Explained with ayahs 21–30
سجدوں کی برکتیں :
قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…
Read the full tafseer →سورة الْفَجْر 18
نفس مطمئن سے مراد وہ انسان ہے جس نے کسی شک و شبہ کے بغیر پورے اطمینان اور ٹھنڈے دل کے ساتھ اللہ وحدہ لا شریک کو اپنا رب اور انبیاء کے لائے ہوئے دین حق کو اپنا دین قرار دیا، جو عقیدہ اور جو حکم بھی اللہ اور اس کے رسول سے ملا اسے سراسر حق مانا، جس چیز سے بھی اللہ کے دین نے منع کیا اس سے بادل ناخواستہ نہیں بلکہ اس یقین کے ساتھ رک گیا کہ فی الواقع وہ بری چیز ہے، جس قربانی کی بھی حق پرستی کی راہ میں ضرورت پیش آئی بےدریغ اسے پیش کردیا، جن مشکلات اور تکالیف اور مصائب سے بھی اس راہ میں سابقہ در پیش ہوا انہیں پورے سکون قلب کے ساتھ برداشت کیا، اور دوسرے راستوں پر چلنے والوں کو دنیا میں…
Read the full tafseer →یایتھا النفس المطمئنة، یہاں مومن کی روح کو نفس مطمئنہ کے لقب سے خطاب کیا گیا ہے۔ مطمئنہ کے لفظی معنے ساکنہ کے ہیں۔ مراد وہ نفس ہے جو اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے سکون وقرار پاتا ہے اسکے ترک سے بےچینی محسوس کرتا ہے اور یہ وہی نفس ہوسکتا ہے جو ریاضات ومجاہدات کرکے اپنی بری عادات اور اخلاق ذیلہ کو دور کرچکا ہو۔ اطاعت حق اور ذکر اللہ اس کا مزاج اور شریعت اس کی طبیعت بن جاتی ہے اس کو خطاب کرکے فرمایا گیا ارجعی الی ربک یعنی لوٹ جاؤ اپنے رب کی طرف، لوٹنے کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کا پہلا مقام بھی اب کے پاس تھا اب وہیں واپس جانیکا حکم ہورہا ہے، اس سے اس روایت کی تقویت ہوتی ہے جس میں یہ…
Read the full tafseer →مستحقین جنت کو براہ راست بشارت:
اس دن مستحقین جنت کو جو بشارت براہ راست رب کریم کی طرف سے ملے گی یہ اس کی طرف اشارہ ہے۔ یہاں خاص توجہ کی چیز ’یٰٓاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃ‘ کا خطاب ہے جس سے جنت کے مستحقین کو نوازا جائے گا۔ اس خطاب سے ان کے نفس کی اس خاص صفت پر روشنی پڑ رہی ہے جس کی بنا پر وہ جنت کے حق دار قرار پائیں گے۔ اوپر آیات ۱۵-۱۶ میں ان تنک ظرفوں اور تھڑ دلوں کا حال بیان ہوا تھا جن کو نعمت ملتی ہے تو وہ بہک کر اترانے اور فخر کرنے والے بن جاتے ہیں اور جب ذرا تنگئ رزق کی آزمائش پیش آ جائے تو بالکل دل شکستہ ہو کر خدا سے مایوس اور شاکی بن جاتے ہیں۔ اس کے بعد ان کا انجام بیان ہوا۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
اس لیے کہ اس روز تمام اختیارات صرف ایک اللہ کے پاس ہوں گے، دوسرے کسی کو اس کے سامنے رائے یادم زنی نہیں ہوگا حتی کہ اس کی اجازت کے بغیر کوئی سفارش تک نہیں کرسکے گا ایسے حالات میں کافروں کو جو عذاب ہوگا اور جس طرح وہ اللہ کی قید وبند میں جکڑے ہوں گے، اس کا یہاں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، چہ جائیکہ اس کا کچھ اندازہ ممکن ہو، یہ تو مجرموں اور ظالموں کا حال ہوگا لیکن اہل ایمان وطاعت کا حال اس سے بلکل مختلف ہوگا جیسا کہ اگلی آیات میں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
9: یہ قرآن کریم کے اصل لفظ ”نفس مطمئنہ“ کا ترجمہ ہے۔ اس سے مراد انسان کا وہ دل ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے کرتے بالکل سکون پا گیا ہو، اور نافرمانی سے محفوط ہوگیا ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
یایتھا ........................................ جنتی
کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔
یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار !
ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
5 پہلے مجرموں اور ظالموں کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اس کے مقابل ان لوگوں کا انجام بتلاتے ہیں جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے چین اور آرام ملتا ہے ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ اے نفس آرمیدہ بحق ! جس محبوب حقیقی سے تو لو لگائے ہوئے تھا، اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہو کر راضی خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو اس کی عالیشان جنت میں قیام کر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے۔ بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ "…
Read the full tafseer →آیت 27{ یٰٓــاَیَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ۔ } ”اے نفس ِمطمئنہ !“ ّ
جو اس امتحانی زندگی میں مطمئن ہو کر یکسوئی کے ساتھ اپنے رب کی بندگی میں لگا رہا اور اس کے دین کے ساتھ چمٹارہا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–28
19 نفس مطمئنہ کیا ہے ؟ اس کی وضاحت کے لیے سورة القیامۃ کی آیت نمبر 2 کا حاشیہ نمبر 2 ملاحظہ فرمائیے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
15۔ یہ بشارت ہر مومن کو عین اس وقت ملے گی، جو وقت اس مادی جسم سے انقطاع روح کا ہوگا۔ قال ابن زید وجماعۃ ان ذلک القول عند الموت (روح) اس وقت اس صدائے بشارت کی جو اہمیت اور معنویت اور ضرورت ہوگی، اسے کوئی اچھا بھلا چنگا انسان، الفاظ کے ذریعہ سے ناقابل اظہار قدر تو عین اسی وقت ہوگی، اب یہ کیا بتایا جائے کہ یہ صدائے جان نواز کس کی ہوگی ! (آیت) ” عبدی “۔ اور (آیت) ” جنتی “۔ دونوں میں یائے متکلم کے بعد کسی تصریح کی ضرورت ہی کب باقی رہ جاتی ہے ؟ (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ “۔ خطاب اس روح سے ہوگا، جسے حقانیت اسلام پر ایقان واذعان ہوگا ، ، اور کسی طرح کا شک ہوگا نہ انکار، اور انشاء اللہ اس کا مصداق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…
Read the full tafseer →یا ایتھا النفس المطمئنۃ . اس جگہ یقال محذوف ہے۔ یہ جملہ مستانفہ ہے۔ گویا ایک فرضی سوال کا جواب ہے ‘ سوال یہ پیدا ہوسکتا تھا کہ کافر کی حالت تو مندرجۂ بالا آیات سے واضح ہوگئی مگر مؤمن کی کیا حالت ہوگی۔
نفس مطمئنۃٌ : وہ نفس جس کو اللہ کی یاد اور طاعت سے ایسا سکون حاصل ہوتا ہے جیسا مچھلی کو پانی میں حاصل ہوتا ہے۔ ایسا سکون اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب نفس کو امارہ بنانے والی رذیل صفات سے بالکل پاک کرلیا جائے اور اوصاف قبیحہ زائل کردیئے جائیں مگر ان ناپاک اوصاف کا ازالہ اسی وقت ممکن ہے جب اللہ کے اوصاف حسنہ کا پرتو پڑجائے اور نفس ان جلوہ پاشیوں میں فناء ہو کر بقاء باللہ حاصل کرلے۔ اس مرتبہ پر پہنچ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
(3027) اے عذاب سے اطمینان والی توحید خداوندی کی تصدیق کرنے والی، نعمت خداوندی پر شکر کرنے والی، مصیبتوں پر صبر کرنے والی، قضاء الہی پر راضی ہونے، عطا خداوندی پر قناعت کرنے والی، روح تو ان نعمتوں کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے لیے تیار کر رکھی ہیں، یا اپنے جسم کی طرف جا اس طرح سے کہ تو ثواب خداوندی سے خوش اور اللہ تعالیٰ تیری توحید سے خوش ہو اور پھر ادھر چل کر تو میرے خاص بندوں اور میری جنت میں داخل ہوجا۔
شان نزول یَا ایَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّهُ الخ
ابن ابی حاتم نے بریدہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اور جبیر عن الضحاک کے طریق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
یایھا النفس المطمینۃ :”النفس المطمئنۃ“ اطمینان والی جان، جسے اللہ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
یا ایتھا النفس المطمئنہ۔۔۔ تا۔۔ جنتی۔
جب اس آدمی کی حالت کا ذکر کیا جس کا مقصود دنیا تھی اس نے اللہ تعالیٰ پر غنی کرنے اور تنگی دینے پر تہمت لگائی تھی اب اس آدمی کی حالت کا ذکر ہے جس کا نفس اللہ تعالیٰ سے مطمئن تھا اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس پر بھروسہ کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے ایک قول ہے نفس مطمئنہ سے مراد سکون پانے والا اور یقین رکھنے والا نفس ہے، جس نے یقین کیا اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور اس کے سامنے تواضع کا اظہار کیا، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد وہ نفس ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب…
Read the full tafseer →45۔ ابن ابی حاتم وابن مردویہ والضیاء فی المختارہ سعید بن جبیر کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ۔ اے اطمینان والی روح یعنی مون روح ارجع ربک اپنے رب کی طرف لوٹ چل یعنی اپنے جسم کی طرف۔ آپ نے فرمایا یہ آیت نازل ہوئی اور ابوبکر ؓ بیٹھے ہوئے تھے تو انہوں نے پوچھا یا رسول اللہ ! یہ کتنی خوبصورت بات ہے۔ آپ نے فرمایا عنقریب تجھے یہ آواز دی جائے گی۔
صدیق اکبر ؓ کو بشارت ملنا
46۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن ابی حاتم وابن مردویہ وابو نعیم نے الحلیہ میں سعید بن جبیر رحمہا للہ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ کے پاس یہ آیت پڑھی گئی آیت یا ایتہا النفس المطمئنۃ ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ…
Read the full tafseer →[يٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ : (پھر کہا جائے گا) اے مطمئن ہونے والی جان ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
﴿وَّ لَا يُوْثِقُ وَ ثَاقَهٗۤ اَحَدٌؕ0026﴾ (اور اس دن کی جیسی بندش کوئی نہ کرے گا) یعنی اس دن ایسی سخت سزا دی جائے گی کہ اس سے پہلے کسی نے کسی کو اتنی سخت سزا نہ دی ہوگی اور اس سے پہلے کسی نے ایسی سخت جکڑ بندی نہ کی ہوگی۔
سورة ٴ سبا میں فرمایا ﴿ وَ جَعَلْنَا الْاَغْلٰلَ فِيْۤ اَعْنَاقِ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا ﴾ (اور ہم کافروں کی گردنوں میں طوق ڈالیں گے)
اور سورة ٴ مومن میں فرمایا ﴿فَسَوْفَ يَعْلَمُوْنَۙ0070 اِذِ الْاَغْلٰلُ فِيْۤ اَعْنَاقِهِمْ وَ السَّلٰسِلُ 1ؕ﴾ (سو ان کو عنقریب معلوم ہوجائے گا جبکہ ان کی گردنوں میں طوق ہوں گے اور زنجیریں) اس کے بعد اہل ایمان کو بشارتیں دیں اور فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت :
قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔
(ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
13:۔ ” یا ایتہا النفس “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کافروں کا حال بیان کرنے کے بعد مومنوں کا حال بیان فرمایا کہ مومن سے کہا جائیگا اے نفس مطمئنہ ! جو رذایل اخلاق سے پاک ہوچکا ہے اپنے پروردگار کی طرف واپس آ اس حال میں کہ تو اپنے رب کی ربوبیت پر راضی ہے اور تیرا رب تجھ پر راضی ہے اس لیے تو میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میرے جنت میں داخل ہوجا۔
فائدہ : اس سورت کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ اس میں تین چیزوں کا بیان ہے۔ اول مرض، دوم سب مرض، اور سوم علاج مرض۔
” فاما الانسان اذا ما ابتلہ “ تا ” فیقول ربی اھانن “ بیان مرض ہے۔ ” کلا بل لا تکرمون الیتیم “ تا ” وتحبون المال حبا جما “ سبب مرض کا بیان ہے۔ باقی سب علاج…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
گزشتہ سے پیوستہ
سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…
Read the full tafseer →يٰٓاَيَّتُہَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّۃُ 27
نفس
الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ [ المائدة/ 116] ، وقوله : وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّهُ نَفْسَهُ [ آل عمران/ 30] فَنَفْسُهُ : ذَاتُهُ ، وهذا۔ وإن کان قد حَصَلَ من حَيْثُ اللَّفْظُ مضافٌ ومضافٌ إليه يقتضي المغایرةَ ، وإثباتَ شيئين من حيث العبارةُ- فلا شيءَ من حيث المعنی سِوَاهُ تعالیٰ عن الاثْنَوِيَّة من کلِّ وجهٍ. وقال بعض الناس : إن إضافَةَ النَّفْسِ إليه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–30
ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
یٰٓـاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۔ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ (الفجر : 27 تا 30)
(اے نفس مطمئن !۔ چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ شامل ہوجا میرے بندوں میں۔ اور داخل ہوجا میری بہشت میں۔ )
اللہ تعالیٰ کے دین پر مکمل ایمان اور تقویٰ رکھنے والوں کو براہ راست بشارت
اس سے پہلے کی آیات میں ان کفار کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ اس قدر تنگ ظرف اور تھڑدلے واقع ہوئے ہیں کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا فرمائی وہ بہک گئے اور اترانے اور فخر کرنے لگے۔ اور جب ذرا تنگی آئی تو دل شکستہ ہو کر بیٹھ گئے اور اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
فہم القرآن
ربط کلام : مجرموں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اجر اور مقام۔
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں۔
1۔ نفس مطمئنہّ : ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا۔ (الفجر : 27)
2۔ نفس لوّامہ : گناہ پر ملامت کرنے والا (القیامہ : 2)
3۔ نفس امّارہ : گناہ پر ابھارنے والا (یوسف : 53)
یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفسِ امّارہ اور نفس لوّامہ۔ ان کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوّامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے اور اگر نفس امّارہ غالب آجائے تو آدمی برائی…
Read the full tafseer →نفس مطمئنہ :
27 : یٰٓـاَیـَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَپنَّۃُ (اے اطمینان والی روح) یہ کلام اس سے بطور اکرام ہوگا۔ جیسا موسیٰ (علیہ السلام) سے کلام ہوئی یا فرشتے کے ذریعہ کلام ہوگا۔ مطمئنہ : امن والاجس پر خوف و حزن طاری نہ ہو۔ اور وہ مومنہ نفس ہے۔ نمبر 2۔ حق پر اطمئنان والا جس کو حق پر یقین کی برف نے جمایا ہوا ہے کہ شک اس کے قریب نہیں پھٹکتا۔ پہلی تفسیر پر ابی بن کعب کی قراءت شاہد ہے۔ یایتھا النفس الامنۃ المطمئنہ : یہ موت کے وقت اس کو کہا جاتا ہے۔ یا نمبر 2۔ بعث کے وقت کہا جائے گا نمبر 3۔ دخول جنت کے وقت کہا جائے گا۔
Read the full tafseer →27 ۔” یایتھا النفس المطمئنۃ “ اس کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے وعدہ کیا ہے اس حال میں کہ تصدیق کرنے والا ہے اس کی جو اللہ نے کہا ہے۔ مجاہد (رح) فرماتے ہیں ” المطمئنہ “ جس نے یقین کرلیا کہ اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور اس کے امر اور طاعت کی ادائیگی پر صبر کیا اور حسن (رح) فرماتے ہیں ” المئومنۃ “ یقین کرنے والے اور عطیہ (رح) فرماتے ہیں اللہ تعالیٰ قضاء پر راضی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں اللہ کے عذاب سے امن میں آنے والا اور کہا گیا ہے اللہ کے ذکر سے اطمینان حاصل کرنے والا۔ اس کا بیان اللہ تعالیٰ کے قول ” وتطمئن قلوبھم بذکر اللہ “ میں ہے اور ان کا اس مقالہ کے وقت میں اختلاف ہوا تو ایک قوم نے کہا ہے یہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–27
(وَّلَا يُوْثِقُ وَثَاقَهٗٓ اَحَدٌ) اور نہ کوئی ویسا جکڑنا جکڑے گا۔ پس انہیں آگ کی زنجیروں میں باندھا جائے گا اور چہروں کے بل کھولتے ہوئے پانی میں گھسیٹا جائے گا پھر آگ میں ان کو جلایا جائے گا پس یہی مجرموں کی سزا ہے وہ شخص جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اسی پر مطمئن ہو اور اس نے اس کے رسولوں کی تصدیق کی تو اس سے کہا جائے گا۔ (يٰٓاَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَىِٕنَّةُ ) اے اللہ تعالیٰ کے ذکر سے اطمینان اور اس کی محبت میں سکون حاصل کرنے والے نفس۔ جس کی آنکھیں اللہ تعالیٰ کے ذریعے سے ٹھنڈی ہوتی ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 26–28
(29) یوم قیامت کی شدت اور ہولناکی کا ذکر وبیان : سو ارشاد فرمایا گیا اور یوم قیامت کی شدت اور ہولناکی کے ذکر وبیان کے سلسلے میں ارشاد فرمایا گیا کہ " اس روز نہ کوئی اس کے عذاب جیسا عذاب دے سکے گا اور نہ ہی کوئی اس کے جکڑنے جیسا جکڑ سکے گا "۔ کہ وہاں پر منکر انسان ایسے ہولناک طوقوں اور زنجیروں میں جکڑا ہوا ہوگا جن کا اس دنیا میں اور اپنے طور پر کسی کے لیے سوچنا اور تصور کرنا بھی ممکن نہیں۔ والعیاذ باللہ العظیم۔ سو اس سے وہاں کے عذاب کی شدت اور اس کی ہولناکی اور بےپناہی کو بیان فرمایا گیا ہے کہ اس دن اور اس جہاں میں اللہ جو عذاب دے گا والعیاذ باللہ۔ اس طرح کا عذاب کوئی نہیں دے سکتا، اور جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر
تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
سورة الفجر۔
آیات 1 تا 30۔
اسرار ومعارف۔
قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 25–28
ف 8 چین سے رہنے والی جان سے مراد وہ جان ہے جو حق کے ساتھ رہتی ہے اور حق کے ساتھ پھرتی ہے۔ (ابن کثیر)
Read the full tafseer →(89:27) یایھا النفس المطمئنۃ : اس جگہ یقال محذوف ہے، یہ جملہ مستانفہ ہے۔ گویا ایک فرضی سوال کا جواب ہے۔ سوال پیدا ہوسکتا تھا۔ کہ کافر کی حالت تو مندرجہ بالا آیات سے واضح ہوگئی۔ مگر مومن کی کیا حالت ہوگی ؟ جواب ہے کہ اس سے کہا جائیگا یایتھا ۔۔ (تفسیر مظہری) ۔
یاء حرف نداء ہے ای (مذکر) ایۃ (مؤنث) بمعنی اے۔ بحالت ندا۔ منادی معرف باللام کو حرف ندا سے ملاتا ہے۔
ھا حرف تنبیہ ہے جو ای اور ایۃ اور ان کے بعد کے اسم معرف باللام کے درمیان فصل کے لئے مستعمل ہوتا ہے۔ مذکر صیغہ کی صورت میں اس کی شکل یایھا الرجل ہوگی اور مؤنث کی صورت میں یایتھا النفس (آیت زیر مطالعہ) ہوگی ! نفس جی۔ شخص، (مؤنث آتا ہے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–30
لغات القرآن۔
لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔
تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–30
قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔
(ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…
Read the full tafseer →[11] نفس مطمئن سے مراد وہ انسان ہے جس کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و فرماں برداری سے خوشی حاصل ہوتی ہے اور وہ چین و سکون محسوس کرتا ہے، جس کے قدم تنگی اور فراخی دونوں طرح کے حالات میں جادہ حق پر استوار رہتے ہیں اور وہ ہر حال میں اپنے رب سے راضی اور مطمئن رہتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–29
انسانی تنگ ظرفی
1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…
Read the full tafseer →(27) اے اطمینان و سکون یافتہ روح۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 27–30
ف 7۔ قرینہ مقام سے یہ خطاب یا ایتھا النفس الخ، قیامت کے روز معلوم ہوتا ہے، اور بعض روایات میں جو آیا ہے کہ مرنے کے وقت مومن سے کہا جاتا ہے وہاں تفسیر آیت کی مقصود نہیں نہ وقت موت کی تخصیص ہے۔
Read the full tafseer →اے وہ نفس جس نے اطمینان حاصل کر لیا ہے
27 ؎ ( المطمئنۃ) اسم فاعل واحد مؤنث مرفوع ، معرفہ۔ سکون پانے والا ۔ مجاہد نے کہا اللہ تعالیٰ کے رب ہونے پر مکمل یقین رکھنے والا اور خشوع کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے اوامرو نواہی کی پابندی کرنے والا ۔ حسن بصری نے کہا ایمان اور یقین رکھنے والا ۔ عطیہ نے کہا اللہ تعالیٰ کے حکم پر راضی ، کلبی نے کہا اللہ تعالیٰ کے عذاب سے محفوظ ۔ بعض نے کہا اللہ تعالیٰ کی یاد سے سکون پانے والا ۔ ( معالم التنزیل) منکرین قیامت کے حسرت ناک اور افسوس ناک انجام کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کا ذکر کرنا چاہا جو ہر حال میں اللہ تعالیٰ پر راضی رہنے والے تھے اور تنگی و خوش حالی دونوں…
Read the full tafseer →يَا أَيَّتُهَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ( O contented soul...89:27). Here the soul of the believer is referred to as nafs mutma'innah 'the contented soul'. The word mutma'innah literally means 'calm'. It refers to the soul that is 'peaceful and tranquil' as a result of remembrance and obedience of Allah. When he abandons it, he feels restless. This is probably the same soul as is made pure, through spiritual exercises and discipline, from the evil traits and bad conduct. Obedience of Allah and His remembrance becomes his predisposition. Shari'ah becomes his nature.
ارْجِعِي إِلَىٰ رَبِّكِ…
Read the full tafseer →18 "Peaceful .. satisfied soul": the man who believed in Allah, the One, as his Lord and Sustainer, and adopted the Way of Life brought by the Prophets as his way of life, with full satisfaction of the heart, and without the least doubt about it, who acknowledged as absolute truth whatever creed and command he received from Allah and His Messenger, who withheld himself from whatever he was forbidden by Allah's Religion, not unwillingly but with perfect conviction that it was really an evil thing, who offered without sacrifice whatever sacrifice was required to be offered for the sake of the…
Read the full tafseer →