Al-Fajr 89:29

Al-Fajr · from ayah 29

89:29

فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۟ۙفَادۡخُلِىۡ فِىۡ عِبٰدِىۙ

تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا

— Fateh Muhammad Jalandhari

And enter among My [righteous] servants

— Saheeh International

Juz 30 · Ruku 1 of surah · Ruku 14 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Fajr

All translations of 89:29

شامل ہو جا میرے (نیک) بندوں میں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو میرے (ممتاز) بندوں میں شامل ہو جا

— مولانا فتح محمد جالندہری

پس میرے خاص بندوں میں داخل ہو جا

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور شامل ہوجا میرے (نیک) بندوں میں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر میرے خاص بندوں میں داخل ہو،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پس تو میرے (کامل) بندوں میں شامل ہو جا،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پس میرے (خاص) بندوں میں داخل ہوجا۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

تو میرے (نیک) بندوں میں شامل ہوجا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پس شامل ہوجا تو میرے بندوں میں

— مولانا اسحاق مدنی

پھر تو میرے (خاص) بندوں میں شامل ہوجا

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

تو داخل ہو جائو میرے (نیک) بندوں میں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

تو میرے بندوں میں شامل ہوجا

— محترمہ رفعت اعجاز

So enter among My (righteous) servants

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

So, enter among My (special) servants,

— Muhammad Taqi Usmani

So, enter among My (special) servants,

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

"Enter then among My servants,"

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And enter among My [righteous] servants

— Saheeh International

Enter among My servants

— Muhammad Sarwar

So enter among My servants,

— Muhammad Habib Shakir

Enter thou among My righteous bondmen!

— Abdul Majid Daryabadi

Tafseer of 89:29

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–30

سجدوں کی برکتیں : قیامت کے ہولناک حالات کا بیان ہو رہا ہے کہ بالیقین اس دن زمین پست کردی جائیگی اونچی نیچی زمین بربار کردی جائیگی اور بالکل صاف ہموار ہو جایئگی پہاڑ زمین کے بربار کر دئیے جائیں گے تمام مخلوق قبر سے نکل آئیگی خود اللہ تعالیٰ مخلوق کے فیصلے کرنے کے لیے آجائیگا یہ اس عام شفاعت کے بعد جو تمام اولاد آدم کے سردار حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی ہوگی اور یہ شفاعت اس وقت ہوگی جبکہ تمام مخلوق ایک ایک بڑے بڑے پیغمبر ﷺ کے پاس ہو آئیگی اور ہر نبی کہہ دے گا کہ میں اس قابل نہیں پھر سب کے سب حضور ﷺ کے پاس آئیں گے اور آپ فرمائیں گے کہ ہاں ہاں میں اس کے لیے تیار ہوں پھر آپ جائیں گے اور اللہ کے سامنے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 28–30

سورة الْفَجْر 19 یہ بات اس سے موت کے وقت بھی کہی جائے گی، قیامت کے روز جب وہ دوبارہ اٹھ کر میدان حشر کی طرف چلے گا اس وقت بھی کہی جائے گی، اور جب اللہ کی عدالت میں پیشی کا موقع آئے گا اس وقت بھی کہی جائے گی ہر مرحلے پر اسے اطمینان دلایا جائے گا کہ وہ اللہ کی رحمت کی طرف جا رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

فادخلی فی عبدی وادخلی جنتی، نفس مطمئنہ کو مخاطب کرکے یہ حکم ہوگا کہ میرے خاص بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ اس میں پہلے اللہ کے صالح اور مخلص بندوں میں شامل ہونیکا حکم ہے پھر جنت میں داخل ہونیکا، اس میں اشارہ پایا جاتا ہے کہ جنت میں داخل ہونا اس پر موقوف ہے کہ پہلے اللہ کے صالح مخلص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو ان سب کے ساتھ ہی جنت میں داخل ہوگا۔ اس سے معلوم ہوا کہ جو دنیا میں صالحین کی صحبت ومعیت اختیار کرتا ہے یہ علامت اس کی ہے کہ یہ بھی انکے ساتھ جنت میں جائے گا اسی لئے حضرت سلیمان ؑ نے اپنی دعا میں فرمایا واد خلنی برحمتک فی عبادک الصلحین اور حضرت یوسف ؑ نے دعا میں فرمایا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 29–30

’فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ہ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ‘۔ یعنی تم امتحان پاس کر کے جنت کے مستحق ٹھہرے تو اب میرے خاص بندوں کے زمرے میں اور میری جنت میں داخل ہو جاؤ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 28–30

28۔ 1 یعنی اس کے اجر وثواب اور ان نعمتوں کی طرف جو اس نے اپنے بندوں کے لیے جنت میں تیار کی ہیں بعض کہتے ہیں قیامت والے دن کہا جائے گا بعض کہتے ہیں کہ موت کے وقت بھی فرشتے خوشخبری دیتے ہیں اسی طرح قیامت والے دن بھی اسے یہ کہا جائے گا جو یہاں مذکور ہے، حافظ ابن کثیر نے ابن عساکر کے حوالے سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم نے ایک آدمی کو یہ دعا پڑھنے کا حکم دیا، اللھم انی اسالک نفسا، بک مطمئنہ، تو من بلقائک، وترضی بقضائک، وتقنع بعطائک۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 27–30

9: یہ قرآن کریم کے اصل لفظ ”نفس مطمئنہ“ کا ترجمہ ہے۔ اس سے مراد انسان کا وہ دل ہے جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت کرتے کرتے بالکل سکون پا گیا ہو، اور نافرمانی سے محفوط ہوگیا ہو۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 27–30

یایتھا ........................................ جنتی کس قدر پر محبت ، مکمل یگانگت اور قرب کا ماحول ہے ! اے نفس مطمنتہ کس قدر روحانیت اور کس قدر تکریم اور عزت افزائی ہے۔ اس پکار میں۔ یایھا ................ المطمئنة (27:89) ” اے نفس مطمئن “۔ جبکہ دوسری طرف بےمثال پکڑ دھکڑ شروع ہے ، بےمثال اور ناقابل تصور عذاب دیا جارہا ہے ، شدید ماحول ہے ، اس شدید ماحول میں ، یہ نرم اور پر محبت پکار ! ارجعی الی ربک (28:89) ” چل اپنے رب کی طرف “۔ چل اپنے اصل سرچشمے کی طرف ، اپنے اصل گہوارے کی طرف ، جو زمین کے اندر دوڑ رہا ہے ، لوٹ اب اپنے رب کی طرف ، تمہارے اور رب کے درمیان ایک خاص تعلق ہے ، ایک خاص نسبت ہے ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 27–30

5 پہلے مجرموں اور ظالموں کا حال بیان ہوا تھا۔ اب اس کے مقابل ان لوگوں کا انجام بتلاتے ہیں جن کے دلوں کو اللہ کے ذکر اور اس کی اطاعت سے چین اور آرام ملتا ہے ان سے محشر میں کہا جائے گا کہ اے نفس آرمیدہ بحق ! جس محبوب حقیقی سے تو لو لگائے ہوئے تھا، اب ہر قسم کے جھگڑوں اور خرخشوں سے یکسو ہو کر راضی خوشی اس کے مقام قرب کی طرف چل، اور اس کے مخصوص بندوں کے زمرہ میں شامل ہو اس کی عالیشان جنت میں قیام کر۔ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو موت کے وقت بھی یہ بشارت سنائی جاتی ہے۔ بلکہ عارفین کا تجربہ بتلاتا ہے کہ اس دنیا کی زندگی میں بھی ایسے نفوس مطمئنہ اس طرح کی بشارات کافی الجملہ حظ اٹھاتے ہیں۔ "…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 29{ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ۔ } ”تو داخل ہو جائو میرے نیک بندوں میں۔“ اللہ تعالیٰ کے ان نیک بندوں کی نشاندہی سورة النساء کی اس آیت میں کی گئی ہے : { وَمَنْ یُّطِـعِ اللّٰہَ وَالرَّسُوْلَ فَاُولٰٓئِکَ مَعَ الَّذِیْنَ اَنْعَمَ اللّٰہُ عَلَیْہِمْ مِّنَ النَّبِیّٖنَ وَالصِّدِّیْقِیْنَ وَالشُّہَدَآئِ وَالصّٰلِحِیْنَج وَحَسُنَ اُولٰٓئِکَ رَفِیْقًا۔ } ”اور جو کوئی اطاعت کرے گا اللہ کی اور رسول ﷺ کی تو یہ وہ لوگ ہوں گے جنہیں معیت حاصل ہوگی ان کی جن پر اللہ کا انعام ہوا ‘ یعنی انبیاء کرام ‘ صدیقین ‘ شہداء اور صالحین۔ اور کیا ہی اچھے ہیں یہ لوگ رفاقت کے لیے !“

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 29–30

20 یہ بات اسے موت کے وقت بھی کہی جائے گی۔ میدان محشر میں قبروں سے اٹھنے اور میدان محشر کی طرف چلتے وقت بھی کہی جائے گی۔ اور عدالت الٰہی میں فیصلہ کے بعد بھی کہی جائے گی۔ گویا ہر مرحلے پر اسے یہ اطمینان دلایا جائے گا کہ وہ اللہ کے فرمانبردار بندوں میں شامل ہے اور جنت کا مستحق ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

Explained with ayahs 27–30

15۔ یہ بشارت ہر مومن کو عین اس وقت ملے گی، جو وقت اس مادی جسم سے انقطاع روح کا ہوگا۔ قال ابن زید وجماعۃ ان ذلک القول عند الموت (روح) اس وقت اس صدائے بشارت کی جو اہمیت اور معنویت اور ضرورت ہوگی، اسے کوئی اچھا بھلا چنگا انسان، الفاظ کے ذریعہ سے ناقابل اظہار قدر تو عین اسی وقت ہوگی، اب یہ کیا بتایا جائے کہ یہ صدائے جان نواز کس کی ہوگی ! (آیت) ” عبدی “۔ اور (آیت) ” جنتی “۔ دونوں میں یائے متکلم کے بعد کسی تصریح کی ضرورت ہی کب باقی رہ جاتی ہے ؟ (آیت) ” یایتھا النفس المطمئنۃ “۔ خطاب اس روح سے ہوگا، جسے حقانیت اسلام پر ایقان واذعان ہوگا ، ، اور کسی طرح کا شک ہوگا نہ انکار، اور انشاء اللہ اس کا مصداق…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 1–30

ترجمہ : شروع کرتا ہوں اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان نہایت رحم والا ہے، قسم ہے فجر کی یعنی ہر دن کی فجر کی، اور دس راتوں کی یعنی ذی الحجہ کی دس راتوں کی اور جفت کی یعنی زوج کی اور طاق کی اور الوتر وائو کے فتحہ اور کسرہ کے ساتھ ہے یہ دو لغت ہیں (وتر) میں بمعنی فرد، اور رات کی جب وہ رخصت ہونے لگے یعنی جب وہ آئے اور جائے، کیا اس قسم میں عقلمند کے لئے کافی قسم (نہیں) ہے ؟ اور جواب قسم محذوف ہے (اور وہ) لتعذبن یا کفار مکۃ ! ہے، (اے کفار مکہ ! تم کو ضرور عذاب دیا جائے گا) کیا اے محمد ﷺ آپ ﷺ کو معلوم نہیں کہ تریے رب نے عادیوں کے یعنی قوم ارم کے ساتھ کیا کیا ؟ ارم عاد اولیٰ ہے، ارم عطف بیان یا بدل ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

Explained with ayahs 29–30

فادخی فی عبدی . یعنی آکر میرے نیک بندوں میں شامل ہوجا۔ یہ نیک بندے وہی ہیں جن میں داخل ہونے کی دعا حضرت سلیمان ( علیہ السلام) نے کی تھی اور عرض کیا تھا وادخلنی برحمتک فی عبادک الصّٰلحین اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی انہی کے ساتھ شامل ہونے کے لیے عرض کیا تھا : توفنی مسلمًا والحقنی بالصّٰلحین اور انہی نیک بندوں کے سلسلہ میں اللہ نے ابلیس سے فرمایا تھا۔ فادخلی میں فاء سببی ہے کیونکہ اطمینان نفس اور نفس کا راضی مرضی ہونا ہی خالص عبدیت کے حصول اور باطل الوہیت نفسانی کی رسّی سے گلو خلاصی اور شیطانی وسوسوں سے نجات مل جانے کا سبب ہے۔ اللہ نے (نفس پرست کی مذمت کرتے ہوئے) فرمایا : افرایت من اتخذ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 27–30

(3027) اے عذاب سے اطمینان والی توحید خداوندی کی تصدیق کرنے والی، نعمت خداوندی پر شکر کرنے والی، مصیبتوں پر صبر کرنے والی، قضاء الہی پر راضی ہونے، عطا خداوندی پر قناعت کرنے والی، روح تو ان نعمتوں کی طرف جو اللہ تعالیٰ نے جنت میں تیرے لیے تیار کر رکھی ہیں، یا اپنے جسم کی طرف جا اس طرح سے کہ تو ثواب خداوندی سے خوش اور اللہ تعالیٰ تیری توحید سے خوش ہو اور پھر ادھر چل کر تو میرے خاص بندوں اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ شان نزول یَا ایَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّهُ الخ ابن ابی حاتم نے بریدہ سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ آیت حضرت حمزہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ اور جبیر عن الضحاک کے طریق…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 27–30

یایھا النفس المطمینۃ :”النفس المطمئنۃ“ اطمینان والی جان، جسے اللہ، اس کے رسول اور ان کے احکام کے حق ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں، بلکہ پوری تسلی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 27–30

یا ایتھا النفس المطمئنہ۔۔۔ تا۔۔ جنتی۔ جب اس آدمی کی حالت کا ذکر کیا جس کا مقصود دنیا تھی اس نے اللہ تعالیٰ پر غنی کرنے اور تنگی دینے پر تہمت لگائی تھی اب اس آدمی کی حالت کا ذکر ہے جس کا نفس اللہ تعالیٰ سے مطمئن تھا اس نے اللہ تعالیٰ کے حکم کے سامنے سرتسلیم خم کیا اور اس پر بھروسہ کیا، ایک قول یہ کیا گیا ہے یہ فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کے اولیاء کے لیے ایک قول ہے نفس مطمئنہ سے مراد سکون پانے والا اور یقین رکھنے والا نفس ہے، جس نے یقین کیا اللہ تعالیٰ اس کا رب ہے اور اس کے سامنے تواضع کا اظہار کیا، یہ مجاہد اور دوسرے علماء کا قول ہے، حضرت ابن عباس نے کہا، اس سے مراد وہ نفس ہے جو اللہ تعالیٰ کے ثواب…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 28–30

57۔ ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ عرش کی جڑ سے ایک وادی بہے گی تو اس میں سب چوپائے زمین کی سطح پر ظاہر ہوجائیں گے۔ پھر روحیں اڑیں گی اور ان کو حکم دیا جائے گا کہ جسموں میں داخل ہوجاؤ یہی اللہ تعالیٰ کا قول ہے آیت ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیہ اپنے رب کی طرف لوٹ جا تو اس سے راضی وہ تجھ سے راضی۔ 58۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے اس قول آیت ارجعی الی ربک راضیۃ مرضیۃ کے بارے میں روایت کیا کہ تو اپنے رب کی طرف لوٹ آ، پس اجر وثواب پر خوش ہوتے ہوئے جو تجھے عطا کیا گیا۔ مرضیہ اس حال میں کہ اللہ تعالیٰ بھی تیرے عمل سے راضی اور خوش ہے۔ آیت فادخلی فی عبادی پس میرے بندوں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 29–30

﴿فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْۙ0029﴾ اے نفس مطمئنہ تو میرے بندوں میں داخل ہوجا۔ ﴿ وَ ادْخُلِيْ جَنَّتِيْ (رح) 0030﴾ (اور میری جنت میں داخل ہوجا) ۔ اس میں ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نفس مطمئنہ کو یہ خطاب بھی ہوگا کہ تو میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا یعنی جنت میں تنہا داخل ہونا نہیں ہے انسان مدنی الطبع ہے اسے انس اور الفت کے لیے دوسرے افراد بھی چاہئیں۔ آیت کریمہ میں یہ بھی بیان فرما دیا کہ جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہاں دوسرے اہل جنت سے بھی ملاقاتیں رہیں گی۔ سورة ٴ حجر میں فرمایا ﴿ وَ نَزَعْنَا مَا فِيْ صُدُوْرِهِمْ مِّنْ غِلٍّ اِخْوَانًا عَلٰى سُرُرٍ مُّتَقٰبِلِيْنَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 1–30

تاریخ اقوام مکذبین وتقسیم فطرت انسانی بصوت شقاوت وسعادت : قال اللہ تعالیٰ : والفجر ولیال عشر ............. الی .............. وادخی جنتی “۔ (ربط) گزشتہ سورت میں قیامت کے احوال ذکر کیے گئے تھے اور یہ کہ ان ہولناک واقعات کا انسانی قدرت اور مادی اسباب کے دائرہ میں کوئی مقابلہ اور دفاع نہیں ہوسکتا۔ مقابلہ اور مدافعت تو درکنار اس پر بدحواسی اور اضطراب کا یہ عالم ہوگا کہ انسان اپنے آپ کو بےبس دیکھ رہا ہوگا، اور مجرمین پر خداوند عالم کا ایسا عذاب مسلط ہوگا کہ اس کا تصور ہی نہیں کیا جاسکتا ہے تو اب اس سورت میں بالخصوص ایسے عبرت ناک تاریخی واقعات بیان فرمائے گئے جن کو پڑھ کر ہر انسان عبرت حاصل کرے اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 27–30

13:۔ ” یا ایتہا النفس “ یہ بشارت اخرویہ ہے۔ کافروں کا حال بیان کرنے کے بعد مومنوں کا حال بیان فرمایا کہ مومن سے کہا جائیگا اے نفس مطمئنہ ! جو رذایل اخلاق سے پاک ہوچکا ہے اپنے پروردگار کی طرف واپس آ اس حال میں کہ تو اپنے رب کی ربوبیت پر راضی ہے اور تیرا رب تجھ پر راضی ہے اس لیے تو میرے بندوں میں شامل ہوجا اور میرے جنت میں داخل ہوجا۔ فائدہ : اس سورت کا مختصر خلاصہ یہ ہے کہ اس میں تین چیزوں کا بیان ہے۔ اول مرض، دوم سب مرض، اور سوم علاج مرض۔ ” فاما الانسان اذا ما ابتلہ “ تا ” فیقول ربی اھانن “ بیان مرض ہے۔ ” کلا بل لا تکرمون الیتیم “ تا ” وتحبون المال حبا جما “ سبب مرض کا بیان ہے۔ باقی سب علاج…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–30

گزشتہ سے پیوستہ سورۃ کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے چند چیزوں کی قسم اٹھائی ” والفجر ولیال عشر “ دس راتوں سے بالعموم رمضان المبارک کی آخری دس راتیں مراد لی جاتی ہیں۔ کیونکہ اسی آخری دہا کے میں قرآن پاک کا نزول ہوا جو کہ نوع انسانی کے لئے چشمہ ہدایت ہے۔ اس کے بعد جفت اور طاق یعنی ذی الحجہ کی نویں اور دسویں تاریخ کی قسم کھائی ، جب لوگ حج کے لئے جمع ہوتے ہیں اور سنت ابراہیمی کے اتباع میں قربانی کرتے ہیں۔ قرآن پاک لوگوں کے سامنے صحیح پروگرام پیش کرتا ہے جس پر عمل کرنے سے اللہ تعالیٰ کی محبت پیدا ہوتی ہے جو کہ کسی انسان کا منتہائے مقصود ہو سکتا ہے قربانی کا مقصد بھی یہی ہے۔ کہ اللہ کی محبت سے سرشار…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ۝ 29 ۙ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] ( دخ ل ) الدخول ( ن ) یہ خروج کی ضد ہے ۔ اور مکان وزمان اور اعمال سب کے متعلق استعمال ہوتا ہے کہا جاتا ہے ( فلاں جگہ میں داخل ہوا ۔ قرآن میں ہے : ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/ 58] کہ اس گاؤں میں داخل ہوجاؤ ۔ عبد والعَبْدُ يقال علی أربعة أضرب : الأوّل : عَبْدٌ بحکم الشّرع، وهو الإنسان الذي يصحّ بيعه وابتیاعه، نحو : الْعَبْدُ بِالْعَبْدِ [ البقرة/ 178] ، وعَبْداً مَمْلُوكاً لا يَقْدِرُ عَلى شَيْءٍ [ النحل/ 75]…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 17–30

ترکیب ¦ کلا روع اذا ظرف والعامل فیہ یتذکر الانسان دکا منصوب علی انہ مصدر مؤکد للفعل دکا تاکید للاول۔ والدک الکسر وجاء معطوف علی دکت صفا صفا حال ای مصطفین اوذوی صفوف وجئی فعل مجھول بجھنم مفعول مالم یسم فاعلہ قائم مقام الفاعل یومئذ منصوب بجائی والجملۃ معطوف علیٰ دکت یومئذ بدل من یومئذ قبلہ یتذکر عامل اذا وانی لہ الذکریٰ الجملۃ حال من فاعل یتذکر یقول الخ تفسیر لیتذکر ‘ قدمت لحیاتی ای قدمت فی الدنیا من الاعمال الصالحۃ لا جل حیاتی الاخرویۃ فانھا الحیاۃ بالحقیقۃ۔ وقیل ان اللام بمعنی فی والمعنی یالیتنی قدمت فی حیاتی الدنیاویۃ الاعمال الصالحۃ یومئذ عاملہ لایعذب الخ عذابہ ووثاقہ بالنصب علی نزع الخافض…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 27–30

یٰٓـاَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّۃُ ۔ ارْجِعِیْٓ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَۃً مَّرْضِیَّۃً ۔ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبٰدِیْ ۔ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ ۔ (الفجر : 27 تا 30) (اے نفس مطمئن !۔ چل اپنے رب کی طرف، تو اس سے راضی، وہ تجھ سے راضی۔ شامل ہوجا میرے بندوں میں۔ اور داخل ہوجا میری بہشت میں۔ ) اللہ تعالیٰ کے دین پر مکمل ایمان اور تقویٰ رکھنے والوں کو براہ راست بشارت اس سے پہلے کی آیات میں ان کفار کا حال بیان ہوا ہے کہ وہ اس قدر تنگ ظرف اور تھڑدلے واقع ہوئے ہیں کہ جب ان کو اللہ تعالیٰ نے نعمت عطا فرمائی وہ بہک گئے اور اترانے اور فخر کرنے لگے۔ اور جب ذرا تنگی آئی تو دل شکستہ ہو کر بیٹھ گئے اور اللہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 27–30

فہم القرآن ربط کلام : مجرموں کے مقابلے میں نیک لوگوں کا اجر اور مقام۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں نفس انسانی کی تین حالتیں بیان کی ہیں۔ 1۔ نفس مطمئنہّ : ہر حال میں مطمئن یعنی نیکی پر قائم رہنے والا۔ (الفجر : 27) 2۔ نفس لوّامہ : گناہ پر ملامت کرنے والا (القیامہ : 2) 3۔ نفس امّارہ : گناہ پر ابھارنے والا (یوسف : 53) یہ انسان کے دل کی تین حالتیں ہیں نفس مطمئنہ صرف انبیاء کو نصیب ہوتا ہے باقی انسانوں کے نفس کی دو کیفیتیں ہوتی ہیں۔ (1) نفسِ امّارہ اور نفس لوّامہ۔ ان کے درمیان مقابلہ رہتا ہے اگر نفس لوّامہ جیت جائے تو انسان کو نیک اعمال کی توفیق ملتی ہے اور اگر نفس امّارہ غالب آجائے تو آدمی برائی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

29 : فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ (پھر تو میرے بندوں میں شامل ہوجا) یعنی میرے من جملہ نیک بندوں میں اور ان کی لڑی میں تمہیں پرودیا گیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

29 ۔” فادخلی فی عبادی “ یعنی میرے بندوں کے ساتھ جنت میں اور کہا گیا ہے میرے تمام نیک بندوں میں جو فرمانبردار چنے ہوئے ہیں۔ اس کی نظیر ” وادخلنی برحمتک فی عبادک الصالحین “ ہے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–30

21۔ 30۔ قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لئے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے کہ اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہئے کہ وہ بچ گیا کیونکہ اصل سزا و جزا کی جگہ دنیا نہیں اصل جزا و سزا کے لئے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں وہ فیصلہ کیا جائے گا جس کا آگے ذکر ہے۔ زمین کا جو حال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صور کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس نئی زمین میں کوئی بلندی کی چیز نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 29–30

(فَادْخُلِيْ فِيْ عِبٰدِيْ ۔ وَادْخُلِيْ جَنَّتِيْ ) پس تو میرے بندوں میں داخل ہوجا اور میری جنت میں داخل ہوجا۔ قیامت کے روز ان الفاظ سے روح کو مخاطب کیا جائے گا اور اسی خطاب سے موت کے وقت اللہ تعالیٰ کے پاس لے جاتے ہوئے اس کو مخاطب کیا جائے گا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

(31) اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی معیت ورفاقت ایک عظیم الشان نعمت : سو اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے خاص بندوں کی معیت ورفاقت کا ایک عظیم الشان انعام و احسان ہے اسی لیے یہاں پر اس حقیقت کو واضح فرما دیا گیا کہ نفوس مطمئنہ والوں سے اللہ تعالیٰ فرمائے گا، اور اس کے خاص بندوں کی معیت کی نعمت سے سرفرازی کی بشارت کے طور پر ان سے کہا جائے گا کہ " پس اب تو شامل ہوجا میرے بندوں میں "۔ یعنی میرے ان خاص بندوں میں جو میری خاص رحمتوں اور عنایتوں سے سرفراز و سرشار ہیں۔ پس میرے ان خاص نصیب بندوں میں داخل ہو کر تم بھی میری ان خاص نعمتوں اور عنایتوں سے مستفید و متمتع ہوجاؤ جن سے میں نے ان کو سرفراز…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 1–30

نیک و بد کی تمیز اور میدان حشر تشریح : اس سورت میں ان لوگوں کو جگانے کی کوشش کی گئی ہے جو شیطان کے بہلاوے میں آ کر سرکشی ' نفرت ' نافرمانی ' تکبر اور ناشکر گزاری کی عادات کو اپنا لیتے ہیں۔ بیشک یہ مال و دولت ' عزت شہرت اور آل و اولاد کی کثرت میں زیادہ سے زیادہ لالچی اور انسانیت کی حدود سے دور ہوتے ہوئے بس اپنے میں ہی مست ہوجاتے ہیں اور ان کے دل میں مال کی محبت اس قدر بڑھ جاتی ہے کہ وہ مال دینے والے (اللہ) سے ہی دور ہوجاتے ہیں اور حرام و حلال کا فرق بھول جاتے ہیں۔ نہ ان کو یہ خیال رہتا ہے کہ یتیم کا مال ہے یا غریب کی مدد کرنی چاہیے۔ بس وہ تو صرف مال کی محبت ہی میں کھو جاتے ہیں۔ اور جب کبھی ان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 1–30

سورة الفجر۔ آیات 1 تا 30۔ اسرار ومعارف۔ قسم ہے فجر کی اور دس راتوں کی اور جفت اور طاق کی اور رات کی جب وہ چلنے لگے یعنی طلوع فجر اور ذی الحج کی دس راتیں پھر یوم عرفہ جس روز لوگ کفن پہنے عرفات میں ہوتے ہیں اور جفت یعنی دس ذی الحج جب لوگ قربانی کرتے ہیں اور جب رات ڈھل چکی ہوتی ہے جانے والی ہوتی ہے کہ فجر بھی ایک عظیم انقلاب ہے جو ہر لمحہ دنیا پر بپا ہورہا ہے لوگ نیندار سے بیدار ہو کر کاروبار حیات میں مصروف ہوجاتے ہیں اور ذی الحج کی دس راتیں یعنی عشرہ ذی الحج کہ قبل اسلام بھی لوگ حج کے نام پر رسومات ادا کرتے اور ظہور اسلام پر توکفن پہنے بیشمار اللہ کی مخلوق عمرے کررہی ہوتی ہے اور رات اور دن کا…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(89:29) فادخلی فی عبدی :سببیہ ہے کیونکہ اطمینان نفس اور نفس راضیۃ مرضیۃ ہونا ہی خالص عبدیت کے حسول اور باطل الوہیت نفسانی کی رسی سے گلو خلاصی اور شیطان وسوسوں سے نجات مل جانے کا سبب ہے۔ ادخلی۔ فعل امر واحد مؤنث حاضر۔ دخول (باب نصر) مصدر سے۔ تو داخل ہوجا۔ فی عبدی : میرے بندوں میں۔ (اے نفس مطمئنہ) تو داخل ہوجا میرے بندوں میں یہ وہی نیک بندے تھے جن میں داخل ہونے کی دعا حضرت سلیمان (علیہ السلام) نے کی تھی۔ عرض کیا تھا۔ وادخلنی برحمتک فی عبادک الصلحین (27:19) اور حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بھی ان ہی کے ساتھ شامل ہونے کے لئے عرض کیا تھا۔ توفنی مسلما والحقنی بالصلحین (12:101) ۔ (تفسیر مظہری)

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 1–30

لغات القرآن۔ لیال عشر۔ دسرراتیں۔ الشفع۔ جفت عدد۔ الوتر۔ طاق عدد۔ ذی حجر۔ عقل والے۔ ذات المعاد۔ ستونوں والے۔ جابوا۔ تراشے۔ کاٹے۔ ذی الاوتاد۔ میخوں والا۔ صب۔ ڈال دیا۔ سوط۔ کوڑا۔ المرصاد۔ گھات میں ہے۔ اھانن۔ مجھے ذلیل کردیا۔ لا تکرمون ۔ تم عزت نہیں کرتے۔ التراث۔ میراث۔ اکلا لما۔ سب سمیٹ کر کھانا۔ حبا جما۔ بہت زیادہ محبت۔ دکت۔ کوٹ ڈالی گئی۔ النفس المطمئنۃ۔ اطمینان و سکون والا نفس۔ تشریح : اس دنیا میں ہر لمحہ انقلاب بپا ہے۔ کروڑوں سال سے رات دن، صبح اور شام کا آناجانا، چاند، سورج ، ستاروں کا نکلنا، ڈوبنا، غائب ہوجانا اور پھر سے ابھر کر پوری آب و تاب سے نکلنا، اسی طرح قوموں کا عروج وزوال ہر ابتداء…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–30

قیامت کا ذکر، نیک اور بد کی جگہ۔ (ف 1) قیامت کے انکار کے سبب سے قریش طرح طرح کی نافرمانی جو کرتے تھے اس کے انجام سے ڈرانے کے لیے اوپر کی آیتوں میں ان کو عاد۔ ثمود اور فرعون کی ہلاکت اور تباہی کا قصہ سنایا گیا تھا اس کے بعد ان آیتوں میں قیامت کا ذکر فرمایا کہ نافرمان لوگوں کو معلوم ہوجائے اگر کوئی نافرمان دنیا کے عذاب سے بچ بھی جائے تو اس کو یہ نہ سمجھنا چاہیے کہ وہ بچ گیا، کیونکہ اصل سزا وجزا کی جگہ دنیا نہیں ہے اصل سزا وجزا کے لیے دنیا کے ختم کے بعد قیامت کا دن ہے جس میں یہ فیصلہ کیا جائے گا، جس کا آگے ذکر ہے ، زمین کا جوحال ان آیتوں میں ہے وہ دوسرے صورت کے وقت کا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اس…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 28–30

[12] یعنی جس طرح تو اپنے رب سے کسی مرحلے میں گلہ مند نہیں ہوا اسی طرح تیرے رب نے تجھ کو بھی کسی مرحلے میں اپنے معیار سے فروتر نہیں پایا۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–29

انسانی تنگ ظرفی 1: قرآن حکیم کی خصوصیت ہے کہ ایک ایسی کتاب ہے جس میں انسانی نفسیات تک پر بحث کی گئی ہے اور بتایا ہے کہ اس کی لغزش اور گمراہی کے منابع کون کون ہیں ۔ فرمایا کہ انسان کا دل اتنا چھوٹا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اس کو مال و دولت سے نوازتے ہیں تو پھر یہ آپے میں نہیں سماتا ۔ تبخیر اور غرور می ڈوب جاتا ہے اور کہتا ہے کہ مجھ پر میرے رب کا بڑا فضل ہے اور جب مال و دولت کو چھین لیتا ہے اور تنگی اور عسرت سے بسر ہونے لگتی ہے تو بےقرار ہوکر کہہ اٹھتا ہے کہ خدا نے میری بڑی توہین کی ہے ۔ گویا مال و دولت کے وقت اس نے اس کا صحیح استعمال کیا تھا ۔ اور اب چھن جانے پر اس درجہ متاسف ہے ۔ حالانکہ جب اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 27–30

ف 7۔ قرینہ مقام سے یہ خطاب یا ایتھا النفس الخ، قیامت کے روز معلوم ہوتا ہے، اور بعض روایات میں جو آیا ہے کہ مرنے کے وقت مومن سے کہا جاتا ہے وہاں تفسیر آیت کی مقصود نہیں نہ وقت موت کی تخصیص ہے۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

پھر تو میرے برگزیدہ بندوں میں شامل ہوجا 29 ؎ اس جان کو جان آفرین کے سپرد کرنے والے کو کہا جائے گا کہ واپس اپنے پروردگار کی طرف آ اور اس طرح سے واپس آ کہ تجھ پر نہ تو کسی قسم کا خوف ہو اور نہ ہی کسی قسم کا ڈر ہو اور نہ ہی کسی طرح کی گھبراہٹ ہو کیونکہ تو میرے ان بندوں میں سے ہے جن پر شیطان کا کوئی مکر بھی کامیاب نہ ہوا بلکہ وہ عمر بھر میرے بندے بنے رہے اور میرے رضا اور چاہت کے لیے انہوں نے زمانہ سے بہت کچھ کہہ دیا اور باتیں کرنے والوں نے ان سے کوئی بات بھی ایسی نہ کی جو دکھ درد کی بات نہ ہو ۔ تو نے دنیا میں میری رضا کے لیے بہت کچھ سنا اور بر داشت کیا اب تو نہایت آرام اور ادب و احترام کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

فَادْخُلِي فِي عِبَادِي (So, enter among My [ special ] servants...89:29). In other words, the contented soul will be addressed [ compassionately ], and first asked to enter the fold of righteous and sincere slaves, and then to enter Paradise. This indicates that entry into Paradise depends on their being, first and foremost, in the fold of the righteous believers. Then they will enter Paradise all together. This shows that joining the company of the righteous in this world is a sign that he will enter Paradise with them. Thus Prophet Sulaiman (علیہ السلام) prayed: وَأَدْخِلْنِي بِرَ‌حْمَتِكَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 28–30

19 This he will be told at the time of his death as well as on the Day of Resurrection when he will rise from the dead and move towards the Plain of Assembly and also on the occasion when he will be presented in the Divine Court; at every stage he will be assured that he is moving towards the Mercy of Allah Almighty.

Read the full tafseer →