89. Surah Al-Fajr

الفجرThe Dawn · 30 ayahsاسرار التنزیل

Ayahs 89:1–30

وَ الْفَجْرِۙ Open ayah 89:1 in the Quran reader

فجر کی قسم

وَ لَیَالٍ عَشْرٍۙ Open ayah 89:2 in the Quran reader

اور دس راتوں کی

وَّ الشَّفْعِ وَ الْوَتْرِۙ Open ayah 89:3 in the Quran reader

اور جفت اور طاق کی

وَ الَّیْلِ اِذَا یَسْرِۚ Open ayah 89:4 in the Quran reader

اور رات کی جب جانے لگے

هَلْ فِیْ ذٰلِكَ قَسَمٌ لِّذِیْ حِجْرٍؕ Open ayah 89:5 in the Quran reader

یقینا یہ چیزیں عقلمندوں کے نزدیک قسم کھانے کے لائق ہیں

اَلَمْ تَرَ كَیْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ۪ۙ Open ayah 89:6 in the Quran reader

کیا تم نے نہیں دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد کے ساتھ کیا کیا

اِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ۪ۙ Open ayah 89:7 in the Quran reader

جو ارم (کہلاتے تھے اتنے) درازقد تھے

الَّتِیْ لَمْ یُخْلَقْ مِثْلُهَا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:8 in the Quran reader

کہ تمام ملک میں ان جیسے اور لوگ پیدا نہ کیے گئے

وَ ثَمُوْدَ الَّذِیْنَ جَابُوا الصَّخْرَ بِالْوَادِ۪ۙ Open ayah 89:9 in the Quran reader

اور ثمود کے ساتھ (کیا کیا) جو وادی (قریٰ ) میں پتھر تراشتے (اور گھر بناتے) تھے

وَ فِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۪ۙ Open ayah 89:10 in the Quran reader

اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا

الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ۪ۙ Open ayah 89:11 in the Quran reader

یہ گو ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے

فَاَكْثَرُوْا فِیْهَا الْفَسَادَ۪ۙ Open ayah 89:12 in the Quran reader

پھر ان میں بہت خرابیاں کرتے تھے

فَصَبَّ عَلَیْهِمْ رَبُّكَ سَوْطَ عَذَابٍۚۙ Open ayah 89:13 in the Quran reader

تو آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسایا

اِنَّ رَبَّكَ لَبِالْمِرْصَادِؕ Open ayah 89:14 in the Quran reader

بیشک آپ کا پروردگار تاک میں ہے

فَاَمَّا الْاِنْسَانُ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ رَبُّهٗ فَاَكْرَمَهٗ وَ نَعَّمَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَكْرَمَنِؕ Open ayah 89:15 in the Quran reader

مگر انسان (عجیب ہے) جب اس کا پروردگار اس کو آزماتا ہے پھر اسے عزت دیتا اور نعمت بخشتا ہے تو کہتا ہے (آبا) میرے پروردگار نے مجھے عزت بخشی

وَ اَمَّاۤ اِذَا مَا ابْتَلٰىهُ فَقَدَرَ عَلَیْهِ رِزْقَهٗ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ رَبِّیْۤ اَهَانَنِۚ Open ayah 89:16 in the Quran reader

اور جب (دوسری طرح) آزماتا ہے تو اس پر اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تو کہتا ہے (ہائے) میرے پروردگار نے مجھے ذلیل کیا

كَلَّا بَلْ لَّا تُكْرِمُوْنَ الْیَتِیْمَۙ Open ayah 89:17 in the Quran reader

ہرگز نہیں ! بلکہ تم لوگ یتیم کی خاطر نہیں کرتے

وَ لَا تَحٰٓضُّوْنَ عَلٰى طَعَامِ الْمِسْكِیْنِۙ Open ayah 89:18 in the Quran reader

اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی رغبت دلاتے ہو

وَ تَاْكُلُوْنَ التُّرَاثَ اَكْلًا لَّمًّاۙ Open ayah 89:19 in the Quran reader

اور میراث کو سمیٹ کر کھاجاتے ہو

وَّ تُحِبُّوْنَ الْمَالَ حُبًّا جَمًّاؕ Open ayah 89:20 in the Quran reader

اور مال کو بہت ہی عزیز رکھتے ہو

كَلَّاۤ اِذَا دُكَّتِ الْاَرْضُ دَكًّا دَكًّاۙ Open ayah 89:21 in the Quran reader

تو پھر جب زمین توڑدی جائے گی ریزہ ریزہ

وَّ جَآءَ رَبُّكَ وَ الْمَلَكُ صَفًّا صَفًّاۚ Open ayah 89:22 in the Quran reader

اور تمہارا پروردگار جلوہ فرما ہوگا اور فرشتے قطار درقطار

وَ جِایْٓءَ یَوْمَئِذٍۭ بِجَهَنَّمَ١ۙ۬ یَوْمَئِذٍ یَّتَذَكَّرُ الْاِنْسَانُ وَ اَنّٰى لَهُ الذِّكْرٰىؕ Open ayah 89:23 in the Quran reader

اور اس دن دوزخ (سامنے) لائی جائے گی اس روز انسان متنبہ ہوگا مگر اب انتباہ سے اسے فائدہ کہاں

یَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ قَدَّمْتُ لِحَیَاتِیْۚ Open ayah 89:24 in the Quran reader

کہے گا اے کاش ! میں نے اپنی (ہمیشہ کی) زندگی کے لئے کچھ آگے بھیجا ہوتا

فَیَوْمَئِذٍ لَّا یُعَذِّبُ عَذَابَهٗۤ اَحَدٌۙ Open ayah 89:25 in the Quran reader

پس اس دن اس (اللہ) کے عذاب کی طرح کا عذاب (کوئی کسی کو) نہ دے سکے گا۔

وَّ لَا یُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ Open ayah 89:26 in the Quran reader

اور نہ کوئی اس کی طرح قابو کرسکے گا

یٰۤاَیَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُۗۖ Open ayah 89:27 in the Quran reader

اے اطمینان پانے والی روح !

ارْجِعِیْۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةًۚ Open ayah 89:28 in the Quran reader

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل کہ تو اس سے راضی ہے (اور) وہ تجھ سے راضی

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْۙ Open ayah 89:29 in the Quran reader

پھر تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہوجا

وَ ادْخُلِیْ جَنَّتِیْ۠ Open ayah 89:30 in the Quran reader

اور میری بہشت میں داخل ہوجا

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا فرق مٹ جاتا ہے پھر عرفات میں حضور اور قربانی کا دن یہ سب ایک عظیم فضیلت بھی رکھتے ہیں اور اپنے اس ھال کے باعث جو ان لوگوں کا عبادت کے حوالے سے ہوتا ہے صاحب عقل کے لیے بہت بڑی شہادت ہے کہ زندگی کا انجام موت اور پھر آخرت کی حاضر ی جیسے رات ڈھل رہی ہو دنیا کی عمر بیت رہی ہو اور ہر لمحہ آخرت کے قریب تر کررہا ہے پھر اے مخاطب برائی کا انجام تو دنیا میں بھی بہت برا ہوا کیا تو نے عاد ارم یعنی پہلی قوم عاد جن کے جوان ستونوں جیسے تھے اور جن جیسی کوئی دوسری قوم پیدا نہیں کی گئی کا حال نہیں سنا۔ ثمود بھی عاد سے ارم پر جاکرمل جاتے ہیں انہیں عاد ثانی کہا گیا ہے اور یہ بھی مفسرین کرام نے نقل فرمایا کہ عاد اولی میں بادشاہ شداد بن عاد نے جنت بنائی تھی جو بـڑے بڑے ستونوں پر قائم سونے چاندی سے بنائی گئی اور ہیرے جواہرات جڑے تھے کہ لوگ مجھے اپنا معبود بناکر میری جنت حاصل کریں اس جنت کا نام ارم تھا مگر جب مکمل ہوئی اور سرداروں کے جلو میں دیکھنے کے لیے گیا تو جنت سمیت سب ہلاک ہوگئے اور پھر ان کے بعد ثمود کا بھی باعث عبرت حال ہے بہت طاقتور ذہین اور کاریگرلوگ تھے کہ پہاڑوں کو تراش کر شہروں میں بدل ڈالا جن کے آثار ابھی تک ملتے ہیں۔ باغیانہ دستور ملک عاد ، ثمود اور فرعونوں کا طریقہ تھا۔ فرعون جو اس قدر بگڑا ہوا تھا کہ جس پہ خفا ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں میں بڑے بڑے کیل گڑوا دیتا اور اس پر سانپ بچھو چھوڑ دیتا ان لوگوں نے ملکوں میں اور ملکی آئین میں ودستور میں اللہ سے بغاوت کی اور اپنی پسند کے ظالمانہ طریقوں کو اختیار کیا جس کے نتیجے میں ہر طرف فساد بپا ہوئے اور لوگوں کی جان ومال اور آبرولٹتی رہیں پھر ان پر عذاب الٰہی کا کوڑا برسا کہ تیرا پروردگار ہر شے پر نگاہ رکھے ہوئے ہے چندے مہلت ملتی ہے وہ بھی اس لیے کہ بندہ توبہ کرلے اور اصلاح کی راہ اختیار کرے لیکن ایک حد پہنچ کر ظلم کو عذاب الٰہی سے دوچار ہونا پڑتا ہے اللہ کے آزمانے کے بھی اپنے اپنے انداز ہیں کبھی تو انسان پر رزق عام کردیتا ہے اور اسے اقتدارواختیار عطا کرتا ہے تو وہ سمجھتا ہے کہ میری قابلیت و لیاقت اور دانش مندی کے باعث اللہ نے مجھے یہ مرتبہ عطا کیا ہے کہ اور کبھی اس کی آزمائش کے لیے روزی تک تنگ کردی جاتی ہے تو بڑا خفا ہوتا ہے کہ میرے ساتھ اللہ زیادتی کررہا ہے بھلا میں نے اللہ کا کیا بگاڑا ہے اور سمجھتا ہے کہ میں اپنی قابلیت کے باعث بہتر سلوک کا حق دار تھا ، یہ رویہ کفارومشرکین کا تھا مگر افسوس آج کل اکثر مسلمانوں کی سوچ بھی ایسی ہی ہے۔ اقتدار واختیار یابھوک و افلاس معیار مقبولیت نہیں۔ جبکہ معیار مقبولیت یہ نہیں بلکہ یہ ہے کہ ہر حال میں اللہ کا شکر کرنا نصیب ہوا اور اس کی اطاعت پہ کمربستہ رہے ، حالانکہ ان کا حال یہ تھا کہ یتیم ومجبور کو تو انسان سمجھنے کو تیار نہ تھے گویا کہ کمزور کی صرف مدد کرنا یایتیم کو زکوۃ دے دینا ہی سب کچھ نہیں اسے عزت وآبرو دنیا بھی اور اس کا اکرام بھی ضروری ہے اور جس قدر اختیار ہوتا توغریبوں اور محتاجوں کے حقوق ادا کرنے کی کوشش نہ کرتے یا بعض اوقات خود کسی کو کچھ دینے کے قابل نہ ہوں تو دوسروں کو ترغیب ہی دیں گے اور اگر خود صاحب اقتدار واختیار ہوں تو لوگوں کے حقوق چھین کر اپنی عیاشی کا سامان کرتے ہیں اور میراث پر نظر رکھتے اور لوٹ لوٹ کر جمع کرتے رہتے تھے کہ لوگوں کی موت ان کے لیے سامان عبرت نہ تھی بلکہ مرنے والے کا مال لوٹنے کی فکر زیادہ کرتے اور زندگی بھر صرف لوٹ لوٹ کر جمع کرنے ہی کو محبوب رکھا اور حلال و حرام کی پرواہ کیے بغیر مال جمع کیا پھرا س میں سے کسی کو کچھ بھی نہ دیا اور اسی کی محب کے اسیر رہے لیکن ایک وقت آنے والا ہے جب زمین پھٹ کر اور پہاڑ آپس میں ٹکڑا ٹکڑا کر تباہ ہوجائیں گے اور آسمان پھٹ جائیں گے دربار الٰہی سجے گا اور فرشتے فوج درفوج حاضر ہوں گے اور میدان حشر میں دوزخ کو لاکرسامنے کردیاجائے گا تب ہر آدمی کو سمجھ آجائے گی یہ کس قدر خوفناک ہے اور اس سے بچنا کتنا ضروری تھا مگر نصیحت سے فائدہ حاصل کرنے کا وقت تو گزرچکا ہوگا کہ یہ کام تو دنیا میں کرنے کا تھا جو دارالعمل تھی اب تو دار جزا میں ہو جو کیا ہے اس کا بدلہ ملے گا تو انسان کہے گا اے کاش میں نے اس آخرت کی حقیقی اور دائمی زندگی کے لیے نیک اعمال کرلیے ہوتے یہ سب اس لیے ارشاد فرمایا جارہا ہے کہ کتاب اللہ سے یہ حقائق سن کر لوگ جو دنیا میں ہیں عبرت حاصل اور آخرت کی فکر کرلیں کہ اس روز اللہ کا عذاب ایسا ہوگا جیسا کسی نے سوچا بھی نہ ہوگا اور اسکی گرفت اس قدر مضبوط ہوگی کہ کسی کے نکل بھاگنے کا کوئی تصور نہ ہوگا۔ ذکر اللہ کی برکات۔ دوسری جانب اللہ کے ان بندوں کو جنہوں نے ذکر الٰہی اور مجاہدات سے اپنے نفس کو اس مقام پر پہنچایا کہ اللہ کی یاد سے اطمینان و سکون پاتا اور اللہ کی نافرمانی باعث بےقراری بن جاتی ذکر اللہ جس کا مزاج اور شریعت اس کی طبیعت ثانیہ ہوگئی کہ ارشاد ہوگا کہ میرے خاص بندوں میں شامل ہوکرمیری جنت میں داخل ہوجا۔ صحبت صالح۔ گویاصحبت صالح اور اللہ کے نیک بندوں کا ساتھ جنت میں داخلے اور اللہ کی رضا کی ضمانت ہے کہ دنیا میں بھی نصیب ہو اور آخرت میں بھی نصیب ہوکردائمی راحمت کے گھر میں داخلے کا باعث ہوگی۔