89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsتفسیر درِ منثور

Ayah 89:1

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

قسم ہے فجر کی

1۔ ابن الضریس والنحاس فی ناسخہ وابن مردویہ والبیہقی نے کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة الفجر مکہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ والفجر مکہ میں نازل ہوئی۔ 3۔ ابن مردویہ نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ سورة والفجر مکہ میں نازل ہوئی۔ 4۔ النسائی نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے معاذ ! تو نے لوگوں کو فتنے میں ڈال دیا۔ تم سبح اسم ربک الاعلی واللیل اذا یغشی والفجر والشمس وضحہا سے کہاں تھے۔ یعنی نماز میں یہ سورتیں پڑھا کرو۔ 5۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ والفجر یہ قسم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے ذریعہ قسم کھائی ہے۔ انسان کے لیے غیر اللہ کی قسم جائز نہیں 6۔ ابن ابی شیبہ نے میمون بن مہران (رح) سے روایت کیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہتے ہیں قسم کھاتے ہیں مگر کسی اور کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ اللہ کے علاوہ کسی اور کی قسم کھائے۔ 7۔ فریابی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ والفجر سے مراد ہے دن کا پھوٹنا۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ والفجر سے مراد ہے صبح۔ 9۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ والفجر سے مراد ہے فجر کا طلوع ہونا جمعہ کے دن۔ 10۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ والفجر سے مراد ہے قربانی کے دن کی فجر۔ اور ہر فجر مراد نہیں ہے۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 12۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ والفجر سے مراد ہے فجر کی نماز۔ 13۔ سعید بن منصور والبیہقی فی الشعب وابن عساکر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ والفجر سے مراد ہے ماہ محرم میں سال کی پہلی فجر۔ 14۔ ابن ابی شیبہ ومسلم وابوداوٗ والترمذی والنسائی وابن ماجہ والبیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا رمضان کے روزوں کے بعد افضل ترین روزے ماہ محرم کے ہیں۔ اور فرض نماز کے بعد افضل نماز رات کی نماز ہے۔ 15۔ ابن ابی شیبہ والبیہقی نے نعمان (رح) سے روایت کیا کہ حضرت علی ؓ سے کے پاس ایک آدمی آیا اور کہا اے امیر المومنین مجھے ایسے مہینے کے بارے میں بتائیے کہ میں رمضان کے بعد اس میں روزے رکھوں علی ؓ نے فرمایا تو نے ایسی چیز کے بارے میں سوال کیا کہ میں کسی کو اس کے بارے میں سوال کرتے ہوئے نہیں سنا۔ اس آدمی کے بعد کہ جس نے رسول اللہ ﷺ سے اس بارے میں سوال کیا تھا آپ نے فرمایا اگر تو کسی مہینہ میں رمضان کے بعد روزے رکھنا چاہے تو محرم کے روزے رکھ کیونکہ وہ اللہ کا مہینہ ہے۔ اور اس میں وہ دن ہے کہ اس میں ایک قوم کی توبہ قبول ہوئی اور اس میں دوسری کی توبہ بھی قبول فرمائے گا۔ 16۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے تھے۔ آپ نے پوچھا یہ کیا دن ہے جس میں تم روزہ رکھتے ہو انہوں نے کہا یہ بڑا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو نجات دی اور اس میں فرعون والوں کو غرق کردیا۔ تو موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہوئے روزہ رکھا اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے فرمایا ہم تمہاری نسبت حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا زیادہ حق رکھتے ہیں اور رسول اللہ ﷺ نے روزہ رکھا اور اس دن کے روزے کا حکم بھی فرمایا۔
Ayahs 89:2–3

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت کی اور طاق کی

دسویں محرم کا روزہ 17۔ البخاری ومسلم والبیہقی نے ربیع بنت معوذ بن عفراء ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کی صبح کو انصار کی ان بستیوں کی طرف پیغام بھیجا۔ جو مدینہ کے ارد گرد تھیں۔ جس نے روزہ کی حالت میں صبح کی تو اس کو چاہیے کہ روزہ کو پورا کرے۔ اور جس نے بغیرہ روزہ کے صبح کو تو اس کو چاہیے کہ وہ باقی دن کا روزہ رکھ لے۔ ربیع ؓ نے فرمایا کہ اس کے بعد ہم اس دن کا روزہ رکھتے تھے اور ہم اپنے چھوٹے بچوں کو بھی روزہ رکھاتے تھے اور ہم ان کو مسجد کی طرف لے جاتے تھے۔ اور ہم ان کے لیے اون میں سے ایک کھیل بناتے تھے پس جب ان میں سے کوئی رونے لگتا کھانے کی خواہش پر تو ہم اسے وہ دے دیتے تھے۔ یہاں تک کہ وہ افطار کے وقت تک کھیلتا رہتا۔ 18۔ ابن ابی شیبہ والبخاری ومسلم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ میں نہیں جانتا کہ رسول اللہ ﷺ کس دن کو دوسروں پر فضیلت دیتے ہوئے اس کے روزوں کا اہتمام کرتے ہوں سوائے اس دن کے یعنی عاشوراء کے دن اور رمضان کے مہینہ کے۔ 19۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی دن کے لیے کس دن پر روزی کے اعتبار سے فضیلت حاصل نہیں ہے۔ سوائے رمضان کے مہینے اور عاشوراء کے دن کے۔ 20۔ ابن ابی الدنیاء والبیہقی نے اسود بن یزید (رح) سے روایت کیا کہ حضرت علی اور ابو مسوسی ؓ اور دیگر رسول اللہ ﷺ کے اصحاب ؓ میں سے کسی ایک کو نہیں دیکھا جو کوفہ میں تھے کہ اس نے عاشوراء کے دن کے روزے کا حکم دیا ہو۔ 21۔ ابن ابی شیبہ ومسلم والبیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے عاشوراء کے دن کا روزہ رکھا اور اس کے روزے کا حکم فرمایا تو صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ اس دن کی تو یہود تعظیم کرتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب آئندہ سال یہ دن آئے گا تو انشاء اللہ ہم نویں کے دن کا روزہ بھی رکھیں گے۔ لیکن آئندہ سال ابھی نہیں آیا تھا کہ رسول اللہ ﷺ وفات پاگئے۔ 22۔ ابن عدی والبیقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عاشوراء کے دن روزہ رکھو۔ اور اس میں یہودیوں کی مخالفت کرو کہ تم اس سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد روزہ رکھو۔ 23۔ بیہقی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر میں زندہ ہوا تو میں ضرور عاشوراء کے دن سے ایک دن پہلے اور ایک دن بعد روزہ رکھنے کا حکم دوں گا۔ 24۔ بیہقی (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہودیوں کی مخالفت کرو اور نویں اور دسویں کے دن روزہ رکھو۔ 25۔ بیقی (رح) نے ابوجبلہ (رح) سے روایت کیا کہ میں ابن شہاب (رح) کے ساتھ ایک سفر میں تھا تو انہوں نے عاشوراء کے دن روزہ رکھا۔ ان سے کہا گیا کہ آپ عاشوراء کے دن سفر میں روزہ رکھتے ہیں حالانکہ آپ رمضان کا نہیں رکھتے ؟ تو فرمایا بلاشبہ رمضان شریف کا روزہ دوسرے دن تک موخر ہوسکتا ہے اور عاشوراء کا روزہ فوت ہوجاتا ہے۔ موخر نہیں ہوسکتا۔ 26۔ ابن ابی شبہ نے ابو موسیٰ ؓ سے روایت کیا کہ عاشوراء کا وہ دن ہے جس کی یہودی تعظیم کرتے ہیں اور اس دن کو عید بناتے ہیں تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم بھی اس دن روزہ رکھو۔ 27۔ ابن ابی شیبہ نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا عاشوراء کا وہ دن ہے جس میں انبیاء روزوہ رکھتے تھے تم بھی اس دن روزہ رکھو۔ 28۔ بیہقی (رح) نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں وسعت کی عاشوراء کے دن۔ اللہ تعالیٰ اس کے لیے سال بھر وسعت فرمائیں گے۔ 29۔ بیہقی (رح) نے ابن مسعودر ضی اللہ عنہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا جس نے عاشورا کے دن اپنے اہل وہ عیال پر خرچ کرنے میں وسعت کی اللہ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائیں گے۔ 30۔ ابن ابی الدنیا والبیہقی نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنے اہل و عیال پر خرچ کرنے میں وسعت کرے گا اللہ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائیں گے۔ 31۔ بیہقی (رح) نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے اہل و عیال پر عاشوراء کے دن وسعت کرے گا۔ اللہ تعالیٰ اس پر سارا سال وسعت فرمائیں گے۔ بیہقی (رح) نے فرمایا اس کی اسانید اگرچہ ضعیف ہیں لیکن ان کے ایک دوسرے کے ساتھ ملنے کے سبب یہ قوی ہوگئی ہے۔ 32۔ بیہقی (رح) نے ابراہیم بن محمد بن المنتشر (رح) سے روایت کیا کہ کہا جاتا ہے کہ جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل و عیال پر وسعت کرے گا تو ساراسال ان کے رزق میں برابر وسعت رہے گی۔ 33۔ بیہقی (رح) نے وضعفہ عروہ سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص عاشوراء کے دن اثمد سرمے سے اپنی آنکھوں میں سرمہ ڈالے گا تو کبھی اس کی آنکھ نہیں دکھے گی۔ 34۔ احمد والنسائی والبزاز وابن جریر وابن المنذر وابن مردویہ والحاکم وصححہ اور بیہقی نے شعب میں جابر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا آیت والفجر ولیال عشر والشفع والوتر میں دس راتوں سے مراد ہے ذی الحجہ کے دس راتیں وار الوتر سے مراد ہے عرفہ کا دن اور الشفع سے مراد ہے یوم النحر۔ 35۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ والبیہقی نے شعب میں طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولیال عشر سے مراد اضحی کی دس راتیں اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ یہ ماہ ذی الحجہ کی پہلی دس راتیں ہیں۔ عشرہ ذی الحجہ میں عبادت کرنا 36۔ عبدالرزاق وابن سعد وابن جریر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ ولیا عشر سے مراد ہے ذی الحجہ کی پہلی رات سے لے کر یوم نحر یعنی دسویں ذی الحجہ تک ہیں 37۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں مسروق (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیال عشر سے مراد ہے ذو الحجہ کی دس راتیں اور یہ سال کے دنوں میں افضل دن ہیں۔ 38۔ عبدالرزاق والفریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ولیال شعر سے مردا ہے ذی الحجہ کی دس راتیں۔ 39۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 40۔ عبد بن حمید نے عکرمہ (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 41۔ الفریابی وعبد بن حمید نے ضحاک بن مزاحم (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیال عشر سے مراد ہے اضحی کی دس راتیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی قسم کھائی ہے ان کی فضیلت کی وجہ سے سارے دنوں پر۔ 42۔ عبد بن حمید نے مسروق (رح) سے روایت کیا کہ آیت ولیال عشر سے مراد ہے اضحی کی دس راتیں اور یہ وہی ہیں جس کا اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) سے وعدہ فرمایا تھا آیت واتممناہا بعشر (الاعراف آیت 142) اور ان کو اور دس سے پورا کیا) 43۔ عبد بن حمید نے طلحہ بن عبیداللہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ اور ابو سلمہ بن عبدالرحمن، ابن عمر ؓ کے پاس آئے، ابن عمر ؓ نے ان کو عرفہ کے دن صبح کے کھانے پر دعوت دی۔ ابو سلمہ ؓ نے فرمایا : کیا یہ دس راتیں وہی ہیں جس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں بیان فرمایا۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کون سی چیز تجھے بناتی ہے ؟ ابو سلمہ ؓ نے کہا میں شک نہیں کرتا۔ ابن عمر ؓ نے فرمایا کیوں نہیں میں تجھے شک میں ڈال رہا ہوں۔ 44۔ ابن مردویہ نے عطیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والفجر یعنی اس کے بارے میں تم جانتے ہو آیت ولیال عشر یعنی ذوالحجہ کی دس راتیں آیت والشفع تو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت وخلقکم ازواجا (النباء آیت 8) اور ہم نے تم کو جوڑے جوڑے پیدا کیا آیت والوتر فرمایا اس سے اللہ تعالیٰ کی ذات مراد ہے۔ اور پوچھا گیا کیا تو اس کو روایت کرتا ہے رسول اللہ ﷺ کے اصحاب میں سے کسی ایک صحابی کی طرف سے۔ کہا ہاں۔ ابو سعید خدری ؓ نے نبی اکرم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ 45۔ بخاری و بیہقی نے شعب میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی دن ایسے نہیں ہیں کہ ان میں کوئی عمل اللہ عزوجل کے نزدیک زیادہ محبوب ہو اور زیادہ فضیلت والا ہو ان دس دنوں سے پوچھا گیا یارسول اللہ ! اللہ کے راستے میں جہاد بھی فضیلت والا نہیں ہے ؟ فرمایا اور اللہ کے راستے میں جہاد بھی فضیلت نہیں رکھتا۔ سوائے اس آدمی کے جس نے اللہ کے راستے میں اپنے مال اور اپنی جان کے ساتھ جہاد کی اور اس میں سے کسی چیز کو لے کر واپس نہیں لوٹا یعنی سب کچھ اللہ کے راستے میں قربان کردیتا ہے وہ زیادہ فضیلت والا ہے۔ تکبیرت تشریق پڑھنا 46۔ بیہقی (رح) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ان دس دنوں سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ کے نزدیک کوئی افضل ایام نہیں اور ان دس دنوں میں کئے جانے والے عمل سے بڑھ کر کسی دن کیا جانے والا کوئی عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک پسندیدہ نہیں پس تم ان دنوں میں لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر اور الحمدللہ کی کثرت کرو۔ 47۔ یہقی (رح) نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ ان دس دنوں میں سے کسی دن میں کوئی نیک عل کرنا اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کی مانند ہے جو اس کے دن میں روزہ رکھتا ہے اور اس کی رات میں چوکیداری کرتا ہے سوائے اس کے جو شہادت کے ساتھ خاص ہوجائے تو وہ فضیلت میں بڑھ جائے گا۔ اوزاعی (رح) نے فرمایا یہ حدیث مجھے قبیلہ بنو مخزوم کے آدمی نے نبی ﷺ سے بیان کی۔ 48۔ بیہقی نے ہنیدہ بن خالد کے طریق سے نبی مکرم ﷺ کی ازواج میں سے کسی زوجہ محترمہ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نو ذوالحجہ کو اور عاشوراء کے دن اور ہر ماہ میں سے تین دن کے روزے رکھتے تھے اور ان تین دنوں سے مراد مہینے کا پہلا پیر کا دن اور دو جمعراتیں ہیں۔ 49۔ بیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا دنیا کے دنوں میں سے کوئی دن بھی نہیں کہ جس میں کوئی عمل اللہ کے نزدیک اس عبادت سے زیادہ ہو جو اس کے لیے ان دس دنوں میں کی جاتی ہے ان میں سے ہر دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہوتا ہے۔ اور ہر رات کا قیام کرنا لیلۃ القدر کے قیام کے برابر ہوتا ہے۔ 50۔ بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کوئی دن ان دس دنوں میں سے اللہ کے نزدیک افضل نہیں ہیں اور کسی دن کا عمل اللہ کے نزدیک اس سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ نہیں۔ سو تم ان میں لا الہ اللہ اور اللہ اکبر کی کثرت کرو بیشک یہ دن لا الہ الا اللہ اور اللہ اکبر کہنے اور اللہ کے ذکر کے ہیں۔ اور اس میں سے ایک دن کا روزہ ایک سال کے روزوں کے برابر ہے۔ اور ان میں ایک عمل کا ثواب سات سو گنا تک بڑھا دیا جاتا ہے۔ 51۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ولیال عشر سے مراد ہے رمضان کے آخری دس راتیں۔ 52۔ محمد بن نصر نے کتاب الصدق میں ابو عثمان (رح) سے روایت کیا کہ صحابہ کرام ؓ تین دس ایام کی تعظیم کرتے تھے۔ محرم کے پہلے دس دن، ذی الحجہ کے پہلے دس دن اور رمضان کے آخری دس دن۔ 53۔ احمد وعبد بن حمید والترمذی وابن جریر وابن ابی حاتم والحاکم وصححہ وابن مردویہ نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ سے شفع اور وتر کے بارے میں پوچھا گیا۔ تو آپ نے فرمایا اس سے نمازیں مراد ہیں ان میں کچھ شفع اور کچھ وتر ہیں۔ 54۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے عمران بن حصین ؓ سے روایت کیا کہ آیت والشفع والوتر سے فرض نماز مراد ہے اور ان میں سے کچھ شفع اور کچھ وتر ہیں۔ 55۔ عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشفع والوتر اور جت اور طاق یعنی نمازوں میں کچھ شفع اور کچھ وتر ہیں۔ حسن (رح) نے فرمایا کہ وہ عدد مراد ہے اس میں جفت بھی ہے اور اس میں طاق بھی ہے۔ 56۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشفع والوتر سے مغرب کی نماز مراد ہے کہ شفع دو رکعتیں اور وتر ایک رکعت ہے۔ 57۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 58۔ عبد بن حمیدنے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشفع والوتر سے ہمارے رب نے کل عدد کے ساتھ قسم کھائی ہے اس میں جفت بھی ہے اور طاق بھی ہے۔ 59۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن المنذر نے ابراہیم نخعی (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشفع سے مراد ہے جوڑا اور والوتر سے مراد ہے اکیلا۔ 60۔ عبد بن حمید نے ابن عباس ؓ سے آیت والشفع والوتر کے بارے میں روایت کیا کہ ہر چیز کے شفع سے مراد ہے دو ہونا اور وتر سے مراد ہے ایک ہونا۔ 61۔ عبدالرزاق نے مجاہد (رح) سے آیت والشفع والوتر کے بارے میں سے روایت کیا کہ ساری مخلوق جفت اور طاق ہے اور اللہ تعالیٰ نے ساری مخلوق کی قس کھائی ہے۔ 62۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے آیت والشفع والوتر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ وتر ہیں اور تم شفع ہو۔ 63۔ الفریابی و سعید بن جبیر وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت والشفع والوتر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی ساری مخلوق شفع ہے آسمان، زمین، خشکی، تری، انسان، جن، سورج اور چاند اور اس طرح کی سب مخلوق شفع ہے اور وتر اکیلے اللہ تعالیٰ ہیں۔ 64۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے آیت والشفع والوتر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ وتر ہیں اور اس کی مخلوق شفع ہے یعنی مذکر اور مونث۔ 65۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ شفع آدم اور حواء (علیہما السلام) ہیں اور وتر اللہ تعالیٰ ہی۔ 66۔ عبد بن حمید نے اسماعیل کے طریق سے ابو صالح (رح) سے آیت والشفع والوتر کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے ہر مخلوق میں جوڑا جوڑا یعنی دو ، دو پیدا فرمائے اور اللہ تعالیٰ کی اپنی ذات واحد اور صمد ہے۔ اسماعیل (رح) نے فرمایا کہ میں نے اس کا ذکر شعبی (رح) سے کیا تو انہوں نے فرما کہ مسروق (رح) اسی طرح کہا کرتے تھے۔ 67۔ ابن ابی شیبہ نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ جس کسی نے ہر نماز کے پیچھے اور جب بستر پر آئے یہ کلمات تین بار کہے : اللہ اکبر اللہ اکبر عبدد الشفع والوتر، وعدد کلمات اللہ التامات الطیبات المبارکات ثلاثا ولا الہ الا اللہ مثل ذلک ترجمہ : اللہ اکبر، اللہ اکبر جفت اور طاق کے عدد کے برابر اور اللہ تعالیٰ کے پورے پاکیزہ اور مبارک کلمات کے برابر اور لا الہ الا اللہ بھی اسی طرح تین مرتبہ کہے تو اس کے لیے اس کی قبر میں نور ہوگا۔ اور پل پر نور ہوگا اور صراط پر نور ہوگا یہاں تک کہ وہ جنت میں داخل ہوجائے گا۔ یوم عرفہ اور یوم النحر کی فضیلت 68۔ الطبرانی وابن مردویہ نے ضعف سند کے ساتھ ابو ایوب ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ سے شفع اور وتر کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا اس سے مراد دو دن اور ایک رات ہے اور وہ یوم عرفہ اور یوم نحر ہیں اور وتر سے مراد نحر کی رات ہے یعنی دسویں ذی الحجہ کی رات اور یہی لیلۃ الجمع ہے۔ 69۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت والشفع والوتر سے مراد قربانی کے ایام ہیں یعنی یوم عرفہ اور یوم اضحی یہ دونوں شفع ہیں اور قربانی کی رات وتر ہے۔ 70۔ ابن جریر نے جابر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آیت والشفع سے مراد ہے پہلے دو دن اور ووتر سے مراد ہے تیسرا دن۔ 71۔ عبدالرزاق و سعید بن منصور وابن سعد وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ ان سے شفع اور وتر کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا شفع سے مراد ہے اللہ تعالیٰ کا یہ قول آیت فمن تعجل فی یومین فلا اثم علیہ (البقرہ آیت 202) پھر جس نے دو دن کے اندر کوچ کرنے میں جلدی کی تو اس پر کوئی گناہ نہیں۔ اور وتر سے مراد ہے تیسرا دن اور ایک روایت میں الفاظ یوں ہے کہ شفع سے مراد ہے ایام تشریق کا درمیان اور وتر سے مراد ہے ایام تشریق میں سے آخری دن۔ 72۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ والبیہقی نے شعب الایمان میں کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے آیت والشفع والوتر کے بارے میں روایت کیا کہ شفع سے مراد ہے یوم النحر اور وتر سے مراد ہے یوم عرفہ۔ 73۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا عرفہ، وتر ہے اور یوم النحر شفع ہے کہ عرفہ نویں ذوالحجہ کا دن ہے اور نحر دسویں کا دن ہے۔ 74۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ شفیع یوم النحر ہے اور وتر یوم عرفہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں کی قسم کھائی دس دنوں پر ان دونوں کی فضیلت کی وجہ سے۔
Ayah 89:4

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب وہ چلنے لگے

75۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر اور رات کی قسم جب وہ گزر جائے یعنی جب وہ گذر جائے۔ 76۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عبداللہ بن زبیر ؓ سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر یعنی قسم ہے رات کی جب وہ گذرنے لگے۔ 77۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر یعنی جب وہ جانے لگے۔ 78۔ الفریابی عوبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت واللیل اذا یسر سے مراد ہے مزدلفہ کی رات۔ 79۔ ابن ابی حاتم نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا آیت واللیل اذا یسر سے مراد کون سی رات ہے تو فرمایا کہ یہ عرفرات سے واپسی کی رات ہے اور تم ہرگز نہ گذارو مگر مزدلفہ میں۔ 80۔ ابن المنذر نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے والفجر سے لے کر آیت اذا یسر تک پڑھا اور فرمایا یہ قسم ہے اس بات پر کہ تیرا رب تاک میں ہے۔
Ayah 89:5

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

کیا اس میں قسم ہے، عقل والے کے لیے

81۔ الفریابی وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب الایمان میں کئی طرق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت قسم لذی حجر۔ قسم ہے عقلمندوں کے لیے۔ سے مراد ہے صاحب عقل دانا اور ذی فہم یعنی قسم ہے صاحب عقل کے لیے۔ 82۔ سعید بن منصور وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید نے عکرمہ اور ضحاک رحمہما اللہ سے اسی طرح روایت کیا۔ 83۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت لذی حجر یعنی حلم ولاے۔ 84۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے ابو مالک (رح) سے روایت کیا کہ آیت لذی حجر سے مراد جہنم کی آگ سے چھپانا اور ڈھانکنا ہے۔ 85۔ ابن الانباری نے الوقف والابتداء میں سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت لذی حجر یعنی عقل والے کے لیے حارث بن ثعلبہ نے کہا وکیف رجائی ان اتوب وانما یرجہ من الفتیان من کان ذی حجر
Ayah 89:6

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

اے مخاطب کیا تو نے نہیں دیکھا تیرے رب نے کیا کیا قوم عاد کے ساتھ

86 ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت الم تر کیف فعل ربک بعا۔ ارم۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ آپ کے رب نے عاد کے ساتھ کیا سلوک کیا۔ یعنی ارم سے مراد ہلاک ہوے والے کیا آپ نہیں جانتے کہ آپ کہتے ہیں ارم بنو فلاں کہ بنوفلاں ہلاک ہوگئے آتی ذات العماد ستونوں والے یعنی وہ ستونوں کی طرح لمبے تھے۔ 87۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا آیت بعاد ارم سے مراد قدیم عاد ہیں۔ آیت ذات العماد کے بارے میں فرمایا اہل عمود قائم نہیں رہیں گے۔ یعنی باق نہیں رہیں گے۔ 88۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ارم کا معنی امت ہے۔ ذات العماد یعنی ستونوں والے کہ ان کے جسم آسمان میں تھے۔ 89 ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ بعاد ارم یعنی عاد بن ارم ان کی نسبت ان کے جد اعلیٰ کی طرف ہے۔ 90۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وبن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم بیان کرتے تھے کہ ارم عاد میں سے ایک قبیلہ ہے ان کو ستونوں والے کہا جاتا تھا اور وہ ستونوں والے تھے۔ آیت التی لم یخلق مثلہا فی البلاد کہ ان کی مثل شہروں میں پیدا نہیں کیے گئے ہم کو بیان کیا گیا کہ ان کی بلندی بارہ ذراع تھی۔
Ayahs 89:7–8

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

جو قوم ارم تھی یہ لوگ ستون والے تھے

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

ان کے جیسے لوگ شہروں میں پیدا نہیں کیے گئے تھے

91۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ نے مقدام بن معدیکرب ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارم ذات العماد کے بارے میں ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ ان میں سے ایک آدمی تھا وہ ایک چٹان کے پاس آتا تو اسے اپنے کندھوں پر اٹھا لیتا اور اس کو جس قبیلہ پر چاہتا پھینک دیتا اور ان کو ہلاک کردیتا۔ 92۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ ارم ہی دمشق ہے۔ 93۔ ابن جریر وعبد بن حمید وابن عساکر نے سعید المقبری (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 94۔ ابن عساکر نے سعید بن المسیب (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 95۔ عبد بن حمید نے خالد الرابعی (رح) سے اسی طرح روایت کیا۔ 96۔ ابن جریر وابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے روایت کیا کہ ارم سے مراد یہی اسکندریہ ہے۔ 97۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا ارم کا معنی ہے ہلاک ہونے والے کیا تم نہیں جانتے کہ یوں کہا جاتا ہے۔ ارم یعنی بنو فلاں ہلاک ہوگئے۔ ابن حجر نے فرمایا یہ تفسیر قراءت شاذہ کے مطابق ہے یعنی ارم فتحتین اور راء کی تشدید کے ساتھ اس پر کہ وہ ماضی کا فعل ہے ” وذات “ تاء کی فتح کے ساتھ اس کا مفعول ہے یعنی اللہ تعالیٰ نے ستونوں والوں کو ہلاک کردیا۔ 98۔ ابن ابی حاتم نے شہر بن حوشب (رح) سے روایت کیا کہ ارم سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو بوسیدہ کردیا اور ان کو بوسیدہ ہڈیوں کی طرح بنادیا۔ 99۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ ذات العماد سے مراد ہے شدت یعنی مضبوطی اور طاقت والے۔
Ayah 89:9

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور قوم ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں پتھروں کو تراشا

100۔ ابن ابی حاتم وابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جا بو الصخر بالواد۔ انہوں نے پتھروں کو وادی میں تراشا تھا یعنی وہ پہاڑوں کو تراش کر گھر بناتے تھے۔ آیت و فرعون ذی الاوتاد اور فرعون میخوں والا میں اوتاد سے وہ لشکر مراد ہیں جو اسکے حکم کو مضبوط کرتے تھے۔ 101۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت جابو الصخر کے بارے میں سوال کیا تو انہوں نے فرمایا کہ وہ پہاڑوں میں پتھروں کو کاٹتے اور وہاں گھر بناتے تھے۔ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں ؟ فرمایا ہاں کیا تو نے امیہ کا قول نہیں سنا۔ وشق ابصارنا کما نعیش بہا وجاب للسمع اصماخا واذانا ترجمہ : اور ہماری آنکھیں پھٹ گئیں تاکہ ہم اس کے ساتھ زندہ رہیں اور گانا سننے کے لیے کان کے سوراخوں کو اور کانوں کو 102۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت جابو الصخر چٹان کو تراشا یعنی وہ پہاڑوں کو کاٹتے اور ان میں گھر بنالیتے تھے آیت و فرعون ذی الاوتاد یعنی لوگوں کو کیلیں ٹھوک دیتا تھا۔ آیت فصب علیہم ربک سوط عذاب پھر ان پر تیرے رب نے عذاب کا کوڑا پھینکا یعنی وہ چیز جس کے ذریعہ عذاب دئیے گئے۔
Ayahs 89:10–13

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

سو انہوں نے بہت فساد مچایا

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

سو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسادیا

103۔ الحاکم وصحح نہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذی الاوتاد میخوں والا یعنی فرعون نے اپنی بیوی کو چار کیل گارے پھر اس کی پیٹھ پر بڑی چکی رکھ دی یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ 104۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت و فرعون ذی الاوتاد یعنی فرعون کسی آدمی کو یہاں اور کسی آدمی کو وہاں اور کوئی ہاتھ یہاں اور کوئی ہاتھ وہاں رکھ کر میخوں کے ساتھ باندھ دیتا تھا۔ 105۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اسے و فرعون ذی الاوتاد اس لیے کہا گیا کہ کیونکہ وہ منبر بناتا تھا اس پر لوگوں کو ذبح کرتا تھا۔ 106۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ وہ کیلوں کے ساتھ لوگوں کو عذاب دیتا تھا۔ 107۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ فرعون جب کسی کو قتل کرنے کا ارادہ کرتا تھا۔ تو اس کو چار کیلوں کے ساتھ کسی چٹان پر باندھ دیتا تھا۔ پھر اوپر سے ایک اور چٹان اس پر گرا کر اس کو کچل دیتا اور وہ اس کی طرف دیکھ رہا ہوتا اور اس کے ہاتھ کھڑی چٹان کے ساتھ بندھے ہوتے۔ 108۔ عبد الرزاق وعبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت و فرعون ذی الاوتاد سے مراد ہے اونچی عمارتوں والا اور مزید فرمایا کہ ہم کو سعید بن جبیر نے ابن عباس ؓ سے بیان کیا فرعون کے خیمے تھے کہ ان کے نیچے کھیلتا تھا۔ اور کیلیں تھیں جو اس کے لیے گاڑی جاتی تھیں۔ 109۔ ابن المنذر نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاکثروا فیہا الفساد پھر انہوں نے بہت فساد پھیلایا۔ میں الفساد سے مراد معاصی اور گناہ ہیں آیت فصب علیہم ربک سوط عذاب پھر ان پر تیرے رب نے عذاب کا کوڑا پھینکا یعنی عذاب کو لوٹایا۔ 110۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہر وہ چیز کہ جس کے ذریعہ اللہ عذاب دیں تو وہی سوط عذاب ہے۔
Ayah 89:14

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بلاشبہ آپ کا رب گھات میں ہے

ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ان ربک لبا المرصاد بیشک آپ کا رب تاک میں ہے یعنی بیشک آپ کا رب سن رہا ہے اور دیکھ رہا ہے۔ 2۔ عبدالرزاق وابن جر یر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے آیت ان ربک لبالمرصاد کے بارے میں روایت کیا کہ وہ تاکنے والا ہے بنی آدم کے اعمال کو۔ پل صراط کتنے ہوں گے ؟ 3۔ الحاکم وصححہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت والفجر سے مراد ہے قسم آیت ان ربک لبالمرصاد سے مراد ہے صراط کے پیچھے کئی پل ہیں۔ ایک پل پر امانت ہے اور دوسرے پل پر رحم ہے اور تیسرے پل پر خود رب عزوجل ہیں۔ 4۔ ابن جریر وابن المنذر وابو نصر السجزی نے الابانہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ جب قیامت کا دن ہوگا تو رب تعالیٰ حکم فرمائیں اپنی کرسی کے بارے میں کہ اس کو آگ پر رکھ دو توہ اس پر رکھ دی جائے گی۔ پھر وہ اپنی شان قدرت کے مطابق اس پر جلو افروز ہوں گے۔ پھر فرمائیں گے میں ملک دیان ہوں ہوں۔ مجھے میری عزت اور میرے جلال کی قسم ! آج کے دن کوئی ظلم کرنے والا اپنے ظلم کے ساتھ آگے نہیں بڑھے گا اگرچہ وہ ہاتھ کے ساتھ ایک ضر ہی ہو اسی کو فرمایا آیت ان ربک لبالمرصاد۔ 5۔ الفریابی وعبد بن حمید وبان المنذر نے سالم بن ابی الجعد (رح) سے آیت ان ربک لبالمرصاد کے بارے میں روایت کیا کہ جہنم کے تین پل ہیں : ایک پل پر امانت ہے اور ایک پل پر رحم ہے اور ایک پل پر خود رب تبارک وتعالیٰ ہوں گے اور یہی مرصاد ہے کوئی بھی اس سے نہیں گذرسکے گا۔ سوائے نجات پانے والے کے جو کوئی اس سے نجات پا گیا وہ اس سے نجات نہیں پا سکے گا۔ 6۔ ابن جریر نے عمرو بن قیس (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جہنم پر تین پل ہیں ایک پل پر امانت ہوگی جب لوگ اس کے پاس سے گذریں گے تو وہ کہے گا اے میرے رب ! یہ امین ہے اور یہ خائن ہے اور ایک پل پر رحم ہوگا جب لوگ اس کے پاس سے گذریں گے تو کہتے اے میرے رب یہ امین ہے اور یہ خائن ہے اور ایک پل پر رحم ہوگا جب لوگ اس کے پاس سے گذریں گے تو کہے گا اے میرے رب ! یہ صلہ رحمی کرنے والا ہے اور یہ قطع رحمی کرنے ولا ہے اور ایک پل پر خود رب تعالیٰ ہوں گے اسی کو فرمایا آیت ان ربک لبالمرصاد۔ 7۔ ابن ابی حاتم نے ایفع بن عبدالکلاعی (رح) سے روایت کیا کہ جہنم پر سات پل ہیں اور صراط ان کے اوپر ہوگی پس مخلوق کو پہلی پل کے پاس روک لیا جائے گا اللہ تعالیٰ فرمائیں گے ان کو روک لو بیشک ان سے پوچھا جائے گا نماز کے بارے میں ان کا حساب کیا جائے گا۔ اور اس کے بارے میں ان سے سوال کیے جائیں گے۔ پس جو اس میں ہلاک ہوگیا تو وہ ہلاک ہوجائے گا اور جو نجات پا گیا تو وہ نجات پاجائے گا جب وہ دوسرے پل پر پہنچیں گے تو امانت کے بارے میں ان کا حساب لیا جائے گا کہ کیسے اس کو ادا کیا تھا اور کس طرح اس میں خیانت کی تھی سو جو ہلاک ہوگیا تو وہ ہلاک ہوجائے گا اور جو نجات پا گیا وہ نجات پا جائے گا جب تیسرے پل پر پہنچیں گے تو رحم کے بارے میں پوچھے جائیں گے کیسے اس کو جوڑا تھا اور کیسے اس کو کاٹا تھا پس جو ہلاک ہوگیا وہ ہلاک ہوجائے گا اور جو نجات پایا گیا وہ نجات پاجائے گا اور رحم اس دن جہم میں ہویٰ (یعنی خواہش) کے ساتھ لٹکا ہوگا۔ اور کہے گا اے اللہ جس نے مجھ کو ملایا تو بھی اس کو ملادے۔ اور جس نے مجھے کاٹا تو بھی اس کو کاٹ دے۔ اسی کو اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں آیت ان ربک لبالمرصاد۔ 8۔ طبرانی نے ابو امامہ ؓ سے مرفوع حدیث میں روایت کیا کہ جہنم میں ایک بڑا پل ہے پھر اس پر آگے سات پل ہیں اور ان کے درمیان میں قضا ہے۔ ایک بندے کو لایا جائے گا یہاں تک کہ وہ جب درمیانی پل کی طرف پہنچے گا اس کو کہا جائے گا۔ کیا تیرے اوپر قرضے بھی ہیں ؟ اور یہ آیت تلاوت فرمائی آیت ولا یکتمون اللہ حدیثا (لنساء آیت 42) اور وہ اللہ سے کوئی بات نہ چھپائیں گے تو وہ کہے گا اے میرے رب میرے اوپر اتنا اتنا قرضہ ہے تو اس سے کہا جائے گا اپنا قرضہ ادا کر وہ کہے گا میرے پاس کوئی چیز نہیں تو اس سے کہا جائے گا قرض لینے والے کہ اس کی نیکیوں میں سے لے لو تو اس کی نیکیوں میں سے لیا جاتا رہے گا یہاں تک کہ کوئی نیکی اس کی باقی نہیں رہے گی پھر اس سے کہا جائے گا کہ جو قرضہ کا مطالبہ کرتا ہے اس کے گناہ لے کر اس کے اوپر ڈالتے جاؤ۔ پل صراط پر فرشتوں کی نگرانی 9۔ بیہقی نے الاسماء والصفات میں مقاتل بن سلیمان (رح) سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے قسم کھائی ہے آیت ان ربک لبالمرصاد یعنی صراط کی وہ اس طرح کہ جہنم پر ایک بڑا پل ہے س پر مزید سات پل ہیں ہر پل پر فرشتے کھڑے ہیں کہ ان کے چہرے انگارے کی طرح سے ہیں۔ اور ان کی آنکھیں بجلی کی طرح ہیں وہ لوگوں سے پہلی پل پر ایمان کے بارے میں سوال کریں گے اور دوسری پل پر ان سے پانچ نمازوں کے بارے میں سوال کریں گے اور تیسری پل پر ان سے زکوٰۃ کے بارے میں سوال کریں گے اور چوتھی پل پر ان سے رمضان کے مہینے کے بارے میں سوال کریں گے۔ اور پانچویں پل پر ان سے حج کے بارے میں سوال کریں گے۔ اور چھٹی پل پر ان سے عمرہ کے بارے میں سوال کریں گے اور تیسری پل پر ان سے زکوٰۃ کے بارے میں سوال کریں گے اور چوتھی پل پر ان سے رمضان کے مہینے کے بارے میں سوال کریں گے۔ اور ساتویں پل پر ان سے مظالم کے بارے میں سوال کریں گے۔ پس جس کے متعلق جس سے سوال کیا جائے گا۔ اگر اس نے اسے اسی طرح ادا کیا ہوگا جیسے اسے ادا کرنے کا حکم دیا گیا تھا تو وہ پل صراط سے گزر جائے گا۔ ورنہ اسے روک دیا جائے گا۔ اسی کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت ان ربک لبالمرصاد۔
Ayah 89:15

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

سو انسان کو اس کا پروردگار آجب آزماتا ہے سو اس کا اکرام فرماتا ہے اور اسے نعمتیں دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے میرا اکرام کیا

10۔ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت فاما الانسان الایۃ لیکن انسان تو ایسا ہے یعنی ہرگز نہیں بلکہ تو نے دونوں کو اکٹھا جھٹلا دیا ہے۔ نہ دولت اور مالداری کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے تجھے عزت بخشی ہے اور نہ فقر وغربت کے ساتھ اس نے تجھے ذلیل کیا ہے پھر اس عمل کے بارے میں انہیں بتایا جو ان کو ذلیل ورسوا کر رہا ہے اور فرمایا آیت بل لا تکرمون الیتیم الایۃ۔ 11۔ ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ یہ خیال کیا جاتا ہے کہ اللہ کی جانب سے عزت و کرامت مال میں ہے۔ حالانکہ وہ انتہائی قلیل اور حقیر ہے اور یہ جھوٹ ہے بلکہ وہ تو اپنی اطاعت و فرمانبرداری کے ساتھ عزت عطا فرماتے ہیں اور اپنی معصیت کے سبب ذلیل ورسوا کردیتے ہیں جس کو رسوا کرنا چاہے۔
Ayahs 89:16–18

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب وہ اس کو آزماتا ہے سو اس کی روزی اس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے ذلیل کردیا

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہر گز ایسا نہیں، بلکہ تم یتیم کا اکرام نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور مسکین کو کھانا دینے کی ترغیب نہیں دیتے

12۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا آیت فقدر علیہ رزقہ اس پر اس کی روزی تنگ کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اس پر اس کا رزق تنگ کردیتا ہے۔ 13۔ ابن مردویہ والحاکم وصححہ نے عبدالرحمن بن عوف ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا بل لا تکرمون الیتیم ولا یحضون یاء کے ساتھ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے۔
Ayah 89:19

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کا مال سمیٹ کر کھاجاتے ہو

14۔ عبد بن حمید وابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا آیت وتاکلون التراث اور تم میراث کو کھاجاتے ہو یعنی میراث اکلا لما سب سمیٹ کر یعنی اپنا حصہ بھی اور دوسرے شریک کا حصہ بھی۔ 15۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا آیت اکلا لما پھانکنا یعنی چٹ کر جانا اور فرمایا آیت حبا جما بہت زیادہ محبت یعنی شدید محبت 16۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت اکلا لما یعنی چٹ کر جانا۔ 17۔ الطستی نے اپنے مسائل میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نافع بن ازرق (رح) نے ان سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت حبا جما کے بارے میں پوچھا تو فرمایا اس کا معنی ہے بہت زیادہ پھر پوچھا کیا عرب کے لوگ اس معنی سے واقف ہیں فرمایا ہاں ! کیا تو نے امیہ بن خلف کا قول نہیں سنا۔ ان تغفر اللہم تغفر جما وای عبدلک لا الما ترجمہ : اے اللہ مغفرت فرمادے کثیر تعداد یعنی سب کو معاف فرمادے۔ کیونکہ تیرا ہر بندہ ہی گنہگار ہے۔ 18۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے عکرمہ بن عبداللہ المزنی (رح) سے روایت کیا کہ وتاکلون التراث اکلا لما اور وہ میت کا ترکہ بہت سمیٹ کر کھاجاتے ہیں۔ میں اللم سے مراد ہے میراث میں حق سے تجاوز کرنا اپنی میراث اور اپنے غیر کی میراث کو کھا جاتا ہے۔ 19۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاکلون التراث یعنی میراث اکلا لما یعنی شدید طریقے سے آیت وتحبون المال حبا جما یعنی وہ مال سے شدید محبت کرتے ہیں۔ 20۔ فریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت اکلا لما میں الم سے مراد ہے ہر چیز ہڑپ کر جانا اور فرمایا آیت حبا جما میں الجم سے مراد ہے بہت زیادہ محبت۔ 21۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ اکلا لما یعنی پاک اور ناپاک میں سے ہر چیز کو کھاجانا اور فرمایا حبا جما یعنی فحش حد تک چاہنا۔ 22۔ عبد بن حمید نے محمد بن کعب آیت وتاکلون التراث کے بارے میں روایت کیا کہ وہ میرے حصے کو اور تیرے حصے کو سب کو کھاجاتے ہیں۔ 23۔ ابن جریر نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت وتاکلون التراث یعنی وہ لوگ نہ عورتوں و ارث بناتے ہیں اور نہ ہی بچوں کو وارث بناتے ہیں۔ 24۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ الاکلم اللم وہ ہوتا ہے کہ وہ جو چیز پاتا ہے اسے جمع کرلیتا ہے اور اس کے بارے میں وہ نہیں پوچھتا اور اسے بھی کھا جاتا ہے جو اس کی اپنی ہو یا اس کے دوسرے شریک کی ہو وہ نہیں جانتا کہ یہ حلال ہے یا حرام ہے۔
Ayah 89:20

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال سے بہت محبت رکھتے ہو

مال بےوفا ساتھی ہے 25۔ ابن ابی حاتم نے سفیان ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت وتحبون المال حبا جما کے بارے میں روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی ایسا نہیں کہ اس کو اپنے وارث کا مال اپنے مال سے زیادہ محبوب ہو۔ صحابہ ؓ نے عرض کیا یا رسول اللہ ہم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے مگر اس کو اپنا مال زیادہ محبوب ہے۔ اپنے وارث کے مال سے آپ نے فرمایا تیرے لیے کوئی مال نہیں سوائے اس کے جو تو نے کھالیا اور ختم کردیا یا تو نے پہن لیا اور بوسیدہ کردیا یا کسی کو دے دیا اور اسے ختم کردیا۔
Ayah 89:21

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

ہر گز ایسا نہیں جب زمین کو پوری طرح چورا چورا کردیا جائے گا

26۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس طرح پڑھا آیت کلا بل لا تکرمون الیتیم یعنی تکرمون کو تاء مرفوع کے ساتھ پڑھا ہے آیت ولا تحضون کو مد کے ساتھ اور تاء منصوبہ کے ساتھ پڑھا ہے اور بغیر ہمزہ کے الف کے ساتھ آیت وتاکلون التراث تاء کے ساتھ اکلا لما میں لما کو تشدید کے ساتھ پڑھا۔ 27۔ ابن مردویہ نے ابوہریرہ رضی عنہ سے روایت کیا کہ انہوں نے نبی ﷺ کو اس طرح پڑھتے ہوئے سنا آیت کلا بل لا تکرمون الیتیم ولا تحضون علی طعام المسکین وتاکلون التراث اکلا لما وتحبون المال حبا جما۔ ہرگز نہیں بلکہ تم یتیم کی عزت نہیں کرتے اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہو اور میت کا ترکہ سب سمیٹ کر کھا جاتے ہو اور مال سے بہت زیادہ محبت رکھتے ہو یعنی چاروں جگہ پر یاء ہے۔ 28۔ ابن مردویہ نے ابن عمرر ضی اللہ عنہما سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ آیت کلا بل لا یکرمون الیتیم ولا یحضوان علی طعام المسکین سے لے کر آیت ویحبون المال تک سب کو یاء کے ساتھ پڑھتے تھے۔ 29۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے رویت کیا کہ آیت کلا اذا دکت الارض دکا دکا جب زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی۔ یعنی زمین کا حرکت کرنا۔
Ayah 89:22

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور آپ کا پروردگار آجائے گا اور فرشتے آجائیں گے تو صفیں بنالیں گے

30۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ زمین اور پہاڑوں کو اٹھا لیا جائے گا پھر ان کو آپس میں ایکد وسرے کے ساتھ ٹکرا دیا جائے گا۔ 31۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت وجاء ربک والملک صفا صفا۔ اور آپ کے رب کا تخت آجائے گا اور فرشتے بھی صف بستہ چلے آئیں گے آیت والملک صفا صفا سے مراد ہے فرشتوں کی صفیں۔ 32۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت والملک صفا صفا یعنی آسمان کے رہنے والے آئیں گے اور ہر آسمان پر صف ہوگی۔ 33۔ ابن مردویہ نے ابو سعید ؓ سے روایت کیا کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ کے چہرہ مبارک سے اضطراب پہچان لیا گیا یہاں تک کہ آپ کے اصحاب ؓ پر یہ حالت بہت بھاری گذری جب انہوں نے آپ کی اس کیفیت کو دیکھا تو علی ؓ نے آپ سے وجہ دریافت کی تو آپ نے فرمایا جبریل (علیہ السلام) تشریف لائے اور مجھے یہ آیت پڑھ کر سنائی آیت کلا اذا دکت الارض دکا دکا وجاء ربک والملک صفا صفا وجیء یومئذ بجہنم۔ ہرگز نہیں جب زمین کوٹ کوٹ کر ریزہ ریزہ کردی جائے گی اور آپ کا رب آئے گا اور فرشتے بھی صف بستہ چلے آئیں گے اور اس دن دوزخ لائی جائے گی۔ پوچھا گیا اس کو کیسے لایا جائے گا فرمایا اس کو ستر ہزار فرشتے لائیں گے اس کو آگے کھینچ رہے ہوں گے ستر ہزار لگاموں کے ساتھ۔ تو وہ سخت بدکنے لگے گی اگر اس کو چھوڑ دیا جائے تو سب جمع ہونے والوں کو جلا ڈالے۔ 34۔ ابن مردویہ نے علی بن ابی طالب ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کیا تم جانتے ہو اس آیت کی تفسیر کیا ہے آیت کلا اذا دت الارض دکا دکا۔ وجاء ربک والملک صفا صفا وجایء یومئذ بجہنم پھر فرمایا جب قیامت کا دن ہوگا تو جہنم کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ کھینچاجائے گا۔ ستر ہزار فرشتوں کے ہاتھوں کے ساتھ تو وہ سخت بدکنے لگے گی۔ اگر اللہ تعالیٰ اس کو نہ روکیں تو آسمان اور زمین سب کو جلا ڈالے۔ جہنم کو کھینچ کر لایا جائے گا 35۔ ابن وہب نے کتاب الاہوال میں زید بن اسلم ؓ سے روایت کیا کہ جبریل (علیہ السلام) ، نبی ﷺ کے پاس آئے اور آپ سے سرگوشی فرمائی۔ پھر نبی اکرم ﷺ ایک طرف کو جھکتے ہوئے کھڑے ہوئے تو علی ؓ نے آپ سے سبب پوچھا آپ نے فرمایا میرے پاس جبریل (علیہ السلام) آئے اور مجھ سے یہ فرمایا آیت کلا اذا دکت الارض دکا دکا وجاء ربک والملک صفا صفا وجایء یومئذ بجہنم اور اس کو لایا جائے گا کھینچتے ہوئے ستر ہزار لگاموں کے ساتھ اور ہر لگام کو ستر ہزار فرشتے کھینچ رہے ہوں گے۔ وہ اسی حال میں ہوں گے کہ اچانک جہنم ان سے بدک کر ان کے ہاتھوں سے بھاگ جائے گی۔ اگر وہ اس کو نہ پالیتے تو وہ ان سب کو جلادے گی جو میدان حشر میں جمع ہوں گے۔
Ayah 89:23

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور اس دن جہنم کو لایا جائے گا اس دن انسان کی سمجھ میں آجائے گا اور اب سمجھنے کا موقع کہا رہا

36۔ مسلم والترمیذ وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ نے ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جہنم کو اس دن لایا جائے گا اس حال میں کہ اس کی ستر ہزار لگامیں ہوں گی اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ جو اس کو آگے سے کھینچ رہے ہوں گے۔ 37۔ ابن ابی شیبہ عبد بن حمید والترمذی نے ابن مسعود ؓ سے آیت وجیء یومئذ بجہنم کے بارے میں روایت کیا کہ اس کو اس حال میں لایا جائے گا کہ جہنم کو ستر ہزار لگاموں کے ساتھ کھینچ کر لایا جائے گا اور ہر لگام کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔ جو اس کو آگے سے کھینچ رہے ہوں گے۔
Ayah 89:24

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا کہ کاش میں اپنی زندگی کے لیے آگے بھیج دیتا

38۔ ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت یتذکر الانسان۔ انسان سمجھے گا یعنی توبہ کا ارادہ کرے گا۔ اور فرمایا آیت یلیتنی قدمت لحیاتی اے کاش میں اپنی زندگی کے لیے کچھ آگے بھیجتا یعنی میں دنیا میں عمل کرلیتا اپنی آخرت کی زندگی کے لیے۔ 39۔ ابن ابی شیبہ نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ آیت یومئذ یتذکر الانسان وانی لہ الذکری یقول یلیتنی قدت لحیاتی سے مراد ہے یعنی وہ جان لے گا اور کہے گا اللہ کی قسم وہ سچا ہے وہاں ایک لمبی زندگی ہے جس میں موت نہیں ہے اور وہ اس زندگی سے اچھی اور بہتر ہے جو زندگی وہ اب گزار رہا ہے۔ 40۔ ابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یقول یلیتنی قدمت لحیاتی میں لحیاتی سے مراد ہے آخرت۔ 41۔ احمد والبخاری فی التاریخ والطبرانی نے محمد بن ابی عمیرہ ؓ سے روایت کیا کہ وہ نبی ﷺ کے اصحاب میں سے تھے اگر کوئی بندہ پیدا ہونے کے دن سے لے کر بوڑھا ہو کر اپنے مرنے کے دن تک اپنا چہرہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور فرمانبرداری میں رگڑتا رہے تو قیامت کے دن وہ یہی پسند کرے گا کہ اسے دنیا کی طرف لوٹا دیا جائے گا تاکہ وہ اجر وثواب میں زیادتی کرسکے۔
Ayahs 89:25–26

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

سو اس دن اللہ کے عذاب کے برابر کوئی عذاب دینے والا نہ ہوگا

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور اس کی جیسی بندش کوئی نہیں کرتے گا

42۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد پس اس دن اسکا سا عذاب کوئی بھی نہ دے اور نہ اس جکڑنے کے برابر کوئی جکڑنے والا ہوگا یعنی اللہ تعالیٰ کے عذاب کے برابر کوئی بھی عذاب نہ دے گا اور اللہ کے جکڑنے کے بربر کوئی بھی نہ جکڑے گا۔ 43۔ ابو نعیم فی الحلیۃ نے خارجہ بن زید بن ثابت ؓ کے طریق سے روایت کیا اور وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ نبی ﷺ نے یوں پڑھا آیت فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد۔ 44۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید وابن مردویہ وابن جریر والبغوی والحاکم وصححہ وابو نعیم عن ابی قلابہ عمن اقرأ ہ النبی ﷺ اور دوسری روایت میں مالک بن حویرث ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو اس طرح پڑھایا اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آپ ﷺ نے ان کو اس طرح پڑھا یا آیت فیومئذ لا یعذب عذابہ احد ولا یوثق وثاقہ احد۔ یعنی ذال اور ثاء کو منصوب پڑھا گیا۔
Ayah 89:27

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے نفس مطئنہ

45۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ والضیاء فی المختارہ سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ۔ اے اطمینان والی روح یعنی مون روح ارجع ربک اپنے رب کی طرف لوٹ چل یعنی اپنے جسم کی طرف۔ آپ نے فرمایا یہ آیت نازل ہوئی اور ابوبکر ؓ بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کتنی خوبصورت بات ہے۔ آپ نے فرمایا عنقریب تجھے یہ آواز دی جائے گی۔ صدیق اکبر ؓ کو بشارت ملنا 46۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں سعید بن جبیر رحمہا للہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پاس یہ آیت پڑھی گئی آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ ابوبکر ؓ نے عرض کیا بیشک یہ البتہ بہت خوبصورت ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بیشک عنقریب تیرے لیے یہ الفاظ کہے گا موت کے وقت۔ 47۔ الحکیم الترمذی نے نوادر الاصول میں ثابت بن عجلان کے طریق سے سلیم بن ابی عامر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابوبکر ؓ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ ﷺ کے پاس یہ آیت یا ایتہا لنفس المطمئنہ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ پڑھی گئی تو میں نے عرض کیا یارسول اللہ ! یہ کتی حسین ہے تو آپ نے فرمایا اے ابوبکر ! بیشک فرشتہ عنقریب تیرے لیے موت کے وقت یہی الفاظ کہے گا۔ 48۔ ابن ابی حاتم نے جویبر کے طریق سے اور انہوں نے ضحاک سے روایت کیا اور انہوں نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کون رومہ کے کنویں کو خریدے گا ہم اس کے ذریعہ میٹھا پانی پئیں گے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دے گا۔ تو اس کو عثمان ؓ نے خرید لیا نبی اکرم ﷺ نے فرمایا کیا تیرے لیے یہ ممکن ہے کہ تو اسکو لوگوں کے پینے کے لیے وقف کردے۔ انہوں نے کہا ہاں تو اللہ تعالیٰ نے عثمان ؓ کے بارے میں یہ نازل فرمایا آیت یا ایتہا النفس المطمئنہ۔ 49۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ کے بارے میں رویت کیا کہ یہ عثمان بن عفان ؓ کے بارے میں نازل ہوئی۔ 50۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النفس المطئنہ سے نبی اکرم ﷺ کی ذات مراد ہیں۔ 51۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے بریدہ ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النس المطمئنہ سے حمزہ ؓ کی ذات مراد ہے۔ 52۔ ابن جریر وابن المنذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النفس المطمئنہ سے مراد ہے تصدیق کرنے وال ا۔ 53۔ سعید منصور والفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النفس المطمئنہ سے وہ شخص مراد ہے جس نے یقین کرلیا کہ بیشک اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے۔ 54۔ ابن جریر نے ابو الشیخ الہنائی (رح) سے روایت کیا کہ ابی ؓ کی قراءت میں یوں ہے آیت یا ایتہا النفس المطمئنہ۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ فادخلی فی عبادی۔ اے جان امن والی اطمینان پکڑنے والی میرے بندے میں داخل ہوجا۔ 55۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے اس کو اس طرح پڑھا آیت فادخلی فی عبادی علی التوحید میرے بندے میں داخل ہوجا جو توحید پر ہے۔ 56۔ ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت ارجع الی ربک اپنے رب کی طرف لوٹ جا یعنی روحوں کو جسموں میں لوٹایا جائے گا قیامت کے دن۔
Ayahs 89:28–30

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

لوٹ جا اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو خوش ہو اور تجھ سے بھی اللہ تعالیٰ خوش ہو

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

سو تو میرے بندوں میں شامل ہوجا

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری جنت میں داخل ہوجا

57۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ عرش کی جڑ سے ایک وادی بہے گی تو اس میں سب چوپائے زمین کی سطح پر ظاہر ہوجائیں گے۔ پھر روحیں اڑیں گی اور ان کو حکم دیا جائے گا کہ جسموں میں داخل ہوجاؤ یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ اپنے رب کی طرف لوٹ جا تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ 58۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ تو اپنے رب کی طرف لوٹ آ، پس اجر وثواب پر خوش ہوتے ہوئے جو تجھے عطا کیا گیا۔ مرضیہ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ بھی تیرے عمل سے راضی اور خوش ہے۔ آیت فادخلی فی عبادی پس میرے بندوں میں شامل ہو۔ یعنی ایمان والوں میں۔ نفس مطمئنہ کا ذکر 59۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت یا ایتہا النفس المطئنہ کے بارے میں روایت کیا بیشک اللہ تعالیٰ جب اپنے مومن بندے کی روح کو قبض کرنے کا ارادہ فرماتے ہیں تو وہ روح اس کی طرف جانے سے مطمئن ہوتی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے مطمئن ہوتے ہیں اور وہ روح اللہ تعالیٰ سے راضی ہوجاتی ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہوجاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ اس کے قبض کرنے کا حکم فرماتے ہیں، اور اس کو جنت میں داخل فرماتے ہیں اور اس کو اپنے نیک بندوں میں شامل کردیتے ہیں۔ 60۔ ابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابو صالح (رح) سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ارجعی الی ربک کے بارے میں روایت کیا کہ یہ ندا موت کے وقت ہوگی کیونکہ اس وقت اس کا اپنے رب کی طرف رجوع اور دنیا سے خروج ہوتا ہے جب قیامت کا دن ہوگا تو اس سے کہا جائے گا آیت فادخلی فی عبادی وادخلی جنتی۔ پس میرے بندو میں شامل ہوگا اور میری جنت میں داخل ہوگا۔ 61۔ طبرانی وابن عساکر نے ابو امامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک آدمی سے فرمایا اس طرح دعا مانگ اللہم انی اسئلک نفسا مطمئنۃ تو من بلقائک وترضی بقضائک وتقنع بعطائک اے اللہ بیشک میں آپ سے سوال کرتا ہوں نفس مطمئنہ کا اور میں ایمان رکھتا ہوں تیری ملاقات پر اور راضی ہوں تیرے فیصلے پر اور قناعت کرنے والا ہوں تیری عطا پر۔ 62۔ فریابی وعبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے آیت النفس المطمئنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اس سے مراد ہے عاجزی اور انکساری کرنے والا اللہ کے لیے۔ 63۔ عبدالرزاق وابن جریر نے قتادہ اور حسن رحمہما اللہ سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ سے مراد ایسا نفس ہے جو اس کی تصدیق کرنے والا ہو جو کچھ اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ 64۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النفس المطمئنہ سے ایسا مومن مراد ہے جو اس پر مطمئن ہے جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا آیت فادخلی فی عبادی یعنی نیک بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ 65۔ عبد بن حمید نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ارجع الی ربک یعنی لوٹ جا اپنے جسم کی طرف۔ 66۔ ابن المنذر نے محمد بن کعب قرظی (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ مومن جب مرتا ہے تو اپنی منزل کو جنت میں دیکھتا ہے۔ اور اللہ تبارک وتعالیٰ فرماتے ہیں آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی۔ یعنی اے نفس مطمئنہ تو اپنے جسم کی طرف لوٹ آ۔ جس سے تو نکلا ہے۔ راضیہ یعنی میرے اس ثواب پر راضی ہوتے ہوئے جو تو نے دیکھ لیا ہے۔ یہاں تک کہ منکر نکیر تجھ سے سوال کرن لگیں۔ 67۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت فادخلی فی عبادی سے مراد ہے تو میرے بندوں کے ساتھ داخل ہوجا۔ 68۔ ابن المنذر وابن ابی حاتم نے زید بن اسلم ؓ سے آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ کے بارے میں روایت کیا کہ اس میں اس کے لیے موت کے وقت جنت کی بشار یہ اور دوبارہ زندہ ہونے کے وقت بھی اور میدان قیامت میں جمع ہونے کے دن بھی۔ 69۔ ابن ابی حاتم والطبرانی نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ابن عباس ؓ نے طائف میں وفات پائی۔ ایک پرندہ آیا اور اس طرح کا کوئی پرندہ کسی آنکھ نے نہیں دیکھا تھا۔ اور وہ پرندہ ان کی لاش میں داخل ہوگیا۔ پھر اس کو نکلتے ہوئے نہیں دیکھا گیا۔ جب ان کو دفن کیا گیا تو ان کی قبر کے کنارے پر یہ آیت تلات کی گئی اور کسی نے نہیں جانا کہ کس نے اس آیت کو تلاوت کیا اور وہ یہ آیت تھی آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ۔ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ فادخلی فی عبادی۔ وادخلی جنتی۔ اے اطمینان والی روح اپنے رب کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی پس میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔