88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 88:1

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

آپ کو ایسی چیز کی خبر پہنچی ہے جو چھا جانے والی ہے

1۔ مالک ومسلم وابو داوٗد والنسائی وابن ماجہ نے نعمان بن بشیر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا کہ نبی صلی اللہ علیہ جمعہ کی نماز میں سورة جمعہ کے ساتھ اور کون سی سورة پڑھتے تھے۔ تو انہوں نے فرمایا آیت ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھتے تھے۔ 2۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ الغاشیہ سے مراد ہے قیامت۔ 3۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ہل اتک حدیث الغاشیۃ کیا آپ کے پاس سب پر چھاجانے والی قیامت کا حال پہنچا اس سے مراد ہے قیامت آیت وجوہ یومئذد خاشعۃ عاملۃ ناصبۃ۔ کتنے چہرے اس دن ذلیل و خوار ہوں گے مشقت میں مبتلا ہوں گے اور آگ میں پڑے ہوں گے۔ آیت تسقی من عین اٰنیۃ۔ انہیں ابلتے ہوئے چشمے سے پلایا جائے گا یعنی یہ وہ چشمہ ہے جس کا ابلنا اور کھولنا سخت ہوگا لیس لہم طعام الا من ضریع ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے اور جھاڑی کے نہ ہوگا اس میں ضریع سے مراد ہے شبرق یعنی کانٹے دار بوٹی۔۔ 4۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ہل اتک حدیث الغاشیۃ کیا آپ کو قیامت کی خبر پہنچی ہے آیت وجوہ یومئذ یعنی آگ میں ذلیل ہوں گے۔ آیت عاملۃ ناصبہ محنت کرنے والے تھکنے والے یعنی انہوں نے دنیا میں اللہ کی اطاعت سے تکبر کیا تو اللہ تعلیٰ ان کو مشقت میں مبتلا کرے گا اور ان کو آگ میں ڈال دے گا۔ تسقی من عین اٰنیۃ یعنی یہ اتنا گرم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس اس وقت سے پکا رکھا ہے جب سے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا آیت لیس لہم طعام الا من ضریع اس میں ضریع سے مراد شبرق ہے جو انتہائی تکلیف دہ کھانا ہے اور انتہائی مدمزہ اور پلید اور ناپاک ہوگا۔
Ayah 88:2

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس دن چہرے جھکے ہوئے ہوں گے

5۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ یعنی آخرت میں کتنے چہرے ذلیل و خوار ہوں گے۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وجوہ یومئذ خاشعۃ عاملۃ ناصبہ سے مراد ہے کہ یہود و نصاری ڈرویں گے اور ان کی مشقت ان کو نفع نہیں دے گی۔ آیت تسقی من عین اٰنیۃ یعنی ایسے چشمے سے پلایا جائے گا جو شدت سے کھول رہا ہوگا۔
Ayah 88:3

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

مصیبت جھیلنے والے، دکھ تکلیف اٹھانے والے ہوں گے

کفار کی عبادات فائدہ مند نہیں 7۔ عبدالرزاق وابن المنذر والحاکم نے ابوعمران جونی (رح) سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ ایک راہب کے پاس سے گذرے کچھ دیر ٹھہرے تو راہب کو آواز دی گئی اور اس سے کہا گیا یہ امیر المومنین ہیں۔ پس وہ ظاہر ہوا تو وہ ایک انتہائی تکلیف اور مشقت میں انسان تھا اور اس نے دنیا کو چھوڑ رکھا تھا یعنی وہ کمزور ہوچکا تھا۔ جب عمر ؓ نے اس کو دیکھا تو رونے لگے۔ ان سے کہا گیا کہ یہ تو نصرانی ہے انہوں نے فرمایا میں جانتا ہوں لیکن مجھے اس پر رحم آگیا ہے۔ مجھے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد یاد آگیا آیت عاملۃ ناصبۃ تصلی نارا حامیۃ۔ محنت کرنے والے تھکنے والے دھکتی ہوئی آگ میں گریں گے۔ پھر فرمایا مجھے ترس آیا اس کی تھکاوٹ اور مشقت پر حالانکہ یہ آگ میں ہوگا۔ 8۔ ابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے آیت عاملۃ ناصبہ کے بارے میں روایت کیا کہ وہ دنیا میں گناہوں کے سبب تھکنے والے ہیں۔ ان کو قیامت کے دن آگ میں کھڑا کیا جائے گا الا من ضریع یعنی کھانا کانٹے دار جھاڑ ہوگا۔
Ayah 88:4

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے

9۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت تصلی نارا حامیہ دہکتی آگ میں گریں گے۔ یعنی وہ داخل ہوں گے انتہائی دہکتی آگ میں آیت تسقی من عین اٰنیۃ یعنی ایسے چشمے سے پلایا جائے گا کہ جس کی گرمی انتہادرجہ کی ہوگی لیس لہم طعام الا من ضریع یعنی آگ کے درخت میں سے۔ 10۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت من عین اٰنیۃ کے بارے میں فرمایا کہ اس کا پکنا اور کھولنا اس وقت سے ہے جب سے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کو پیدا فرمایا۔
Ayah 88:5

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

انہوں کھولتے ہوئے چشموں سے پلایا جائے گا

11۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت من عین اٰنیۃ یعنی اس کی حرارت اور گرمی حد کو پہنچی ہوئی ہے اور وہ اس کے پینے کا وقت ہے آیت الا من ضریع یعنی خش کانٹے دا جھاڑ ہے۔ 12۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت من عین اٰنیہ سے مراد ہے کہ اس کی گرمی انتہا پر ہوگی کہ اس کے اوپر کوئی اور گرمی اور حرارت نہیں ہوگی۔ 13۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت اٰنیۃ سے مراد ہے حاضرۃ یعنی موجود۔
Ayahs 88:6–8

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

ان کے لیے خاردار جھاڑ کے سوا کچھ کھانا نہ ہوگا۔

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

وہ نہ فربہ کرے گا، نہ بھوک دور کریگا

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

اس دن بہت سے چہرے بارونق ہوں گے

14۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لیس لہم طعام الا من ضریع ان کے لیے کوئی کھانا سوائے کانٹے دار جھاڑی کے نہ ہوگا یعنی کانٹے دار اور خشک۔ 15۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ قریش کی لغت میں ضریع کو موسم بہار میں شبرق کہتے ہیں جس کا معنی ہے کانٹے دار جھاڑ اور گرمی کی موسم میں ضریع کہتے ہیں۔ 16۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سے مراد ہے شبرق جو کانٹے دار بوٹی جو زمین پر بچھی ہوتی ہے۔ 17۔ ابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابوالجوزاء (رح) سے روایت کیا کہ ضریع سلم کو کہتے ہیں اور یہ کانٹے ہوتے ہیں اور وہ کیسے موٹا کرے گا جس کا کھاناکانٹے ہوں۔ 18۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا آیت الا من ضریع سے مراد ہے وہ کھانا ہوگا پتھروں میں سے۔ 19۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت الا من ضریع سے مراد ہے زقوم کے درخت۔ 20۔ ابن مردویہ نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ والوں پر بھوک مسلط کردی جائے گی۔ یہاں تک کہ وہ اس عذاب کے مشابہ ہوجائے گی جس میں وہ مبتلا ہوں گے وہ کھانے کی فریاد کریں گے تو ان کو وہ کھانا دیا جائے گا جو ضریع ہے جس کے بارے میں فرمایا آیت من ضریع لا یسمن ولا یغنی من جوع کانٹے دا جھاڑی میں سے جو نہ فربہ کرتی ہے اور نہ بھوک کو دور کرتی ہے۔ اہل جہنم کا کھانا بہت بد مزہ ہوگا 21۔ ابن مردویہ نے سند واہ کے ساتھ ابن عباس ؓ سے آیت لیس لہم طعام الا من ضریع کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : دوزخ میں کانٹے کی شکل کی ایک چیز ہوگی جو ایلوا سے زیادہ کڑوی اور بدبو دار لاش سے زیادہ بدبو دار ہوگی اور آگ سے زیادہ گرم ہوگی اس کا نام اللہ تعالیٰ نے ضریع رکھا ہے جب دوزخی اس کو کھائے گا تو پیٹ میں داخل نہیں ہوگی اور نہ ہی منہ کی طرف اوپر آئے گی۔ اور درمیان میں ہی باقی رہ جائے گی اور نہ بھوک دور کرے گی۔
Ayahs 88:9–10

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنی کوشش کی وجہ سے خوش ہوں گے

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

بہشت بریں میں ہوں گے

22۔ عبد بن حمید نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے سورة الغاشیہ میں پڑھا متکئین فیہا یعنی اس دن کتنے ہی چہرے بارونق ہوں گے۔ 23۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے رویت کیا کہ آیت لسعیہا راضیۃ اپنی کوشش سے خوش ہوں گے یعنی اپنے عمل سے خوش ہوں گے۔
Ayahs 88:11–12

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں بہتے ہوئے چشمے ہوں گے

24۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا آیت لا تسمع فیہا تاء کے نصب کے ساتھ اور آیت لاغیۃ کو منصوب اور تنوین کے ساتھ پڑھا۔ 25۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا لاتسمع فیہا لاغیۃ وہاں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔ یعنی وہ کوئی اذیت ناک اور باطل گفتگو نہیں سنیں گے۔ آیت فیہا سرر مرفوعۃ اس میں اونچے تخت ہوں گے۔ یعنی بعض کے اوپر بعض ونمار ق اور گاؤ تکیے یعنی مجلسیں سجی ہوئی ہوں گی۔ 26۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتسمع فیہا لاغیۃ یعنی کوئی گالی نہ سنوگے۔ 27۔ عبد بن حمید نے اعمش (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتسمع فیہا لاغیہ یعنی تکلیف دینے والی کوئی بات نہ سنو گے۔ 28۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاتسمع فیہا لاغیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ تو اس میں نہ جھوٹ اور نہ گناہ کی بات کو سنے گا۔ ونما رق سے مراد ہے تکیے مبثوثہ یعنی بچھے ہوئے۔
Ayahs 88:13–14

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہوں گے

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور رکھے ہوئے آب خورے ہوں گے

29۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت فیہا سرر مرفوعۃ اس میں اونچے تخت ہوں گے یعنی اونچے اونچے پلنگ ہوں گے۔
Ayah 88:15

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور برابر گدے لگے ہوئے ہوں گے

30۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت ہے۔ ونمارق سے مراد ہے گاؤ تکیے وزابی اور مخملی فرش یعنی بچھونے۔ 31۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ونمارق یعنی تکیے اور تکیے لگانے کی جگہیں۔
Ayah 88:16

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور قالین پھیلے ہوئے پڑے ہوں گے

32۔ عبد بن حمید نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وزرابی یعنی بچھونے۔ 33۔ عبدبن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وزرابی مبثوثہ مخملی فرشت بچھے ہوئے۔ یعنی بچھونے جو ایک دوسرے کے اوپر بچھے ہوں گے۔ 34۔ ابن الانباری نے المصاحف میں عمار بن محمد (رح) سے روایت کیا کہ میں نے منصور بن معتمر (رح) کے پیچھے نماز پڑھی۔ انہوں نے نماز میں آیت ہل اتک حدیث الغاشیۃ پڑھی اور اس میں وزرابی مبثوثہ بھی پڑھا یعنی اس میں لوگ نرم و گداز بچھونوں پر تکیہ لگائے ہوئے بیٹھے ہوں گے۔ اہل ایمان کو دنیا کی آزمائش پر صبر کرنا چاہیے 35۔ ابن ابی شیبہ نے عبداللہ بن ابی الہذیل (رح) سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) یا ان کے علاوہ دوسرے انبیاء میں سے کسی نے کہا اے میرے رب یہ تیری طرف سے کیسے ہوسکتا ہے کہ تیرے دوست زمین میں ڈرتے ہیں اور قتل کیے جاتے ہیں اور وہ امن پھیلاتے ہیں لیکن ان کو عطا نہیں کیا جاتا ہے اور تیر دشمن جو چاہتے ہیں کھاتے ہیں اور پیتے ہیں جو چاہتے اور اسی طرح کی اور چیزیں بھی ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے کو جنت کی طرف لے جاؤ اور وہ وہاں ایسی نعمتون کو دیکھے گا جو کبھی اس طرح کی چیز نہ دیکھی ہوں گی آبخورے قرینے سے رکھے ہوں گے اور گاؤ تکیے قطار میں لگے ہوں گے۔ اور قیمتی بچھونے بچھے ہوئے ہوں گے اور موٹی موٹی آنکھوں والی حوروں اور پھلوں مییوں اور ان خادموں کی طرف دیکھے گا گویا کہ وہ چھپائے ہوئے موتی ہیں پھر فرمایا میرے دوستوں کو جو مشقت دنیا میں پہنچی اس نے انہیں کوئی نقصان نہ دیا جبکہ ان کا انجام یہ ہے۔ پھر فرمایا میرے اس بندے کو لے جاؤ تو وہ اس کو دوزخ کی طرف لے جائے گا تو وہاں سے بلی کی طرف کا ایک جانور نکلا تو وہ بندہ بیہوش ہو کر گرپڑا پھر اس کو افاقہ ہوا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے دشمن کو اس نے کیا نفع دیا ہے۔ جو کچھ میں نے ان کو دنیا میں عطا کیا جبکہ ان کا انجام اور ٹھکانہ یہ ہے تو اس نے جواب میں عرض کیا کوئی شے نہیں۔ اہل ایمان کو دنیا کی ہر تکلیف پر اجر ملتا ہے 36۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انبیاء میں سے ایک نبی نے عرض کیا اے اللہ ! ایک بندہ تیرے بندوں میں سے تیری عبادت کرتا ہے اور تیری اطاعت کرتا ہے اور تیری ناراضگی سے بچتا ہے تو اس سے دنیا کو دور رکھتا ہے اور اسے طرح طرح کی آزمائشوں میں مبتلا کردیتا ہے اور ایک وہ بندہ جو تیرے سوا غیر کی عبادت کرتا ہے اور تیری نافرمانیاں کرتا ہے۔ تو اس کو دنیا قریب کردیتا ہے اور اس سے آزمائشوں کو دور ہٹا دیتا ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف وحی بھیجی کہ بندے اور شہر میرے ہیں۔ ہر چیز میرے حمد کے ساتھ تسبیح بیان کرتی ہے لیکن میرے مومن بندے کے کچھ گناہ ہوتے ہیں تو میں اس کو آزمائشوں اور مصیبتوں میں مبتلا کردیتا ہوں اور اس سے دنیا کو دور رکھتا ہوں تو وہ اس کے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور میں اس کا بدلہ دوں گا جب وہ مجھ سے ملاقات کرے گا۔ لیکن کافر بندہ اس کی کچھ نیکیاں ہوتی ہیں تو میں اس سے آزمائشوں اور مصیبتوں کو دور کردیتا ہوں اور اس کو دنیا وافر مقدرا میں دیتا ہوں تو یہ اس کی نیکیوں کا بدلہ ہوجاتا ہے اور میں آخرت میں اس کے گناہوں کی سزا اس وقت دوں گا۔ جب وہ مجھ سے ملاقات کرے گا۔ واللہ اعلم۔
Ayahs 88:17–21

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

کیا وہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کس طرح پیدا کیے گئے

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کی طرف کہ وہ کیسے بلند کیا گیا

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی طرف کہ وہ کیسے کھڑے کیے گئے

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کی طرف کہ وہ کس طرح بچھائی گئی

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

سو آپ نصیحت کی جیے آپ صرف نصحیت کرنے والے ہیں

37۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے ان نعمتوں کا بیان فرمایا جو جنت میں ہیں تو اس سے گمراہ لوگوں نے تعجب کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری آیت افلا ینظرون الی الابل کیف خلقت۔ پھر کیا وہ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ہیں۔ اور اونٹ عرب لوگوں کے عیش میں سے عیش تھا اور ان کے مال و اسباب میں سے ایک مال تھا فرمایا۔ اور آیت والی السماء کیف رفعت اور آسمان کی طرف کو کیسے بلند کیے گئے۔ آیت والی الجبال کیف نصبت اور پہاڑوں کی طرف کہ کیسے کھڑے کیے گئے۔ کہ تم پہاڑوں کی چوٹیوں کی طرف اپنے عام دنوں میں چڑھتے ہو۔ اور جب تو اس کی بلندی کی طرف پہنچتا ہے تو وہاں بہتے ہوئے چشموں کی طرف اور لٹکے ہوئے پھلوں کی طرف دیکھتا ہے جن کو ہاتھوں نے نہیں گاڑا۔ اور لوگوں نے ان پر کام نہیں کیا۔ یہ اللہ کی طرف سے ایک نعمت ہے ایک مدت تک آیت والی الارض کیف سطحت کیا یہ لوگ نہیں دیکھتے زمین کی طرف کہ کیسی بچھائی یعنی اسے کیسے بچھایا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرما رہے ہیں جس ذات نے ان کو پیدا کیا وہ اس بات پر قادر ہے کہ وہ جنت میں ہر وہ چیز پیدا کردے جس کا وہ ارادہ کرے۔ 38۔ عبد بن حمید نے شریح (رح) سے روایت کیا کہ وہ اپنے ساتھیوں سے کہا کرتے تھے۔ ہمارے ساتھ بازار کی طرف نکلو سو ہم دیکھیں گے آیت الی الابل کیف خلقت اونٹوں کی طرف کہ کس طرح پیدا کیے گئے۔ 39۔ ابن ابی شیبہ واحمد وعبد بن حمید ومسلم والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن جریر والحاکم وابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے لڑوں یہاں تک کہ وہ لا الہ الا اللہ کہیں جب وہ اس کو کہہ لیں گے۔ تو وہ مجھ سے اپنے خونوں اور اپنے مالوں کو بچا لیں گے سوائے اس کے حق کے اور ان کا حساب اللہ پر ہوگا۔ پھر یہ آیت پڑھی آیت فذکر انما انت مذکر لست علیہم بمصیطر۔ پس آپ نصیحت کیجیے۔ بیشک آپ تو نصیحت کرنے والے ہیں آپ ان پر کوئی داروغہ نہیں ہیں۔
Ayahs 88:22–24

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

آپ ان پر مسلط نہیں کیے گئے

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

مگر جو روگردانی کرے اور کفر کرے

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو اللہ اسے بڑا عذاب دے گا

40۔ الحاکم وصححہ نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں پڑھا آیت لست علیہم بمصیطر صاد کے ساتھ۔ 41۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لست علیم بمصیطر یعنی آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں پس آپ ان سے درگذر کیجیے۔ 42۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت لست علیہم بمصیطر یعنی میرے بندوں کو میرے سپرد کردیجیے۔ 44۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت بمصیطر سے مراد ہے مسلط۔ یعنی کوئی چیز مسلط کرنے والا۔ 45۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت لست علیم بمصیطر سے مراد ہے جبار یعنی آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں۔ آیت الا من تولی وکفر مگر جس نے منہ موڑا اور انکار کیا تو اس کا حساب اللہ پر ہے۔ 46۔ ابو داوٗد نے اپنے ناسخ میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت لست علیہم بمصیطر اس کو منسوخ کردیا اور فرمایا فاقتلوا المشرکین حیث وجدتموہم (التوبہ آیت 5) یعنی مشرکوں سے لو جہاں تم ان کو پاؤ۔
Ayahs 88:25–26

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بلاشبہ ہماری طرف اس کا لوٹنا ہے

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر بلاشبہ ان کا حساب لینا ہے

47۔ ابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان الینا ایابہم بیشک ہماری طرف ہی ان کو لوٹ کر آنا ہے یعنی ان کا لوٹنا۔ 48۔ ابن ابی حاتم نے عطا (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 49۔ الطستی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے پوچھا کہ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ان الینا ایابہم کے بارے میں بتائیے فرمایا الایاب سے مراد ہے لوٹنا پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں۔ فرمایا ہاں کیا تو نے عبید بن الابرص کو یہ کہتے ہوئے نہیں سنا۔ وکل ذی غیبۃ یودب و غائب الموت لا یؤوب ترجمہ : اور ہر غائب ہونے والا واپس آتا ہے اور موت کے سبب غائب ہونے والا واپس نہیں لوٹتا ہے اور ایک دوسری شاعر نے کہا فالقت عصاہا واستقر بہا النوی کماقر عینا بالایاب المسافر ترجمہ : اس نے اپنے عصا کو نیچے ڈال دیا اور اس کے ساتھ اقامت اختیار کرلی جیسے مسافر کے لوٹ آنے سے آنکھیں ٹھنڈی ہوگئی۔ 50۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الینا ایابہم سے مراد ہے بیشک وہ ہماری طرف ہی لوٹنے والے ہیں۔ 51۔ عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ان الینا ایابہم۔ ثم ان علینا حسابہم۔ بے شک ہماری طرف ہی ان کو لوٹ کر آنا ہے پھر ہمارے ذمہ ہی ان کا حساب لینا ہے یعنی اللہ کی طرف ہی لوٹ کر جانا ہے اور اللہ کے ذمہ ہی ان کا حساب ہے