الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ ۟الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِى الۡبِلَادِ
یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
[All of] whom oppressed within the lands
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ ۟الَّذِيۡنَ طَغَوۡا فِى الۡبِلَادِ
یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے
— Fateh Muhammad Jalandhari
[All of] whom oppressed within the lands
— Saheeh International
Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz
Read the whole surah · Surah Al-Fajr
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی
یہ لوگ ملکوں میں سرکش ہو رہے تھے
ان سبھوں نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا
یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں سرکشی اختیار کرلی تھی۔
جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی
(یہ) وہ لوگ (تھے) جنہوں نے (اپنے اپنے) ملکوں میں سرکشی کی تھی،
وہ لوگ جو شہروں میں حد سے بڑھ گئے۔
جنہوں نے بہت سے شہروں میں سرکشی کی
انہوں نے ملکوں میں سر اٹھائے
ان سب نے سرکشی کی (اپنے رب کے مقابلے میں) ان ملکوں میں
جن (سب) نے شہروں میں سر اٹھا رکھا تھا
جنہوں نے (اپنے اپنے) ملکوں میں سرکشی اختیار کی تھی۔
یہ لوگ ملکوں میں سر کش ہو رہے تھے
who transgressed in the countries of the world
__ those who had rebelled in the cities,
__ those who had rebelled in the cities,
Who did transgress beyond bounds in the lands.
Who (all) were rebellious (to Allah) in these lands,
— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran
[All of] whom oppressed within the lands
led rebellious lives,
Who committed inordinacy in the cities,
Who all waxed exorbitant in the cities,
(All) these transgressed beyond bounds in the lands,
— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary
Explained with ayahs 1–14
شفع اور وتر سے کیا مراد ہے اور قوم عاد کا قصہ فجر تو ہر شخص جانتا ہے یعنی صبح اور یہ مطلب بھی ہے کہ بقر عید کے دن کی صبح، اور یہ مراد بھی ہے کہ صبح کے وقت کی نماز، اور پورا دن اور دس راتوں سے مراد ذی الحجہ مہینے کی پہلی دس راتیں۔ چناچہ صحیح بخاری شریف کی حدیث میں ہے کہ کوئی عبادت ان دس دنوں کی عبادت سے افضل نہیں لوگوں نے پوچھا اللہ کی راہ کا جہاد بھی نہیں ؟ فرمایا یہ بھی نہیں مگر وہ شخص جو جان مال لے کر نکلا اور پھر کچھ بھی ساتھ لے کر نہ پلٹا بعض نے کہا ہے محرم کے پہلے دس دن مراد ہیں حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں رمضان شریف کے پہلے دس دن لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے یعنی ذی الحجہ کی شروع کی دس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
سورة الْفَجْر 6 فرعون کے لیے ذوالاوتاد (میخوں والا) کے الفاظ اس سے پہلے سورة ص آیت 12 میں بھی استعمال ہوئے ہیں۔ اس کے کئی مطلب ہو سکتے ہیں۔ ممکن ہے کہ اس کی فوجوں کو میخوں سے تشبیہ دی گئی ہو اور میخوں والا کا مطلب فوجوں والا ہو، کیونکہ انہی کی بدولت اس کی سلطنت اس طرح ہوئی تھی جیسے خیمہ میخوں کے ذریعہ سے مضبوطی کے ساتھ قائم ہوتا ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد فوجوں کی کثرت ہو اور مطلب یہ ہو کہ اس کے لشکر جہاں بھی جا کر ٹھیرتے تھے وہاں ہر طرف ان کے خیموں کی میخیں ہی ٹھکی نظر آتی تھیں۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد وہ میخیں ہوں جن سے ٹھوک کر وہ لوگوں کو عذاب دیتا تھا۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
و فرعون ذی الاوتاد، اوتاد، وتد کی جمع ہے میخ کو کہتے ہیں۔ فرعون کو ذی الاوتاد کہنے کی مختلف وجوہ حضرات مفسرین نے بیان فرمائی ہیں، مشہور جمہور مفسرین کے نزدیک وہی ہے جو خلاصہ تفسیر میں اوپر آچکی ہے کہ اس لفظ میں اسکے ظلم وجور اور وحشیانہ سزاؤں کا ذکر ہے وہ جس پر خفا ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں چار میخوں میں باندھ کر یا خود ان میں میخیں گاڑ کر اس کو دھوپ میں لٹا دیتا اور اس پر سانپ بچھو چھوڑ دیتا تھا۔ اور بعض مفسرین نے اس کی اپنی بیوی حضرت آسیہ کے متعلق ایک طویل قصہ انکے مومن ہونے اور پھر فرعون کے سامنے اظہار ایمان کرنے کا اور پھر فرعون کی اسی قسم کی سزا کے ذریعہ ہلاک کرنے کا ذکر کیا ہے۔ (مظہری)
Read the full tafseer →قوموں کا طغیان: یہ ان قوموں کے اس رویہ کی طرف اشارہ ہے جو انھوں نے اللہ تعالیٰ کی بخشی ہوئی حکومت اور اس کے عطا کیے ہوئے وسائل و ذرائع کو پا کر اپنے اپنے ملکوں میں اختیار کیا۔ فرمایا کہ انھوں نے طغیان کی روش اختیار کر لی۔ یعنی وہ خدا سے بالکل بے نیاز و بے خوف ہو کر اس گھمنڈ میں مبتلا ہو گئیں کہ انھیں جو کچھ حاصل ہے یہ ان کی اپنی ذاتی قابلیت و کارکردگی کا کرشمہ ہے جس میں وہ ہر قسم کے تصرف کی مجاز ہیں۔ مال و جاہ نہ ان کو کسی کا بخشا ہوا ملا ہے، نہ اس کو کوئی ان سے چھین سکتا اور نہ اس کے باب میں وہ کسی کے آگے مسؤل ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
10۔ 1 اس کا مطلب ہے کہ بڑے لشکروں والا تھا جس کے پاس خیموں کی کثرت تھی جنہیں میخیں گاڑ کر کھڑا کیا جاتا تھا۔ یا اس کے ظلم وستم کی طرف اشارہ ہے کہ میخوں کے ذریعے وہ لوگوں کو سزائیں دیتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–16
6: فرعون کو میخوں والا اس لئے کہا گیا کہ وہ لوگوں کو سزا دینے کے لئے ان کے ہاتھ پاؤں میں میخیں گاڑ دیا کرتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–12
الذین ............................................ الفساد (12:89) ” یہ وہ لوگ تھے جنہوں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی اور ان میں فساد پھیلایا تھا “۔ سرکشی کے بعد فساد ہی ہوتا ہے کیونکہ سرکشی ، سرکش شخص کو خراب کردیتی ہے۔ اسی طرح جو لوگ سرکشی اور ظلم کا شکار ہوتے ہیں وہ بھی فساد میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ ان کے اندر اخلاقی بگاڑ پیدا ہوجاتا ہے۔ اس کے بعد اجتماعی زندگی کا ہر پہلو فساد کی زد میں آجاتا ہے اور زندگی اپنی صحت مند تعمیری اور پاکیزہ راستے سے ہٹ جاتی ہے اور ایسے راستوں پر پڑجاتی ہے جو انسان کی خلیفہ اللہ فی الارض ہونے کی ذمہ داری کے خلاف ہوتی ہے۔ طغیانی اور سرکشی کی وجہ سے عوام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
7 یعنی ان قوموں نے عیش و دولت اور زور و قوت کے نشہ میں مست ہو کر ملکوں میں خوب اودھم مچایا۔ بڑی بڑی شرارتیں کیں اور ایسا سر اٹھایا گویا ان کے سروں پر کوئی حاکم ہی نہیں ؟ ہمیشہ اسی حال میں رہنا ہے ! کبھی اس ظلم و شرارت کا خمیازہ بھگتنا نہیں پڑے گا ؟ آخر جب ان کے کفر وتکبر اور جورو ستم کا پیمانہ لبریز ہوگیا۔ اور مہلت و درگزر کا کوئی موقع باقی نہ رہا دفعتاً خداوند قہار نے ان پر اپنے عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ان کی سب قوت اور بڑائی خاک میں مل گئی اور وہ سازو سامان کچھ کام نہ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
آیت 10{ وَفِرْعَوْنَ ذِی الْاَوْتَادِ۔ } ”اور فرعون کے ساتھ کیا کیا جو میخوں والا تھا۔“ اوتاد وتد کی جمع لوہے کی میخوں کو بھی کہتے ہیں اور لکڑی کے کھونٹوں کو بھی جن کے ساتھ خیموں کی رسیاں باندھی جاتی ہیں۔ چناچہ ایک رائے تو یہ ہے کہ یہ اس کے لشکروں کے خیموں کے کھونٹوں کا ذکر ہے۔ اس لیے کہ اس کے لشکر بہت بڑے تھے اور وہ بڑی شان و شوکت کا مالک تھا۔ جب وہ چڑھائی کرتا تو لشکروں کے خیمے نصب کرنے کے لیے کھونٹوں کا ایک بڑا ذخیرہ ان کے ہمراہ ہوتا۔ ایک دوسری رائے یہ بھی ہے کہ وہ جس سے ناراض ہوتا اسے صلیب پر چڑھا کر اس کے جسم میں میخیں لگوا دیتا تھا۔ واللہ اعلم !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
9 فرعون اور قوم فرعون :۔ تیسری سرکش قوم فرعون اور اس کی قوم تھی۔ اور فرعون کو میخوں والا کہنے کی بھی کئی توجیہات بیان کی گئی ہیں۔ مثلاً ایک یہ کہ میخوں والے سے مراد اس کی سلطنت کی مضبوطی ہے جیسے اس سلطنت کی جڑیں میخوں کی طرح زمین میں ٹھونک دی گئی ہوں۔ دوسری یہ کہ میخوں سے مراد اس کی افواج اور لاؤ لشکر ہیں جن کے بل بوتے پر وہ اللہ کا باغی اور مدمقابل بن بیٹھا تھا۔ تیسری یہ کہ جب اس کے لشکر نقل و حرکت کرتے تو خیموں کو نصب کرنے کے لیے بڑی بڑی میخیں استعمال کرتے تھے۔ اور چوتھی یہ کہ جب اس نے کسی کو سولی چڑھانا ہوتا تو اسے تختہ دار پر رسیوں سے کسنے کے بجائے اس کے ہاتھوں اور پاؤں میں میخیں ٹھونک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
6۔ ان تینوں قوموں کا تعلق مختلف ملکوں اور سرزمینوں سے تھا، تاریخی زمانے بھی ان کے الگ الگ ہوئے ہیں، جو شے ان سب میں مشترک تھی، وہ ان کی توحید بیزاری اور آخرت فراموشی تھی، لازما عذاب میں بھی تینوں شریک رہے۔ (آیت) ” الفساد “۔ فساد عربی میں صلاح کی ضد ہے، اور فسق ومعصیت کی ہر قسم کو شامل۔ الفساد ضد الصلاح فکما ان الصلاح یتناول جمیع اقسام البر فالفساد یتناول جمیع اقسام الاثم (کبیر) الفساد خروج الشیء عن الاعتدال قلیلا کان الخروج عنہ اوکثیرا ویضادہ الصلاح (راغب) صب، سوط عذاب، عذاب کو ’ تازیانہ سے تعبیر فرمایا گیا ہے، اور اس کے نازل کرنے کو برسانے سے، ان استعاروں سے شدت عذاب کا اظہار ہے۔ قال اھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →الذین طغوا فی البلاد . جنہوں نے بستیوں میں حد سے زیادہ نافرمانیاں کی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–12
(129) اور قوم ثمود کو کس طرح ہلاک کیا جو وادی قریٰ میں پہاڑ کے پتھروں کو تراشا کرتے تھے اور میخوں والے فرعون کے ساتھ کیا برتاؤ کیا اور میخوں والا اس واسطے نام پڑا کہ وہ جس کو عذاب دیتا تھا تو چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا تاکہ وہ مرجائے چناچہ اپنی بیوی حضرت آسیہ کو اسی طرح اس نے سزا دی تھی، اس نے سرزمین مصر میں کفر اور نافرمانیاں برپا کر رکھی تھیں اور اس میں قتل اور بتوں کی پرستش سے بہت فساد مچا رکھا رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–11
(وفرعون ذی الاوتاد :”الاوتاد“ ”وتد“ کی جمع ہے، لکڑی یا لوہے وغیرہ کی میخیں۔ ”ذی اوتاد“ ”مخیوں والا“ یعنی بڑے لشکروں والا، جن کے خیمے گاڑنے کے لئے بہت بڑی تعداد میں میخیں مہیا رہتی تھیں، یا سخت ظالم کہ جس پر ناراضی ہوتا اس کے ہاتھ پاؤں میں میخیں ٹھکرا دیتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
الذین طغوافی البلاد۔۔۔۔ تا۔۔۔ عذاب۔ الذین سے مراد قوم عاد، قوم ثمود اور قوم فرعون ہے انہوں نے سرکشی اور ظلم وعدوان میں حد سے تجاوز کیا اور وہ ظلم اور اذیت میں بہت آگے بڑھ گئے، الذین طغوا کے بارے میں بہترین توجیہ یہ ہے کہ یہ مذمت کے طور پر محل نصب میں ہو، یہ بھی جائز کہ یہ محل رفع میں ہوتقدیر کلام یوں ہوگی، ھم الذین طغوا یا مذکورہ قوموں یعنی عاد، ثمود ورفرعون کی صفت کے طور پر مجرور ہو۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب انڈیل دیا اور پھینک دیا، یہ جملہ بولا جاتا ہے، صب علی فلان خلقہ، فلاں نے مجھ پر خلقت پھینک دی نابغہ نے کہا : فصب علیہ اللہ احسن صنعہ، وکان لہ بین البریہ ناصرا۔ اللہ تعالیٰ نے اس پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
103۔ الحاکم وصحح نہ ابن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ آیت ذی الاوتاد میخوں والا یعنی فرعون نے اپنی بیوی کو چار کیل گارے پھر اس کی پیٹھ پر بڑی چکی رکھ دی یہاں تک کہ وہ مرگئی۔ 104۔ ابن جریر نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ آیت و فرعون ذی الاوتاد یعنی فرعون کسی آدمی کو یہاں اور کسی آدمی کو وہاں اور کوئی ہاتھ یہاں اور کوئی ہاتھ وہاں رکھ کر میخوں کے ساتھ باندھ دیتا تھا۔ 105۔ الفریابی وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ اسے و فرعون ذی الاوتاد اس لیے کہا گیا کہ کیونکہ وہ منبر بناتا تھا اس پر لوگوں کو ذبح کرتا تھا۔ 106۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت…
Read the full tafseer →[الَّذِينَ طَغَوْا : وہ لوگ جنھوں نے سرکشی کی ][ فِي الْبِلَادِ : شہروں میں ] (آیت۔ 11) اَلَّذِیْنَ جمع کا صیغہ بتارہا ہے کہ یہ عاد، ثمود اور فرعون تینوں کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →بعض حضرات نے یہ بھی فرمایا کہ اسے لٹا کر ہاتھوں میں کیلیں گڑواتا تھا۔ سورة ص کے پہلے رکوع میں بھی یہ بیان گزر چکا ہے۔ ﴿الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ۪ۙ0011﴾ یہ قومیں جن کا اوپر ذکر ہوا (عاد اور ثمود اور فرعون) انہوں نے شہروں میں سرکشی کی اور نافرمانی میں بہت آگے بڑھ گئے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 9–13
6:۔ ” وثمود “ تخوید دنیوی کا دوسرا نمونہ۔ قوم ثمود کو دیکھو وہ کس قدر طاقتور اور کیسے کاریگر تھے کہ پتھروں کو تراش ڈالا اور پہاڑوں کو کاٹ کر ان کے اندر رہائشی مکانات بنا لیے۔ ” و فرعون ذی الاوتاد “ تخویف دنیوی کا تیسرا نمونہ۔ دیکھو ! فرعون کتنا بڑا بادشاہ تھا، اس کی سلطنت کس قدر مضبوط تھی۔ ” ذی الاوتاد “ (میخوں والا) یا تو سلطنت کے استحکام سے کنایہ ہے یا یہ مطلب ہے کہ وہ توحید والوں کو میخوں سے گاڑ کر عذاب دیتا ہے۔ ” الذین طغوا فی البلاد “۔ ان سب قوموں نے سرکشی کی اور حد سے گذر گئے، شہروں اور بستیوں میں ظلم و تشدد اور بےانصافی سے شر و فساد برپا کردیا تو اللہ تعالیٰ نے ان پر مختلف قسم کے عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
(فجر اور دس راتیں ) ارشاد ہوتا ہے والفجر قسم ہے فجر کی ولیال عشر اور قسم ہے دس 10 راتوں کی ۔ فجر اور دس راتوں سے کون سی فجر اور کون سی دس راتیں مراد ہیں اس میں مفسرین کرام کے مختلف اقوال ہیں ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر سے مطلق مراد ہے ۔ جو ہر روز طلوع ہوتی ہے۔ اور دس راتوں سے مراد رمضان المبارک کی آخری دس راتیں ہیں ۔ جن میں لیلۃ القدر جسیی عظیم اور بابرکت رات آتی ہے۔ اور جس میں عبادت کا اجر ثواب ایک ہزار مہینے سے زیادہ ہوتا ہے ۔ ان راتوں میں اللہ تعالیٰ کی خاص مہربانی شامل حال ہوتی ہے۔ دنیا میں عظیم انقلاب برپا کرنے والی کتاب قرآن پاک کے نزول کی ابتداء بھی اسی رات میں ہوئی ۔ بعض فرماتے ہیں کہ فجر…
Read the full tafseer →الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ 11 طغی طَغَوْتُ وطَغَيْتُ «2» طَغَوَاناً وطُغْيَاناً ، وأَطْغَاهُ كذا : حمله علی الطُّغْيَانِ ، وذلک تجاوز الحدّ في العصیان . قال تعالی: اذْهَبْ إِلى فِرْعَوْنَ إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] ( ط غ ی) طغوت وطغیت طغوانا وطغیانا کے معنی طغیان اور سرکشی کرنے کے ہیں اور أَطْغَاهُ ( افعال) کے معنی ہیں اسے طغیان سرکشی پر ابھارا اور طغیان کے معنی نافرمانی میں حد سے تجاوز کرنا کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : إِنَّهُ طَغى[ النازعات/ 17] وہ بےحد سرکش ہوچکا ہے ۔ بلد البَلَد : المکان المحیط المحدود المتأثر باجتماع قطّانه وإقامتهم فيه، وجمعه : بِلَاد وبُلْدَان، قال عزّ وجلّ : لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
ترکیب ¦ ارم ذات العماد عطف بیان لعادا وبدل منہ وارم غیر منصرف للتعریف والتانیث وارم 1 ؎ جدعادلانہ عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح وقال قتادہھی قبیلۃ من عاد قال ابو عبیدہ ھما عادان فالاولیٰ ارم۔ ومعنی ذات العماد و ذات القوۃ والشدۃ وقیل ذات الطوال یقال رجل طویل العماد ای القامۃ وفی الصحاح العماد الابنیۃ الرفیعۃ تذکر و تؤنث۔ التی لم یخلق الخ صفۃ لعاد وقیل صفۃ ارم علی قول من قال ان ارم قریۃ وارض وثمود بالنصب عطفا علی عاد مجرور محلا علی انہ اسم للقبیلۃ ففیہ التانیث والتعریف فھو غیر منصرف الذین الخ صفۃ لثمود جابوا الجوب القطع ومنہ جاب البلاد واذا قطعھا ومنہ جیب القمیص لانہ قطع بالواد متعلق بجابوا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلاَدِ ۔ فَاَکْثَرُوْا فِیْھَا الْفَسَادَ ۔ فَصَبَّ عَلَیْہِمْ رَبُّکَ سَوْطَ عَذَابٍ ۔ (الفجر : 11 تا 13) (انھوں نے ملکوں میں سرکشی کی۔ اور ان میں بہت فساد مچایا۔ تب آپ کے رب نے ان پر عذاب کا کوڑا برسا دیا۔ ) قومِ عاد اور قوم ثمود جیسی طاقتور قومیں اور فرعون جیسا صاحب جبروت حکمران یہ سب اپنے اپنے وقت میں قوت و طاقت ہیبت و جبروت اور دولت و ثروت میں بےمثال تھے۔ لیکن انھوں نے اپنی قوت اور وسائل کو اللہ تعالیٰ کی عطا اور نعمت جاننے کی بجائے اپنی ذاتی کاوش کا نتیجہ سمجھا۔ اور اس گھمنڈ میں مبتلا ہوئے کہ ہمارے پاس جو کچھ ہے یہ ہماری ذاتی قابلیت اور کارکردگی کا کرشمہ ہے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں جس طرح اس کی قدرت کی نشانیاں پائی جاتی ہیں اسی طرح یہ بات بھی اس کی قدرت اور قوت کا مظہر ہے کہ اس نے عاد اور ثمود جیسی قوموں کو نیست و نابود کیا جن کی تباہی سے لوگوں نے سکون پایا۔ موجودہ جغرافیے کے مطابق قوم عاد کی رہائش عمان اور یمن کے علاقے حضرموت کے درمیان تھی یہ علاقہ سمندر کے کنارے پر واقع تھا یہاں ریت کے بڑے بڑے ٹیلے اور بلندوبالا پہاڑ تھے۔ اس کے باسی جسمانی اعتبار سے دراز قامت، کڑیل جوان اور قوی ہیکل تھے دنیا میں ان کا ثانی کوئی نہیں پیدا کیا گیا۔ انھوں نے پہاڑتراش، تراش کر خوبصورت محلات تعمیر کر رکھے تھے ان کی سرزمین نہایت سر سبزتھی جس…
Read the full tafseer →11 : الَّذِیْنَ طَغَوْا فِی الْبِلَادِ (جنہوں نے شہروں میں فساد مچا رکھا تھا) نحو : ذم کی وجہ سے الذین منصوب ہے۔ نمبر 2۔ ہم مبتدأ کی خبر ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے۔ نمبر 3۔ عاد، ثمود و فرعون کی صفت ہونے کی وجہ سے مجرور ہے۔ طغواؔ انہوں نے حد سے تجاوز اختیار کیا۔
Read the full tafseer →11 ۔” الذین طغوا فی البلاد “ جنہوں نے بستیوں میں حد سے زیادہ نافرمانیاں کی تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
1۔ 14۔ دس راتوں اور طاق اور جفت کی تفسیر اگرچہ سلف نے طرح طرح سے کی ہے لیکن امام المفسرین 2 ؎ حضرت عبد اللہ بن عباس اور ابن زبیر ؓ اور مجاہد اور اکثر سلف کا قول یہی ہے کہ دس راتوں سے مراد ماہ ذی الحجہ کی اول کی دس راتیں ہیں یہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کیونکہ مسند 3 ؎ امام احمد نسائی و مستدرک حاکم بیہقی وغیرہ میں حضرت جابر ؓ کی مرفوع روایت میں یہی تفسیر آچکی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ان دس راتوں سے مراد شروع ذی الحجہ کی دس راتیں ہیں۔ حاکم نے اس روایت کو صحیح قرار دیا ہے اور طاق اور جفت کی تفسیر میں یہ قول صحیح معلوم ہوتا ہے کہ طاق اور جفت سے مراد طاق اور جفت نمازیں ہیں جیسے مغرب اور عشاء ‘…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–13
(الَّذِيْنَ طَغَوْا فِي الْبِلَادِ ) جنہوں نے شہروں میں سرکشی کی۔ یہ وصف عاد، ثمود، فرعون اور ان کی پیروی کرنے والوں کی طرف لوٹتا ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے شہروں میں سرکشی کارویہ اختیار کیا اللہ کے بندوں کو ان کے دین میں دنیا میں ستایا اس لیے فرمایا (فَاَكْثَرُوْا فِيْهَا الْفَسَادَ ) اور بہت فساد مچا رکھا تھا یعنی کفر اور اس کے شعبوں، یعنی معاصی کی تمام اقسام پر عمل کیا انبیا ومرسلین کے خلاف جنگ کی اور لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے کوشاں رہے، جب وہ سرکشی میں اس حد تک پہنچ گئے جو ان کی ہلاکت کی موجب تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عذاب بھیجا اور ان پر عذاب کا کوڑا برسایا۔
Read the full tafseer →(12) طغیانی و سرکشی باعث ہلاکت و تباہی، والعیاذ باللہ : سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ منکرین کی ہلاکت کا باعث ان کی طغیانی اور سرکشی تھی، چناچہ ارشاد فرمایا گیا اور منکرین کی ہلاکت و تباہی کے سبب اور باعث کے ذکرو بیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " ان سب نے سرکشی کی ان ملکوں میں "۔ کہ نہ انہوں نے خالق کے حقوق کی پروا کی نہ مخلوق کے حقوق کا کوئی پاس ولحاظ رکھا، جہاں چاہا ہاتھ مار لیا۔ جس سے موقع ملا ظلم کرلیا، اور جس کا چاہا حق مار لیا، اور اس سینہ زوری اور دست درازی کو اپنی بہادری سمجھا اور کمزوروں اور زیر دستوں پر ہاتھ ڈالا تو جابر اور ظالم بن کر، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
ف 14 یعنی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کفر و شرک اور اس کی مخلوق پر ظلم و ستم۔
Read the full tafseer →(89:11) الذین طغوا فی البلاد : الذین۔ اسم موصول جمع مذکر۔ جنہوں نے ۔ ان سب نے۔ (یعنی عاد وثمود و فرعون نے) طغوا۔ ماضی جمع مذکر غائب طغیان (باب نصر، سمع) مصدر سے بمعنی انہوں نے سرکشی کی۔ وہ حد سے گزر گئے۔ جنہوں نے ملکوں میں سرکشی کی حد کردی۔ یہ جملہ عاد وثمود اور فرعون کی صفت ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 6–14
صاحب قوت اقتدار لوگوں کا عذاب الٰہی سے ہلاک ہونا۔ (ف 1) فرمایا کہ کیا تم نے نہ دیکھا کہ تمہارے پروردگار نے عاد یعنی ارم ستون جیسے دراز قد والوں کے ساتھ کیسامعاملہ کیا، زور وقوت اور طول قیامت میں عاد کے بیٹوں میں سے شداد بھی ہے جس نے دنیا پر بادشاہت کی اور تمام بادشاہ اس کے مطیع ہوگئے اور اس نے جنت کا ذکر سن کر براہ سرکشی دنیا میں جنت بنانی چاہی اور اس ارادہ سے ایک شہرعظیم بنایاجس کے محل سونے چاندی کی اینٹوں سے تعمیر کیے گئے اور زبرجد اور یاقوت کے ستون اس کی عمارتوں میں نصب ہوئے اور ایسے ہی فرش مکانوں اور ستونوں میں بنائے گئے سنگریزوں کی جگہ آبدار موتی بچھائے گئے ہر محل کے گرد جواہر پر نہریں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
[6] تشریح کے لئے ملاحظہ ہو سورة ص حاشیہ 7 صفحہ 1094۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–14
سورة الفجر 1: اس سورت میں قسموں کے انداز میں شواہد کو پیش فرمایا ہے اور دلائل کا ذکر کیا ہے ۔ اسی واسطے فرمایا ہے ۔ ھل فی ذلک قسم لذی حجر ۔ کہ اس میں عقلمندوں اور غوروفکر کرنے والوں کے لئے ایک بین دلیل ہے ۔ اس لئے مقام اور موقع کے لحاظ سے زیادہ موزوں یہ ہے کہ یہاں الفجر سے مراد فجر قیامت ہو اور دس راتوں سے مراد وہ دس راتیں ہوں جن میں نافرمان قوموں پر عذاب بھیجا گیا اور الشفع والوتر حسوما اور الیل اذیسر ۔ غرض ہر وہ رات ہے جو معذب قوموں پر آتی ہے ۔ اس نہج سے یہ دعوی ان ربک لبا لمرصاد بالکل درست اور صحیح ثابت ہوگا ۔ یعنی ان معذب قوموں کی تاریخ پڑھو اور ان کے حالات کا مطالعہ کرو ۔ تمہیں معلوم…
Read the full tafseer →(11) ان سبھوں نے مختلف ممالک میں بڑا سراٹھا رکھا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–15
ف 2۔ دو منثور میں عبداللہ بن مسعود سے اس کی تفسیر میں منقول ہے کہ وہ جس کو سزا دیتا اس کے چاروں ہاتھ پاوں چار میخوں سے باندھ کر سزا دیتا اور اس کی ایک تفسیر سورة ص میں گزر چکی ہے۔
Read the full tafseer →جنہوں نے اپنے ملک میں سخت فساد بپا کر رکھا تھا 11۔ تین گروہوں کا ذکر اوپر کیا گیا ہے : عاد ، ثمود اور فرعون کا اور ان تینوں ہی نے اپنے اپنے زمانہ میں سخت فساد مچارکھا تھا اور جن جن علاقوں میں یہ لوگ رہتے تھے ان علاقوں میں انہوں نے سر کشی اختیار کی اور ظلم و ستم کی حد کردی ۔ کسی کی آبرو ، کی جان ، کس کی جائیداد محفوظ نہ رہی تھی ۔ جس طرح چاہتے تھے زیردستوں پر ظلم و ستم کرتے اور ان کو لوٹتے ، ان کی عصمتوں کو تاراج کردیتے اور ان کے خون کے دریابہا دیتے اور اس بےحس ظلم کی وجہ یہ تھی کہ انہیں روز حساب کا کوئی خوف نہ تھا۔ جب ان کے مظالم کی حد ہوگئی ، ان کے انبیاء ان کی اصلاح سے مایوس ہوگئے اور ان کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–12
وَفِرْعَوْنَ ذِي الْأَوْتَادِ (and with Fir'aun [ the Pharaoh ], the man of the stakes...89:10). The word autad is the plural of watad that means 'peg or stake or nail'. Fir'aun (the Pharaoh) is referred to as 'the man of the stakes'. There are several reasons for this. Majority of the commentators hold the view that he was so called because of the brute torture and cruel torment he inflicted on the people. When he was angry with people, he would hammer stakes into the ground and tie them to these, so that they could be tortured; or he would hammer stakes into their hands and feet, as they…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 10–13
6 The words dhul-autad (of the stakes) for Pharaoh have also been used in Surah Suad: 12 above. This can have several meanings. Possibly his forces have been compared to the stakes, and "of the stakes" means "of great forces", for it was by their power and might that he ruled a firmly established kingdom; it might also imply multiplicity of forces and the meaning be that wherever his large armies camped, pegs of the tents were seen driven into the ground on every side; it may also imply the stakes at which he punished the people, and it is also possible that the pyramids of Egypt have been…
Read the full tafseer →