک پہنچ گیا تو اس نے وہاں جا کر مقدمہ کو دفتر داخل کرا دیا اور اس طرح جو کچھ ہوا زور اور طاقت کے بل پر ہوا ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ اس روز اس طرح کا کوئی زور اس کے ہاتھ میں نہ ہوگا اور نہ ہی وہ کسی طاقت اور قوت کا مظاہرہ کرسکے گا اور نہ ہی اس کا دوست و احباب اس کے مددگار بن کر آئیں گے کہ اس کو عذاب الٰہی سے چھڑا کر وہ لے جائیں ۔ لا ریب یہ دن تو اپنے کیے ہوئے اعمال کے بدلہ کا دن ہوگا اور بدلہ پورا پورا دیا جائے گا کسی طرح کی کوئی کوتاہی نہیں کی جائے گی۔
Ayah 86:11

وَ السَّمَآءِ ذَاتِ الرَّجْعِۙ Open ayah 86:11 in the Quran reader

اور قسم ہے آسمان (کے رب ) کی جس سے مینہ اترتا ہے

اور قسم ہے آسمان کے رب کی جب وہ لوٹ آتا ہے 11 ؎ پیچھے انسانی تخلیق کی بات بتائی گئی تھی کہ اس کی پیدائش کے لیے اللہ تعالیٰ نے کیا قانون بنایا ہے اور قانون کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ جس اللہ نے انسانی تخلیق کے لیے یہ قانون بنایا اور اس کے مطابق انسان بنتے چلے جا رہے ہیں اس طرح اس نے انسان کو دوبارہ لوٹائے جانے کے لیے بھی ایک قانون بنا رکھا ہے جب انسان کیا اس پورے نظام کو ختم کردیا جائے گا تو نئے سرے سے سارا نظام بنایا جائے گا اس وقت انسانوں کو دوبارہ پیدا کر کے ان سے ان کے اعمال کے متعلق باز پرس ہوگی ۔ زیر نظر آیت میں بیان کیا جا رہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آسمان زمین کا جوڑا بھی بنایا اور آسمان کو حکم دیا کہ وہ زمین پر لوٹ کر ائے اور اس پر پانی کی بوندیں ٹپکائے اور زمین کو حکم دیا کہ تو آسمان کا جوڑا ہے ان بوندوں کو قبول کر کے اس میں نباتات پیدا کر دے اور تیرے اندر جہاں جہاں جس جس چیز کے بجو چھپے پڑے ہیں سب کو اگا کر ہر بادل ہی ہر بادل بنا دے۔ فرمایا جب اللہ تعالیٰ آسمان کو زمین پر لوٹ آنے کا حکم دیتا ہے تو آسمان زمین پر بوندیں ٹپکانا شروع کردیتا ہے۔
Ayah 86:12

وَ الْاَرْضِ ذَاتِ الصَّدْعِۙ Open ayah 86:12 in the Quran reader

اور قسم ہے زمین (کے رب ) کی جب وہ پھٹتی ہے (تو سبزہ نکل آتا ہے)

اور قسم ہے زمین کے رب کی جب وہ پھٹ جاتی ہے 12 ؎ فرمایا جب آسمان زمین کی طرف مراجعت کرتا ہے تو قدرت خداوندی کے مطابق زمین شق ہونے لگتی ہے اور جونہی زمین شق ہوتی ہے تو اس میں طرح طرح کی انگوری نکل آتی ہے اور پھر یہی بارش اس کی خوراک کا کام دیتی ہے کہ جب زمین پر برستی ہے تو اس کی بارش سے زمین کے اندر کی قوت نمو سے اس کی خوراک حاصل ہونے لگتی ہے اور وہ پانی جو اس زمین پر برسایا گیا تھا جتنی زمین کی ضرورت ہوتی ہے اس کے مطابق اس میں رک جاتا ہے اور باقی پانی دوبارہ بھاپ بنا کر اڑا لا جاتا ہے۔ قدرت نے کیا قانون بنایا ہے کہ زمین بھی پانی جذب کرتی چلی جا رہی ہے اور زائد پانی کو کس طرح بھاپ بنا کر اڑایا جا رہا ہے اور اس کے لیے اس کائنات کا نظام سارا نظام کرتا چلا جا رہا ہے۔ کوئی چیز باہر سے لا کر اس سے کام نہیں لیا جا رہا پھر کام بھی وہی ہے اور کام کرنے والا بھی وہی ہے اور جو ہوا ہے وہ بھی وہی ہے۔ مختصر یہ کہ آسمان کا رجع بالکل وہی ہے جو مذکر اپنا کام پورا کرتا ہے اور زمین کا صدع وہی ہے جو مؤنث کی ترائب کا عمل ہے نتیجہ اس زمین کی سب کی سب نباتات ہیں خواہ وہ درخت ہوں ، سبزیاں اور ترکاریاں ہوں یا پھل اور فصلیں جن سے غلہ حاصل کیا جاتا ہے یہ سب کی سب زمین کی پیدائش ہے جس میں مذکر بھی ہیں اور مؤنث بھی۔
Ayah 86:13

اِنَّهٗ لَقَوْلٌ فَصْلٌۙ Open ayah 86:13 in the Quran reader

بلاشبہ یہ (قرآن) ایک فیصلہ کن کلام ہے

بلا شبہ قرآن کریم ایک فیصلہ کن کلام ہے 13 ؎ قرآن کریم نے جو نظریات تم کو دیئے ہیں بلا شبہ وہ قول فیصل ہیں ساری دنیا مل کر ان کو جھٹلانا چاہے تو نہیں جھٹلا سکتی جن کا تم بھی بار بار مشاہدہ کرتے رہے تم انجان اور بھولے بننے کی کوشش کرو پھر بھی اس حقیقت سے تم انکار نہیں کرسکتے کیونکہ قرآن کریم نے جن حقائق کو بیان کیا ہے وہ فیصلہ کن حقائق ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فیصلے قطعی اور اٹل ہوتے ہیں جس چیز کو اس نے حق کہہ دیا ہے بس وہ حق ہی ہے اور جس کو اس نے باطل کہہ دیا ہے وہ باطل ہی ہے۔ زمانہ کے تغیرات اور حالات کے تقاضے قرآن کریم کے حقائق کو الٹ پلٹ نہیں سکتے یہ ایسی باتیں نہیں ہیں جو ازراہ مذاق محض دل لگی کے باعث کی گئی ہوں اور جن کا ظاہر اور باطن یکساں نہ ہو۔ قرآن کریم نے تم کو خبر دی ہے کہ قیامت آنے والے ہے اب تم مانتے ہو تو مانو ، نہیں مانتے تو بالکل نہ مانو لیکن تمہارے ماننے نہ ماننے سے کچھ فرق نہیں پڑتا کیونکہ جس کو ہونا ہے اس کو تو بہر حال ہونا ہی ہے پھر تم اس دنیا میں موجود ہو اور اگر تم اس بات کا انکار کرسکتے ہو تو کردو لیکن جس طرح تمہارا اس دنیا میں ہونا یقینی ہے اس سے زیادہ یقینی وہ بات ہے جس کو ابھی ہونا ہے یعنی قیامت کا روز ہے اور قیامت کا آنا اتنا ہی یقینی امر ہے جتنا کہ تمہارا اس دنیا میں آنا اور موجود ہونا یقینی امر ہے فرق ہے تو صرف اتنا کہ ایک ہوچکا ہے اور دوسرے کو ابھی ہونا باقی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ہو چکنے اور ہونے میں کوئی فرق نہیں ہے یہ فرق محض انسانوں کے کاموں میں ہوتا ہے اللہ تعالیٰ کے کاموں میں اس طرح کا کوئی فرق نہیں ہوتا ۔
Ayah 86:14

وَّ مَا هُوَ بِالْهَزْلِؕ Open ayah 86:14 in the Quran reader

اور یہ کوئی لغو چیز نہیں ہے

اور یہ کوئی لغو چیز نہیں ہے 14 ؎ گزشتہ بات کی مزید تائید کے لیے فرمایا جا رہا ہے کہ یہ کوئی ہنسی اور مذاق کی بات نہیں ہے کہ قیامت آئے گی اور سب انسان اپنے اپنے اعمال کے لیے اللہ تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوں گے۔ (الھرل) کھیل ۔ باطل ھزل بیہودگی ، بیہودہ کام ھزال لاغری ۔ ھزالۃ اچھی عادت ، عقل مندی ، بیہودہ کھیل کرنے والا ، غیر سنجیدہ بات ھیزلۃ چوپائے مھازل قحط سالیاں وغیرہ مطلب یہ ہے کہ قرآن کریم میں کوئی آوارہ بات نہیں ہے کہ جو اس نے کہہ دیا ہے ہوا تو ہوا نہ ہوا تو خیر ہے۔ نہیں اور ہرگز نہیں جس کے ہونے کی اس نے پیش گوئی کی ہے اس کا ہونا اپنے وقت پر لازم اور فرض ہے یہ اس نے محض دل لگی کی بات نہیں کی کہ تم کو پریشان کرنے کے لئے یا ورطہ حیرت میں ڈالنے کے لے اس نے کہہ دی ہے بلکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اس کائنات میں جو کچھ پیدا کیا گیا ہے وہ سب کا سب انسان کی خاطر پیدا کیا گیا ہے اور پھر انسان کو آوارہ پیدا نہیں کیا بلکہ با مقصدپیدا کیا ہے اور وہ با مقصدتب ہو سکتا ہے جب کہ اپنے کیے کے متعلق جوابدہ ہو اور جو چیز اپنے کیے کے متعلق جوابدہ نہیں ہے وہ با مقصد بھی نہیں ہے اور اس طرح یہ بھی صحیح نہیں ہے کہ جب دنیا میں کوئی چیز بھی بےمقصد پیدا نہ کی گئی ہو تو انسان کو آخر بےمقصد کیونکر پیدا کیا گیا کیسے تسلیم کیا جاسکتا ہے جو پوری کائنات میں سے افضل و اعلیٰ ہے۔
Ayah 86:15

اِنَّهُمْ یَكِیْدُوْنَ كَیْدًاۙ Open ayah 86:15 in the Quran reader

بلاشبہ وہ (کافر) لوگ اپنی اپنی خفیہ تدبیروں میں لگے ہوئے ہیں

بلا شبہ وہ لوگ اپنی اپنی تدبروں میں لگے ہوئے ہیں 15 ؎ ( یکیدون) کی اصل ک ی د ہے جس کے معنی خفیہ تدبیر کے ہیں جمع مذکر غائب مضارع بمعی حال کید مصدر یعنی وہ خفیہ تدبیر بھی کرتے ہیں کید عربی کا لفظ ہے جس کے معنی خفیہ تدبیر کے ہیں خواہ وہ تدبیر اچھی ہو یا بری لیکن اردو میں کید کا لفظ بری تدبیر میں مستعمل ہے جس کو دھوکا یا فریب کہتے ہیں ۔ جس کا فاعل کبھی نیک اور صالح انسان نہیں ہو سکتا چہ جائیکہ اللہ تعالیٰ یا اللہ تعالیٰ کا رسول ہو ۔ ان کی خفیہ تدبیروں کے متعلق کہا جا رہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! یہ لوگ حق کے مقابلہ کے لیے اور حق کے جھٹلانے کے لے جو مکاریاں اور فریب کاریاں کر رہے ہیں ہم ان سے خوب واقف ہیں لیکن ان کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ جو کام حق کو زک دینے کے لے کر رہے ہیں ان کاموں سے حق کیونکر ذک کیا جاسکتا ہے۔ غور کرو کہ اگر چڑھے ہوئے سورج کا کوئی انکار کر دے تو ایسا صریح انکار کرنے والا حقیقت کا انکار کر کے حقیقت کو کیسے جھٹلا دے گا ۔ فرمایا جا رہا ہے کہ یہ لوگ جو کرنا چاہتے ہیں کریں ، جو منصوبے بنانا چاہتے ہیں بنائیں ، جو مکرو فریب کے جال بچھانا چاہتے ہیں بچھائیں ان کی ساری خفیہ تدبیروں کا وبال ان ہی کے سر پڑے گا کیونکہ ان کی ہر خفیہ سازش انجام کار ناکام ہو کر رہ جائے گی ۔ ان کی سمجھ میں نہیں آئے گا کہ ان کی تدبیریں کیسے الٹ کر ان پر جا پڑی ہیں کیا ان کی خفیہ تدبیریں ہمارے خلاف پڑیں گی اور ہم ان کی تدبیروں کے سامنے ہار جائیں گے ؟ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا بلکہ وہ اپنی ہی خفیہ تدبیروں کے جال میں پھنس کر رہ جائیں گے اور پھر شور مچائیں گے کہ ہم تو کمبل کو چھوڑ تے ہیں لیکن کمبل بھی تو ہم کو چوڑے اور اسی طرح شورمچاتے رہ جائیں گے لیکن نہ کمبل چھوڑے گا اور نہ ان کی رہائی ہوگی۔
Ayah 86:16

وَّ اَكِیْدُ كَیْدًاۚۖ Open ayah 86:16 in the Quran reader

اور میں (اللہ) نے بھی (ایک) خفیہ تدبیر کردی ہے (کہ ان کی ساری تدبیریں فیل ہوں گی)

میں نے بھی تدبیر کردی ہے کہ ان کی تدبیروں کا وبال انہیں پر پڑے گا 16 ؎ کفار کی خفیہ تدبیروں یعنی سازشوں کا وبال جب انہی پر پڑے گا تو ان کی ساری سمجھ آجائے گی کہ ہم نے کیا کیا اور ہمارے ساتھ کیا کیا گیا۔ آپ کو معلوم نہیں ہے کہ ہماری طرف سے اس بات کا اعلان عام ہے کہ ہر عمل کے ساتھ اس کا نتیجہ لازم ہے اور پھر جیسا عمل ہے ویسا ہی اس کا نتیجہ بھی ہے اگر عمل اچھا ہے تو نتیجہ کبھی برا نہیں ہو سکتا اور اگر عمل برا ہے تو نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہو سکتا ۔ ہاں ! ہمارے قانون میں نتیجہ ضروری نہیں کہ اس وقت نکل آئے جبکہ کسی عمل کرنے والے نے عمل کیا بلکہ ہمارے ہاں جس طرح اعمال کے اوقات مقرر ہیں اسی طرح ان کے نتائج کے بھی اوقات مقرر ہیں بعض اوقات انسان عمل کرتا رہتا ہے اور دیر تک عمل جاری رہتا ہے لیکن اس کے نتیجہ سے وہ دو چار نہیں ہوتا ، وہ سمجھتا ہے کہ شاید میرے برے عمل کا برا نتیجہ ہی نہیں ہے حالانکہ اس کی یہ سوچ بہر حال غلط ہے جو کبھی صحیح نہیں ہو سکتی بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اس کو یہ باور کرانا ہی اس کی شامت اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے کہ اس کے اعمال کا نتیجہ کبھی غلط نہیں ہو سکتا یہ بات عام لوگوں کی سمجھ سے بالا ہے کہ ایسا کیوں ہے حالانکہ انسان ذرا غور کرے تو اس کی سمجھ میں آجائے کہ اگر ایسا نہ ہوتا تو اس عالم دنیا کا نظام کبھی چل ہی نہ سکتا تھا۔ غور کرو کہ ایک شخص بضد ہے کہ ابھی قیامت آئے اور وہ عذاب اپنی آنکھوں سے دیکھے لیکن اس کے مقابلہ میں دوسرا آدمی تبلیغ کے کام میں جان کھپا رہا ہے اور دن رات اس کوشش میں ہے کہ یہ لوگ راہ راست پر آئیں جو نہ ماننے والے ہیں ان کا مطالبہ قیامت کا ہے پھر کوئی قیامت ایسی ممکن ہے کہ وہ محض ان لوگوں کے لے آئے جو بضد ہیں اور ان کو ہلاک کر دے اور جو تبلیغ کا حق ادا کر کے اجر کے مستحق ہو رہے ہیں ان کو اجر کیسے ملے گا کیونکر جن لوگوں کو تبلیغ کرنا تھی وہ تو اپنی ضد کا شکار ہوگئے۔ اس مقصد کے لیے ضروری ہے کہ جو بضد ہیں وہ بضد رہیں اور جو تبلیغ کرتے ہیں وہ بھی کرتے رہیں اور اس مقصد کے لے ایک دن مقرر ہو جب تبلیغ کرنے والوں کو ان کی تبلیغ کا اجر ملے اور ناحق ضد کرنے والوں کو ان کی ضد کی سزا دی جائے اور زیر نظر آیت میں اس بات کو اللہ تعالیٰ کی تدبیر سے تعبیر کیا گیا ہے فرمایا جارہا ہے کہ اے پیغمبر اسلام جو وہ خفیہ تدبیریں کرتے ہیں ان کو کرنے دو ہمارا قانون مکافات بھی ان کی سازشوں کی سزا متعین کرتا چلا جا رہا ہے اور عنقریب وہ وقت آئے گا جب حقیقت آشکارا ہوجائے گی۔ تبلیغ کرنے والے اپنا اجر حاصل کریں گے اور بضد ہونے والے اپنے انجام کو پہنچ جائیں گے اور یہ معاملہ ایک پنتھ اور دو کاج کے طور پر حل ہوجائے گا ۔ بات کو اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ مکر بھی عربی زبان کا لفظ ہے اور کید بھی اور یہ دونوں الفاظ اردو میں بھی مستعمل ہیں جس طرح انکے فاعل کفار ، مخالفین و معاندین اسلام قرار دیئے گئے ہیں اسی طرح ان کا فاعل اللہ تعالیٰ کو بھی بتایا گیا ہے جب قرآن کریم کا قاری قرآن کو پڑھتا ہے تو اس کو تعجب ہوتا ہے کہ کفار اور مخالفین و معاندین اسلام نے مکرو فریب سے کام لیا اور اس طرح اسلام کے خلاف اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف سازشیں بھی کیں لیکن یہ اللہ تعالیٰ کا مکرم کرنا اور سازش کرنا کیا ہوا ؟ کیا اللہ تعالیٰ بھی اس اخلاق و کردار کا مالک ہے ؟ تو وہ سوچ کر ششدر رہ جاتا ہے پھر جب اس کی کوئی توجیہ بیان کرتا ہے تو بھی اس کی تشقی نہیں ہوتی اور اس کا ذہن صاف نہیں ہوتا اس لیے اچھی طرح سمجھ لینا چاہیے کہ قرآن کریم نے بار بار ہم کو بتایا ہے کہ جب بھی کوئی آدمی عمل کرتا ہے خواہ وہ عمل اچھا ہو یا برا اس کا نتیجہ اس کے ساتھ لازم کردیا گیا ہے اور یہ نتیجہ جس کے حکم سے مرتب ہوتا ہے وہ اللہ تعالیٰ ہے اور ظاہر ہے کہ جب ایک شخص اسلام کے خلاف اور پیغمبر اسلام ﷺ کے خلاف یا مومنوں کے خلاف کسی طرح کی سازش کرتا ہے تو اس کا نتیجہ بھی اس کے ساتھ لازم ہے پھر جب اس کا عمل برا ہے تو نتیجہ اچھا کیسے ہوگا ؟ چونکہ نتیجہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے مرتب ہورہا ہے اس لیے اس نتیجہ کا فاعل اللہ تعالیٰ کو بیان کیا گیا ہے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی گئی حالانکہ حقیقت میں وہ اصل فاعل یعنی انسان کے اپنے فعل کا نتیجہ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ سازشیں کر رہے ہیں ان کو کرنے دیں کیونکہ ان کی سازشوں کا نتیجہ میں مرتب کر رہا ہوں اور بھی ان پر حقیقت واضح ہوجائے گی جب وہ اپنے فعل کے نتیجہ سے دو چار ہوں گے کیونکہ ان کے اعمال کے نتائج ان کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں ۔ رہی یہ بات کہ وہ نتائج سے دو چار کب ہوں گے ؟ تو اس کی وضاحت بھی بار بار کردی گئی ہے کہ اس کے لیے وہ قیامت کا روز مقرر ہے جس سے لوگ انکار کرتے ہیں لیکن جونہی وہ دن آئے گا تو انکار کرنے والوں کی آنکھیں کھل جائیں گی۔
Ayah 86:17

فَمَهِّلِ الْكٰفِرِیْنَ اَمْهِلْهُمْ رُوَیْدًا۠ Open ayah 86:17 in the Quran reader

پس آپ بھی کافروں کو مہلت دیجئے کہ کچھ دن اور (ان کو) چھوڑ دیجئے

پس آپ ﷺ کافروں کو تھوڑی سی مہلت دے دیں ، کچھ دیر کچھ نہ کہیں 17 ؎ (مھل) واحد مذکر امر حاضر تمھیل مصدر باب تفعیل مہلت دے۔ یہ بات پیغمبر اسلام ﷺ کو مخاطب کر کے کہی جا رہی ہے کہ اے پیغمبر اسلام ﷺ ! ہمارے قانون نے ان کو چاروں طرف سے گھیر رکھا ہے آپ ﷺ اس کی فکر نہ کریں کہ یہ لوگ اپنے کیے کے نتیجہ سے دو چار نہیں ہوں گے کیوں نہیں ضرور دو چار ہوں گے لیکن ابھی ان کو اپنے سارے ارمان نکال لینے دیں اور ان کی تکلیف رسانیوں پر صبر کریں اگر یہ لوگ اس طرح اپنے ارمان پورے نہ کرتے تو آپ لوگوں کو اجر وثواب کس چیز کا ملتا ؟ آپ اپناکام کرتے جائیں ان کو ہمارے قانون کے سپرد رہنے دیں ہم ان سے نمٹ لیں گے اور ان کے کرتوتوں کا مزہ ان کو ضرو چکھائیں گے اور آپ ﷺ کو اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو صبر کرنے کا اجر بھی ضرور ملے گا ۔ ( املھلھم) ان کو ڈھیل دے ( امھل) امھال سے ہے جس کے معنی مہلت دینے کے ہیں امر کا صیغہ واحدمذکر حاضر (ھم) ضمیر جمع مذکر غائب ( رویدا) تھوڑی سی مہلت اسم فاعل ہے۔ یہ اصل میں ارواد ہے اور رویدا ارواد کی تصغیر ہے ( رویدا) کے معنی مہلت دینے اور ٹھہرنے کے ہیں ۔ کہا جاتا ہے امش مشیا رویدا یعنی آہستہ چل جلدی نہ کر اور علامہ سیوطی کہتے ہیں کہ : (رویدا) اسم ہے ہمیشہ مصغر اور مامور بہ ہو کر بولا جاتا ہے یہ رود کی تصغیر ہے جس کے معنی مہلت کے ہیں ۔ ( الاتقان جلد اول ص 193) اس آیت نے ایک طرف نبی اعظم و آخر ﷺ اور آپ ﷺ کے ساتھیوں کو تسلی دی اور دوسری طرف کافروں کو (Warning) دے دی کہ تم لوگ جو مخالفت کر رہے ہو کھول کر کرلو عنقریب وہ وقت آنے والا ہے کہ تم اپنے کیے کے نتیجے میں دھر لیے جائو گے اور تمہاری مشکیں کس دی جائیں گی اور تم کو وہ مار دی جائے گی کہ تمہارا سارا نشہ ہرن ہوجائے گا ۔ اسی مضمون پر ہم اس سورت کی تفسیر کو ختم کر رہے ہیں۔ ( رب اشرح لی صدری ویسرلی امری واحلل عقدۃ من لسانی و یفقھوا قولی)