Ayah 88:1یہاں سے سورة الغاشیہ شروع ہو رہی ہے۔ الغاشیہ سے قیامت مراد ہے جو غشہ غشی سے اسم فاعل کا صیغہ ہے۔ قرآن مجید میں قیامت کو بہت سے ناموں سے موسوم فرمایا ہے جن میں ایک نام الغاشیہ بھی ہے، اس کا معنی ہے ” ڈھانک دینے والی “ صاحب روح المعانی لکھتے ہیں کہ قیامت کو الغاشیہ اس لیے فرمایا کہ وہ لوگوں پر اپنی سختیوں کے ساتھ چھا جائے گی اور اس کے دل ہلا دینے والے احوال و اھوال (یعنی خوف زدہ کردینے والے حالات ہر طرف سے گھیر لیں گے) ۔ ﴿ هَلْ اَتٰىكَ حَدِيْثُ الْغَاشِيَةِؕ001﴾ میں جو لفظ ھَلْ ہے اس کے بارے میں بعض حضرات نے فرمایا کہ قد کے معنی میں ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے پاس قیامت کی خبر آچکی ہے اور بعض حضرات نے فرمایا کہ ھل اپنے معروف معنی میں ہے یعنی استفہام کے لیے لایا گیا ہے اور یہ استفہام تشویش کے لیے ہے پہلے استفہام سے شوق دلا دیا تاکہ سننے والا آئندہ بیان ہونے والے مضامین کو دھیان سے سنے پھر وہاں کے احوال بیان فرمائے ہیں۔
Ayah 88:2﴿ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌۙ002﴾ (اس دن چہرے جھکے ہوئے ہوں گے) ۔ ﴿ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ003﴾ (مصیبت جھیلنے والے دکھ تکلیف اٹھانے والے ہوں گے) ۔ ﴿ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةًۙ004﴾ (جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے) ۔
Ayah 88:3﴿عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ﴾ (بہت سے چہرے مصیبت جھیلنے والے دکھ تکلیف اٹھانے والے ہوں گے) صاحب روح المعانی نے حضرت ابن عباس ؓ اور حضرت حسن ؓ وغیرہما سے نقل کیا ہے کہ اس سے قیامت کے دن کے سلاسل و اغلال یعنی زنجیروں اور بیڑیوں کو لے کر چلنا اور دوزخ کے پہاڑوں پر چڑھنا اور اترنا اور اس کے اثر سے خستہ ہونا مراد ہے اور حضرت عکرمہ ؓ سے اس کا یہ معنی نقل کیا ہے کہ بہت سے لوگ دنیا میں عمل کرتے ہیں (دنیاوی اعمال بھی اور عبادت کے لائن کی ریاضتیں بھی کرتے ہیں اور اس میں تکلیفیں اٹھاتے ہیں لیکن چونکہ اللہ کی بھیجی ہوئی ہدایت پر نہیں اس لیے یہ سب کچھ ضائع ہوگا اور کفر پر موت آنے کی وجہ سے آخرت میں عذاب میں پڑیں گے اور وہاں کی بہت بڑی تکلیف اٹھائیں گے) ۔
Ayah 88:4﴿ تَصْلٰى نَارًا حَامِيَةًۙ004﴾ (جلتی ہوئی آگ میں داخل ہوں گے) ۔ لفظ حامیة کے بارے میں لکھتے ہیں کہ اس کا معنی ہے ” انتہائی گرم “ جو حمیت النار سے ماخوذ ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمہاری یہ آگ (جس کو تم جلاتے ہو) دوزخ کی آگ کا سترھواں حصہ ہے۔ صحابہ نے عرض کیا (جلانے کو تو) یہی بہت ہے، آپ نے فرمایا (وہاں اس کے باوجود) دنیا کی آگ سے دوزخ کی آگ گرمی میں 69 درجہ بڑھی ہوئی ہے۔
Ayah 88:5﴿ تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍؕ005﴾ (انہیں کھولتے ہوئے چشموں سے پلایا جائے گا) ۔ ان آیات میں نافرمانوں کے احوال بیان فرمائے ہیں جو وہاں پیش آئیں گے۔
اول تو یہ فرمایا کہ بہت سے چہرے جھکے ہوئے ہوں گے۔ دنیا میں جو ان سے اللہ تعالیٰ کے سامنے جھکنے کو اور اس کی مخلوق کے ساتھ تواضع سے پیش آنے کو کہا جاتا تھا تو تکبر کرتے تھے اور ذرا سا جھکاؤ بھی انہیں گوارا نہ تھا۔ قیامت کے دن انہیں ذلت اٹھانی پڑے گی۔
سورة القلم میں فرمایا ﴿خَاشِعَةً اَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ﴾ ان کی آنکھیں جھکی ہوئی ہوں گی ان پر ذلت چھائی ہوگی) ۔ ﴿وَ قَدْ كَانُوْا يُدْعَوْنَ اِلَى السُّجُوْدِ وَ هُمْ سٰلِمُوْنَ 0043﴾ (اور یہ لوگ سجدہ کی طرف بلائے جاتے تھے اس حال میں کہ وہ صحیح سالم تھے) نافرمانوں کی مزید بدحالی بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا۔
تُسْقٰى مِنْ عَيْنٍ اٰنِيَةٍؕ005﴾ (انہیں کھولتے ہوئے چشموں سے پلایا جائے گا) ۔
لفظ آنیہ انا یانی سے مشتق ہے جو خوب زیادہ گرم ہونے پر دلالت کرتا ہے۔ سورة الرحٰمن میں فرمایا ہے ﴿ يَطُوْفُوْنَ بَيْنَهَا وَ بَيْنَ حَمِيْمٍ اٰنٍۚ0044﴾ (وہ لوگ دوزخ کے اور گرم کھولتے ہوئے پانی کے درمیان دورہ کرتے ہوں گے) ۔
Ayah 88:6﴿لَيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِيْعٍۙ006﴾ (ان کے لیے ضریع کے سوا کوئی کھانا نہیں ہوگا) ۔
گزشتہ آیت میں ان کے پینے کی چیز بتائی اور اس آیت میں ان کا کھانا بتایا۔ لفظ ضریع کا ترجمہ خاردار جھاڑ کیا گیا ہے۔
صاحب مرقاۃ لکھتے ہیں : ” ضریع “ حجاز میں ایک کاٹنے دار درخت کا نام ہے، جس کی خباثت کی وجہ سے جانور بھی پاس نہیں پھٹکتے۔ اس کو کھالے تو مرجائیں۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے : الضریع شی فی النار شبہ الشوک امر من الصبرو انتن من الجیفة واشد حرًا من النار۔ (معالم التنزیل) یعنی ضریع دوزخ میں ایک ایسی چیز ہوگی جو کانٹوں سے مشابہ ہوگی ایلوے سے زیادہ کڑوی اور مردار سے زیادہ بدبودار اور آگ سے زیادہ گرم ہوگی۔
Ayah 88:7﴿لَّا يُسْمِنُ وَ لَا يُغْنِيْ مِنْ جُوْعٍؕ007﴾ یہ ضریع نہ موٹا کرے گا اور نہ بھوک دفع کرے گا۔
حضرت ابو الدرداء ؓ رسول اللہ ﷺ سے روایت فرماتے ہیں کہ آپ نے فرمایا دوزخیوں کو (اتنی زبردست) بھوگ لگا دی جائے گی جو اکیلی ہی اس عذاب کے برابر ہوگی جو بھوک کے علاوہ ہوگا، لہٰذا وہ کھانے کے لیے فریاد کریں گے۔ اس پر ان کو ضریع کا کھانا دیا جائے گا جو نہ موٹا کرے گا نہ بھوک دفع کرے گا پھر دوبارہ کھانا طلب کریں گے تو ان کو ﴿ طَعَامًا ذَا غُصَّةٍ ﴾ (گلے میں اٹکنے والا کھانا) دیا جائے گا جو گلوں میں اٹک جائے گا، اس کے اتارنے کے لیے تدبیریں سوچیں گے تو یاد کریں گے کہ دنیا میں پینے کی چیزوں سے گلے کی اٹکی ہوئی چیزیں اتارا کرتے تھے، لہٰذا پینے کی چیز طلب کریں گے، چناچہ کھولتا ہوا پانی لوہے کی سنڈاسیوں کے ذریعہ ان کے سامنے کردیا جائے گا، وہ سنڈاسیاں جب ان کے قریب ہوں گے تو چہروں کو بھون ڈالیں گی، پھر جب پانی پیٹوں میں پہنچے گا تو پیٹ کے اندر کی چیزوں یعنی آنتوں وغیرہ کے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالے گا۔ (الحدیث)
Ayah 88:8اہل کفر کے بعض عذابوں کا تذکرہ فرمانے کے بعد اہل ایمان کی نعمتوں کا تذکرہ فرمایا۔
﴿وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌۙ008﴾ (اس دن بہت سے چہرے بارونق ہوں گے) ۔
یعنی خوب خوش و خرم ہوں گے۔ اپنی عمدہ حالت اور نعمتوں کی خوبی اور فراوانی کی وجہ سے ان کے چہروں میں روشنی کی وجہ سے چمک اور دمک دیکھنے میں آرہی ہوگی، جیسے سورة تطفیف میں فرمایا ہے : ﴿تَعْرِفُ فِيْ وُجُوْهِهِمْ نَضْرَةَ النَّعِيْمِۚ0024﴾ (اے مخاطب ! تو ان کے چہروں میں نعمتوں کی ترو تازگی کو پہچان لے گا) ۔
Ayah 88:9﴿لِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌۙ009﴾ اپنی کوشش کی وجہ سے خوش ہوں گے یعنی دنیا میں جو انہوں نے اعمال صالحہ والی زندگی گزاری اور احکام الٰہیہ پر عمل کرنے کے سلسلہ میں جو محنت اور کوشش کی ان کی وجہ سے خوش ہوں گے کیونکہ دنیا میں جو اچھے اعمال کیے تھے وہ انہیں وہاں کی نعمتیں ملنے کا سبب بنیں گے۔
Ayah 88:10﴿فِيْ جَنَّةٍ عَالِيَةٍۙ0010﴾ بہشت بریں میں ہوں گے۔
وہ جنت ارتفاع مکانی کے اعتبار سے بھی بلند ہوں گی اور نعمتوں کے اعتبار سے بھی۔
Ayah 88:11﴿ لَّا تَسْمَعُ فِيْهَا لَاغِيَةًؕ0011﴾ اس میں کوئی لغو بات نہ سنیں گے۔ کیونکہ جنت ایسی جگہ ہے جہاں کسی قسم کی بھی ناگواری پیش نہ آئے گی۔ نہ آنکھیں ایسی چیز دیکھیں گی جس کا دیکھنا ناگوار ہو اور نہ کانوں میں ایسی چیز پڑے گی جس کا سننا گوارا نہ ہو، وہاں نہ چیخ نہ پکار، نہ لغو بات نہ فضول کلام، نہ کوئی گناہ کی بات، ہر طرح سے خیر ہی خیر اور آرام ہی آرام ہوگا۔ سورة الواقعہ میں فرمایا : ﴿لَا يَسْمَعُوْنَ فِيْهَا لَغْوًا وَّ لَا تَاْثِيْمًاۙ0025 اِلَّا قِيْلًا سَلٰمًا سَلٰمًا 0026﴾ (نہ اس میں کوئی لغو بات سنیں گے اور نہ کوئی گناہ، بس سلام ہی سلام سنیں گے) ۔
Ayah 88:12فِيْهَا عَيْنٌ جَارِيَةٌۘ0012﴾ اس بہشت میں چشمے جاری ہوں گے۔
حمول علی الجنس لان فی الجنة عیون کثیرة كما قال تعالیٰ : ﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍؕ0045﴾ وفی سورة الذاریات ﴿اِنَّ الْمُتَّقِيْنَ فِيْ جَنّٰتٍ وَّ عُيُوْنٍ ﴾
Ayahs 88:13–16ن چشموں سے پئیں گے بھی جیسا کہ سورة الدہر میں اور سورة التطفیف میں گزر چکا اور ان کو دیکھنے سے بھی فرحت ہوگی۔ اس کے بعد اہل جنت کی دوسری نعمتوں کا تذکرہ فرمایا ﴿ فِيْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ0013﴾ اس میں بلند کیے ہوئے تخت ہوں گے۔ ﴿وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ0014﴾ اور رکھے ہوئے آب خورے ہوں گے۔ ﴿وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ0015﴾ (اور قالین پھیلے ہوئے پڑے ہوں گے) ۔ تختوں کا اور آب خوروں کا اور جام کا ذکر سورة الواقعہ میں بھی گزر چکا ہے۔ سورة الدہر میں اکواب یعنی آب خوروں کے بارے میں یہ بھی فرمایا کہ وہ شیشے کے ہوں گے اور شیشے چاندی کے ہوں گے۔
Ayahs 88:17–20ان آیات میں چار چیزوں کی طرف نظر کرنے کی ترغیب دی ہے۔ فرمایا کہ یہ لوگ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح پیدا کیے گئے اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بلند کیے گئے اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ وہ کس طرح کھڑے کیے گئے اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ وہ کیسے بچھائی گئی۔ معالم التنزیل میں لکھا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے اس سورت میں جنت کی نعمتوں کو بیان فرمایا تو اہل کفر کو اس پر تعجب ہوا، انہوں نے اس کو جھٹلا دیا، اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔
اولاً اونٹوں کا ذکر فرمایا، اہل عرب کے سامنے ہر وقت اونٹ رہتے تھے اس سے کام لیتے تھے اور باربرداری اور کھیتی کے کام میں لاتے تھے۔ اس سے بہت سے فوائد اور منافع حاصل ہوتے ہیں، پھر صابر بھی بہت ہے۔ خارمی خوردو بارمی برد (کانٹے دار درخت کھاتا ہے اور بوجھ اٹھاتا ہے) اور ایک ہفتے کا پانی پی لیتا ہے اور فرمانبرداری اس قدر ہے کہ اگر ایک بچہ بھی نکیل پکڑ کر چلے تو اس کے ساتھ چل دیتا ہے پھر اس کی خلقت عجیب ہے۔ اردو کا محاورہ ہے ” اونٹ رے اونٹ تیری کون سی کل سیدھی، یاروں کی پہلے گردن ہی دیکھ لو “۔
خاص طور سے اونٹ ہی کی خلقت کو کیوں بیان فرمایا گیا جبکہ اس سے بڑا جانور (فیل) یعنی ہاتھی بھی موجود ہے اس کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ قرآن کے اولین مخاطبین یعنی عرب کے نزدیک سب سے زیادہ قیمتی مال بھی وہی تھا۔
ثانیاً ارشاد فرمایا : ﴿ وَ اِلَى السَّمَآءِ كَيْفَ رُفِعَتْٙ0018﴾ (اور کیا آسمان کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے بلند کیا گیا) ۔
ثالثاً فرمایا : ﴿ وَ اِلَى الْجِبَالِ كَيْفَ نُصِبَتْٙ0019﴾ (اور کیا پہاڑوں کی طرف نہیں دیکھتے کیسے کھڑے کیے) ۔
رابعاً فرمایا : ﴿ وَ اِلَى الْاَرْضِ كَيْفَ سُطِحَتْٙ0020﴾ (اور کیا نہیں دیکھتے زمین کی طرف کیسے بچھائی گئی) ۔
یہ سب عجائب قدرت ہیں نظروں کے سامنے ہیں جس ذات پاک نے ان چیزوں کو پیدا فرمایا اس کو اس پر بھی قدرت ہے کہ وہ جنت کو اور جنت کی نعمتوں کو پیدا کر دے جس کا اوپر ذکر ہوا۔
صاحب بیان القرآن لکھتے ہیں کہ ان چیزوں کو دیکھ کر قدرت الٰہیہ پر استدلال نہیں کرتے تاکہ اس کا بعث پر قادر ہونا سمجھ لیتے اور تخصیص ان چار چیزوں کی اس لیے ہے کہ عرب کے لوگ اکثر جنگلوں میں چلتے پھرتے رہتے تھے، اس وقت ان کے سامنے اونٹ ہوتے تھے اور اوپر آسمان اور نیچے زمین اور اطراف میں پہاڑ، اس لیے ان علامات میں غور کرنے کے لیے ارشاد فرمایا گیا اور جب کہ یہ لوگ باوجود قیام دلائل کے غور نہیں کرتے۔
زمین کے لیے جو لفظ سطحت فرمایا ہے یہ زمین کے پھیلا ہوا ہونے پر دلالت کرتا ہے اس سے زمین کے کرہ ہونے کی نفی نہیں ہوتی کیونکہ کرہ ہوتے ہوئے بھی اس پر بسنے والی چیزوں کے لیے پھیلا ہوا جسم معلوم ہوتی ہے۔
Ayahs 88:21–26مخاطبین کو قیامت کے وقوع اور اس دن کی پریشانی اور اہل ایمان کی خوبی اور خوشحالی سے اور وہاں کی نعمتوں سے باخبر فرما دیا اور ان چیزوں کے بارے میں جو مخاطبیین کو تعجب تھا اسے دور فرما دیا اس سب کے باوجود اگر کوئی نہیں مانتا اور ایمان نہیں لاتا تو اس کے نتیجے کا وہ خود ذمہ دار ہے۔
رسول اللہ ﷺ کو اپنے مخاطبین کو ہدایت پر لانے کا زیادہ فکر رہتا تھا۔ لوگ آپ کی دعوت کو قبول نہ کرتے تھے تو اس سے آپ رنجیدہ ہوتے تھے، اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا کہ آپ ان کو نصیحت کردیا کریں۔ ان کے قبول نہ کرنے کی وجہ سے رنجیدہ نہ ہوں آپ کا کام اتنا ہی ہے کہ ان کو بتادیں۔ نصیحت فرما دیں، آپ پر مسلط نہیں کیے گئے کہ ان کو منوا کر ہی چھوڑیں، آپ نے بتادیا سمجھا دیا، جو مان لے گا اس کے لیے بہتر ہوگا لیکن جو نہ مانے گا کفر پر ہی جما رہے گا، نصیحت سے روگردانی کرے گا تو اللہ تعالیٰ اسے بڑا عذاب دے گا اسے عذاب دینے پر پوری طرح قدرت ہے، کوئی اس کی گرفت سے بچ نہیں سکتا۔ پھر فرمایا ﴿ اِنَّ اِلَيْنَاۤ اِيَابَهُمْۙ0025﴾ (بلاشبہ ہماری ہی طرف ان کو لوٹنا ہے) ﴿ ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا حِسَابَهُمْ (رح) 0026﴾ (بلاشبہ ہمارے ذمہ ان کا حساب لینا ہے) ۔
وھذا آخر تفسیر سورة الغاشیة اعاذنا اللہ تعالیٰ من اھوال الغاشیة وادخلنا فی الجنة العالیة۔