Ayah 89:1(1) " فجر " کی قسم اور کا مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا کہ " قسم ہے فجر کی " جس میں لوگ بیدار ہونے کے بعد اپنے اپنے کاموں میں لگ جاتے ہیں۔ جو درحقیقت ایک نمونہ ہے مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے کا، جس سے انسان کو روزانہ اس حقیقت کبری، یعنی بعث بعد الموت کی تذکیر و یاددہانی اور ریہرسل کرائی جاتی ہے، جیسا کہ حدیث شریف میں وارد اس دعا میں بھی یہی تعلیم و تلقین فرمائی گئی ہے جو اس موقع پر پڑھی جاتی ہے۔ چناچہ اس میں ارشاد فرمایا گیا " الحمدللہ الذی احیانا بعد اماتنا والیہ النشور " یعنی " سب تعریفیں اللہ کے لیے جس نے ہمیں موت کے بعد زندگی سے سرفراز فرمایا اور سب نے جانا بہرحال اسی کے پاس ہے "۔ مگر افسوس کے غافل انسان روزانہ کے اس عظیم الشان سامان تنبیہ و تذکیر سے نہ کوئی درس عبرت لیتا ہے اور نہ کوئی نصیحت حاصل کرتا ہے، بلکہ وہ محض ایک حیوان بن کر رہ گیا ہے، اور ایسا کہ عقل و خرد کی وہ روشنی جو قدرت نے اس کو راہ حق و ہدایت کی معرفت وتمیز ہی کے لیے بخشی تھی اس کو اس نے مادہ و معدہ کی خدمت اور ان کی غلامی میں لگا دیا۔ اور اس کے نتیجے میں وہ اللہ پاک کے اس عظیم الشان اور پر حکمت نظام سے مادی اعتبار سے طرح طرح سے مستفید و فیضیاب ہوتا ہے، مگر وہ کبھی اس بارے میں سوچتا اور غور تک نہیں کرتا کہ یہ کس قادر مطلق کی قدرت مطلقہ اور رحمت بےنہایت کا کرشمہ ہے ؟ کس نے ایسی ایسی نعمتوں سے اور ایسے پر حکمت طریقے و محیر العقول نظام کے تحت مجھے اور باقی تمام مخلوق کو اس قدر وسیع پیمانے پر نوازا ہے ؟ اور لگاتار نوازے جارہا ہے، اس کا مجھ پر حق کیا ہے ؟ اور اس کا یہ حق ادا کرنے کی شکل و صورت کیا ہوسکتی ہے ؟ اور اس سب کا نتیجہ و انجام کیا ہے ؟ اور آگے کیا ہونے والا ہے ؟ وغیرہ وغیرہ۔ اور اس طرح مادہ پرست انسان اللہ تعالیٰ کی عنایت و عطا فرمودہ ان عظیم الشان نعمتوں کے اصل حقیقی اور سب سے بڑے فائدے سے محروم رہتا ہے، یعنی معرفت خداوندی اور شکر نعمت کی لذت سے سرفرازی و شادکامی، جو کہ سب سے بڑی محرومی اور سب سے بڑا اور تباہ کن خسارہ ہے، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ بہرکیف فجر کی اس قسم سے اس عظیم الشان اور جلیل القدر حقیقت کو واضح فرمادیا گیا کہ جس طرح رات کے خاتمے کے بعد ایک متعین نظام الاوقات کے تحت صبح اپنے وقت مقرر پر نمودار ہوتی ہے، اسی طرح قیامت بھی اپنے مقررہ وقت پر ظاہر ہو کر رہے گی، اور جس طرح آج تم لوگ صبح کے وقت آنکھیں ملتے ہوئے نیند سے بیدار ہوتے ہو، اسی طرح جب قیامت کا وہ وقت مقرر آئے گا تو تم لوگ اپنی موت کی نوم عمیق سے بیدار ہو کر سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے پاؤ گے۔ اور پھر حیرت زندہ ہو کر کہو گے کہ جس نے ہمیں ہماری قبروں سے اٹھایا۔ (آیت، یس 52 پ 23) سو ہر طلوع فجر کی روشنی تمہیں اس حقیقت سے آگاہ کرتی ہے مگر تم ہو کہ پھر بھی آنکھیں نہیں کھولتے اور خواب غفلت سے نہیں چوکتے۔ والعیاذ باللہ۔ بہرکیف طلوع فجر سے ہر روز ملنے والے ان عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت پر تنبیہ و تذکیر کے لیے قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر اسی طرح کی قسمیں کھائی گئی ہیں۔ مثلا سورة مدثر میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، المدثر 34 پ 29) یعنی قسم ہے صبح کی جبکہ وہ روشن ہوجائے، نیز سورة تکویر میں ارشاد فرمایا گیا ( آیت، تکویر 18 پ 30) یعنی قسم ہے صبح کی جب وہ سانس لینے لگے۔ اللہ ہمیشہ ہر حال میں اور ہر اعتبار سے راہ حق و ہدایت پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 89:2(2) دس راتوں کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے دس راتوں کی "۔ ان دس راتوں کی تعیین و تشخیص میں حضرات مفسرین کرام کے مختلف قول ہیں۔ مثلا یہ کہ اس سے مراد ذی الحجہ کے عشرہ اولی کی دس راتیں ہیں کہ ان میں کیا جانے والا عمل اللہ تعالیٰ کے یہاں سب سے زیادہ محبوب ہے، یہاں تک کہ جہاد فی سبیل اللہ سے بھی زیادہ ہو، مگر یہ کوئی شخص اللہ کی راہ میں ایسی قربانی پیش کرے کہ اس کی جان و مال میں سے کوئی چیز بھی واپس نہ لوٹے ( رواہ البخاری وغیرہ) یا اس سے مراد محروم کی ابتدائی دس راتیں ہیں کہ انہیں میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کی قوم کو فرعون اور اس کی غلام سے نجات ملی تھی۔ یا اس سے مراد رمضان المبارک کی وہ دس راتیں ہیں کہ جن میں " لیلۃ القدر " ہوتی ہے وغیرہ وغیرہ۔ ( روح، قرطبی، جامع البیان، صفوۃ البیان، ابن کثیر، مدارک التنزیل وغیرہ) مگر ظاہر و متبادر اور راجح یہ ہے کہ اس سے مراد بغیر کسی تعیین و تشخیص کے مطلقا دس راتیں لی جائیں، جو کہ ہر عشرے کی راتوں پر صادق آتی ہیں کہ ہر عشرے کی یہ تبدیلی بھی اللہ پاک کی عظیم الشان حکمت اور اس کی قدرت پر دلالت کرتی ہے، ( المراغی، وغیرہ) اور " لیال عشر " کی تنکیر و تنوین کا تقاضا بھی یہی ہے کہ ان کو اپنے عموم و شمول پر رکھا جائے، اس کی تعیین کے سلسلے میں جن بعض احادیث و روایات سے استفاد کیا جاتا ہے وہ صحیح نہیں۔ ورنہ یہ ممکن نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ سے ثبوت کے باوجود حضرات صحابہ وتابعین کرام ؓ کے درمیان اس میں اختلاف پایا جاتا۔ اور صحیح روایت کی موجودگی میں یہ حضرات اس کے خلاف اپنی طرف سے کوئی رائے قائم کرتے۔ بہرکیف منصوص تفسیر نہ ہونے کے علاوہ زبان وبیان کے تقاضوں کے مطابق بھی اصل اور بہتر یہی ہے کہ یہاں پر وارد کلمہ عشر کو اپنے ظاہر و عموم ہی پر رکھا جائے اور یہ اس لیے کہ یہاں پر " لیال عشر " استعمال ہوا ہے، جو مہینے کے ہر عشرے پر صادق آتا ہے، جبکہ اگر یہاں پر ان دس راتوں سے مراد کوئی خاص عشرہ ہوتا جیسا کہ مفسرین کرام کے ان اقوال میں ذکر کیا گیا ہے تو یہاں پر یہ لفظ نکرہ نہیں معرفہ استعمال ہوتا اور " لیال عشر " کی بجائے " اللیال " عشر فرمایا گیا ہوتا، جیسا کہ عربی زبان اور اسلوب کا عام تقاضا ہے، سو یہ ایک واضح اور ایک صریح قرینہ ہے اس بات کا یہاں پر ان دس راتوں سے کوئی خاص دس راتیں مراد نہیں، بلکہ اس سے مراد ہر عشرہ ہے۔ ھذا ما عندی والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ ، وھو اعلم بمراد کلامہ جل وعلا۔ حضرات مفسرین کرام کے درمیان اس بارے میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اور جو مختلف اقوال ان سے اس بارے میں اور ایسے ہر موقع سے متعلق ملتے ہیں کہ اس کی اصل اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ وہ دوسرے عام مواقع اور انسانی قسموں کی طرح حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے کھائی جانے والی قسموں کے بارے میں بھی یہی نظریہ رکھتے ہیں کہ یہ قسمیں بھی مقسم بہ کی عظیم کی بنا پر کھائی گئی ہیں۔ اس لیے وہ مقسم بہ بھی ایسا تلاش کرتے ہیں جس میں اس کی تعظیم کا کوئی خاص پہلو یا کئی پہلو پائے جاتے ہوں۔ حالانکہ اصل اور حقیقت یہ ہے کہ یہ صفت و شان مخلوق کی قسموں کی ہوتی ہے، اسی لیے مخلوق کے لیے اللہ پاک کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھانا جائز نہیں، بلکہ اس کو شرک اور کفر قرار دیا گیا ہے، جیسا کہ صحیح احادیث میں اس بارے میں تصریح موجود ہے، بلکہ حق تعالیٰ کی قسمیں دراصل اس بنا پر ہوتی ہی نہیں ہیں، بلکہ وہ اس لیے ہوتی ہیں کہ ان میں دراصل مقسم علیہ کے لیے دلیل موجود ہوتی ہے۔ سو ہر عشرے کی دس راتوں کا عروج وزوال اہل دنیا کو پکار پکار کر دعوت غور و فکر دے رہا ہے اور اس حقیقت سے آگہی بخش رہا ہے، کہ اس کائنات میں تدریج و ترتیب کا جو حکمتوں بھرا نظام رائج ہے، اس کے مطابق بالآخر یہ دنیا بھی ایک دن ختم ہوجائے گی اور فیصلے کی وہ گھڑی اپنے وقت مقرر پر پہنچ کر رہے گی، جس میں عدل و انصاف کے تقاضوں کے عین مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کیا جائے گا، اور ہر کوئی اپنے کیے کرائے کا صلہ اور بدلہ پا کر رہے گا، اور اس روز سب لوگ دو حصوں میں بٹ جائیں گے، ایک سعادت مند اور کامیاب لوگوں کا گروہ ہوگا، جو ابدی آرام و راحت سے سرفرا ہوگا، اور دوسرا اشقیاء اور بدبختوں کا وہ گروہ ہوگا جو دائمی عذاب میں مبتلا ہوگا۔ والعیاذ باللہ۔ اور اس طرح ( آیت، الشوری 7 پ 25) کی حقیقت کبری سب کے سامنے آجائے گی، اللہ ہمیشہ اپنی پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 89:3(3) جفت اور طاق کی قسم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے جفت اور طاق کی "۔ اس میں سب مخلوق کی قسم آگئی، کیونکہ مخلوقات میں سے ہر چیز یا طاق ہوگی یا جفت، چناچہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الذاریات 19 پ 27) یعنی " ہم نے ہر چیز کے جوڑے پیدا کیے تاکہ تم لوگ سبق لو "۔ یا اس سے مراد مخلوق اور خالق کی قسم ہے، کیونکہ " شفع " سے مراد مخلوق ہے " اور " وتر " سے مراد حضرت خالق جل مجدہ کہ وہ واحد، واحد الفرد الصمد۔ اور تنہا و یکتا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور " وتر " اس کے اسمائے حسنی میں سے ایک جوڑا دو طاقوں سے مل کر بنتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوا کہ ہر چیز ایک پہلو سے طاق ہے، اور دوسرے سے جفت، اسی امر واقعی کا حوالہ دیتے ہوئے قرآن حکیم میں مختلف جوڑوں کی طرف توجہ دلائی گئی ہے۔ مثلا زمین و آسمان، ظلمت و نور، دھوپ چھاؤں، سردی گرمی اور نر و مادہ وغیرہ وغیرہ۔ جس میں کئی اہم اور عظیم الشان درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ جن میں سے ایک بڑا درس یہ ہے کہ ہر چیز کے اندر ایک ایسا خلا موجود ہے جو اس کے جوڑے سے مل کر ہی پورا ہوتا ہے، اس کے بغیر وہ چیز ناقص رہتی ہے، سو اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ایک ایسی قادر مطلق اور حکیم مطلق ہستی موجود ہے جو ان تمام اجزائے مختلفہ سے بالا تر ہے، جو ہر لحاظ سے کامل اور ہر نقص سے پاک ہے۔ سو وہی ہے اللہ جو یکتا اور معبود برحق ہے، سبحانہ و تعالیٰ ۔ جو اس پر حکمت طریقے سے طاق اور جفت کے یہ بےحدو حساب سلسلے پیدا فرماتا ہے، جس سے اس کی قدرت کاملہ، حکمت بالغہ، عنایت شاملہ، رحمت واسعہ، اور وحدانیت مطلقہ کا پتہ چلتا اور ثبوت ملتا ہے، اور کائنات کی ہر چیز اپنی زبان حال سے پکار پکار کر اپنے خالق ومالک کی عظمت شان کا درس دیتی ہے، اور جس طرح زوجین میں سے ہر چیز کا وجود اپنے مقابل اور اپنی ضد کا محتاج ہے اس کے بغیر نہ اس کے وجود کی حقیقت پوری طرح واضح ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کے مقصد وجود کی تکمیل ہوسکتی ہے، اس لیے کہا جاتا ہے " و بضدھا تتین الاشیائ " یعنی ہر چیز کی حقیقت اس کی ضد ہی سے واضح ہوجاتی ہے "۔ سو اسی سے یہ حقیقت بھی واضح ہوجاتی ہے کہ آخرت کے وجود اور اس کی حقیقت کو ماننے اور تسلیم کیے بغیر اس دنیا کا وجود بھی عبث اور بیکار ہو کر رہ جاتا ہے، جو آج ہمارے سامنے موجود ہے، اور جس میں ہم رہتے بستے ہیں، اور ظاہر ہے کہ یہ چیز حضرت خالق حکیم جل مجدہ کی حکمت بالغہ اور اس کی رحمت شاملہ کے تقاضوں کے خلاف ہے، سبحانہ و تعالیٰ ، سو قانون زوجیت یعنی جفت و طاق کا تقاضا بھی یہی ہے کہ آخرت کو مانا اور تسلیم کیا جائے، ورنہ اس دنیا کا وجود بیکار ہو کر رہ جائے گا۔ ورنہ دنیا کا یہ سارا کارخانہ ہست و بود عبث ہو کر رہ جائے گا۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء و انحراف من کل سوء و شر۔
Ayah 89:4(4) گزرتی رات کی قسم اور اس سے مقصود مراد ؟ سو ارشاد فرمایا گیا " اور قسم ہے رات کی جبکہ وہ رخصت ہونے لگے "۔ کہ اس وقت اس وحدہ لاشریک کی قدرت ایک کرشمے کا ظہور و بروز ہوتا ہے کہ اس وقت رات کے اندھیرے اور سناٹے کا خاتمہ ہوتا ہے، اور دن کے اجالے میں حرکت و عمل کا آغاز، اور یہ ایک عظیم الشان انقلاب کا نمونہ و مظہر ہے۔ سو دیکھو کہ کس پر حکمت طریقے سے رات کا سناٹا رخصت ہوتا ہے اور دن کا ہنگامہ خیز اجالا اپنا منہ دکھاتا ہے، بس اسی طرح تم سمجھو کہ ایکو قت وہ بھی آئے گا جب دنیاوی ظلمتوں کی یہ رات رخصت ہوگی اور آخرت کے اس روز جزا کے طلوع کی سفیدی ظاہر ہوگی، سو کتنا بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے جو شب و روز کے ادلتے بدلتے اس پر حکمت نظام میں انسان کی تنبیہ و تذکیر کے لیے قدرت کی طرف سے رکھا گیا ہے، لیکن غافل انسان اس سے سبق نہیں لیتا۔ بہرکیف اس میں عظیم الشان عبرت و بصیرت ہے، اسی لیے قرآن حکیم میں جا بجا اس طرف تنبیہ فرمائی گئی ہے۔ مثلا سورة مدثر میں ارشاد ہوتا ہے ( آیت، مدثر 33, 34 پ 29) یعنی " قسم ہے رات کی جب وہ پیٹھ پھیر لے اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوجائے "۔ نیز دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، تکویر 17, 18 پ 30) یعنی " قسم ہے رات کی جبکہ وہ جانے لگے، اور صبح کی جبکہ وہ سانس لے " سو جس طرح رات اور دن کی آمدورفت کا ایک وقت مقرر ہے، اور ان میں سے ہر ایک اپنے وقت پر ہی آتا ہے اس سے نہ آگے ہوسکتا ہے نہ پیچھے۔ اسی طرح دنیا کے خاتمے اور آخرت کی آمد کا بھی ایک وقت مقرر ہے، اس سے پہلے نہ وہ آسکتی ہے اور نہ اپنے اس وقت مقرر سے تل سکتی ہے، سو بڑے بدبخت اور محروم ہیں وہ لوگ جو اس کے منکر اور اس سے غافل و لاپروا ہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ یہاں رات کی قسم کے ساتھ " اذا یسر " کی قید لگائی گئی ہے، جس سے خاص طور پر اس وقت کی طرف توجہ دلائی گئی ہے جبکہ وہ رخصت ہونے کے لیے چل کھڑی ہوتی ہے، اور افق پر طلوع فجر کے آثار نمایاں ہونے لگتے ہیں، سو اس سے ایک تو یہ اہم اور بنیادی حقیقت واضح ہوجاتی ہے کہ کائنات کے تمام عناصر اور جملہ احوال و کو ائف خالق کائنات کے ہاتھ میں مسخر ہیں۔ وہ جب چاہے اور جیسے چاہے ان کو پھیر دے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور دوسری یہ کہ رات کا یہ ادبار اور دن کا اقبال ظہور قیامت کی ایک عظیم الشان تمثیل ہے، اور تیسری اہم حقیقت اس سے یہ واضح ہوجاتی ہے کہ یہ دنیا اپنے انجام کے اسی طرح قریب ہے جس طرح کہ رات کا آخری حصہ سپیدہ صبح کے طلوع کے قریب ہوتا ہے، وغیرہ وغیرہ۔ والحمدللہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب۔
Ayah 89:5( 5) انسان کے عقل و ضمیر پر دستک کا ذکرو بیان : سو انسان کے عقل و ضمیر پر ایک دستک کے طور پر استفہام وسوال کے انداز میں ارشاد فرمایا گیا کہ " کیا ان چیزوں کے اندر ایک عظیم الشان قسم نہیں عقلمند کے لیے " ؟ استفہام تقریر و تاکید کے لیے ہے، یعنی ہاں واقعی اس طرح کی ان قسموں میں اور ان میں سے ہر ایک ارشاد میں عظیم الشان مضمون ہے قسم کا۔ اور بڑا سامان عبرت و بصیرت ہے ہر صاحب عقل و فکر کے لیے کہ جس قادر مطلق سبحانہ و تعالیٰ ، اور حکیم مطلق جل وعلا، کی قدرت بےپایاں اور حکمت بےنہایت کے یہ عظیم الشان مظاہر سب کے سامنے موجود ہیں، اس کے لیے نہ تو انسان کو دوبارہ پیدا کرنا کچھ مشکل ہوسکتا ہے اور نہ ہی اس کی یہ مخلوق و کائنات بےمقصد و عبث ہوسکتی ہے، اور روز جزا کے بغیر اس کائنات کے مقصد و جود کی تکمیل نہیں ہوسکتی۔ لازم ہے کہ فیصلے کا وہ دن آئے جو کہ قیامت کا یوم عظیم ہے تاکہ اس میں ہر انسان کی زندگی بھر کے کیے کرائے کا پورا پورا صلہ و بدلہ ملے، عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوں، اور اپنی آخری اور کامل شکل میں پورے ہوں، اور اس حکمتوں بھری عظیم الشان کائنات کے وجود اور اس کے مقصد تخلیق کی تکمیل ہوسکے، ورنہ یہ سارا کارخانہ قدرت عبث و بیکار قرار پائے گا، جس سے وہ خالق پاک اور بالا و برتر ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو جو ہر عقل کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کائنات میں پھیلی بکھری ان نشانیوں میں غور وفکر سے کام لے کر راہ حق و ہدایت کو اپنائے، تاکہ خود اس کا بھلا ہو، اور استفہامیہ اسلوب کے اندر روز جروملامت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے اور اتمام حجت کا بھی، سو نعمت عقل کا تقاضا اور اس کے شایان شان امر یہ ہے کہ انسان اس سے کام لے کر کائنات کی اس کھلی اور عظیم الشان و بےمثال کتاب میں غور و فکر سے کام لے کر اس نشانیوں سے درس عبرت و بصیرت حاصل کرے، جو اس میں ہر طرف پھیلی بکھری ہیں، اور جو اپنی زبان حال سے پکار پکار دعوت غور و فکر دے رہی ہیں، اور اہل عقل و بصیرت کو ان نشانیوں کی طرف توجہ دلا رہی ہیں جو ان کے اندر اصل منزل اور اس کے راستے کے لیے موجود و مضمر ہیں، لیکن یہ سب کچھ صرف ان کے لیے جو عقل و فکر سے صحیح طور ہر کام لیتے ہیں جس سے وہ نتائج اخذ کرتے اور صحیح راستے کو اپناتے ہیں، ورنہ ہٹ دھرموں کے لیے اس میں کوئی فائدہ نہیں۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، وباللہ التوفیق لما یحب ویرید، وعلی ما یحب ویرید، بکل حال من الاحوال فی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو الھادی الی سواء السبیل، فعلیہ نتوکل و بہ نستعین، وفی کل ان و حین۔
Ayah 89:6(6) تاریخ سے درس عبرت لینے کی تعلیم و تلقین : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور بطور سوال و استفہام اور شاد فرمایا گیا کہ " کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے کیسا معاملہ کیا عاد کی سرکش قوم کے ساتھ ؟ " یعنی جو آخر کار اس انجام کو پہنچ کر رہے جس کا حق دار انہوں نے اپنے کفر و انکار اور اعراض و استکبار کی بنا پر اپنے آپ کو خود بنا لیا تھا۔ سو یہ تاریخ سے حوالہ و ثبوت ہے اس بات کا کہ کفر و انکار اور اعراض و استکبار کا نتیجہ و انجام ہلاکت و تباہی اور ابدی خسارہ و نقصان ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس سے اس اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ اس کائنات کا خالق ومالک اپنے قانون امہال اور استدراج کے مطابق قوموں کو ایک عرصہ تک ڈھیل دیتا ہے، جتنی ڈھیل اس کی حکمت اور اس کی سنت کے تقاضوں کے مطابق ہوتی ہے، لیکن جب وہ باز آنے کی بجائے اپنی سرکشی میں انتہا کو پہنچ جاتی ہیں تو بالآخر وہ ان کو پکڑتا ہے، اور ایسا پکڑتا ہے کہ وہ نمونہ عبرت اور قصہ پارینہ بن کر رہ جاتی ہیں۔ اور حضرت خالق جل مجدہ ان کا وجود ہی صفحہ ہستی سے مٹا دیتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ بہرکیف یہاں پر پہلے اوپر والی آیات کریمات میں آفاقی نشانیوں کی گواہی پیش کی گئی، اور اب اس سے تاریخ کے حوالے سے درس عبرت دیا گیا ہے کہ حضرت خالق جل مجدہ کا منکر و سرکش اور باغی و طاغی قوموں کے ساتھ یہ معاملہ اس بات کا کھلا ثبوت اور ایک تاریخی شہادت ہے کہ اس مجموعی دنیا کے لیے بھی ایک یوم حساب آئے گا جس میں ہر شخص اپنی انفرادی حیثیت میں اپنے زندگی بھر کے کیے کرائے کا حساب دے گا اور وہ اس کا صلہ وبدلہ پائے گا، تاکہ اس طرح عدل و انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔ اور علی وجہ الکمال پورے ہوسکیں، سو وہی دن یوم قیامت ہے، جو کہ کامل عدل و انصاف کا دن ہوگا اور اصل اور حقیقی کامیابی وہی ہے جو اس یوم فصل وتمیز میں نصیب ہو، پس اسی کے تقاضوں اور اس کی کامیابی کو اپنا نصیب العین بنانا اصلاح احوال کی اصل اساس ہے جبکہ اس سے اعراض و روگردانی محرمیوں کی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، جل وعلا من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، بکل حال من الاحوال۔
Ayah 89:7(7) ذات العماد کا معنی و مفہوم اور اس سے مقصود و مراد ؟ سو " ذات العماد " ستونوں والوں سے ایک طرف تو ان لوگوں کے لمبے قدوں کی طرف اشارہ ہے کہ ان کے قد بھی بہت اونچے اونچے تھے، جیسا کہ فرمایا گیا ( آیت، قمر 20 پ 27) یعنی وہ اس طرح گرے پڑے تھے گویا کہ وہ تنے ہیں اکھڑی ہوئی کھجوروں کے، اور دوسرے مقام پر فرمایا گیا ( آیت، الحاقہ 7 پ 29) سو یعنی گویا کہ وہ تنے ہوں بوسیدہ کھجوروں کے، ان کے جسم اور ڈیل ڈول کھجوروں کے تنوں کی طرح تھے، جس کی بنا پر وہ فخریہ طور پر کہا کرتے تھے ( آیت، حم السجدہ 15 پ 24) یعنی " ہم سے بڑھ کر طاقتور اور کون ہوسکتا ہے ؟ " نیز وہ لوگ اپنی عظمت و بڑائی اور شان و شوکت کے اظہار اور نمود و نمائش کے لیے بڑے اونچے اونچے ستونوں والی بڑی بڑی یادگاریں بناتے اور محلات تعمیر کیا کرتے تھے، جیسا کہ ان پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان سے خطاب کر کے فرمایا تھا ( آیت، الشعراء 128, 129 پ 19) یعنی " تمہاری یہ کیا غفلت بھری روش ہے کہ تم لوگ ہر بلند مقام پر یونہی بےمقصد یادگار بنا ڈالتے ہو، اور تم بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو "۔ گویا تم لوگوں کو ہمیشہ کے لیے یہیں رہنا ہے "۔ یہاں پر یہ بھی واضح رہے کہ " عماد " کے معنی پختہ ستون کے بھی آتے ہیں، جیسا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے، سو اس اعتبار سے معنی و مطلب یہ ہوگا کہ یہ لوگ بڑے بڑے ستونوں پر پکی اور پختہ عمارتیں بنایا کرتے تھے، جیسا کہ سورة شعراء کی مذکورہ بالا آیات کریمہ سے پتہ چلتا ہے، اور کہتے ہیں کہ تاریخ میں یہ سب سے پہلی قوم تھی جس نے ایسے ستونوں پر ایسی عمارتیں بنائی تھیں۔ اور دوسرا مطلب " عماد " کا ہے " خیموں کے لیے استعمال کیے جانے والے لمبے لمبے ستون "۔ اور اس اعتبار سے بھی یہ قوم خاص شہرت رکھتی تھی ( ابن کثیر، محاسن التاویل وغیرہ) سو عاد کی اس سرکش و باغی قوم نے سنگ تراشی کے آرٹ میں بڑی ترقی کی تھی، اور ان کو اس پر بڑا ناز تھا، ان کے امراء کا خالص ذوق یہ تھا کہ یہ لوگ اونچی اونچی جگہ پر کوئی نہ کوئی یاد گار تعمیر کردیتے، اور ان کے پیغمبر حضرت ہود (علیہ السلام) نے ان کے اس مسرفانہ اور نمائش پسندانہ شوق تعمیر پر ان کی ملامت بھی فرمائی۔ جیسا کہ سورة شعراء کی آیت نمبر 128 میں اس کی تصریح فرمائی گہے، زکر ابھی اوپر کیا گیا ہے۔ سو ایسے اللے تللے کسی قوم کی تباہی کے بوادار میں سے ہوتے ہیں، والعیاذ باللہ العظیم۔ افسوس کہ آج مسلمانوں کے اندر بھی اس غفلت و لاپرواہی کے طرح طرح کے نمونے جا بجا ملتے ہیں۔ فالی اللہ المشتکی وھو المستعان۔ اللہ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین
(8) عاد ارم سے مقصود و مراد : سو اس سے مراد وہ عادر ارم ہیں جو ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے اور جن کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو نبی بنا کر بھیجا گیا تھا اور جن کو عاد اولی کہا جاتا ہے۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، النجم 50, 51 پ 27) یعنی " اس نے ہلاک کیا عاد اولی کو اور ثمود کو بھی، پھر اس ( قادر مطلق) نے ان میں سے کسی کو بھی باقی نہ چھوڑا "۔ اس ہولناک عذاب سے جو بچ گئے تھے وہ بعد میں پھلے پھولے تھے اور ان کی نسل چلی ان کو ثمود اور عاد اخری بھی کہا جاتا ہے، اور عاد ثانیہ بھی۔ بہرکیف ارم ان کے اجداد میں سے ایک صاحب کا نام تھا، جن سے ان کی عسکری اور تعمیری ترقیوں کا آغاز ہوا تھا، اور تاریخ سے پتہ چلتا ہے کہ یہ لوگ سامی نسل کی اس شاخ سے تعلق رکھتے تھے جو ارم بن سام کی نسل سے چلی تھی۔ اور " ذات العماد " ان لوگوں کی تعمیری ترقیوں کے لیے اسی طرح کا ایک کنایہ ہے جس طرح کہ ( آیت، سبا 13 پ 22) حضرت سلیمان (علیہ السلام) کی جود و کرم سے کنایہ، اور اس کی تعبیر ہے۔ یعنی حضرت سلیمان (علیہ السلام) کے پاس حوضوں جیسے لگن اور لنگر انداز رہنے والی عظیم الشان دیگیں تھی، سو حضرت سلیمان (علیہ السلام) سے متعلق ان چیزوں کا ذکر آنجناب کی فیاضی، مہمان نوازی اور غریب پروری کی شہادت اور ثبوت کے طور پر فرمایا گیا۔ علی نبینا علیہ الصلوۃ والسلام۔ اسی طرح ذات العماد قوم عاد کی مادی ترقی اور عیش پرستی سے کنایہ ہے۔ بہرکیف عاد ارم سے مقصود و مراد قوم عاد کے وہی لوگ ہیں جو ارم بن سام بن نوح (علیہ السلام) کی نسل میں سے تھے، جن کی طرف حضرت ہود (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا گیا تھا، اور جن کو عاد اولی بھی کہا جاتا ہے، اور ذات العماد ان لوگوں کی مادی تعمیر و ترقی سے کنایہ ہے، جیسا کہ ابھی گزرا۔ سو یہ قوم بھی انکار و تکذیب حق کے نتیجے میں آخر کار ہمیشہ کے لیے مٹ گئی۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار۔
Ayah 89:8(9) قوم عاد کی عظمت شان کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " جن کی مانند کوئی دوسری قوم پیدا نہیں کی گئی تھی "۔ ان کی قوت و شوکت کے اعتبار سے، اور جن کا دعوی تھا کہ " من اشد منا قوۃ " کہ " ہم سے بڑھ کر طاقت اور کس کی ہوسکتی ہے ؟ " اور اس قوم کا مسکن احقاف کا وہ علاقہ تھا جو کل آج کل موجودہ مملکت سعودیہ کے جنوب مغرب میں واقع صحرائے عرب، الربع الخالی کے نام سے مشہور و معروف ہے، جو کہ عمان سے لے کر یمن تک کی حدود کے وسیع و عریض علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ اور جس کے بارے میں آج کوئی اس بات کا گمان بھی نہیں کرسکتا کہ اس لق و دق صحرا میں کبیھ کوئی اس طرح کی متمدن قوم آباد رہی ہوگی۔ والتفصیل فی المفصل ان شاء اللہ۔ سو تعمیری اور مادی ترقیوں کے ساتھ ساتھ یہ لوگ اپنے جسمانی قدو قامت اور زور و قوت کے اعتبار سے بھی اس قدر نمایاں تھے کہ نہ ان کے دور کی کوئی قوم ان کی برابری کرسکتی تھی اور نہ ہی ان سے پہلے اس طرح کی کوئی قوم پیدا ہوئی تھی۔ سو وہ اپنے دور کی ایک بےنظر قوم تھی، قرآن حکیم میں دوسرے مختلف مقامات پر اس کی عظمت شان کے مختلف پہلوؤں کو بیان فرمایا گیا ہے، مثلا سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا کہ اللہ تعالیٰ نے تم لوگوں کو جسمانی ساخت میں خوب پھیلاؤ دیا، اور تم کو خوب تنو مند کیا ( آیت، اعراف 69) اور سورة شعراء میں ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " جب تم لوگ کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو جبار بن کر ڈالتے ہو " ( آیت، الشعراء 130) اور سورة حم السجدہ میں ارشاد فرمایا گیا کہ " عاد نے زمین میں اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا ناحق طور پر "، اور انہوں نے کہا کہ ہم سے بڑھ کر زور آور اور کون ہوسکتا ہے۔ ( آیت، حم السجدہ 15 پ 24) اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یارب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 89:9(10) قوم ثمود کا ذکر و حوالہ : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " اور کیا کیا تمہارے سب نے قوم ثمود کے ساتھ جنہوں نے تراشا تھا چٹانوں کو اس وادی میں " جو کہ وادی القری کہلاتی تھی جو عبرتوں بھری وادی کے طور پر جانی پہچانی جاتی تھی، اور جو کہ اب مدائن صالح کے نام سے مشہور و معروف ہے، اور موجودہ مملکت سعودیہ کے شمال مغرب میں خیبر سے آگے واقع ہے، جو کہ تبوک، عمان و اردن اور بلا شبہ شام کو جانے والی شاہراہ پر واقع ہے، اور زبان حال سے اپنی داستان عبرت آج تک لوگوں کو سنا رہی ہے۔ اور جب تک اللہ کو منظور ہوا ہمیشہ اسی طرح سناتی رہے گی، جہاں کی چٹانوں کے اندر ان لوگوں کے حیرت انگیز طور پر بنائے گئے مکانوں کے نشانات اور کھنڈرات اب تک موجود ہیں، اور کہا جاتا ہے کہ یہ تاریخ کی پہلی قوم تھی جس نے اس طرح کے مکانات بنائے، مگر اپنے کفر و انکار اور حجو و استکبار کی بنا پر یہ قوم ہمیشہ کے لیے مٹ مٹا کر قصہ پارینہ بن گئی، اور اب تک تاریخ و تکب کے صفحات میں ان کی داستان عبرت کے سوا اور کہیں ان لوگوں کا کوئی وجود نہیں رہ گیا۔ بہرحال اس سے عاد کے بعد ثمود کے انجام کی طرف اشارہ فرما دیا گیا، یہ لوگ قوم عاد ہی کے بقایا میں سے تھے، اور تعمیر و ترقی کے شوق میں یہ ان کے وارث ہوئے۔ چناچہ ان کو عاد ثانیہ کہا جاتا ہے، ان لوگوں نے ھی اپنے اسلاف کے طریقے پر پہاڑوں کو تراش کر اپنے لیے گھر بنائے تھے، جس کو یہاں پر " جابوا الصخر " کے الفاظ سے ارشاد فرمایا گیا ہے۔ لیکن اپنے کفر و انکار کے جرم میں یہ لوگ بھی بالآخر ہمیشہ کے لیے مٹ مٹا کر قصہ پارینہ اور داستان عبرت بن گئے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اس قوم کی تاریخ میں بھی یہی درس عبرت ہے کہ کفر و انکار اور تکذیب و استکبار کا نتیجہ و انجام بہرحال ہلاکت و تباہی ہے، ایسے لوگوں کو ڈھیل خواہ کتنی ہی ملے وہ بہرحال ایک ڈھیل ہی ہوتی ہے، جس نے بالآخر ختم ہو کر رہنا ہوتا ہے، اس لیے اس سے کسی کو کبھی دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے۔ والعیاذ باللہ۔ اللہ ہمیشہ اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین۔
Ayah 89:10(11) فرعون اور اس کے انجام کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور فرعون کے " ذی الاوتاد " یعنی میخوں والے کے ساتھ ؟ " یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے اس بدبخت کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ یہاں پر " ذی الاوتاد " یعنی میخوں والے سے کیا مراد ہے۔ سو ذی الاوتاد ( میخوں والے) کے اس عنوان کے بارے میں اس میں کئی احتمال ہیں۔ مثلا یہ کہ یہ اس کے استحکام مملک سے بھی کنایہ ہے کہ جس طرح میخوں سے خیمے وغیرہ کا استحکام ہوتا ہے، اسی طرح فرعون کا بھی اس کی فوجوں سے استحکام تھا۔ نیز یہ اس کی فوجوں کی کثرت سے بھی کنایہ ہوسکتا ہے کہ اس کی فوجیں جہاں پڑاؤں کرتی تھیں وہاں ان کے خیموں کی میخیں ہی میخیں ہر طرف ٹھکی نظر آتی تھی۔ نیز یہ بھی ممکن ہے کہ میخوں سے اہرام مصر کو تشبیہ دی گئی ہو، کیونکہ یہ فراعنہ مصر کی عظمت و شوکت کے وہ آثار ہیں جو میخوں کی طرح صدیوں سے سرزمین مصر پر ٹھکے کھڑے ہیں اور آج تک موجود ہیں۔ اور ہر صاحب عقل و بصیرت کو دعوت غور و فکر دے رہے ہیں، اور اپنی زبان حال سے پکار پکار کر کہہ رہے ہیں، کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو، مگر غافل انسان اس سے کل کی طرح آج بھی بیخبر اور لاپروا ہے، نیز یہ کہ اس سے مراد فرعون کا وہ طریقہ تعذیب ہے جس سے وہ اپنے مخالفوں کو دبایا کرتا تھا، کیونکہ روایات کے مطابق فرعون اپنے باغیوں کو چومیخہ کر کے مبتلا عذاب کیا کرتا تھا۔ سو " ذی الاوتاد " کا لفظ اپنے عموم کے لحاظ سے ان سب ہی معانی و مفاہیم کو شامل ہے۔ اور ان سب کی گنجائش اس لفظ کے اندر موجود ہے ( روح، ابن کثیر، محاسن التاویل، مدارک التنزیل، جامع البیان، خازن وغیرہ) بہرکیف یہ سب ہی معانی درست ہیں، اور یہ ایک نمونہ ہے عربی زبان کی باریکیوں لطافتوں اور سعت ظرف کا، اور نظر قرآنی کی عظمت اور جامعیت کا، کہ اس کے ایک ایک لفظ میں بڑے بڑے درسہائے عبرت و بصیرت ہیں۔ اور اس کی ایک ایک طرز تعبیر اور طریق ادا میں کئی طرح کے معنی اور مطالب عظیمہ پائے جاتے ہیں۔ فالحمدللہ رب العالمین۔ بہرکیف تاریخ کے اس حوالے سے بھی اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ فرعون کو بھی ڈھیل ملی، اور صدیوں تک کی ڈھیل ملی، لیکن آخر کار اس کا انجام وہی ہوا جو دوسرے منکرین و مستکبرین کا ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا قانون بےلاگ اور سب کے لیے یکساں ہے، بلکہ اس بدبخت کا انجام تو دوسروں سے کہیں بڑھ کر ہولناک اور عبرتناک ہوا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت اور پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، واکرم الاکرمین، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 89:11(12) طغیانی و سرکشی باعث ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کی ہلاکت کا باعث ان کی طغیانی اور سرکشی تھی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کی ہلاکت و تباہی کے سبب اور باعث کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سب نے سرکشی کی ان ملکوں میں "۔ کہ نہ انہوں نے خالق کے حقوق کی پروا کی نہ مخلوق کے حقوق کا کوئی پاس ولحاظ رکھا، جہاں چاہا ہاتھ مار لیا۔ جس سے موقع ملا ظلم کرلیا، اور جس کا چاہا حق مار لیا، اور اس سینہ زوری اور دست درازی کو اپنی بہادری سمجھا اور کمزوروں اور زیر دستوں پر ہاتھ ڈالا تو جابر اور ظالم بن کر، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا (آیت، الشعرائ 130 پ 19) یعنی جب تم لوگ کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو تو ظالم اور جبارین بن کر ہاتھ ڈالتے ہو، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو جس دولت و قوت، حکومت و سطوت، اور عزت و عظمت سے نوازا تھا، اور جو طرح طرح کے ذرائع و وسائل ان کو بخشے تھے ان کو پاکر یہ لوگ اپنے خالق ومالک حضرت واہب مطلق جل جلالہ کے آگے جھکنے اور اس کا شکر بجا لانے کی بجائے الٹا اس کے باغی اور سرکش بن گئے، اور اپنے خالق ومالک سے بےخوف و بےنیا اور نڈر و نچنت ہوگئے، اور یہ اس زعم اور گھمنڈ میں مبتلا ہوگئے کہ ان کو جو کچھ ملا ہے وہ ان کی ذاتی قابلیت اور کوشش کا نتیجہ، ان کی حسن کارکردگی کا کرشمہ اور ان کا حق ہے، اس کو نہ کوئی ان سے چھین سکتا ہے، اور نہ ہی وہ اس کے بارے میں کسی کے آگے جواب دہ ہیں۔ اور ان کے اس جھوٹے اور باطل گمان کے نتیجے میں یہ لوگ راہ حق و ہدایت سے محروم اور اس سے اس قدر دور ہوگئے کہ بالآخر اپنے ہولناک انجام کو پہنچ کر رہے، اور اس طرح اللہ پاک کی عطا کردہ وہ نعمتیں اور اس کی وہ عنایتیں ان کے لیے ہلاکت و تباہی کا پیش خیمہ بن گئیں۔ اور یہی نتیجہ ہوتا ہے پیغام حق کی تکذیب اور اس سے اعراض و روگردانی کا، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو طغیانی و سرکشی، ہلاکت و تباہی کا باعث ہے، پس بندوں کے لیے اصل چیز ان حدود بندگی کی پابندی و پاسداری ہے، جو حضرت خالق حکیم جل مجدہ نے ان کے لیے مقرر فرمائی ہیں، سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 89:12(13) انکار حق کا نتیجہ فساد و دمار، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ حق کے انکار اور اس سے روگردانی کا نتیجہ و انجام فساد و دمار ہے، والعیاذ باللہ العظیم۔ چناچہ ان منکرین و مکذبین کے بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " انہوں نے بڑا فساد مچایا ان ملکوں میں، یعنی انہوں نے فساد مچایا اپنے خالق ومالک کی اطاعت و بندگی سے منہ موڑ کر، اور کفر وانکار کو اپنا کر، کہ سب سے بڑا فساد اور خرابی کی جڑ بنیاد تکذیب و انکار حق ہی ہے کہ اس کے بعد انسان آخرت کی جواب دہی اور اپنے رب کے حضور پیشی کے خوف سے عاری ہوجاتا ہے، اور پھر وہ ہر طرح کے ظلم و زیادتی پر اتر آتا ہے، جائز و ناجائز کی تمیز اس کے یہاں ختم ہوجاتی ہے، اور حق و ناحق کا فرق اس کے نزدیک مٹ جاتا ہے۔ والعیاذ باللہ۔ دوسری طرف یہ بھی ایک اٹل حقیقت ہے کہ دین حق کی روشنی سے محرومی کے بعد انسان کے لیے نہ اپنے خالق ومالک کا حق پہنچانے کی کوئی صورت ممکن ہوسکتی ہے نہ ہی اس کی مخلوق کے حقوق پہچاننے کی، اور جب کوئی حقوق کو پہچان نہیں سکے گا تو ان کے ادا کرنے کیا سوال پیدا ہوسکتا ہے ؟ اور حقوق کی پہچان اور ان کی دائیگی سے محرومی ہی تو فساد ہے، والعیاذ باللہ۔ بہرکیف اس سے حقیقت کو وا ضح فرما دیا گیا کہ ان لوگوں نے حق کی تکذیب اور اس کا انکار کر کے ان ملکوں میں بہت بڑا فساد مچایا، یعنی ان لوگوں نے اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا ہو کر اور پیغام حق و ہدایت کا انکار رکے اپنے آپ کو روشنی سے نکال کر اندھیروں میں دھکیل دیا، ان کے قدم زندگی کی صراط مستقیم سے ہٹ گئے، اور انہوں نے اپنی باگ نفس و شیطان کے ہاتھ میں پکڑا دی، جس کا نتیجہ و انجام یہ ہوا ہے کہ ان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کے ہر شعبے میں فساد پھیل گیا، اور اس طرح وہ لوگ انسانیت کے منصہ شرف سے گر کر حیوانیت کے قعر مذلت میں پہنچ گئے، اور حیوان بلکہ حیوان کی سطح سے بھی گر کر " شر البریہ " یعنی بد ترین مخلوق بن گئے اور آخر کار اپنے اس انجام کو پہنچ کر رہے جو ایسوں کے لیے مقدر ہوتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال۔
Ayah 89:13(14) منکرین کے لیے عذاب خداوندی کا کوڑا : سو ارشاد فرمایا گیا کہ " آخر کار برسا دیا ان پر تمہارے رب نے عذاب کا کوڑا "۔ جس سے وہ ملیا میٹ ہوگئے اور قصے کہانیاں بن کر رہ گئے، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، سبا 19 پ 22) یعنی آخر ہم نے ان کے قصے کہانیاں بنا کر رکھ دیا، اور ان کو ٹکڑے ٹکڑے اور ذرہ ذرہ کردیا بلا شبہ اس میں بڑی بھاری نشانیاں ہیں پر بڑے صبر کرنے والے شکر گزار کے لیے، سو انکار آخرت تکذیب حق اور بغاوت و انحراف کے جرم کی سزا آخرت سے پہلے اس دنیا میں بھی ملتی ہے۔ اس مہلت اور وقت مقرر کے پورا ہونے پر جو کہ قدرت نے اس کے لیے مقرر کر رکھا ہوتا ہے، پس اس کے اس امہال سے کبھی کسی کو دھوکے میں نہیں پڑنا چاہیے، ( آیت فاطر 5 پ 22) یعنی خبردار کبھی تم لوگوں کو دھوکے میں نہ ڈالنے پائے دنیاوی زندگی ( اور اس کی چمک دمک اور زیب وزینت) اور نہ ہی کبھی تم لوگوں کو اللہ کے بارے میں دھوکے میں ڈالنے پائے وہ بڑا دھوکے باز " یعنی ابلیس لعین، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے اہم اور بنیادی حقیقت کو واضح فرما دیا گیا۔ سو اللہ تعالیٰ کا دستور اور اس کی قدیم سنت یہی ہے کہ وہ باغیوں کو بالآخر پکڑتا ہے اپنی سخت پکڑ میں، کوئی قوم خواہ کتنی ہی ترقی یافتہ اور کتنے ہی ذرائع و وسائل کی مالک کیوں نہ ہو، اور جب وہ کسی ایسی قوم کو پکڑنے پر آتا ہے تو ایسے موقع پر نہ وہ اس کے عذاب کا راستہ روک سکتی ہے، اور نہ اس کے عذاب کا رخ بدل سکتی ہے۔ اور اس حقیقت کو قرآن حکیم میں جا بجا فرمایا گیا ہے اور واضح وصریح طور پر بیان فرمایا گیا ہے، مثلا سورة اعراف میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اعراف والے دوزخ میں پڑی کچھ ایسی بڑی شخصیتوں سے کہیں گے کہ یہ کیا ہوا کہ نہ تمہاری جماعت اور نہ تمہارا جتھا اور گروہ تمہارے کچھ کام آسکا، اور نہ ہی دوسرا وہ ساز و سامان جس کی بنا پر تم لوگ اپنی بڑائی کے زعم و گھمنڈ میں مبتلا تھے، چناچہ ارشاد فرمایا گیا (آیت، اعراف، 48 پ 8) اور اسی بات کو سورة زمر آیت 50 پ 24 میں اس طرح بیان فرمایا گیا۔ (آیت) یعنی ان کے کچھ کام نہ آسکا وہ سب کچھ جو وہ کما رہے تھے، اور اسی مضمون کو سورة شعراء آیت نمبر 207 پ 19 (آیت) اور سورة مومن آیت نمبر 82 (آیت) اور سورة احقاف کی آیت نمبر 26 میں بیان فرمایا گیا ہے ( آیت) اور تاریخ گواہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایسی کتنی ہی قوموں کو ان کے دور عروج میں پکڑا، اور ایسا پکڑا کہ ان کے وجود ہی کو حرف غلط کی طرح صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔ سبحانہ و تعالیٰ ، والعیاذ باللہ جل وعلا۔ سو اللہ کا قانون اتل اور اس کا دستور ابدی و بےلاگ اور لازوال اور سب کے لیے برابر و یکساں ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔
Ayah 89:14(15) رب کے گھات میں ہونے کا ذکر اور اس کا مطلب ؟ سو ارشاد فرمایا گیا اور حرف " ان " اور لام تاکید کی ذیل تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ " بیشک تمہارا رب گھات میں ہے "۔ سو یہ غافل انسانوں کے دل و دماغ کو جھنجھوڑنے اور ان کو خواب غفلت سے بیدار کرنے اور چونکا دینے کے لیے ایک عظیم الشان اور موثر وبلیغ استعارہ ہے۔ گھات دراصل اس جگہ کو کہا جاتا ہے جہاں کوئی کسی کی تاک و انتظار میں بیٹھتا ہے کہ جونہی وہ نشانہ پر آئے اسے دھر لیا جائے، جبکہ اس شخص کو اس کا پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کوئی اس طرح اس کی تاک و انتظار میں گھات لگائے بیٹھا ہے، جس کے باعث وہ غفلت و لاپرواہی میں ایسے جارہا ہوتا ہے کہ اچانک دھر لیا جاتا ہے، سو اسی کے مطابق اس تعبیر و ارشاد سے یہ بتایا گیا ہے کہ غافل و منکر لوگ اپنے انجام و آخرت اور اپنے رب کی گرفت و پکڑ سے بےفکر و لاپروا یونہی اپنے سفر زندگی میں محو ہوتے ہیں کہ اچانکع ذاب خداوندی میں گرفتار ہو کر اپنے اس آخری انجام کو پہنچ جاتے ہیں۔ جس سے نکلنے اور بچنے کی پھر کوئی صورت ان کے لیے ممکن نہیں ہوتی، سو یہاں پر رحمت و عنایت خداوندی کا یہ بےمثال پہلو بھی ملاحظہ ہو کہ خود ہی واضح اور صریح طور پر اور ادوات تاکید کے ساتھ موکد کر کے ارشاد فرمایا جاتا ہے کہ تمہارا رب گھات میں ہے، تاکہ غافل لوگ اپنے انجام بد سے بچنے کی فکر و کوشش کریں، تو کیا اس کی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ گھات لگانے والا خود اعلانیہ طور پر خبردار کرے کہ میں گھات میں بیٹھا ہو، لہذا تم خبردار ہوجاؤ۔ جب نہیں اور یقینا نہیں تو پھر اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ رب رحیم و کریم کس قدر مہربان ہے اپنے بندوں پر، اور وہ کس کس طرح سے ان کو مآل و انجام سے خبردار کرتا ہے کہ یہ راہ حق و ہدایت پر آجائیں۔ فسبحان اللہ من رحمتہ الواسعۃ وکرمہ اللامتناہی، اللھم فکن لنا واجعلنا لک یا ارحم الراحمین۔ بہر کیف اس ارشاد ربانی کے ذریعے اس عظیم الشان حقیقت سے آگاہ فرما دیا گیا کہ اس کائنات کا خالق ومالک اس کی ایک ایک چیز پر نگاہ رکھے ہوئے ہے اور اس کی نگرانی فرما رہا ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ پس اس سے غفلت برتنے کا نتیجہ و انجام بڑا ہی تباہ کن ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔
Ayah 89:15(16) مادہ پرست انسان کا حال دنیا ملنے پر : سو اس سے انسان کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا ایک نمونہ و مظہر پیش فرمایا گیا ہے۔ سو یہ ہے ایمان و یقین کی دولت سے محروم انسان کی ذہنیت کا نمونہ اور اس کا ایک عکس و مظہر۔ کہ اس کو اگر دنیا کا کچھ مال وغیرہ مل گیا یا کچھ اور مادی فوائد و منافع حاصل ہوگئے اور کہیں کرسی اور اقتدار کا کوئی موقع مل گیا تو یہ پھول کر کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے عزت بخش دی، اور مجھے یہ اور وہ کچھ دے دیا، پھر اس سے آگے وہ اپنی خواہش ومرضی کے مطابق طرح طرح کے من پسند نتیجے نکالنے لگتا ہے کہ یہ میرا رب مجھ پر خوش ہے، جو کچھ میں کر رہا ہوں وہ صحیح ہے، اور جس راستے پر میں چل رہا ہوں وہ بالکل درست ہے، خواہ حقیقت نفس الامری اور امر واقع کے اعتبار سے وہ کتنا ہی غلط کار کیوں نہ ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اس طرح اس کو ملنے والی یہ دنیا اس کی محرومی میں مزید اضافے کا باعث بن جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اور اگر اس کے برعکس اس کو کوئی تکلیف پہنچ گئی یا کوئی نقصان ہوگیا تو اس کا حال یکسر مختلف ہوجاتا ہے کہ اس وقت یہ شکوں اور شکایتوں کے گویا دفتر کھول دیتا ہے کہ میرے رب نے میری توہین کردی، اور مجھے خوار کردیا، وغیرہ وغیرہ۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حالانکہ اصل بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ حضرت حق جل مجدہ کی طرف سے ابتلاء و آزمائش کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں۔ کبھی وہ دے کر آزماتا ہے اور کبھی چھین کر، کبھی وہ بندے کے شکر کی آزمائش کرتا ہے اور کبھی اس کے صبر کی، وغیرہ وغیرہ۔ اللھم فوفقنا لما تحب وترضی من القول والعمل، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ۔ بہر کیف اس ارشاد سے تنگ ظرف اور مادہ پرست انسان کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا یہ رخ پیش فرمایا گیا ہے کہ جب اس کو فراخی اور خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو یہ اس گھمنڈ میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے یہاں اس کی بڑی قدرو قیمت ہے، اور وہ جو کچھ کرتا ہے وہ سب ٹھیک ہے، اور اس کے نتیجے میں ایسا انسان فخرو غرور میں مبتلا ہو کر طغیان و فساد کی راہ پر چل پڑتا ہے، اور اس طرح اس کی دنیا اس کے لیے محرومی اور ہلاکت کا باث بن جاتی ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ ہمیشہ اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، ویامن بیدہ ملکوت کل شیئ۔
Ayah 89:16(17) مادہ پر سات انسان کا حال اس کی تنگ دستی میں : سو اس بارے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " جب اللہ اس کی روزی تنگ کردیتا ہے تو یہ کہتا ہے کہ میرے رب نے مجھے خوار کردیا "۔ کہ میری روزی تنگ کردی، یا مجھے فلاں تکلیف اور مصیبت میں مبتلا کردیا، وغیرہ۔ سو یہ طریقہ و وطیرہ ایمان و یقین کی دولت سے محروم اس انسان کا ہوتا ہے جس کے نزدیک دنیا اور اس کے عارضی اور مادی فوائد اور منافع ہی سب کچھ ہوتے ہیں۔ بخلاف مومن صادق کے کہ اس کے نزدیک اصل زندگی آخرت کی زندگی ہے، جو کہ حقیقی اور ابدی زندگی ہے، اور اصل حقیقی کامیابی وہاں کی کامیابی ہے۔ اور اس دنیا کی ہر حالت ابتلاء و آزمائش ہی کے لیے ہوتی ہے، جیسا کہ ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الانبیاء 35 پ 17) یعنی ہم تم لوگوں کو آزماتے ہیں برائی اور بھلائی کے ساتھ آزمانے کو، بہرکیف تنگ ظرف دنیا دار انسان کا نظریہ تو یہی ہے کہ اس کو کچھ مل گیا تو یہ پھول گیا، اور نہ ملا تو یہ مایوس ہوگیا۔ لیکن اصل حقیقت اس کے برعکس یہ ہے کہ دنیا میں جو کچھ بھی انسان کو ملتا ہے وہ ا اس لیے نہیں ہوتا کہ یہ اس کا انعام ہے، کیونکہ دنیا اپنی اصل اور حقیقت کے اعتبار سے دار الانعام اور دار الجزا نہیں بلکہ یہ دار العمل اور دار الابتلاء ہے۔ اس میں انسان کو جو بھی کچھ ملتا ہے یاس اس سے چھنتا ہے وہ سب کچھ ابتلا و آزمائش ہی کے اعتبار سے ہوتا ہے، دار الانعام اور دار الجزاء تو دار آخرت ہے جو کہ اس دنیا کے بعد آئے گا۔ بہرکیف اس سے تنگ ظرف اور مادہ پرست انسان کی مادہ پرستانہ ذہنیت کا دوسرا رخ پیش فرمایا گیا ہے کہ ایسا انسان جب تنگی رزق میں مبتلا ہوتا ہے تو مایوس ہو کر صحیح طور پر زندگی بسر کرنے کا حوصلہ ہی چھوڑ دیتا ہے، یا پھر وہ اپنی قسمت آزمائی کے لیے ایسی راہیں اختیار کرنے لگتا ہے جو اس کو خدا سے نہایت ہی دور لے جا کر پھینکتی ہیں۔ اور وہ شیطان کے ہتھے چڑھ کر دائمی ہلاکت و تباہی کے ہولناک گڑھے میں جا گرتا ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، بکل حال من الاحوال، وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب، جل وعلا۔
Ayah 89:17(18) منکرین کی اس مادہ پرستانہ ذہنیت کی تردید : سو منکرین کی اس مادہ پرستانہ ذہنیت کی تردید کے لیے " کلا " کے حرف زجرو تنبیہ کے ساتھ ارشاد فرمایا گیا کہ " ہرگز نہیں "۔ یعنی ایسا ہرگز نہیں جیسا کہ تم لوگوں نے سمجھ رکھا ہے کہ عزت و ذلت کا معیار تم لوگوں نے اخلاق و کردار کی بجائے دنیاوی مال و متاع کو قرار دے رکھا ہے۔ حالانکہ عزت عظمت کا اصل اور حقیقی مدارو معیار انسان کا اپنا ایمان و یقین اور اس کا عمل و کردار ہے، نہ کہ وہ خارجی امور جن کو تم لوگوں نے اصل سمجھ رکھا ہے۔ پس نہ دنیاوی مال و دولت کی فراوانی عزت افزائی اللہ کے یہاں مقبولیت کی دلیل ہے، اور نہ رزق کی تنگی کسی کے لیے اس کے یہاں حقیر اور بےقدر ہونے کی علامت، بلکہ یہ سب کچھ ابتلاء آزمائش کے اعتبار سے ہوتا ہے۔ جیسا کہ ابھی اوپر گزر ا کہ کون دنیاوی مال و دولت پاکر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار رہتا ہے اور اس کو اللہ کی رضا اور خلق خدا کے بھلا کے لیے خرچ کرتا ہے اور کون تکبر و غرور میں مبتلا ہو کر اس کے برعکس چلتا ہے۔ والعیاذ باللہ جل وعلا، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، وھو العزیز الوھاب، ملھم الصدق والصواب۔
(19) مکارم اخلاق کی ایک اہم بنیاد، اکرام یتیم : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور اس اہم اخلاقی بنیاد کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تم لوگ یتیم کے ساتھ عزت کا معاملہ نہیں کرتے "۔ بلکہ الٹا اس کو دباتے اور اس کا حق مار کھاتے ہو۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ حالانکہ اللہ تعالیٰ کی نعمت سے سرفرازی کا تقاضا یہ تھا اور یہی ہوتا ہے کہ تم لوگ یتیموں کی عزت اور خدمت کرتے، اور تمہارا مال ان کے کام آتا اور ان کی دعائیں تم کو ملتیں۔ یہاں پر یتیموں کے لئیے اکرام کا لفظ فرمایا گیا ہے جس سے یہ درس عظیم دیا گیا ہے کہ یتیموں کے لیے صرف یہی بات کافی نہیں کہ ان کو کچھ مال دیا جائے، اور بس۔ نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر اصل اور اہم مطلب یہ ہے کہ اس کو ساتھ عزت و احترام کا معاملہ کیا جائے اور اس کو معاشرے میں باعزت مقام دیا جائے۔ اور یہ سمجھا جائے کہ یہ ان کا حق ہے۔ پس تمہارے مال و دولت کی اللہ تعالیٰ کے یہاں کوئی قدروقیمت اگر ہے تو صرف اسی صورت میں ہے کہ اس کے ذریعے یتیموں کی خدمت کر کے ان کو معاشرے میں عزت و شرف کا مقام دیا جائے۔ ورنہ تمہارا مال و دولت عزت وشرف کا ذریعہ نہیں، عذاب و نکال اور رسوائی کا باعث ہوگا۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے۔ آمین ثم آمین۔ یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا اکرم الاکرمین، بکل حال من الاحوال وفی کل موطن من المواطن فی الحیاۃ، فی کل زمان و مکان، وانت العزیز الوھاب۔
Ayah 89:18(20) مسکینوں کو کھلانے کی عظمت و اہمیت کا ذکر وبیان : چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور ان مادہ پرست منکرین کی مادہ پرستانہ ذہنیت کی تردید اور مکارم اخلاق کی تعلیم و تلقین کے لیے مزید ارشاد فرمایا گیا " اور نہ ہی تم لوگ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے اور تلقین کرتے ہو "۔ یعنی خود بنا اور کھلانا تو درکنار تم دوروں کو بھی اس کی تعلیم و ترغیب دینے کے روادار نہیں ہو، حالانکہ تمہاری ذمہ داری یہ تھی اور یہ ہے کہ تم مسکین کو خود بھی بھلاؤ اور دوسروں کو بھی اس کی تلقین کرو۔ سو یہاں پر " تحاضون " کے اس لفظ میں یہ درس عظیم بھی ہے کہ مسکینوں کے معاملے میں صرف اتنا ہی کافی اور اسی قدر مطلوب نہیں کہ ان کے آگے کچھ نوالے پھینک دیے جائیں اور بس۔ بلکہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کے یہاں اس بارے میں اصل مطلوب یہ ہے کہ سوسائٹی اور معاشرے کے اندر ان کی خدمت کے لیے اس طرح کا رواج اور سرگرمی پائی جائے کہ ہر صاحب حیثیت خود بھی ان کی خدمت کرے اور دوسروں کو بھی اس کی ترغیب دے، تاکہ اس طرح معاشرہ میں آسودگی آئے اور امن و الفت اور محبت و عقیدت کا دور دورہ ہو، اور پورا معاشرہ خیرات و برکات اور حقیقی اخوت، مساوات سے مملود و معمور معاشرہ بن جائے، یہ نہ ہو کہ خود دے اور نہ دوسروں کو دینے دے، تاکہ اس طرح ان کی بخل و کنجوسی پر پردہ پڑا رہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل سوء و زیغ۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ ہر حال میں ہر مقام پر اور ہر اعتبار سے اپنی حفاظت و پناہ میں رکھے، آمین ثم آمین، یا رب العالمین و یا ارحم الرحمین، و یا من بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار لیہ۔
Ayah 89:19(21) ایک معاشرتی ظلم کی نشاندہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور مکارم اخلاق کے برعکس مساوی یعنی برے اخلاق کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا اور ایک معاشرتی ظلم و زیادتی کی نشاندہی کے طور پر مادہ پرستانہ ذہنیت رکھنے والے ایسے لوگوں سے خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا " اور تم لوگ میراث کا مال کھاتے ہو سمیٹ سمیٹ کر " اور اس سلسلے میں تم لوگوں کو حلال و حرام اور جائز و ناجائز کی پرواہ تک نہیں ہوتی، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو تم لوگ دنیاوی مال و دولت کی محبت میں ایسے اندھے اور اس قدر اوندھے ہوگئے کہ تم لوگ یتیموں کی مدد اور ان کا اکرام کرنے کی بجائے الٹا انکا مال میراث کو خود ہڑپ کر جاتے ہو، اور اس کے لیے تم طرح طرح کے جتن کرتے اور حیلوں اور حوالوں سے کام لیتے ہو، اور تم ان پر ظلم کر کے ان کے مالوں سے اپنے پیٹوں کے جہنم کو بھرنے کی کوشش کرتے ہو۔ والعیاذ باللہ۔ " لم " کے معنی جمع کرنے اور جوڑنے سمیٹنے کے آتے ہیں، اور " تاکلون " یہاں پر ہڑپ کرنے کے معنی میں ہے۔ سو مطلب یہ ہوا کہ یتیموں اور مسکینوں کی مدد کرنے اور ان کے ساتھ اکرام کا معاملہ کرنے کی بجائے تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ تم میں سے جن کا زور چلتا ہے وہ یتیموں کا مال اور ان کی میراث سمیٹ کر ہضم کرجاتے ہیں، یہاں تک کہ اسی ہوس کی بنا پر تم میں سے باثر لوگ مورث کے یتیم بیٹوں کو ان کے حق میراث ہی سے محروم کردیتے ہو، یہاں تک کہ نزول قرآن کے زمانے کے ایسے با اثر ظالموں نے اپنے طور پر یہ ظالمانہ قانون بھی بنا لیا تھا کہ میراث کا حق دار وہی ہے جو قوی ہو، جو دفاع کرنے کے لائق ہو اور جو کما کر ل اس کے، اس لیے کمزور کے لیے اس میں سرے سے کوئی حق اور حصہ نہیں، والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال۔
Ayahs 89:20–21(22) بیماری کی اصل جڑ کی نشاندہی کا ذکرو بیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور ایسے ظالم اور اس گھناؤنے کردار کے اصل باعث اور سبب اور بیماری کی جڑ کی نشاندہی کے طور پر ارشاد فرمایا گیا کہ " تم جکڑے ہوئے ہو مال دنیا کی محبت میں "۔ اور یہی جڑ بنیاد ہے ہر فتنے و فساد اور خرابی کی، کہ اس کے بعد انسان حلال و حرام کی حدود وقیود کی پر او کیے بغیر دنیا کے پیچھے لگ جاتا ہے، اسی دنیاوی مال و دولت ہی کی رہ گئی اور بس، اور مال کی محبت تمہارے دلوں پر اس طرح چھا گئی کہ تم لوگ اس کے علاوہ انسانیت و شرافت، عدل و انصاف اور رحم و کرم جیسے تمام اہم اور بنیادی مکارم کو بھول گئے ہو، اور صرف بطن و فرج کی خواہشات کے بندے اور غلام بن کر رہ گئے ہو، والعیاذ باللہ العظیم۔ سو دنیا کی محبت خرابیوں کی خرابی اور منبع شر و فساد ہے۔ والعیاذ باللہ العظیم، من کل زیع و ضلال، و سوء وانحراف، ومن کل شائبۃ من شوائب الکفر والانکار، ومن کل نوع من الانواع العذاب، جل وعلا۔
Ayah 89:22(25) قیامت کے روز بعض اہم غیبی حقائق کے کشف و ظہور کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور قیامت کے اس روز حساب میں غیبی حقائق کے کشف و ظہور کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا " اور اس روز جلوہ فرما ہوگا تمہارا رب جبکہ فرشتے کھڑے ہو گے صف در صف "۔ سو رب تعالیٰ جل جلالہ اس روز ایسے جلوہ افروز ہوگا اور اس طرح تشریف لائے گا جیسا کہ اس کی شان اقدس و اعلی کے لائق و مناسب ہے۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ اس کی پوری کیفیت اور اصل حقیقت کو جاننا نہ ہمارے بس میں ہے اور نہ ہی اس کے مکلف ہیں۔ البتہ ہم صرف اس بات کے مکلف ہیں کہ اس طرح کے غیبی حقائق سے متعلق نصوص میں وارد ہے اسی پر ایمان رکھیں بغیر کسی تشبیہ و تکہیف اور بدون کسی تاویل و تحریف کے۔ یہی مسلک ہے اسلاف کرام کا۔ اور یہی سلامتی کی راہ ہے ایسے امور سے متعلق، والعلم عنداللہ سبحانہ و تعالیٰ ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما دیا گیا کہ اس روز جب تمہارا رب کروبیوں کے جلو میں نمودار ہوگا تو غیب کے وہ حقائق جو آج پس پردہ ہیں اس روز وہ تمام کے تمام سب کے سامنے آجائیں گے، تو اس وقت اصل حقائق پوری طرح بےنقاب ہوجائیں گے، اور ہر کسی کو معلوم ہوجائے گا کہ عزت کس کے لیے اور ذلت کس کے لیے۔ سو کشف حقائق اور ظہور نتائج کے اس جہان غیب کی جب نقاب کشائی کردی جائے گی تو اس وقت اصل حقیقت اس طرح بےنقاب ہو کر اور اپنے اصل رنگ و روپ میں سامنے آجائیں گے کہ کسی کے لیے کسی طرح کے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔ اور منکرین اور مادہ پرست لوگوں کی آنکھیں سے غفلت و لاپرواہی کی پٹیاں اتر چکی ہوں گی اور ان کے سامنے وہ سب کچھ پوری طرح نمایاں ہوچکا ہوگا جس کا ان کو دنیا میں وہم و گمان بھی نہیں تھا۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ( آیت، الزمر 47 پ 24) یعنی اس وقت ان کے سامنے وہ سب کچھ ظاہر ہوچکا ہوگا جس کا یہ لوگ گمان بھی نہیں رکھتے تھے، سو اس وقت منکرین کے لیے حیرت و افسوس و ندامت کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔ مگر بےوقت کے اس افسوس کا ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اور ہر اعتبار سے اپنی رضا و خوشنودی کی راہوں پر ہی چلنا نصیب فرمائے۔ آمین ثم آمین، یا رب العالمین، و یا اکرم الاکرمین، یا من بیدہ ملکوت کل شی وھو یجیر ولا یجار علیہ۔