Al-Fajr 89:10

Al-Fajr · from ayah 10

89:10

وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ ۟وَفِرۡعَوۡنَ ذِى الۡاَوۡتَادِ

اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [with] Pharaoh, owner of the stakes? -

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:10

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ؟

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو خیمے اور میخیں رکھتا تھا

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور فرعون کے ساتھ جو میخوں واﻻ تھا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا کیا ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور فرعون کہ چومیخا کرتا (سخت سزائیں دیتا)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور فرعون (کا کیا حشر ہوا) جو بڑے لشکروں والا (یا لوگوں کو میخوں سے سزا دینے والا) تھا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ (کس طرح کیا)۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور میخوں والے فرعون کے ساتھ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور فرعون میخوں والے کے ساتھ !

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور میخوں والے فرعون (جیسے سرکش) کے ساتھ

— مولانا اسحاق مدنی

اور فرعون میخوں والے کے ساتھ (کیا کیا)۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور فرعون کے ساتھ (کیا کیا) جو میخوں والا تھا۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور فرعون کے ساتھ کیا کیا جو خیمے اور میخیں رکھتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

And with Pharaoh of the tent pegs

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and with Fir'awn (Pharaoh) , the man of the stakes,

— Muhammad Taqi Usmani

and with Firawn (Pharaoh) , the man of the stakes,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And Fir`awn with Al-Awtad

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And [with] Pharaoh, owner of the stakes? -

— Saheeh International

(Also consider the people of) the Pharaoh who victimized people by placing them on the stake,

— Muhammad Sarwar

And (with) Firon, the lord of hosts,

— Muhammad Habib Shakir

And with Fir'awn, owner of the stakes -

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 89:10

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 1–14

شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 10–13

سورة الْفَجْر 6 فرعون کے لیے ذوالاوتاد (میخوں والا) کے الفاظ اس سے پہلے سورة ص آیت 12 میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی فوجوں کو میخوں سے تشبیہ دی گئی ہو اور میخوں والا کا مطلب فوجوں والا ہو، کیونکہ انہی کی بدولت اس کی سلطنت اس طرح ہوئی تھی جیسے خیمہ میخوں کے ذریعہ سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد فوجوں کی کثرت ہو اور مطلب یہ ہو کہ اس کے لشکر جہاں بھی جا کر ٹھیرتے تھے وہاں ہر طرف ان کے خیموں کی میخیں ہی ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ میخیں ہوں جن سے ٹھوک کر وہ لوگوں کو عذاب دیتا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 10–12

و فرعون ذی الاوتاد، اوتاد، وتد کی جمع ہے میخ کو کہتے ہیں۔ فرعون کو ذی الاوتاد کہنے کی مختلف وجوہ حضرات مفسرین نے بیان فرمائی ہیں، مشہور جمہور مفسرین کے نزدیک وہی ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر آچکی ہے کہ اس لفظ میں اسکے ظلم وجور اور وحشیانہ سزاؤں کا ذکر ہے وہ جس پر خفا ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں چار میخوں میں باندھ کر یا خود ان میں میخیں گاڑ کر اس کو دھوپ میں لٹا دیتا اور اس پر سانپ بچھو چھوڑ دیتا تھا۔ اور بعض مفسرین نے اس کی اپنی بیوی حضرت آسیہ کے متعلق ایک طویل قصہ انکے مومن ہونے اور پھر فرعون کے سامنے اظہار ایمان کرنے کا اور پھر فرعون کی اسی قسم کی سزا کے ذریعہ ہلاک کرنے کا ذکر کیا ہے۔ (مظہری)

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اقوام بائدہ کی تباہی کے بعد یہ فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کی طرف توجہ دلائی۔ ’ذِی الْأَوْتَادِ‘ کے لفظی معنی تو میخوں والے کے ہیں لیکن یہاں ’اوتاد‘ بطریق کنایہ فرعون کی فوجوں کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ فوجیں بالعموم خیموں میں رہتی ہیں اور خیمے میخوں سے نصب کیے جاتے ہیں اس وجہ سے عربی میں یہ تعبیر معروف ہے۔ فرعون کی فوجوں کی کثرت کا ذکر تورات میں بھی ہے اور قرآن میں بھی جگہ جگہ مثلاً۔۔۔ یونس، طٰہٰ، القصص اور الذاریات۔۔۔ میں آیا ہے۔ قدیم زمانے میں مستقل فوجیں رکھنے کا رواج نہیں تھا۔ حملہ یا دفاع کی ضرورت کے لیے قبیلوں اور خاندانوں کے نوجوان بالکل وقت کے وقت اپنی خدمات پیش کرتے اور ضرورت پوری…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 10–12

10۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس خیموں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس کے ظلم وستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 10–16

6: فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو سزا دینے کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 9–10

وثمود ............................ بالواد (9:89) ” اور ثمود کے ساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں “۔ ثمود حجر میں رہتے تھے۔ یہ جزیرة العرب کے شمال میں ہے۔ مدینہ اور شام کے درمیان وادی حجر ہے۔ انہوں نے چٹانیں کاٹ کر بڑے بڑے محلات بنارکھے تھے اور پہاڑوں کے اندر قلعے اور غار بنا رکھے تھے۔ وفرعون ................ الاوتاذ (10:89) ” اور میخوں والے فرعون کے ساتھ “۔ راجح بات یہ ہے کہ اوتاد سے مراد اہرام ہیں جو میخوں کی طرح زمین میں نصب ہیں۔ اور نہایت پختہ بنیادوں پر ہیں۔ جس فرعون کی طرف یہاں اشارہ ہے وہ فرعون موسیٰ ہے جو بہت سرکش تھا اور جبار تھا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 یعنی بڑے لاؤ لشکر والا جس کو فوجی ضروریات کے لئے بہت کثیر مقدار میں میخیں رکھنا پڑتی تھیں یا یہ مطلب ہے کہ لوگوں کو چومیخا کر کے سزا دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 10–11

آیت 10{ وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۔ } ”اور فرعون کے ساتھ کیا کیا جو میخوں والا تھا۔“ اوتاد وتد کی جمع لوہے کی میخوں کو بھی کہتے ہیں اور لکڑی کے کھونٹوں کو بھی جن کے ساتھ خیموں کی رسیاں باندھی جاتی ہیں۔ چناچہ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ اس کے لشکروں کے خیموں کے کھونٹوں کا ذکر ہے۔ اس لیے کہ اس کے لشکر بہت بڑے تھے اور وہ بڑی شان و شوکت کا مالک تھا۔ جب وہ چڑھائی کرتا تو لشکروں کے خیمے نصب کرنے کے لیے کھونٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے ہمراہ ہوتا۔ ایک دوسری رائے یہ بھی ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا اسے صلیب پر چڑھا کر اس کے جسم میں میخیں لگوا دیتا تھا۔ واللہ اعلم !

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 10–12

9 فرعون اور قوم فرعون :۔ تیسری سرکش قوم فرعون اور اس کی قوم تھی۔ اور فرعون کو میخوں والا کہنے کی بھی کئی توجیہات بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ میخوں والے سے مراد اس کی سلطنت کی مضبوطی ہے جیسے اس سلطنت کی جڑیں میخوں کی طرح زمین میں ٹھونک دی گئی ہوں۔ دوسری یہ کہ میخوں سے مراد اس کی افواج اور لاؤ لشکر ہیں جن کے بل بوتے پر وہ اللہ کا باغی اور مدمقابل بن بیٹھا تھا۔ تیسری یہ کہ جب اس کے لشکر نقل و حرکت کرتے تو خیموں کو نصب کرنے کے لیے بڑی بڑی میخیں استعمال کرتے تھے۔ اور چوتھی یہ کہ جب اس نے کسی کو سولی چڑھانا ہوتا تو اسے تختہ دار پر رسیوں سے کسنے کے بجائے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

5۔ فرعون پر حاشیے باربار گزرچکے۔ (آیت) ” ذی الاوتاد “۔ محاورۂ عرب میں اس سے مراد صاحب شوکت و حشمت ہونے سے ہوتی ہے۔ اے ذی الملک والرجال (کبیر) پھر بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ سزا و عذاب کا ایک طریقہ فرعون کے ہاں یہ بھی رائج تھا، کہ مجرم کو زمین پر لٹا کر اس کے ہاتھوں پیروں میں میخیں ٹھونک دی جاتی تھیں، (آیت) ” ذی الاوتاد “۔ کے لفظ سے اس طرف بھی اشارہ ہوگیا۔ علت، کفر سب میں مشترک تھا، اسی طرح معلول، عذاب بھی سب میں مشترک رہا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

و فرعون ذی الاوتاد . الاوتاد : مضبوط عمارتیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی کا یہی قول ہے۔ بعض لوگوں نے کہا : اوتاد سے مراد ہے مضبوط ‘ طاقتور ‘ پائیدار حکومت۔ عرب کہتے ہیں : ھم فی العز ثابت الاوتاد ‘ انہوں نے عزت کی میخیں گاڑ دیں۔ یعنی مستحکم اور دوامی عزت کے مالک ہیں۔ عطیہ کا قول ہے کہ الاوتاد سے فوجیں مراد ہیں۔ فوج اپنے ساتھ بکثرت ڈیرے ‘ خیمے رکھتی تھی اور سفر میں جہاں جاتی تھی میخوں کے ذریعہ ڈیرے قائم کرتی تھی۔ بروایت عطیہ حضرت ابن عباس کا بھی یہی قول ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا : اوتاد ‘ وتد کی جمع ہے۔ فرعون لوگوں کو چومیخا کرتا تھا ‘ سزا دینے کے لیے کسی ستون میں چومیخا کرا دیتا تھا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 9–12

(129) اور قوم ثمود کو کس طرح ہلاک کیا جو وادی قریٰ میں پہاڑ کے پتھروں کو تراشا کرتے تھے اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور میخوں والا اس واسطے نام پڑا کہ وہ جس کو عذاب دیتا تھا تو چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا تاکہ وہ مرجائے چناچہ اپنی بیوی حضرت آسیہ کو اسی طرح اس نے سزا دی تھی، اس نے سرزمین مصر میں کفر اور نافرمانیاں برپا کر رکھی تھیں اور اس میں قتل اور بتوں کی پرستش سے بہت فساد مچا رکھا رکھا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 10–11

(وفرعون ذی الاوتاد :”الاوتاد“ ”وتد“ کی جمع ہے، لکڑی یا لوہے وغیرہ کی میخیں۔ ”ذی اوتاد“ ”مخیوں والا“ یعنی بڑے لشکروں والا، جن کے خیمے گاڑنے کے لئے بہت بڑی تعداد میں میخیں مہیا رہتی تھیں، یا سخت ظالم کہ جس پر ناراضی ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکرا دیتا تھا۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

وفرعون ذی الاوتاد۔ ذی الاوتاد سے مراد چھوٹے بڑے لشکر ورجمعتیں جو اس کے ملک کی تقویت کا باعث ہوتی تھیں، یہ حضرت ابن عباس کا نقطہ نظر ہے ایک قول یہ کیا گیا ہے وہ لوگوں کو میخوں کے ساتھ عذاب دیا کرتا تھا اور انہیں ان کے ساتھ باندھے رکھتا یہاں تک کہ وہ مرجاتے یہ سب اس کی جانب سے سرکشی اور جبر کے طور پر ہوتا تھا، اس نے اپنی بیوی حضرت آسیہ اور اپنی بیٹی کی کنگی کرنے والی کے ساتھ بھی ایسا ہی سلوک کیا جیسا سورة تحریم کے آخر میں گزرا ہے عبدالرحمن بن زید نے کہا، اس کے پاس ایک چٹان تھی جس کو چرخیوں کے ذریعے اوپر اٹھایا جاتا پھر انسان پکڑا جاتا اس میں لوہے کے کیل گاڑے جاتے ہیں پھر اس پر وہ پتھر چھوڑ دیا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 10–13

103۔ الحاکم وصحح نہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذی الاوتاد میخوں والا یعنی فرعون نے اپنی بیوی کو چار کیل گارے پھر اس کی پیٹھ پر بڑی چکی رکھ دی یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ 104۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت و فرعون ذی الاوتاد یعنی فرعون کسی آدمی کو یہاں اور کسی آدمی کو وہاں اور کوئی ہاتھ یہاں اور کوئی ہاتھ وہاں رکھ کر میخوں کے ساتھ باندھ دیتا تھا۔ 105۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اسے و فرعون ذی الاوتاد اس لیے کہا گیا کہ کیونکہ وہ منبر بناتا تھا اس پر لوگوں کو ذبح کرتا تھا۔ 106۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[وَفِرْعَوْنَ : اور فرعون کے ساتھ ][ ذِي الْاَوْتَادِ : جو میخوں والا تھا ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

﴿وَ فِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ۪ۙ0010﴾ یہ بھی ما قبل پر معطوف ہے مطلب یہ ہے کہ آپ کے رب نے فرعون کو ہلاک کردیا جو میخوں والا تھا۔ عاد وثمود کی طرح وہ بھی ہلاک ہوا اور اس کی حکومت بھی اور ڈوبنے کے عذاب میں مبتلا ہوا۔ لفظ الاوتاد، وتد کی جمع ہے وتد عربی میں میخ کو کہتے ہیں۔ فرعون کو جو ﴿ذِي الْاَوْتَادِ﴾ (میخوں والا) فرمایا اس کے بارے میں مفسرین نے لکھا ہے کہ اس کے بہت سے لشکر اور بہت سے خیمے تھے۔ لشکر جہاں جہاں ٹھہرتے تھے وہاں خیمے لگاتے تھے اور میخیں گاڑتے تھے اس لیے فرعون کے بارے میں ﴿ذِي الْاَوْتَادِ﴾ فرمایا اور ایک قول یہ ہے کہ فرعون جب کسی کو سزا دیتا تھا تو چار میخیں گاڑ کر ان میخوں سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 9–13

6:۔ ” وثمود “ تخوید دنیوی کا دوسرا نمونہ۔ قوم ثمود کو دیکھو وہ کس قدر طاقتور اور کیسے کاریگر تھے کہ پتھروں کو تراش ڈالا اور پہاڑوں کو کاٹ کر ان کے اندر رہائشی مکانات بنا لیے۔ ” و فرعون ذی الاوتاد “ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ۔ دیکھو ! فرعون کتنا بڑا بادشاہ تھا، اس کی سلطنت کس قدر مضبوط تھی۔ ” ذی الاوتاد “ (میخوں والا) یا تو سلطنت کے استحکام سے کنایہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ توحید والوں کو میخوں سے گاڑ کر عذاب دیتا ہے۔ ” الذین طغوا فی البلاد “۔ ان سب قوموں نے سرکشی کی اور حد سے گذر گئے، شہروں اور بستیوں میں ظلم و تشدد اور بےانصافی سے شر و فساد برپا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 1–14

(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَفِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ۝ 10 ۠ فِرْعَوْنُ : اسم أعجميّ ، وقد اعتبر عرامته، فقیل : تَفَرْعَنَ فلان : إذا تعاطی فعل فرعون، كما يقال : أبلس وتبلّس، ومنه قيل للطّغاة : الفَرَاعِنَةُ والأبالسة . فرعون یہ علم عجمی ہے اور اس سے سرکش کے معنی لے کر کہا جاتا ہے تفرعن فلان کہ فلاں فرعون بنا ہوا ہے جس طرح کہ ابلیس سے ابلس وتبلس وغیرہ مشتقات استعمال ہوتے ہیں اور ایس سے سرکشوں کو فراعنۃ ( جمع فرعون کی اور ابا لسۃ ( جمع ابلیس کی ) کہا جاتا ہے ۔ ذو ذو علی وجهين : أحدهما : يتوصّل به إلى الوصف بأسماء الأجناس والأنواع، ويضاف إلى الظاهر دون المضمر، ويثنّى ويجمع، ويقال في المؤنّث : ذات، وفي التثنية : ذواتا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–14

ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ ۔ (الفجر : 10) (اور میخوں والے فرعون کے ساتھ۔ ) تیسری شہادت فرعون سے قومِ عاد اور قوم ثمود کی تباہی کے بعد فرعون اور اس کی فوجوں کی تباہی کا ذکر فرمایا۔ ذوالاوتاد کا معنی ہے میخوں والا۔ سورة ص میں بھی اس کا ذکر آیا ہے۔ لیکن یہاں اوتاد کنایہ کے طور پر فرعون کی فوجوں کی تعبیر کے لیے آیا ہے۔ کیونکہ جس دور میں فرعون ہوا ہے اس دور میں اور اس کے بعد بھی صدیوں تک مستقل فوجیں رکھنے کا رواج نہ تھا۔ حملہ یا دفاع کی ضرورت کے لیے قبیلوں اور خاندانوں کے نوجوان اپنی خدمات پیش کرتے تھے اور ضرورت پوری ہوجانے کے بعد منتشر ہوجاتے تھے۔ لیکن تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ فرعون نے ملک کی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 6–14

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

10 : وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ (اور میخوں والے فرعون کے ساتھ) ذی الاوتادؔ : بڑے لشکروں والا۔ ان کے پاس بیشمار خیمے تھے۔ جب وہ کسی مقام پر اتر تے تو وہاں خیمہ زن ہوتے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس کے ہاں مخالفین کو میخوں سے عذاب دیا جاتا۔ جیسا آسیہ ؓ کے ساتھ کیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

و فرعون ذی الاوتاد کی تفسیر اور واقعہ 10 ۔” و فرعون ذی الاوتاد “ الاوتاد : مضبوط عمارتیں۔ حضرت ابن عباس ؓ اور محمد بن کعب قرظی کا یہی قول ہے۔ بعض لوگوں نے کہا اوتاد سے مراد ہے مضبوط، طاقتور، پائیدار حکومت۔ عرت کہتے ہیں : ” ھم فی العزثابت الاوتاد “ انہوں نے عزت کی میخیں گاڑ دیں۔ یعنی مستحکم اور دوامی عزت کے مالک ہیں۔ عطیہ کا قول ہے کہ ” الاوتاد “ سے فوجیں مراد ہیں۔ فوج اپنے ساتھ بکثرت ڈیرے، خیمے رکھتی تھی اور سفر میں جہاں جاتی تھی میخوں کے ذریعے ڈیرے قائم کرتی تھی۔ بروایت عطیہ حضرت ابن عباس ؓ کا بھی یہی قول ہے۔ مقاتل اور کلبی نے کہا ” اوتاد “ وتد کی جمع ہے۔ فرعون لوگوں کو چومیخا کرتا تھا، سزا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 1–14

1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(وَفِرْعَوْنَ ذِي الْاَوْتَادِ ) اور فرعون کے ساتھ جو میخوں والا تھا۔ یعنی لشکروں والا تھا، جنہوں نے اس کے اقتدار کو ثبات بخشا جیسے میخیں اس چیز کو مضبوط کرتی ہیں جس کو ٹھہرانا مقصود ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(11) فرعون اور اس کے انجام کی تذکیر و یاد دہانی : سو ارشاد فرمایا گیا " اور فرعون کے " ذی الاوتاد " یعنی میخوں والے کے ساتھ ؟ " یعنی کیا تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارے رب نے اس بدبخت کے ساتھ کیا معاملہ کیا ؟ یہاں پر " ذی الاوتاد " یعنی میخوں والے سے کیا مراد ہے۔ سو ذی الاوتاد ( میخوں والے) کے اس عنوان کے بارے میں اس میں کئی احتمال ہیں۔ مثلا یہ کہ یہ اس کے استحکام مملک سے بھی کنایہ ہے کہ جس طرح میخوں سے خیمے وغیرہ کا استحکام ہوتا ہے، اسی طرح فرعون کا بھی اس کی فوجوں سے استحکام تھا۔ نیز یہ اس کی فوجوں کی کثرت سے بھی کنایہ ہوسکتا ہے کہ اس کی فوجیں جہاں پڑاؤں کرتی تھیں وہاں ان کے خیموں کی میخیں ہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 10–12

ف 14 یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک اور اس کی مخلوق پر ظلم و ستم۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:10) و فرعون ذی الاوتاد۔ واؤ عاطفہ۔ فرعون بوجہ علت و عجمیت غیر منصرف ہے اور اس کا عطف بھی عاد پر ہے۔ ای الم ترکیف فعل ربک بعاد و فرعون ذی الاوتاد۔ (اے مخاطب) کیا تو نے دیکھا تمہارے رب نے (قوم) عاد سے کیا کیا۔ اور فرعون ذی الاوتاد سے کیا کیا۔ ذی الاوتاد مضاف مضاف الیہ مل کر فرعون کی صفت ہیں۔ چونکہ فرعون بوجہ معطوف عاد محل جر ہے اس کی صفت اعراب میں اس کے مطابق ہوگی۔ لہٰذا ذی بمعنی والا۔ صاحب ، بحالت جر ہے۔ اوتاد۔ جمع ہے وتد کی بمعنی میخیں۔ ذی الاوتاد بمعنی میخوں والا۔ کی تفسیر میں مفسرین کے متعدد اقوال ہیں :۔ (1) اوتاد۔ لشکروں کو کہتے ہیں۔ کیونکہ حکومت و سلطنت کی یہی میخ ہوتی ہیں۔ یہی ابن…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 6–14

صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔ (ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 1–14

سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 10–15

ف 2۔ دو منثور میں عبداللہ بن مسعود سے اس کی تفسیر میں منقول ہے کہ وہ جس کو سزا دیتا اس کے چاروں ہاتھ پاوں چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا اور اس کی ایک تفسیر سورة ص میں گزر چکی ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

فرعون میخوں والے کے ساتھ کیا ہوا 10 ؎ ( فرعون) اصل میں یہ لفظ فارا ۔ اوہ تھا ۔ مصری زبان میں فارا کے معنی محل اور اوہ کے معنی اونچے پہاڑ کے ہیں فارا اوہ محل کبیر عالی اس سے مراد شاہ مصر کی ذات ہوتی تھی جیسے خلافت عثمانیہ کے زمانہ میں باب عالی سے مرادخلیفہ کی ذات ہوتی تھی ۔ یہی لفظ بعد میں فرعون ہوگیا۔ سیدنا یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ میں فرعون کا نام ایونس تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو جس فرعون نے پرورش کیا تھا اس کا نام رعمیس دوم یا رعمیس تھا۔ یونانی اس کو سو ستر بھی کہتے تھے اور عبرانی فرعون التسخیر رعمسیس کے بیٹے نفقاح کے زمانہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی بعثت ہوئی اور اس سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–12

وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ (and with Fir'aun [ the Pharaoh ], the man of the stakes...89:10). The word autad is the plural of watad that means 'peg or stake or nail'. Fir'aun (the Pharaoh) is referred to as 'the man of the stakes'. There are several reasons for this. Majority of the commentators hold the view that he was so called because of the brute torture and cruel torment he inflicted on the people. When he was angry with people, he would hammer stakes into the ground and tie them to these, so that they could be tortured; or he would hammer stakes into their hands and feet, as they…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 10–13

6 The words dhul-autad (of the stakes) for Pharaoh have also been used in Surah Suad: 12 above. This can have several meanings. Possibly his forces have been compared to the stakes, and "of the stakes" means "of great forces", for it was by their power and might that he ruled a firmly established kingdom; it might also imply multiplicity of forces and the meaning be that wherever his large armies camped, pegs of the tents were seen driven into the ground on every side; it may also imply the stakes at which he punished the people, and it is also possible that the pyramids of Egypt have been…

Read the full tafseer →