88. Surah Al-Ghaashiya

الغاشيةThe Overwhelming · 26 ayahsتفسیرِ مظہری

Ayah 88:1

هَلْ اَتٰىكَ حَدِیْثُ الْغَاشِیَةِؕ Open ayah 88:1 in the Quran reader

بھلا تم کو ڈھانپ لینے والی (یعنی قیامت کا) حال معلوم ہوا ہے

ھل اتک . استفہام تقریری ہے ‘ یعنی بیشک آپ کے پاس آگئی۔ حدیث الغاشیہ ایسی ساعت جس کی شدتیں اور ہولناکیاں ہر چیز پر چھا جائیں گی۔ بعض لوگوں نے کہا کہ الغاشیہ سے مراد آگ ہے کیونکہ اللہ نے فرمایا ہے : وَ تَغْشٰی وُجُوْھَھُمُ النَّار لیکن الغاشیہ کے بعد چونکہ صرف کافروں ہی کا ذکر نہیں بلکہ مؤمنوں کی حالت کا بھی بیان ہے ‘ اس لیے الغاشیہ سے ساعت ہی مراد لینی صحیح ہے۔
Ayah 88:2

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ خَاشِعَةٌۙ Open ayah 88:2 in the Quran reader

اس روز بہت سے منہ (والے) ذلیل ہوں گے

وجوہٌ . تنوین کثرت کو ظاہر کر رہی ہے ‘ بہت چہرے یا تنوین مضاف الیہ کے عوض میں ہی ہو یعنی کافروں کے چہرے۔ چہروں سے مراد ہیں ‘ چہروں والے۔ یومئذ . اس روز۔ اس کا تعلق غاشیہ سے ہے یعنی غاشیہ کے دن بہت چہرے۔ خاشعۃ . غم اور حقارت کی وجہ سے ذلیل
Ayah 88:3

عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌۙ Open ayah 88:3 in the Quran reader

سخت محنت کرنے والے تھکے ماندے

عاملۃ ناصبہ . مشقت کرنے والے ‘ تھکے ہوئے یعنی دوزخ میں۔ نصب کا معنی تھکنا۔ حسن بصری (رح) نے فرمایا : انہوں نے دنیا میں اللہ کے لیے کام نہیں کیا ‘ تو دوزخ میں اللہ نے ان سے مشقت لی اور طوق و زنجیر کا بار ڈال کر تھکا دیا۔ قتادہ کا بھی یہی قول ہے اور عوفی کی روایت میں حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول آیا ہے۔ حضرت ابن مسعود ؓ نے فرمایا : وہ دوزخ میں اس طرح دھنس جائے گا جس طرح اونٹ دلدل میں دھنس جاتا ہے۔ کلبی نے کہا : مُنہ کے بل ان کو دوزخ میں کھینچا جائے گا۔ ضحاک ؓ نے کہا دوزخ میں لوہے کے پہاڑ پر چڑھے گا۔ بعض لوگوں نے کہا : عاملۃ اور ناصبۃ سے بت پرست اور کتابی کافروں میں سے وہ تارک الدنیا درویش مراد ہیں جنہوں نے باطل مذہب کے موافق کام کیے اور دکھ اٹھائے۔ اللہ ان کی اس ضلالت آگیں کوشش کو قبول نہیں فرمائے گا اور قیامت کے دن ان کو دوزخ میں جانا ہوگا۔ یہ قول سعید بن جبیر ؓ اور زید ؓ بن اسلم کا ہے اور عطاء ؓ نے حضرت ابن عباس ؓ کی طرف بھی اس قول کی نسبت کی ہے۔ سدی اور عکرمہ نے کہا : دنیا میں گناہوں کی مشقت اٹھانے اور آخرت میں دوزخ کا دکھ اٹھانے والے۔
Ayah 88:4

تَصْلٰى نَارًا حَامِیَةًۙ Open ayah 88:4 in the Quran reader

دہکتی آگ میں داخل ہوں گے

تصلی نارا حامیۃ . وہ گرم آگ میں داخل ہوں گے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : آگ تپائی جائے گی اور اللہ کے دشمنوں پر اس کو بھڑکایا جائے گا۔
Ayah 88:5

تُسْقٰى مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَةٍؕ Open ayah 88:5 in the Quran reader

ایک کھولتے ہوئے چشمے کا ان کو پانی پلایا جائے گا

تسقی من عین انیۃ . ان کو کھولتے ہوئے چشمے کا پانی پلایا جائے گا۔ ابن ابی حاتم نے سدی کا قول نقل کیا ہے کہ : اٰنیہ کا معنی ہے گرمی کی آخری چوٹی پر پہنچا ہوا ‘ جس کے اوپر گرمی کی کوئی ڈگری نہ ہو۔ بیہقی نے بحوالہ حسن بصری (رح) لکھا ہے کہ جس چیز کی گرمی آخری نمبر پر پہنچ جائے اور اس کے اوپر گرمی کا کوئی درجہ نہ ہو تو عرب کہتے ہیں : قَدَ اَنِیَ حَرُّہٗ ۔ اس چیز کی گرمی آخری حد پر پہنچ گئی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے مِنْ عَیْنٍ اٰنِیَۃٍ فرمایا۔ بعض اقوال میں آیا ہے کہ ابتداء آفرنیش سے جہنم اس چشمہ پر دہک رہی ہے اس لیے اس کی گرمی آخری نقطہ پر پہنچی ہوئی ہے۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے : دوزخی ‘ دوزخ میں پیاسے داخل ہوں گے تو ان کو کھولتے ہوئے چشمہ کا پانی پلایا جائے گا۔ ایسا کھولتا ہوا کہ اگر دنیا کے پہاڑوں پر اس کا قطرہ گرجائے تو پہاڑ پگھل جائیں۔
Ayah 88:6

لَیْسَ لَهُمْ طَعَامٌ اِلَّا مِنْ ضَرِیْعٍۙ Open ayah 88:6 in the Quran reader

اور خار دار جھاڑ کے سوا ان کے لیے کوئی کھانا نہیں (ہو گا)

لیس لھم طعام الا من ضریع . ان کی خوراک ضَرِیْع کے علاوہ کچھ نہ ہوگی۔ عبداللہ بن احمد نے باسناد نہشل ( علیہ السلام) ضحاک کی روایت سے حضرت عبداللہ بن عباس کا قول نقل کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ضریع ایک چیز ہے ایلوے سے زیادہ تلخ ‘ مردار سے زیادہ بدبو دار اور آگ سے زیادہ گرم ‘ شوک یعنی کانٹے کی طرح ہوگی۔ جب کسی کو کھلائی جائے گی تو نہ اس کے پیٹ میں اترے گی ‘ نہ منہ تک اٹھ کر آئے گی (بیچ میں پھنس جائے گی) نہ فربہی پیدا کرے گی ‘ نہ بھوک کو دفع کرے گی اور اس کے درمیان اس کو (کھولتا) پانی پلایا جائے گا۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر کا قول بیان کیا ہے کہ ضریع زقوم (تھوہر) ہے۔ ترمذی اور بیہقی نے حضرت ابودرداء کی روایت سے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ دوزخیوں پر ایسی بھوک مسلط کی جائے گی جو اس سارے عذاب کے برابر ہوگی ‘ جس میں وہ مبتلا ہوں گے۔ مجاہد ‘ عکرمہ اور قتادہ نے کہا : ایک خار دار گھاس ہوتی ہے جس کے ریشے زمین میں نہیں ہوتے۔ قریش اس کو شبرق کہتے ہیں لیکن جب اس کی لکڑی سوکھ جاتی ہے تو اس کو ضریع کہتے ہیں۔ یہ بدترین خوراک ہے۔ کلبی نے کہا : جب وہ خشک ہوجاتی ہے تو چوپایہ اس کے قریب بھی نہیں جاتا۔ ابن ابی زید نے کہا : دنیا میں جس خار دار خشک جھاڑ میں پتے نہ ہوں ‘ وہ ضریع ہے اور آخرت کا ضریع آگ کا جھاڑ ہوگا۔ اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ جب مذکورہ بالا آیت نازل ہوئی تو مشرکوں نے کہا : ضریع کھانے سے تو ہمارے اونٹ موٹے ہوتے ہیں کیونکہ اونٹ تروتازہ ضریع کو خصوصاً شبرق کو چرتے ہیں ‘ خشک ہوجانے کے بعد کوئی چیز اس کو نہیں کھاتی ‘ اسی طرح وہاں بھی ہوگا۔ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Ayah 88:7

لَّا یُسْمِنُ وَ لَا یُغْنِیْ مِنْ جُوْعٍؕ Open ayah 88:7 in the Quran reader

جو نہ فربہی لائے اور نہ بھوک میں کچھ کام آئے

لا یمسن ولا یغنی من جوع . نہ وہ فربہی پیدا کرے گا ‘ نہ بھوک کے کام آئے گا اور کھانے کا مقصد انہی دو چیزوں میں سے کوئی چیز ہوتی ہے۔ لیس لھم طعام سے مراد یہ ہے کہ طعام اور طعام جیسی اور کوئی چیز جو فربہی اور بھوک کے لیے مفید ہو۔ دوزخ میں ان کے لیے نہ ہوگی جیسے آیت : وما محمد الا رسول کا مطلب یہ ہے کہ محمد ﷺ نہ کاہن ہیں ‘ نہ شاعر ‘ نہ ساحر ‘ نہ کسی ایسے وصف کے حامل ہیں جو منافی رسول ﷺ ہو۔ آیت میں بعض کافروں کا طعام بیان کیا گیا ہے کہ ان کی خوراک صرف ضریع ہوگی لیکن کچھ دوسرے کافروں کا طعام ضریع بھی ہوگا اور زقوم بھی۔
Ayah 88:8

وُجُوْهٌ یَّوْمَئِذٍ نَّاعِمَةٌۙ Open ayah 88:8 in the Quran reader

اور بہت سے منہ (والے) اس روز شادماں ہوں گے

وجوہ یومئذ . بہت چہرے اس روز (تنوین تکثیر) یا مؤمنوں کے چہرے (تنوین عوض مضاف الیہ) اس جگہ بھی چہروں سے چہروں والے آدمی مراد ہیں۔ ناعمہ . نعومت والے تروتازہ۔
Ayah 88:9

لِّسَعْیِهَا رَاضِیَةٌۙ Open ayah 88:9 in the Quran reader

اپنے اعمال (کی جزا) سے خوش دل

لسعیھا راضیۃ . اللہ کی اطاعت میں دنیا میں رہ کر جو کوششیں انہوں نے کی تھیں ‘ آخرت میں انکا ثواب دیکھ کر خوش ہونگے۔
Ayah 88:10

فِیْ جَنَّةٍ عَالِیَةٍۙ Open ayah 88:10 in the Quran reader

بہشت بریں میں

فی جنۃ عالیہ . عالی مرتبہ اور بلند مقام والی جنت میں۔
Ayah 88:11

لَّا تَسْمَعُ فِیْهَا لَاغِیَةًؕ Open ayah 88:11 in the Quran reader

وہاں کسی طرح کی بکواس نہیں سنیں گے

لا تسمع فیھا لاغیۃ . لَا تَسْمَعُ کی ضمیر وجوہ کی طرف راجع ہے ‘ وہ نہیں سنیں گے۔ یا رسول اللہ ﷺ کو خطاب ہے ‘ آپ ﷺ نہیں سنیں گے یا مخاطب غیر معین ہے۔ اے مخاطب ! تو نہیں سنے گا۔ لاغیۃ بمعنی لغو یعنی بیہودگی ‘ یا لغو بات مراد ہے یعنی بیہودہ بات یا لاغیۃ کا موصوف نفس محذوف ہے یعنی کسی شخص کو بیہودہ بات کرتے تم نہیں سنو گے کیونکہ اہل جنت کا سارا کلام ذکر آمیز اور پر از حکمت ہوگا۔
Ayah 88:12

فِیْهَا عَیْنٌ جَارِیَةٌۘ Open ayah 88:12 in the Quran reader

اس میں چشمے بہ رہے ہوں گے

فیھا عین جاریۃ . عَیْنٌ کی تنوین عظمت کو ظاہر کر رہی ہے یعنی جنت میں عظیم الشان چشمہ رواں ہوگا جس کی روانی پیہم غیر منقطع ہوگی۔ ابن حبان ‘ حاکم ‘ بیہقی اور طبرانی نے حضرت ابوہریرہ کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جنت کے دریا مشک کے پہاڑ سے پھوٹ کر نکلتے ہیں۔
Ayah 88:13

فِیْهَا سُرُرٌ مَّرْفُوْعَةٌۙ Open ayah 88:13 in the Quran reader

وہاں تخت ہوں گے اونچے بچھے ہوئے

فیھا سرر مرفوعۃ . جنت میں اونچے اور عالی مرتبہ تخت ہیں۔ بیہقی نے بسند ابوطلحہ آیت : سرر مصفوفۃ کی تشریح میں حضرت ابن عباس کا قول اور احمد و ترمذی و ابن ماجہ نے بروایت حضرت ابوسعید خدری آیت : و فرش مرفوعۃ کی تفسیر میں رسول اللہ ﷺ کا فرمان نقل کیا ہے کہ دونوں فرشتوں کے درمیان اتنا فرق ہوگا جتنا آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ ترمذی کی نقل کردہ حدیث میں ہے کہ ان کی بلندی پانچ سو برس کی راہ کے برابر ہوگی ‘ جیسی آسمان و زمین کے درمیان ہے۔ ترمذی نے یہ بھی لکھا ہے کہ بعض اہل علم نے اس کی تشریح میں کہا کہ بستروں کا باہمی درجاتی فاصلہ اتنا ہوگا جتنا آسمان اور زمین کے درمیان ہے۔ ابن ابی الدنیا نے حضرت ابو امامہ کا قول وفرش مرفوعۃ کے ذیل میں نقل کیا ہے کہ اگر بالائی فرش زیریں فرش پر گرجائے تو چالیس برس میں بھی نہ پہنچے۔ طبرانی نے حضرت ابو امامہ کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ اگر ان میں سے کوئی فرش اوپر سے انتہائی نشیب کی طرف گرے تو سو سال تک گرتا چلا جائے۔ بغوی (رح) نے لکھا ہے کہ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : ان تختوں کے تختے سونے کے ہوں گے ‘ جن کا حاشیہ زمرد ‘ موتی اور یاقوت سے آراستہ ہوگا ‘ وہ اونچے ہوں گے لیکن جب بیٹھنے والا ان پر بیٹھنا چاہے گا تو نیچے ہوجائیں گے پھر اٹھ جائیں گے اور اپنے مقام پر چلے جائیں گے۔
Ayah 88:14

وَّ اَكْوَابٌ مَّوْضُوْعَةٌۙ Open ayah 88:14 in the Quran reader

اور آبخورے (قرینے سے) رکھے ہوئے

واکواب . اور کوزے اکواب ‘ کو ب کی جمع ہے۔ ہناد نے مجاہد کا قول نقل کیا ہے کہ کو بٌ وہ کوزہ ہے جس میں قبضہ نہ ہو (آبخورہ یا گلاس) ۔ موضوعۃ . چشموں کے کناروں پر پانی پینے کے لیے رکھے ہوئے۔
Ayah 88:15

وَّ نَمَارِقُ مَصْفُوْفَةٌۙ Open ayah 88:15 in the Quran reader

اور گاؤ تکیے قطار کی قطار لگے ہوئے

ونمارق مصفوفۃ . اور پہلو بہ پہلو ترتیب وار چنے ہوئے تکیے کہ جنتی جہاں بیٹھنا چاہیں بیٹھ جائیں اور سہارا لگا لیں۔
Ayah 88:16

وَّ زَرَابِیُّ مَبْثُوْثَةٌؕ Open ayah 88:16 in the Quran reader

اور نفیس مسندیں بچھی ہوئی

و زرابی مبثوثۃ . اور عمدہ لمبے چوڑے بچھے ہوئے فرش نمارق نمرقۃٌ یا غرقۃٌ کی جمع ہے اور زرابی ‘ زربیۃٌ کی
Ayah 88:17

اَفَلَا یَنْظُرُوْنَ اِلَى الْاِبِلِ كَیْفَ خُلِقَتْٙ Open ayah 88:17 in the Quran reader

یہ لوگ اونٹوں کی طرف نہیں دیکھتے کہ کیسے (عجیب) پیدا کیے گئے ہیں

افلا ینظرون . ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ کا قول نقل کیا ہے کہ جب اللہ نے جنت کی چیزوں کے اوصاف بیان فرمائے تو گمراہ لوگوں کو تعجب ہوا اور انہوں نے اس بیان کی تکذیب کی تو اللہ نے آیت : افلا ینظرون نازل فرمائی۔ صاحب مدارک نے لکھا ہے کہ آیت : سرر مرفوعۃ نازل ہوئی اور رسول اللہ ﷺ نے اس کی تفسیر میں فرمایا کہ تختوں کی بلندی اتنی ‘ اتنی ہوگی اور اکواب موضوعۃ کی تشریح میں فرمایا کہ وہ بیشمار ہوں گے ‘ ان کی گنتی کوئی مخلوق نہ کرسکے گی اور تکیوں کا طول اور مسندوں کا عرض حضور ﷺ نے بیان فرمایا تو کافروں نے تکذیب کردی اور کہنے لگے : ان تختوں پر چڑھنا کس طرح ممکن ہوگا اور اتنی کثرت سے کوزے اور اتنے لمبے تکیے اور اتنی چوڑی مسندوں کا فرش کیسے ہوگا ؟ دنیا میں تو ایسا کبھی دیکھنے میں نہیں آیا۔ اس وقت اللہ نے آیت : افلا ینظرون نازل فرمائی۔ اس میں استفہام زجری ہے۔ فاء عطف کے لیے ہے اور معطوف علیہ محذوف ہے۔ یعنی یہ کیا تعجب کرتے ہیں ‘ کیا یہ غافل ہیں ‘ کیا یہ نہیں دیکھتے کہ۔ الی الابل کیف خلقت . اونٹوں کی تخلیق کیسے کی گئی کہ اتنا لمبا جانور جب بیٹھتا ہے تو دو زانو ہوجاتا ہے ‘ پھر کھڑا ہوجاتا ہے۔ اونٹوں کی طرح وہ تخت بھی مؤمنوں کے بیٹھنے کے لیے جھک جائیں گے۔
Ayah 88:18

وَ اِلَى السَّمَآءِ كَیْفَ رُفِعَتْٙ Open ayah 88:18 in the Quran reader

اور آسمان کی طرف کہ کیسا بلند کیا گیا ہے

والی السماء کیف رفعت . اور آسمانوں کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ان کو بلند کیا گیا ہے اور آسمانوں کے تارے بےحساب ہیں۔
Ayah 88:19

وَ اِلَى الْجِبَالِ كَیْفَ نُصِبَتْٙ Open ayah 88:19 in the Quran reader

اور پہاڑوں کی طرف کہ کس طرح کھڑے کیے گئے ہیں

والی الجبال کیف نصبت . اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کس طرح ان کو بپا کیا گیا ہے۔ ایک جگہ اس طرح جمے ہوئے ہیں کہ باوجود اتنے طول کے ادھر ادھر نہیں جھکتے ہیں۔ پس یہی حالت نمارق (کے طول اور اثبات) کی ہوگی۔
Ayah 88:20

وَ اِلَى الْاَرْضِ كَیْفَ سُطِحَتْٙ Open ayah 88:20 in the Quran reader

اور زمین کی طرف کہ کس طرح بچھائی گئی

والی الارض کیف سطحت . اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کس طرح ہمواری کے ساتھ اس کا فرش بچھایا گیا ہے یہی حالت جنت کی مسندوں کی ہوگی۔ ممکن ہے آیات کا مطلب اس طرح ہو کہ انواعِ کائنات کچھ مرکب ہیں (جیسے اونٹ) اور کچھ بسیط ہیں (جیسے آسمان اور زمین اور پہاڑ) اور یہ سب اللہ کی قدرت پر دلالت کر رہی ہیں اور اس سے ثابت ہو رہا ہے کہ اللہ قیامت پر قادر ہے۔ پھر یہ لوگ اس کائنات مرکبہ و بسیطہ پر غور کر کے اللہ کی قدرت علی البعث پر کیوں استدلال نہیں کرتے اور اس سچے مخبر کی شہادت کو کیوں نہیں مانتے ‘ جس کی سچائی معجزات سے ثابت ہے اور کیوں اس کیلئے آخری تیاری نہیں کرتے۔ رہی یہ بات کہ مرکبات میں صرف اونٹ اور بسائط 1 ؂ میں سے تین چیزوں کا ہی ذکر کیا (حالانکہ مرکبات بےانتہاء ہیں اور بسائط اور بھی ہیں) تو اس کی وجہ یہ ہے کہ استدلال میں انہیں چیزوں کو پیش کیا جاتا ہے جو بکثرت سامنے آتی ہوں اور چونکہ خطاب ‘ عرب سے ہے اور عرب ‘ صحراء نشین بدوی تھے جن کے سامنے آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اور اونٹ تھے اور اونٹ ہی ان کا عزیز ترین مال تھا۔ دوسرے جانوروں کے مقابلہ میں اونٹ کا استعمال بکثرت کیا جاتا تھا۔ عربوں کی تمام ضروریات زندگی اونٹ سے وابستہ تھیں۔ اس کا گوشت کھاتے ‘ دودھ پیتے ‘ اس پر سامان لادتے اور خود سوار ہوتے تھے اور دوسرے جانور ان خصوصیات سے بےبہرہ تھے ‘ اس لیے فرمایا کہ اونٹ کی تخلیق پر یہ لوگ غور نہیں کرتے جو اللہ کی قدرت کاملہ اور حسن خلاقیت پر دلالت کر رہی ہے اتنا بڑا جانور لادے جانے کے لیے دو زانو بیٹھ جاتا ہے پھر لد کر بوجھ لے کر اٹھ کھڑا ہوتا ہے اپنے قائد ( یعنی چلانے والے) کا (بےچون و چرا) تابع ہے۔ لمبی گردن ہونے کی وجہ سے درختوں کے پتے بھی کھاتا ہے اور گھاس بھی چر لیتا ہے۔ بیابانوں کو قطع کرنے میں اگر دس روز پانی نہ ملے تو پیاس کو برداشت کرلیتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : ابل سے مراد ابر ہے۔ ابل اس ابر کو کہتے ہیں جو پانی سے بھرا ہوا ہو۔ (قاموس) حضرت ابن عباس کی روایت سے (حدیث قدسی) منقول ہے کہ میرے سوا کوئی ابل کی طرح پیدا کرسکتا ہے اور آسمان کی طرح (کوئی چھت) بلند کرسکتا ہے اور پہاڑوں کی طرح (کسی چیز کو) بپا کرسکتا ہے اور زمین کی طرح (کسی چیز کا فرش) بچھا سکتا ہے ؟ ......... 1 ؂ شاید حضرت مؤلف کی اس جگہ مرکبات سے صرف مرکبات حیوانیہ و نباتیہ اور بسائط سے مراد تمام عناصر اور جمادات اور افلاک و فلکیات ہیں۔ اسی لیے اونٹ کو مرکب اور پہاڑ وغیرہ کو بسیط فرمایا۔ ورنہ فلسفہ کی اصطلاح میں تو پہاڑوں کا شمار بھی مرکبات میں کیا جاتا ہے۔ پتھر ہوں یا دوسرے معدنیات سب کی ترکیب مختلف عناصر سے ہے۔ ہاں ! اگر پہاڑوں کو ارض بسیط کے حکم میں داخل کرلیا جائے تو توضیح مؤلف میں کسی تاویل کی ضرورت نہ ہوگی۔
Ayah 88:21

فَذَكِّرْ١ؕ۫ اِنَّمَاۤ اَنْتَ مُذَكِّرٌؕ Open ayah 88:21 in the Quran reader

تو تم نصیحت کرتے رہو کہ تم نصیحت کرنے والے ہی ہو

فذکر . یعنی دلائل کے ساتھ ان کو نصیحت کرو تاکہ وہ دلائل پر غور کریں اور اہمیت دلائل محسوس کریں۔ انما انت مذکر . یہ نصیحت کرنے کی علّت کا بیان ہے۔ مراد یہ ہے کہ آپ کا ذمہ فقط پہنچا دینے کا ہے اگر وہ غور نہ کریں یا نصیحت پذیر نہ ہوں تو آپ ﷺ اس کے ذمہ دار نہیں۔
Ayah 88:22

لَسْتَ عَلَیْهِمْ بِمُصَۜیْطِرٍۙ Open ayah 88:22 in the Quran reader

تم ان پر داروغہ نہیں ہو

لست علیھم بمصیطر . انما انت مذکر کے مفہوم کی اس آیت میں تاکید ہے یعنی آپ ان (کو نصیحت یاب کرنے) پر مسلط نہیں ‘ ان کے نگراں نہیں۔ یہی مطلب آیت : وما انت علیھم بجبار کا ہے۔
Ayah 88:23

اِلَّا مَنْ تَوَلّٰى وَ كَفَرَۙ Open ayah 88:23 in the Quran reader

ہاں جس نے منہ پھیرا اور نہ مانا

الا من تولی . استثناء منقطع ہے۔ اِلاَّ لٰکِنَّ کے معنی میں ہے لیکن جس نے ایمان سے منہ پھیرا۔ و کفر . اور اللہ کا انکار کیا تو اللہ اس پر قابو رکھتا ہے ‘ حاکم ہے۔
Ayah 88:24

فَیُعَذِّبُهُ اللّٰهُ الْعَذَابَ الْاَكْبَرَؕ Open ayah 88:24 in the Quran reader

تو خدا اس کو بڑا عذاب دے گا

فیعذبہ اللہ العذاب الاکبر . تو اللہ آخرت میں اس کو آگ کا عذاب دے گا۔ بعض نے کہا : استثناء متصل ہے اور دنیا میں جہاد کی اور آخرت میں عذاب جہنم کی وعید ہے۔ یہ بھی ایک تفسیری قول ہے کہ اس آیت کا تعلق فذکرھم سے ہے ‘ یعنی تم ان کو نصیحت کرو مگر ان میں سے جو ایمان سے روگرداں ہو اور کفر کرتا رہے اور تم کو اس کے ایمان کی امید نہ رہے تو وہ مستثنیٰ ہے (اس کو نصیحت کرنا ضروری نہیں) ۔
Ayah 88:25

اِنَّ اِلَیْنَاۤ اِیَابَهُمْۙ Open ayah 88:25 in the Quran reader

بےشک ان کو ہمارے پاس لوٹ کر آنا ہے

ان الینا ایابھم . وعید کو قوی بنانے کے لیے اِلَیْنَآ کو مقدم ذکر کیا یعنی ان کی واپسی ایسے جبار وقہار کی طرف ہی ہوگی جو ان کو سزا دینے پر قادر ہے۔
Ayah 88:26

ثُمَّ اِنَّ عَلَیْنَا حِسَابَهُمْ۠ Open ayah 88:26 in the Quran reader

پھر ہم ہی کو ان سے حساب لینا ہے

ثم ان علینا حسابھم . پھر ہمارے ہی ذمہ ان سے حساب لینا اور حسب درجۂ کفر ان کو عذاب دینا ہے۔ علٰی لزوم پر دلالت کر رہا ہے لیکن اللہ پر کوئی چیز لازم نہیں (یعنی بالذات لازم نہیں۔ ہاں اس نے کافروں کو معاف نہ کرنے کا وعدہ کرلیا ہے اس لیے اس وعدہ کی وجہ سے کافروں کو عذاب دینا اس پر لازم ہے) کیونکہ خدا پر کسی چیز کا وجوب اس کی شان الوہیت کے منافی ہے (لزوم سے عجز لازم آتا ہے اور ہر عجز سے اللہ پاک ہے ‘ اس لیے اس جگہ عَلٰی کا استعمال تاکید وعید کے لیے ہے) ۔ سور ۃ الغاشیہ ختم ہوئی ‘ بعونہٖ و منہٖ تعالیٰ