88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsتفسیرِ مدنی

Ayahs 88:1–3

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

کیا پہنچی ہے آپ کے پاس خبر اس (سب پر) چھا جانے والی آفت کی ؟

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

کتنے ہی چہرے اس روز ذلیل و خوار ہوں گے

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

مشقت اٹھانے والے تھکے ماندے ہوں گے

(2) اس روز ناکام و نامراد لوگوں کے حال بد کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کتنے ہی چہرے اس روز ذلیل و خوار ہوں گے "۔ چہروں سے یہاں پر مراد ہیں چہروں والے، ای اصحاب الوجوہ۔ چہرہ چونکہ انسانی جسم کا سب سے اشرف عضو ہوتا ہے اس لیے اس کا اطلاق فرما کر اس سے پورا انسان مراد لیا گیا ہے جو کہ عربی زبان و محاورہ کا ایک معروف اور بلیغ اسلوب ہے، سو جن لوگوں نے اپنے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بنا پر حق سے منہ موڑا ہوگا اور انہوں نے اس دنیا میں اپنی رضا ورغبت سے اپنے خالق ومالک کے حضور جھکنے اور خشوع و خضوع کا شرف حاصل نہیں کیا ہوگا وہ بدلہ و جزا کے اس دن میں اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے، اور ان کی یہی ذلت و خواری ہوگی جو ان کے چہروں پر عیاں اور واضح ہوگی، اور وہ ان پر اس طرح جم چکی ہوگی کہ اب کسی بھی طرح اس سے ان کی جان نہ چھوٹ سکے گی، والعیاذ باللہ۔ سو کس قدر سعادت مند اور خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دنیا کی اس زندگی میں اپنی رضا ورغبت اور شوق و ذوق سے اپنے خالق ومالک کے حضور سجدہ ریز ہونے اور خشوع و خضوع کو اپنانے کے شرف سے مشرف ہوتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں وہ نہ صرف یہ کہ روز جزا کی اس ذلت و خواری سے محفوظ رہیں گے بلکہ وہاں کی دائمی اور حقیقی کامیابی سے بھی بہرہ مند و سرفراز ہوں گے۔ فزدنا اللھم خشوعا لک و خضوعا وعبودیۃ وحبا فیک برحمتک یا ارحم الرحمین۔ بہرکیف ان کلمات کریمہ سے یہاں پر اس روز حساب و جزا میں ناکام و نامراد قرار پانے والے لوگوں کے حال بد کی تصویر پیش فرمائی گئی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ مشقت اٹھانے والے تھکے ماندے اور نڈھال و بدحال ہوں گے "۔ وہاں کے طرح طرح کے اور ہولناک عذابوں کی وجہ سے، نیز زندگی بھر کے ان اعمال شاقہ کی بنا پر جو کہ دین کی روشنی سے محرومی کے باعث ان لوگوں نے از خود اپنے اوپر اپنی دنیاوی زندگی میں مسلط کر رکھے تھے، جیسے ہندو جوگیوں، سنیاسیوں کی چلہ کشیاں، عیسائی راہبوں اور بدھ بھکشوں وغیرہ کی طرح طرح مشقتیں، کہ ان میں سے کوئی چیز بھی ان کو وہاں کام نہیں آسکے گی، اور جس طرح کہ اہل بدعت نے طرح طرح کے بدعی اور شرکیہ اعمال از خود اختراع کر رکھے ہیں، جن کے لیے دین متین میں کوئی سند و ثبوت نہیں، اور ایسا ہر عمل نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) کے صاف وصریح ارشادات کے مطابق مردود اور ناقابل قبول ہوگا، جیسا کہ صحیحین وغیرہ اور مشہور حدیث میں ارشاد گیا " من احدث فی امرنا ھذا ما لیس منہ فھو رد "۔ یعنی ’ ’ جس کسی نے ہمارے دین میں کوئی ایسی نئی بات شامل کی جو کہ اس میں ثابت و موجود نہیں تھی تو وہ مردود ہے "۔ سو ایسے تمام لوگ جنہوں نے دینی تعلیم کی روشنی سے محرومی کے عالم میں ایسے پر مشقت عمل کیے ہوں گے اس روز وہ دیکھیں گے کہ ان کی تمام مشقتوں اور چلہ کشیوں کا کوئی صلہ وثمرہ ان کے لیے وہاں موجود بلکہ اس کے برعکس وہاں ان کو طرح طرح کے عذابوں کا سامنا ہوگا، تو اس وقت ان کی وہ دنیاوی مشقت اور اس کے نتیجے میں لاحق ہونے والی ان کی یاس حسرت اور وہاں کی ناکامی و نامرادی سب مل کر ایک ہولناک ذلت کی شکل میں ان کے چہروں پر چھا رہی ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ حضرت عمر فاروق ؓ کے بارے میں مروی ہے کہ بیت المقدس کے سفر کے دوران جب آپ نے ایک ضعیف و ناتواں عیسائی راہب کو دیکھا کہ وہ چلہ کشیاں کر رکے سوکھ گیا ہے تو آپ رو پڑے، اور پھر آپ نے یہی آیت کریمہ تلاوت فرمائی ( روح، ابن کثیر، قرطبی، مراغی وغیرہ) سو حق و ہدایت کی روشنی سے محروم ایسے لوگ اس روز بڑے ہی نڈھال اور بدحال ہوں گے ( والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 88:4

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

انہیں داخل ہونا ہوگا ایک بڑی ہی ہولناک دہکتی آگ میں

(3) دولت ایمان سے محروم لوگوں کا انجام دوزخ کی دہکتی بھڑکتی آگ، والعیاذ باللہ العظیم : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو داخل ہونا ہوگا ایک بڑی ہی ہولناک دہکتی بھڑکتی ہوئی آگ میں "۔ ایسی ہولناک اور اس قدر دہکتی بھڑکتی آگ کہ اس کا یہاں پر اس دنیا میں تصور کرنا بھی کسی کے بس میں نہیں، سو ایمان و یقین کی دولت سے محروم جن لوگوں کا آخری انجام یہ ہونے والا ہے ان کو اگر دنیاوی زندگی کی اس چند روزہ فرصت میں دنیا بھر کی دولت بھی مل جائے تو بھی ان کو کیا ملا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس کے برعکس ایمان و یقین کی دولت سے سرشار جو شخص اس ہولناک عذاب سے بچ کر جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرشار و سرفراز ہوگیا وہ کس قدر خوش نصیب اور سعادت مند ہے، اگرچہ اس کو دنیا میں نان جویں بھی میسر نہ رہی ہوں، سو اصل دولت ایمان و یقین کی دولت ہے جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل و کرم سے ہمیں نصیب فرمائی ہے، اللہ اس کو محفوظ و سلامت رکھے، اس میں مزید از مزید قوت نصیب فرمائے۔ اور اسی پر خاتمہ فرمائے آمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے منکرین کی اس بدحال کے اصل سبب اور باعث کو ذکر فرمایا گیا ہے کہ ان کو دوزخ کی اس انتہائی ہولناک آگ میں داخل ہونا ہوگا اور آگ کی ہولناکی کا اندازہ سنن ترمذی وغیرہ کی اس حدیث سے لگایا جاسکتا ہے جو کہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مروی ہے۔ جس میں نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اس کو ایک ہزار برس تک دہکایا گیا، یہاں تک کہ وہ سرخ وہگئی، پھر اس کو ایک ہزار برس تک دہکایا گیا یہاں تک کہ وہ سفید ہوگئی، پھر اس کو ایک ہزار برس تک دہکایا گیا، یہاں تک کہ وہ سیاہ ہوگئی۔ سو وہ سخت سیاہ ہے جس کی تیزی اور شدت کبھی ختم نہیں ہوگی۔ ففھی سوداء مظلمۃ لا یطفاء لھیھا، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، من کل سوء و شر۔
Ayah 88:5

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

اور ان کو پانی پلایا جائے گا ایک نہایت ہی کھولتے چشمے سے

(4) دوزخیوں کے پینے کے لیے کھولتا ہوا پانی، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " ان کو پانی پلایا جائے گا ایک نہایت ہی کھولتے ہوئے چشمے سے جو اس قدر کھولتا ہوگا کہ بھون کر رکھ دے گا ان کے چہروں کو اور بگاڑ کر رکھ دے گا ان کی شکلوں کو، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الکہف 29 پ 15) اگر وہ لوگ پینے کے لیے پانی مانگیں گے تو ان کو ایسا تیل کی تلچھٹ جیسا گرم پانی پلایا جائے گا جو بھون کر رکھ دے گا ان کے چہروں کو، بڑا ہی برا پانی ہوگا وہ اور بڑا ہی برا ٹھکانہ ہوگا وہ، اور وہ پانی پی لینے کے بعد ٹکڑے ٹکڑے کردے گا ان کی انتڑیوں کو، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، محمد 15 پ 26) بہر کیف " ان " اور " ان یہ " کے معنی انتہائی گرم اور کھولتے پانی کے ہیں۔ متناھیۃ فی الحرارۃ ( خازن، ابن کثیر، محاسن التاویل، صفوۃ التفاسیر، مدارک التنزیل وغیرہ) واضح رہے یہاں پر مجرموں کے چہروں کے جس بگاڑ اور بدحواسی کا ذکر فرمایا گیا ہے اس کا تعلق دراصل اس وقت سے ہے جب ان پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ ان کو دوزخ کی اس دہکتی بھڑکتی آگ میں ڈالا جانے والا ہے، پس عام طور پر جو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ ان بدبختوں کے دوزخ میں پڑنے کے بعد کے حالات کا ذکر کیا جارہا ہے تو یہ بات صحیح نہیں معلوم ہوتی، کیونکہ دوزخ میں ڈالے جانے کے بعد ان کے چہرے صرف اور صرف پریشان اور بدحال نہیں ہوں گے بلکہ وہاں تو ان کو آگ کے اندر گھسیٹا جائے گا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، القمر 48 پ 27) اور اس کے علاوہ اور بھی طرح طرح کے عذاب ہوں گے، والعیاذ باللہ العظیم۔ پس ان کی اس بدحواسی اور پریشان حالی کا تعلق جس کا یہاں ذکر فرمایا گیا دراصل اس وقت سے ہے جبکہ اس پر یہ حقیقت واضح ہوجائے گی کہ ان کو دوزخ میں ڈالا جانے والا ہے، جہاں ان سے بڑا ہی سخت اور کمر توڑ معاملہ ہوگا، جیسا کہ ودسرے مقام پر اس کی تصریح فرمائی گئی ( آیت، القیامہ 24, 25 پ 29) یعنی کچھ چہرے اس روز بھی بگڑے ہوئے ہوں گے وہ گمان کر رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ معاملہ کیا جانے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayahs 88:6–7

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

ان کے لیے کھانے کی کوئی چیز نہ ہوگی سوائے ایک ایسی خاردار سوکھی گھاس کے

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ موٹا کرے اور نہ بھوک سے ہی کچھ کام آئے

(5) دوزخیوں کا کھانا ضریع، والعیاذ باللہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " وہاں ان کے لیے کھانے کا کوئی سامان نہیں ہوگا سوائے اس کے "۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ " ضریع " اصل میں زمین پر پھیلی پڑی ایک خاص قسم کی ایسی خادار گھاس کو کہا جاتا ہے جو کہ خشک ہوچکی ہو، خشک ہونے سے قبل اسے عرب " شبرق " کہتے ہیں۔ یہ نہایت گندی اور بدبودار گھاس ہوتی ہے، قتادہ (رح) کہتے ہیں کہ یہ بڑی خبیث اور بری خوراک ہوگی جو اہل دوزخ کو کھلائی جائے گی، والعیاذ باللہ العظیم۔ ( روح، قرطبی، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، صفوۃ التفاسیر اور خازن وغیرہ) یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ اہل دوزخ کے لیے جو " ضریع " کی خوراک کا ذکر یہا پر پر بطور حصر فرمایا گیا ہے تو یہ حصر حقیقی نہیں اضافی ہے، یعنی اس کا یہ مطلب نہیں کہ ان کو صرف " ضریع " ہی کھانے کو ملے گی اور بس۔ نہیں بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان کو کوئی بھی اچھی کام کی اور مرغوب و مفید خوراک نہیں ملے گی، بلکہ ان کو اسی طرح کی مختلف خوراکیں ملیں گی جن میں سے ہر ایک دوسری سے بڑھ کر باعث عذاب ہوگی، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو ان کو وہاں پر کبھی " زقوم " ملے گی، کبھی " غسلین " اور کبھی " ضریع "۔ یا مختلف لوگوں کو مختلف غذائیں ان کے حال کے مناسب دی جائیں گی، والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف اس سے پانی کے بعد ان کے کھانے کا ذکر فرمایا گیا ہے جو ان بدبختوں کو دوزخ میں ملے گا، والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے۔ آمین۔ اور " ضریع " کے اس ہولناک کھانے کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ نہ وہ موٹا کرے گا، اور نہ بھوک سے کچھ کام آئے گا، اور ظاہر ہے کہ غذا کے اصل اور بنیادی فائدے یہی دو ہوتے ہیں ایک جسم کی توانائی کو قائم اور باقی رکھنا اور دوسرا بھوک کی اذیت کو دفع کرنا، دوزخیوں کی اس خوراک میں ان دونوں میں سے کوئی بھی فائدہ نہیں ہوگا، نہ اس سے ان کے جسموں میں کوئی توانائی میسر آئے گی اور نہ ہی اس سے ان کی بھوک رفع ہوگی، گویا اس خوراک سے ان کے حصے میں صرف چبانے اور نگلنے کی اذیت آئے گی اور بس۔ سو ارشاد فرمایا گیا " وہ گھاس نہ موٹا کرے گی اور نہ بھوک مٹائے گی "۔ یعنی غذ ا کے جو مشہور و معروف اور مقصود فائدے ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی ان کو حاصل نہیں ہوگا، کہ وہ دراصل غذا ہوگی ہی نہیں بلکہ نرا عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔
Ayahs 88:8–9

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

(اور) کتنے ہی چہرے اس دن ہشاش بشاش (اور بارونق) ہوں گے

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

وہ اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے

(6) کامیاب اور فرائز المرام لوگوں کے حال کا ذکرو بیان : سو کامیاب اور فائز المرام لوگوں کے حال اور ان کے انجام کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور کتنے ہی چہرے اس روز شگفتہ ہوں گے " ( اپنی فائز المرامی اور دائمی کامیابی پر) اللھم اجعلنا منھم بمحض منک وکرمک یا ارحم الرحمین۔ بہر کیف اس سے دوسرے گروہ کا حال بیان فرمایا گیا ہے جو کامیاب اور فائز المرام لوگوں کا گروہ ہوگا۔ جو اپنی اس آخری حقیقی اور دائمی کامیابی پر شاداں وفرحاں ہوں گے، ان کی اس بےمثال خوشی کے آثار ان کے چہروں پر مہروں پر رقصاں ہوں گے، اور ان کے چہرے شگفتہ و شاداب ہوں گے، جیسا کہ سورة قیامہ میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، القیامہ 22, 23 پ 29) اللہ نصیب فرمائے آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویا اکرم الاکرمین۔ بہرکیف اس سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز ان کی خوشی ان کے چہروں سے ظاہر ہورہی ہوگی، اور ان کی مسرت و شادمانی کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ اپنی کارگزاری پر خوش ہوں گے "۔ یعنی اپنی اس کامیابی پر جو انہوں نے اپنی دنیاوی زندگی میں اپنے رب کی رضا اور جنت کے حصول کے لیے ایمان و ہدایت کی روشنی میں کی ہوگی، وباللہ التوفیق وھو المیسر لکل عسیر۔ سو ان کو چہروں کی بشاچت ان کے اسی داخل سرور و اطمینان کی عکاس و آئینہ دار ہوگی کہ انہوں نے دنیا کے دار الامتحان میں صحیح راہ کو اپنایا تھا، اور حیات مستعار کی اس فرصت محدود کو جو ان کو قدرت کی طرف سے عطا فرمائی گئی تھی اس کو انہوں نے اس کے صحیح مصرف میں لگایا تھا، اور انہوں نے آخرت کی اپنی اصل اور حقیقی منزل اور اس کے تقاضوں کو ہمیشہ اپنے پیش نظر کھا جس کے نتیجے میں وہ اپنے رب غفور وشکور کی طرف سے ملنے والے اس سدا بہار اور دائمی انعام سے سرفراز ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نصیب فرمائے آمین ثم آمین۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرمادیا گیا کہ ان خوش نصیبوں کے چہروں پر یہ بشاشت اس روز اس وجہ سے نمایاں ہوگی کہ انہوں نے دنیا میں رہتے ہوئے اپنی آخرت کے لیے جو کمائی کی تھی وہ ٹھکانے لگ گئی، اور اس کا حاصل اور صلہ ان کے سامنے آگیا، اور وہ اس بات سے پوری طرح مطمئن ہوں گے کہ ان کے ہر عمل کا وہ پورا پورا بدلہ ان کو مل گیا جس کا وعدہ ان سے ان کے رب نے فرمایا تھا۔ اور ان کے ان انعامات کی تفصیل آگے کی آیات میں آرہی ہے۔ بہرکیف وہ کامیابی اصل حقیقی اور سب سے بڑی کامیابی ہوگی، اللہ پاک نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین، ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین۔
Ayahs 88:10–11

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

وہ ایسی بلند مرتبہ جنت میں ہوں گے

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

جس میں وہ کوئی بےہودہ بات سننے نہ پائیں گے

(7) جنتیوں کے بعض خاص انعامات کا ذکرو بیان : سو جنتیوں کو ملنے والے انعامات کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " وہ ایسی عالی شان اور بلند مرتبہ جنت میں ہوں گے جس میں وہ کوئی لغو اور بیہودہ بات سننے نہیں پائیں گے "۔ وہاں پر طرح طرح کے عظیم الشان چشمے رواں ہوں گے، اونچی اونچی مسندیں سجی ہوں گی، قسما قسم کے ساغر دھرے ہوں گے، عمدہ قسم کے گاؤ تکیے قطار اندر قطار لگے ہوں گے اور ان کے لیے بیش قیمت قالین بچھے ہوں گے، تاکہ وہ جہاں چاہیں بیٹھیں اور جو چاہیں کھائیں پیئیں، اور جس نعمت سے چاہیں شاد کام و لطف اندوز ہوں۔ سبحان اللہ۔ کیسی عظیم الشان اور بےمثل ہے جنت کی یہ نعمت کہ وہاں کے باسیوں کی ہر خواہش پوری ہوگی اور جو چاہیں گے وہ ان کو ملے گا۔ اللھم اجعلنا من اھلھا بمحض منک وکرمک، یا ارحم الرحمین۔ بہر کیف ارشاد فرمایا گیا کہ ان کی ہر نشست گاہ میں قالین اور غالیچے ترتیب سے بچھے ہوں گے، اور ان قالینوں پر تکیے اور غالیچے ہر طرف بکھرے پڑے ہوں گے، تاکہ بیٹھنے والا جہاں چاہے بیٹھے وہ اس کی آسائش کے لیے وہاں موجود ہوں۔ اللہ نصیب فرمائے، آمین ثم آمین۔ " زرابی "، " زربیۃ " کی جمع ہے جس کے معنی تکیے اور غالیچے کے ہوتے ہیں، سو وہاں قالینوں پر تکیے اور غالیچے ہر طرف پھیلے ہوں گے تاکہ بیٹھنے والا جہاں چاہے بیٹھ جائے، اور اس طرح ان کے لیے آسائش اور سہولت کا باعث ہوں گے، آج ہمارے ہاں صوفوں کا رواج ہے لیکن ان پر بھی گدیاں اور تکیے رکھے جاتے ہیں، لیکن عربوں کی مجلسوں میں آج بھی قالینوں پر نیچے بیٹھنے کا دستور و رواج موجود ہے۔ بہرکیف اس سے اہل جنت کو ملنے والی ان نعمتوں کا تذکرہ فرمایا گیا ہے اور وہ بھی ان الفاظ میں جن کے معانی تک انسانی ذہن کی رسائی ممکن ہوسکتی کہ ان غیبی حقائق کے ذکر وبیان اور تقریب الی الاذہان کی یہی صورت ممکن ہوسکتی ہے، لیکن ان نعمتوں کی اصل حقیقت کیا ہے ؟ اس کو اس دنیا میں سمجھنا اور جاننا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوسکتا، ان کی اصل حقیقت وہیں کھلے گی، اللہ نصیب فرمائے اور محض اپنے فضل و کرم سے نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
Ayahs 88:12–17

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں (طرح طرح کے) عظیم الشان چشمے رواں ہوں گے

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

اونچی اونچی مسندیں سجی ہوں گی

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

قسما قسم کے ساغر دھرے ہوں گے

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

عمدہ قسم کے گاؤ تکیے قطار اندر قطار لگے ہوں گے

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور بیش قیمت قالین بچھے ہوں گے

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

تو کیا یہ لوگ (اپنے سامنے چلتے پھرتے ان) اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ انہیں کس طرح پیدا کیا گیا ؟

(8) جانوروں میں غور و فکر کی دعوت : سو جانوروں میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت کے سلسلے میں عربوں کے خاص تعلق والے اور امتیازی شان رکھنے والے جانور اونٹ کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے پیدا کیا گیا ہے ان کو ؟ " اور کیا کیا خصائل اور فوائد قدرت نے ان کے اندر ودیعت فرمائے ہیں ؟ اور کس کس طرح سے انسان ان سے دن رات مستفید و فیضیاب ہوتا ہے ؟ تو کیا یہ لوگ سوچتے نہیں کہ کس طرح قدرت نے اس " عظیم الجثہ " اور " طویل القامت " جانور کو ان کے تابع کر رکھا ہے۔ یہ ان کے سفر و حضر کا ساتھی، اور خدمت گار، وفا شعار اور جاں نثار ساتھی ہے، قدرت نے اس کو کس شکل و شان کا بنایا، کیسی عظیم الشان صفات اور خصوصیات اس کے اندر رکھیں، حضر میں یہ رات دن میں ان کا ساتھی اور سفر میں یہ ان کا بار بردار رفیق، اور صحرا میں ان کا سفینہ ہے۔ ہفتہ ہفتہ بھوک پیاس برداشت کرنے والا صابر خدمت گزار، اس کے سر سے لے کر اس کے پاؤں تک کی ہر چیز ان کے کام آنے والی ہے، آخر اس کو کس نے اس پر حکمت طریقے سے پیدا کر کے انسان کے کام میں لگا دیا۔ سو وہی اللہ وحدہ لا شریک، اور اس نے صرف اونٹ کو ہی نہیں بلکہ ہر جانور کو اسی طرح اور اسی شان کے ساتھ پیدا فرمایا ہے۔ اور وہی معبود برحق ہے، واضح رہے کہ یہاں پر عربوں کے خاص ذوق، اور ان کے لیے مخصوص جغرافیائی حالات کے اعتبار سے اونٹ کا ذکر بطور مثال فرمایا گیا ہے، ورنہ اصل حقیقت کے اعتبار سے ہر جانور کا وجود اسی طرح قدرت کی رحمت و عنایت اور بندوں کی نفع رسانی کے لحاظ سے حضرت حق جل مجدہ کی عنایت کا شاہکار ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ، جل شانہ وعم نوالہ۔
Ayah 88:18

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور (اپنے اوپر تنے ہوئے) اس آسمان کی طرف نگاہ نہیں کرتے کہ اس کو کس طرح اٹھایا گیا ہے ؟

(9) آسمان میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ نگاہ نہیں کرتے آسمان کی طرف کہ کیسے اٹھایا گیا اس کو ؟ " کہ نہ کوئی ستون نظر آتے ہیں نہ کوئی ظاہری ٹیک و سہارا، بلکہ " بغیر عمد ترونھا " کی شان لیے کھڑا ہے۔ نہ اس میں کوئی شکست و ریخت ہوتی ہے اور نہ کسی طرح کی کوئی ٹوٹ پھوٹ " فارجع البصر ھل تری من فطور " اور طرح طرح کے ستاروں سے جگمگا تا قسما قسم کے فوائد و منافع کا امین و پاسدار بنا حیرت انگیز طریقے سے انسانوں کے اوپر تنا ہوا ہے۔ فتبارک اللہ احسن الخالقین۔ تو کیا یہ لوگ اس میں دیکھتے اور سوچتے نہیں کہ یہ کس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ اور عنایت شاملہ کا نتیجہ وثمرہ ہے، وہ کون ہے اور اس کا ہم پر کیا حق ہے ؟ سو وہی ہے اللہ معبود برحق سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور اس کی ان عظیم الشان اور بےحدو حساب نعمتوں کا تقاضا یہ ہے کہ انسان دل و جان سے اس کے ذکر و شکر سے رطب اللسان اور سرشار و شاد کام رہے، اور ہمیشہ اور ہر حال میں اس کے حضور جھکا رہے۔ اللھم فھذہ نواصینا بین یدیک، فخذنا بھا الی ما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال، و فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام، یا من بیدہ ملکوت کل شیء و ھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 88:19

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور (اپنے ارد گرد پیش پھیلے ہوئے) ان پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ان کو جما دیا گیا ؟

(10) پہاڑوں میں غور و فکر کی دعوت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور کیا یہ لوگ نگاہ عبرت نہیں ڈالتے ان پہاڑوں پر کہ کیسے جما دیا گیا ان کو ؟ " اور کرہ ارضی کے لیے ان کو قرار و استقرار کا ذریعہ اور زمین کے لیے " اوتادا " یعنی میخیں بنادیا، فسبحانہ ما اعظم شانہ وما اجل قدرتہ و برھانہ۔ سو نگاہ عبرت کی دعوت دیتے ہوئے ان کو اونٹوں کی خلقت سے اٹھا کر آسمان میں پہنچا دیا گیا کہ اس میں غور و فکر کرو کہ اس عظیم الشان اور بےمثال چھت کو آخر کس نے اس قدر حکمت بھرے طریقے سے ساری مخلوق کے اوپر تان دیا ؟ پھر ان کو آسمان سے اتار کر پہاڑوں تک پہنچایا گیا کہ ان فلک بوس اور دیوہیکل پہاڑوں کو دیکھ کر آخر یہ کس کی قدرت کا کرشمہ اور نتیجہ وثمرہ ہے، پھر پہاڑوں سے اتار کر ان کو زمین میں لایا گیا کہ اپنے پیش پا افتادہ اور زیر پا موجود اس زمین کو دیکھو کہ کس طرح طرح کی عظیم الشان نعمتوں اور گونا گوں کرشموں اور خزانوں سے بھر پور اس عظیم الشان فرش کو تمہارے قدموں تلے کس نے بچھایا ؟ اور اس کے گوشے گوشے میں تمہاری تربیت و پرورش اور بودو باش کے یہ عظیم الشان اور ان گنت سامان کس نے رکھے ؟ اور اس کا تم پر کیا حق ہے ؟ سو وہی ہے اللہ تعالیٰ قادر مطلق جو تم سب کا رب اور معبود برحق ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس تم اسی کی اور صرف اسی کی عبادت و بندگی کرو کہ معبود برحق ہر حال میں وہی وحدہ لا شریک ہے اور عبادت و بندگی کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی وحدہ لا شریک کا حق اور اسی کا اختصاص ہے۔ فلا معبود بحق سواہ ولا نعبد الا ایاہ، سبحانہ و تعالیٰ فلہ الحمد ولہ الشکر جل جلالہ وعم نوالہ۔
Ayah 88:20

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور (اپنے پیش پا افتادہ) اس زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح اس کو بچھا دیا گیا ؟

(11) بچھونہ ارضی میں غور و فکر کی دعوت و ہدایت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا یہ لوگ اس زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح بچھایا گیا اس کو ؟ " اور تمہارے لیئے آرام و راحت کے بےحدو حساب فوائد و منافع اس کے اندر رکھ دیے اور اس نے اس کو زندوں اور مردوں سب کو سمیٹنے والی بنادیا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، المرسلات 25 تا 27 پ 29) سو جس قادر مطلق نے یہ سب کچھ پیدا کردیا اس کے لیے انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کیوں اور کیا مشکل ہوسکتا ہے ؟ بلکہ حق و حقیقت کا تقاضا ہے کہ وہ سب کو دوبارہ پیدا کرے اور ضرور پیدا کرے تاکہ عدل وانصآف کے تقاضے پورے ہوں اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوسکیں کہ شکر گزاروں اور فرمانبرداروں کو ان کے انعام سے نوازا جائے اور سرکشوں کو ان کے کیے کرائے کی سزا ملے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو اس سے ان کی نگاہ عبرت کو پہاڑوں سے اتار کر زمین تک پہنچا دیا گیا، کہ اپنے پاؤں تلے بچھے اس عظیم الشان بچھونا ارضی میں سوچو اور غور کرو کہ اس کو اس قدر پر حکمت اور محیر العقول طریقے سے بچھایا کس نے ؟ اور اس میں طرح طرح کے عظیم الشان خزانے اور یہ اسباب معیشت و معاش رکھے کس نے ؟ اور اس سے تم لوگ سوچو اور غور رکو کہ وہ کتنا قدیر و عزیز، کس قدر رحمان و رحیم اور ایسا فیاض و کریم ہے ؟ سبحانہ وتعالی۔ سو وہی اللہ خالق ومالک اور معبود برحق ہے، اور اسی کے حضور حاضر ہونا ہے تم سب لوگوں کو، اور بہرحال اور یقینا حاضر ہونا ہے اور اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے، سو تم دیکھ لو کہ اپنے رب کے حضور حاضری اور وہاں کے اس یوم حساب کی پیشی کے لیے تم نے کیا تیاری کی ہے ؟ اور اس کے نتیجے میں تم لوگ کس قسم کے انجام کی توقع رکھتے ہو ؟ اور اس کی بخشی ہوئی نعمتوں کا کیا جواب دو گے، سو زمین و آسمان اور پہاڑوں وغیرہ کی اس عبرتوں اور حکمتوں بھری کائنات میں صحیح طریقے سے غور و فکر کے ذریعے انسان کو توحید خداوندی، بعثت و رسالت اور معاد و آخرت کے تینوں بنیادی عقائد کے لیے وقیع دلائل مل جاتے ہیں، بشرطیکہ انسان صحیح طریقے سے غور و فکر کرے۔ وباللہ التوفیق لما یحب ویرید وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayahs 88:21–24

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

سو آپ نصیحت کیے جائیں کہ آپ کا کام تو نصیحت کردینا ہے (اور بس)

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

آپ ان پر کوئی داروغے نہیں ہیں (کہ انہیں منوا کر چھوڑیں)

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

ہاں مگر (اتنی بات ضرور ہے کہ) جو کوئی روگردانی اور کفر ہی کئے جائے گا

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو اس کو اللہ مبتلا کرے گا (اس کے اپنے کئے کی پاداش میں) اس سب سے بڑے (اور ہولناک) عذاب میں

(12) منکرین کے لیے سخت ترین عذاب کی دھمکی، والعیاذ باللہ : سو اس میں منکروں کے لے سب سے بڑے اور انتہائی ہولناک عذاب کی آگہی و تنبیہ اور دھمکی و تہدید ہے، اور وہ عذاب اس قدر بڑا اور اتنا ہولناک اور اس قدر سنگین ہوگا کہ انسان کے لیے از خود اس کا تصور کرنا بھی ممکن نہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس عذاب سے مراد دوزخ کا وہ عذاب ہے جو دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر سخت اور ہولناک عذاب ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ کہ وہ اپنی شدت اور سختی کے اعتبار سے بھی دنیا کے تمام عذابوں سے کہیں بڑھ کر ہوگا اور اپنی مدت اور دوام کے لحاظ سے بھی اس سے کہیں زیادہ سخت ہوگا، اتنا بڑا اور اس قدر سخت کہ اس دنیا میں اس کا تصور کرنا بھی کسی کے لیے ممکن نہیں۔ اور اسی کو دوسرے مقام پر " النار الکبری " سب سے بڑی آگ۔ فرمایا گیا ہے۔ سو یہ عذاب منکروں اور باغیوں و سرکشوں کے لیے مقرر ہے، جس کو انہوں نے بہرحال بھگتنا ہے، سو اس سے ان کو اس دنیا ہی میں آگاہ فرما دیا گیا تاکہ وہ اس سے بچنے کے لیے فکر و کوشش کرسکیں، کیونکہ حیات دنیا اس فرصت کے خاتمے کے بعد پھر اس سے بچنے کی کوئی صورت ممکن نہیں ہوگی۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ پیغمبر کا کام اور ان کی ذمہ داری تنبیہ و تذکیر ہے اور بس۔ آگے جو توفیق والے ہوں گے وہ اس سے فیضیاب اور مستفید و مستنیز ہوں گے جس کے نتیجے میں ان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی نصیب ہوگی، اور جو معاند و بدبخت اور ہٹ دھرم ہوں گے وہ اس سے منہ موڑ کر دائمی خسارے میں مبتلا ہوں گے، اور ان کو عذاب اکبر سب سے بڑے عذاب کا مزہ چکھنا ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین، ویا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شیء وھو یجیر ولا یجار علیہ۔
Ayah 88:25

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بلاشبہ ان سب کو ہماری ہی طرف آنا ہے لوٹ کر

(13) سب کا رجوع اللہ تعالیٰ ہی کی طرف : سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ اور اسلوب حصر و قصر میں ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ان سب نے ہماری ہی طرف آنا ہے لوٹ کر "۔ موت کی آخری ہچکی کے بعد کہ اس سے نہ کسی کے لیے گریز و فرار کی کوئی گنجائش ہے، اور نہ کسی طرح بچ نکلنے کا کوئی طریقہ و امکان۔ پس سخت سخارے اور ہولناک گمراہی میں پڑے ہیں وہ لوگ جو اس حقیقت سے بےفکر و لاپروا اور اس کے منکر ہیں، اور اس انکار و لاپرواہی کے نتیجے میں کوئی کہتا ہے کہ ہم مر مٹ کر یونہی ختم ہوجائیں گے، ہم نے دوبارہ اٹھنا ہی نہیں، جیسا کہ دوسرے مقام پر ایسے لوگوں کے اس قول وقرار کی اس طرح تصریح فرمائی گئی ہے۔ ( آیت، الانعام 29 پ 7) یعنی ان لوگوں کا کہنا ہے کہ زندگی تو بس ہماری یہی دنیاوی زندگی ہے اور بس، اور ہمیں دوبارہ نہیں اٹھایا جائے گا، جبکہ کچھ دوسرے اس غلط فہمی میں پڑے ہیں کہ ان کے شرکاء اور سفارشی ان کا کام بنادیں گے، چناچہ ان کا کہنا تھا " ھولاء شفعاء نا عنداللہ " یعنی یہ ہمارے سفارشی ہیں اللہ کے یہاں، بس یہی ہمارا سب کام بنادیں گے، ہماری ان کے آگے اور ان کے اس کے آگے وغیرہ وغیرہ۔ اور کچھ کا کہنا ہے کہ ہم مرنے کے بعد کسی دوسری جیون میں آجائیں گے وغیرہ وغیرہ۔ سو اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس طرح کے تمام تصورات غلط اور بےبنیاد ہیں، اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ ان لوگوں نے یقینا دوبارہ اٹھنا ہے اور بہرصورت لوٹ کر ہمارے ہی پاس آنا ہے، اور اس طرح آنا ہے کہ کوئی بھی ان کا سفارشی اور حمایتی نہیں ہوگا، جیسا کہ دوسرے مختلف مقامات پر اس کی طرح طرح سے تصریح فرمائی گئی ہے۔ مثلا ایک مقام پر ارشاد ہوتا ہے ( آیت، الانعام 70 پ 7) یعنی قیامت کے اس حادثے نے جو کہ قریب ہی آلگا ہے، اپنے وقت پر بہرحال آکر رہنا ہے اور اس حال میں کہ نہ کسی شخص کے لیے اللہ کے مقابلے میں کوئی حمایتی ہوگا اور نہ کوئی سفارشی جو اس کے کوئی کام آسکے، نیز ایک اور مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، المومن 18 پ 24) یعنی ظالموں کے لیے اس دن نہ کوئی دوست ہوگا نہ کوئی ایسا سفارشی جس کی وہاں بات مانی جائے۔ بہرکیف زیر بحث آیت کریمہ سے واضح فرما دیا گیا کہ اس طرح کے تمام تصورات لایعنی اور بےبنیادی ہیں، اصل حقیقت بہرحال یہی ہے کہ سب نے آخر کار لوٹ کر اللہ تعالیٰ کے پاس جانا ہے اور وہاں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دینا اور اس کا پھل پانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان، وانت العزیز الوھاب، جل وعلا۔
Ayah 88:26

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر بلاشبہ ہمارے ہی ذمے ہے حساب لینا ان سب کا

(14) سو ارشاد فرمایا گیا اور ادوات تاکید کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " بلاشبہ ہمارے ذمے ہے حساب لینا ان سب کا "۔ کہ انہوں نے ہماری بھیجی ہوئی ہدایت اور ہمارے اتارے ہوئے دین حق کی تکذیب کر کے جس جرم کا ارتکاب کیا اور زندگی کو جس بےراہ روی پر گزارا اس کا ٹھیک حساب اور پورا ریکارڈ ہمارے ہی پاس ہے، اور ہمارے ہی پاس ہوسکتا ہے۔ لہذا آپ اے ہمارے رسول ان کی فکر نہ کیجیے، ان سے ہم خود نمٹ لیں گے، اور اچھی طرح سے بھر پور طریقے سے نمٹیں گے آپ ان پر کوئی داروغے نہیں ہیں کہ ان سے منوا کر چھوڑیں اور ان کو راہ حق پر ڈال کر رہیں، آپ کے ذمے تو پیغام حق و ہدایت کو بلا کم وکاست پہنچا دینا ہے، اور بس، آگے حساب لینا ہمارے ذمے ہے۔ ان علیک الا البلاغ وعلینا الحساب۔ سو اس طرح ارشاد ربانی کے ذریعے آنحضرت ﷺ کے لیے اور آپ کے توسط سے آپ کی امت کے ہر داعی حق کے لیے تسلی و تسکین کا سامان ہے، کہ آپ کا کام صرف تبلیغ ہے نہ کہ منوانا۔ پس اس سے زیادہ آپ ان باغیوں اور سرکشوں کی فکر میں نہ پڑیں، اللہ تعالیٰ وقت آنے پر خود ہی ان سب کا حساب کتاب چکا دے گا، اور اس کا فیصلہ بڑا ہی سچا، صحیح اور بےلاگ ہوتا ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور آخرت کا وہ حساب ہر لحاظ سے کامل اور بےلاگ حساب ہوگا، اور چونکہ وہ اس کائنات کے خالق ومالک کی حکمت اور اس کی رحمت و عنایت کا تقاضا ہے اس لیے وہ اپنے وقت پر ضرور اور بہرحال واقع ہو کر رہے گا، جس سے کسی کے لیے کسی مفر کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی، اور اگر ایسا نہ ہو تو یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث و بیکار ہو کر رہ جاتا ہے، جو کہ حضرت خالق حکیم جل جلالہ کی حکمت بےپایاں کے تقاضوں کے خلاف ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس لیے ارشاد فرمایا گیا کہ ہمارے ذمے لازم ہے کہ ہم ان سب کا حساب لیں، اور ہر کسی کو اس کیے کرائے کا پورا پورا بدلہ دیں تاکہ اس طرح حکمتوں بھری اس کائنات کی تخلیق اور اس کے وجود کے مقصد کی تکمیل ہوسکے ورنہ یہ کائنات ایک بازیچہ اطفال اور ایک بےمقصد اور بےحکمت کارخانہ بن کر رہ جائے گی جو اس خالق حکیم کی حکمت بالغہ کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس ہمیشہ اس یوم حساب اور اس کے تقاضوں کو اپنے پیش نظر رکھنا چاہیے۔ اللھم فخذنا بنواصینا الی مافیہ حبک ورضاک بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، یا ذا الجلال والاکرام، یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، وآخر دعوانا ان الحمدللہ رب العالمین۔