Al-Fajr 89:28

Al-Fajr · from ayah 28

89:28

ارْجِعِیْۤ اِلٰی رَبِّكِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَّةً ۟ۚارۡجِعِىۡۤ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَةً مَّرۡضِيَّةً‌

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

— Fateh Muhammad Jalandhari

Return to your Lord, well-pleased and pleasing [to Him],

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:28

چل اپنے رب کی طرف، اِس حال میں کہ تو (اپنے انجام نیک سے) خوش (اور اپنے رب کے نزدیک) پسندیدہ ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

— مولانا فتح محمد جالندہری

تو اپنے رب کی طرف لوٹ چل اس طرح کہ تو اس سے راضی وه تجھ سے خوش

— مولانا محمد جوناگڑہی

اپنے پروردگار کی طرف اس طرح لوٹ کر آجا کہ تو اس سے راضی ہو، اور وہ تجھ سے راضی۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اپنے رب کی طرف واپس ہو یوں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

تو اپنے رب کی طرف اس حال میں لوٹ آکہ تو اس کی رضا کا طالب بھی ہو اور اس کی رضا کا مطلوب بھی (گویا اس کی رضا تیری مطلوب ہو اور تیری رضا اس کی مطلوب)،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اپنے رب کی طرف لوٹ آ، اس حال میں کہ تو راضی ہے، پسند کی ہوئی ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اپنے پروردگار کی طرف لوٹ چل تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

لوٹ جا تو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

— مولانا اسحاق مدنی

تو اپنے پروردگار کی طرف چل خوش ہوتی ہوئی اور خوش کرتی ہوئی

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تم اس سے راضی وہ تم سے راضی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اپنے رب کی طرف لوٹ چل۔ تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی

— محترمہ رفعت اعجاز

Return to your Lord well-pleased (with your blissful destination), well-pleasing (to your Lord).

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

come back to your Lord, well-pleased, well-pleasing.

— Muhammad Taqi Usmani

come back to your Lord, well-pleased, well-pleasing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Come back to your Lord, -- well-pleased and well-pleasing!"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Return unto thy Lord, content in His good pleasure!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Return to your Lord, well-pleased and pleasing [to Him],

— Saheeh International

return to your Lord well pleased with him and He will be pleased with you.

— Muhammad Sarwar

Return to your Lord, well-pleased (with him), well-pleasing (Him),

— Muhammad Habib Shakir

Return Unto thine Lord well pleased and well-pleasing.

— Abdul Majid Daryabadi

"Come back thou to thy Lord,- well pleased (thyself), and well-pleasing unto Him!

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 89:28

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–30

سجدوں کی برکتیں : قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–30

سورة الْفَجْر 19 یہ بات اس سے موت کے وقت بھی کہی جائے گی، قیامت کے روز جب وہ دوبارہ اٹھ کر میدان حشر کی طرف چلے گا اس وقت بھی کہی جائے گی، اور جب اللہ کی عدالت میں پیشی کا موقع آئے گا اس وقت بھی کہی جائے گی ہر مرحلے پر اسے اطمینان دلایا جائے گا کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

راضیة مرضیة، یعنی یہ نفس اللہ تعالیٰ سے اسکے تکوینی اور تشریعی احکام پر راضی ہے اور اللہ تعالیٰ بھی اس سے راضی ہے کیونکہ بندہ کا اللہ تعالیٰ کے تقدیری احکام پر راضی ہونا ہی اس کی علامت ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہے، اگر اللہ تعالیٰ اس سے راضی نہ ہوتا تو اسکو و رضا بالقضا کی توفیق ہی نہ ہوتی۔ یہ نفس اپنی موت کے وقت موت پر بھی راضی اور خوش ہوتا ہے۔ حضرت عبادہ ابن صامت کی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے من احب لقاء اللہ احب اللہ لقاہ، ومن کرہ لقاء اللہ کرہ اللہ لقاہ، یعنی جو شخص اللہ تعالیٰ سے ملنے کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے ملنے کو پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’اِرْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً‘۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے تحسین و آفرین کا کلمہ ہے۔ ان لوگوں کو خطاب کر کے ارشاد ہو گا کہ شاباش! تمہارے رب نے جس میدان امتحان میں تمہیں اتارا اس میں تمہاری بازی نہایت کامیاب رہی۔ اب تم اپنے رب کی طرف اس سرخروئی کے ساتھ لوٹو کہ تم نے ثابت کر دیا کہ تم ہر طرح کے نرم و گرم حالات میں اپنے رب سے راضی و مطمئن رہے اور ساتھ ہی تمہیں یہ سرفرازی بھی حاصل ہوئی کہ تم اپنے رب کی نظروں میں بھی پسندیدہ ٹھہرے۔ جس طرح تم اپنے رب سے کسی مرحلے میں گلہ مند نہیں ہوئے اسی طرح تمہارے رب نے تم کو بھی کسی مرحلے میں اپنے معیار سے فروتر نہیں پایا۔ تم اس سے راضی وہ تم…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–30

28۔ 1 یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے، حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا، اللھم انی اسالک نفسا، بک مطمئنہ، تو من بلقائک، وترضی بقضائک، وتقنع بعطائک۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–30

9: یہ قرآن کریم کے اصل لفظ ”نفس مطمئنہ“ کا ترجمہ ہے۔ اس سے مراد انسان کا وہ دل ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے کرتے بالکل سکون پا گیا ہو، اور نافرمانی سے محفوط ہوگیا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–30

یایتھا ........................................ جنتی کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔ یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار ! ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–30

5 پہلے مجرموں اور ظالموں کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اس کے مقابل ان لوگوں کا انجام بتلاتے ہیں جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے چین اور آرام ملتا ہے ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ اے نفس آرمیدہ بحق ! جس محبوب حقیقی سے تو لو لگائے ہوئے تھا، اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہو کر راضی خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو اس کی عالیشان جنت میں قیام کر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے۔ بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ "…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 28{ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً۔ } ”اب لوٹ جائو اپنے رب کی طرف اس حال میں کہ تم اس سے راضی ‘ وہ تم سے راضی۔“ سورة البینہ کی آیت 8 میں ایسے خوش قسمت لوگوں کی یہی کیفیت { رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھُمْ وَرَضُوْا عَنْہُط } ”اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی !“ کے الفاظ میں بیان کی گئی ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 27–28

19 نفس مطمئنہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت کے لیے سورة القیامۃ کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 2 ملاحظہ فرمائیے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–30

15۔ یہ بشارت ہر مومن کو عین اس وقت ملے گی، جو وقت اس مادی جسم سے انقطاع روح کا ہوگا۔ قال ابن زید وجماعۃ ان ذلک القول عند الموت (روح) اس وقت اس صدائے بشارت کی جو اہمیت اور معنویت اور ضرورت ہوگی، اسے کوئی اچھا بھلا چنگا انسان، الفاظ کے ذریعہ سے ناقابل اظہار قدر تو عین اسی وقت ہوگی، اب یہ کیا بتایا جائے کہ یہ صدائے جان نواز کس کی ہوگی ! (آیت) ” عبدی “۔ اور (آیت) ” جنتی “۔ دونوں میں یائے متکلم کے بعد کسی تصریح کی ضرورت ہی کب باقی رہ جاتی ہے ؟ (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ “۔ خطاب اس روح سے ہوگا، جسے حقانیت اسلام پر ایقان واذعان ہوگا ، ، اور کسی طرح کا شک ہوگا نہ انکار، اور انشاء اللہ اس کا مصداق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ارجعی الی ربک . یعنی اسماء اور صفات کے پردوں کو ہٹا کر رب کی ذات مخصوص کی طرف لوٹ آ۔ راضیۃ . یہ ارجعی کے فاعل سے حال سے۔ مطلب یہ ہے کہ اللہ کی ربوبیت ‘ محمد ﷺ کی رسالت ‘ اسلام کی ملت اور اللہ نے جو کچھ تیرے لیے مقدر کردیا ہے اس پر راضی رہتے ہوئے اپنے رب کی طرف لوٹ آ۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اس شخص نے ایمان کی لذت پا لی جو اللہ کے رب ہونے پر ‘ محمد ﷺ کے رسول ہونے پر اور اسلام کے دین ہونے پر راضی ہوگیا۔ (بخاری و مسلم) ایمان کی لذت پانے سے مراد ہے حقیقی ایمان کا حاصل ہونا۔ مرضیہ . اور اس حالت میں اللہ کی طرف آ کہ اللہ بھی تجھ سے راضی ہو کیونکہ بندہ جب اللہ کی الوہیت سے راضی ہوتا ہے تو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–30

(3027) اے عذاب سے اطمینان والی توحید خداوندی کی تصدیق کرنے والی، نعمت خداوندی پر شکر کرنے والی، مصیبتوں پر صبر کرنے والی، قضاء الہی پر راضی ہونے، عطا خداوندی پر قناعت کرنے والی، روح تو ان نعمتوں کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے لیے تیار کر رکھی ہیں، یا اپنے جسم کی طرف جا اس طرح سے کہ تو ثواب خداوندی سے خوش اور اللہ تعالیٰ تیری توحید سے خوش ہو اور پھر ادھر چل کر تو میرے خاص بندوں اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ شان نزول یَا ایَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّهُ الخ ابن ابی حاتم نے بریدہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اور جبیر عن الضحاک کے طریق…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–30

یایھا النفس المطمینۃ :”النفس المطمئنۃ“ اطمینان والی جان، جسے اللہ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–30

یا ایتھا النفس المطمئنہ۔۔۔ تا۔۔ جنتی۔ جب اس آدمی کی حالت کا ذکر کیا جس کا مقصود دنیا تھی اس نے اللہ تعالیٰ پر غنی کرنے اور تنگی دینے پر تہمت لگائی تھی اب اس آدمی کی حالت کا ذکر ہے جس کا نفس اللہ تعالیٰ سے مطمئن تھا اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس پر بھروسہ کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے ایک قول ہے نفس مطمئنہ سے مراد سکون پانے والا اور یقین رکھنے والا نفس ہے، جس نے یقین کیا اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور اس کے سامنے تواضع کا اظہار کیا، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد وہ نفس ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–30

57۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ عرش کی جڑ سے ایک وادی بہے گی تو اس میں سب چوپائے زمین کی سطح پر ظاہر ہوجائیں گے۔ پھر روحیں اڑیں گی اور ان کو حکم دیا جائے گا کہ جسموں میں داخل ہوجاؤ یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ اپنے رب کی طرف لوٹ جا تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ 58۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ تو اپنے رب کی طرف لوٹ آ، پس اجر وثواب پر خوش ہوتے ہوئے جو تجھے عطا کیا گیا۔ مرضیہ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ بھی تیرے عمل سے راضی اور خوش ہے۔ آیت فادخلی فی عبادی پس میرے بندوں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِكِ : تو واپس چل اپنے رب کی طرف ][ رَاضِيَةً : راضی ہوتے ہوئے (اپنے رب سے)][ مَّرْضِيَّةً : پسندیدہ ہوتے ہوئے (اپنے رب کی)]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 26–28

﴿وَّ لَا يُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ0026﴾ (اور اس دن کی جیسی بندش کوئی نہ کرے گا) یعنی اس دن ایسی سخت سزا دی جائے گی کہ اس سے پہلے کسی نے کسی کو اتنی سخت سزا نہ دی ہوگی اور اس سے پہلے کسی نے ایسی سخت جکڑ بندی نہ کی ہوگی۔ سورة ٴ سبا میں فرمایا ﴿ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْۤ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے) اور سورة ٴ مومن میں فرمایا ﴿فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَۙ0070 اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ 1ؕ﴾ (سو ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں) اس کے بعد اہل ایمان کو بشارتیں دیں اور فرمایا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–30

13:۔ ” یا ایتہا النفس “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کافروں کا حال بیان کرنے کے بعد مومنوں کا حال بیان فرمایا کہ مومن سے کہا جائیگا اے نفس مطمئنہ ! جو رذایل اخلاق سے پاک ہوچکا ہے اپنے پروردگار کی طرف واپس آ اس حال میں کہ تو اپنے رب کی ربوبیت پر راضی ہے اور تیرا رب تجھ پر راضی ہے اس لیے تو میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میرے جنت میں داخل ہوجا۔ فائدہ : اس سورت کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ اس میں تین چیزوں کا بیان ہے۔ اول مرض، دوم سب مرض، اور سوم علاج مرض۔ ” فاما الانسان اذا ما ابتلہ “ تا ” فیقول ربی اھانن “ بیان مرض ہے۔ ” کلا بل لا تکرمون الیتیم “ تا ” وتحبون المال حبا جما “ سبب مرض کا بیان ہے۔ باقی سب علاج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–30

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ رَاضِيَۃً مَّرْضِيَّۃً۝ 28 ۚ رجع الرُّجُوعُ : العود إلى ما کان منه البدء، أو تقدیر البدء مکانا کان أو فعلا، أو قولا، وبذاته کان رجوعه، أو بجزء من أجزائه، أو بفعل من أفعاله . فَالرُّجُوعُ : العود، ( ر ج ع ) الرجوع اس کے اصل معنی کسی چیز کے اپنے میدا حقیقی یا تقدیر ی کی طرف لوٹنے کے ہیں خواہ وہ کوئی مکان ہو یا فعل ہو یا قول اور خواہ وہ رجوع بذاتہ ہو یا باعتبار جز کے اور یا باعتبار فعل کے ہو الغرض رجوع کے معنی عود کرنے اور لوٹنے کے ہیں اور رجع کے معنی لوٹا نے کے إلى إلى: حرف يحدّ به النهاية من الجوانب الست، وأَلَوْتُ في الأمر : قصّرت فيه، هو منه، كأنه رأى فيه الانتهاء،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–30

یٰٓـاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۔ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ (الفجر : 27 تا 30) (اے نفس مطمئن !۔ چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ شامل ہوجا میرے بندوں میں۔ اور داخل ہوجا میری بہشت میں۔ ) اللہ تعالیٰ کے دین پر مکمل ایمان اور تقویٰ رکھنے والوں کو براہ راست بشارت اس سے پہلے کی آیات میں ان کفار کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ اس قدر تنگ ظرف اور تھڑدلے واقع ہوئے ہیں کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا فرمائی وہ بہک گئے اور اترانے اور فخر کرنے لگے۔ اور جب ذرا تنگی آئی تو دل شکستہ ہو کر بیٹھ گئے اور اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–30

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اجر اور مقام۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں۔ 1۔ نفس مطمئنہّ : ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا۔ (الفجر : 27) 2۔ نفس لوّامہ : گناہ پر ملامت کرنے والا (القیامہ : 2) 3۔ نفس امّارہ : گناہ پر ابھارنے والا (یوسف : 53) یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفسِ امّارہ اور نفس لوّامہ۔ ان کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوّامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے اور اگر نفس امّارہ غالب آجائے تو آدمی برائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

28 : ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً (تو اپنے پروردگار کی طرف چل اس طرح کہ تو اس سے خوش اور وہ تجھ سے خوش) ارجعی تو لوٹ اپنے رب کے وعدے کے مقام یا اپنے رب کے ثواب کی طرف اس حال میں کہ تو خوش ہونے والا ہے اس چیز پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہیں دی گئی۔ مرضیۃؔ اپنے عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کے ہاں پسندیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

28 ۔” ارجعی الی ربک “ اللہ کی طرف۔ ” راضیۃ “ ثواب کے ساتھ۔ ” مرضیۃ “ تجھ سے اور حسن (رح) فرماتے ہیں جب اللہ تعالیٰ اس کو قبض کرنے کا ارادہ کریں گے تو وہ اللہ کی طرف مطمئن ہوجائے گا اور سے راضی ہوگا اور اللہ تعالیٰ اس سے راضی ہوں گے۔ راضیۃ مرضیۃ کی تفسیر عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں جب مومن بندہ وفات پاتا ہے تو اللہ تعالیٰ دو فرشتوں کو بھیج دیتے ہیں اور اس کے پاس جنت سے ایک تحفہ بھیج دیتے ہیں۔ پھر اس کو کہا جاتا ہے تو نکل اے مطمئن نفس ! تو نکل روح اور ریحان کی طرف اور تیرا رب تجھ سے راضی ہے۔ پس کستوری کی خوشبو سے عمدہ خوشبو نکلتی ہے جس کو کوئی ایک اپنے ناک سے سونگھتا ہے اور فرشتے آسمان کے اوپر…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–30

21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

( ارْجِعِيْٓ اِلٰى رَبِّكِ ) اپنے رب کی طرف لوٹ چل۔ جس نے اپنی نعمتوں کے ذریعے سے تیری نشونما کی۔ ( رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً ) یعنی اللہ تعالیٰ اور اس کے ثواب سے راضی ہو کر جس سے اللہ تعالیٰ نے تجھ کو سرفراز فرمایا اور اللہ تعالیٰ تجھ سے راضی ہوا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 26–28

(29) یوم قیامت کی شدت اور ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور یوم قیامت کی شدت اور ہولناکی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز نہ کوئی اس کے عذاب جیسا عذاب دے سکے گا اور نہ ہی کوئی اس کے جکڑنے جیسا جکڑ سکے گا "۔ کہ وہاں پر منکر انسان ایسے ہولناک طوقوں اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوگا جن کا اس دنیا میں اور اپنے طور پر کسی کے لیے سوچنا اور تصور کرنا بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے وہاں کے عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکی اور بےپناہی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اس دن اور اس جہاں میں اللہ جو عذاب دے گا والعیاذ باللہ۔ اس طرح کا عذاب کوئی نہیں دے سکتا، اور جس طرح…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 25–28

ف 8 چین سے رہنے والی جان سے مراد وہ جان ہے جو حق کے ساتھ رہتی ہے اور حق کے ساتھ پھرتی ہے۔ (ابن کثیر)

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:28) ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ : ارجعی فعل امر واحد مؤنث حاضر رجوع (باب ضرب) مصدر سے۔ تو واپس آ۔ اپنے رب کی طرف۔ رضیۃ : یہ ارجعی کے فاعل سے حال ہے۔ رضی سے اسم فاعل کا صیغہ واحد مؤنث۔ راضی، خوش۔ مرضیۃ : رضی سے اسم مفعول کا صیغہ واحد مؤنث۔ پسند کی ہوئی۔ راضی کی ہوئی۔ خوش کی ہوئی۔ یعنی تو اللہ کی دادودہش و عنایات پر خوش ہونے والی۔ اور اللہ کی طرف سے وادودہش سے خوش کی ہوئی۔ یہ بھی ارجعی کے فاعل سے حال ہے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔ (ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–30

[12] یعنی جس طرح تو اپنے رب سے کسی مرحلے میں گلہ مند نہیں ہوا اسی طرح تیرے رب نے تجھ کو بھی کسی مرحلے میں اپنے معیار سے فروتر نہیں پایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–29

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–30

ف 7۔ قرینہ مقام سے یہ خطاب یا ایتھا النفس الخ، قیامت کے روز معلوم ہوتا ہے، اور بعض روایات میں جو آیا ہے کہ مرنے کے وقت مومن سے کہا جاتا ہے وہاں تفسیر آیت کی مقصود نہیں نہ وقت موت کی تخصیص ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تو اپنے رب کی طرف واپس چل تو اس سے راضی اور وہ تجھ سے 28 ؎ کیا خوب صورت انداز ہے اس نفس مطمئنہ کے لیے اور کیا ہی شیرینی ہے اس انداز میں کہ کچھ کہا بھی نہیں گیا اور گویا سب کچھ کہہ بھی دیا کہ تم جس حال میں بھی ہو تمہارا مراد رضائے الٰہی تھا اس لیے تو اپنے رب کی طرف واپس لوٹ چل ۔ اس میں جو میٹھا انداز پایا گیا ہے اور جو اشارہ کیا گا ہے ، جو استعارہ بیان ہوا ہے اس کی کیا ہی شان ہے سبحان اللہ ! اگر انسان مرنے کے بعد صرف اور صرف دنیا کا ہو کر رہ جاتا ہے اور اس کا تعلق آخرت کے ساتھ کسی حال میں بھی قائم نہیں ہوتا کیونکہ اس کا جسم تو فنا ہونے والی چیز تھا اور وہ مرنے کے بعد فنا ہوگیا کسی نے اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

رَاضِيَةً مَّرْضِيَّةً (...well-pleased, well-pleasing....89:28). [ The true believer's ] soul is well-pleased with decrees destined by Allah and His legislative commands, and Allah too is well-pleased with His slave. The slave's being pleased with Allah's decrees and injunctions is a sign that Allah is pleased.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–30

19 This he will be told at the time of his death as well as on the Day of Resurrection when he will rise from the dead and move towards the Plain of Assembly and also on the occasion when he will be presented in the Divine Court; at every stage he will be assured that he is moving towards the Mercy of Allah Almighty.

Read the full tafseer →